Baaghi TV

Tag: 6 ستمبر

  • یوم دفاع پاکستان کے موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل نہیں ہوگی

    یوم دفاع پاکستان کے موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل نہیں ہوگی

    یوم دفاع پاکستان کے موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل نہیں ہوگی۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں سال بھی 6 ستمبر یوم دفاع پاکستان کے موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل نہیں ہوگی ،کل یوم دفاع پاکستان ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جائے گا ملک بھر میں تقریبات منعقد ہوں گی مقررین دفاع پاکستان کی اہمیت اور شہدائے 6 ستمبر کو زبردست خراج عقیدت پیش کریں گے۔

    یومِ دفاع ہر سال 6 ستمبر کو پاکستان میں بطور ایک قومی دن منایا جاتا ہے 6 ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والا قابلِ فخردن ہے جب کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے سے پڑوسی ملک پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کر دیا۔

    موسمیاتی تبدیلیاں پھیپھڑوں کے امراض سے متاثرافراد کیلئے خطرہ بڑھا رہی ہیں،تحقیق

    اس چھوٹے مگر غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملہ کا اس پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے بین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی۔ جارحیت کرنے والا وہ بڑا ملک ہندوستان اور غیور و متحد چھوٹا ملک پاکستان ہے 1965ء کی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ثابت ہوا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر ہی لڑتی اور جیت سکتی ہیں۔

    آئی سی سی ورلڈ کپ:جنوبی افریقا نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا

    6ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والا قابلِ فخردن ہے جب کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے سے پڑوسی ملک پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کر دیا۔ اس چھوٹے مگر غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملہ کا اس پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی-

    افغان انجینئرز نے70سے زائد طیاروں کی مرمت کرکے انہیں دوبارہ پرواز کے قابل بنا دی

  • بشری انصاری نے میجر ریٹائرڈ آفتاب لودھی کو ٹریبیوٹ پیش کیا

    بشری انصاری نے میجر ریٹائرڈ آفتاب لودھی کو ٹریبیوٹ پیش کیا

    ورسٹائل اداکارہ بشری انصاری نے اپنے انسٹاگرام اکائونٹ پر ایک وڈیو شئیر کی ہے جس میں وہ اپنے بھائی میجر ریٹائرڈ آفتاب لودھی اور بھابھی شاہدہ آفتاب کے سامنے بیٹھی ہوئی ہیں . بشری انصاری اس وڈیو میں اے وطن کے سجیلے جوانوں گا رہی ہیں، یہ نغمہ بشری انصاری پرفیکٹ انداز میں گا رہی ہوں انہوں نے میرے وطن کے سجیلے جوانوں نغمہ پورا گایا . اور اپنے بھائی کا آخر میں شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ شکریہ بھائی آپ نے پاکستان کی بہت مخدمت کی ہے. بشری انصاری نے اس وڈیو کا کیپشن کچھ یوں لکھا ” میرے بھائی میجر ریٹائرڈ آفتاب لودھی کو میں ٹریبیوٹ پیش کرتی ہوں میرے بھائی نے دو جنگیں لڑیں میری بھابھی شاہدہ آفتاب جنہوں نے نیوی کو سرو کیا ہے . میں 6 ستمبر کے موقع پر اپنے بھائی اور

    بھابھی کو پیار بھرا ٹریبیوٹ پیش کرنا چاہتی ہوں. بشری انصاری نے یہ بھی لکھا کہ ہم اپنے ملک کی مسلح افواج کو سلام پیش کرتے ہیں یہ لوگ حقیقی معنوں میں وطن کی خدمت کررہے ہیں. اس وڈیو کے نیچے بشری انصاری نے مداحوں نے ان کی آواز کی بہت زیادہ تعریف کی ہر کسی نے لکھا کہ آپ نے بہت خوبصورت انداز میں نغمہ گایا ہے .ایک صارف نے لکھا کہ آپ کی آواز نغمہ ، بالکنی سب بہت خوبصورت ہے. یاد رہے کہ بشری انصاری ہر فن مولا فنکارہ ہیں وہ گائیگی بھی کر لیتی ہیں اور ہر قسم کی اداکاری بھی.

  • 1965 کی جنگ چونڈہ کا محاذ اور یوم دفاع منانے کا مقصد — نعمان سلطان

    1965 کی جنگ چونڈہ کا محاذ اور یوم دفاع منانے کا مقصد — نعمان سلطان

    "چونڈہ” پاکستان کے ضلع سیالکوٹ کا ایک قصبہ ہے، اس قصبے میں سن 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سب سے ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی ہوئی۔ اس جنگ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ تعداد میں ٹینک لڑائی میں استعمال ہوئے ہیں، یہ جنگ دونوں ملکوں کے درمیان میں راوی اور پنجاب کے درمیانی علاقے میں لڑی گئی۔

    8 ستمبر کو صبح چھ بجے بھارتی فوج نے کنڑول لائن عبور کرتے ہوئے اور تین کالم بناتے ہوئے پاکستانی سر زمین پر حملہ کر دیا ۔ باجرہ گڑھی، نخنال اور چاروہ کے مقامات سے بھارتی فوج نے ایک آرمڈ اور تین انفنٹری ڈویژنز کی مدد سے حملہ شروع کیا اور 12 کلو میٹر تک بغیر کسی مذاحمت کا سامنا کیے آگے بڑھتی رھی۔

    اس دوران پاک فضائیہ نے ان پر ایک حملہ کیا لیکن ان کا کوئی خاص نقصان نہ کر سکی۔ پاکستان کی فوج نے گڈگور کے پاس بھارتی فوج کا راستہ روکا اور 25 کیلوری کے 15 ٹینک پورے بھارتی ڈویژن کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے۔پہلی ہی مڈ بھیڑ میں بھارتی اپنے 3 ٹینک تباہ کروا کے دفاعی پوزیشن پر چلے گئے تھے۔

    چونڈہ کنٹرول لائن سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ 14 ستمبر کو بھارت نےچونڈہ پر حملہ کیا لیکن آٹھ دن کی شدید جنگ کے باوجود چونڈہ فتح نہ کر سکی اور جنگ بندی تک اپنے 150 ٹینک تباہ کروا کر واپس بھارت لوٹ گئی۔ اس جنگ میں پاک فوج کے جوانوں نے عظیم قربانیاں پیش کیں۔

    چونڈہ کے محاذ پر جنرل ٹکا خان نے بھارتی فوج کے مقابلے میں اپنی عسکری قابلیت کے جوہر دکھائے اگر جنگی ساز و سامان کی بنیاد پر فاتح کا فیصلہ ہوتا تو یقیناً یہ جنگ بھارتی فوج با آسانی جیت جاتی، لیکن یہاں پر پاکستانی فوجیوں نے علامہ اقبال کے شعر کی عملی تفسیر پیش کر دی.

    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

    اس محاذ پر جنرل ٹکا خان نے عسکری لحاظ سے وہ حکمت عملی اختیار کی جس کی کامیابی کا دارومدار ان کے جوانوں کے جذبہ ایمانی اور حوصلے پر تھا آپ نے کہا کہ دشمن کے ٹینکوں کو ناکارہ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر ٹینکوں کے سامنے لیٹ جائیں ۔

    اس حکمتِ عملی کا مقصد یہ تھا کہ جب دشمن کے ٹینک اس جوان کے اوپر سے گزرتے تو بم پھٹنے کی وجہ سے وہ وقتی طور پر ناکارہ ہو جاتے، ایک اچھے کمانڈر کی طرح اس مقصد کے لئے جنرل ٹکا خان نے سب سے پہلے اپنی ذات کو پیش کیا۔

    لیکن جذبہ ایمانی سے سرشار آپ کے ماتحتوں نے آپ کو اس عمل سے روک دیا اور خود کو اس مقصد کے لئے پیش کر دیا چنانچہ آپ نے ان میں سے ضرورت کے مطابق جوان منتخب کر کے انہیں اس مشن کی ذمہ داری سونپ دی اور ان جوانوں نے اللہ کے نام پر وطن عزیز کے دفاع کے لئے اپنی جانوں کو قربان کر دیا ۔

    بھارتی فوج جو اس خوش فہمی میں مبتلا تھی کہ کثرت عسکری ساز و سامان اور ٹینکوں کی بنیاد پر وہ بآسانی چونڈہ کے محاذ پر فتح حاصل کر لے گی جنرل ٹکا خان کی اس عسکری حکمت عملی کے سامنے بےبس ہو گئی اس کے لاتعداد ٹینک محاذ جنگ پر ناکارہ یا تباہ ہو گئے اور وہ جنگ بندی تک فتح کے خواب ہی دیکھتے رہے۔

    بزدل دشمن نے پاکستانی فوج اور قوم کو سرپرائز دینے کے لئے رات کے اندھیرے میں اچانک اور بلااشتعال جو حملہ کیا اس کا جواب افواج پاکستان نے دن کی روشنی میں ہمت اور بہادری کے ساتھ دے کر دشمن کو دن میں تارے دیکھا دئیے اور ثابت کر دیا کہ جنگیں جذبوں سے لڑی جاتیں ہیں ۔

    1965 کی جنگ میں جہاں ہمیں عسکری طور پر فتح حاصل ہوئی وہیں دنیا کو بھارت کی عسکری طاقت کا بھی معلوم ہو گیا کہ بھارتی صرف گفتار کے غازی ہیں اور میدان جنگ میں یہ بھیگی بلی بن جاتے ہیں اور ان کی سرشت میں صرف اور صرف دھوکہ فریب ہے۔
    6 ستمبر کا دن ہم یوم دفاع پاکستان کے طور پر مناتے ہیں تا کہ نئی نسل کو معلوم ہو سکے کہ امن کا راگ الاپنے والا یہ بنیا دھوکے باز ہے اور موقع ملتے ہی یہ پیٹھ پر وار کرتا ہے اور اس کے قول و فعل میں تضاد ہے اس لئے ان کی لچھے دار باتوں میں آنے کی ضرورت نہیں ۔

    یوم دفاع پاکستان منانے کا مقصد ان لوگوں کے سوالات کا جواب دینا ہے جو پوچھتے ہیں کہ فوج نے ہمارے لئے کیا کیا ہے، یوم دفاع پاکستان منا کر ہم ان لوگوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہیں کہ آج ہم اس لئے آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں کیونکہ بوقت ضرورت ہماری فوج نے قوم کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا ۔

    6 ستمبر کے دن ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ جب بھی وطن عزیز کی طرف کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم اس کے خلاف ہر حد تک جائیں گے، اور ہمارے درمیان چاہے جتنے بھی اختلافات ہوں لیکن وطن عزیز کی حفاظت کے لئے ہم اپنے ذاتی اختلافات پس پشت ڈال کر یک جان ہو کر دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے جس سے ٹکرا کر دشمن پاش پاش ہو جائے گا ۔

    نوٹ:– اس مضمون کے لئے معلومات وکی پیڈیا سے حاصل کی گئیں ہیں ۔ پہلے چار پیراگراف وکی پیڈیا کے ہیں ۔

  • "اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی” — اعجازالحق عثمانی

    "اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی” — اعجازالحق عثمانی

    جنت نظیر وادی میں مسلسل پسپائی کے بعد ، کئی خیالی پلاؤ پکا کر وہ سرحد عبور کر کے چوروں کی طرح پاکستان میں داخل ہورہے تھے ۔ اسلحے سے لیس ، چھ سو کے قریب ٹینک ساتھ لیے یہ چور کوئی اور نہیں بلکہ ہمسایہ ملک بھارت کے فوجی تھے۔ جو حملے کے خیالی پلاؤ کے ساتھ لاہور میں ناشتہ کرنا چاہتے تھے۔اور یہ دن تھا،6 ستمبر 1965 کا۔

    بونگ پائے، جیدے کی لسی نہاری، ، سری پائے، حلوہ پوری، پٹھورے نا جانے کیا کیا سوچ کر آئے ہونگے۔ انھوں نے لاہور کے قریب بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے لاہور شہر بھی داخل ہونے کی بھر پور کوشش کی۔ مگر آتے ہی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

    ان کا خیال تھا کہ ہم 72 گھنٹوں میں پاکستان پر قبضہ کر لیں گے۔ مگر وہ شاید نہیں جانتے تھے کہ ہمیں یہ قوم 72 منٹ بھی اپنے اوپر غالب نہیں آنے دے گی۔
    ڈیڑھ لاکھ بھارتی فوجیوں کو صرف 150 پاکستانی جوانوں نے 12 گھنٹوں تک پیش قدمی سے روک کر علامہ اقبال کے اس شعر کا عملی مناظر پیش کیا

    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
    کافر ہے تو ہے تابعِ تقدیر مسلماں
    مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الٰہی

    ایک بھارتی جنرل (جنرل ہربخش سنگھ) اپنی کتاب میں جنگ ستمبر کے بارے میں لکھتا ہے کہ” جنگ ستمبر میں پاکستانی فوج کی کارکردگی بہترین تھی اور فوج انتہائی پر عزم تھی۔ جبکہ بھارتی فوج نے جنگ کی پیشگی منصوبہ بندی کے باوجود کوئی خاص تیاری نہیں کر رکھی تھی”۔

    سنا ہے کہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ جو 600 ٹینک وہ ساتھ لا رہے ہیں ۔ وہ چھ ستمبر کی صبح لاہور کی سڑکوں پر بھارتی وزیراعظم کو سلامی دیں گے۔ مگر تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ ٹینک سلامی تو نہ دے سکے البتہ انکا قبرستان ضرور بنا۔ کیونکہ

    ہم ہیں جو ریشم و کمخواب سے نازک تر ہیں
    ہم ہیں جو آہن و فولاد سے ٹکراتے ہیں

    ہم نے روندا ہے بیابانوں کو صحراؤں کو
    ہم جو بڑھتے ہیں تو بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں

    بھارت رات کے اندھیرے میں پاکستان میں داخل تو ہوگیا ۔ مگر ناشتہ نہ کر پایا ۔کیونکہ پوری پاکستانی قوم یکجا ہو کر لڑ رہی تھی۔ صرف فوجی ہی نہیں ، تمام پاکستانی میدان جنگ میں اپنے اپنے طریقوں سے لڑ رہے تھے ۔شاعر ، ادیب، گلوکار ، کسان، مزدور ، اساتذہ ، طالب علم ، بچوں ، عورتوں اور زرائع ابلاغ سب کی ایک ہی آواز تھی۔

    ‏ثبوت دیں گے وفا کا یوں،اشتباہ غلط
    ملا کے خاک میں رکھ دیں گےہر سپاہ غلط

    برب کعبہ… ہم آنکھیں نکال چھوڑیں گے
    اٹھی جو ملک کی جانب کوئی نگاہ غلط

    22 ستمبر کو سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا ۔ جس میں سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے لیے قرار داد پیش کی ۔ سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں صدر پاکستان ایوب خان نے 23 ستمبر تک جنگ بندی کا اعلان کیا ۔ 24 ستمبر کو بھارتیوں کی پھینٹی لگانے پر ملک بھر میں یوم تشکر منایا گیا ۔ اللہ پاک کی حفاظت کرے۔ یہ ملک سدا قائم رہے۔ اور اس کو میلی نگاہ سے دیکھنے والے 1965 کی طرح ہر بار ناکام ہوں (آمین)۔

  • 6 ستمبر 1965 کی مہمان نوازی — طلحہ ملک

    6 ستمبر 1965 کی مہمان نوازی — طلحہ ملک

    وتعز من تشاء وتذل من تشاء پر ایمان رکھنے والی قوم پر بے ایمان بے دین بد مذہب قوم کا یوں بھونڈے انداز میں حملہ آور ہونا ان کی ہمیشہ کے لیے ذلت اور ندامت کا باعث بن گیا۔ 6 ستمبر 1965 کا دن پاکستانیوں میں بحثیت قوم ایمان، اتحاد، تنظیم کا ایک بہترین نمونہ تھا اتنی بڑی فوج کا چھوٹی سی فوج پر اچانک حملہ آور ہونا اور پاکستان کو مکمل تیاری کے ساتھ چاروں طرف سے گھیرنے کا منصوبہ بنانا پاکستان کے وجود پر خدا نہ خواستہ کاری ضرب ثابت ہو سکتا تھا.

    دشمن بحری فوج کا مکمل تیاری کے ساتھ شکار کے قریب ترین پہنچنا، فضائیہ کا اپنے دشمن (پاکستان) پر کمان تان کر رکھنا اور برّی فوج کے اچانک پیٹھ پر وار کا فوری مقابلہ شاید صرف پاکستانی قوم ہی کر سکتی تھی کیونکہ اس قوم کے لیڈر نے اعلان کر دیا تھا کہ لا الہٰ پر ایمان رکھنے والو! آج تمہارے ایمان کا امتحان ہے “کلمے کا ورد کرتے جاؤ آگے بڑھتے جاؤ اور دشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو پکارا ہے” پھر یوں ہوا کہ شہری اور دیہاتی، عام اور خاص ہر چھوٹا بڑا دشمن کے جنگی ہتھیاروں کی طرف بڑھتا گیا یہاں بعض کے ہاتھوں پر بندوقیں اور مختلف ہتھیار تھے مگر ایک ہتھیار تھا جو مشترکہ طور پر سب کے پاس موجود تھا وہ تھا دِل میں ایمان، یہی وجہ ہے کہ نہتے شہری بھی دشمن کی طرف یوں بڑھے کہ ان کے ہاتھوں میں اُن سے بڑے ہتھیار موجود ہیں.

    مگر جائزہ لیا جائے دشمن قوت کا تو ان کے پلید ارادے اتنے مضبوط تھے کہ اس روز ہندوستانی فوج کے متکبر کمانڈر انچیف نے اعلان کیا کہ وہ آج شام جیت کی خوشی میں لاہور کے جم خانہ میں شراب کی محفل سجائیں گے اس کے اس اعلان کے بعد دنیا کی سب سے بہترین میزبان قوم نے عالمی شہرتِ یافتہ مہمان نواز فوج کے ساتھ مل کر ایسی شراب پلائی کہ ان کے اکثر فوجی اس کے ذائقے کو طبیعت پر بوجھل محسوس کرتے ہوئے اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ ہی واصلِ جہنم ہو گئے۔ مہمان نوازوں میں اساتذہ، طلبہ، علماء اور غیور شہریوں اور دیہاتیوں کی کثیر تعداد موجود تھی جب کہ فرنٹ پر لڑنے والے مجاہدوں نے شراب نوشی کے نشے میں دھت دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام بناتے بناتے خود شہادت کا جام تک نوش کر لیا پاکستانی قوم، بحری و برّی فوج اور ائیر فورس کے نوجوانوں کے کارنامے ذکر کرنا چاہوں تو کسی ایک پر بھی لکھنے کا حق ادا نا کر سکوں.

    سب نے مل کر اپنے اپنے شعبے میں دشمن پر ایسا رعب طاری کیا کہ دشمن میلی آنکھ سے دیکھنے کا ارادہ بھی اس ڈر سے نہیں کرتا کہ اس کی آنکھ سلامت نہ رہے گی۔ پاکستان بحثیت قوم پوری دُنیا پر اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے آزادی سے لے کر 2022 کے سیلاب تک پاکستان نے شدید تر آزمائشوں کا سامنا ایک مضبوط قوم بن کر کیا ہے۔

    جب بھی مصیبت آئے تو سب ایک ہو جاتے ہیں قائد کا یہی فرمان تھا اللہ پر ایمان، آپس میں اتحاد اور ایک منظم انداز میں چل کر ہم ہمیشہ کامیابی حاصل کر سکیں گے اور کبھی بھی ندامت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ پاکستانی قوم ہمیشہ میجر عزیز بھٹی، کیپٹن سرور، میجر طفیل، میجر اکرم، راشد منہاس، شبیر شریف، محمد حسین، نائک محمد محفوظ، شیر خان اور حوالدار لالک جان جیسے شہداء کی طرح اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیشہ تیار ہے.

    اور یاد رہے یہ قوم اللہ کی نصرت کے ساتھ ہر ناپاک ارداے کو مٹی میں ملانے کی طاقت رکھتی ہے اب جس کسی کو میلی نگاہ سے پاکستان کی طرف دیکھنا ہو وہ پہلے 6 ستمبر والی مہمان نوازی کا مطالعہ کرنے کی جسارت ضرور کرے۔