پشاور شہر اور مضافات میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف نوعیت کے 131 واقعات رونما ہوئے، ترجمان ریسکیو1122 نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نوید خان کی سربراہی میں پشاور نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 11 ٹریفک حادثات اور 1 آگ لگنے کے واقعے میں پیشہ وارانہ خدمات فراہم کیں، ٹریفک حادثات کے دوران 17 افراد زخمی، ٹریف حادثات قمردین گھڑی، رنگ روڈ چوک، بڈھ بیر چمکنی، خزانہ روڈ اور مختلف مقامات پر رونما ہوئے۔ جبکہ کہ پشاور شہر میں آگ لگنے کا واقعہ حیات آباد میں بجلی کے پل پر پیش آیا ، ریسکیو1122 فائر فائٹرز نے پیشہ وارانہ امدادی سرگرمیاں کرتے ہوئے مزید نقصانات سے بچاتے ہوئے آگ پر قابو پایا۔4 لڑائی جھگڑے کے دوران گولی لگنے کا واقعے پیش آئے اور حالیہ بارش کی وجہ سے 7 مختلف مقامات پر لوگوں کے گھروں اور مارکیٹوں سے بارش کا پانی نکالنے میں ریسکیو 1122 نے خدمات سرانجام دیں۔
Tag: 1122

خیبر باڑہ میں ٹریفک حادثہ
خیبر باڑہ ڈوگرہ چوک کے قریب فلائنگ کوچ اور موٹر کار کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 11 افراد زخمی ہو گئے،ریسکیو 1122 کے مطابق خیبر کنٹرول روم کو اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیمیں موقعے پر پہنچ گئیں میڈیکل ٹیموں نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرکے ڈوگرہ ہسپتال منتقل کردیا گیاجبکہ شدید زخمی افراد کو مزید علاج کیلئے پشاور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا،حادثے میں زخمی افراد کے نام انس،سلیم،حارث،احتشام،کلیم اللہ ،مکرم،مدثر،نعمت،لعل بادشاہ ،شاہزیب،قدرت شامل ہیں۔

چودھری پرویزالٰہی نے ریسکیو ادارے کو سیٹ نہ دینے پر کیا دھمکی دی؟؟
چودھری پرویزالٰہی کا کہنا ہے کہ ریسکیو 1122 جیسے شاندار کارکردگی کے حامل ادارے کو خودمختار نہ بنا کر اس کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے.
اس ادارے کی نہ صرف اندرون ملک بلکہ UNO نے بھی تعریف کی اور اس کی کارکردگی کو سراہا، لیکن پھر بھی اس کے اہلکاروں کو ریگولرائز نہیں کیا گیا تو یہ نہایت افسوسناک بات ہے
اگر اس محکمے کو وہ سٹیٹس نہ دیا گیا جو اس کو دینا چاہئے تھا تو میں ان تمام لوگوں کی فہرست سامنے لاؤں گا جو اس ادارے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں:
سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت اسمبلی اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ کی رکن خدیجہ عمر فاروقی نے پنجاب ایمرجنسی سروس کا ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا تو تمام ارکان اسمبلی نے اس بل کی تائید کی۔ سپیکر چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ اس محکمے کے بل کو 2004ء میں ہماری حکومت نے ہی پاس کروایا تھا جس کی اب تک کی کارکردگی نہایت شاندار رہی ہے جس کی نہ صرف اندرون ملک بلکہ UNO نے بھی تعریف کی اور اس کی کارکردگی کو سراہا، لیکن پھر بھی اگر اس ادارے کو خودمختار اور اس کے اہلکاروں کو ریگولرائز نہیں کیا گیا تو یہ نہایت افسوسناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 نے اس ادارے نے بلاتفریق امیر و غریب کے آج تک 90 لاکھ سے زائد مریضوں کو ریسکیو کر کے ان کی جانیں بچائیں، آگ کے واقعات میں ایک لاکھ 55 ہزار جائیدادیں جن کی مالیت 400 ارب روپے ہے بروقت respond کر کے ان کا تحفظ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر چیف منسٹر انسپکشن ٹیم اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو خودمختار بنایا جا سکتا ہے تو کیا امر مانع ہے کہ اس ادارے کو ابھی تک خودمختار نہیں بنایا گیا، اس ادارے کو کبھی شہری دفاع کے ساتھ منسلک کر دیا جاتا ہے تو کبھی کسی اور ادارے کے ساتھ جو اس محکمے اور اس کے اہلکاروں کے ساتھ زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس محکمے کو وہ سٹیٹس نہ دیا گیا جو اس کو دینا چاہئے تھا تو میں ان تمام لوگوں کی فہرست سامنے لاؤں گا جو اس ادارے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ وزیرقانون راجہ بشارت نے یقین دہانی کروائی کہ اس ادارے کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں، حکومت اس کے مسودہ قانون میں ترمیم کیلئے کام کر رہی ہے اور انشاء اللہ جمعرات تک وہ اس ہاؤس کے سامنے وہ تمام سفارشات پیش کریں گے جو آپ نے بیان کی ہیں اس میں کسی بھی قسم کا کوئی فرق نہیں ہو گا۔
نوجوان 60 فٹ گہرے کنویں میں گرنے سے
قصور
نوجوان گہرے کنویں میں گرنے سے معجزانہ طور پر بچ گیا ریسکیو 1122کی ٹیم نے نوجوان کو زخمی حالت میں کنویں سے نکال کر ہسپتال منتقل کردیا
تفصیلات کے مطابق الہ آباد کے نواحی گاؤں تلونڈی اٹاری روڑ پر واقع زمیندار کے ٹیوب ویل پر ابوبکر نامی نوجوان اپنے دوستوں کے ہمراہ کھڑے تھے کہ نوجوان ابوبکر اچانک تقریبا 60 فٹ گہرے کنویں میں جا گرا ساتھیوں کے شور کرنے پر آس پاس کے لوگ بھی موقع پر پہنچ گئے تاہم نوجوان ابو بکر معجزانہ طور پر بچ گیا ریسکیو 1122 کو کال کرنے پر ریسکیو ٹیم نے جائے حادثہ پر پہنچ کر زخمی نوجوان کو کنویں سے نکال کر ہسپتال منتقل کر دیا
ریسکیو 1122 کی ہیلپ لائن غیر فعال شہری پریشان
قصور
ریسکیو 1122 قصور کی ہیلپ لائن پر کی جانے والی کال لاہور میں ریسیو ہونے لگی شہری سخت پریشان
تفصیلات کے مطابق کل سے ریسکیو 1122 قصور کی ہیلپ لائن پر کی جانے والی کالیں لاہور ریسکیو آفس میں ریسیو ہونے لگیں کل شام 5:30 منٹ پر رائیونڈ روڈ پر اٹھیل پور کے رہائشی محمد مشتاق کا کھارا موڑ کے قریب ایکسیڈنٹ ہوا اور ٹانگ ٹوٹ گئی جس پر مسافروں نے 1122 قصور آفس کال کی تو کال لاہور آفس نے ریسیو کی جس پر شہریوں نے پریشان ہو کر بار بار کالیں کیں مگر ہر بار کال لاہور آفس میں ہی ریسیو ہوئی جس پر لاہور آفس نے ریسکیو 1122 کا لینڈ لائن نمبر 0492772401 دیا مگر اس پر کال ملانے سے نمبر بزی جاتا رہا تنگ آ کر شہریوں نے زخمی مشتاق کو رکشے پر ہسپتال پہنچایا ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے لوگوں نے ریسکیو کے اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ اس مسئلے کو درست کیا جائے تاکہ قصور سے ملائی گئی کال قصور دفتر ہی ریسیو کرےریسکیو 1122 قصور نے ایمانداری کی مثال قائم کر دی
قصور
ریسکیو 1122 قصور کی ایمانداری کی اعلی مثال
تفصیلات کے مطابق چند دن قبل فیروز پور روڈ پر واقع وڈانہ سٹاپ پر دو موٹر سائیکلوں کے ٹکرانے سے ایک شحض کی وفات ہوگئی تھی جس سے 2 لاکھ 25 ہزار نقدی اور قیمتی موبائل ملا تھا ریسکیو 1122 قصور نے رقم اور قیمتی موبائل اپنے قبضے میں لے لیا تھا جسے ریسکیو 1122 قصور نے ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے متوفی کو ورثاء کو واپس کر دیا
لوگوں نے ریسکیو 1122 کی اس ایمانداری کی خوب تعریف کی ہے





