Baaghi TV

Tag: 27 اکتوبر

  • بھارتی افواج کےظُلم نے ناپاک عزائم کا پردہ چاک کر دیا ہے، خالد مقبول صدیقی

    بھارتی افواج کےظُلم نے ناپاک عزائم کا پردہ چاک کر دیا ہے، خالد مقبول صدیقی

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کشمیر میں بھارتی افواج کے قبضے کے ظالمانہ 77 سال مُکمل ہونے پر مذمت اور کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپنے جاری کردہ مذمتی بیان میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ دورِ جدید میں جب دُنیا کائنات کے رازوں کو افشاء کرنے کی تگ و دو میں مصروف عمل ہے تب لاکھوں شہریوں کو حق خوارادیت سے محروم کیا جانا اور اُن کا معاشی تعلیمی استحصال کرکے اُنہیں گھروں میں قید رکھنا ظالمانہ سوچ کی عکاس ہے اِس ظالمانہ تسلط نے بھارت کے نام نہاد سیکولر ریاست ہونے کے دعوے کی بھرپُور نفی کر دی ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ بھارت کا اقوامِ متحدہ کی قرادادوں کو نظر انداز کرکے اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہنا عالمی امن کے ٹھیکیداروں پر زوردار طمانچے کے مترادف ہے بھارتی افواج نے حُریت پسند رہنماؤں اور کشمیری عوام پر جو ظُلم ڈھا رکھا ہے اُس نے بھارتی سرکار کے ناپاک عزائم کا پردہ چاک کر دیا ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اقوامِ عالم سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر اور فلسطین سمیت تمام مقبوضہ علاقوں کے سلب حقوق واپس دلوانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں ورنہ تاریخ کے اوراق میں اِس سلوک ناروا پر آپ کی حیثیت بھی مشکوک قرار دی جائے گی۔

    بلاول کا کشمیر کے مظلوم عوام کیلئے حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

    کراچی میں کارروائی کے لیے جانیوالا پولیس انسپکٹر اغوا

    بھارت بے پناہ وسائل کے باوجود کشمیریوں کو زیر کرنے میں ناکام ہوچکا ہے، غلام محمد صفی

  • بلاول کا کشمیر کے مظلوم عوام کیلئے حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

    بلاول کا کشمیر کے مظلوم عوام کیلئے حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کشمیریوں کی جانب سے یومِ سیاہ منانے کے موقع پر ایک بار پھر کشمیر کے مظلوم عوام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    میڈیا سیل بلاول ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین پی پی پی نے اپنے پیغام میں بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں اور بنیادی حقوق و آزادی کا مطالبہ کرنے والے کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ ان کا حق خودارادیت، جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے، ایک انسانی حق ہے جسے کسی بھی ظلم و جبر سے چھینا نہیں جا سکتا۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس دیرینہ بحران کو حل کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کرے تاکہ خطے میں انصاف، امن اور آزادی قائم ہو سکے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کے کشمیر کاز کے لیے بھرپور عزم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے بانی، قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کا کشمیر کے لیے بے مثال وژن آج بھی مشعل راہ ہے اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی عالمی سطح پر کشمیر کے لیے جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اپنے پہلے دور صدارت میں انہوں نے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا اور کشمیری عوام کے حقوق کی بھرپور وکالت کی۔
    انہوں نے مزید کہا کہ صدرمملکت آصف علی زرداری اس مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے آج بھی پوری استقامت کے ساتھ پرعزم ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے تمام پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے آگے آئیں، کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اور کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کے فریم ورک کے مطابق کشمیر کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے کوششیں کریں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی کشمیریوں کی قربانیوں کو تسلیم کرنے اور ان کی آواز کو قومی و بین الاقوامی سطح پر بلند کرنے کے لیے ہمیشہ پرعزم رہے گی۔

    کراچی میں کارروائی کے لیے جانیوالا پولیس انسپکٹر اغوا

    بھارت بے پناہ وسائل کے باوجود کشمیریوں کو زیر کرنے میں ناکام ہوچکا ہے، غلام محمد صفی

    ایم ڈی کیٹ کا دوبارہ انعقاد ،بد انتظامی و نا اہلی کی انتہا ہے ، منعم ظفر خان

  • 27-اکتوبرپاکستان ایک اہم شخصیت سے محروم ہوگیا

    اسلام آباد:تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور 27 اکتوبرکا دن بھی تاریخ کے پاکستان کی تاریخ کا اہم دن پھر دہرا دیا دیا . اسی دن پاکستان کے ایک سابق صدرغلام اسحاق خان قضائے الٰہی سے وفات پاگئے ، غلام اسحاق خان 20 جنوری 1915ء کو اسماعیل خیل بنوں میں پیدا ہوئے تھے۔

    پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس سی کرنے کے بعد 1940ء میں انہوں نے صوبہ سرحد کی سول سروس سے اپنے شاندار کیریئر کا آغاز کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ صوبہ سرحد کے ہوم سیکریٹری، سیکریٹری محکمہ خوراک، صوبائی ترقیات کے سیکریٹری اور کمشنر ترقیات رہے۔ ایسے ہی کئی اور عہدوں پر خدمات انجام دینے کے بعد یکم فروری 1961ء کو انہیں واپڈا کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔

    وہ اس عہدے پر 11 اپریل 1966ء تک فائز رہے۔ انہوں نے وفاقی سیکریٹری مالیات، گورنر اسٹیٹ بنک اور سیکریٹری دفاع کے عہدوں پر بھی خدمات انجام دیں۔ 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے انہیں سیکریٹری جنرل انچیف مقرر کیا۔ یہ عہدہ وفاقی وزیر کے عہدے کے برابر تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور ہی میں وہ وزیر خزانہ بھی رہے۔

    مارچ 1985ء میں وہ سینٹ آف پاکستان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ 17 اگست 1988ء کو فضائی حادثہ میں جنرل ضیاء الحق کی ناگہانی موت کے بعد انہوں نے پاکستان کے قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالا۔ 12 / دسمبر 1988ء کو وہ پاکستان کے مستقل صدر منتخب ہوئے، وہ اپنے اس عہدے پر 19 جولائی 1993ء تک فائز رہے۔ انہوں نے اگست 1990ء اور اپریل 1993ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی حکومتوں کو رخصت کیا اور یوں اپنے کیریئر کے آخری زمانے میں وہ ایک متنازع شخصیت کی شکل میں سامنے آئے۔

    صدارت کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد انہوں نے اپنی عمر کا بقیہ حصہ پشاور میں بسر کیا۔27 اکتوبر 2006ء کو پشاور ان کا انتقال ہوگیا اور وہ پشاور ہی میں یونیورسٹی ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔حکومت پاکستان نے انہیں ہلال پاکستان اور ستارۂ پاکستان کے اعزازات سے نوازا تھا