Baaghi TV

Tag: 19 مئی

  • 19 مئی کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    19 مئی کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    19 مئی کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    701ء لی بائی ، چینی شاعر، مصنف، خطاط (وفات: 762ء)

    1881ء مصطفٰی کمال اتاترک، ترک فوجی و سیاست دان، پہلے صدر ترکی (وفات: 1938ء)

    1890ء ہو چی منہ، ویتنامی کمیونسٹ انقلابی رہنما تھا جو جمہوری جمہوریہ ویتنام (شمالی ویت نام) کا اول وزیر اعظم (2 ستمبر 1945ء تا 20 ستمبر 1955ء) اور اول صدر شمالی ویت نام (2 ستمبر 1945ء تا 2 ستمبر 1969ء) (وفات: 1969ء)

    1910ء نتھو رام گوڈسے مشہور بھارتی رہنما گاندھی کا قاتل تھا۔ نتھورام گوڈسے نے 30 جنوری، 1948 کو موہن داس گاندھی کو قتل کر دیا تھا، بھارتی عدالت میں انتہاپسند گوڈسے نے بیان دیا تھا کہ موہن داس گاندھی نے قیام پاکستان کی حمایت کی، اسی لیے اس نے قتل کر دیا۔ بعض انتہا پسند ہندو تنظیمیں گوڈسے کو اپنا قومی ہیرو مانتی ہیں۔ اور 2014ء میں گوڈسے کے نام پر ایک مندر کا افتتاح کیا گيا۔ ہندو مہاسبھا نے اعلان کیا ہے کہ وہ گوڈسے کے مجسمے کو ملک کے ہر بڑے شہر میں نصب کرنا چاہتی ہے۔ تنظیم نے اپنے مرکزی ہیڈکوارٹر میں ایک مجسمہ نصب بھی کر لیا ہے۔ اس بارے میں سبھا کے صدر چندر پرکاش کوشک کا کہنا ہے کہ "ہم اس سلسلے میں وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر یہ مطالبہ کریں گے کہ گوڈسے کے مجسمے پورے ملک میں لگانے کی مہم شروع کی جائے ۔ (وفات:1949ء)

    1913ء نیلم سنجیوا ریڈی، بھارتی وکیل اور سیاست دان، (25 جولا‎ئی 1977ء تا 25 جولا‎ئی 1982ء) چھٹے صدر بھارت اور (7 مارچ 1983ء تا 11 مارچ 1983ء) غیر وابستہ ممالک کی تحریک کا سیکرٹری جنرل (8 ) رہے۔ (وفات:1996ء)

    1914ء۔۔۔اردو زبان کے مشہور ناول نگار نسیم حجازی 19 مئی 1914ء کو سوجان پور ضلع گورداسپور میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد شریف تھا۔ نسیم حجازی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت کے شعبے سے کیا اور ہفت روزہ تنظیم کوئٹہ،روزنامہ حیات کراچی، روزنامہ زمانہ کراچی، روزنامہ تعمیر راولپنڈی اور روزنامہ کوہستان راولپنڈی سے وابستہ رہے۔ انہوں نے بلوچستان اور شمالی سندھ میں تحریک پاکستان کو مقبول عام بنانے میں تحریری جہاد کیا اور بلوچستان کو پاکستان کا حصہ بنانے میں فعال کردار ادا کیا۔ نسیم حجازی کی اصل وجہ شہرت ان کی تاریخی ناول نگاری ہے جن میں داستان مجاہد،انسان اور دیوتا، محمد بن قاسم، آخری چٹان، شاہین، خاک اور خون، یوسف بن تاشقین، آخری معرکہ،معظم علی، اور تلوار ٹوٹ گئی، قیصر و کسریٰ،قافلہ حجاز اور اندھیری رات کے مسافر کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے طنز و مزاح کے موضوع پر پورس کے ہاتھی، ثقافت کی تلاش، سفید جزیدہ اور سوسال بعد نامی کتابیں بھی تحریر کیں۔ ان کا ایک سفر نامہ پاکستان سے دیار حرم تک بھی اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ نسیم حجازی کی تصانیف کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور ان پر آخری چٹان اور شاہین نامی دو ڈرامہ سیریل بھی نشر ہوئے جبکہ ان کے ایک اور ناول خاک اور خون پر فلم بھی بنائی گئی۔ 2 مارچ 1996ء کو نسیم حجازی راولپنڈی میں وفات پاگئے۔ وہ اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

    1914ء میکس پیروٹز، نوبل انعام برائے کیمیا (1962ء) یافتہ آسٹریائی نژاد برطانوئی ماہر حیاتیات،سالماتی حیاتیات دان،کیمیادان،استاد جامعہ ، جس نے ہیمو گلوبن اور مایوگلوبن کا مطالعہ کیا ، انہیں یہ انعام جان کینڈریو کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا۔ (وفات: 2002ء)

    1925ء الحاج ملک الشہبازالمعروف میلکم ایکس ، سیاہ فام امریکی مسلمان سیاست دان، آپ بیتی نگار اور نیشن آف اسلام کے قومی ترجمان (وفات: 1965ء)

    1927ء یوسف ادریس، مصری ڈراما نویس، صحافی، افسانہ و ناول نگار (وفات: 1991ء)

    1934ء رسکن بونڈ، بھارتی مصنف و شاعر

    1941ء نورا ایفرون، امریکی ہدایت کار و پیش کار (وفات: 2012ء)

    1946ء آندرے دیو قامت، فرانسیسی نژاد امریکی پہلوان اور اداکار (وفات: 1993ء)

    1949ء اشرف غنی احمدزئی، صدر افغانستان (29 ستمبر 2014ء تا حال) ، سابق چانسلر جامعہ کابل (22 دسمبر 2004ء تا 21 دسمبر 2008ء) ، سابق افغان وزیر خزانہ (2 جون 2002ء تا 14 دسمبر 2004ء)

    1964ء شیخ عمر ابراہیم واڈیلو المعروف شیخ عمر واڈیلو، ہسپانیہ سے تعلق رکھنے والے اسلامی اقتصادی نظام کے ماہر، جدید اسلامی طلائی دینار کے دوبارہ احیاء کے بانی۔ آپ کی کوششوں سے سن 2010ء میں ملائیشیا کے صوبے کیلانتن نے جدید اسلامی طلائی دینار کا اجرا کیا۔

    1974ء نواز الدین صدیقی، بھارتی فلم اداکار

    1996ء لکشمی مینون، بھارتی ملیالم فلمی اداکارہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • 19 مئی  تاریخ کے آئینے میں

    19 مئی تاریخ کے آئینے میں

    19 مئی تاریخ کے آئینے میں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1930ء جنوبی افریقہ میں سفید فام خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا ۔

    1635ء فرانس نے اسپین کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔

    19مئی 1981ء کو جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال پاشا اتا ترک کی پیدائش کے سو سالہ جشن کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک روپیہ مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر مصطفیٰ کمال پاشا اتا ترک کی تصویر بنی تھی اور انگریزی میں Birth Century of Mustafa Kemal Ataturkکے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کے عادل صلاح الدین نے بنایا تھا۔

    تعطیلات و تہوار :

    ہیپاٹائٹس کا عالمی دن

    کریمیا کے تاتاری ہر سال 19 مئی کو اِس جبری ہجرت کی یاد میں دن مناتے ہیں۔ سورگون (معنی "جلا وطنی” بزبان کریمیائی تاتاری اور ترکی) 1944ء میں کریمیا کے تاتاریوں کی موجودہ ازبکستان کی جانب جبری ہجرت اور قتل عام کو کہا جاتا ہے۔ سوویت اتحاد میں جوزف اسٹالین کے عہد میں 17 مئی، 1944ء کو تمام کریمیائی باشندوں کو اُس وقت کی ازبک سوویت اشتراکی جمہوریہ میں جبراً منتقل کر دیا گیا تھا۔ استالین عہد میں ملک کے خلاف مبینہ غداری کی سزا اجتماعی طور پر پوری قوموں کو دینے کی روش اپنائی گئی جس کا نشانہ کریمیا کے تاتاری باشندے بھی بنے جن پر الزام تھا کہ انہوں نے نازی جرمنوں کا ساتھ دے کر روس کے خلاف غداری کا ثبوت دیا ہے۔ اس جبری بے دخلی میں روس کے خفیہ ادارے این کے وی ڈی کے 32 ہزار اہلکاروں نے حصہ لیا اور ایک لاکھ 93 ہزار 865 کریمیائی تاتاری باشندوں کو ازبک و قازق اور دیگر علاقوں میں جبراً بے دخل کیا گیا۔

    اس جبری ہجرت کے دوران میں مئی سے نومبر کے مہینے میں 10 ہزار 105 تاتاری بھوک و موسم کی شدت سے جاں بحق ہوئے جو ازبک علاقوں کی جانب منتقل کیے گئے کل باشندوں کا 7 فیصد بنتا ہے۔ خفیہ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے اندر اندر تقریباً 30 ہزار تاتاری (کل مہاجرین کا 20 فیصد) اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ کریمیائی تاتاریوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ تعداد 46 فیصد تھی۔ استالین کے عہد میں سزا کے طور پر جبری مشقت کا نظام گولاگ (Gulag) قائم کیا گیا تھا اور سوویت دستاویز ثابت کرتی ہیں کہ کئی کریمیائی باشندوں کو اس نظام کے تحت جبری مشقت پر بھی لگایا گیا۔ جبری مشقت کے اسی نظام کے تحت کریمیا کے تاتاری اور کئی دیگر قوموں کے باشندوں کو سائبیریا بھی بھیجا گیا،کریمیا کے تاتاریوں کا مطالبہ ہے کہ سرگون کو منظم قتل عام قرار دیا جائے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی