Baaghi TV

Tag: 1200 سالہ مسجد دریافت

  • سعودی عرب،توہین مسجد نبوی میں ملوث پی ٹی آئی کارکنان کو شہباز شریف نے رہا کروا دیا

    سعودی عرب،توہین مسجد نبوی میں ملوث پی ٹی آئی کارکنان کو شہباز شریف نے رہا کروا دیا

    سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان کا سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کے لئے بڑا فیصلہ , مسجد نبوی میں ہنگامہ آرائی میں قید تمام پاکستانیوں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد سے اپریل 2022 کے واقعے پر گرفتار پاکستانیوں کی رہائی کی درخواست کی تھی وزیراعظم شہباز شریف نے شہزادہ محمد بن سلمان سے درگزر سے کام لینے کی درخواست کی تھی، سعودی عرب کی جانب سے ملزمان کی رہائی کے فیصلے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اجر عطاء فرمائے

    مدینہ منورہ کی عدالت نے تین پاکستانیوں کو 8 سال اور تین کو 6 سال قید کی سزا سنائی تھی خواجہ لقمان، محمد افضل، غلام محمد کو 8 سال اور انس، ارشد اور محمد سلیم کو 6 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی ایک اور پاکستانی طاہر ملک کو بھی تین سال قید اور 10 ہزار ریال جرمانہ کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے دوران نازیبا واقعہ پیش آیا تھا مسجد نبوی میں نعرے لگائے گیے مریم اورنگزیب شاہ زین بگٹی سے بدتمیزی کی گئی واقعہ کے بعد سعودی حکام نے ایکشن لیا اور چند شرپسندون کو گرفتار کیا

    وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی عرب سے واپسی پر پاکستان میں بھی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، شیخ رشید سمیت دیگر پر مقدمے درج کئے گئے تا ہم تحریک انصاف کے رہنماؤں نے ضمانت کروا لی اور کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکا تھا، ان کیسز میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، شیخ رشید ابھی بھی ضمانت پر ہیں،

    مسجد نبوی کی توہین کے واقعہ پر پاکستانی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھی احتجاج کیا تھا ،جے یو آئی نے کراچی مین ایک بڑا جلسہ کیا تھا جس سے مولانا فضل الرحمان نے بھی خطاب کیا تھا،سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بھی ٹرینڈ ٹاپ پر آ گیا تھا جس میں مسجد نبوی کی توہین کرنے والے پاکستانیوں کو گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ سامنے آیا تھا، واقعہ کے اگلے روز سعودی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ واقعہ میں ملوث کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے

    توہین مذہب کے مقدمات، شیریں مزاری نے اقوام متحدہ میں مسئلہ اٹھا دیا

    مسجد نبوی کو جلسہ گاہ بنانیوالو شرم کرو، بے حرمتی کا سازشی پکڑا گیا، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، رانا ثناء اللہ نے بڑا اعلان کر دیا

    سینکڑوں پیغامات موصول ہوئے کہ حکومت ایکشن کیوں نہیں لے رہی۔ مریم نواز کا ردعمل

    سعودی عرب میں گرفتاریوں کی ویڈیو

    شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق مسجد نبوی میں واقعہ کی خود نگرانی کرتے رہے

  • علماء کرام پر اعتراض، حقیقت کیا؟؟؟  — نعمان سلطان

    علماء کرام پر اعتراض، حقیقت کیا؟؟؟ — نعمان سلطان

    اعتراض :–کیا علماء کرام قدامت پرست ہیں. اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں.

    جواب :–اس اعتراض کے دو حصے ہیں.

    پہلا حصہ ہم علماء کرام کو قدامت پرست کیوں کہتے ہیں.

    دین اسلام آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت ہم تک پہنچا. کیوں کہ یہ دین اللہ پاک کا آخری اور مکمل دین ہے. اس لئے ہم نے دنیا میں زندگی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارنی ہے.

    اس لئے ہمیں جب بھی کسی شرعی حکم کے بارے میں جاننا ہوتا ہے تو ہم قرآن، حدیث اور اجماع امت کو دیکھتے ہیں. اگر وہاں سے راہنمائی ملے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر علماء امت قیاس کرتے ہیں اور اس کے مطابق وقت کے علماء متفقہ طور پر شرعی مسئلے کا حل بتاتے ہیں.

    یہ یاد رکھیں کہ دین کے اصول اور حکم اٹل ہیں ہم ان میں کمی بیشی نہیں کر سکتے ہیں. اور جب ہم اپنے شرعی معاملات کے حل کی راہنمائی کے لئے چودہ سو سال پیچھے دیکھتے ہیں تو یہ قدامت پرستی نہیں بلکہ اسلام کی حقانیت اور جامعیت کا ثبوت ہے.

    اعتراض کا دوسرا اور اہم حصہ کہ علماء جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں؟؟؟؟

    جدید دور کے تقاضوں سے ہم عموماً مراد کپڑوں میں شلوار قمیض کے بجائے پینٹ شرٹ، زبان میں اردو اور عربی کے بجائے انگریزی، مدرسے سے فارغ التحصیل ہونے کے بجائے کسی یونیورسٹی کی ڈگری، اس کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیاں جیسے ہوٹلنگ، کوئی گیم(کھیل ) یا کوئی سیمینار وغیرہ اور اس کے علاوہ روشن خیالی (اس کی تعریف لوگوں کی نظر میں مختلف ہے اور لوگوں کا سب سے زیادہ زور بھی اسی پر ہوتا ہے ) شامل ہیں.

    ابھی ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا پڑے گا کہ مدارس میں اکثریت غریب گھرانوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں. اور روشن خیالی کے علاوہ جتنی بھی چیزیں اوپر گنوائی گئی وہ غریب گھرانوں کے بچے دوران تعلیم اور کسی مسجد یا مدرسے میں نوکری ملنے کے بعد بھی افورڈ ہی نہیں کر سکتے. تو وہ انہیں اختیار کیسے کریں گے.

    اب جہاں تک بات روشن خیالی کی ہے. اگر وہ ممنوعات دین کے بارے میں ہے. تو جو دین کے اصول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے طے ہو گئے ان میں ہم تبدیلی نہیں کر سکتے.

    لیکن بعض مقامات پر جہاں شریعت میں گنجائش یا ابہام ہے وہاں پر بعض علماء ضد میں آ کر انہیں بھی ممنوع کے درجے میں لے جاتے ہیں..اور اسی وجہ سے لوگ علماء سے متنفر ہوتے ہیں.

    ان مسائل کا حل:

    ابھی ضرورت اس امر کی ہے کہ جیسے سکولوں میں اسلامیات اور قرآن کی تعلیم لازمی ہے ایسے ہی مدرسوں میں بھی انگریزی سمیت جدید علوم کی تعلیم لازمی قرار دی جائے.ہمیں چاہیے ہم علماء کو صرف شادی بیاہ، جنازوں اور نمازیں پڑھانے تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنی سوشل تقریبات کا لازمی جز بنائیں تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں اور علماء اور نوجوان نسل کے درمیان فاصلے کم ہو سکیں.

    پہلے وقتوں میں امیرالمومنین مرکزی مسجد میں خود نمازیں پڑھاتے تھے خطبے دیتے اور اہم اعلانات (جیسے اعلان جنگ وغیرہ) کرتے تھے. وہ اپنے وقت کے دین کے عالم بھی ہوتے تھے اور وہ اپنے طرز عمل سے ثابت کرتے تھے کہ علماء کرام کا کام صرف امامت کرنا نہیں بلکہ امت کی اصلاح اور قیادت کرنا ہے.

    اس کے علاوہ مفتی حضرات کے لئے ماہرین کی مدد سے دو سال کا فزکس، بائیو اور کیمسٹری کا سپیشل کورس مرتب کیا جائے. جس میں ارتقاء، بگ بینگ اور ان سے متعلقہ نظریات اور جدید تحقیق کے بارے میں آسان اور عام فہم زبان میں انہیں بتایا جائے.

    اور انہیں پابند کیا جائے جب تک آپ یہ کورس نہیں کرتے آپ صرف عالم دین ہوں گے. دینی معاملات میں فتویٰ نہیں دے سکیں گے. اور حکومت وقت کی طرف سے مساجد کے لئے چار یا پانچ درجے بنائے جائیں.

    مسجد کے خادم، خطیب، قاری اور مفتی صاحب کو اچھے گریڈ میں اچھی سے اچھی تنخواہ دی جائے تا کہ وہ فکر معاش سے بے فکر ہو کر دین کی خدمت کر سکیں.

    مساجد اور مدارس جب تک زکوٰۃ خیرات کے پیسے پر چلتے رہیں گے وہاں سے فرقہ واریت ختم نہیں ہو گی.. حکومت کو تمام دینی مدارس اور مساجد کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہیے. اور مدارس میں علماء کے ساتھ ساتھ متعلقہ مضامین کے ماہر اساتذہ کو بھی طلباء کی تعلیم و تربیت کے لئے مستقل بنیادوں پر بھرتی کرنا چاہیے.ان تمام اور ان جیسے دیگر اقدامات سے جو مدارس سے علماء کی کھیپ تیار ہو گی وہ لازمی پراعتماد اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو گی.

  • مقبوضہ بیت المقدس:ب 1200 سالہ قدیم مسجد دریافت ہوگئی

    مقبوضہ بیت المقدس:ب 1200 سالہ قدیم مسجد دریافت ہوگئی

    مقبوضہ بیت القدس:مقبوضہ بیت القدس میں اسرائیلی صحرائی علاقے نقب میں ماہرین آثار قدیمہ نے بارہ سو سالہ قدیم مسجد دریافت کرلی۔ 12 سو سال پرانی مسجد کی باقیات کی دریافت کو ماہرین اثار قدیمہ نے اپنے لیے بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ماہرین کا خیال ہ ےکہ کئی سو سال قبل یہ مسجد دین کی تبلیغ کے لیے استعمال ہوتی تھی، مذکورہ مسجد عام نوعیت سے بالکل مختلف ہے۔

    اسرائیلی ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ اس قدیمی مسجد کو دنیا بھی میں امکاناً قدیم ترین مساجد میں شمار کیا جا سکتا ہے،اس کا طرز تعمیر انتہائی خاص رہا ہے۔ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں اس قدیمی مسجد جیسا کوئی نمونہ دستیاب نہیں ہوا ہے اور یہی پہلو حیران کن ہے، صحرائی علاقے نقب میں بیئر السبع سب سے بڑا شہر ہے جہاں سے مسجد کی باقیات برآمد ہوئیں۔

    دریافت ہونے والی باقیات میں واضح طور پر مسجد کا احاطہ دیکھا جاسکتا ہے جبکہ محراب کا رخ مکہ کی جانب واضح ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں نمازیں پڑھیں اور پڑھائی جاتی تھیں۔ مسجد کے بارے میں خیال ہے کہ یہ مسجد اس علاقے میں دین اسلام کی اشاعت کے ابتدائی عرصے میں تعمیر کی گئی تھی۔

    ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا تھا کہ امارات میں پرانی مسجد کے آثار ’العین‘ کے مقام پر ملے تھے جہاں اس وقت مسجد الشیخ خلیفہ تعمیر کی گئی ہے.خیال رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں متحدہ عرب امارات کے ماہرین آثار قدیمہ نے ایک ہزار سال پرانی مسجد دریافت کی تھی،