Baaghi TV

Tag: 6. International News

  • کومیلا وکٹورینزنےمسلسل دوسری باربنگلادیش پریمیئر لیگ کا ٹائٹل اپنےنام کر لیا

    کومیلا وکٹورینزنےمسلسل دوسری باربنگلادیش پریمیئر لیگ کا ٹائٹل اپنےنام کر لیا

    میرپور:کومیلا وکٹورینز نے مسلسل دوسری بار بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا.

    بنگلادیشی شہر میرپور میں کھیلے گئے بی پی ایل 2023 کے فائنل میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سلہٹ اسٹرائیکرز کی جانب سے بنائے ہوئے 175 رنز کے جواب میں فاتح ٹیم نے آخری اوور میں تین وکٹ کے نقصان پر ہدف حاصل کرلیا، جانسن چارلس نے 79 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، لیگ کے میچز جیو سوپر پر براہ راست نشر کیے گئے۔

    ملتان سلطانز کو جھٹکے پرجھٹکا لگ گیا

    بی پی ایل کے فائنل میں سلہٹ اسٹرائیکرز نے 7 و کٹوں کے نقصان پر 175 رنز بنائے، وکٹ کیپر بیٹر مشفق الرحیم نے شاندار انداز میں کھیلتے ہوئے 3 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے 74 رنز کی اننگز کھیلی، اوپنر نجم الحُسین نے 64 رنزبنائے جبکہ مستفیض رحمان نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

    پی ایس ایل 8:لاہوراورراولپنڈی میں ہونیوالے میچز کی ٹکٹوں کی فروخت کا شیڈول جاری

    جواب میں دفاعی چیمپئن کومیلا وکٹورینز نے  3 وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ ہدف 4 گیندیں قبل ہی حاصل کرلیا۔

    انگلش کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان این مورگن نے کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا

    ویسٹ انڈین بیٹر جانسن چارلس نے ناقابل شکست رہتے ہوئے 79 رنز بنائے، اپنی اننگز میں اُنہوں نے 5 چھکے اور 7 چوکے لگائے، اوپنر لٹن داس نے 55 رنز اسکور کیے۔کومیلا وکٹورینز مسلسل دوسرے برس ایونٹ کو جیت کر ٹائٹل کا دفاع کرنے میں کامیاب رہی، مجموعی طور پر اُنہوں نے چوتھی بار ٹائٹل اپنے نام کیا۔بنگلادیش پریمیئر لیگ کے میچز جیو سوپر سے براہ راست نشر کیے گئے۔

  • عالمی شہرت یافتہ ہدایت کار ، اداکار اور میزبان ضیامحی الدین انتقال کرگئے

    عالمی شہرت یافتہ ہدایت کار ، اداکار اور میزبان ضیامحی الدین انتقال کرگئے

    کراچی:ممتاز اداکار ، ہدایت کار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین 91 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

    ضیا محی الدین 20 جون 1931 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے، ضیا محی الدین کےوالدکوپاکستان کی پہلی فلم تیری یاد کےمصنف اورمکالمہ نگار ہونےکا اعزاز حاصل تھا۔

    ضیامحی الدین کو 1962 میں فلم لارنس آف عریبیہ میں کام کرنے کا موقع ملا،انھوں نے فلم لارنس آف عریبیہ میں ایک یادگار کردار ادا کیا۔

    ضیا محی الدین نے’ضیا محی الدین شو‘ کے نام سے ایک اسٹیج پروگرام کی میزبانی بھی کی۔حکومت نے ضیا محی الدین کو 2012 کو ہلال امتیازسے بھی نوازا ،

  • شاکرعلی ادیب،مصورحقیقت

    شاکرعلی ادیب،مصورحقیقت

    شاکر علی
    عظیم تجریدی مصور
    یوم وفات : 27 جنوری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شاکر علی 6 مارچ 1914ء کو رام پور میں پیدا ہوئے تھے۔ مصوری کی ابتدائی تعلیم جے جے اسکول آف آرٹس بمبئی سے حاصل کرنے کے بعد وہ انگلستان چلے گئے جہاں انہوں نے فن مصوری کا تین سالہ کورس مکمل کیا۔ انہیں کچھ عرصہ فرانس کے ممتاز مصور آندرے لاہوتے (Andre L’Hote) کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ 1951ء میں پاکستان آگئے اور 1952ء میں میو اسکول آف آرٹس لاہور سے وابستہ ہوگئے جو بعد میں نیشنل کالج آف آرٹس کہلانے لگا۔ 1961ء میں وہ اسی کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے اور 1973ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ شاکر علی پاکستان میں تجریدی مصوری کے ساتھ ساتھ تجریدی خطاطی کے بانیوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔

    انہوں نے آیات قرآنی کو تجریدی انداز میں لکھنے کی جو بنا ڈالی اسے بعد ازاں حنیف رامے‘ صادقین‘ آفتاب احمد‘ اسلم کمال‘ شفیق فاروقی‘ نیر احسان رشید‘ گل جی اور شکیل اسماعیل نے بام عروج تک پہنچا دیا۔ حکومت پاکستان نے فن مصوری میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر 1962ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 1971ء میں ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔

    پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ان کی وفات کے بعد 19 اپریل 1990ء اور 14اگست 2006ء کو ان کی مصوری اور تصویر سے مزین دو ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیے ۔ شاکر علی کا انتقال 27 جنوری 1975ء کو لاہور میں ہوا۔ وہ لاہور میں گارڈن ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر یہ عبارت درج ہے جو محترمہ کشور ناہید کے ذہن رسا کی تخلیق ہے: چڑیوں‘ پھول اور چاند کا مصور شاکر علی 6 مارچ 1914ء کو رام پور کے افق پر طلوع ہوا اور 27 جنوری 1975ء کو لاہور کی سرزمین میں مدفون ہیں۔

  • نئی قسم کا ڈائنا سور برآمد:جرمنی ماہرین حیوانات کا دعویٰ

    نئی قسم کا ڈائنا سور برآمد:جرمنی ماہرین حیوانات کا دعویٰ

    برلن:جرمنی میں ایک نئی قسم کا ڈائنا سور دریافت ہوا ہے جس کے منہ میں 400 سے زائد دانت تھے اور وہ بطخ اور بگلوں کی طرح کھانا کھاتا تھا۔سائنس اور ٹکنالوجی: ٹیرو سار خاندان سے تعلق رکھنے والے بیلینوگنیتھس مائیوسیری (بیلینوگنیتھس مطلب وہیل کے منہ جیسا) نامی اس ڈائنا سور کی باقیات تقریباً سالم ہیں۔ یہ باقیات جرمنی کی ایک ریاست بیویرین کی ایک کان سے حادثاتی طور پر اس وقت دریافت ہوئیں جب سائنس دان چونے کے بڑے بڑے پتھروں کی کھدائی کر رہے تھے جن میں مگر مچھوں کی ہڈیاں موجود تھیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے پروٹوکول افسر کینیڈا سے آئے اپنے مہمانوں سمیت ڈاکوؤں کے ہاتھوں…

    18 ویں صدی میں پہلی بار ٹیرو سارس دریافت ہونے کے بعد سے اس جگہ سے اڑنے والے اس ڈائنا سور کی سیکڑوں باقیات دریافت کی جا چکی ہیں۔یہ تحقیق یونیورسٹی آف پورٹس ماؤتھ کے پروفیسر ڈیوڈ مارٹِل کی سربراہی میں کی گئی جس میں انگلینڈ، جرمنی اور میکسیکو کے ماہرینِ باقایات بھی شامل تھے۔

    آسٹریلیا اور کینیڈا نے بھی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط…

    پروفیسر مارٹِل کا کہنا تھا کہ تقریباً مکمل ڈھانچے پر چونے کی ایک انتہائی باریک تہہ چڑھی ہوئی تھی جس کی وجہ سے یہ ڈھانچہ بالکل محفوظ تھا۔انہوں نے بتایا کہ اس ٹیروسور کے جبڑے بہت لمبے ہیں اور ان میں چھوٹے، باریک اور خم دار دانت موجود ہیں۔ ان دانتوں کےدرمیان باریک کنگھی کی طرح خلاء موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے جبڑے ایووسیٹ نامی پرندے کی چونچ کی طرح اوپر کو مڑے ہوئے ہیں اور آخر میں اسپون بِل پرندے کی طرح پھیل جاتی ہے۔ اس کے منہ کے آخر میں کوئی دانت نہیں لیکن اس کے علاوہ دونوں جبڑوں میں پیچھے تک دانت ہیں۔

  • انور پیرزادہ سندھ کےمعروف ترقی پسند شاعر،محقق اور ادیب

    انور پیرزادہ سندھ کےمعروف ترقی پسند شاعر،محقق اور ادیب

    تاریخ پیدائش:25 جنوری 1945ء
    وفات:07 جنوری 2007ء
    کراچی
    شہریت: پاکستان، برطانوی ہند
    زبان: انگریزی

    انور پیرزادہ سندھ کے معروف ترقی پسند شاعر، محقق اور ادیب۔ لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ انور پیرزادہ نے عملی زندگی کا آغاز درس و تدریس سے کیا۔ تاہم بعد میں انہوں نے پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کر لی۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران میں وہ چٹاگانگ میں تعینات رہے۔

    اس پر آشوب دور کی صورت حال کے بارے میں ایک دوست کو لکھے گئے خط میں انہوں نے مشرقی پاکستان کے لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کیا لیکن ان کا خط حکام کے ہاتھ لگ گیا اور انہیں کورٹ مارشل کے ذریعے ایئر فورس کی ملازمت سے برخاست کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔

    رہائی کے بعد وہ صحافت کے پیشہ سے منسلک ہوگئے۔ بائیں بازو کے نظریات رکھنے کے باعث وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے وابستہ تھے۔ ضیاء دور میں انھیں ایک بار پھر قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔

    جیل میں انہوں نے صوفی شاعر شاہ عبد الطیف بھٹائی کے کلام کا مطالعہ کیا اور اس پر تحقیق کے ذریعے ان کی شاعری کو بائیں بازو کے نظریات کے تحت سمجھنے کا طرز فکر متعارف کرایا۔ اپنی اس کاوش کی وجہ سے انہیں سندھ میں ترقی پسند سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں میں مقبولیت حاصل ہو ئی۔

    ان کا تعلق ضلع لاڑکانہ کے دیہات بلھڑیجی سے تھا، جو ترقی پسند سیاست دانوں اور ادیبوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتا تھا۔ بلھڑیجی کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے سابق سوویت یونین سے تعلیم حاصل کی اور شاید اسی وجہ سے اس گاؤں کو سندھ میں ’لٹل ماسکو‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    ناقدین کے مطابق انور پیرزادہ کی ترقی پسند شاعری کے مجموعے ”اے چنڈ بھٹائی کھی چئجا“‘ (اے چاند بھٹائی کو کہنا) نے سندھی ادب کو تازگی بخشی۔ وہ سندھ کے آثار قدیمہ میں بھی گہری دلچسپی لیتے رہے۔ انہوں نے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ اس کے پاکستان کی حدود میں داخل ہونے سے لیکر سمندر میں شامل ہونے تک کا سفر بھی کیا۔