Baaghi TV

Tag: 14 اگست

  • پشاور،لیڈی ریڈنگ ہسپتال عملے کا 14 آگست جوش و خروش سے منانے کا فیصلہ

    پشاور،لیڈی ریڈنگ ہسپتال عملے کا 14 آگست جوش و خروش سے منانے کا فیصلہ

    پشاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال انتظامیہ کا 14 اگست جوش و خروش سے منانے کا فیصلہ ،نمایا کارکردگی دکھانے والے عملے کو اعزازی اسناد سے نواز نے کا فیصلہ ، ہسپتال ترجمان محمد عاصم کے مطابق ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابرار خان نے 14اگست کی تقریبات کو حتمی شکل دینے کے لیے ہدایات جاری کردی ہیں اور متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کو نمایاں کارکردگی کے حامل کلاس فور ،سیکیورٹی اور دیگر ذیلی سٹاف کے ناموں کو فائنل کرکے جشن آزادی کی تقریب میں تعریفی اسناد سے نوازا جائے گا،ترجمان نے کہا کہ ایل آر ایچ میں اس سال مختلف ایمرجنسی اور دیگر واقعات رپورٹ ہوئے جس میں طبی عملے کے ساتھ ساتھ ذیلی سٹاف نے بھی بھر پور کردار ادا کیا، جس کے اعتراف میں ان کو تعریفی شیلڈز اور سرٹیفیکیٹ سے نوازا جائے گا۔
    ہسپتال ڈائریکٹر نے اس موقع پر کہا کہ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی ایل آر ایچ میں جشن آزادی کوجوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے ۔ جس کے لیے تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس 14 اگست پر امن اور محبت کا پیغام دیں گے اور ساتھ ساتھ مریضوں کو بہترین سروسز کی فراہمی کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کریں گے۔ترجمان نے مزید کہا کہ 14 اگست کی تقریب میں بڑے پیمانے پر ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈکس سیکیورٹی ،کلاس فور اور دیگر سٹاف کی شمولیت متوقع ہے جبکہ اس حوالے سے ہسپتال کے عمارت کے سامنے پرچم کشائی کی تقریب کا انعقاد بھی کیا جائے گا ۔

  • انور مقصود کو معافی مانگنی پڑ گئی لیکن کیوں؟

    انور مقصود کو معافی مانگنی پڑ گئی لیکن کیوں؟

    معروف لکھاری، دانشور اور طنز و مزاح نگار انور مقصود سے ہیں ان کے پرستار کچھ ناراض. پرستاروں کی ناراضگی کو جائز جانتے ہوئے انور مقصود نے مانگ لی ہے ان سے معافی. رپورٹس کے مطابق انور مقصود نے اپنے سیاسی مزاحیہ تھیٹر ڈرامہ ساڑھے 14 اگست میں آئٹم سانگ شامل کیا جس پر شائقین بےحد ناراض ہوئے .انہوں نے اعتراف کیا کہ تھیٹر ڈرامہ ساڑھے 14 اگست پاک و ہند کی تاریخ ، تہذیب اور ثقافت پر مبنی ہے، چونکہ جدید تقاضوں سے بھی اس ڈرامے کو ہم آہنگ کرنا تھا اسلئے آج کی تہذیب و ثقافت دکھانا بھی ضروری تھا اس لئے آئٹم سانگ شامل کر لیا لیکن میں ان سب سے معافی مانگتا ہوں کہ جن کو یہ تجربہ اچھا نہیں لگا. انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ساڑھے 14 اگست کے لئے یہ

    آخری ڈرامہ ہے اسکے بعد اب میں اس سیریز کا کوئی بھی ڈرامہ نہیں لکھوں گا.اب کوئی نئی کوشش کروں گا. یاد رہے کہ انور مقصود آج کل کے ڈراموں کے حوالے کہتے ہیں کہ آج کا ڈرامہ جس طرح کا بن رہا ہے اسے اگر لوگ پسند کررہے ہیں تو اچھی بات ہے لیکن میں کم از کم ایسے ڈرامے نہیں لکھ سکتا نہ ہی کسی کی ڈکٹیشن پر چل سکتا ہوں اس لئے میں نے خود بخود ہی کنارہ کشی اختیار کر لی ہے.

  • ملک کے لئے متحد ہونا وقت کا تقاضا ہے انجمن

    ملک کے لئے متحد ہونا وقت کا تقاضا ہے انجمن

    پنجابی فلموں کی سینئر اداکارہ انجمن نے اس موقع پر کہا ہے کہ پاکستان قائد اعظم کی سیاسی تدبیر اور ان کے پہاڑ جیسے عزم کا زندہ معجزہ ہے۔ قائد کا پیغام اتحاد، یقین اور نظم و ضبط ہمارے عوام کے لیے اقوام عالم میں اپنے صحیح مقام کے حصول کے سفر کا ایک منظم اصول ہے۔ہمیں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ اس موقع پر ہم نے کیا کھویا ہے کیا پایا ہے۔ ہم فنکار لوگ ہیں اور فنکار بہت حساس ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اپنے ملک کا درد ہم اپنے دل میں‌بہت زیادہ مھسوس کرتے ہیں۔اس ملک

    نے عزت شہرت نام دیا ہے ہماری تو جان بھی س ملک کے لئے حاضر ہے۔انجمن نے مزید کہا کہ اس ملک کو ہم نے بیش بہا قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہمیں سوچنا چاہیے کہ اگر ہمارے بزرگ قربانیاں نہ دیتے یہ ملک نہ بنتا اور ہم آج ہم ایک آزاد ملک میں سانس نہ لے رہے ہوتے۔ یہ آزادی ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کا تحفہ اور نعممت ہے۔زندہ قومیں ہمیشہ اپنے ماضی کو یاد رکھتی ہیں.ہمیں اس ملک کو قائداعظم کے وژن کے مطابق بنانا چاہیے.ہم اگرقیام پاکستان کے وقت کی تاریخ پڑھیں تو ہماری آنکھوں سے آنسو نہ رکیں. یہ ملک آسانی سے نہیں بنا تھا، اس ملک کے وجود میں آنے کے بعد بھی دشمن اسی امید پر تھے کہ پاکستان اپنے پائوں پر کھڑا نہ ہواور واپس اسی جگہ پر آجائے جہاں پر تھا.

  • پاکستان براستہ سری لنکا  — محمد خضر بھٹہ

    پاکستان براستہ سری لنکا — محمد خضر بھٹہ

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک آزاد ریاست 14 اگست 1947 پوری قوم شکرانے کے نفل ادا کر رہی تو کوئی اپنے بچھڑے والے پیاروں کو یاد کر کے زاروقطار رو رہے اور یہ آزادی ایک عظیم لیڈر کی دن رات محنت سے ملی ایک دن بعد بھارت آزاد ہوا اور دل میں پاکستانی کی قیامت تک دشمن رہنے کی قسم کھائی.

    پاکستان کا سفر شروع ہوا تو اس وقت ہر کسی نے فرض سمجھ کہ پاکستان کو دنیا کا ترقیافتہ ملک بنانے کے لیے محنت شروع کر دی 1971 سے پہلے نشیب و فراز اس کی تاریخ کا حصہ رہے ہیں پاکستان کو شروع دن سے اقتدار کی حوس کے لیے استعمال کیا جاتا رہا اس اقتدار کی جنگ نے 1971 کو دو حصوں میں بدل دیا اور اس وقت کے دو کردار آج ذولفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کے نام سے تاریخ کے لیڈر ثابت ہوے دور بدلتے رہے اور پاکستان بھی حالات کی کشمکش میں رہا.

    اللہ نے اس ملک کو بہت نعمتوں سے نوازا ہے جس کے کسان ایک ریڑھ کی ہڈی ہیں مزدور اس کا حسن ہیں پہاڑ،دریا،ندی نالے جھیل اس کا سنگھار ہیں جنگل سکون ہے اس ملک میں رہنے والا ہر وہ شخص اپنے پاکستان کی ترقی میں لگا ہے جو آج کا غریب ہے جس کو کرسی کی حوس نہیں اقتدار نے اسے ظالم نہیں بنایا اور اس کا دوسرا رخ بہت افسوس زدہ ہے کہ ہمارے ملک کے سیاست دان سے لیکر جرنیلوں تک جرنیلوں سے لےکر کلرک تک جس کو دیکھو اپنی جیب بھر رہا ہے آج ہر نوجوان اپنی پسند کی جماعت کے نعروں میں مصروف ہے اور ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں کیا یہ آزاد ریاست ہے کہ موروثی سیاست کی غلامی کرو اور نعرہ لگاتے ہو پاکستان زندہ باد.

    آج کسی کو یاد نہیں جس پاکستان کی ترقی کے لیے دن رات محنت کی خون بہا آج اس ہی پاکستان کی عزت لوٹ کہ دنیا کو بتا رہے ہو کہ ہم مفاد پرست غلام ابن غلام قوم ہیں آج میں اور آپ نہیں پاکستان بھیک مانگنے پہ آچکا ہے اور اس کے ذمے دار جتنے سیاست دان ہیں اتنا آپ اور میں ہیں آج کسی کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہم دیوالیہ ہونے جا رہے ہیں؟ نہیں ہمیں بس عمران خان زندہ باد،نواز شریف زندہ باد،زرداری زندہ باد کا پتہ ہے.

    ہم اپنی اس عقل سے آنے والی نسلوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں یہ وہی پاکستان ہے جو گندم دوسرے ممالک کو دیتاہ تھا آج لینے پہ مجبور ہے کیوں؟گھی،دال،چینی آئل نہانے کا صابن تک باہر سے آتا ہے ہم ایک سوئی تک باہر سے لیتے ہیں اور بولتے ہیں کہ ہم غریب ملک ہیں خدا کا خوف کرو ہم غریب نہیں ہمارے حکمران چور ہیں.

    آج سری لنکا ہر ملک کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے کہ ہمیں بچا لو ہم دیوالیہ ہو چکے ہیں سری لنکا کی سوئی ہوئی عوام جو نعروں کے مزے لے رہی تھی آج انہیں نعرے لگوانے والوں کے ایوانوں صدارتی محل میں گھس کہ ازالہ کر رہے ہیں چین سری لنکا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک ہے جیسے کہ پاکستان میں کر رہا ہے آج سری لنکا اگر بھیک مانگنے پہ مجبور ہے تو اس کی وجہ موروثی سیاست اور غلام ذہنوں کی وجہ ہے یہی لوگ کل ان کو کاندھوں پہ اٹھاتے تھے اور آج گریبان پر پڑتے ہیں سری لنکا کی حکومت نے اپنے رشتہ داروں کو وزارتیں دی کہ اقتدار کے مزے لو بندر کے ہاتھ میں ماچس آنے والا کام ہوا اور پورے رشتہ داروں نے سری لنکا کو دیوالیہ کر دیا.

    اب پاکستان بھی نا چاہتے ہوئے اسی ہی راستے پر ہے اقتدار دیکھو تو بس مفاد کے لیے سیاست دیکھو تو خاندانی اعلی افسران دیکھو تو کرپشن اور غریب دیکھو تو ہسپتال میں ہے آج پاکستان کا کسان بھی پورا سال بچوں کی طرح فصل تیار کرتا ہے فرٹیلائزر استعمال کرتاہے تو گھر کے زیور بیچ کہ اور جب منڈی پہنچتا ہے تو ٹکے کے حساب سے دے کہ آتا ہے آج نوجوان بھی لکیر کا فقیر ہو چکا ہے اگر اس پاکستان کو سری لنکا نہیں بنانا تو پھر نعرے چھوڑ کہ حق کی آواز لگانی پڑے گی خاندانی سیاست کو دفن کرنا پڑے گا کرپشن کرنے والوں کو اس ملک سے نکالنا پڑے گا اعلی اداروں کو اپنا فرض جہاد سمجھ کہ ایمانداری سے چلنا پڑے گا اور غریب کا احساس اور خدا کا ڈر پیدا کرنا پڑے گا اپنے ذہن سے غلامی کا پردہ ہٹانا پڑے گا، پھر جا کہ قائم رہے گا پاکستان زندہ باد پاکستان پایندہ باد.

    اس ملک کو نوجوان نسل کی ضرورت ہے ہمیں جسمانی آزادی تو ہے مگر ذہنی نہیں ہمیں اپنا ایک مقصد لے کے چلنا پڑے گا حق کے ساتھ کھڑے ہونگے تو ہمارا مستقبل اور آنے والی نسلوں کا مستقبل سنبھل جائے گا خدا کے لیے اس عظیم وطن عزیز کو اس موڑ نا جانے دیں جہاں سے واپس آنا نا ممکن ہو یہ ملک ایک امانت ہے ان شہیدوں کی جنہوں نے اپنا خون دے کر اس کو پاکستان کا نام دیا چلیں ایک قوم بن کر ۔۔۔پاکستان کی خاطر!

  • "دو خواب۔۔۔۔اور۔۔۔۔تعبیریں۔۔۔!!!” جویریہ چوہدری

    "دو خواب۔۔۔۔اور۔۔۔۔تعبیریں۔۔۔!!!” جویریہ چوہدری

    صدیوں پہلے اللّٰہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑھاپے میں اپنے پروردگار سے دعا مانگتے ہیں۔۔۔۔:
    رَبِّ ھَب لِی مِنَ الصّٰلِحِین¤
    "میرے رب مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما۔۔۔”
    اللّٰہ تعالی نے اپنے خلیل کی دعا قبول کرتے ہوئے بردبار لڑکے کی بشارت دی۔۔۔
    مگر آزمائش کا دور ابھی باقی تھا۔۔۔بیٹا جب دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللّٰہ کے خلیل پیغمبر خواب میں دیکھتے ہیں کہ اسے ذبح کر رہے ہیں۔۔۔
    اپنے فرمانبردار اور صالح بیٹے سے مشاورت کی۔۔۔۔کیونکہ پیغمبروں کے خواب بھی وحی ہوا کرتے ہیں۔۔۔۔!!!
    تو بیٹے نے نہایت عاجزی اور ثابت قدمی سے کہا:
    ابا جان!
    آپ کو جو حکم اللہ کی طرف سے ملا ہے۔۔۔۔اسے بجا لایئے۔۔۔
    کر گزریئے۔۔۔!!!!!
    ان شآ ء اللّٰہ آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔۔۔
    باپ اپنے لاڈلے بیٹے کو لے کر چل پڑا۔۔۔۔اور چھری تلے گردن رکھ دی۔۔۔
    جہانوں کا خالق اپنے بندے کی فرمانبرداری کے نظارے عرش پر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔:
    فرشتے کے ذریعے ندا آئی۔۔۔”یقیناً تو نے خواب سچ کر دکھایا۔۔۔”
    تیرے اس بھاری عمل کی لاج اب ہم یوں رکھیں گے کہ قیامت تک تیری اس سنت کو زندہ رکھیں گے۔۔۔۔
    اور اہل ایمان قیامت تک اللّٰہ کی رضا کے لیئے تیری اس قربانی کی یاد میں اپنے جانور اللّٰہ کی راہ میں قربان کرتے رہیں گے۔۔۔
    "اور ہم نے اس کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا۔
    ابراھیم علیہ السلام پر سلام ہو۔
    ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔
    بے شک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے۔۔۔”(سورۃ الصّٰفٰت)
    اسکے ساتھ یہ سبق بھی ابراھیم علیہ السلام کی سنت کی اتباع کرنے والوں کے لیئے اہمیت رکھتا ہے کہ جب وقت آ گیا حق کے لیئے وہ اپنی جانوں کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔۔۔!!!!

    بیسویں صدی کے باسیانِ ہندوستان نے بھی ایک خواب دیکھا تھا کہ اگر ان غیور و باشعور مسلمانوں کے لیئے برصغیر کے اندر الگ سے ایک نمائندہ ریاست قائم ہو جائے۔۔۔جہاں وہ اپنی مرضی کے مطابق جی سکیں۔۔۔۔اپنے دین کی تعلیمات پر آذادی سے عمل کر سکیں۔۔۔
    ظاہر سی بات تھی کہ یہ انسانوں کی زبان سے نکلتی بات تھی۔۔۔جسے دیوانے کا خواب بھی کہا گیا۔۔۔۔نا قابل عمل بھی کہا گیا۔۔۔مگر سنت ابراہیمی سے پیار رکھنے والوں نے تاریخ کے انمٹ ابواب پر خونِ دل سے تحریر کر دیا کہ لا الہ الا اللہ کے وارث کسی دور میں بھی قربانیوں سے ہچکچائے نہیں ہیں۔۔۔
    امتحان بڑا سخت تھا۔۔۔
    سفر بڑا کٹھن اور راہیں بڑی دشوار گزار تھیں۔۔۔!!!!
    مال کی قربانی تھی۔۔۔۔جان کی بھی۔۔۔۔
    گھر بار کی۔۔۔تو خاندان کی بھی۔۔۔
    مگر قافلہ ہجرت چل پڑا تھا۔۔۔جانبِ منزل۔۔۔۔آبلہ پا۔۔۔سورج کی حدت اور موسم کی شدت سے بے پرواہ ہو کر۔۔۔
    ایک ہی امید کا چراغ دلوں میں جلائے۔۔۔کہ خواب سے تعبیر تک کا سفر طے ہو جائے۔۔۔
    آذاد دھرتی۔۔۔پاک وطن۔۔۔پاکستان کی مٹی کا بوسہ نصیب ہو جائے۔۔۔!!!!!!
    ردا و آنچل۔۔۔۔
    لختِ جگر۔۔۔۔
    ماؤں کی ممتا۔۔۔
    شفقتِ پدری۔۔۔۔
    کی قربانیاں دے کر یہ قافلہ ہجرت اپنے مشن میں کامیاب ٹھہرا تھا۔۔۔۔
    14اگست 1947ء اقوام عالم کی تاریخ کا تابناک دن جب دنیا کے نقشے پر مسلمانوں کی ریاست”پاکستان” کے انوکھے اور پیارے نام کے ساتھ ابھری۔۔۔
    دشمن کے سینے آگ سے بھڑک اٹھے تھے مگر۔۔۔۔۔
    اللّٰہ کا وعدہ بھی برحق تھا:
    "ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔۔۔۔۔”

    اس پاک وطن کی عمارت۔۔۔۔ انسانوں کے اعضاء اور پاکیزہ لہو کے گارے سے چُنی گئی۔۔۔
    کتنی نسلوں کی قربانیوں سے ملا۔۔۔۔
    اے وطن تو ہماری وفا کا صلہ۔۔
    خواب سے تعبیر تک سفر تو کس عزم سے طے ہوا تھا۔۔۔۔شاید ہم جیسے اس کا ادراک کبھی صحیح معنوں میں نہ کر سکیں۔۔۔
    ہاں چودہ اگست تک جوش و خروش باقی رہے گا۔۔۔پھر وہی ڈگر۔۔۔؟؟؟
    لیکن سوچنا یہ ہے کہ اپنی اپنی”میں”سے ہٹ کر ہم سب مل کر اس پاک وطن کی مضبوطی اور نا قابل تسخیر دفاع میں شامل ہو جائیں۔۔۔
    اس آذادی کے تحفہ کی دل و جان سے قدر اور بقاء کے لیئے کمر بستہ ہو جائیں۔۔۔
    اس پاک وطن کے دفاع میں اپنے اپنے محاذوں پر ڈٹ جائیں۔۔۔
    اور پاکستان کے دشمنوں کو یہ واضح پیغام پہنچا دیں کہ ابراھیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں عید و یومِ آذادی مناتی یہ قوم کبھی کسی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹی اور اس کے جوان بیٹے آج بھی اپنے پاکیزہ لہو سے اس کے در و دیوار کا بھر پور دفاع کر رہے ہیں۔۔۔
    جس طرح 12،13،14اگست کو ہم مالی قربانی کریں گے۔۔۔۔
    اسی طرح 14اگست کو یوم آزادی مناتے ہوئے اس عہد کا اعادہ بھی کریں گے کہ اس دیس کی حرمت ہمیں جانوں سے بڑھ کر ہے۔۔۔۔!!!
    اور لاریب اس وطن پاک کو بھی قیامت تک پائندہ و سلامت رہنا ہے۔۔۔۔۔!!!!!
    ہم اس دھرتی کے روشن مستقبل کے خواب کو کبھی بکھرنے نہیں دیں گے۔۔۔ان شآ ء اللّٰہ۔۔۔
    آیئے!
    اپنا اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اس وطن کی ترقی و استحکام کے لیئے اپنے اپنے کردار کا از سر نو جائزہ لیں۔۔۔۔کہ آذادی سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہے۔۔۔سب سے پہلی چیز یہی”آذادی” ہے۔۔۔۔
    کیونکہ جب ہم آذاد ہوں گے تو آزادانہ اپنے تمام عملوں کو بھی بجا لا سکیں گے۔۔۔۔!!!!!
    اس کا بہترین مشاہدہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے مسلمانوں کی حالت زار سے کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔!!!
    تو سلامت وطن۔۔۔۔تا قیامت وطن۔۔۔!!!
    دل دل کی آواز۔۔۔۔ہر دل کی آواز "پاکستان زندہ باد”

  • ماہ آزادی اور ہم ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    ماہ آزادی اور ہم ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    ہم ایک بار پھر یوم آزادی منانے جا رہے ہیں،یہ وہ دن ہے جب 1947ء میں تحریک آزادی میں شامل ہمارے قومی رہنماؤں اوراسلاف کی قربانیوں کے نتیجے میں برطانوی سامراج سے آزاد ہوکر دنیا میں کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والا دوسرا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان معرض وجود میں آیا۔ یوم آزادی ہر سال کیطرح 14اگست کو سرکاری و قومی سطح پر شایان شان طریقے سے منایا جائے گا۔مسلم لیگ نے برصغیر کو قائداعظم محمد علی جناح‘ علامہ اقبال‘ نواب بہادر یار جنگ‘ خواجہ ناظم الدین‘ شیر بنگال‘ مولوی فضل الحق اور لیاقت علی خان جیسے عظیم رہنما دئیے جن کی محنت اورجہد مسلسل کے نتیجہ میں آج ہم ایک آزاد وطن میں سکھ کا سانس لے رہے ہیں۔ آج یوم آزادی کی اہمیت‘ اسلاف کی قربانیوں اور ان کے پیغام کو بھر پور اندازمیں اجاگر کرنے اور ہرمکتبہ ہائے فکر خاص طور پر نوجوانوں تک پہنچانے کی اشد ضرورت ہے،
    ہمیں اس وطن کی ترقی و دفاع کیلئے ہر وقت کام کرنا چاہئیے، اپنے محافظوں کی عزت کریں، انکے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں، اپنے اپنے شعبہ سے انصاف کریں،
    ہم سب کو چاہئیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا بھرپور شکر ادا کریں، اور رب العزت کا شکریہ ادا کرنے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ ہم شکرانے کے نوافل ادا کریں اور اپنے سر کو اللہ کے سامنے جھکا دیں،
    ناکہ ہم اس مہینے میں اپنوں کی قربانیوں، شہادتوں کا مذاق بننے کا سبب بنیں، موٹر سائیکلوں کے سائلنسرز نکال کر منہ پر پینٹ کر کے آوارہ گردی کریں اور بلا وجہ کے تماشے کر کے اھل وطن کو تنگ کریں۔

  • 14 اگست ، یوم آزادی پاکستان

    14 اگست ، یوم آزادی پاکستان

    14 اگست یوم آزادیِ پاکستان ۔۔۔ محمد عبداللہ گِل
    آج کی میری اس تحریر کا مقصد یوم آزادی پر ہماری ذمہ داریاں کی نشان دہی کرنا ہے۔آزادی ایک نعمت ہے اس کی قدر ان کو ہی ہوتی ہے جن نے کچھ کھویا ہوتا ہے اس کے لیے یا جن کے پاس یہ نعمت نہی ہوتی۔ 14 اگست کا دن ایک خاص اہمیت کا حامل اور حب وطنی کا جذبے بھرپور ایک خاص دن ہوتا ہے ۔۔ ایک ایسا دن جس کا بچوں اور نوجوانوں کوعید کے دن کی طرح ہی انتظار ہوتا ہے ۔۔ گھروں ، چھتوں ، گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں کو لوگ سجانا شروع کر دیتے ہیں ۔۔ بچوں کے سکولوں کالجوں وغیرہ میں بھی خاص پروگرام ہوتے ہیں ۔۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے تجزیے، کالم نویسوں کے کالم بہت عجیب اور حیران کن انداز میں بات کرتے ہیں 14 اگست کی اہمیت اور اسکی بنیاد کو کھوکھلا کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہتے ہیں اور کچھ حضرات بیرون ِ ملک سے خرچہ لے کر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں انھیں غیرت کھانی چاہیں اور انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ 14 اگست صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک خاص تہوار ہے جس دن پاکستان معرض وجود میں آیا ۔۔
    14 اگست، آزادی، اور جشنِ آزادی کا مفہوم کیا ہے، عام لوگ اور بالخصوص نئی نسل کی اکثریت اس سے بالکل بے بہرہ ہے۔ ان پڑھ تو چلو پروپیگینڈے کا شکار ہیں، لیکن پڑھے لکھے بھی غیر تاریخ کے طوطے بنے ہوئے ہیں۔ آزادی کا تصور ان سب کے لیے ایک مجرد اور رومانوی تصور کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ بس یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے 14 اگست کو آزادی حاصل کی۔ کس سے حاصل کی، کیوں حاصل کی، اور کیسے حاصل کی؛ ان بنیادی سوالات سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔ اس روز ایسے بینر بھی آویزاں کیے جاتے ہیں، جن پر آزادی کے شہیدوں کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔ اس بے خبری کا نتیجہ یہ برآمد ہو رہا ہے کہ 14 اگست اور آزادی کا تصور محض ایک خالی خولی نعرے میں تبدیل ہو گیا ہے اور ظاہری ٹیپ ٹاپ، دکھاوا، ہلڑ بازی اور لاقانونیت اس دن کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ہم لوگ سارا سال پاکستان کی کمزوریوں پر مباحث میں اُلجھے رہتے ہیں جو خصوصاً اگست کے مہینے میں مزید دھواں دھار صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ لیکن اگر سال میں ایک دن یہ بھی سوچ لیا جائے کہ گزشتہ ایک سال میں ہم نے ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے کیا کیا؟ ہمارا کون سا عمل صرف اور صرف پاکستان کے مفاد کے لئے تھا؟ تو شاید بہت سی بے مقصد باتوں پر بحث میں وقت ضائع نہ ہو۔14 اگست کا دن پاکستان میں قومی تہوار کے طور پر بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے اس کے علاوہ پاکستانی جو بیرونِ ملکوں میں مقیم ہیں وہ بھی بہت جوش خروش سے اس دن کی تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں ۔۔ بلخوص پچھلے سال مجھے دبی میں 14 اگست منانے کا موقع ملا ۔۔ یہ دن وہاں موجود پاکستانیوں کے لیے باعث فخر اور پرمصرت ہوتا ہے ۔۔ اس دن نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک میں بھی لوگ پاکستان جھنڈوں سے گھروں کمروں ، اپنی رہائش گاہوں کو سجاتے ہیں ۔۔ دنیا کو دکھاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ پاکستان اس دن آزاد ہوا تھا اور دو قومی نظریہ کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان کیوں بنا ۔۔پاکستان بنانے کے لیے بزرگوں ، نوجوانوں ، بچوں ، یعنی مسلمانوں نے بہت قربانیاں دی ہیں ۔۔14 اگست 1947ء کا سورج برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزادی کا پیامبر بن کر طلوع ہوا تھا۔ مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ انگریزوں بلکہ ہندؤوں کی متوقع غلامی سے بھی ہمیشہ کے لیے نجات ملی تھی۔ آزادی کا یہ حصول کوئی آسان کام نہیں تھا جیسا کہ شاید آ ج سمجھا جانے لگا ہے۔ نواب سراج الدولہ سے لے کر سلطان ٹیپو شہید اور آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر تک کی داستاں ہماری تاریخ حریت و آزادی کی لازوال داستان ہے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے المناک واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ سات سمندر پار سے تجارت کی غرض سے آنے والی انگریز قوم کی مسلسل سازشوں، ریشہ دوانیوں اور مقامی لوگوں کی غداریوں کے نتیجے میں برصغیر میں مسلمانوں کی حکومتیں یکے بعد دیگرے ختم ہوتی چلی گئیں۔ اگرچہ مسلمان حکمرانوں اور مختلف قبائل کے سرداروں نے سر دھڑ کی بازی لگا کر اور جان و مال کی عظیم قربانیاں دے کر انگریزوں کو یہاں تسلط جمانے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کیں تھیں۔قائد اعظم محمد علی جناح نے کیا خوبصورت بات کی تھی۔: پاکستان اسی دن یہاں قائم ہو گیا تھا، جس دن برصغیر میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا:۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے کبھی بھی انگریز کی حکمرانی کو دل سے تسلیم نہیں کیا تھا۔ انگریزوں اور ان کے نظام سے نفرت اور بغاوت کے واقعات وقفے وقفے کے ساتھ بار بار سامنے آتے رہے تھے۔ برطانوی اقتدار کے خاتمے کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے جو عظیم قربانیاں دی ہیں اور جو بے مثال جدوجہد کی ہے۔ یہ ان کے اسلام اور دو قومی نظریے پر غیر متزلزل ایمان و یقین کا واضح ثبوت ہے۔ انہی قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔جب ہم تحریک پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو اس تاریخی جدوجہد میں یہ بات سب سے زیادہ نمایاں طور پر ہمیں نظر آتی ہے کہ مسلمان اپنے جداگانہ اسلامی تشخص پر مصر تھے۔ یہی نظریہ پاکستان اور علیحدہ وطن کے قیام کی دلیل تھی۔ ہر قسم کے جابرانہ و غلامانہ نظام سے بغاوت کرکے خالص اسلامی خطوط پر مبنی نظام حیات کی تشکیل ان کا مدعا اور مقصود تھا۔ جس کا اظہار و اعلان قائد اعظم محمد علی جناح نے بار بار اپنی تقاریر اور خطابات میں کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تحریک پاکستان کے دوران برصغیر کے کونے کونے میں: لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان۔ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ ؛ اور پاکستان کا مطلب کیا؟، لا الہ الا اللہ
    یہ نعرے برصغیر کے مسلمانوں کے دلی جذبات کے حقیقی ترجمان تھے۔عرصہ دراز سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے مسلمانوں کو آزادی ملنے کی امید پیدا ہو چلی تھی۔ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو پھر انگریزوں کے چلے جانے کے بعد وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندو بنیا کی غلامی میں چلے جائیں گئے۔ وہ ہر طرح کے سامراج سے چھٹکارا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دی جاسکتی تھی، مگر اس مقصد سے پیچھے ہٹنا انہیں گوارا نہ تھا۔پاکستان کا قیام شب قدر، جمعۃ الوداع ماہ رمضان المبارک 1368ھ بمطابق 14 اگست 1947ء عمل میں آیا۔ ظہور پاکستان کا یہ عظیم دن جمعۃ الوداع ماہ رمضان المبارک اور شب قدر جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، محض اتفاق نہیں ہے بلکہ خالق و مالک کائنات کی اس عظیم حکمت عملی کا حصہ ہے 13 اپریل 1948 ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے بانی پاکستان نے فرمایا:-
    ” ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا بلکہ ہم ایسی جائے پناہ چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں”پاکستان کرہ اراض کا واحد ایسا ملک ہے جس کی بنیاد ایک نظریہ پر رکھی گئی اور وقت کی سفاک طاقتوں سے اس نظریہ کو منوانے کیلئے اسلامیان ہند نے جو انگنت قربانیاں دیں اقوام عالم کی تاریخ میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ برسہا برس کی جدوجہد کے بعد ایک خدا، ایک رسولؐ اور ایک قرآن پر ایمان رکھنے والوں نے ایک قائد کی قیادت میں پاکستان اس نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں جس کا طرز زندگی، ثقافت اور دین سب سے الگ ہے۔ اس قوم کا کسی بھی دوسری قوم میں یا قومیت میں ضم ہونا قطعی طور پر ناممکن ہے۔دو قومی نظریہ کیا یا اس کی بنیاد کیا ہے؟ اس کا انداز بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ کی اس تقریر سے کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے 8 مارچ 1944 کو علی گڑھ یونیورسٹی میں طلبا کے اجتماع میں کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا۔ ’’پاکستان اس دن معرض وجود میں آ گیا تھا جب ہندوستان میں پہلا غیر مسلم مسلمان ہوا تھا‘‘ اسی طرح 17 نومبر 1945 کو بابائے قوم نے ایڈورڈ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’ہم دونوں قوموں میں صرف مذہب کا فرق نہیں، ہمارا کلچر ایک دوسرے سے الگ ہے۔ ہمارا دین ہمیں ایک ضابطہ حیات دیتا ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے ہم اس ضابطہ کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔
    اب کچھ عرصے سے ان عناصر کی طرف سے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کا واویلا کیا جا رہا ہے۔ ایسے لوگوں کی عقل کا ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ان سے پوچھا جائے کہ کیا پاکستان بھارت کو اس لئے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دے دے کہ اس بھارت نے 1947ء سے پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو اپنے پنجہ استبداد میں لے رکھا اور اپنے وطن کشمیر کو آزاد کرانے کی جدوجہد کرنے والے لاکھوں کشمیری نوجوانوں کو شہید کرچکا اور کرتا رہتا ہے۔
    بھارت پاکستان آنیوالے دریائوں پر اپنے زیر تسلط علاقوں میں غیر قانونی بند باندھ کر پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی روش پر قائم ہے جس کا مقصد پاکستان کے سرسبز علاقوں میں پانی کی ترسیل بند کرنا اور اسے ریگستانوں میں تبدیل کرنا ہے۔ تاکہ پاکستان کے مسلمانوں کو ایتھوپیا ایسے سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑے یہاں کے لوگ اناج کے ایک ایک دانے کو ترسیں۔دوقومی نظریہ اور پاکستان کے بارے میں جو لوگ غلط باتیں کرتے ہیں انھیں کشمیر کے حالات نظر نہیں آ رہے ۔۔ ِ؟؟ جمعوں کشمیر میں بھارتی کیسے ظلم و ستم کی داستانیں رقم کر رہے ہیں ۔۔دو قومی نظریے کی بنیاد غیر منقسم ہندوستان میں سب سے پہلے البیرونی نے اپنی کتاب ”کتاب الہند“میں پیش کی۔ اس نے واضح طور پر لکھا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں بلکہ اس نے تو یہاں تک بتایا کہ ہندو مسلمانوں کو نیچ قوم قرار دیتے ہیں اور ان سے کراہیت کرتے ہیں۔شبہ مسلمان اور ہندو سینکڑوں سال سے رہ رہے تھے مگر جیسا کہ البیرونی کی کتاب ” کتاب الہند ” میں ذکر ہے کہ ہندو مسلمانوں کو نیچ سمجھتے تھے ۔ مسلمان ایک نیچ قوم کی حیثیت سے ذہنی غلام تھے ۔ یا د رہے کہ یہ وہ مسلمان نہیں تھے جو ایران ، ترک یا عرب سے آئے تھے ان سیدوں ،شیرازیوں ، گیلانیوں ، برلاس ، قریشیوں بخاریوں کو مقام حاصل تھا یہ وہ مسلمان تھے جن کا نسلی تعلق ہندووں ہی کی مختلف برادریوں سے تھا جن میں بگٹی ، مینگل ، بھٹو ، بھٹی ، شیخ ، راو ، رانا ،کھوکھر، سبھی شاامل تھے ۔مگر ان کے قبول اسلام ہی سے وہ ہندو قوم سے جدا ہو کر امت مسلمہ میں شامل ہوگئے اور ہندووں کی نظر میں نیچ کہلائے ۔برصغیر میں دو قومی نظریہ اتنا ہی پرانا ہے جتنی تاریخِ اسلام پرانی ہے ۔ پاکستان بنانے کا مقصد بہت عظیم تھا
    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان 14 اگست کو نہیں بلکہ پندرہ اگست کو بنا جناب بات یہ کہ اعلان کو ہوا ، اور ہجرت بھی لوگوں نے 14 اگست سے شروع کر دی ، یہ بات نہیں ہے کہ کب پہنچے یا کب انکو منزل پر پہنچے کی مبارک باد دی گئی ۔۔ جب اعلان ہوا کہ پاکستان بن گیا ہے لوگ ہجرت کر کے یہاں آجائیں ۔۔ وقت اوردن تو وہ نوٹ کیا جاتا ہے ۔۔ اور سب سے بڑھ کر شب قدر کی مبارک شب تھی اور 14 اگست کا دن تھا ۔۔
    کچھ لوگ نئی نسل کو کس بحث مباحثے میں ڈال رہے ہیں ؟؟ اس سے کیا حاصل ۔۔ ملک اور آزادی کی قدر غلام ملکوں سے پوچھو ، کشمیریوں سے فلصطینیوں ، اعراقیوں سے پوچھو ۔۔پاکستانیوں آپ کی نگاہ اس طرف کم گئی ہے دنیا کی تاریخ میں اتنی قلیل مدت میں یہ وہ پاکستان ہے جس نے 63 سال کی عمر میں 8 جنگیں لڑیں تقسیم کے وقت1948 کشمیر کی جنگ، 1965 میں ہندستان کی مسلط کردہ جنگ، 1971 میں ہندوستان کی مسلط کردہ جنگ، 1999 میں کارگل کی جنگ، دنیا کی سپر پاور روس سے افغانستان میں جنگ، دنیاکی سب سے بڑی 50 لاکھ مہاجرت کو اپنے ملک میں پناہ دی. موجودہ دوسری سپر پاور امریکہ سے جنگ اس کے باوجود پاکستانیوں پاکستان زندہ بلکہ ایٹمی قوت بھی ہے. یہ وہ پاکستان ہے جس کے خلاف اسرائیل، انڈیا اور امریکہ نے اتحاد کرلیا ہے لیکن اس وقت تک اللہ کے حکم سے ناکام ہیں یہ وہ پاکستان ہے جس نے عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل کے چھ ایف سولہ جہاز گرائے تھے۔14 اگست وہ دن ہے جب ہر ایک کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا عہد کرنا ہو گا۔پا کستان جیسی فوج کسی ملک کے پاس نہی ہے۔پا کستان جیسی عوام کسی ملک کے پاس نہی ہے۔بس چند ایک دشمن ممالک کے ایجنٹ جو پا کستان کے خلاف بکتے ہیں۔کبھی سندھ تحریک شروع کرتے ہیں اپنے آقاوں کو خوش کرنے کے لیے تو کبھی بلوچستان میں ٹی ٹی پی آ جاتی ہے ۔کبھی انڈیا کلبھوشن لانچ کرتا ہے ۔تو کبھی امریکہ شکیل آفریدی لانچ کرتا ہے۔کبھی خیبر پختون خواہ میں پی ٹی ایم آ جاتی ہے ۔اس کے نمائندے پاک فوج کی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔پاک فوج کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہیں۔دہشت گردی پھیلاتے ہیں۔پاکستان کے عوام کو چاہیے کہ پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔جس ملک کی فوج نہی ہوتی وہ کبھی کامیاب ہو ہی نہی سکتا۔ہم سب کو آج پاکستان کی ترقی کے لیے کوشاں رہنا چاہیے اور ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیے۔اگر آزادی کی نعمت کو جاننا اور پہچاننا ہے تو فلسطین کی عوام سے پوچھو ،اگر آزادی کی نعمت کوپہچاننا ہے تو مظلوم کشمیریوں سے پوچھو ،غزہ کی عوام سے پوچھو،برما کی عوام سے پوچھو ۔اس لیے آزادی کی قدر کرو اور اپنے ملک۔کی ترقی کے لیے کوشاں ہو جاؤ۔