Baaghi TV

Tag: 26 ویں آئینی ترمیم

  • عدلیہ کو اس منصب پر بٹھایا اس لیے ہے کہ انصاف کریں، علی امین گنڈاپور

    عدلیہ کو اس منصب پر بٹھایا اس لیے ہے کہ انصاف کریں، علی امین گنڈاپور

    اسلام آباد:وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہم 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف تھے اور آئندہ بھی رہیں گے۔

    وفاقی دارالحکومت میں ہائیکورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں، آپ کو اس منصب پر بٹھایا اس لیے ہے کہ آپ انصاف کریں،26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ہم تھے اور رہیں گے، ہم عدلیہ کو کہتے ہیں کہ آپ انصاف پر فیصلے دیں، آج ہمیں 5 تاریخ کے لیے پیشی ملی ہے، کس طرح سے یہ لوگ پاکستان کے آئین و قانون کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں، عمران خان کے ساتھ ہم تھے ہیں اور رہیں گے۔

  • ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بد امنی اور لاقانونیت ہے، سراج الحق

    ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بد امنی اور لاقانونیت ہے، سراج الحق

    پشاور: سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ قوم میں اشتعال اور مایوسی پائی جاتی ہے، اس مایوسی اور اشتعال کو ختم کرنے کا واحد راستہ ایک قومی جرگہ ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر ان سے رہنمائی لی جائے۔

    باغی ٹی وی : جامعہ علوم اسلامیہ ایبٹ آباد میں دستار بندی و تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب کے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ آرمی چیف اور وزیر اعظم تمام سیاسی جماعتوں، قومی رہنماؤں اور دانشوروں کو بٹھاکر مسائل کا حل ڈھونڈیں، سب کو احتجاج اور دھرنے دینے کا آئینی حق حاصل ہے، نہ میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہیں نہ ہی جلسے، جلوس اور دھرنوں پر پابندی کی حمایت کرتے ہیں، جمہوری ملکوں میں ان چیزوں کی اجازت ہوتی ہے۔

    سراج الحق نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بد امنی اور لاقانونیت ہے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں آگ لگی ہے، روز لاشیں گر رہی ہیں فورسز کے اہلکاروں، سویلینز اور مزدوروں کو شہید کیا جا رہا ہے، بلوچستان میں فورسز پر حملوں اور باجوڑ میں جماعت اسلامی کے ضلعی سیکرٹری جنرل کے قتل کی مذمت کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بد امنی اور بدحالی کا ذمہ دار کون ہے، حکمران معیشت کو ٹھیک کر سکے نہ امن بحال کر سکے لوگوں کو روزگار دے سکتے ہیں نہ لوڈ شیڈنگ ختم کر سکتے ہیں نہ ہی بچوں کو معیاری تعلیم دے سکتے ہیں تو حکمران آخر کیا کر سکتے ہیں حکمرانوں کا وی آئی پی کلچر اور اقتدار کے مزے لوٹنے کے علاوہ کوئی کام نہیں۔

    سراج الحق نے کہا کہ حکمران امن قائم نہیں کرسکتے تو حکومت چھوڑ دیں نئی حکومت کے ہنی مون کے دن گزر گئے لیکن قوم کو امن کا تحفہ نہیں دے سکے امن پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا 26 ویں آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کرتے، یہ ترمیم عوام یا ملک کے فائدے کے لیے نہیں یہ حکومت نے اپنے مفادات کے لیے کی ہے یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی نے 26 ویں آئینی ترمیم کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔

  • شرجیل میمن نے 26ویں ترمیم کو بلاول بھٹو  کا دور اندیش اقدام قرار دیا

    شرجیل میمن نے 26ویں ترمیم کو بلاول بھٹو کا دور اندیش اقدام قرار دیا

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے 26 ویں آئینی ترمیم کو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا دور اندیش اقدام قرار دیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کی طرح 26 ویں آئینی ترمیم پاکستانی سیاسی منظر نامے میں ایک انقلابی قدم ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی دور اندیشی قابلِ رشک اور قابلِ تعریف ہے، ترمیم کو حقیقت بنانے میں ان کی قیادت اور لگن بہت اہم رہی۔ان کا کہنا تھا کہ 26 ویں آئینی ترمیم چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی محنت اور کوششوں سے ہی ممکن ہوئی، بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کو ایک روشن، زیادہ مساوی مستقبل کی طرف رہنمائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا اقدام مزید مساوی اور متحد پاکستان کو فروغ دے گا، 26 ویں آئینی ترمیم سے وفاق مزید مضبوط اور متحد ہو گا اور صوبوں کو مساوی نمائندگی ملے گی۔سندھ کے سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ 26 ویں آئینی ترمیم ایک زیادہ جامع اور منصفانہ معاشرے کی تعمیر میں مدد کرے گی، جس سے پوری قوم مستفید ہو گی، جمہوریت مزید مستحکم ہوگی اور تمام شہریوں کے حقوق کی ضمانت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس آئینی ترمیم کا مقصد تمام صوبوں کے لیے بہتر نمائندگی کو یقینی بنانا، جمہوریت اور انصاف کو مضبوط کرنا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک کو ایک روشن، زیادہ مساوی مستقبل کی طرف لے جایا ہے، جہاں جمہوری اداروں خصوصاً پارلیمنٹ کو مضبوط کیا جائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نظام انصاف میں مساوی نمائندگی سے متعلق دیرینہ مسائل حل ہوجائے گا، جمہوریت مزید مضبوط ہو گی۔

    دفاعی نمائش ’آئیڈیاز 2024‘ 19 سے 22 نومبر تک کراچی میں منعقد ہو گی

    قائداعظم ٹرافی ، لاہور وائٹس،ڈیرہ مراد جمالی،حیدرآباد،سیالکوٹ اور بہاولپور کی کامیابی

    کراچی: غیر ملکیوں کو پولیس وردی میں ملبوس ڈاکوؤں نے لوٹ لیا، وزیراعلی کا نوٹس

    شہرقائد میں سمندری ہوائیں بحال، موسم آج بھی گرم اور مرطوب

    وزیر داخلہ سندھ کی زیر صدارت اجلاس، چائنیز شہریوں کی سیکیورٹی کا جائزہ

  • بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن کو پی ٹی آئی نے پارلیمانی پارٹی اجلاس سے باہر نکال دیا

    بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن کو پی ٹی آئی نے پارلیمانی پارٹی اجلاس سے باہر نکال دیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسلم گھمن کو پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے باہر نکال دیا گیا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پارٹی رہنماؤں نے اسلم گھمن کو آئینی ترامیم پر حکومتی حمایت کے ان کے فیصلے کے حوالے سے پارٹی کی تحقیقات سےآگاہ کیا، انہیں بتایا گیا کہ شکوک و شبہات دور ہونے تک وہ اجلاس میں نہیں بیٹھ سکتے۔پارٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مطابق اسلم گھمن نےآئینی ترامیم پر حکومتی حمایت کا فیصلہ کیا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پی ٹی آئی نے پارٹی ہدایات کی خلاف وزرزی پر اپنے 4 اراکین کو شوکاز نوٹس جاری کیے تھے، شوکاز نوٹس شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی، اسلم گھمن، مقداد علی اور ریاض فتیانہ کو جاری کیےگئے تھے۔نوٹس پارٹی ہدایت کی خلاف ورزی پرجاری ہوئے تھے، پارٹی ہدایت کے مطابق تمام اراکین پارلیمنٹ کو آئینی ترمیم کی حمایت سے منع کیا گیا تھا، پی ٹی آئی نے چاروں اراکین قومی اسمبلی سے 7 روز میں شوکاز نوٹس کا جواب طلب کیا تھا۔

    ساری رات ڈانس کروانا اور ہاتھ میں تسبیح پکڑ کر پھیرنا، کیا یہ اخلاقیات ہے؟عبدالقادر پٹیل

    غیر ملکی کوچز لگانے کافائدہ کیا ہے؟سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالرؤف کی باغی ٹی وی سے گفتگو

    سندھ میں اب انڈسٹریز کا پہیہ چلے گا، ملازمتیں بھی ملیں گی

  • 26ویں آئینی ترمیم ایک دن بعد ہی سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج

    26ویں آئینی ترمیم ایک دن بعد ہی سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج

    حال ہی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد قانون کی شکل اختیار کر جانے والی 26ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ آف پاکستان اور سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے جہاں درخواست میں ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محمد انس نامی شہری نے وکیل عدنان خان کے ذریعے درخواست دائر کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے 26ویں آئینی ترمیم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست میں وفاق کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کو عدالتی امورپر تجاویز دینے کا اختیار نہیں ہے۔انہوں نے درخواست میں 26ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔ادھر 26ویں آئینی ترمیم کو سندھ ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا ہے۔عدالت عالیہ میں درخواست الٰہی بخش ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم پاس کرکے عدلیہ کی آزادی اور رول آف لا کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔انہوں نے درخواست میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175۔اے میں ترمیم کر کے سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی میں انتظامیہ کی مداخلت بڑھا دی گئی ہے اور اس قسم کی ترمیم عدلیہ کی آزادی اور عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت کرنا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ آئینی ترمیم کی سیکشن 8، 11 اور 14 کالعدم قرار دی جائیںدرخواست میں سکریٹری کیبنٹ ڈویژن، سیکریٹری لا اینڈ جسٹس اینڈ پارلیمانی افیئرز و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔گزشتہ ماہ سے حکمران اتحاد آئینی ترامیم کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے پارلیمان میں سیاسی جماعتوں سے بھرپور لابنگ کرنے میں مصروف تھا جہاں ان ترامیم میں بنیادی توجہ عدلیہ پر مرکوز تھی۔اس دوران کئی دن تک جاری مشاورت میں اپوزیشن جماعتوں بالخصوص مولانا فضل الرحمٰن کو منانے کا سلسلہ جاری رہا اور حکومت کوشش کے باوجود بھی اس ترامیم کو ایوان میں سے منظور کرانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔تنازع کی ایک بڑی وجہ ایک مجوزہ وفاقی آئینی عدالت تھی، جس کی پی ٹی آئی نے مخالفت کی اور مولانا فضل الرحمٰن نے اس کے بجائے آئینی بینچ کے قیام کا مطالبہ کیا جسے بعدازاں مسودے کا حصہ بنا لیا گیا۔اس سلسلے میں فیصلہ کن پیشرفت گزشتہ ہفتے ہوئی جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مولانا فضل الرحمٰن کو منانے میں کامیاب رہے جنہوں نے ترامیم کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کو قائل کیا۔اتوار کو بالآخر کابینہ سے 26ویں آئینی ترمیم کا پیکج منظور ہونے کے بعد اسے سینیٹ اور پھر قومی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔وزیر اعظم نے ترامیم کو منظوری کے لیے صدر مملکت کے پاس ارسال کیا جنہوں نے گزشتہ روز 26ویں آئینی ترمیم کے گزیٹ پر دستخط کر کے اسے قانون کی شکل دے دی۔ان ترامیم میں سب سے اہم بات چیف جسٹس کے تقرر کے طریقہ کار میں تبدیلی ہے جہاں پہلے سپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالتے تھے تاہم اب اسے تبدیل کردیا گیا ہے۔نئے طریقہ کار کے تحت چیف جسٹس کی تقرری سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججوں میں سے کی جائے گی اور قومی اسمبلی اور سینیٹ کے حکومتی اور اپوزیشن اراکین پر مشتمل 12 رکنی کمیٹی اس کا حتمی فیصلہ کر کے نام وزیر اعظم کو بھیجے گی۔اس کے حوالے سے ترامیم میں آئینی بینچز کے قیام کے ساتھ ساتھ ججوں کی کارکردگی اور فٹنس کو جانچنے کے حوالے سے شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔

    آئینی ترمیم کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں زبردست اضافہ، بُلند ترین سطح پر

    توشہ خانہ ٹو کیس: ایف آئی اے نے بشریٰ بی بی کی ضمانت کی مخالفت کردی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیمبر ورک پر چلے گئے، فیصلے تحریر کریں گے

    زیادتی کی جھوٹی خبر معاملہ، طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ گرفتار