Baaghi TV

Tag: 14 فروری

  • بھارت میں  ویلنٹائنز ڈے "گائے کو گلے لگانے” کے دن کے طور پر منایا جائے گا

    بھارت میں ویلنٹائنز ڈے "گائے کو گلے لگانے” کے دن کے طور پر منایا جائے گا

    ممبئی: بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رواں سال 14 فروری (Cow Hug Day) کے طور پر منائیں۔

    باغی ٹی وی:بھارت کے سرکاری ادارے کا خیال ہے کہ گائے سے محبت کرنے والے لوگ 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کے بجائے "کاؤ ہگ ڈے” کے طور پر مناسکتے ہیں۔ اس سے زندگی مزید خوشگوار ہوگی اوراسے مثبت توانائی سے بھرپور بنایا جاسکے گا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر ایک نوٹیفیکشن جاری کیا ہے جس میں بورڈ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رواں سال 14 فروری کو ویلنٹائنز ڈے کے بجائے ’گائے کو گلے لگانے کے دن‘ کے طور پر منائیں۔


    بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ کے مطابق گائے بھارت کی ثقافت اور دیہی معیشت کا حصہ ہے جبکہ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں گائے کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے۔

    بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ کا کہنا ہے کہ 14 فروری گائے کو گلے لگانے کو دن کے طور پر منانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ بھارت سے ’لڑکا لڑکی کی محبت کے اظہار‘ کے مغربی کلچر کو کم کیا جائے اور لوگوں کو مقامی ثقافت کی جانب راغب کیا جائے۔

    سوشل میڈیا پر بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ کی اس اپیل کے خوب چرچے ہورہے ہیں صارفین کی جانب سے طنزو مزاح اور میمز شیئر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔


    ایک ٹوئٹر صارف نے اینیمل ویلفیئر بورڈ پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ اگر آپ اس ویلنٹائنز ڈے پر اکیلے ہیں تو بھارتی حکومت آپ کو گائے کو گلے لگانے کا مشورہ دے رہی ہے۔


    https://twitter.com/gsmadhusudan/status/1623330855270903809?s=20&t=vvAkgoHsNPwoc-6qUsweaw


    واضح رہے کہ اینیمل ویلفیئر بورڈ بھارت کی وزارت برائے فشریز کے تحت کام کرتی ہے جس کی ذمہ داریوں میں جانوروں کا تحفظ اور ان کی اہمیت کے بارے میں شعور اُجاگر کرنا بھی شامل ہے۔

    بھارت میں ویلنٹائن ڈے منانا عام ہے لیکن اکثر قدامت پسند اور سخت گیر ہندو تنظیمیں ان مواقع پر ہنگامہ آرائی کرتی ہیں ، ماضی میں مودی بھی اس دن کو منانے کے خلاف کئی بار بیان دے چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ ہندو مذہب میں گائے کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے، ہندو مذہب میں گائے ایک مقدس جانور تسلیم کیا جاتا ہے اور اسے ماں سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ بھارت میں گائے کو ذبح کرنا بھی گویا گناہ تسلیم کیا جاتا ہے اور اس پر ذبح کرنے والے کو ہی قتل کردیا جاتا ہے۔

    بھارت میں سال 2015 اور 2016 کے درمیانی عرصے میں گائے اسمگل کرنے یا گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں ہندو انتہا پسندوں نے بدترین تشدد سے مجموعی طور پر 10 مسلمانوں کو قتل کیا۔

    موجودہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 2001 سے 2014 تک ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ رہے، ان کے دور میں گجرات میں گائے ذبح کرنے، گائے کے گوشت کی نقل و حمل اور اس کی فروخت پر مکمل پابندی تھی-

  • 14  فروری کو بطور "حیا ڈے” پاکستانی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ نے متعارف کروایا

    14 فروری کو بطور "حیا ڈے” پاکستانی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ نے متعارف کروایا

    ہر سال کے دوسرے مہینے یعنی فروری کے 14 تاریخ کو دنیا بھر میں بے شرمی کا دن منایا جاتا ہے جسے عام اصطلاح میں "ویلنٹائن ڈے” کہا جاتا ہے ۔ اس بے شرمی کے دن کی ابتداء کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں ۔ جو روایت اس حوالے سے مشہور ہے وہ کچھ یوں ہے کہ تیسری صدی عیسوی کے اواخر یعنی اج سے کوئی 17 سو سال پہلے ویلنٹائن نامی ایک شخص کو جو کہ کسی وجہ سے جیل میں قید کاٹ رہا تھا، اس دن پھانسی لگائی گئی ۔پھانسی سے قبل اس شخص نے اپنا آخری پیغام نامہ اپنی جیل کے جیلر کی بیٹی کے نام ارسال کیا جس میں اظہار محبت کے بعد درج تھا ” تمہارا ویلنٹائن”۔ ویلنٹائن کی یاد میں لوگوں نے اس دن کو منانا شروع کردیا اور اس کا نام رکھ دیا ویلنٹائن ڈے ۔
    لیکن اللہ کے فضل یہ تھوڑے سے لوگ اپنے اس غلیظ مقاصد میں کھبی کامیاب نہیں ہونگے۔ کیونکہ یہ ملک اسلام کی خاطر بنا ہے اور اس ملک کے اندر اسلام ہی سرائیت کر سکتا ہے ۔ پاکستان میں اس بے شرمی و بے حیائی کا راستہ روکنے کے لیے 14 فروری کو حیا ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ حیا ڈے کو پاکستان کی سب سے بڑی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان نے متعارف کروایا ۔ جب 14 فروری 2009 کو پہلی مرتبہ پنجاب یونیورسٹی کے اندر اسلامی جمعیت طلبہ نے حیا ڈے کا نام دے کر اس دن کو منایا ۔ اس کے بعد 2012 سے مسلسل اس دن ک پورے پاکستان میں و حیا ڈے کے طورپر منایا جا تاہے ۔اسلامی جمعیت طلبہ کے علاوہ اب اس دن کو ہر طبقہ فکر کے لوگ اپنے اپنے طور پر مناتے ہیں ۔کیوں کہ بطورِ مسلمان حیاء ہمارے ایمان کا حصہ ہے، جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ ” جس میں حیاء نہیں اس میں ایمان نہیں” ۔
    یہی وجہ ہے کہ 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اس بے حیائی یعنی ویلنٹائن کے منانے یا میڈیا پر دکھانے پر پابندی عائد کر دی گئی ۔ یہی اس ملک کا قانون ہے ،یہ ملک بنا ہی اس لیے تھا۔ غیر اسلامی اقدار کو یہاں ہمیش منہ کی کھانی پڑے گی ۔یہاں نہ تو کوئی غیر اسلامی ایجنڈ چل سکتا ہے اور نہ ہی کوئی تہوار ۔ ہمارا معاشرہ ہمارا کلچر حیا ڈے کے ساتھ ہی چل سکتا ہے کیونکہ اسلام ہی ہمارا کلچر ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ” ہر دین کی ایک پہچان ہوتی ہے اور ہمارے دین(اسلام) کی پہچان شرم و حیاء ہے”۔