Baaghi TV

Tag: 35-A

  • پاکستان نے کشمیریوں کیلئے دعاؤں کا پیغام بھجوایا ۔۔۔ وقاص احمد

    پاکستان نے کشمیریوں کیلئے دعاؤں کا پیغام بھجوایا ۔۔۔ وقاص احمد

    بھارتی راجیہ سبھا میں بی جے پی صدر /وزیر داخلہ امیت شاہ کی طرف ایک قرارداد پیش کی گئی جس کی حمایت میں125 ووٹ جبکہ مخالفت میں 61 ووٹوں کے ساتھ پاس کرکے سمری بھارتی صدر کو بھیج دی گئی جسے دستخط کرکے مقبوضہ وادی کشمیر میں آرٹیکل 35-A منسوح کرکے مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارت میں ضم اور کشمیر کا اسپیشل ریاستی سٹیٹس ختم کر دیا گیا،
    واضح رہے کہ بھارت اسرائیل کے نقش قدم پر چل کر اب وہاں آبادی کا تناسب تبدیل کررہا ہے جہاں پہلے ہزاروں فوجی کالونیاں بناکر ہندووں پنڈتوں کو آباد کیا گیا،اب رہے سہے کشمیریوں کو ایل او سی کے آس پاس کے علاقوں میں دھکیل کر ان کو مہاجر یا اقلیت ظاہر کر کے کشمیر پر مستقل قبضہ مسلط کر لے گا،
    اور اس طرح ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مسئلہ کشمیر کو خاموش کر دیا جائے گا
    واضح رہے قرارداد پیش کرنیوالا وہی بدنام زمانہ امیت شاہ ہے جس نے الیکشن میں مودی سرکار کی کامیابی کیلئے کشمیر میں خودکش حملہ کروا کہ اپنے ہی چالیس فوجی جوانوں کی قربانی کا بکرا بنا دیا تھا، اس کے علاوہ تمام غیر قانونی کاموں مساجد پر حملے،مسلمان کا قتل ،دلتوں ،سکھوں کے مقدس مقامات پر قابض ہوکر مندروں میں تبدیل کرنے کیلئے حکومتی سطح پر بھی امیت شاہ کی خدمات لی جاتی ہیں،
    کشمیر کی صورتحال دن بہ دن مزید بگڑتی جارہی ہے ،شبیر شاہ کے علاوہ یسین ملک شدد علالت میں تہاڑ جیل میں قید ہیں،سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق ،آسیہ اندرابی سمیت تمام حریت لیڈر نظر بند ہے ،پوری وادی میں کرفیوں نافذ ہے،گزشتہ چار دن سے کشمیریوں کو گھروں میں محصور رکھا ہوا،پیٹرول ادویات ،اشیأ ضروریات زندگی میں شدید قلت کا سامنا ہے اس صورتحال میں جہاں پاکستان کشمیریوں کا واحد وکیل اور سہارا سمجھا جاتاتھا اب یہ ایٹمی پاکستان سر سبز گرین پاکستان اور خطہ میں اکنامک ٹائیگر بننے کے خواب سجائے اپنی دھن میں مگن اپنے فارن منسٹر کو جلتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی مدد کے لیئے فریضہ حج پر بھیج کر وہاں سے کشمیریوں کیلئے خصوصی دعاؤں کا پیغام بھجوایا گیا ہے،

    کشمیریوں نے پاکستان پر ہونے والے بھارتی حملوں کو اپنے اوپر لیتے ہوئے پاکستان کی خاطر جان کی بازیاں لگا دی کشمیر اصل میں اپنی ہی نہیں بلکہ پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں،اور انہیں یہ قربانیاں دینے میں ایک بار لغزش نہیں آئی،بلکہ وہ اسے اپنا مذ ہبی فریضہ سمجھتے ہوئے شھادت نوش کرتے ہیں،
    ایک دفعہ کشمیریوں کی مدد کیلئےبات گئ کہ جن کشمیریوں کے گھروں ،بستیوں اور باغات کو انڈین آرمی نے کیمکل ہتھیار استمعال کرتے ہوئے آگ لگا دی ان کی مدد کیلئے کچھ امداد پاکستان سے بجھی جائے،تو جب یہ پیغام کشمیریوں تک پہنچا تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے امداد لینے سے انکار کر دیا کہ ہماری قربانی اللہ کی رضا کی خاطر ہے اور یہ امداد لینے سے دکھاوا اور لالچ سے ہماری قربانیاں رائیگاں نہ چلی جائیں،
    آرٹیکل 35-A کی منسوحی سے جہاں کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ گرائے گئےتو یہاں محب وطن پاکستانیوں میں شدید غم و غصہ ہے،
    جبکہ حکومت پاکستان اس معاملے میں مکمل طور پر بے حِس دکھائی دیتی ہے بیانات اور واضح پالیسی کی بجائے ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے
    جبکہ معتبر حلقوں میں یہ بازگشت جارہی ہے پاکستانی حکمرانوں کی مرضی کے بغیر انڈیا اتنا بڑا فیصلہ نہیں لے سکتا،اگر تو یہ بات درست تو عمران خان صاحب یہ آپ کی بیک چینل ڈپلومیسی کسی کشمیری اور پاکستانی کیلئے قابل قبول نہیں اورنہ ہی یہ پاکستان کے لئیے نیک شگون ثابت ہوگی،
    وزیر اعظم عمران خان صاحب ہمیں بھی سر سبز گرین پاکستان چاہیے مگر کشمیر کے بغیر نہیں ،
    شاہ محمود قریشی صاحب اللہ نے آپ کو حج کی سعادت نصیب فرمائی مگر کشمیر بھائیوں کیلئے تو مساجد میں نماز پر پابندی لگا دی گئی،
    آپ حج پہ دعا ضرور کریں مگر کشمیری بہنوں کی عزتیں کو تار تار ہونے سے بھی بچائیں،
    آرمی چیف صاحب آپ کور کمانڈ کانفرنس ضرور بلائیں مگر اعلامیہ نعرہ تکبیر ہونا چاہیے

  • کشمیر پر بھارتی تسلط اور 35-A کا قانون ۔۔۔محمد عبداللہ گل

    کشمیر پر بھارتی تسلط اور 35-A کا قانون ۔۔۔محمد عبداللہ گل

    کشمیر پر انڈیا کا غاصبانہ اور جابرانہ قبضہ ہے۔قبضے سے قبل کی تاریخ کا مطالعہ کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر پر ڈوگرا راج تھا۔انڈیا کے آئین میں جموں کشمیر کی خصوصی شہریت کے حق سے متعلق دفع 35-A کا مسئلہ کشمیر سے بھی پرانا ہے۔ اس قانون کی رُو سے جموں کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیرمنقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا، یہاں نوکری حاصل نہیں کرسکتا اور نہ کشمیر میں آزادانہ طور سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔یہ قوانین ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے سنہ 1927 سے 1932 کے درمیان مرتب کیے تھے اور ان ہی قوانین کو سنہ 1954 میں ایک صدارتی حکمنامہ کے ذریعہ آئین ہند میں شامل کرلیا گیا۔انڈیا کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) گذشتہ 70 سال سے کشمیر سے متعلق انڈین آئین میں موجود اُن تمام حفاظتی دیواروں کو گرانا چاہتی ہے جو جموں کشمیرکو دیگر بھارتی ریاستوں سے منفرد بناتی ہیں۔ مثال کے طور پرجموں کشمیر کا اپنا آئین ہے اور ہندوستانی آئین کی کوئی شق یہاں نافذ کرنی ہو تو پہلے مقامی اسمبلی اپنے آئین میں ترمیم کرتی ہے اور اس کے لیے اسمبلی میں اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے۔آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے کے لیے بھارتی کوششیں آخر کیوں؟؟ اس سوال کا جواب یہ ھے کہ جس طرح فلسطین یروشلم پر اسرائیل نے قبضہ کیا تو کچھ سال بعد اس کی قانونی حثیت ختم کی اور ادھر اپنا سفارت خانہ قائم کر لیا۔اسی طرح بھارت بھی کشمیر کی قانونی حثیت ختم کرنا چاہتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ قانون ختم ہو جاتا ہے تو بھارت ایک حربہ استعمال کرے گا وہ یہ کہ کشمیر میں کثیر تعداد میں ہندو متین کر دے گا اور جیسا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں کشمیر میں استصواب رائے کا ہے تو یہاں کشمیری عوام اکثریت میں پاکستان سے الحاق چاہتی ہے تو جب وہ اپنے نمائندے متین کرے گا وہ بھی کثیر تعداد میں تو استصواب رائے کا فیصلہ بھارت کے حق میں ہو جائے گا۔میں حیران ہوں جب میں نے تحریر کے لیے ریسرچ کی تو سامنے آیا کہ آرٹیکل 35 اے کو بنانے کے پیچھے جو نظریہ تھا وہ یہ تھا کہ کشمیر کا تعلق لاہور، سیالکوٹ ،گوجرانوالہ سے بھرپور تھا جب ہندو پنڈتوں نے دیکھا کہ مسلمان ادھر کشمیر میں دوسرے علاقوں سے آنا شروع ہو گئے ہیں تو ان کو خطرہ لاحق ہوا کہ ہم تو صرف 2 سے 3 فیصد ہے اگر باہر سے بھی مسلمان آنا شروع ہو گے تو ہمارا اقتدار، ہمارا ہٹ دھرمی والا قبضہ ختم نہ ہوجائے اب 2019 کو دیکھ کے بے جے پی کا نریندر مودی جس کو بھی یہ ہی خطرہ لاحق ہو گیا ہے کہ جس طرح اب بین الاقوامی سطح پر مسلہ کشمیر اجاگر ہو چکا ہے۔اگر کشمیر میں استصواب رائے شروع ہو گئی تو میرا تو کام خراب ہو جائے گا میرے ہاتھوں سے تو کشمیر پھسل کر پاکستان سے مل جائے گا ۔اسے بھی پتہ ہے کی کشمیر کو بالآخر آزادئ ملنی ہی ملنی ہے میرا یہ ہٹ دھرمی والا قبضہ ختم ہونا ہے ۔اس لیے ہاتھ پاوں مار رہا ہے۔اس کے بعد اگر دیکھے تو بھارت نے 10 ہزار مزید فوج وادی کشمیر میں بھیج دی ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اب تک تقریبا 10 لاکھ کے قریب بھارت کی فوج ایک چھوٹے سے خطے میں موجود ہے۔کیا یہ اقوام متحدہ کو نظر نہی آ رہا۔غیر مسلم ممالک کا کوئی کتا بھی مر جائے تو قوانین آ جاتے ہیں ادھر ہمارے کشمیری مظلوم اور غیور مسلمانوں پر انڈین مظالم کی انتہا ہے۔اب تک سینکڑوں نہی ہزاروں نہی لاکھوں کو انڈین آرمی اپنے ظلم و ستم کا شکار کر چکی ہے۔میرا سوال ہے کدھر اقوام متحدہ ہے ،کیا سلامتی کونسل سو گئی ،کہاں گئے انسانی حقوق، کہاں گئی بین الاقوامی وہ تنظیمیں اور ادارے جو آزادی پسند ہے۔اقوام متحدہ کا رویہ نا قابل برداشت ہے۔وہ کشمیری عوام پاکستان کو پکار رہی ہے ۔پاکستان کو چاہیے یہ مسلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کریں