Baaghi TV

Tag: 23 مارچ

  • پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی میں   یوم پاکستان کی پُر وقار تقریب

    پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی میں یوم پاکستان کی پُر وقار تقریب

    نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں یوم پاکستان کے سلسلے میں پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

    پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی کے مطابق پاکستان کا قومی دن آج نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں حب الوطنی کے جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا، پاکستان چانسلری میں بھارت میں پاکستانی ناظم الامور سعد احمد وڑائچ نے پرچم کشائی کی،تقریب میں پاکستانی ناظم الامور سعد احمد وڑائچ نے خطاب کیا، سعد احمد وڑائچ نے قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت کو سراہا۔
    https://x.com/PakinIndia/status/1771439464449282448?s=20
    پاکستانی ناظم الامور کا کہنا تھا کہ مساوات اور باہمی احترام پر مبنی پرامن بقائے باہمی پاکستان کی خارجہ پالیسی کے رہنما اصول ہیں، یہ اصول بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات کی پاکستان کی خواہش کو بھی تقویت دیتے ہیں۔
    https://x.com/PakinIndia/status/1771440640506859682?s=20
    https://x.com/PakinIndia/status/1771440870681870430?s=20

  • 23 مارچ کو پیدا ہونے اور وفات پانے  والی چند مشہور شخصیات

    23 مارچ کو پیدا ہونے اور وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    23 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    1142ء المستضی بامر اللہ حسن ، خلافت عباسیہ کا (حکومت18 دسمبر 1170ء تا 27 مارچ 1180ء) 33واں خلیفہ ، مستضی کے دور میں صلاح الدین ایوبی نے دنیائے اسلام میں شہرت پائی۔ مستضی کی بیماری کے دوران ہی الناصرالدین اللہ کی خلافت کی بیعت کر لی گئی۔ (وفات: 30 مارچ 1180ء)

    1749ء پِئیر سِیموں لاپلاس ، اثر انداز فرانسیسی عالِم ، جن کا کام ریاضیات، شماریات، طبیعیات اور فلکیات کی نشو و نما میں نہایت اہم تھا، انہیں فرانس کے نیوٹن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ 1812ء میں لاپلاس نے شماریات (Statistics) میں کئی بنیادی نظریات پیش کئے۔ انہوں نے حسابی نظام میں امکان (probability) کی بنیاد پر استقرائی منطق (Inductive reasoning) کو پیش کیا۔ (وفات: 5 مارچ 1827ء)

    1853ء مظفر الدین شاہ قاجار ، فارس کے قاجار خاندان کا (1 مئی 1896ء تا 3 جنوری 1907ء) پانچواں شہنشاہ (وفات : 3 جنوری 1907ء)

    1858ء لڈوگ کویڈ ، نوبل امن انعام (1927ء) یافتہ جرمن کارکن، مؤرخ اور سیاستدان ۔ جو جرمن بادشاہ وہلیم دوم پر تنقید کی وجہ سے شہرت پائی ۔ (وفات: 4 مارچ 1941ء)

    1875ء سید حسین بروجردی یا سید حسین بن علی طباطبائی بروجردی ، شیعہ مجتہد ،آیت اللہ اور مرجع تقلید ، سید حسین طباطبائی کا شجرہ نسب حسن مثنی، امام حسن بن علی بن ابی طالب سے ملتا ہے۔ سید حسین طباطبائی 15 سال کی عمر میں دنیا کے تمام شیعوں کے اکیلے مرجع تقلید اور مجتہد تھے اور 17 سال کی عمر میں قم کے حوزہ علمیہ کے سربراہ بنے۔ (وفات: 30 مارچ 1961ء)

    1876ء محمد ضیاء المعروف ضیاء گوک الپ ، ترک ماہر عمرانیات، مصنف، شاعر اور سیاسی شخصیت ، 1908ء میں انقلاب نوجوانان ترک کے بعد آپ نے گوک الپ (قہرمانِ آسمانی یا آسمانی ہیرو) کا قلمی نام اختیار کیا جو تاحیات برقرار رکھا۔ (وفات : 25 اکتوبر 1924ء)

    1881ء ہرمن سٹاوڈنگر ، نوبل انعام برائے کیمیاء (1953ء) یافتہ جرمن کیمیاء دان، انجینئر و استاد جامعہ، جو پولیمر کیمیاء کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔ (وفات : 8 ستمبر 1965ء)

    1881ء روگر ماٹن ڈو گاڈ ، نوبل ادب انعام (1937ء) یافتہ فرانسیسی ناول نگار (وفات : 22 اگست 1958ء)

    1904ء جوآن کرافورڈ ، امریکی فلمی اداکارہ، ماڈل و رقاصہ (وفات: 10 مئی 1977ء)

    1907ء ڈینئیل بوٹایک ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1957ء) یافتہ سوئس نژاد اطالوئی طبیب، ماہرِ دوا سازی، ماہرِ اعصابیات، حیاتی کیمیا دان، ماہرِ اسپرانٹو و استاد جامعہ ، انھوں نے ایسی ادویہ تیار کی تھی جو خاص قسم کی عصبیاتی پیغام کو روکنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ (وفات: 8 اپریل 1992ء)

    1910ء اکیرا کروساوا ، جاپانی ہدایتکار اور مصنف (وفات: 6 ستمبر 1998ء)

    1914ء سید رئیس احمد جعفری ندوی ، صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی (1966ء) یافتہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور صحافی، مؤرخ، ماہرِ اقبالیات، ناول نگار، مترجم اور سوانح نگار ، (وفات: 27 اکتوبر، 1968ء)

    1916ء ہرکشن سنگھ سُرجیت ، بھارتی کمیونسٹ سیستدان ، (1992ء تا2005ء) مارکسی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا یعنی سی پی ایم کے سابق جنرل سیکریٹری اور سیاسی رہنما (وفات: 1 اگست 2008ء)

    1923ء شیخ مبارک علی ایاز المعروف شیخ ایاز ، ہلال امتیاز (1994ء) اور فیض احمد فیض ایوارڈ (1994ء) یافتہ سندھی شاعر و استاد جامعہ ، آپ کو شاہ عبدالطیف بھٹائی کے بعد سندھ کا عظیم شاعر مانا جاتا ہے۔ اگر آپ کو جدید سندھی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ آپ مزاحمتی اور ترقی پسند شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ (وفات: 28 دسمبر 1997ء)

    1924ء خواجہ معین الدین ، صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی یافتہ پاکستانی ڈراما نویس جس نے اپنے ڈرامے مرزا غالب بندر روڈ پر کی وجہ سے شہرت پائی ۔ (وفات: 9 نومبر 1971ء)

    1927ء پروفیسر محمد منور مرزا ، ستارہ امتیاز یافتہ پاکستانی ماہرِ اقبالیات ، محقق ، مؤرخ ، شاعر اور اردو کے پروفیسر ( وفات : 7 فروری 2000ء)

    1933ء صوبیدار عبدالخالق المعروف پرندہ ایشیاء ، پاکستانی آرمی ریٹائرڈ کھلاڑی جس نے 1954ء کے ایشیائی کھیلوں میں 100میٹر کی دوڑ 10.6 سیکنڈز میں عبور کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا۔ ‘فلائنگ برڈ آف ایشیا’ کا خطاب اسے جواہرلعل نہرو نے دیا۔ (وفات : 10 مارچ 1988ء)

    1935ء ڈاکٹر جگتار ، بھارت سے تعلق رکھنے والے پنجابی شاعر (وفات : 3ہ مارچ 2010ء)

    1945ء احسان مانی ، آئی سی سی کے سابق صدر اور اگست 2018ء سے 27ویں چیئرمین پی سی بی,1948ء وسیم باری ، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی, 1964ء ہوپ ڈیوس ، امریکی اداکارہ, 1972ء سمرتی ملہوترا المعروف اسمرتی ایرانی ، بھارتی فلمی اداکارہ اور سیاست دان

    1973ء میر واعظ عمر فاروق ، مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنما جو عوامی ایکشن کمیٹی کے سربراہ، جامع مسجد کے خطیب اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے اہم رہنما بھی ہیں۔

    1977ء جنید اکبر ، پاکستانی سیاستدان ، وہ (1 جون 2013ء تا 31 مئی 2018ء) قومی اسمبلی پاکستان کے رکن بھی رہے۔

    1987ء کنگنا راناوت ، بھارتی فلمی اداکارہ

    1990ء سونو ، بھارتی فلمی اداکارہ

    1929.نصرت بھٹو کی شہرت ذولفقار علی بھٹو کی دوسری بیوی کے بطور ہے۔ اس کی اولاد بینظیر بھٹو، مرتضی بھٹو، شاہنواز بھٹو، اور صنم بھٹو ہیں۔ نصرت بھٹو نسلاً ایرانی صوبہ کردستان سے تعلق رکھتی ہے۔ بھٹو کو پھانسی کے بعد پیپلز پارٹی کی سربراہ بھی رہی۔ 1996ء میں بینظیر کے حکومتی دور میں مرتضٰی کے ماروائے عدالت قتل کے بعد ذہنی توازن کھو بیٹھی اور اس کے بعد مرنے تک بےنظیر کے خاندان کے ساتھ دبئی میں مقید رہی۔ 23 اکتوبر 2011 ء اتوار کو دبئی میں انتقال کر گئی.

    1983ء – مصلح الدین صدیقی، (پیدائش۔ 1918ء)

    23 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    1369ء پیٹر ، شاہ قشتالہ ، ظالم (ال ظالم) یا صرف (ال Justo) کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ وہ (1350ء تا 1369ء) کاسٹایل اور لیون کا بادشاہ تھا۔ وہ آئیوریا گھرانہ کی مرکزی شاخ کا آخری حکمران تھا۔ (پیدائش : 30 اگست 1334ء)

    1827ء پئیر سیموں لاپلاس، اثر انداز فرانسیسی عالِم تھے، جن کا کام ریاضیات، شماریات، طبیعیات اور فلکیات کی نشوونما میں نہایت اہم تھا۔ وہ تمام وقت کا ایک عظیم ترین سائنس دان سمجھا جاتا ہے۔ (پیدائش : 1749ء)

    1887ء نواب کلب علی خان ، ریاست رام پور کے (21 اپریل 1865ء تا 23 مارچ 1887ء) دسویں نواب رام پور ، نواب یوسف علی خان کا فرزند ، رام پورکی جامع مسجد تعمیر کروائی۔ رضا لائبریری، رام پور کو جدید طرز پر تعمیر کروایا اور رام پور میں کتابوں کا عظیم ذخیرہ جمع کیا۔ نواب کلب علی خان کو عربی اور فارسی زبان میں کافی عبور حاصل تھا اور اسلامی دنیا کے بیشتر نادر مخطوطات اُن کی سعی سے رضا لائبریری، رام پورمیں جمع کیے گئے۔ (پیدائش: 1832ء)

    محمد علی محمد خان محب ، محمود آباد بھارت کے سیاستدان، شاعر اور (28 جون 1903ء تا 23 مارچ 1931ء) راجا محمود آباد (پیدائش: 4 جون 1878ء)

    1959ء بدیع الزماں سعید نوری ، ترک ماہر عالم دین، صوفی و محقق (پیدائش : 1878ء)

    1992ء فریڈریک آگسٹ وان ہایک ، نوبل انعام برائے معاشیات (1984ء) یافتہ آسٹریائی برطانوی ماہر معاشیات، ماہر، فلسفی، عمرانیات و استاد جامعہ ، انہیں یہ انعام سوئیڈش ماہر اقتصادیات گونر مائرڈل کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا۔ (پیدائش: 8 مئی 1899ء)

    2011ء الزبتھ ٹیلر ، برطانوی نژاد امریکی اداکارہ، (پیدائش : 27 فروری 1932ء)

    2015ء ہیری لی کوان یئو ، سنگا پوری وکیل اور سیاست دان، (3 جون 1959ء تا 28 نومبر 1990ء) وزیر اعظم سنگا پور اور (28 نومبر 1990ء تا 12 اگست 2004ء) سینئر وزیر سنگا پور ، وہ پہلے وزیراعظم سنگا پور ہیں جنہوں نے تین دہائیوں تک حکمرانی کی۔ انہیں جدید سنگاپور کا بانی مانا جاتا ہے۔ اور یہ تیسری دنیا سے واحد مثال ہے کہ صرف ایک نسل کو جدید دنیا کے مقابل لا کھڑا کیا۔ (پیدائش : 16 ستمبر 1923ء)

    1843ء۔۔ہوش محمد شیدی۔ہوشو کے والد کا نام سبھاگو اور والدہ کا نام دائی تھا . اس کے بھائی کا نام نصیبو جبکہ بہن کا نام سیتاجی تھا . یہ سندھی نام ہیں جن سے ان کی سندھ سے محبت کی ایک جھلک نظر آتی ہے ہوشو کی پیدائش اور مزار کے حوالے سے متضاد رائے ہیں مگر جو سب سے زیادہ عام ہے وہ ہے کہ ہوش محمد عرف ہوشو شیدی کی پیدائش میر فتح علی ٹالپور کے گھر ہوئی کیونکہ ہوشو شیدی کی والدہ وہاں ملازمہ تھی .

    ہوشو شیدی نے اپنا بچپن میروں کے گھر میں ہی گزارہ اور جب جوان ہوئے تو فوج میں بھرتی ہوگئے .ا س وقت سندھ میں تالپوروں کی حکومت تھی . اور ہوشو کا خاندان تالپوروں کا عقیدت مند اور وفادار تھا .ہوشو اپنی بہادری اور وفاداری کی وجہ سے جلد ہی فوج میں جرنیل کے عہدے تک پہنچ گیا . یہ وہ دور ہے جب میر فتح علی کا بیٹا میر صوبیدار سندھ کا حاکم تھا . سندھ کی خوشحالی دیکھ کر انگریزوں نے سندھ پر.قبضے کا منصوبہ بنایا . اس سلسلے میں انگریزوں نے تالپور حکومت میں سے چند غداروں کو ساتھ ملا کر میر صوبیدار کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور میر صوبیدار کے قریب ہوگئے جب ہوشو شیدی کو انگریزوں کی نیت پر شک ہوا اور اس نے میر صوبیدار کو انگریزوں کے منصوبے کے بارے میں بتایا تو میر صاحب نے اس پر یقین نہیں کیا. 11 جنوری 1843 کو انگریزوں نے ٹالپور حکومت پر شب خون مار دیا اور میانی کی جگہ پر پہلا معرکہ ہوا میر صوبیدار نے کوئی مزاحمت نہیں کی اور انگریزوں نے جلد ہی میر صوبیدار اور دوسرے سرداروں کو قید کرلیا .ہوشو شیدی کے لیے یہ صورتحال بہت تکلیف دہ تھی اس نے اپنے قابل اعتماد دوستوں اور بہادر سپاہیوں کو جمع کرنا شروع کردیا اور 11 مارچ 1843 کو اپنی فوج کو لیکر نکل پڑا 23 مارچ 1843 کو ہوش محمد شیدی کی فوج اور انگریزوں کی فوج کا آمنا سامنا پھلیلی واہ کے قریب ہوا ہوشو نڈر جرنیل تھا وہ نعرہ لگاتے ہوئے مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں انگریز فوج کی صفوں میں گھس گیا اور اپنی دھرتی کی حفاظت کے لیے امر ہوگیا .

    1931ء – بھگت سنگھ، برصغیر کی جنگ آزادی کی ایک مشہور شخصیت ۔بھگت سنگھ 28 ستمبر 1907 کو ضلع لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کے موضع بنگہ میں پیدا ہوئے۔ کاما گاٹا جہاز والے اجیت سنگھ ان کے چچا تھے۔جلیانوالہ باغ قتل عام اور عدم تعاون کی تحریک کے خونیں واقعات سے اثر قبول کیا۔ 1921ء میں اسکول چھوڑ دی اور نیشنل کالج میں تعلیم شروع کی۔ 1927ءمیں لاہور میں دسہرہ بم کیس کے سلسلے میں گرفتار ہوے اور شاہی قلعہ لاہور میں رکھےگیے۔ ضمانت پر رہائی کے بعد نوجوان بھارت سبھا بنائی اور پھر انقلاب پسندوں میں شامل ہوگیے۔ دہلی میں عین اس وقت، جب مرکزی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا انھوں نے اور بے کے دت نے اسمبلی ہال میں دھماکا پیدا کرنے والا بم پھینکا۔ دونوں گرفتار کرلیے گئے۔ عدالت نے عمر قید کی سزا دی۔1928ء میں سائمن کمیشن کی آمد پر لاہور ریلوے اسٹیشن پر زبردست احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس میں لالہ لاجپت رائے زخمی ہو گئے۔ اس وقت لاہور کے سینئر سپرٹینڈنٹ پولیس مسٹر سکاٹ تھے۔ انقلاب پسندوں نے ان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا۔ لیکن ایک دن پچھلے پہر جب مسٹر سانڈرس اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ پولیس لاہور اپنے دفتر سے موٹر سائیکل پر دفتر سے نکلے تو راج گرو اور بھگت سنگھ وغیرہ نے ان کو گولی مارکر ہلاک کر دیا۔ حوالدار جین نے سنگھ کا تعاقب کیا۔ انہوں نے اس کو بھی گولی مار دی اور ڈی اے وی کالج ہاسٹل میں کپڑے بدل کر منتشر ہو گئے۔ آخر خان بہادر شیخ عبد العزیز نے کشمیر بلڈنگ لاہور سے ایک رات تمام انقلاب پسندوں کو گرفتار کر لیا۔ لاہور کے سینٹرل جیل کے کمرۂ عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ بھگت سنگھ اور دت اس سے قبل اسمبلی بم کیس میں سزا پا چکے تھے۔ مقدمہ تین سال تک چلتا رہا۔ حکومت کی طرف سے خان صاحب قلندر علی خان اور ملزمان کی طرف سے لالہ امرد اس سینئر وکیل تھے۔ بھگت سنگھ اور سکھ دیو کو سزائے موت کا حکم دیا گیا اور 23 مارچ، 1931ء کو ان کو پھانسی دے دی گئی۔ فیروز پور کے قریب دریائے ستلج کے کنارے، ان کی لاشوں کو جلا دیا گیا۔ بعد میں یہاں ان کی یادگار قائم کی گئی۔

  • ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد اور اپنے آپ کو قومی مقصد سے آراستہ کرنا ہو گا،وزیراعظم شہباز شریف

    ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد اور اپنے آپ کو قومی مقصد سے آراستہ کرنا ہو گا،وزیراعظم شہباز شریف

    لاہور: ملک بھر میں ’یوم پاکستان‘ بھرپور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے یوم پاکستان کے موقع پر علی الصبح تمام صوبائی دارالحکومت میں 21 جبکہ وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں کی سلامی دی گئی ، ایوان صدر اسلام آباد میں مسلح افواج کی پریڈ کی پُروقار تقریب منعقد ہوگی۔

    باغی ٹی وی: دن کا آغاز نماز فجر کے بعد خصوصی دعاؤں سے کیا گیا جس میں پاکستان اور مسلم امہ کی سالمیت خوشحالی اور ترقی کےلئے دعا کی گی علی الصبح تمام صوبائی دارالحکومت میں 21 جبکہ وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں کی سلامی سے ہوا، توپوں کی سلامی کے بعد جوانوں نے نعرہ تکبیر، اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے پرجوش نعرے بھی لگائے۔

    یومِ پاکستان آج ملی جوش و جذبے سے منایا جائے گا

    پاک فضائیہ کے شاہینوں نے پاکستانی قوم کو سلام پیش کیا، ترجمان پاک فضائیہ نے کہا کہ قراردادِ پاکستان پیش کیے جانے کے 83 سال مکمل ہونے پر ملک ’یوم پاکستان‘ بھرپور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے۔

    مزار اقبال پر 23 مارچ یوم پاکستان کے حوالے سے پاک فضائیہ کی تقریب منعقد کی گئی، ایئروائس مارشل سیدعمران ماجدعلی تقریب کے مہمان خصوصی بنے پاک فضائیہ کے چاک وچوبند دستے نے ستلج رینجرزکی جگہ پر مزاراقبال پرحفاظتی ذمہ داریاں سنبھالیں ایئر کموڈور تنویر احمد بیس کمانڈر پی اے ایف بیس لاہور بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    پاک فضائیہ کے ترجمان نے کہا کہ 23 مارچ 1940 کو تاریخی قرارداد لاہور کے تحت برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لیے علیحدہ وطن حاصل کرنے کا عزم کیا۔ یوم تجدیدِ عہد وفا کی مناسبت سے پاک فضائیہ کے شاہینوں کا پوری پاکستانی قوم کے جذبہ حب الوطنی کو سلام پیش کرتے ہیں پاک فضائیہ کا ہر جوان پاکستان کے دفاع،سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے، پاک فضائیہ کا ہر جوان ملک کی سالمیت کی خاطر کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔

    لاہور میں واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی جبکہ ملک بھر میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے زیراہتمام یوم پاکستان کی مناسبت سے تقریبات منعقد کی جائیں گی پاک فوج کی پریڈ شکر پڑیاں کے بجائے ایوان صدر میں منعقد ہو گی اور روایتی پریڈ محدود پیمانے پر کروانے کا فیصلہ کفایت شعاری پالیسی کے تحت کیا گیا۔

    23 مارچ؛ یوم پاکستان منایا جائے گا

    واضح رہے کہ 23 مارچ 1940 ء کو لاہور میں منظور ہونے والی قرارداد بعد ازاں آزادی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی1938 میں سندھ مسلم لیگ کے اجلاس میں مسلمانوں کیلئے الگ ریاست کا تصور پیش کیا گیا، اس نظریے کو شرکاء کی اکثریت نے منظور کرلیا بعد ازاں اے کے فضل الحق نے اس پر عمل درآمد کی تجویز پیش کردی۔

    قرارداد پاکستان جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا گانہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی تھی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ وہ مطالبہ جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

    23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ جب تک مسلمانوں کو آزاد ریاست نہیں ملتی وہ ہندوستان کے کسی بھی قانون کو ماننے کے پابند نہیں ہوں گے 23 مارچ 1956ء کو پاکستان کا پہلا آئین اپنایا گیا اور یوں مملکت پاکستان پہلا اسلامی جمہوریہ اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا-

    رمضان کا چاند نظر آنے کے بعد سیاسی و سماجی شخصیات کی قوم کو …

    یوپ پاکستان کے موقع پر جاری کئے گئے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا قیام 20 ویں صدی کا ایک معجزہ ہے، 23 مارچ ہماری قومی تاریخ کا عہد ساز دن ہے جو ہمیں ماضی کی یاد دلاتا ہے آج کا دن موجودہ حالات پر غور و فکر کی دعوت اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کی تحریک دیتا ہے، 23 مارچ 1940 کو برصغیر کے مسلمانوں نے علیحدہ وطن کے قیام کی قرارداد منظور کی تھی۔

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہمارے پچھلے 75 سالوں کے سفر نے ہمیں جنگوں سے نبرد آزما ہوتے دیکھا، قدرتی آفات سمیت بہت سے بحرانوں سے لڑتے دیکھا ہے، کئی مواقع ایسے آئے جب ہم نے مشکلات پر قابو پالیا اور کئی سنگ میل حاصل کئے پاکستان نے انسانیت کو درپیش مسائل کے حل اور عالمی امن کے لیے ذمے دار قوم کا کردار ادا کیا، یوم پاکستان پر اپنے بانیوں کی قربانیوں کی خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ہمیں ان چیلنجز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جو ہمارے سامنے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آج ہمیں سیاسی و معاشی عدم استحکام کا سامنا ہے، پاکستان سیاسی و آئینی جدوجہد کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا، پاکستان کا مستقبل آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے میں مضمر ہے پاکستان کا مقدر عظیم کامیابیاں اور بلندیاں حاصل کرنا ہے، ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد اور اپنے آپ کو قومی مقصد سے آراستہ کرنا ہو گا۔

    سابق دبنگ سی پی او لاہور عمر شیخ وفات پاگئے

  • متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کیجانب سے یوم پاکستان کے موقع پر منفرد خراج تحسین،ویڈیو

    متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کیجانب سے یوم پاکستان کے موقع پر منفرد خراج تحسین،ویڈیو

    اسلام آباد: متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کی جانب سے یوم پاکستان کے موقع پاکستان کی قیادت اور عوام کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کی جانب سے 23 مارچ یوم پاکستان کے حوالے سے ایک ویڈیو پیغام شئیر کیا گیا جس میں پاکستان کی عوام کو مقامی زبانوں خراج تحسین اور مبارکباد پیش کی گئی-


    ویڈیو پیغام میں کہا گیا کہ امیر ثقافت اور ورثے کی سرزمین سے لے کر امن، ترقی اور خوشحالی کی سرزمین تک، اسلامی جمہوریہ پاکستان نے جب سے معرض وجود میں آیا ہے شاندار نتائج حاصل کیے ہیں ہم متحدہ عرب امارات کے سفارت خانےاسلام آباد میں 23 مارچ کو قومی دن کے موقع پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قیادت اور عوام کو عاجزانہ خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    بابراعظم کو 23 مارچ کو ستارہ امتیاز سے نوازا جائے گا

    سفارت خانے کی جانب سے پیغام میں کہا گیا کہ ہم مستقبل کےمواقع کے لیے مل کر کام کرتے ہوئے اپنے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کے منتظر ہیں دعا ہے کہ آنے والے سالوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری امن اور خوشحالی سے لطف اندوز ہوتے رہیں۔

    23 مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد کی یاد میں منایا جاتا ہے جس کی روشنی میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا خواب شرمندہ تعبیر کیا۔ یہ قرارداد لاہور منٹو پارک میں پیش کی گئی جہاں اس کی یادگار کے طور پر مینار پاکستان تعمیر کیا گیا۔

    ایشیا کپ2023 :اس بار بھارت سے 2011 کا بدلہ لینا ہے،شعیب اختر

  • پاکستان کا بچہ بچہ آزادی کی جدوجہد میں کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے،پرویز الہیٰ

    پاکستان کا بچہ بچہ آزادی کی جدوجہد میں کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے،پرویز الہیٰ

    اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ نے کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ آزادی کی جدوجہد میں کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے-

    باغی ٹی وی : پرویز الہیٰ نے یوم پاکستان کے موقع پر کہا کہ مسلح افواج اور دفاعی اداروں کی ملک کے لیے قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جبکہ جس جذبے سے قرارداد پاکستان منظور ہوئی اسی کو آج تازہ کرنے کی ضرورت ہے یوم پاکستان قوم کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل دن ہے جبکہ مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو فراموش نہیں جا سکتا۔

    آپ واقعی سفیرکشمیرثابت ہوئے:وزیراعظم عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں پرکشمیری قوم کا خراج تحسین

    مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے یوم پاکستان کے موقع پر کہا کہ انتہا پسندی اور غربت کے خطرات پر قابو پانا ہو گا جبکہ ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہو گا قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

    مونس الہیٰ نے کہا کہ آج ہندو اکثریت کے ظلم اور غلامی سے چھٹکارا حاصل کرنے کا دن ہے اور ہم مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ کشمیری عرصہ دراز سے غیر انسانی لاک ڈاؤن میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

    عدم اعتماد کی تحریک میں ملک کا نقصان نہیں ہو گا،مراد علی شاہ

    گورنر سندھ نے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کے ہمراہ مزار قائد پر حاضری دی بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران اسماعیل نے کہا کہ ڈاکٹر عارف علوی میرے ڈائریکٹ باس ہیں، گورنر راج صدر پاکستان کے ایماء پر لگایا جاتا ہے ، اگر صدر پاکستان کہیں گے تو لگاؤں گا ، لیکن ایسا کچھ ہونہیں رہا۔

    گورنر سندھ نے کہا کہ ایم کیوایم ، ق لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں ، منحرف اراکین نے جو کیا میرے نزدیک وہ غداری ہے ، ایسی قانون سازی ہونی چاہیے کہ وہ ایسی جرات نہ کریں۔

    قذافی اسٹیڈیم میں کھلاڑیوں کی یوم پاکستان منانے کی تصاویر وائرل

    صحافی نے گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سے سوال کیا کہ سیاسی قوتوں کی لڑائی میں اگر جمہوریت کا نقصان ہوا تو کون ذمہ دار ہوگا؟۔ اس کے جواب میں گورنر سندھ عمران اسماعیل نے وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب اشارہ کردیا جبکہ وزیر اعلی سندھ نے جواب دیا کہ اگر آئین پر عمل درآمد کیا جائے تو جمہوریت کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

    ملک بھر میں یوم پاکستان آج ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے،اسلام آباد میں مسلح…

  • عدم اعتماد کی تحریک میں ملک کا نقصان نہیں ہو گا،مراد علی شاہ

    عدم اعتماد کی تحریک میں ملک کا نقصان نہیں ہو گا،مراد علی شاہ

    کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اگلا سال گزشتہ سال سے بہتر ہو گا۔

    باغی ٹی وی : مزار قائد پر حاضری کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک کافی مشکلات سے گزرا ہے اور اب بھی مسائل کا سامنا ہے، آج کے دن ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں کو یاد رکھنا چاہیے، کشمیر میں ظلم اور بربریت جاری ہے، ہم مل کر اپنی سرحدوں اور آئین کا تحفظ کریں گے گورنر صاحب نے درست کہا کہ اگلا سال گزشتہ سال سے بہتر ہو گا۔

    ملک بھر میں یوم پاکستان آج ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے،اسلام آباد میں مسلح…

    مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے کچھ مطالبات رکھے ہیں ان پر ہمیں اعتراض نہیں ہے، مردم شماری کے معاملے پر سندھ کی دیگر جماعتوں نے ہم سے تعاون نہیں کیا، ہم نے بلدیاتی قانون پر بہت سی تجاویز مانی ہیں، بلدیاتی قانون نئی تجاویز کے ساتھ اسمبلی میں پیش ہوا اور کمیٹی کے پاس ہے ہماری ایم کیو ایم کے ساتھ بات ہوئی ہے جو ضروری ہو گا اس پر قانون سازی کریں گے، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بلدیاتی ادارے مضبوط ہوں۔

    سدا خوش رہیں :سلامت رہیں اے اہل وطن: اسکائی ونگزکا یوم 23 مارچ پرقوم کے نام پیغام

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے الیکشن کمیشن کی ڈیڈلائن کے حساب سے بلدیاتی بل پاس کیا، اس بلدیاتی بل پر گورنر نے اپنی تجاویز دیں ہم نے ان کو ٹھیک کر کے دوبارہ پاس کیا-

    بلاول کریں گے درگئی میں جلسے سے خطاب

    وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد آئین کے مطابق جمع کرائی گئی ہے، اس سے پہلے سابق وزیر اعظم بینظیر کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد آئی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گی، ہم یہ چاہتے ہیں یہ ملک آئین کے مطابق چلائیں، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف جب عدم اعتماد پیش ہوا تو چند دنوں میں اس پر ووٹنگ ہوئی تھی، اس عدم اعتماد کی تحریک میں ملک کا نقصان نہیں ہو گا۔

    ضلع بھر میں یوم پاکستان کے حوالے سے پروگرام

    23 مارچ ،وطن سے محبت اور اسلامی ممالک تنظیم او آئی سی، ازقلم :غنی محمود قصوری

  • 23 مارچ ،وطن سے محبت اور اسلامی ممالک تنظیم او آئی سی،   ازقلم :غنی محمود قصوری

    23 مارچ ،وطن سے محبت اور اسلامی ممالک تنظیم او آئی سی، ازقلم :غنی محمود قصوری

    23 مارچ ،وطن سے محبت اور اسلامی ممالک تنظیم او آئی سی

    ازقلم غنی محمود قصوری

    وطن سے محبت اسلام کا حصہ ہے کیوں کہ اگر وطن پیارا و آزاد ہو گا تو آپ اپنی مذہبی رسومات بآسانی انجام دے سکے گے اور آزادی کی زندگی گزار سکیں گے بصورت دیگر مذہبی رسومات کی ادائیگی کے ساتھ شحضی آزادی بھی چھن جاتی ہے یوں تو محض یہ مملکت خداداد پاکستان ہی ہمارا ملک ہے مگر احادیث رسول کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ساری زمین ہی اللہ کی ہے اور ہم مسلمان اللہ کے خاص بندے اور اس ساری زمین پر حق ہمارا ہے-

    جس کی مثال یہ حدیث ہے

    عن النعمان بن بشیرؓ قال: قال رسول اللّٰہ مثل المؤمنین فی توادہم وتراحمہم وتعاطفہم مثل الجسد إذا اشتکی منہ عضوٌ تداعٰی لہٗ سائرُ الجسد بالسہر والحُمّٰی (مسلم)

    ترجمہ۔۔باہمی محبت اور رحم وشفقت میں تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں، جب انسان کے کسی عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے جسم کے تمام اعضاء بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہوجاتے ہیں –

    اسی طرح جب ایک مسلمان آدمی و ملک کو تکلیف پہنچے تو تمام امت کو اس کا درد محسوس ہوتا ہے اور اس درد کو رفع کرنا اپنی بساط کے مطابق ہر ایک شحض و ملک پر فرض ہے-

    اسلام میں ذمیوں، کافروں کے حقوق بھی احادیث سے ثابت ہیں تاکہ وہ بھی عزت و احترام سے رہ سکیں اور اپنی مذہبی آزادی کے ساتھ شحضی آزادی بھی برقرار رکھ سکیں مگر افسوس کہ آج کافر ہم امت مسلمہ پر ہاوی ہیں اور ہم پستی کی زندگیاں گزار رہے ہیں-

    نبی کریم کی اپنے وطن سے محبت کا اندازہ ان احادیث سے لگایا جا سکتا ہے-

    ما أطيبَكِ مِن بلدةٍ وأحَبَّك إليَّ، ولولا أنَّ قومي أخرَجوني منكِ ما سكَنْتُ غيرَكِ. (صحيح ابن حبان عن عبد الله بن عباس، الصفحة أو الرقم: 3709)

    ترجمہ۔۔۔ ہجرت کے موقع پر مکہ کو مخاطب کرکے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے مکہ تو کتنا پاکیزہ اور میرا محبوب شہر ہے، اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی میں کہیں اور نہ رہتا-

    ایک دوسری حدیث میں ہے کہ

    اللَّهمَّ حبِّبْ إلينا المدينةَ كما حبَّبْتَ إلينا مكَّةَ وأشَد. اللَّهمَّ بارِكْ لنا في صاعِها ومُدِّها وانقُلْ وباءَها إلى مَهْيَعةَ. (وهي الجُحفةُ). (صحيح ابن حبان عن عائشة، الصفحة أو الرقم: 5600)

    ترجمہ ۔۔ہجرت کے بعد آپ علیہ السلام نے مدینہ منورہ کے لئے دعا فرمائی کہ اے اللہ مدینہ کی محبت ہمارے دل میں مکہ کی محبت سے زیادہ فرما دے-

    ان احادیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے وطن سے محبت کی بڑی عمدہ مثال ملتی ہے نیز ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اپنے وطن کی توقیر و سلامتی کیلئے ہجرت کی جا سکتی ہے اور کفار کے غلبہ پر ان کا قبضہ ختم کروانے کیلئے جہاد لازمی ہے جیسا کہ نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو چھوڑا مدینہ میں سکونت اختیار کی ایک مضبوط جماعت بنائی اور کفار سے ٹکرا کر اپنے وطن کو فتح کیا انہیں احادیث کو دیکھتے ہوئے ٹیپو سلطان رحمتہ اللہ علیہ نے 1857 کی جنگ آزادی لڑی تھی اور اسی جذبے کے تحت علامہ اقبال و محمد علی جناح نے آزادی کی یلغار بلند کی تھی اور دو قومی نظریہ پیش کیا تھا

    آج 23 مارچ کا دن ہے 1940 کو محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے جو خواب دیکھا تھا ان کے رحلت کے بعد قائد و رفقاء نے اسے 23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں دنیا کے سامنے رکھا اور خوب جدوجہد کی اور أخرکار 14 اگست 1947 کو کم و بیش 16 لاکھ قربانیاں اور لاکھوں ماؤں بہنوں کی عزتوں کی قربانیوں کے بعد یہ ملک ہمیں ملا اور آج اس کی تقریباً چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہےان شاءاللہ یہ وطن تاقیامت رہے گا مگر سارا عالم کفر اس کو توڑنے کے درپے ہے-

    جہاں پاکستان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں وہیں پوری دنیا کے مسلمان ممالک کے خلاف بھی سارا عالم کفر اکھٹا ہے اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے 21 اگست 1969 کو مسجد اقصیٰ پر یہودی حملےکے بعد مراکش کے شہررباط میں او آئی سی نامی اسلامی ممالک کی مشترکہ تنظیم کی بنیاد رکھی گئی تھی-

    اس اورگنائزیشن اسلامک کوپریشن ( او آئی سی) 25 ستمبر 1969 کی کانفرنس کو کامیاب کروانے میں پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم ،سعودی عرب کے شاہ فیصل مرحوم نے کلیدی کردار ادا کیا تھا-

    1974 میں لاہور میں ہونے والی او آئی سی کانفرنس میں مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی اور فلسطینی وزیراعظم یاسر عرفات،سعودی عرب کے شاہ فیصل،یوگنڈا سے عیدی امین،تیونس سے بومدین،لیبیا سے معمر قذافی مصر سے انور سادات ،شام سے حافظ الاسد ،بنگلہ دیش سے شیخ مجیب الرحمن ،ترکی سے کورو فخری سمیت دیگر اسلامی ممالک کے وفد نے شرکت کی تھی-

    اب ایک بار پھر مملکت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 57 اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے 44 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور کچھ کے دیگر اعلی عہدیداران موجود ہیں جن کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے اور یہ ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے
    ان شاءاللہ اس کانفرنس میں 23 مارچ 1940 کی طرز پر پیش کئے گئے دو قومی نظریہ کی طرح امت مسلمہ کیلئے نظریات پیش کئے جائینگے جس کیلئے ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی امت مسلمہ کی اس تنظیم سے زیادہ سے زیادہ امت مسلمہ کی بقاء و سلامتی کا کام لے

    آمین

  • سدا خوش رہیں :سلامت رہیں اے اہل وطن: اسکائی ونگزکا یوم 23 مارچ پرقوم کے نام پیغام

    سدا خوش رہیں :سلامت رہیں اے اہل وطن: اسکائی ونگزکا یوم 23 مارچ پرقوم کے نام پیغام

    اسلام آباد:سدا خوش رہیں :سلامت رہیں اے اہل وطن: اسکائی ونگزکا یوم 23 مارچ پرقوم کے نام پیغام ،اہل پاکستان کوفضائی سفر کی سروسز فراہم کرنے والے قومی ادارے اسکائی ونگز نے 23 مارچ کے اس مبارک دن پر قوم کو مبارکباد پیش کی اور اس بات کاعہد کیا کہ یہ وطن ہمارا ہے اور ہم نے ہی اس کی حفاظت کرنی ہے ، جس کے لیے ہم تیار ہیں ، ہم حاضر ہیں ، ہمارا سب کچھ اس وطن پرقربان

     

    پاکستان کے قومی فضائے ادارے اسکائی ونگز کے ترجمان عمران اسلم خان نے اپنے ادارے کی طرف سے اہل وطن کو مبارکباد کا پیغام دینے کے ساتھ ساتھ یہ عزم کیا کہ کمپنی ہوابازی اور سیاحت کی صنعت کو نئی سطحوں پر فروغ دینے کے لئے کام کرے گی۔

     

    اسکائی ونگز یہ عہد بھی کرتا ہے کہ وہ اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کی اقدار کو برقرار رکھے گا جیسا کہ بابائے قوم "قائد اعظم” محمد علی جناح نے تصور کیا تھا۔

    اسکائی ونگز اس موقع پر اسلامی وولرلڈ کے وزرائے خارجہ کا خیرمقدم بھی کرتی ہے جو وزرائے خارجہ کے 48 ویں او آئی سی سربراہ اجلاس میں شرکت کرتے ہیں۔

     

    مسلم دنیا کے لئے یہ اتنا بڑا موقع ہے کہ وہ ایک بار پھر متحد ہو جائے اور 1970 کی دہائی کی یادیں تازہ کر دے جب سابق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو نے شاہ فیصل بن عبدالعزیز اور کرنل قذافی کے ساتھ مل کر امت مسلمہ کو متحد کیا تھا۔

     

     

    دنیا اب ایک جیسی نہیں رہی، سرد جنگ کا دور 1990 کی دہائی میں ختم ہو چکا تھا، یہ بھی یک قطبی نیو نہیں ہے اور نئی صف بندیاں کی جا رہی ہیں، لہذا، یہ مسلم ممالک کا بلاک بنانے اور اسے کثیر قطبی بنانے کا ایک اچھا موقع ہے۔

    مسلم اتحاد زندہ باد اور پاکستان زندہ باد.

     

    عمران اسلم خان

  • ملک بھر میں یوم پاکستان آج ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے،اسلام آباد میں مسلح افواج کی پریڈ جاری

    ملک بھر میں یوم پاکستان آج ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے،اسلام آباد میں مسلح افواج کی پریڈ جاری

    ملک بھر میں آج یوم پاکستان ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے،یوم پاکستان کے موقع پر آج ملک بھر میں عام تعطیل ہے-

    باغی ٹی وی :وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے شکر پڑیاں پریڈ گراؤنڈ میں یومِ پاکستان کی مرکزی تقریب منعقد کی گئی، جس میں صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم عمران خان، پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ شریک ہوئے-

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ندیم رضا، نیول چیف ایڈمرل اجمل خان نیازی،وزیرِ دفاع پرویز خٹک اور ایئر مارشل ظہیر احمد بابر بھی یومِ پاکستان کی مرکزی تقریب میں شامل ہوئے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کو بھی یومِ پاکستان پریڈ میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔

    صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی آمد پر خصوصی بگل بجایا گیا، اس کے بعد قومی ترانہ پڑھا گیا جس کے احترام میں تقریب کے تمام شرکاء کھڑے ہو گئے۔
    https://twitter.com/AyeshaMalickPTI/status/1506496852606259203?s=20&t=qUUkcFzKkJjsp1qAp19uPQ
    قومی ترانے کے بعد تلاوتِ قرآن پاک ترجمے کے ساتھ پریڈ گراؤنڈ کی فضاؤں میں گونجنے لگی صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خصوصی جیپ میں سوار ہو کر مسلح افواج کا معائنہ کیا۔


    ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ نے سلامی پیش کی جدید ترین جے 10 سی جنگی طیاروں نے فلائی پاسٹ کیا، شاندار فضائی مظاہرے میں جے ایف 17 تھنڈر، ایف 16 اور دیگر جنگی طیارے شامل رہے۔

    صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باہمی اتحاد اور تعاون سے تمام چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے گا پاکستان تمام ممالک کے ساتھ امن چاہتا ہے، ہم نے آزادی کے تحفظ کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں ہم نے اندرونی اور بیرونی سازشوں پر کامیابی حاصل کی اور کرتے رہیں گے ہم نے علمائے کرام کے ساتھ مل کر کورونا وائرس کی وباء کا مقابلہ کیا ہمارے سب ادارے جمہوریت کے استحکام اور قانون کی بالا دستی چاہتے ہیں۔

    اس سال یومِ پاکستان کی مرکزی پریڈ کی تھیم ’شاد رہے پاکستان‘ رکھی گئی، یہ دعائیہ تھیم قومی ترانے کے حصے ’مرکزِ یقین شاد باد‘ سے لی گئی پریڈ میں تینوں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دستوں نے حصہ لیا۔

    پریڈ میں آرمرڈ کور، آرٹلری اور ایئر ڈیفنس انجینئرز کے دستے دشمن پر ہیبت طاری کرنے والے سامانِ حرب کے ساتھ حصہ لیا، ایس ایس جی کے کمانڈوزنے فری فال کا مظاہرہ کیا-

    میزائل، یو اے وی پاکستان کے ناقابل تسخیر دفاع کی علامت کے طور پر پریڈ کا حصہ بنے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ثقافتی فلوٹس نے بھی تقریب کو چار چاند لگایا او آئی سی کے فلوٹ کو یومِ پاکستان کی پریڈ میں خصوصی طور پر شامل کیا گیا –

    یومِ پاکستان کے موقع پر پر سربراہِ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اپنا پیغام جاری کیا ہے۔

    اپنے پیغام میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا ہے کہ 23 مارچ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے23 مارچ کو مسلمانانِ برصغیر نے پہلی بار باضابطہ علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا یومِ پاکستان آباؤ اجداد کی آزادی کے لیے قربانی اور طویل جدوجہد کی علامت ہے اس سال یومِ پاکستان خصوصی اہمیت کا حامل ہے، قوم پریڈ کے موقع پر جے 10 سی جہاز کا مظاہرہ دیکھے گی۔

    سربراہِ پاک فضائیہ نے یہ بھی بتایا کہ جے 10 سی طیارے حال ہی میں پاک فضائیہ کا حصہ بنے ہیں، جو ہماری جدت پر مبنی پالیسی کا شاہکار ہیں۔

    آج دن کا آغاز توپوں کی سلامی سے ہوا، جبکہ نماز فجر کے بعد ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں پاکستان میں بسنے والی اقلیتیں بھی یوم پاکستان بھرپورطریقے سے منا رہی ہیں، گرجا گھروں، مندروں اورگوردواروں میں بھی ملکی سلامتی اور امن و امان کے لیے خصوصی دعائیں کی جا رہی ہیں۔

    تمام سرکاری و نجی عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے گئے ہیں، پاک فوج کی طرف سے وفاقی دارالحکومت میں 31جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21،21توپوں کی سلامی دی گئی۔

    یومِ پاکستان پر مسلح افواج کی پریڈ کی اہم تقریب آج اسلام آباد میں ہوئی،جس میں صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، مسلح افواج کے سربراہان اور دیگر اہم سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات اور غیر ملکی مہمانوں نے شرکت کی پریڈ میں تینوں مسلح افواج کے دستوں نے حصہ لیا پریڈ میں آرمرڈ کور، آرٹلری اور ایئر ڈیفنس انجینیرز کے دستے دشمن پر ہیبت طاری کرنے والے سامانِ حرب کے ساتھ حصہ لیں گے اور ایس ایس جی کے کمانڈوز فری فال کا مظاہرہ کیا۔

    کراچی میں قائد اعظم جبکہ لاہورمیں مزاراقبال پرگارڈزکی تبدیلی کی پروقارتقریب منعقد ہوئی، جہاں پر پر ستلج رینجرز کی جگہ پاک فضائیہ کا چاک و چوبند دستہ اعزازی گارڈز کے فرائض سنبھالے جس میں مہمان خصوصی ایئر وائس مارشل زبیر حسن خان ایئر آفیسر کمانڈنگ پی اے ایف ایئرمین اکیڈمی کورنگی کریک نے شرکت کی، مہمان خصوصی ایئر وائس مارشل زبیر حسن خان نے مزار اقبال پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔

    واضح رہے کہ 23 مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں منظور کی گئی جلاس کے دوران شیر بنگال مولوی فضل الحق نے قرارداد پیش کی قرارداد کی یاد میں منایا جاتا ہے جس کی روشنی میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا خواب شرمندہ تعبیر کیا یہ قرارداد لاہور منٹو پارک میں میں پیش کی گئی جہاں اس کی یادگار کے طور پر مینار پاکستان تعمیر کیا گیا منٹوپارک کے مقام پرآج گریٹراقبال پارک موجود ہے۔

    قرارداد کا اردو ترجمہ مولانا ظفر علی خان نے کیا۔ اس کی تائید میں خان اورنگ زیب خان، حاجی عبداللہ ہارون، یگم مولانا محمد علی جوہر، آئی آئی چندریگر، مولانا عبدالحامد بدایونی اور دوسرے مسلم اکابرین نے تقاریر کیں تقاریر کے بعد مسلمانوں کےلیےعلیحدہ وطن کی قرارداد منظور کرلی گئی جسے قرارداد لاہور کا نام دیا گیا۔ بیگم محمد علی جوہر نے تقریر میں قرارداد کوپہلی بارقرارداد پاکستان کہا۔

    قرارداد میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان کےوہ علاقے جو مسلم اکثریتی اورجغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہیں ان کی حد بندی ایسے کی جائے کہ وہ خود مختارآزادمسلم ریاستوں کی شکل اختیار کرلیں۔

    قرارداد کے مطابق جن علاقوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں انہیں آئین کے تحت مذہبی، قافتی، سیاسی، اقتصادی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کے تحفظ کی ضمانت دی جائے کیونکہ ہندوستان کا موجودہ آئین مسلمانوں کے حقوق پورے نہیں کرتا قرارداد پاکستان کے 7 برس بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کرہ ارض پر وجود میں آیا اور پوری آب و تاب کے ساتھ چمکا۔

    وزیراعظم عمران خان نے یوم پاکستان کی مناسبت سے جاری اپنے پیغام میں کہا کہ 23 مارچ تخلیق پاکستان کے حقیقی مقاصد انصاف اور مساوات پر کاربند رہنے کے ہمارے عزم کی تجدید کا دن ہے، آج ہم بابائے قوم اور تحریک آزادی کے ان تمام رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے بے مثال قربانیوں کے ذریعے قوم کو متحد کرنے کی جدوجہد کی۔

    عمران خان نے کہا کہ نوجوانوں کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان ایک طویل جمہوری جدوجہد سے معرض وجود میں آیا اور اب اس کے استحکام اور ترقی کی کلید سخت محنت ، دیانتداری اور اخلاقیات میں مضمر ہے، یہ دن مناتے ہوئے ہمیں قائد اعظم محمد علی جناح کے دیئے ہوئے سنہری اصولوں ایمان ، اتحاد اورتنظیم پر کاربند رہنے کی ضرورت ہے، ہمیں خود کو ریاست مدینہ کی طرز پر ملک کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنانے کیلئے وقف کرنا چاہیے۔

    وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مجھ سمیت تمام پاکستانیوں کو ملک کے عظیم بانیان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے یوم پاکستان کی مناسبت سے جاری اپنے پیغام میں کہا کہ یوم ِ پاکستان برصغیر کی تاریخ میں کئی حوالوں سے اہم دن ہے، 1940ء میں اس دن مسلمانوں نے ’’جداگانہ انتخاب‘‘ کی بجائے ’’علیحدہ ریاست‘‘ کا مطالبہ کیا۔

    ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ’اس دن مسلمانوں نے انگریزوں پر واضح کر دیا کہ کانگریس مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت نہیں، اس دن مسلمانوں نے واضح کیا کہ برصغیر کی تقسیم میں مزید تاخیر نہیں کی جا سکتی، ہمارا فرض ہے کہ ہم قوم کیلئے بروقت اور دانشمندانہ سیاسی فیصلے لینے والے بانیوں کو خراج عقیدت پیش کریں۔

    صدر مملکت نے کہا کہ ’وقت نے مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے مطالبے کو سیاسی طور پر درست ثابت کیا ہے، جموں و کشمیر، بھارت میں مسلمانوں کی صورت حال واضح ثبوت ہیں کہ متحدہ ہندوستان میں ہندو اکثریت کے رحم و کرم پر مسلمانوں کا کیا حشر ہوتا، ہمیں مختلف قومیتوں اور اقلیتوں کو ایک قوم میں یکجا کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش تمام چیلنجز پر اجتماعی کوششوں سے قابو پایا جا سکتا ہے، وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایک معاشی طور پر مضبوط اور خوش حال ملک بن جائے گا، ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے مل کر قومی اتحاد اور سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

  • آئی ایس پی آر نے 23 مارچ پر ملی نغمہ  "شاد رہے گا پاکستان ” جاری کر دیا

    آئی ایس پی آر نے 23 مارچ پر ملی نغمہ "شاد رہے گا پاکستان ” جاری کر دیا

    پاک فوج نے 23 مارچ کے موقع پر منفرد انداز میں تیار کیا گیا ملی نغمہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب ست سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر”شاد رہے پاکستان” کے عنوان سے نغمہ جاری کیا گیا –

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری ملی نغمہ "شاد رہے پاکستان” 4 منٹ پر محیط ہے جس میں ملکی افواج کے علاوہ کراچی سے لیکر خیبر تک پاکستان کے خوبصورت شہروں، نیلگوں سمندر، کھیت کھلیانوں، پہاڑی سلسلوں اور برف پوش پہاڑوں کو دکھایا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کئے گئے نغمے کے بول ہیں تیری میری ہے اک پہچان شاد رہے یہ پاکستان، گونج رہی یہ آواز شاد رہے یہ پاکستان، ڈی جی آئی ایس پی آر نے ٹویٹ کیا ہے کہ شاد رہے پاکستان۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق نغمہ "شاد رہے پاکستان” قوم کے متحد اور خوشحالی کی راہ پر ثابت قدم رہنے کے عزم کا جشن ہے۔ اس ترانے میں پاکستان کے پرچم کو ہمیشہ بلند ہوتے دیکھنے کی قومی امنگ شامل ہے۔ یہ نغمہ اس ارضِ پاک کے نام ایک ایسی دعا ہے جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز بن کر اعلان کر رہا ہے ملک آنے والے تمام وقتوں کے لئے ترقی کرے-

    یہ نغمہ پاکستان کو پرامن اور ترقی کی روشن راہ پر گامزن رکھنے کے عزم سے ہم آہنگ ہے۔

    پاکستان کے معروف کمپوزر شجا ع حیدر نے اس نغمے کو نہ صرف لکھا ہے بلکہ اس کی خوبصورت دُھن بھی ترتیب دی ہے جبکہ یشل شاہد اور شجاع حیدر نے اس نغمے کو گایا ہے اس ورکے ڈائریکٹر یاسر جسوال ہیں۔

    یوم پاکستان پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم دن ہے اس دن۔یعنی 23 مارچ 1940 کو قرارداد پاکستان پیش کی گئی تھی۔ قرارداد پاکستان جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا گانہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی تھی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی وہ مطالبہ جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرا اس دن "23 مارچ” پورے پاکستان میں عام تعطیل ہوتی ہے۔

    اور 23 مارچ 1956ء کو پاکستان کا پہلا آئین کو اپنایا گیا مملکت پاکستان پہلا اسلامی جمہوریہ اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا۔