Baaghi TV

Tag: ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں”

  • باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — جویریہ اشرف

    باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — جویریہ اشرف

    پاکستان اس سال 75 سال کا ہو گیا ہے۔سمجھیں بچپن سے نکل کر لڑکپن میں داخل ہو رہا ہے۔بچپن کسی کا بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا۔بہت سی غلطیاں، کوتاہیاں اور بہت سی ٹھوکریں کھا کر ہی بچپن سے کچھ سیکھا جاتا ہے۔پاکستان میں بسنے والے پاکستان پر تنقید کے ایسے نشتر برساتے ہیں کہ منٹوں میں اسے لہو لہان کر دیتے ہیں لیکن وہ یہ کرتے ہوئے ایک بار بھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔ہم کبھی نہیں سوچتے کہ ہم نے اس بچے کے ساتھ جو اتنی مشکلوں سے گزر کر سانسوں کو بحال رکھنے کی جد وجہد میں ہے، ہم نے اسے کب کب اور کہاں کہاں آکسیجن مہیا کی یا ہمیشہ اس کی آکسیجن چھیننے کا سبب ہی بنے۔ یہ بحث لمبی ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا اور ہم نے پاکستان کو کیا دیا۔آج اگر ہم 1947 کو پیدا ہونے والے اس بچے کاآج 2022 تک موازنہ کریں تو ہماری آنکھیں کبھی اس کی تکالیف دیکھ کر بھر آئیں گی، کبھی اس کی کامیابیاں دیکھ کر لب مسکرا اٹھیں گے۔کبھی ہمیں اس کی بیبسی پہ غصہ آئے گا تو کبھی اس کی ہمت پہ رشک۔

    آخر،

    ٖؔ اس وطن کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
    ارض پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا

    1947 میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو بر صغیر پاک و ہند کا بٹوارہ ہونا تھا۔ بٹوارہ ہوا لیکن پاکستان کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جو ایک سوتیلے بیٹے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔سارا حصہ اپنے پاس رکھ کر بچا کھچا دے کر جان چھڑوانے کی کوشش اور یہ ہی پاکستان کے ساتھ بھی ہوا۔تقسیم چاہے بینک میں پڑے پیسوں کی ہو یاں پھر فوجی دستوں کی، ہر جگہ سے اس نا مولود کو محروم رکھا گیا۔مگر عزم جواں تھا، ہمت تازہ تھی۔ سو راہ جنوں کے مسافر چلتے رہے اور بالآخر یہ کہنے میں کامیاب ٹہرے۔
    کہ
    ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں

    آج پاکستان کی فوج دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بھی۔ایشیا کی دوسری اور مسلم ممالک کی واحد ایٹمی قوت یہ ارض وطن ہی ہے۔اس وقت اگر نظر دوڑائیں تو پاکستان میں 174 یونیورسٹیز قائم ہو چکی ہیں۔پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 464 کارخانے کام کر رہے ہیں۔ 1201بڑے ہسپتال موجود ہیں۔یہ تعداد اس سے کء گنا زیادہ ہو سکتی تھی اگر اس ارض پاک کو دوسروں کی جنگ میں نہ جھونکا جاتا۔

    2011 کے بعد جب پاکستان میں دہشت گردی کی لہر اٹھی تو زندگی جیسے مفلوج ہو گئی تھی۔ہر شخص ہر لمحے موت کو ہاتھ پر رکھ کر چلتا تھا کہ نا جانے کب کوئی جنت کا طلبگار آئے اور اس زندگی کا چراغ بجھا جائے۔پچھلے دس 11 سالوں میں پاکستان نے اس دہشت گردی کے ناسور کو مٹانے کے لئے 67.93 بلین ڈالرز یعنی کے 5037 بلین روپے خرچ کر چکا ہے۔۔ان پیسوں سے کئی کارخانے، ہسپتال، اور یونیورسٹیز بن سکتی تھیں۔

    مگر افسوس یہ فراموش کر دیا گیا کہ،

    موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے
    گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے گھر تو آخر اپنا ہے

    مزید برآں اس جوان ہوتے بچے کو روانی کے ساتھ قدم نہ اٹھانے دینے کی دوسری بڑی وجہ کرپشن ہے۔کرپشن نے اس ملک کی جڑوں کو ایسے کھوکھلا کیا ہے جیسے دیمک خشک لکڑی کو کرتی ہے۔

    مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کرپشن صرف وہی ہے جو یہ بڑے بڑے سیاست دان کرتے ہیں؟؟

    نہیں کرپشن وہ بھی ہے جو ہم سب روز کرتے ہیں۔ریڑھی والے سے لے کر بڑی ملز والوں تک۔ ہم سب نے ملکر اس ملک کو کمزور کیا ہے۔جب ہم ایک معمولی سا کام نکلوانے کے لئے کسی دفتر میں کسی آفس میں پانچ سو سے ہزار تک کا نوٹ چپکے سے کسی کلرک یا منشی کے ہاتھ پر رکھتے ہیں، تو وہ بھی کرپشن ہے۔ کیونکہ ہم کسی اور کا حق اور وقت اپنے کھاتے میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔جب ایک چھوٹی سی دکان چلانے والا دس روپے کے لئے ترازو کا پلڑا ہلکا کرتا ہے تو وہ بھی کرپشن ہے۔جب ایک ریڑھی والا نیچے خراب پھل ڈال کر اوپر اوپر اچھے پھل ڈال دیتا ہے تو وہ بھی کرپشن ہی کر رہا ہوتا ہے۔

    حالانکہ

    ”اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”

    مگر ہم قول و فعل کے تضاد کے مارے اپنا مذہبی اصول ہی بھول چکے ہیں۔

    19مگر غور کیا جائے تو 1947 سے 2022 تک کا پاکستان بہترین نا سہی لیکن بہتر ضرور ہے۔اسے بہترین ہم نے بنانا تھا لیکن ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں نے جو کبھی ہم نے دوسروں کی جنگ میں کود کر کیں۔کبھی اپنی منتخب حکومتوں کو ان کی مدت پوری نا کرنے دے کر اور کبھی کرپشن کو صرف سیاست دانوں تک محدود کر کے ہم نے اس ملک کو بہترین بننے سے روکے رکھا لیکن الزام ہمیشہ ہم نے ”پاکستان ” کو دیا۔

    حالانکہ ان حالات کے ذمہ دار ہم تھے۔ وہ ہے نا کہ

    دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
    اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

    اس مملکت خداداد کے قیام میں ہزاروں قربانیاں دی گئیں۔ کتنے سہاگ اجڑے، کتنی عزتیں پامال ہوئیں اور بیحساب لہو شہادت کے جام میں پیش کیا گیا۔ اپنی الگ حیثیت کے لیے آزاد وطن پانے کا ایمان کامل ان سب وجودوں میں وجود تھا۔ تبھی وہ سب لا الہ الا اللہ کا علم تھامے اپنا سب کچھ فدا کرنے پہ راضی تھے۔

    آج پھر سے یہ قوم اس ایمان سے خالی ہے جس نے اسے پاکستان کی صورت اک وجود بخشا تھا۔

    مگر اب وقت آگیا ہے کہ ہم اک دوسرے کو الزام دینے کے بجائے اک دوسرے کو آگے بڑھنے کی طاقت اور حوصلہ دیں تاکہ جب یہ پاکستان پروان چڑھے تو ہمیں موردالزام نا ٹہرایا جا سکے۔ہم اس کے سامنے سر جھکا کے نہیں بلکہ سر اٹھا کر کھڑے ہوں۔

    کیونکہ،

    جب اپنا قافلہ عزم و یقین سے نکلے گا
    جہاں سے چاہیں گے راستہ وہیں سے نکلے گا
    وطن کی مٹی مجھے ایڑھیاں رگڑنے دے
    مجھے یقین ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا

  • باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — نوریہ مدثر

    باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — نوریہ مدثر

    آج سے پچھتر سال پہلے مسلمانانِ ہند نے ہندو اور برطانوی سامراج سے جو جنگ لڑی تھی ، وہ صرف اک خطے کے لیے نہیں تھی بلکہ اپنے جداگانہ تشخص کے بقا کے لیے تھی ۔

    اور اس جنگ کا آغاز اسی دن ہو گیا تھا جب مسلمان کو ”مسلا” کہا گیا تھا۔ اپنے الگ وجود الگ نظریے کا ادراک کرنے کے بعد ہی اک منزل اک نشاں کی جانب چلتے وہ راہ ِجنوں کے مسافر اپنا مقصد پانے کے لیے پریقیں تھے۔

    اور 75 سال پہلے یہ مقصد حاصل بھی ہو گیا۔ مگر آج 75 سال بعد کے حالات دیکھ کر بے ساختہ فیضؔ کا کہا یاد آتا ہے کہ،

    یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گریدہ سحر
    وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
    یہ وہ سحر تو نہیں، جس کہ آرزو لے کر
    چلے تھے کہ یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

    کیونکہ آج 75 سالہ مملکت خداداد پھر سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ مگر کیا یہ جنگ پہلے دن سے ہی ہمارا مقدر تھی؟

    یہ جاننے کے لیے ہمیں تاریخ کے اوراق کھنگالنا ہوں گے۔ گذشتہ سالوں میں اس ارض پاک کے ساتھ برتا جانے والا احوال دیکھنا ہو گا تبھی ہم کوئی فیصلہ کر پائیں گے۔ میری دانست میں یہ 75 سال مختلف ادوار جیسے تربیتی ،تخریبی، تعمیری ،تعبیری کے تناظر میں دیکھے جائیں تو صورت حال واضح ہو سکتی ہے کہ ہم آج کس مقام پہ موجود ہیں۔

    ﴿ تعبیری دور ﴾
    1947 ء سے 1967 ء

    یہ بیس سالہ دور اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے تعبیری اہداف قائم کرنے کا دور تھا۔

    آزادی کے ابتدائی بیس سال وہ سال تھے جب عزم جواں تھا۔ ہمت تازہ تھی اور جنوں لہو کے ہر قطرے میں موجزن تھا۔کیونکہ نوزائیدہ ریاست کو کئی محاذوں کا سامنا کرنا تھا۔ سو انہی مقاصد کے حصول کے لیے 1949 میں ”قرارداد مقاصد ” منظور کی گئی جس کے مطابق پاکستان کا آئینی ڈھانچہ یورپی نہیں بلکہ اسلامی جمہوریت اور نظریات پہ مبنی ہونا طے تھا۔

    چونکہ ابھی تربیتی دور کا آغاز تھا سو ہر سال اک نیا سنگ میل عبور ہوتا گیا۔

    آنکھوں کی چمک ہر گام بڑھتی گئی۔ اور تب تب جنون نظر آتا گیا جب جب نعرہِ پاکستان بلند کیا گیا۔

    پھر چاہے وہ اردو کو قومی زبان کا درجہ دینا ہو یا قومی ترانے کی منظوری، معاشی ترقی کے ضامن اسٹیٹ بینک کا قیام (1948) ہو یا ملک مقدم کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھنا مقصود ہو۔یا پاکستانی کرکٹ ٹیم کی اوول کے میدان میں انگلینڈ کے خلاف پہلی فتح ہو یا دہائیوں تک فضاؤں پہ راج کرتی پاکستان ائیر لائنز کا قیام (1955)۔

    یا ہاکی ٹیم کا اولمپکس میں جیتا پہلا گولڈ میڈل، (1960)،یا سوئی کے مقام پہ گیس کے وسیع ذخائر کی دریافت(1952)۔

    سبھی سنگ میل اسی پیام کا عملی ثبوت تھے کہ ،
    تجھ سے ہے میری تمناوئں کی دنیا پُرنور
    عزم میرا ہے قوی ، میرے ارادے ہیں غیور
    میری ہستی میں انا ہے، مری مستی میں شعور
    جاں فزا میرا تخیل ہے تو شیریں ہے سخن
    اے میرے پیارے وطن

    اگرچہ اس بیس سالہ عرصے میں سیاسی ایوانوں میں مارشل لاء (1958) اور اسمبلیوں کی تحلیل (1953) کی گونج بھی گونجتی رہی۔ مگر حالات بہتر سے بہتری کی طرف ہی گامزن تھے۔

    اور سب سے بڑی کامیابی 1965 کی وہ جنگ تھی، جو بزدل دشمن نے اس سوچ کے تحت چھیڑی تھی کہ یہ گرتا لڑکھڑاتا ملک کیونکر اپنا دفاع کر سکے گا۔ مگر عظیم قوم نے غیور افواج کے ساتھ مل کر دشمن کو شکست فاش دی۔ تب ہر پاکستانی کے لب پہ اک ہی نغمہ تھا کہ

    ؂ میری زمیں میرا آخری حوالہ ہے
    سو میں رہوں نہ رہوں اس کو بارور کر دے

    ﴿تربیتی دور ﴾
    1967 سے 1987

    یہ دور جہاں پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم رہا۔ وہیں یہ ماہ و سال سازشی عناصر کی رچائی چالوں کے زد میں بھی رہے۔
    گویا تعمیری و تخریبی دونوں حالات مل کے اعصابی تربیت کرتے رہے۔

    کھیل کے میدان میں اس بیس سالہ عرصے میں سبز پرچم کبھی جہانگیر خان اور کبھی جان شیر خان کے دم سے لہلہاتا رہا۔مگر اصل مزہ اس جیت کا تھا جو ہاکی ٹیم نے ازلی دشمن کو ایشین گیم (1970) میں دی تھی۔

    مگر افسوس پاکستان اس دشمن کو سیاسی محاذ پہ نہ ہرا سکا۔ اور اس دشمن نے پاکستان کی اندرونی کمزوریوں کو مزید ہوا دیتے 1971 میں مشرقی پاکستان پہ حملہ کر دیا۔ آہ! اندرونی و بیرونی سازشوں کا شکار ہو کے پاکستان کو اپنے اک حصے سے محروم ہونا پڑا۔

    تب پھر سے سہاگ اجڑے، عزتیں پامال ہوئیں، لہو بہا۔ مگر اک الگ نظریے کے لیے نہیں۔ بلکہ ناآسودہ خواہشات کی تکمیل کے لیے۔
    اس روز شہداء پاکستان فریاد کرتے رہ گئے کہ

    ؂ رشتہ دیوار و در تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
    مت گرا اس کو یہ گھر تیرا بھی ہے میرا بھی ہے

    پاکستان قائم رہنے کے لیے ہی بنا ہے ۔ سو اک سانحے سے گزر کے بھی زخمی دل زخمی روح لیے سفر پھر سے شروع ہوا۔ بنگلہ دیش کو تسلیم کر کے (1974) ملکی ترقی پہ توجہ مرکوز کی گئی۔ معاشی ترقی کی ضامن پاکستان سٹیل ملز نے کام کرنا شروع کیا(1981)۔

    اور اگلے ہی برس ہاکی ورلڈ کپ میں شاندار فتح نے ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا (1982)۔ اور سب سے بڑھ کے دفاعی استحکام کے لیے عبدالقدیر قدیر خان سائنس لیبارٹریز قائم کی گئی (1976)۔اور ڈاکٹر عبدالسلام (1979) پہلا نوبل پرائز جیتنے میں کامیاب ٹہرے۔
    گویا پاکستانی عوام سمجھ گئے ہوں،

    ؂ موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے
    گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے گھر تو آخر اپنا ہے

    ﴿تعمیری دور ﴾
    1987 سے 2007

    یہ ماہ و سال بھلے ہی معاشی و دفاعی شعبے میں کئی انقلاب برپا کر گئے۔مگر اس بیس سالہ عرصے میں پاکستان سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔

    کبھی سمبلیوں کی تحلیل (1988) نے تعمیری اہداف سے دور کیا تو کبھی ایمرجنسی (2007) کے شکنجے نے ملکی حالات پہ خاصا اثر ڈالا۔
    مگر اس سارے دورانیے میں بھی عزم بلند رہا اور اسی عزم سے تعمیری اہداف طے ہوتے رہے پھر چاہے وہ پہلے کرکٹ ورلڈ کپ کی جیت (1992) ہو، یا میانداد کے چھکے سے دشمن کے چھکے چھڑوانے والی شارجہ کی فتح (1999)، یا جہانگیر خان کا مسلسل دسیوں بار سکواش اوپن چیمپئین شپ جیتنا ہو (1991)۔

    مگر اس بیس سالہ عرصے میں پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ایٹمی طاقت (1998) کا مالک بننا تھا۔ گویا

    ع چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں نہیں آئی

    ﴿ تخریب سے تعمیر تک ﴾
    2007 سے 2022

    2012 کے بعد جی ڈی پی گروتھ میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے ۔

    اگرچہ ان پندرہ سالوں میں پاکستان کو سیاسی استحکام بھی نصیب ہوا ہے مگر ملک و قوم نے تخریبی اور تعمیری دونوں حالات سہے ہیں۔
    کیونکہ گذشتہ سالوں میں دہشت گردی کی نذر ہزاروں جانیں ہوئیں ہیں ۔ مسجد، مزار، چرچ، پارک، تھانہ، بازار، سکول۔۔۔ شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں خون کے چھیننے نہ پڑے ہوں۔ اس دہشت گردی سے ملکی سکون تو متاثر ہوا ہی مگر ،

    اس دورانیے کا سب سے تکلیف دو پہلو پاکستان کو عالمی سطح پہ تنہا کرنا تھا۔ 2009 میں سری لنکن ٹیم پہ ہوئے حملے نے پاکستان پہ نہ صرف کرکٹ کے دروازے اک دہائی تک بند رکھے۔ بلکہ سیاحتی ساکھ کو بھی متاثر کیا۔

    مگر سلام ہو ہماری افواج پاکستان کو۔

    جنہوں نے آپریشن راہِ راست (2009)، راہِ نجات، اور حالیہ(2021) رد الفساد سے تخریبی قوتوں کا خاتمہ کیا ہے۔

    پاک وطن سے شرپسندوں کا نشان مٹاتے شہادت کی منزل پاتے غیور کیپٹن بلال ظفر (2009) سے لے کر عزم تعمیر لیے جامِ شہادت نوش

    کرنے والے لیفٹینینٹٹ جنرل(2022) سرفراز علی تک، سبھی شہداء ہمارا فخر ہیں۔ کیونکہ یہ امن انہی کی دی قربانیوں کا ثمر ہے۔ ورنہ کہاں وہ دور جب عالمی تنہائی کے مارے ملک میں زمباوے جیسی ٹیم بھی آنے سے انکاری تھی اور کہاں یہ دور کہ زمباوے سے لے کر آسٹریلین ٹیم (2022) بھی پاکستان آ کے پاکستانی زمیں پہ کھیل چکی ہے۔

    اور تو اور پاکستان سپر لیگ کے 7 سیزن بھی ہو چکے۔

    مگر حالیہ او آئی سی کانفرنس(2022) کا پاکستان میں انعقاد سب سے اہم سنگ میل ہے۔

    بلاشبہ پاک فوج اور عوام دونوں ہی قابل تحسین ہیں جنہوں نے تخریب سے تعمیر کا سفر طے کر کے اک مثال قائم کی ہے۔ مگر یاد رہے،

    ؂ مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
    وہ قرض اُتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

    آج 75 سالہ پاکستان صرف اور صرف اپنی قوم کے ساتھ کا ممتنی ہے۔ اسے اپنی بقا کے لیے کسی بیرونی ہاتھ کی ضرورت نہیں بلکہ عزم و ہمت سے سرشار اک دل اک جاں لیے اک قوم درکار ہے۔ سو ہمیں وطن عزیز کی پچھترویں سالگرہ پہ بحیثیت پاکستانی اپنا احتساب کرنے اور قبلہ درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سوچنے کی ضرورت ہے کہ

    جو اس زمیں سے کیا تھا ہم نے وہ عہد کیا ہم نبھارہے ہیں
    وطن کی راہوں میں ہم وفا کے گلاب کتنے کھلارہے ہیں
    یہ کون ہیں جو ہمیں میں رہ کر ہمارے گھر کو جلارہے ہیں
    چلو یہ سوچیں ہم آج مل کے

  • باغی تحریری مقابلہ – سوم تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — حافظ گلزارعالم

    باغی تحریری مقابلہ – سوم تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — حافظ گلزارعالم

    پاکستان کو آزاد ہوئے 75 برس ہوچکے۔ اس آزادی پر ہم رب ذوالجلال کا جتنا شکر ادا کریں، کم ہے۔ یہ آزادی ہمیں لاکھوں مسلمانوں کی تن من دھن کی قربانیوں کی بدولت ملی ہے۔ گویا آج ان آزاد فضاؤں میں شہداء پاکستان ہم سے وفا کا تقاضا کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں ہماری قربانیوں کا پاس رکھنا۔

    شہید تم سے یہ کہہ رہے ہیں ، لہو ہمارا بھلا نہ دینا
    قسم ہے تم کو اے سرفروشو لہو ہمارا بھلا نہ دینا
    وضو ہم اپنے لہو سے کر کے خدا کے ہاں سُر خرو ہیں ٹھہرے
    ہم عہد اپنا نبھا چلے ہیں ، تم عہد اپنا بھلا نہ دینا

    جب صبح سویرے "اللہ اکبر” کی صدا آپکے کانوں میں پڑتی ہے۔ اور دن رات پانچ دفعہ یہ کانوں میں رس گھولنے والے ابدی حقیقت پر مبنی کلمات آپ کے دل و دماغ کو سرشار کریں ، آپ بلا خوف و خطر مساجد کا رخ کرتے ہیں، اپنے پروردگار کی بندگی بجا لاتے ہیں، کلام پاک کی تلاوت کرتے ہیں، ہر مقام پر آزادی کے ساتھ اپنا مافی الضمیر بیان کرتے ہیں، وطن کے چپہ چپہ پر دل میں یہ اطمینان ہوتا ہے کہ یہ پیارا ملک پاکستان ہمارا ہے، تو یوں احساس ہوتا ہے کہ اس وطن عزیز کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے والوں کی ارواح ہم سے مخاطب ہوتے ہوئے گویا ہیں کہ گو ہم یہ آزادی نہ دیکھ سکے مگر ہمارے لئے یہی کافی ہے کہ تم آزادی کی معطر فضاؤں میں جی رہے ہو، لہذا زبان حال سے کہی ہوئ ہماری وہ صدا یاد رکھنا:

    ہمارا خون بھی شامل ہے تزئین گلستاں میں
    ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے

    لہذا اگر ہم نے ان کے مقصد سے وفا نہ کی تو وہ ہمیں معاف نہیں کرینگے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے، پاکستان کی اساس ہی کلمہ لاالہ الااللہ ہے، پاکستان جن روح پرور نعروں کی گونج پر بنا ہے، ان میں پہلا نعرہ یہ تھا: "پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ”۔ لہذا مقاصد پاکستان میں پہلا مقصد اسلام کا عملی نفاذ ہے۔ اس مقصد میں کسی قسم کی کوتاہی وطن عزیز اور اور وطن عزیز کی خاطر لاکھوں قربانیوں کے ساتھ بدترین مذاق ہوگا۔

    ہم قائد اعظم محمد علی جناح ، علامہ محمد اقبال رحمھمااللہ ،ان کے رفقاء اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کا حق ادا نہیں کرسکتے ۔ مگر ہم ان کی ارواح کو یوں تسکین دے سکتے ہیں کہ ہم ملک پاکستان کو ویسا ہی بنائیں جیسا وہ چاہتے تھے۔ یہاں نہ صرف مسلمانوں کو، بلکہ غیر مسلموں کو بھی مکمل تحفظ حاصل ہو۔ ایمان، اتحاد اور تنظیم کا عملی مظاہرہ ہو، ہم نہ صرف نام کے بلکہ کام کے مسلمان بنیں۔ ہم صرف اللہ کو ماننے والے نہیں، اللہ کی ماننے والے بھی بنیں۔ مگر افسوس
    مالک تو سب کا ایک، مالک کا کوئ ایک
    ہزاروں میں نہ ملے گا،لاکھوں میں تو دیکھ

    آزادی کے پچھتر سال ہوچکے۔ آزادی کی اس نعمت پر شکر کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ ہم وہ مقاصد حاصل نہ کرسکے جسکا خواب ہمارے بڑوں نے دیکھا تھا۔ جنکی وجوہات میری نظر میں یہ ہیں:
    1۔ یہاں اسلام کے نام پر سیاست تو کی جاتی ہے۔ اس کے عملی نفاذ کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں ہیں۔
    2۔ سود ایک لعنت ہے۔ باری تعالیٰ نے اسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔ اس لعنت کے ہوتے ہوئے اگر ہم معاشی ترقی کے خواب دیکھ رہے ہیں تو ایں خیال است و محال است و جنوں۔
    3۔ قومیں اپنی ہی پہچان بنا کر ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں انگریز کی ذہنی غلامی سے نکلنا ہوگا۔

    اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قومِ رُسولِ ہاشمی

    لہذا ہم اپنے قومی لباس اور اردو زبان کو فروغ دیں۔ اور ہمارے طور طریقے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ہوں۔ ہم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں اور رہیں گے۔ اسی نسبت سے جڑے رہنے میں ہماری کامیابی ہے۔ ورنہ ذلت اور رسوائ ہمارا مقدر ہے اور رہے گی۔

    4۔ عوام حکومت پر،اور حکومت پچھلی حکومت پر ساری خرابی کا ملبہ ڈالے تو یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ ہر فرد کو اس پیارے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
    اپنے حصے کی کوئ شمع جلاتے جاتے

    5۔ تعلیم ہماری اولین ترجیح ہو۔ کوئ معاشرہ بغیر تعلیم کے یا ناقص تعلیم کے ساتھ ترقی نہیں کرسکتا۔ اس کے لئے حکومت ہنگامی طور پر اقدامات کرے۔ اور یکساں معیاری نظام تعلیم کو فروغ دے۔ مگر عوام حکومت ہی کے آسرے پر نہ رہے۔ اپنی مدد آپ کے تحت جدید وسائل کمپیوٹر،موبائل اور انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعے معیاری تعلیم کا حصول اب ممکن ہے۔

    6۔ قدرت نے اس ارض پاک کو بیشمار وسائل سے نوازاہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ہے جو قدرتی وسائل اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے۔ پاکستان میں بکثرت صحرا، سمندر ،پہاڑ اور دریا موجود ہیں مگر ان وسائل سے ہم فائدہ حاصل کرنے کے بجائے دوسری اقوام کی طرف ہاتھ پھیلائے بیٹھے ہیں۔ ان وسائل سے فائدہ اٹھانے کیلئے اقدامات بے حد ضروری ہیں۔

    7۔ ہم قائد کے تین نکات پر مبنی اس زریں اصول کو بھول گئے: ایمان، اتحاد اور تنظیم۔ ہمارا ایمان اللہ کی ذات سے زیادہ امریکہ، آئ ایم ایف اور ڈالروں پر ہے۔ اس کو اقبال رحمہ اللہ نے یوں کہا:

    بتوں سے تجھ کو امیدیں،خدا سے نومیدی
    مجھ کو بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

    ہمارا اتحاد پارہ پارہ ہے، قومی و لسانی تعصبات کے بدبودار نعرے اس پیارے ملک کو متعفن کرتے ہیں۔

    وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہنود
    یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود
    یوں تو سیّد بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
    تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!

    ہماری زندگی میں نظم و ضبط بھی ناپید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری تمام اقوام ان اصولوں پر عمل کرکے ستاروں پر کمندیں ڈال رہی ہیں۔ اور ہم اپنے آباء و اجداد کے کارناموں پر بغلیں بجارہے، اور خود خواب غفلت میں ہیں۔ یہی صورتحال دیکھ کر اقبال رحمہ اللہ نے فرمایا تھا

    تھے تو آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو
    ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!

    8۔ ہم سیاسی انتشار کا شکار ہیں۔ قومی مفاد پر ذاتی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ہم اختلاف ضرور رکھیں۔ مگر اختلاف کے آداب کا خیال رکھیں۔ محض اختلاف کی وجہ سے فریق مخالف کی اچھی بات کا بھی رد کرنا درست رویہ نہیں ہے۔

    9۔ ہمارے ہاں قانون پر عملدرآمد صرف غریب کے لئے ہے۔ امیر اور شاہی طبقہ جب جس قانون کو اپنے قدموں تلے روند ڈالے، کوئ پوچھنے والا نہیں۔ قانونی بالادستی ہر حال میں لازم ہو۔ اس میں کوئ رعایت نہ ہو۔

    10۔ تمام ممالک سے بالعموم ، عالم اسلام سے بالخصوص ہمارے تعلقات ویسے نہیں رہے ، جیسے ہونے چاہئیں۔ جبکہ امن و امان اور ملکی ترقی اس کے بغیر ممکن نہیں۔

    الغرض ملک پاکستان اسلام کے نام پر بنا اللہ کا عظیم تحفہ ہے۔ اس کرہ ارض پر اور کوئ ملک ایسا نہیں ہے،جس کے دستور میں یہ بات ہو کہ حاکمیت صرف اللہ کے لئے ہے اور اس ملک کا ہر دستور قرآن و سنت کے مطابق ہوگا۔ یہ پیارا ملک پاکستان ضرور وہ مقاصد حاصل کریگا، جس کے لئے یہ بنا ہے۔ مگر ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اور اپنی ناکامیوں اور غلطیوں سے سیکھنا ہوگا۔ آخر میں احمد ندیم قاسمی کی دعا پر اپنی تحریر ختم کرتا ہوں۔ ویرحم اللہ عبدا قال آمینا ( اور اللہ ہر اس شخص پر رحم فرمائے جو اس دعا پر آمین کہے)

    خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
    وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

    یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
    یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

    یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
    اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

    گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
    کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

    خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
    اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

    ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
    کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

    خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
    حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

  • باغی تحریری مقابلہ – دوم تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — حافظ شاہد محمود

    باغی تحریری مقابلہ – دوم تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — حافظ شاہد محمود

    ہم تو مٹ جائیں گے اے ارض وطن لیکن تم کوزندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک”

    14 اگست کو ہر سال ہم یوم آزادی مناتے ہیں بڑے بڑے جشن منعقد منعقد کیے جاتے ہیں ، اسلاف کی قربانیوں ، شہیدوں کی شہادتوں ، مظلوموں پر ڈھائی جانے والی تکالیف کا ذکر ہوتا ۔ پھر آذادی کی نعمت کا ذکر بھی ہوتا ہے ، لاکھ لاکھ شکر ادا ہوتا ہے ، ہزاروں سجدے ہوتے ہیں ، گھر گھر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے ، قومی پرچم کو سلامی دی جاتی ہے ، جب سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے تو ہمارا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے ، دل جوش و جذبے سے سرشار ہوجاتا ہے ، یہ وہ عظیم پرچم جو ہمارا تشخص اور پہچان ہے ہمیں اس کا پرسکوں سایہ مسلسل جدوجہد اور ہمارے اسلاف کی بے شمار قربانیوں کا ثمر ہے۔

    1707 عیسوی میں مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر اس دنیا سے رخصت ہوگیا اس کے پوتوں کی غفلت اور نااہلی کا نتیجہ یہ نکلا کہ انگریزوں کی غلامی کا پٹہ مسلمانوں کے گلے میں پڑ گیا ، اس طوق غلامی نے ایمانی قوتوں کو کمزور کردیا ، اپنا ضمیر جاتا رہا ، اپنی فکر ختم ہو گئی ، پھر کیا تھا مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ، کل تک جو برصغیر کے بے تاج بادشاہ تھے پابند سلاسل کردئیے گئے ، کالے پانیوں کی سزا دی گئی۔

    پھر کیا تھا اللہ تعالیٰ کو اسلامیان برصغیر پر ترس آگیا ، دعائیں قبول ہونے لگیں ، شہیدوں کی شہادتیں رنگ لانے لگیں ،ایمانی قوت جاگنے لگی ، اغیار کی زنجیریں ٹوٹنے لگیں ، مسلمانوں کو ایسی ولولہ انگیز قیادت میسر آئی جو سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید سے شروع ہوئی اور علامہ محمد اقبال سے قائد اعظم محمد علی جناح تک نے اپنا کردار بخوبی نبھایا ، انہوں نے کہا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ ، تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الااللہ ، لیکر رہیں گے پاکستان ، بن کر رہے گا پاکستان ، بالاآخر 14 اگست 1947 کو معرضِ وجود میں آگیا۔

    75 سال ہوگئے میرے وطن عزیز کو آزاد ہووے ، جس کے بارے اغیار کا خیال تھا کہ کچھ عرصہ بعد خود ہی ٹوٹ جائے گا ، لیکن آج پاکستان پوری قوت ، اپنی پوری آن ، بان اور شان کے ساتھ استحکام کی طرف بڑھتے ہووے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا رہا ہے۔

    میں مانتی ہوں کہ دشمن کو 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں کامیابی حاصل ہوئی تھی ، اس وقت اندرا گاندھی نے کہا تھا ہم نے نظریہ پاکستان خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے ، لیکن آج حقیقت اس کے برعکس ہے ، لا الہ الا اللہ کا نظریہ دوبارہ زندہ ہو رہا ہے ، پوری دنیا کے مسلمان پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایٹمی دھماکے پاکستان چاغی کے مقام پر کر رہا تھا اس وقت کشمیر و فلسطین کے بچے خوشیاں منا رہے تھے ، عالم اسلام میں مٹھائیاں تقسیم ہو رہی تھیں۔

    وطن عزیز پاکستان اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے نشانی ہے ، لاکھوں جانوں کی قربانیاں کے بعد معرض وجود آنے والا مدینہ ثانی دنیا میں بہت بنیادوں پر منفرد مقام رکھتا ہے.

    ہمارے وطن کا دارالحکومت اسلام آباد دنیا کے دس خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں سے ایک ہے،ہمارے ملک کا جھنڈا دنیا کے حسین ترین جھنڈوں میں سے ایک ہے، پاکستان کے قومی ترانے کی دھن پوری دنیا میں اول نمبر پر ہے، پاکستان میں ایشیاء کا سب سے بڑا نہری نظام موجود ہے، پاکستان کا شمار دنیا کے ان چوٹی کے 4 ممالک میں ہوتا ہے کہ جہاں ذہین ترین لوگ موجود ہیں، حال ہی میں ایک 9 سالہ پاکستانی طالبہ نتالیہ نجم نے کیمسٹری کے پیریوڈک ٹیبل کو 2 منٹ اور 42 سیکنڈ میں ترتیب دے کر ایک بھارتی پروفیسر کا ریکارڈ توڑ کر پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور واقعتاً ثابت کیا کہ پاکستانی لوگوں کاشمار دنیا کے ذہین ترین لوگوں میں ہوتا ہے ،

    پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے کہ جہاں سب سے زیادہ ڈاکٹرز اور انجینئرز موجود ہیں، دنیا کا چوتھا سب سے بڑا انٹرنیٹ براڈ بنیڈ سسٹم ہمارے ملک میں موجود ہے، تربیلا ڈیم مٹی سےبنا دنیا کا عظیم ترین ڈیم ہے، چھانگا مانگا کا جنگل مصنوعی طور پر اگایا جانے والا سب سے بڑا جنگل ہے، دنیا کی سب سے بڑی نجی ایمبولینس سسٹم ایدھی فاؤنڈیشن بھی ارض وطن میں ہی ہے،

    وطن عزیز پاکستان کو یہ نمایاں ترین اعزاز بھی حاصل ہے کہ، اس کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ خیرات، صدقات اور فلاحی عطیات والے ممالک میں سر فہرست ہے، پاکستان دنیا میں سب زیادہ جراحت / سرجیکل آلات اور فٹبال بنا کر بیچنے اور ایکسپورٹ کرنے والا ملک ہے،پاک وطن میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی نمک کی کان کھیوڑہ میں موجود ہے، مادر وطن اسلامی ممالک میں پہلا اور تسلیم شدہ ایٹمی ملک ہونے کا اعزاز بھی رکھتا ہے، دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بھی یہیں موجود ہے، ارض وطن سیاحتی اعتبار سے دنیا کے محفوظ ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہے، پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی وادیوں کا موازنہ ان کےبے پناہ حسن اور خوبصورتی کی بناء پر، سوئٹزرلینڈ سے کیا جاتا ہے۔

    پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے کہ جہاں ادب اور فنونِ لطیفہ کا ایک عظیم ورثہ موجود ہے، فن مصوری ہو یا خطاطی، سنجیدہ نثر نگاری ،پاکستانی ملی نغمے آج بھی دنیا بھر میں مقبول اور پسندیدہ ترین ہیں۔

    پاکستان میں کھیلے جانے والے بیشتر کھیلوں کا آغاز برطانیہ میں ہوا اور برطانویوں نے انہیں ہندوستان میں متعارف کرایا۔ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے۔ اس نے 1960ء، 1968ء، اور 1984ء میں کھیلے گئے اولمپک کھیلوں میں تین سونے کے طمغے حاصل کئے ہیں۔ پاکستان نے ہاکی کا عالمی کپ بھی چار بار جیتا ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ پاکستان نے ہاکی کا عالمی کپ 1971ء، 1978ء، 1982ء اور 1994ء میں جیتا ہے۔

    پاکستان کرکٹ کے ٹیم، جنہیں شاہین کہا جاتا ہے، نے 1992ء میں کرکٹ کا عالمی کپ جیتا تھا۔ 1999ءمیں شاھین دوسرے نمبر پر رہے۔

    اور 1987ء اور 1996ء میں عالمی کپ کے مقابلے جزوی طور پر پاکستان میں ہوئے۔ پاکستان ٹی 20 قسم کے کھیل کے پہلے مقابلے میں دوسرے نمبر پر رہے جو سال 2007ء میں جنوبی افریقہ میں کھیلا گیا تھا۔ اور سال 2009ء میں اسی قسم کے کھیل میں پہلے نمبر پر رہے اور عالمی کپ جیتا جو برطانیہ میں کھیلا گیا تھا۔

    ورزشی کھیلوں میں عبدالخالق نے سال 1954ء اور سال 1958ء کے ایشیائی کھیلوں میں حصہ لیا۔ اس نے 35 سونے کے طمغے اور 15 عالمی چاندی اور پیتل کے طمغے پاکستان کے لیے حاصل کئے۔

    پاکستان کو دنیا میں آج بھی سکواش کے کھیل میں سب زیادہ فتوحات حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔

    پاکستان کی کی بری، بحری اور فضائی افواج پیشہ ورانہ مہارت کی بناء پر نہ صرف اہم ترین مقام کی حامل ہیں بلکہ دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں اپنے اعلیٰ ترین کارکردگی کا مظاہرہ کرکے اپنی سبقت کو منوا چکے ہیں، پاکستان موٹروے پولیس سسٹم کو دنیا میں ایک ماڈل کے طور پر لیا جاتا ہے، پاکستان کی ریسکیو ایمرجنسی سروس کو پیشہ ورانہ مہارت اور قابلیت کی وجہ سے دنیا کے چند اعلیٰ ترین اداروں میں شمار کیا جاتا ہے..

    ہمارا وطن دنیا کے عظیم ترین ممالک میں سے ایک ہے، اس ملک کی تاریخ شاہد ہے کہ پاکستانیوں کا جزبہ حب الوطنی بے مثال و بے نظیر ہے، جب جب بھی اس ملک پر کڑا وقت آیا ہے ہم نے یکجا ہو کر اس کا مقابلہ کیا ہے، پاکستان ہماری جان ہے، ہماری شان ہے، ہماری آن بان ہے اور سب سے بڑھ کر ہماری شناخت اور پہچان ہے اور یہ سب آزادی کی نعمتیں ہیں.

    پروردگار عالم ہمارے ملک کو قائم و دائم رکھے، اسے دشمنوں سے محفوظ رکھے، پروردگار عالم ہماری افواج اور ہماری حفاظت پر معمور تمام اداروں کا حامی و ناصر، آئیے عہد کریں کہ ہم مل کر تمام تر اختلافات چاہے وہ زبان، فرقے، رنگ، نسل، علاقے یا کسی بھی بنیاد پر ہوں ان کو یکسر نظر انداز کرکے، اپنے ملک کی ترقی و عروج کے ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں گے، اور آنے والے وقتوں میں اپنی دھرتی ماں کو عظیم سے عظیم تر بنائیں گے،انشاء ﷲ مستقبل کا پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے خوابوں کا عکاس ہوگا، اپنے وقت کے معروف شاعر منشی منظور صاحب کا شہرہ آفاق شعر ہر ایک پاکستانی کے جزبات کی ترجمانی کرتا ہے۔

    “میرے وطن یہ عقیدتیں اور پیار تجھ پر نثار کردوں،
    محبتوں کے یہ سلسلے بے شمار تجھ پر نثار کردوں ”

    ہم اپنے پیارے وطن کے لیے تاقیامت سلامتی کے لیے دعا گو ہیں اور ہمیشہ رہیں گے.

  • باغی تحریری مقابلہ – اول تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — طلحہ ملک

    باغی تحریری مقابلہ – اول تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — طلحہ ملک

    حضرت آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے ہی انسان نے زندگی میں اپنے مسائل کو پرکھنے اور ان کے حل کے لیے جستجو کی ہے۔ مختلف عقائد اور نظریات پر آزادی سے پہرہ دینے کے لیے مختلف قوموں نے جنم لیا۔ پاکستان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو 14 اگست 1947 میں دُنیا کے نقشے پر ایک آزاد اسلامی ریاست کے نام پر وجود میں آیا آئیے پچھتر سالہ پاکستان کے سیاسی، سماجی، مذہبی، علمی اور دفاعی سمیت دیگر اہم پہلوؤں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

    انگریز اور ہندو پاکستان بننے کے حق میں نہیں تھے تقسیمِ ہند کا مسودہ پیش لرتے وقت برطانوی وزیرِاعظم لارڈ اٹیلی نے کہا تھا "ہندوستان تقسیم ہو رہا ہے لیکن مجھے امید ہے یہ تقسیم زیادہ دیر تک نہیں رہے گی اور جلد یہ دونوں ممالک جنہیں ہم الگ کر رہے ہیں ایک ہو جائیں گے” لیکن انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ پاکستان محض ایک زمینی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی قوم ہے کہ جس کے متعلق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کو 1937ء میں لکھے گئے خط میں واضح کیا کہ "اگر ہندوستان کے مسلمانوں کا مقصد سیاسی جدوجہد سے محض آزادی اور اقتصادی بہبود ہے اور حفاظتِ اسلام اس کوشش کا حصہ نہیں تو مسلمان اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے لہٰذا قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عظیم لیڈر کا کردار ادا کرتے ہوئے عوام کو اسلامی نظریے کو حاصل کرنے کے لیے ایک قوم بنایا نہ کے ایک خطے کے حصول کے لیے۔

    13 اگست 1947 کی رات 12 بجے برصغیر کے معروف براڈکاسٹر مصطفیٰ علی ہمدانی نے آل انڈیا ریڈیو پر آزادی کا اعلان کرتے ہوئے کہا

    "بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام و علیکم 13 اور 14 اگست 1947ء کی درمیانی شب 12 بجے پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس طلوع صبح آزادی”

    یوں قوم کو آزاد اسلامی ریاست "پاکستان” کی خوشخبری سُنا دی گئی اب یہ صرف ایک عام خطہ نہ تھا بلکہ مسلم امت کی ایک بہت بڑی آزاد ریاست تھی۔

    کسی بھی جمہوری ریاست کے چار بنیادی ستون مقننہ انتظامیہ عدلیہ اور ذرائع ابلاغ ہوتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بہت سارے اہم ترین بل کثرتِ رائے سے پاس ہوئے تاکہ اگر پاکستان میں یہ قوانین نہ بنائے جاتے تو ملک شدید اختلافات کی زد میں ہوتا ان قوانین میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا قانون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیّین ہونے کا قانون صدر اور وزیر اعظم کے مسلمان ہونے سمیت کئی قوانین شامل ہیں جو کہ پاکستان کے ایک اسلامی ریاست ہونے کی ترجمانی کرتے ہیں انتظامیہ ان قوانین کی خلاف ورزی پر متحرک کردار ادا کر کے ریاست کو فسادات سے محفوظ رکھنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے جبکہ عدلیہ قوانین پر عمل درآمد کر کے جزاء و سزا کو عمل میں لاتی ہے تاکہ ملک میں اعتدال کو قائم رکھا جائے، چوتھا ستون یعنی ذرائع ابلاغ چھوٹے مسائل سے لے کر قومی و ملی مسائل کو با اختیار لوگوں تک پہنچا کر اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں ان چار ستونوں کے ساتھ ایک اہم ترین کردار دفاعی اداروں کا ہے جو ریاست کی چھت کا کردار ادا کرتے ہیں اور دفاعی حدود پر اپنی جان ہتھیلی میں رکھ کر قوم کی حفاظت کی ذمہ داری کے فرائض سر انجام دیتے ہیں اور قوم کو اپنے ذاتی گھر کی طرح کا تحفظ دینے میں اپنا زبردست کردار ادا کرتے ہیں۔

    بات کی جائے معاشی پہلو کی تو قیمتی زمینی ذخائر اور باصلاحیت ہنر مند لوگ کسی بھی مستحکم معیشت کے ضامن ہوتے ہیں پاکستان کو ابتدائی طور پر ہنر مند لوگوں کی کمی کا سامنا رہا تھا مختلف شعبوں میں ترقی کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر روابط سے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی پاکستانیوں نے غیر ملکیوں کی مدد سے ہنر سیکھے اور خوب محنت کر کے ابتدائی طور پر ملکی معیشت کو مضبوط سہارا دیا زراعت اور دیگر شعبوں میں کثرتِ محنت کے نتیجے میں خوب ترقی حاصل کی تاہم ترقی کے اس سفر میں سیاسی عدم استحکام ہمیشہ معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوا یوں تاحال پاکستان باوجود باہنر افراد اور زمینی ذخائر کے عالمی سطح پر اپنی مضبوط معیشت کو منوانے میں ناکام رہا ہے حالانکہ پاکستان ذرائع ابلاغ کی بدولت دنیا کے معاشی نظام سے خوب واقف رہا ہے مگر اپنی معیشت کو اس کے مطابق نہ ڈھال سکا۔

    ذرائع ابلاغ نے ہر دور میں اپنا اہم ترین کردار ادا کیا ہے مگر مواصلاتی ترقی نے اس کی اہمیت میں بے حد اضافہ کر دیا ہے۔ میڈیا کو بہت سارے ممالک میں اظہارِ خیال کی کھلی آزادی ہے جبکہ چند ممالک میں میڈیا پر بہت سی پابندیاں عائد ہیں یاد رہے میڈیا کی زبان باندھ دی جائے یا اس کی بیڑیاں کھول دی جائیں دونوں طریقے ہی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ زبان بندی سے میڈیا صرف وہ پیغام پہنچاتا ہے جس کا اسے پابند کیا جاتا ہے جبکہ آزاد میڈیا اکثر اوقات ملکی دفاع کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے پاکستان میں آزاد میڈیا پر وقفے وقفے سے پابندیاں لگتی آئی ہیں ان پابندیوں میں کالم نگار بھی کسی دوسرے کے ہاتھ سے لکھتا اور صحافی بھی کسی اور کی زبان بولتا تھا جبکہ اب آزاد میڈیا کی حیثیت سے ہر اخبار یا ٹی وی چینل ذاتی مفاد کی خاطر اکثر مخصوص سیاسی پارٹیوں کی حمایت یا مخالفت کرتے رہتے ہیں.

    ملکی سطح پر اگر ان کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا جائے تو عوام سنسنی خیزی کے جذبات اور انتشار سے محفوظ رہ سکتے ہیں
    تعلیم و تربیت کے ہی پہلو کا سطحی جائزہ لیا جائے تو کسی بھی ملک کا منظم تعلیمی سسٹم اور نصاب اس ملک کے روشن مستقبل کی توثیق یا تردید کرتا ہے پاکستان کی بیشتر آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہی ہے جس وجہ سے تمام بچے ابتدا سے ہی تعلیم کی طرف نہیں آتے یا ابتدائی تعلیم کے دوران ہی چھوڑ جاتے ہیں مگر پھر بھی بحثیتِ قوم پاکستان میں تعلیم کے ساتھ ایک خاص لگاؤ اور دلچسپی برقرار ہے ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں دو لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں پندرہ لاکھ پینتیس ہزار اساتذہ کرام چار کروڑ دس لاکھ سے زائد بچوں کو تعلیم مہیا کر رہے ہیں تعلیم مہیا کرنے والے ان اداروں میں چالیس ہزار سے زائد چھوٹے بڑے مدرسے اور دینی درسگاہیں بھی شامل ہیں مگر اس سب کے با وجود حیرت انگیز طور پر پاکستان کا نظامِ تعلیم دنیا کے جدید تعلیمی تقاضوں سے نہ ہونے کے برابر مطابقت رکھتا ہے جس کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں بہتر تعلیمی نظام کے ممالک میں پاکستان اس وقت ایک سو پچیسویں نمبر پر موجود ہے تحقیق کرنے والے ادارے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے نظام تعلیم کا مطلب تعلیم کا نظام نہ ہونا ہے۔ بنیادی طور پر اچھے نصاب اور عملی تربیت کا فقدان اس تنزلی کی بڑی وجوہات ہیں ہمارے نظامِ سیاست نے ملک کے ہر شعبے کی ساکھ کو دیمک زدہ کر کے رکھ دیا ہے۔

    پاکستان کا سیاسی منظر نامہ بڑا غیر مستحکم ہے کہا جاتا ہے کہ پاکستان کو کبھی وفادار لیڈر نہیں ملا اگر ملا تو اس کی قدر نہیں کی گئی آزادی کے بعد جلد ہی پاکستان کو نظر لگ گئی تھی پہلے ہی وزیرِ اعظم کو شہید کر دیا گیا ابتدا سے آج تک میرا ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے کبھی صدارتی نظام رائج کر دیا جاتا رہا اور کبھی مارشل لاء کا قانون نافذ کر دیا جاتا کبھی سرپرستِ مملکت کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا تو کبھی جبراً جلا وطن کر دیا جاتا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ کچھ با اثر پاکستان دشمنوں کی طرف سے پہلے دن سے قوم اور قومی راہنماؤں کا یوں مذاق اڑایا جاتا رہا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اگر کوئی قوم کی نبض پر ہاتھ رکھنے والا لیڈر آئے کہ جس کے کہنے پر پوری قوم ملکی مفاد کے لیے یک جان ہو جائے ایسے لیڈر کو بھی استعمال کیا جاتا ہے اس میں نہ صرف غیر ملکی مداخلت شامل ہے بلکہ پس پردہ ہمارے ہی سیاستدان استعمال ہوتے ہیں۔

    اگر مزید پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے تو ہر پہلو پر ایک مدلل طویل تحریر مرتب ہوگی مگر اب چند اصلاحی اختتامی سطور پر اکتفا کروں گا کہ پاکستانی قوم لا الہ کے مشن پر آزاد ہوئی تھی اسے لا الہ کے حقیقی مشن پر قائم رہنے دیا جائے ان کے نیک جذبات کی قدر کی جائے قوم کو سیاسی سماجی سطح پر منتشر نہ کیا جائے بارڈرز پر کھڑی فوج کا احترام کیا جائے اسپتالوں میں پڑے مریضوں سے ہمدردی کی جائے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے قیمتی ہنر کی کی قدر کی جائے تعلیم و تربیت کا عالمی اسلامی اصولوں پر اہتمام کر کے اس تک عام آدمی کی رسائی کو ممکن بنایا جائے ذرائع ابلاغ محض ریٹنگ کی خاطر قوم کو منتشر نہ کریں سیاست دان اگر پاکستان کے حق میں تقریریں کرتے ہیں تو اس سے کہیں بہتر ہے اپنے کام کو بحسنِ خوبی سر انجام دیں تا کہ تقاریر سے مطمئن کرنے کی نوبت ہی پیش نہ آئے آج ہمیں 1947 کی آزادی کے جذبات سے آگاہ رہنے کے لیے آباؤ اجداد کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اپنے نیک جذبات کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور اپنی تمام تر خدمات سے پاکستان کو دن دگنی رات چگنی ترقی دینے میں اہم کردار ادا کر سکیں.

    وطن کے جاں نثار ہیں وطن کے کام آئیں گے
    ہم اس زمیں کو ایک روز آسماں بنائیں گے