Baaghi TV

Tag: 16 دسمبر

  • سقوط ڈھاکا:50سال مکمل ہونے پر لاہورمیں وکلا اور سول سوسائٹی ارکان کی طرف سے  خصوصی پروگرام کا انعقاد

    سقوط ڈھاکا:50سال مکمل ہونے پر لاہورمیں وکلا اور سول سوسائٹی ارکان کی طرف سے خصوصی پروگرام کا انعقاد

    لاہور:سقوط ڈھاکا:50سال مکمل ہونے پر لاہورمیں وکلا اور سول سوسائٹی ارکان کی طرف سے خصوصی پروگرام کا انعقاد ،اطلاعات کے مطابق سقوط ڈھاکا کے 50سال مکمل ہونے پر لاہور کے جی پی او چوک میں وکلا اور سول سوسائٹی ارکان نے خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا۔پروگرام بڑی تعداد میں وکلا اور سول سوسائٹی ارکان شریک ہوئے۔

    ذرائع کے مطابق پروگرام سے ممتاز وکلا اور سول سوسائٹی رہنماؤں نے خطاب کیا.اس موقع مقررین راؤ طاہر شکیل، سردار آفتاب احمد ورک علی عمران شاھین، آصف کمبوہ،ندیم مہر، میڈم شہزاد منیر ،ڈاکٹر شاہد نصیر اے آر نقوی امتیاز رشید قریشی و دیگر نے کہا کہ دنیائے اسلام کی سب سے بڑی ریاست پاکستان کو توڑنے میں کلیدی کردار بھارت نے طویل سازشی اور پھر کھلم کھلا کردار ادا کیا، اندرا گاندھی نے پاکستان توڑ کر کہا کہ ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ۔

    مقررین کا کہنا تھا کہ بھارت کو کس نے حق دیا کہ وہ انٹرنیشنل بارڈر عبور کرکے ہمارے ملک میں مداخلت کرے اور ہماری فوج سے ہتھیار ڈلوائے اور انہیں قیدی بنائے ۔ دنیا نے بھارت کی اس ساری بدمعاشی پر خاموشی اختیار کی اور آج تک وہ خاموشی جاری ہے جس کی ہم آج بھی مذمت کرتے ہیں۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستانی فوج اسی طرح کشمیر میں داخل ہو اور اسے آزاد کروائے جیسے بھارت ڈھاکا میں داخل ہوا۔پاکستان کا کشمیر میں داخلہ دنیا کے ہر قانون کے تحت جائز اور درست ہے کیونکہ یہ ایک عالمی تسلیم شدہ متنازع علاقہ اور زیر تصفیہ قضیہ ہے۔

    مقررین نے کہا کہ بھارت نے اس وقت آج کے پاکستان کے بھی کئی علاقے چھینے جن میں بلتستان کے چار گاؤں آ بادی سمیت قبضے میں لیے جو آج تک اس کے پاس ہیں ۔ہمیں وہ سب واپس لینا ہے۔شرکا نے آخر میں پرجوش مظاہرہ کیا اور پاک فوج کے حق اور بھارت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی

  • سقوط ڈھاکہ کے 50 سال:آج ملک بھر میں یوم سقوط ڈھاکہ منایا جائے گا

    سقوط ڈھاکہ کے 50 سال:آج ملک بھر میں یوم سقوط ڈھاکہ منایا جائے گا

    ملک بھر میں یوم سقوط ڈھاکہ آج 16 دسمبر جمعرات کو منایا جائے گا –

    باغی ٹی وی : اس سانحہ کے حوالے سے سیاسی و سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام مختلف تقریبات اور سیمینارز کا اہتمام کیا جائے گا ،سانحہ مشرقی پاکستان 16 دسمبر 1971 ء کو پیش آیا جسے سقوط ڈھاکہ بھی کہا جاتا ہے۔سقوط ڈھاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ تھی جس کے نتیجے میں بنگلا دیش دنیا کے نقشے پر ابھرا۔بھارتی سازشوں کے نتیجے میں 26 مارچ 1971 ء کو جنگ کا آغاز ہوا اور 16 دسمبر 1971 ء کو مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا جس کی وجہ سے پاکستان آبادی اور رقبے کے لحاظ سے ایک بڑی ریاست سے محروم ہو گیا ۔

    بنگلہ دیش کی جنگ آزادی، جسے بنگالی میں مکتی جدھو اور پاکستان میں سقوط مشرقی پاکستان یا سقوط ڈھاکہ کہا جاتا ہے، پاکستان کے دو بازوؤں، مشرقی و مغربی پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ تھی جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان آزاد ہو کر بنگلہ دیش کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

    چودہ اگست 1947 کو اسلام کے نام پر ایک نیا ملک پاکستان وجود میں آیا، بھارت نے دنیا کی اس سب سے بڑی اسلامی مملکت کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا پڑوسی ملک نے پاکستان کے قیام کے بعد ہی اس کے خلاف سازشوں کے جال بننا شروع کر دیے، بھارت کو مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کے روپ میں ایک غدار بھی مل گیا 1970 کے انتخابات کے بعد شیخ مجیب الرحمان نے بھارتی ایما پر احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا اور مشرقی پاکستان کے حالات تیزی سے خراب ہونے لگے۔

    جنگ کا آغاز 26 مارچ 1971ء کو حریت پسندوں کے خلاف پاک فوج کے عسکری آپریشن سے ہوا جس کے نتیجے میں مقامی گوریلا گروہ اور تربیت یافتہ فوجیوں (جنہیں مجموعی طور پر مکتی باہنی کہا جاتا ہے) نے عسکری کارروائیاں شروع کیں اور افواج اور وفاق پاکستان کے وفادار عناصر کا قتل عام کیا۔

    مارچ سے لے کے سقوط ڈھاکہ تک تمام عرصے میں بھارت بھرپور انداز میں مکتی باہنی اور دیگر گروہوں کو عسکری، مالی اور سفارتی مدد فراہم کرتا رہا بھارتی فوج کے زیر اثر قائم مکتی باہنی کے غنڈے سرعام قتل کرنے لگے حکومتی رٹ قائم کرنے اور امن وامان برقرار رکھنے کی غرض سے فوجی آپریشن کا آغاز کیا گیا، بھارت نے تمام بین الاقوامی ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے مشرقی و مغربی پاکستان پر جنگ مسلط کر دی مکتی باہنی نامی دہشت گرد تنظیم نے لاکھوں غیر بنگالی مسلمانوں کا قتل عام کیا اور دہشت گردی کی تاریخ رقم کی اس جنگ کا اختتام پاکستان کے قیام کے صرف چوبیس سال بعد ہی اس کے دولخت ہونے پر ہوا اور بالآخر دسمبر میں مشرقی پاکستان کی حدود میں گھس کر اس نے 16 دسمبر1971ء کو ڈھاکہ میں افواج پاکستان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔

    یہ جنگ عظیم دوم کے بعد جنگی قیدیوں کی تعداد کے لحاظ سے ہتھیار ڈالنے کا سب سے بڑا موقع تھا۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے نتیجے میں پاکستان رقبے اور آبادی دونوں کے لحاظ سے بلاد اسلامیہ کی سب سے بڑی ریاست کے اعزاز سے محروم ہو گیا مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب جاننے کے لیے حمود الرحمٰن کمیشن تشکیل دیا گیا، جس نے حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ جاری کی۔

    سقوط ڈھاکہ میں بھارتی کردار کو اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اور موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی تسلیم کیا اندرا گاندھی نے تو جوش خطابت میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہےپاکستان کو دولخت کرنے کے بعد بھی بھارت اپنے مذموم ارا دوں سے باز نہ آیا اور اب بھی انتہا پسند ہندو سوچ اَکھنڈ بھارت بنانے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔