Baaghi TV

Tag: 2 اپریل

  • 02 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    02 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    02 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    748ء شارلیمین، فرانکیا اور روم کے قدیم بادشاہ (وفات : 814ء)

    1614ء شاہزادی جہاں آرا بیگم صاحب، مغل سلطان شاہ جہاں اور ممتاز محل کی دختر، اورنگ زیب کی بڑی بہن۔ (وفات : 1681ء)

    1647ء ماریہ سبیالا مریان، جرمن نژاد ڈچ خاتون، اپنے دور کی عظیم نقاش و عقلیت پسند خاتون۔ جنہیں حشرات و نباتات پر ماہرانہ تحقیق کی وجہ سے دنیائے سائنس میں خاص مقام حاصل ہے (وفات : 1717ء)

    1743ء۔۔ٹامس جیفرسن۔۔امریکہ کا تیسرا صدر۔ اعلان آزادی کو قلمبند کرنے کا اعزاز اسی کو حاصل ہوا۔ 1784ء میں فرانس میں وزیر با اختیار مقرر ہوا۔ 1801ء سے 1807ء تک جمہوریہ متحدہ امریکا کا صدر رہا۔ اس کی صدارت کے دوران میں لوئی زیانا کی ریاست خریدی گئی اور امریکا میں بردہ فروشی خلاف قانون قرار دی گئی۔

    1805ء۔۔ہینز کرسچن اینڈرسن ڈنمارک کا ادیب جس نے بچوں کے لیے جن پریوں کی کہانیاں لکھیں چودہ سال کی عمر میں حصول روزگار کی خاطرکوپن ہیگن پہنچا۔ ابتدا میں اوپرا میں کام کیا مگر ناکام رہا۔ پھر شاعری اور افسانہ نویسی شروع کی۔ 1835ء سے بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے لگا۔ جو بچوں سے زیادہ بڑوں میں مقبول ہوئیں۔ کہانیوں کا پہلا مجموعہ 1835ء میں چھپا۔

    1840ء۔۔ایملی زولا پیرس فرانس میں 2 اپریل 1840ء کو پیدا ہوا۔اس کا بچپن، لڑکپن اور جوانی کے کچھ سال ایکس۔این کے صوبے میں گزرے جو اس کے ناولوں میں Plassans کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1858ء میں ایملی زولا پیرس آیا۔ اس کا باپ اٹلی کا اور ماں فرانس کی تھی۔ 1862ء تک اس نے فرانس کی شہریت نہ لی تھی۔ زولا کا ابتدائی زمانہ بہت غربت میں گزرا۔ بہت سے محکموں میں کلرکی کی۔ آخر کار Therese Raquin نامی اخبار سے منسلک ہو گیا جس سے اسے پیسہ بھی ملا اور شہریت بھی۔ اسی عرصے میں اسے A.G Melley مل گئی جس سے اس نے 1870ء میں شادی کر لی۔ یہ شادی اچھی ثابت نہ ہوئی۔ زولا نے نیچرلسٹ تحریک کی سربراہی کی اور اپنی کہانیاں موپساں اور دوسرے دو لکھنے والوں کے ساتھ مل کر چھپوائیں اور مسلسل اس تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتا رہا۔ زولا 1902ء میں فوت ہوا۔ اس کی موت ایک مستری کی نااہلی کی وجہ سے ہوئی۔ مستری اس کے بیڈروم کی چمنی ٹھیک کرنے آیا۔ چمنی درست کی لیکن اس کے بند پائپ کو صاف کرنا بھول گیا۔ کوئلوں کی ساری گیس کمرے میں بھر گئی اور زولا صبح تک دم گھٹنے سے مر گیا۔ زولا کی زندگی کا ایک سنسنی خیز واقعہ 1898ء میں ہوا جو اس کی تخلیقی زندگی پر بہت اثر انداز ہوا۔ یہ فرانس کے صدر کے نام ایک کھلا خط تھا جو L.Aurore نامی اخبار کے پہلے صفحے پر چھپا۔ یہ فرانس کی فوجی انتظامیہ کی کرپشن کی نشان دہی تھی۔ اس خط نے فرانسیسیوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا، دنیا میں بدنامی الگ ہوئی۔ حکومت نے زولا کے اس خط کا سختی سے نوٹس لیا اور اس پر مقدمہ قائم کر دیا۔ عدالت نے زولا کو ایک سال کی سزا سنا دی۔ زولا انگلستان بھاگ گیا اور وہاں جا کر سیاسی پناہ لے لی۔ یہ سارا ہنگامہ ایک یہودی کیپٹن Drey Fus کے بارے میں تھا جسے ایک سازشی جال میں پھنسایا گیا تھا اور زولا نے اس کی مدد کی تھی۔ سال کے بعد جب کیپٹن کے خلاف مقدمہ واپس لے لیا گیا اور اسے پورے اعزازات سمیت بری کر دیا گیا تو زولا واپس پیرس آ گیا اور اپنی 20 ناولوں کی سیریز پوری کرنے لگا۔ 20 ناولوں کی سیریز The Rougon Maequqrt کا نام ہے۔ ان ناولوں میں ابھرنے والے کردار ایک ہی خاندان کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ناولوں میں کبھی کم اور کبھی دیر تک سامنے رہتے ہیں یا کبھی کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ہی کردار کی زندگی کے واقعات ناول کا حصہ بنا لیے گئے ہیں۔ زولا نے ہمیشہ سچائی اور انصاف کے حق میں آواز اٹھائی اور مخالف قوتوں سے مقابلہ کیا۔ زولا کہا کرتا تھا کہ ’’ میں نے ہمیشہ سچ اور انصاف کا ساتھ دیا ہے۔ میری صرف ایک ہی آرزو اور خواہش ہے کہ جو لوگ اندھیرے میں جی رہے ہیں انہیں روشنی میں لایا جائے۔ جو دکھ میں سانس لے رہے ہیں انہیں خوشی دلائی جائے۔ یہ میری روح کی آواز ہے۔ اگر یہ جرم ہے تو دن کی روشنی میں میرے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔‘‘ فرانس کی حکومت کو یہ بات پسند نہ تھی۔ اس پر مقدمہ چلا لیکن جب سچائی سامنے آئی تو حکومت کو ہار ماننا پڑی۔ حکومت نے اندر ہی اندر زولا کو سزا دی۔ اس سزا کا انکشاف دس سال بعد ہوا۔ دس سال بعد زولا کے گھر کی چمنی ٹھیک کرنے والے مستری نے اس راز سے پردہ اٹھایا اور کہا کہ سیاسی وجوہات پر میں نے ہی زولا کے گھر کی چمنی کو بند کیا تھا جس سے گیس زولا کے کمرے میں بھر گئی تھی اور زولا کی موت واقع ہوئی تھی۔زولا کی موت 29 ستمبر 1902 کو ہوئی تھی۔

    1902ء بڑے غلام علی خان، پٹیالا گھرانے سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی کلاسیکی گلوکار (وفات : 1968ء)

    1942ء۔۔ولفریڈ جیرالڈ ریبمبس (وفات- 9 مارچ 2010ء) ایک منگلورائی گلوکار اور گیت کار تھے جو وِلِفی رِبِمس کے نام سے زیادہ مشہور ہیں۔ ولفی ریبمس اپنی کوکنی اور تولو زبانوں کے نغمہ ساز کے لیے مشہور تھے۔ وہ مقبول طور پر کوکن کوگل کے نام سے مشہور ہیں جس کے معنی کوکن کی کوئل ہے

    1949ء پامیلا ریڈ، امریکی فلمی اداکارہ

    1969ء اجے دیوگن، بھارتی اداکار

    1969ء۔۔۔انجینئر شوکت اللہ خان پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے سابقہ گورنر ہیں جنہیں صدر پاکستان آصف علی زرداری نے راجا پرویز اشرف کی ہدایت پر 11 فروری 2013ء کو تعینات کیا

    1981ء مائیکل کلارک، آسٹریلوی کرکٹر

    1981 ء ۔۔کپل شرما ایک بھارتی اسٹینڈ اپ کامیڈین ،اداکار، ٹی وی میزبان، پروڈیوسر اور موسیقار ہیں۔ کپل شرما کا ایک شو ہے جس کا نام دہ کپل شرما شو ہے یہ شو ہر ہفتہ اتوار کو سونی ٹی وی چینل پر آتا ہے جس میں بہت سے فلمی اداکار اور بہت سے سیلیبریٹ شرکت کرتے ہیں

    1986ء ابراهیم آفیلای، ڈچ پیشہ ور فوٹبالر جو بطور اٹیکینگ مڈفیلڈر ایف سی بارسلونا کے لیے کھیلتا ہے۔

    1990ء گریما چودھری، بھارتی جوڈوکا، اس نے بھارت کو ملک کی واحد جوڈوکا کے طور پر 2012ء گرمائی اولمپکس میں خواتین کے 63 کیلو زمرے میں نمائندگی کی۔

    1969ء آغا نیاز مگسی اردو، سندھی، بلوچی اور براہوی زبان کے ادیب، شاعر ، محقق اور کالم نگار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • 02 اپریل   تاریخ کے آئینے میں

    02 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    02 اپریل تاریخ کے آئینے میں.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1669ء مغل حکمراں اکبر نے جذیہ ختم کیا۔

    1745ء آسٹریا اور باویریا کے درمیان امن معاہدہ طے ہوا۔

    1801ء کوپن ہیگن میں برطانوی بیڑے نے ڈینمارک کے بیڑے کو برباد کر دیا۔

    1905ء مصر کی راجدھانی قاہرہ اور جنوبی افریقہ کے کیپ ٹاون کے درمیان ریل چلنی شروع ہوئی۔

    1921ء البرٹ آئنسٹائن نے اپنے نئے نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) پر نیویارک شہر میں لیکچر دیا۔

    1930ء ہیل سلیسی حبشہ کے شہنشاہ بن گئے۔

    1942ء کانگریس نے کرپس مشن کی تجویز کو خارج کیا۔

    1945ء سوویت یونین اور برازیل کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہوئے۔

    1971ء۔۔سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کلثوم نواز سے پسند کی شادی کی۔

    1978ء۔۔۔پاکستان نے ہاکی کا عالمی کپ جیتا ٭مارچ 1978ء میں ہاکی کا چوتھا عالمی کپ ٹورنامنٹ ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس میں منعقد ہوا۔ اس ٹورنامنٹ میں 14 ممالک کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ پاکستانی ٹیم کی قیادت اصلاح الدین نے کی جبکہ نائب کپتان شہناز شیخ اور منیجر عبدالوحید تھے۔ پاکستان پول بی کے تمام ممالک کو شکست دے کر بآسانی سیمی فائنل میں پہنچ گیا جہاں اس کا مقابلہ مغربی جرمنی سے ہوا۔ میچ کا فیصلہ فاضل وقت میں ہوا، جب میچ کے 83 ویں منٹ میں اصلاح الدین نے میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول اسکور کیا۔ فائنل میں، جو 2 اپریل 1978ء کو کھیلا گیا، پاکستان کے مدمقابل ہالینڈ کی ٹیم تھی۔ پہلے ہاف کے اختتام تک میچ 1-1 سے برابر تھا۔ دوسرے ہاف میں ہالینڈ ایک اور پاکستان دو گول کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ یوں پاکستان نے 7 برس بعد، ہاکی کا عالمی کپ دوسری مرتبہ جیت لیا۔ پاکستان کی جانب سے اصلاح الدین، اختر رسول اور احسان اللہ نے گول بنائے جبکہ ہالینڈ کی طرف سے ٹائیز کروزے اور پال لٹجن گول کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی مجموعی کارکردگی بہت شاندار رہی، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پورے ٹورنامنٹ میں پاکستان نے 35 گول اسکور کئے تھے جبکہ اس کے خلاف صرف 4 گول اسکور کیے جاسکے تھے۔

    1982ء آرجنٹین نے فاکلینڈز آئلینڈز پر حملہ کر دیا۔

    1992ء پیئیر بیریگووی فرانس کے وزیراعظم بن گئے۔

    1997ء سمیتا سینا نے اپنے جسم پر سے 3200؍کلو گرام وزنی ٹرک کو گذار کر ریکارڈ قائم کیا۔

    2 اپریل 2005ء کو پاکستان کے قدیم تربیتی ادارے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج، کوئٹہ کے قیام کی سوویں سالگرہ منائی گئی۔ یہ کالج یکم اپریل 1905ء کو بمبئی کے نزدیک دیولائی کے مقام پر قائم ہوا تھا اور 1907ء میں اسے کوئٹہ منتقل کردیا گیاتھا۔ اس موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پانچ روپیہ مالیت کا ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر قدیم اور جدید دونوں عمارتوں کی منظر کشی کی گئی تھی اور 1905 2005 100 YEARS OF EXCELLENCE COMMAND & STAFF COLLEGE QUETTA کے الفاظ تحریر تھے ۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج، کوئٹہ نے فراہم کیا تھا۔

    تعطیلات و تہوار :
    ۔”””””””””””””””””

    بچوں کی کتابوں کا عالمی دن

    1970ء قطر نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل: آغا نیاز مگسی