Baaghi TV

Tag: 8جولائی کو مظفر برہان وانی کی تیسری برسی

  • مقبوضہ کشمیر:برہان وانی کی شہادت سے اب تک 1020کشمیری بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید

    مقبوضہ کشمیر:برہان وانی کی شہادت سے اب تک 1020کشمیری بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج نے برہان وانی کی شہادت سے لیکر اب تک 1020 کشمیریوں کو شہید کردیا ہے.کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آج مقبوضہ وادی میں برہان وادی کی برسی پر مکمل ہڑتال تھی اور کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا تھا .دوسری طرف بھارتی افواج نے ہڑتال کو ناکام بنانے کے لیے پوری وادی کو یرغمال بنا رکھا تھا

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق برہان وانی کی برسی نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں‌منائی گئی بلکہ وانی سے خراج عقیدت کے اظہار کے طور پر دنیا بھر میں آج کشمیریوں نے اسے خراج عقیدت پیش کیا .پاکستان میں بھی آج بہت سی تنظیموں نے کشمیر کی تحریک کو جلا بخشنے والے نوجوان برہان وانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق میں مظاہرے کیا

    برہان وانی کی شہادت سے لے کر اب تک 1020 کشمیری شہید ہوئے ہیں‌ وہاں 28 ہزار کشمیری بھارتی فوج کے ہاتھوں زخمی بھی ہوئے ہیں.ذرائع کے مطابق ان میں 10 ہزار 298 کشمیری پیلٹ گن سے زخمی ہوئے .147 کشمیریوں کی آنکھوں کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ 215 کشمیریوں کی ایک یا دونوں آنکھیں ضائع ہوگئی ہیں.

    یاد رہے کہ انسانی حقوق کے عالمی ادارے نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر پامالی کی ہے.دوسری طرف پاکستان نے بھی کشمیریوں کی تحریک حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھنے کا عزم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت جلد کشمیری آزادی کی منزل حاصل کرلیں گے.

  • غیرت کی طغیانی ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    غیرت کی طغیانی ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    رات کی سیاہ تاریکی ہر اک جانب گھور اندھیرے گاڑے ہوئے تھی۔افق پر چاند اپنی روشنی کی وجہ سے خود کو سود مند ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر غلامی کی تاریکیوں کے سامنے چاند کی مرضی نہیں چلا کرتی۔غلامی کے اندھیروں کو صرف وہ چراغ ہی مٹا سکتے ہیں جو اپنے خون کو ایندھن بنا کر جلایا کرتے ہیں!

    رات کی تاریکی چھٹنے لگی۔سورج کی حسین کرنیں مشرق سے نمودار تو ہوئیں مگر چاند ہی کی طرح سورج بھی غلامی کے اندھیروں کو نہ بھگا سکا۔نجانے ان اندھیروں کو ختم کرنے کیلیے کتنے چاند نمودار ہوئے اور ناکام روپوش ہوگئے۔نجانے کتنی بار سورج نے کاوشیں کیں مگر نامراد لوٹا۔مگر اس صبح والا سورج کچھ الگ ہی اہمیت رکھتا تھا۔اس جبر و استبداد سے محو جنگ وادی میں مائیں اپنے جگر گوشوں کو جہاں ایک طرف آہنی زرہ پہنایا کرتیں اور سعد و خالد اور ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنھم کے قصے سنایا کرتیں وہیں وہ اپنے بیٹوں کو بستہ تھما کر قلم جیسی عظیم تلوار پکڑنے کو سکول بھیجا کرتیں۔اس صبح بھی ایک جگر گوشہ اپنا بستہ تھامے سکول کی جانب رواں دواں تھا۔وہ تتلیوں کو دیکھتا اور انہیں پکڑنے کی آرزو کرتا۔وہ بلند و بالا پہاڑ دیکھتا اور ان میں کھو جانا چاہتا۔اس عالم میں اس کے سامنے کچھ ڈراؤنی شکلوں والے لوگ نمودار ہوئے جنہوں نے ہاتھوں میں بندوقیں پکڑی ہوئی تھیں۔لڑکا ان سب کو دیکھتا جا رہا تھا اور آگے بڑھتا جا رہا تھا۔دیکھتے دیکھتے اس کے سامنے ان لوگوں نے بندوقیں تان لیں اور اس سے اسکا بستہ چھین لیا۔لڑکا محو حیرت تھا۔وہ سمجھ نہ پا رہا تھا کہ ابھی تو وہ تتلیاں پکڑنے کی آرزو کر رہا تھا اور یکایک اس سے اسکا بستہ چھین لیا گیا۔لڑکا ان لوگوں سے مخاطب ہوا:

    "انکل مجھے سکول جانا ہے میرا بستہ لوٹا دیجیے۔”

    ان الفاظ میں وہی بچوں جیسی معصومیت تھی۔
    جواب میں ان میں سے ایک آدمی نے بڑے طنزیہ انداز میں کہا

    "مسلمان اب یہاں پڑھیں گے؟جا نکل جا یہاں سے۔۔۔تجھے ہم نے سکول نہیں جانے دینا۔”

    لڑکا دوبارہ حیرت کی کیفیت میں لوٹ گیا کیونکہ ابھی تک اس سے کسی نے اتنے سخت لہجے میں بات نہیں کی تھی۔ وہ رونا چاہتا تھا مگر غیرت نے یہ گوارا نہ کیا۔

    وہ واپس پلٹا۔ یہ سوچ کر کہ ابا سے انکی شکایت کروں گا۔ وہ راستے میں تھا کہ اسی جگہ پر جہاں اس نے ابھی تتلیاں دیکھی تھی، آگ بھڑک رہی تھی۔ وہ حیرت کے مارے وہاں کھڑا ہوگیا اور یہ سوچنے لگا کہ ابھی تو یہاں دلفریب مناظر تھے مگر اب_______ وہ دیکھ رہا تھا کہ ہر سو بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔اسی بھگدڑ میں ایک آدمی سے لڑکے نے پوچھا”چچا یہ کیا ہوا ہے”۔آدمی نے جواب دیا "بیٹا یہاں سے انڈین آرمی کا گزر ہوا تھا۔انہوں نے ہم سے پیسوں کی طلب ذلت آمیز انداز میں کی۔ہم نے انکار کردیا کہ خود ہم معاشی پریشانیوں سے دو چار ہیں،ہم پیسے نہیں لاکر دے سکتے۔جواب میں انہوں نے ایک ضعیف شخص کو پیٹا جس کا قصور یہ تھا کہ اس نے ہی ہماری نمائندگی کی تھی،اس شخص کے دو بیٹوں کو اٹھا کر لے گئے اور جاتے جاتے ہمارے مکانوں اور کھیتوں کو آگ لگا گئے۔”
    یہ سن کر لڑکے کو شدید جھٹکا لگا۔اس سے اس کے دل نے رونے کی اجازت مانگی مگر غیرت نے انکار کردیا کہ آنسو انسانوں کے سامنے نہیں بہائے گا۔

    لڑکا فوراََ تیز رفتار میں گھر کی سمت بھاگا۔اب اب کی بار بھی اسکا سامنا دل دہلا دینے والے مناظر سے ہوا۔سڑک پر ایک ادھیڑ عمر کا شخص سر پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھا ہوا تھا۔اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے لڑکے نے اس سے پوچھا کہ چچا کیا ہوا ہے؟
    آدمی نے جواب دیا "بیٹا کچھ بھارتی فوجی آئے تھے۔میرے بیوی اور بیٹے کو مار کر چلے گئے” اور______”میری دو بیٹیوں کو اپنے ساتھ اٹھا کر لے گئے۔”یہ کہتے ہی وہ پھر دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔لڑکے نے اس کاروائی کی وجہ پوچھی تو آدمی نے جواب دیا کہ "وہ دیکھو ہمارے گھر کی چھت پر پاکستان کا خوبصورت سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے۔انہوں نے ہم سے کہا کہ اس ہرچم کو اتارو اور ہمارے قدموں میں لاکر رکھو۔مگر یہ پرچم ہمیں جان سے زیادہ پیارا ہے۔ہم نے فوراََ انکار کردیا۔اس پر انہوں نے مجھے پیٹنا شروع کیا۔میرا بیٹا اور بیوی آگے بڑھے۔اسی اثنا میں دو فائر ہوئے اور میری بیوی اور بیٹے کی لاشیں زمین پر گریں اور پھر وہ______”
    لڑکا افسوس و انتقام کے جذبات سے بھر چکا تھا۔اسے اذان کی آواز سنائی دی اور وہ مسجد کی جانب روانہ ہوا۔نماز کے بعد اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو نہ اسکے دل نے اجازت لی نہ غیرت نے انکار کیا۔اسکے آنسو بہہ نکلے اور ایسے بہے کہ اسکا چہرا تر ہوگیا۔
    وہ گھر پہنچا۔ماں کو سارا واقعہ سنایا اور ماں کے سامنے اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ ”مجھے اب ان ظالموں کے خلاف لڑنا ہے۔مجھے انکے تعاقب میں تب تک بندوق تھامے رکھنی یے جب تک میں اپنی آخری سانس کو پورا نہ کر لوں۔”
    ماں نے مسرت آمیز مسکراہٹ چہرے پر سجائی اور اپنے جگر گوشے کی طرف دیکھا۔آج اس کے بیٹے کے چہرے پر اسے محمد بن قاسم اور سلطان ٹیپو کی جھلک دکھائی دی۔ماں کو اب معلوم ہوا کہ آج کے سورج میں خاص بات کیا تھی۔اس نے خوشی کے ساتھ بیٹے کو اجازت دی اور اس کے لیے بندوق کا بندوبست کیا۔
    اگلے روز لڑکا گھر سے نکلا اور آذادی کے راہیوں کے کیمپ میں انہیں پہاڑوں کی آغوش میں پہنچ گیا جہاں اس نے گزشتہ دن جانے کی خواہش کی تھی۔وہاں سے تربیت پائی اور پھر دشمنوں کے سامنے صف آرا ہوا۔اب وہ جان گیا تھا کہ اسے تتلیوں کو نہیں درندوں کو پکڑنا ہے!

    دن ہفتے اور ہفتے مہینوں میں تبدیل ہوتے گئے۔مگر اب اس وادی کے حالات علحیدہ تھے۔وہ درندے جو کھلم کھلا پھرا کرتے تھے اب اپنی پناہ گاہوں سے نکلنے کو ڈرتے تھے۔آزادی کی کوششیشیں اب تیز ہوچکی تھیں ۔انڈین فوج نے اس لڑکے پر بھاری انعام مقرر کیا اور اسے پکڑنے کی کاوشیں تیز کردیں جس سے انہیں اب ڈر لگنے لگا تھا۔مگر وہ لڑکا بھی ڈٹا رہا۔اور اپنی غیرت کی طغیانی سے ظلم کو ڈبوتا رہا۔اب وہ ہر بہن کا بھائی،ہر بھائی کا ہمدم، ہر ماں کا لال اور ہر باپ کا سہارا بن چکا تھا۔

    پھر ایک روز ۸ جولائی کو وہ لڑکا بھارتی فوجوں سے لڑتا ہوا شہادت نوش کرگیا۔مگر یہ چراغ بجھ کے بھی نہ بجھا کہ وہ اک عجب نور کا حامل تھا۔اس کی شہادت نے بھارتی فوج پر ایسا طوفان برپا کیا کہ جس کی تیز ہوائیں ابھی بھی چل رہی ہیں اور عدو پر اپنی تباہ کاریاں مچا رہی ہیں۔اسی حوالے سے شاعر سلیم اللہ صفدر نے کیا خوب کہا ہے:

    وہ چراغ بجھ کہ بھی کیا بھجا
    کہ وہ نور اتنا عجیب تھا
    سر عرش سے تہہ خاک تک
    سبھی روشنی میں نہا گئے

    قارئیں کرام! جس لڑکے کا ہم نے ذکر کیا وہ بلاشبہ برہان مظفر وانی ہے۔اس سے کچھ واقعات منسوب کرکے ہم نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ایک کشمیری کے مجاہد بننے میں کیا کیا اسباب چھپے ہوتے ہیں۔ یہ ہلکہانی وادئ جنت نظیر کے عالم شباب میں داخل ہونے والے ہر جوان کی ہے۔ اب ذمہ داری ہماری بھی ہے کہ ہر محاذ پر کشمیریوں کی آواز بنے رہیں۔اور کم از کم انہیں اپنی دعاؤں میں لازمی یاد رکھیں۔
    اللہ پاکستان اور کشمیر کا حامی و ناصر۔
    کشمیر بنے گا پاکستان ان شاء اللہ

  • شہادتِ برہان مظفر وانی، ایک سبق ۔۔۔ محمد عبداللہ گِل

    شہادتِ برہان مظفر وانی، ایک سبق ۔۔۔ محمد عبداللہ گِل

    برہان مظفر وانی کشمیر کا وہ نوجوان بیٹا تھا جس نے آزادی حاصل کرنے کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔برہان وانی نے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ آزادی پسند نوجوان ہے۔کشمیر میں انڈین آرمی کے مظالم انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔دن بدن کسی نہ کسی مسلمان کو شہید کر دیا جاتا، انڈین آرمی والی مسلمان بیٹیوں کی عزتیں لوٹتے۔ ظالم بچوں کو بھی نہ بخشتے۔ بچوں کی آنکھوں میں پیلٹ گن کے چھٹرے مار مار کر ان کی بینائی چھین لی جاتی ہے۔انہیں مظالم کی دوران ایک بچے نے وادی کشمیر میں جنم لیا۔انہیں مظالم میں پرورش پائی کبھی وہ دیکھتا کہ کشمیر کی کسی بیٹی کی عزت لوٹ لی غاصبوں نے ،کبھی وہ سنتا فلاں بھا ئی کو شہید کر دیا گیا۔کبھی وہ سنتا کہ امام مسجد کو روڈ پر شہید کر دیا گیا ۔کبھی وہ سنتا کہ نماز جمعہ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔کبھی وہ دیکھتا کہ قربانی کا موقع ہے اور گائیں ذبح کرنے پر پابندی ہے۔کبھی نماز پر پابندی ہے ۔کبھی وہ سنتا کہ 22 کشمیری مسلمان اذان دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔ان سب مظالم کو دیکھ کر اس کا دل بیزار ہوتا تھا۔اللہ نے ہمت دی کہ آزادی پسند مجاہدین کشمیر میں شامل ہوا۔اپنی گن کے ذریعے انڈین آرمی کی نیندیں حرام کر دیں ۔ وہ ڈرنے لگے۔
    شاعر مشرق یوں کہتے ہیں

    کافر ہے تو شمیشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

    اقبال کی شاعری نےاس پر اثر کیا اور وہ جہاد کی راہ پر نکلا ۔جہاد کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہ کی۔آزادی حاصل کرنے کے لیے کشمیری قوم قربانیاں دے رہی ہے ۔

    ہے کس کی یہ جُرأت کہ مسلمان کو ٹوکے
     حُریّتِ افکار کی نعمت ہے خدا داد

    انڈین میڈیا بھلے انھیں آتنک وادی کہتا ہوں لیکن عظیم مجاہد برہان مظفر وانی شہید رحمتہ اللہ ہمارے تو ہیرو ہیں کیونکہ انہوں نے آزادی کی خاطر جدوجہد کی۔ ہمارے لیے تو Freedom Fighter ہے ۔وہ مسلمان جو آزادی حاصل کرنے کے لیے اٹھا ہو۔ پہلے مسلمانوں نے بھی پر امن طریقہ اپنایا۔ قرار دادیں منظور ہوئیں لیکن بھارت نے آج تک ان قرار دادوں کو نہیں اپنایا تھا۔پھر مسلمانوں نے وہ طریقہ اپنایا جہاد فی سبیل اللہ کا۔جو بندے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اللہ کے ہاں وہ بڑے مقام و مرتبہ والے ہیں
    اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ ۙ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ ﴿۲۰﴾
    ترجمہ :-
    جو لوگ ایمان لائے ہجرت کی اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کیا وہ اللہ کے ہاں بہت بڑے مرتبہ والے ہیں اور یہی لوگ مراد پانے والے ہیں ۔
    بھلے یہ کفار ان مجاہدین کو صحیح نہ سمجھیں لیکن اللہ کے ہاں وہ بڑے مقام و مرتبہ والے ہیں۔کشمیری قوم محکوم و مجبور ہیں۔برہان وانی کی شہادت نے انھیں ایک نظریہ دیا کہ یہ ہے آزادی حاصل کرنے کا طریقہ۔برہان وانی کہ شہادت تمام مسلمانوں کو ایک درس دیتی ہے:-
    شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
    نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
    اس لیے ہمیں اپنے ہیروز کو بھولنا نہی چاہیے جو قومیں اپنے ہیروز کو بھول جاتی ہے وہ غرق ہو جاتی ہے
    اقبال کشمیریوں کی صورتحال کو یوں بیان کرتے ہیں:-
     آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
     کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر
    کشمیر ہماری شہ رگ ہے اسے آزاد کروانا ہمارا اولین فرض ہے۔حکمرانو کو بھی جاگ جانا چاہیے اور عہد کرنا چاہیے کہ اپنا مکمل کردار ادا کریں گئے۔اقوام متحدہ کو کشمیر کی آزادی اور ان پر مظالم کی یاد دہانی کروانی چاہیے اور عوام کو اپنے بھائیوں کا پشتیبان بننا چاہیے اور اللہ کے حضور ان کے لیے دعا مانگنی چاہیے۔

  • مقبوضہ کشمیر:8جولائی کو برہان وانی کی تیسری برسی پرحریت قیادت نے ہڑتال کی اپیل کردی

    مقبوضہ کشمیر:8جولائی کو برہان وانی کی تیسری برسی پرحریت قیادت نے ہڑتال کی اپیل کردی

    سرینگر:تحریک آزادی کشمیر کو جلا بخشنے والے حریت کمانڈر برہان وانی کی تیسری برسی کے سلسلے میں کشمیری حریت پسندوں کی مشترکہ مزاحمتی قیادت نے 8جولائی کو ہڑتال کی اپیل کی ہے۔حزب المجاہدین کےکمانڈر برہان وانی کو فورسز نے ایک کارروائی کے دوران8جولائی2016کو جنوبی کشمیر ک علاقے میں شہیدکیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ کشمیری حریت پسند نوجوان مظفر برہان وانی کی شہادت کے بعد وادی بھر میں زور دار تحریک پیدا ہوگئی تھی اور اس میں اس قدر تیزی آگئی تھی کہ بھارت قابض افواج نے تحریک کو کچلنے کے لیے کم سے کم ایک سو شہری شہید کردیئے تھے۔حریت پسند لیڈروں نے برہان کے ساتھ ساتھ سبھی شہداء کی یاد میں سوموار8جولائی کو ہڑتال کی کال دی ہے۔