Baaghi TV

Tag: 35A

  • دو قومی نظریہ اور آزادی کی قدر و قیمت ۔۔۔ تحریر : سلیم اللہ صفدر

    دو قومی نظریہ اور آزادی کی قدر و قیمت ۔۔۔ تحریر : سلیم اللہ صفدر

    تاریخ شاہد ہے کہ ملکوں کی جنگ ہفتوں نہیں مہینوں نہیں…. سالوں تک چلتی ہے. اور ہمارے وہ اسلاف جن کی کہانیاں ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں چاہے وہ محمد الفاتح ہوں، محمود غزنوی یا سلطان ایوبی … یہ تمام فاتحین جب بھی جنگ شروع کرتے تھے تو عمریں گزر جاتیں تھیں تب جا کر قسطنطنیہ، سومنات کے مندر، یروشلم( مسجد اقصی) جیسی فتوحات حاصل ہوتیں تھیں .

    اگر یہی فاتحین ایک وقت میں زیادہ دشمنوں سے لڑائی کریں تو کسی مخصوص علاقے کی فتح اور زیادہ دور چلی جائے.

    چلیں چھوڑیں میں ان کی بات نہیں کرتا جو پانچ وقت کی بجائے سات وقت (تہجد، اشراق ) کے نمازی تھے اور ان کا ایمان بہت ہی زیادہ… ہماری سوچ سے زیادہ مضبوط تھا. میں تو پاکستان اور پاک فوج کی بات کرتا ہوں جن میں پانچ وقت کے نمازی بھی مشکل سے ہوں گے . واللہ اعلم

    پاکستان نائن الیون سے لیکر گزشتہ سال تک حالت جنگ میں رہا. کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ تو کبھی تکفیریوں، خارجیوں کے خلاف. اس سال اسے کچھ سانس ملا تو اس نے چوروں کو اکٹھا کر کے احتساب شروع کر کے معیشت مضبوط کرنے کی کوشش کی …اور ساتھ ہی عالمی برادری سے تعلق مضبوط بنانے کے لیے اور اپنے آپ کو امن پسند و شریف ثابت کرنے کے لیے آزاد کشمیر میں رہنے والے کشمیری مجاہدین کے ہاتھ روک دئیے.

    اسی دوران بھارت میں انتخابات ہوئے تو مودی نے یہ وعدہ دے کر ووٹ حاصل کیے کہ دوبارہ وزیر اعظم بن گیا تو میں کشمیر کے معاملے کو حل کر کے چھوڑوں گا. ایک طرف مجاہد محصور… دوسری طرف بھارتی حکومت آزاد….! اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے کشمیر میں جارحانہ اقدام اٹھا لیا. جو لوگ بصیرت رکھتے تھے وہ پہلے ہی کہتے تھے کہ مودی نے کشمیر کے معاملے پر کوئی نہ کوئی فیصلہ کن کارنامہ سرانجام دے ہی دینا ہے. اور ایسے کارنامے مسلمانوں کے حق میں بہتر ہوا کرتے ہیں. (اگر مجاہدین کے ہاتھ بندھے ہوئے نہ ہوتے تو بھی مودی حکومت یہی فیصلہ کرتی بھارتی عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے کے مطابق )

    اب جب بھارتی حکومت نے کام کر ہی دیا تو پاکستان بھلا کیا کر سکتا تھا. ایک حل یہ تھا جس کا مطالبہ کیا جاتا رہا کہ مجاہدین آزاد کر دو کشمیر بھی آزاد ہو جائے گا لیکن اس صورت میں بات صرف کشمیر کی نہیں ایف اے ٹی ایف کی بھی تھی. مجاہدین آزاد کرنے کی صورت میں پاکستان عالمی برادری میں تنہا رہ جاتا. اور جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کہ فی الحال اتنا ایمان نہیں کہ صرف اللہ کی ذات پر یقین کر کے دہلی پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کے لیے مجاہدین کو دوڑا دیا جاتا. اور اگر دوڑا دیا جاتا تو اس ایمان اور وسائل کے ساتھ مجاہدین جا کر مودی کی گردن تو اتار لیتے شاید… لیکن مودی کے تخت پر بیٹھ کر فیصلہ تبدیل کروانا ممکن نہیں تھا.

    پھر یہی فیصلہ کیا گیا کہ آخری حد تک جانا چاہیے اور آخری ممکنہ حد یہی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ساری دنیا کے سامنے ڈنکے کی چوٹ پر پیش کیا جائے… ساری دنیا سے پوچھا جائے کہ اگر کشمیر واقعی بھارت میں شامل ہونا چاہتا ہے تو دو دن سے نیٹ سروس کیوں بند ہے…. ساری دنیا کو دکھایا جائے کہ کشمیر کی گلیوں میں بھارت کا حصہ بن جانے کے بعد سبز ہلالی پرچم لہرائے جاتے ہیں کہ ترنگے… اور اس کے بعد ساری دنیا کے سامنے کشمیر پر ہونے والے ظلم کی کہانی بیان کی جائے تا کہ دنیا کو پتہ چل جائے کہ پہلے جو بھارت الزام لگاتا تھا کہ پاکستان نے آزاد کشمیر میں فریڈم فائیٹر بٹھا رکھے ہیں وہ الزام غلط ہے اور فریڈم فائیٹر نہ ہونے کے باوجود کشمیری پھر بھی دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں.

    کشمیر یقیناً پاکستان کی شاہ رگ ہے… اور اس کی سلامتی یقیناً پاکستان کی سلامتی ہے. بات یہ نہیں کہ شہہ رگ دشمن کے حوالے کر دی گئی… وہ تو پہلے ہی دشمن کے ہاتھوں میں تھی. بات یہ ہے کہ پہلے دشمن نے شہہ رگ دبوچی ہوئی تھی اب دشمن کہتا ہے کہ یہ شاہ رگ میری ہے تمہاری نہیں. اور اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم عالمی برادری کو سمجھائیں کہ یہ شہہ رگ ہماری ہے بھارت کی نہیں.

    اب صورتحال یہ ہے کہ بھارت کی انتہائی کوشش کے باوجود عالمی عدالت میں پاکستان پر کوئی الزام نہیں کہ وہ فریڈم فائٹر کو آگے لا رہا ہے. پاکستان عالمی برادری میں تنہا نہیں ہونا چاہتا اور ہر حد تک جانے کے لیے تیار بھی ہے. یعنی پاکستان اپنا سافٹ ایمیج سب کے سامنے رکھ کر دنیا کو بتا رہا ہے کہ کشمیر میری خواہش ضرور ہے(دو قومی نظریہ کی وجہ سے ) لیکن میں زبردستی نہیں چھین رہا بلکہ شہہ رگ خود زور لگائے گی.

    جو احباب افغان مجاہدین کا موازنہ پاکستانی فوج یا پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ کر رہے ہیں ان سے مودبانہ گزارش ہے کہ علاقائی و جغرافیائی موازنہ بھی کر لیں. افغانستان میں بیس کیمپس ، افغانیوں کے گھر اور میدان جنگ ایک ہی جگہ پر ہیں … اور بات مجاہدین کے لیے فائدہ مند ہے. کشمیر میں مجاہدین کے بیس کیمپ پہلےتو تھے نہیں اور اگر چند ایک تھے تو وہ بھی میدان جنگ سے انتہائی فاصلے پر. جو لوگ تحریک آزادی کے ساتھ تھوڑا بہت لگاؤ رکھتے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کشمیر میں بیس کیمپ سے میدان جنگ تک کا سفر کتنا طویل اور کتنا پرکٹھن ہے.

    اس کے علاوہ افغانیوں کا بچہ بچہ راکٹ لانچر، کلاشنکوف چلانے میں ماہر ہے لیکن کشمیری بھائیوں میں جرات و شجاعت کی اتنی اور ایسی زبردست لہر برہان وانی کی شہادت کے بعد پیدا ہوئی جس نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیاتھا . بہر حال بیس کیمپ جو پہلے تھے اب نہیں رہے… تمام کشمیری قیادت جیل میں ہے. تو ایسی صورت میں افغانیوں سے کشمیریوں یا پاکستان کا موازنہ کرنا سراسر ناانصافی ہے

    اب آخری بات کہ پاکستان نے اس معاملے کو ستر سال تک کیوں لٹکائے رکھا تو اس کی وجہ یہی تھی کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اس لیے دنیا کے سامنے سٹینڈ نہیں لے سکا کیونکہ 1947 میں کشمیری مسلمان قیادت نے دوقومی نظریہ کو سائیڈ پر رکھ بھارت کا ساتھ دے دیا اور اسی وجہ سے اس وقت سے اب تک پاکستان دفاعی پوزیشن پر رہا . جب کشمیری حکومت خود انڈیا کے ساتھ ہو گئی تھی تو بین الاقوامی قوانین کے مطابق پاکستان کی پوزیشن کمزور ہو گئی.

    لیکن دو قومی نظریہ کی بنیاد پر اس نے کشمیریوں کا ساتھ پھر بھی نہیں چھوڑا. اور کیسا اور کہاں کہاں ساتھ دیا اس کا جواب میں نہیں دے سکتا کشمیر کی گلیوں میں لہراتے پاکستان پرچم بتا سکتے ہیں. اب جب کہ تمام حریت قیادت(سب اس وقت جیل میں ہیں یعنی بھارت کے پے رول پر نہیں ) کے ساتھ ساتھ محبوبہ مفتی بھی سمجھ چکی ہیں کہ عافیت دو قومی نظریہ میں ہی تھی تو پاکستان بھی اب مکمل طور پر سامنے آئے گا اور انہیں عافیت دینے کی مکمل کوشش کرے گا. اور اس بار اس کی لڑائی صرف بھارت سے ہو گی… نام نہاد مسلمانوں یا غداروں سے نہیں. اور دو قومی نظریہ ہی ان شا اللہ اس بار کشمیر کی آزادی کا فیصلہ کرے گا.

    پاکستان اپنی شہہ رگ بچانے کے لیے محدود وسائل اور محدود ایمان کے ساتھ زور لگا رہا ہے اور لگاتا رہے گا لیکن شاہ رگ کس کی ہے اس کا فیصلہ شہہ رگ اب خود کرے گی… شاہ رگ سے بہتا ہوا خون کرے گا اور یہ فیصلہ کیا ہو گا یہ وقت بتائے گا. باقی جہاں تک بات ہے بھارت سے جنگ کر کے کشمیر فتح کرنے کی تو جتنی بار کوشش اور جتنا وقت ہمارے اسلاف نے کسی ایک ملک کو فتح کرنے میں لگایا… اتنا تو لگ ہی سکتا ہے. بس ذرا کشمیریوں کو سنبھلنے کا موقع دے دیں…. کہ یہ شہہ رگ اپنے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے.

    فی الحال تو اس شہہ رگ کی طرف سے( چند بناوٹی وڈیوز اور پکچرز کے علاوہ) صرف ایک ہی کنفرم ٹویٹ سامنے آئی ہے.

    جب انٹرنیٹ سروس بحال ہو گی تب پتہ چلے گا کشمیر کی گلیوں اور شہداء کی قبروں پر کون سا پرچم لہرا رہا ہے. دور سے اور سالوں سے آزادی کے سبز باغ دکھانے والے پاکستان کا پرچم یا ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو قتل کرنے کے بعد انہیں گھر، سہولیات اور وسائل مہیا کرنے کے وعدے دینے والا ہندوستانی ترنگا…. !

  • کشمیر ۔ امرناتھ یاترا اور 35A ۔۔۔ عبدالرب ساجد

    کشمیر ۔ امرناتھ یاترا اور 35A ۔۔۔ عبدالرب ساجد

    ایک طرف پاکستان کی جانب سے کشمیر پر اٹھنے والی ھر آواز پابند ھے۔۔۔ کشمیریوں کے نعروں کا جواب دینے والا اب کوئی نہیں رھا۔۔۔ سیاسی طور پر چئیرمین کشمیر کمیٹی مشہور زمانہ "شہد والی سرکار” جو شاید زیادہ شہد پی بیٹھے ھیں۔۔۔ اور کشمیر پر بات کرنے کے لئے نہ میڈیا تیار ھے نہ عوام۔۔۔ دو روز قبل بھارت کی جانب سے ایل او سی پر ھونے والی فائرنگ کی خبر ھمارے میڈیا کی زینت بن سکی، نہ سیاسی ایوانوں میں کہیں اسکا ذکر مناسب سمجھا گیا ھے۔۔۔ اور شاید ستو یا شہد پینا اب راولپنڈی میں بھی عام ھو گیا ھے۔۔۔

    انکل ٹرمپ نے ھمارے خان صاحب کو کشمیر پر ثالثی کی آفر تو کر دی ھے، مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ لیجئے۔۔۔

    انڈیا کی قومی سلامتی کا مشیر اجیت دووال اور انکا وزیر داخلہ امیت شاہ پچھلے 4 ماہ سے کشمیر کو اپنا دوسرا گھر بنائے ھوئے ھیں۔۔۔ انڈین میڈیا کے مطابق 27 جولائی سے کشمیر میں 10 ھزار تازہ دم فوجیوں کے دستے کشمیر میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ھے، جبکہ درحقیقت یہ تعداد کم ازکم 25 ھے۔۔۔ محکمہ ریلوے اور دیگر سرکاری محکموں میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا ھے۔۔۔ اور اگلے 4 ماہ تک چھٹیاں منسوخ اور راشن سٹور کرنے کی ھدایات جاری کر دی گئی ھیں۔۔۔

    تمام حریت راھمنا نظر بند یا جیلوں میں ھیں۔۔۔ جمون کشمیر کے پانچوں ایس پیز کو فی الفور اپنے علاقوں کی تمام مساجد کا ڈیٹا جمع کرنے کا ٹاسک دیا گیا ھے۔۔۔
    بھارتی سرکار کے مطابق یہ سب کچھ 15 اگست (بھارت کے یوم آزادی) اور امرناتھ یاترا کی سیکیورٹی کے مدنظر کیا جارھا ھے۔۔۔

    درحقیقت 15 اگست پر ھر سال کشمیری سرینگر سمیت پورے جموں کشمیر میں سبز ھلالی پرچم لہرا دیتے ھیں، جبکہ اس سال بڑے پیمانے پر سرکاری سطح پر انڈین پرچم لہرانے کے بندوبست کیے جارھے ھیں۔۔۔

    جموں میں امرناتھ کے مقام پر ہندوؤں کا ایک بڑا اھم مندر ھے، جسکا راستہ ایک بڑے پہاڑی غار سے ھوکر جاتا ھے۔۔۔ جو سارا سال برف کی وجہ سے ڈھکا رھتا ھے اور گرمیوں میں یہ راستہ کھلتا ھے تو ھزاروں ھندو اسکی یاترا کے لئے جمع ھوتے ھیں۔۔۔ 1989 تک اس یاترا میں 10 سے 12 ھزار ھندو آیا کرتے تھے۔۔۔ 1991 سے 1996 تک حرکت المجاھدین کی دھمکی کی وجہ سے یہ یاترا بند رھی اور اسکے بعد مسلسل تقریبا ھر سال یہ یاترا مجاہدین کے نشانے پر رھی۔۔۔ بھارتی سرکاری سرپرستی کے سبب یاتریوں کی تعداد میں ھر سال اضافہ ھوتا رھا اور 2017 میں یہ تعداد 6 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔۔۔ ویسے تو یکم جولائی سے 15 اگست تک 45 دن اس ایونٹ کے لئے مختص ھیں۔۔۔ مگر اس سال 4 اگست کو امرناتھ یاترا کا سرکاری اعلان کیا گیا ھے۔۔۔

    20 دسمبر 2018 کو 6 ماہ کے لئے جموں کشمیر میں صدارتی حکم یا گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا۔۔۔ اور 3 جولائی کو اسے مزید 6 ماہ کے لئے نافذ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ھے، جو خلاف قانون بھی ھے۔۔۔ اسمبلیاں تحلیل اور سیاسی سیٹ اپ نہ ھونے پر دونوں سابق چیف منسٹرز پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ مسلسل الیکشنز کا مطالبہ بھی کررھے ھیں اور موجودہ صورتحال پر احتجاج کناں بھی ھیں۔۔۔

    تقسیم کے وقت سے ھی دونوں اطراف کے کشمیر کی خصوصی حیثیت برقرار رکھی گئی تھی، جسکے تحت 4 شعبوں دفاع، خزانہ، خارجہ، اور اطلاعات کے علاوہ کشمیر اپنے لئے قانون سازی میں خود مختار ھوگا۔۔۔
    اسی لئے 1949 میں ایک ترمیم کے تحت انڈین آئین میں آرٹیکل 370 شامل کیا گیا۔۔۔ جس کے تحت بھارت سرکار کو اپنا کوئی بھی قانون کشمیر میں لاگو کرنے کے لئے کشمیری حکومت سے اجازت لینا ھوگی۔۔۔
    آرٹیکل 370 کی ایک شق 35A کے تحت کشمیر میں سوائے کشمیریوں کے کوئی دوسرا شہری مستقل رھائش اختیار نہیں کر سکتا۔۔۔ 2019 کے الیکشن میں بی جے پی کے ایجنڈے میں سرفہرست اسی آرٹیکل کا خاتمہ تھا۔۔۔ اور کشمیریوں کے بقول اب ساری منصوبہ بندی اسے قانون کے خاتمے کے لئے کی جارھی ھے۔۔۔

    مگر کیوں۔۔۔؟

    امرناتھ یاترا کے بڑے پیمانے پر بندوبست اور 35A کے خاتمے کے پیچھے صرف ایک مقصد ھے کہ کسی طرح اسرائیلی یہودیوں کی طرح پورے بھارت سے ھندوؤں کو لاکر جموں و کشمیر میں بسایا جائے۔۔۔ اور بالخصوص جموں کو ھندو اکثریت کے نام پر ھندو سٹیٹ بنا دیا جائے۔۔۔ اور مسلمان اپنی ھی زمین پر بے گھر ھو جائیں یا قیدی۔۔۔

    بقول محبوبہ مفتی: "کشمیر میں بارود کو آگ لگائی جا رھی ھے۔۔۔” اب دعاؤں کے سوا اور کوئی ھتھیار بچا بھی نہیں ھے ھمارے پاس۔۔۔!

    اے اللہ۔۔۔! مظلوم کشمیریوں کی مدد و نصرت فرما۔۔۔
    دشمن کی چالوں کو نیست و نابود فرما۔۔۔
    ھمارے حکمرانوں کو عقل و دانش عطا فرما۔۔۔