Baaghi TV

Tag: 9 مئی

  • 9 مئی کا ماسٹر مائنڈ عمران خان ہی تھا،پرویز خٹک

    9 مئی کا ماسٹر مائنڈ عمران خان ہی تھا،پرویز خٹک

    سابق وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ 9 مئی کے دن جو کچھ ہوا سب عمران خان کا کیا دھرا ہے۔نجی ٹی وی پہ انکشاف کرتے ہوئے پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات میں سینیئر پارٹی قیادت کو پُر امن احتجاج کی لائن دی گئی تھی جبکہ حملوں وغیرہ کیلئے ایک الگ گروپ بنایا گیا تھا جو ہمارے علم میں نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ حملوں کیلئے بنائے گئے اس گروپ کو ہدایات کہیں اور سے مل رہی تھیں، شکر ہے اس دن گولی نہیں چلی ورنہ انتشار ہو جاتا۔
    پی ٹی آئی سے انتخابی اتحاد کی خواہش یا امکان کی خبر سراسر جھوٹ ہے، سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اس دن کا ڈرامہ اس لیے رچایا گیا تھا کہ ملک میں اور فوج میں انتشار پھیلے اور فوج بدنام ہو پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اس سارے معاملے کے فیصلے عمران خان خود کرتا تھا اور سینیئر قیادت کی رائے کو کبھی خاطر میں نہیں لاتا تھا۔خیال رہے کہ 9 مئی کے روز تحریک انصاف کے چیئرمین کی گرفتار ی کے بعد پی ٹی آئی کے مشتعل مظاہرین نے ملک کے مختلف شہروں میں جلاؤ گھیراؤ کرتے ہوئے سرکاری و نجی املاک اور عوامی مقامات کو نذرآتش کردیا تھا۔

  • شہریار آفریدی سمیت 5 افراد کی فوجی تنصیبات پر حملے میں ضمانت منظور

    شہریار آفریدی سمیت 5 افراد کی فوجی تنصیبات پر حملے میں ضمانت منظور

    لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے پی ٹی آئی کے سابق وزیر شہریار آفریدی سمیت 6 ملزمان کی ضمانت منظور کر لی، جن پر 9 مئی کو مبینہ طور پر فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے کا الزام تھا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صفدر سلیم شاہد اور جسٹس انوار الحق پنوں پر مشتمل ڈویژن بنچ نے شہریار آفریدی اور درخواست گزار نادیہ حسین، حیدر محمود خان، عصمت اللہ، بالاج خان اور شیر سکندر سمیت پانچ دیگر کی ضمانت منظور کی۔
    ان کے خلاف راولپنڈی کے آر اے بازار تھانے میں جی ایچ کیو میں توڑ پھوڑ اور شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار محترمہ نادیہ حسین کو نہ تو فرسٹ انفارمیشن رپورٹ میں نامزد کیا گیا اور نہ ہی شناختی پریڈ میں ان کی شناخت کی گئی۔ افشاں خان نامی خاتون کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے یکم جون کو پہلے ہی ڈسچارج کر دیا ہے۔
    بنچ کے مطابق دو مشتبہ افراد شہر یار افریدی خان اور شیر سکندر کو نامزد کیا گیا تھا لیکن ان پر کوئی خاص الزام نہیں لگایا گیا تھا۔ انہوں نے مبینہ طور پر فوج کے خلاف نعرے لگائے۔ تاہم ایف آئی آر میں ان الزامات کا ذکر نہیں کیا گیا۔اسی طرح، ملزمان، عصمت اللہ اور بالاج خان کو ایف آئی آر میں نامزد نہیں کیا گیا تھا لیکن انہیں شناختی پریڈ کے دوران گرفتار کیا گیا تھا جس میں کوئی فوجی افسر موجود نہیں تھا۔
    شہر یار آفریدی کے ملوث ہونے پر بحث کرتے ہوئے بنچ نے بتایا کہ انہوں نے مبینہ طور پر فوج کی تنصیبات پر لوگوں کو حملے کے لیے اکسایا۔ جس پر وکیل صفائی نے دلیل دی کہ آفریدی کو ان الزامات پر ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔
    بینچ اس بات پر "حیران” تھا کہ مبینہ حملوں کے دوران "کسی شخص کو چوٹ نہیں آئی” اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا کوئی ریکارڈ شکایت کے ساتھ منسلک نہیں کیا گیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ چونکہ یہ مقدمہ اے ٹی اے کے دائرہ کار میں نہیں آتا اور ملزمان کے خلاف دائر دیگر جرائم قابل ضمانت ہیں، اس لیے ان کی ضمانت کی درخواستیں 100،000 روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کی گئیں۔

  • پی ٹی آئی اور  اداروں کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کرونگا،علی محمد خان

    پی ٹی آئی اور اداروں کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کرونگا،علی محمد خان

    سانحہ 9 مئی کے الزام میں قید پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما علی محمد خان نے 80 روز بعد رہائی ملنے کے بعد ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ 9 مئی کو جس نے بھی غلط کیا اسے سزا ملنی چاہیے، مجھ پر اس حوالے سے غلط الزام لگایا گیا، یہ ہماری پارٹی کی پالیسی نہیں تھی۔
    رہائی کے بعد اپنے پہلے ویڈیو بیان میں علی محمد خان نے کہا کہ پاک فوج مضبوط ہو گی تو ملک مضبوط ہو گا۔ میں پی ٹی آئی اور اداروں کے درمیان فاصلے ختم کرنے کی کوشش کروں گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سیاسی انتقام نہیں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، ملک کو شفاف انتخابات کی طرف لے کر جانا ہو گا۔
    انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان پر دہشتگردی کے پرچے کاٹنا پاکستان کی بدنامی ہے، جیل میں 80 سالہ ماں کی فکر تھی کہ میرے بغیر والدہ کا وقت کیسے گزر رہا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ماں نے اڈیالہ جیل میں جنگ میں محاذ خالی نہ چھوڑنے کا پیغام دیا۔علی محمد خان نے کہا کہ عمران خان ایک بار پھر وزیراعظم بنیں گے، وہی میرے لیڈر ہیں اور ان کے ساتھ کھڑا ہوں۔واضح رہے کہ علی محمد خان کی گرفتاری 11 مئی کو عمل میں لائی گئی تھی جب عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں نے ملک کی اہم تنصیبات پر دھاوا بولا تھا۔

  • پرویز الٰہی کی نظربندی کیخلاف درخواست، لاہور ہائیکورٹ کے جج کی سماعت سے معذرت

    پرویز الٰہی کی نظربندی کیخلاف درخواست، لاہور ہائیکورٹ کے جج کی سماعت سے معذرت

    لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس فاروق حیدر نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت سے معذرت کر لی۔
    جسٹس فاروق حیدر نے فائل واپس بھجواتے ہوئے کہا ہے کہ میں پرویز الٰہی کا وکیل رہ چکا ہوں، پھر ان کے کیسز میرے پاس کیوں لگائے جاتے ہیں، فاضل جج نے ایڈیشنل رجسٹرار سے اظہار ناراضی بھی کیا۔واضح رہے کہ پرویز الٰہی کی اہلیہ نے اپنے شوہر کی نظربندی کے احکامات کو ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔
    دوسری جانب پرویز الٰہی کو ٹرائل کورٹ میں پیش نہ کرنے پرآئی جی پنجاب، آئی جی جیل خانہ جات اور سیکریٹری داخلہ کو شوکاز نوٹس جاری کرنے پر تینوں افسران نے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں پرویزالٰہی اور اسپیشل کورٹ سینٹرل کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کی دہشت گردی کے مقدمے میں حفاظتی ضمانت منظور کی، جیل حکام نے روبکار ملنے کے باوجود رہائی کی بجائے غیر قانونی طور پر حبس بیجا میں رکھا، غیرقانونی اقدام کو قانونی ظاہر کرنے کے لئے ڈی سی لاہور نے نظر بندی کا حکم جاری کردیا،عدالتی حکم کےبعد ڈی سی کانظر بندی نوٹیفیکیشن عدالتی فیصلے پر اثرانداز ہونے کےمترادف ہے، درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت ڈی سی لاہور کا پرویز الہی کو نظر بند کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے۔

  • پشاور ہائی کورٹ میں صوبائی مشیر شکیل احمد کے کیس کی سماعت

    پشاور ہائی کورٹ میں صوبائی مشیر شکیل احمد کے کیس کی سماعت

    پشاور ہائیکورٹ میں سابق صوبائی مشیر شکیل احمد کی مقدمات تفصیلات فراہمی کے لئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی ہے، سماعت جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس کامران حیات پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی .سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار ملک اجمل خان ایڈوکیٹ سے جج صاحبان نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کے خلاف جتنے مقدمات اور انکوائریز ہے ان کی تفصیلات فراہم کی جائے۔ جس پر وکیل درخواست گزار نے عدالت سے کہا کہ
    ان کے موکل کو 7 بار گرفتار کیا گیا,ایک مقدمے میں ضمانت ہوجاتی ہے تو اسی وقت دوسرا مقدمہ درج کرکے دوبارہ گرفتار کرلیا جاتا ہے ۔وکیل درخواست گزار ملک اجمل خان ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ سابق وزیر علی محمد خان اور درخواست گزار کا کیس ایک ہی نوعیت کا ہے,
    جس پر عدالت نے حکومت کو کل تک شکیل احمد کے خلاف مقدمات کی تفصیل فراہم کرنے کا حکم جاری کر دیا عدالت نے حکم جاری کیا کہ درخواست گزار کے خلاف جو مقدمات اور انکوائریز ہے ان کی تفصیل فراہم کریں۔ عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کردی۔۔

  • 9 مئی سانحے:دوبارہ تفتیش کے لیے ایک اور  جے آئی ٹی تشکیل

    9 مئی سانحے:دوبارہ تفتیش کے لیے ایک اور جے آئی ٹی تشکیل

    لاہور: محکمہ داخلہ پنجاب نے 9 مئی کو جناح ہاؤس اور دیگر حساس تنصیبات کے جلاؤ گھیراؤ کیس کی دوبارہ تفتیش کے لیے ایک اور جے آئی ٹی تشکیل دے دی ۔

    باغی ٹی وی : نوٹیفکیشن کے مطابق پانچ رکنی جے آئی ٹی کے سربراہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن عمران کشور ہوں گے نئی جے آئی ٹی کے ممبران میں ایس پی انویسٹی گیشن سٹی ڈویژن ڈاکٹر رضا تنویر، ایس پی اے وی ایل ایس لاہوررانا زاہد پرویز،اے ایس پی تیمور خان اور انچارج انویسٹی گیشن تھانا فیکٹری ایریا انسپکٹر سرور شامل ہیں،جلاؤ گھیراؤ کیس میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی سمیت دیگر دفعات شامل ہیں، نئی جے آئی ٹی کیس کی دوبارہ تفتیش کرے گی۔

    خیال رہے کہ 9 مئی کو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے کارکنوں نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کیا تھا جس کے بعد سیکڑوں شر پسندوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

    دریائے ستلج اور راوی میں سیلابی پانی کی سطح بلند،فصلیں زیرآب

    واضح رہے کہ گزشتہ روز جے آئی ٹی نے عمران خان کو 9 مئی حملوں کے کیس میں قصوروار قرار دیا تھا اسپیشل پراسیکیوٹر فرہاد شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو جےآئی ٹی نے قصور وار قرار دے دیا ہےلاہور میں میڈیا سے گفتگو میں فرہاد شاہ کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی عبوری ضمانت منسوخی کی حد تک تفتیش مکمل کرلی گئی ہے۔

    ڈی آئی جی شارق جمال اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے

    اسپیشل پراسیکیوٹر کے مطابق جدید آلات کا استعمال کرکے تفتیش آگے بڑھائی گئی، تفتیش میں فرانزک کی رپورٹ بھی موجود ہے مزید تفتیش کے لئے چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری اور موبائل فون درکار ہیں ہماری عدالت سے درخواست ہوگی کہ 8 اگست کو عمران خان کی ضمانت خارج کردی جائے اگر عمران خان کی گرفتاری ہو جاتی ہے تو ان کا جسمانی ریمانڈ لیا جائےگااس کیس میں ان کو بڑی سزا ہوسکتی ہےتفتیش کی تکمیل کےلئےگرفتاری کے بعد فوٹو گرامیٹک اور آڈیوسونیک ٹیسٹ کرائے جائیں گے۔

    مونس الٰہی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

  • جناح ہاؤس مقدمہ: چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کیا جائے یہ ضمانت کا کیس ہی نہیں ہے،اسپیشل پراسیکیوٹر

    جناح ہاؤس مقدمہ: چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کیا جائے یہ ضمانت کا کیس ہی نہیں ہے،اسپیشل پراسیکیوٹر

    لاہور: اسپیشل پراسیکیوٹر فرہاد علی شاہ کا کہنا ہے کہ جناح ہاؤس مقدمے کی تفتیش میں چیئرمین پی ٹی آئی قصور وار قرار پائے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: جے آئی ٹی نے عمران خان کو قصوروار قرار دے دیا ہے جبکہ بتایا جارہا ہے کہ تفتیش کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان قصور وار پائے گئے ہیں خیال رہے کہ عمران خان 9 مئی کے واقعات کے حوالے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے جس میں ان کو ویڈیوز بھی دیکھائی گئی تھی اور انہوں نے جے آئی ٹی کے سوالوں کے جواب دیئے تھے-

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران اسپیشل پراسیکیوٹر فرہاد علی شاہ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی حد تک تفتیش مکمل کرلی گئی ہے، جناح ہاؤس مقدمے کی تفتیش میں چیئرمین پی ٹی آئی قصور وار قرار پائے گئے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف ثبوت اکٹھے کرلیے گئے ہیں، وہ تمام کیسز میں گناہگار ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کو اعانت جرم میں چارج کیا جا رہا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار نہ کیا گیا تو ثبوت صفحہ مثل پر لانے میں رکاوٹ ہو گی لہٰذا چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کیا جائے یہ ضمانت کا کیس ہی نہیں ہے۔

    چترال :گلیشئیر پھٹنے سے بڑے پیمانے پر تباہی

    یاد رہے کہ اس سے قبل 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونےکی اندرونی کہانی یہ تھی کہ جے آئی ٹی نے چیئرمین پی ٹی آئی سے 9 مئی سے متعلق سوالات کیے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی، عمران خان ایک گھنٹہ اندر رہے اور ان سے تمام سوالات کا نفرنس روم میں کیے گئے۔

    کاروبار کے دوران انڈیکس میں 600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ

    ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی ارکان کا عمران خان سے کہنا تھا کہ ہم آپ سے صرف پروفیشنل سوالات کریں گے۔ عمران خان سے سوال کیا گیا کہ 9 مئی کو پورے ملک میں جو ہوا اس کی پلاننگ تھی یا اتفاق ؟ اس پر چیئرمین پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ پلاننگ کہیں اور سے ہوئی اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ جے آئی ٹی جانب سے پوچھا گیا تھا کہ آپ کے لوگ کنٹونمنٹ میں کیوں گئے تھے؟ اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ جب کمانڈر مجھے گرفتار کرے گا تو لوگوں نے وہیں جانا تھا-

    وکیل قتل کیس؛ عمران خان کی درخواست پر سماعت کرنے والا بینچ تبدیل کردیا گیا

  • پشاور، سابق ایم پی اے کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد

    پشاور، سابق ایم پی اے کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد

    پشاورانسداد دہشت گردی عدالت نے سابق ایم پی اے ارباب وسیم حیات اور ملک واجد کی ضمانت قبل از گرفتاری درخواست مسترد کردی، پولیس نے دونوں کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا
    پشاور انسداد دھشتگردی عدالت میں سابق اراکین اسمبلی ارباب وسیم حیات اور ملک واجد کی درخواست ضمانت پر سماعت اے ٹی سی کے جج عامر نذیر کی، سابق ایم پی ایز ضمانت قبل از گرفتاری کےلیے آج عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے درخواست ضمانت قبل از گرفتاری مسترد کردی، سابق ایم پی ایز کو تھانہ خان رازق پولیس نے احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا ، ایم پی ایز کے خلاف تھانہ خان رازق میں مقدمہ درج ہیں

  • پرویز خٹک نے چیئرمین پی ٹی آئی کےخلاف باتیں نہیں کیں، بیٹا اشتیاق خٹک

    پرویز خٹک نے چیئرمین پی ٹی آئی کےخلاف باتیں نہیں کیں، بیٹا اشتیاق خٹک

    سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کے بیٹے اشتیاق خٹک کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف باتیں نہیں کیں۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اشتیاق خٹک نے کہا کہ میرے والد کے نام سے منسوب تمام بیانات جھوٹ پر مبنی ہیں، پی ٹی آئی کے ساتھ اچھا وقت گزرا ہے، اس کے خلاف باتیں کیوں کریں۔اشتیاق خٹک نے یہ بھی کہا کہ پرویز خٹک عنقریب سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
    واضح رہے عمر ایوب کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ آپ کو 21 جون کو شو کاز دیا گیا، آپ نے مقررہ مدت کے دوران اطمینان بخش جواب نہیں دیا۔
    نوٹس میں کہا گیا تھا کہ آپ سے پارٹی ممبران سے رابطہ اور پارٹی چھوڑنے کےلیے اکسانے پر پوچھا گیا تھا، آپ کی تحریک انصاف کی بنیادی رکنیت فوری طور پر ختم کی جاتی ہے۔

  • نو مئی کو پی ٹی آئی کے جھتوں نے ریڈیو پاکستان پر حملہ کیا، مریم اورنگزیب

    نو مئی کو پی ٹی آئی کے جھتوں نے ریڈیو پاکستان پر حملہ کیا، مریم اورنگزیب

    مریم اورنگزیب نے پشاور ریڈیو پاکستان کے دورے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سیاسی یتیم ہوچکا ہے، اور کرپشن اور چوری چھپانے کے لئے سازشیں کی گئی،مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں مجھ سے حساب نہ لیا جائے، انہوں نے ریڈیو پاکستان کی عمارت کو پٹرول چھڑک کر جلائی، مریم اورنگزیب نے ریڈیو پاکستان کے عملے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر ٹرانسمیشن بحال کرنے پر عملے نے احسن کردار ادا کیا، سٹوڈیو کی بحالی پر کام شروع ہوگیا، مریم اورنگزیب نے کہا کہ نومئی کوسیاسی دہشت گردوں نے ریڈیو پاکستان میں جلاو گھیراؤ کیا،اور زمان پاک کےباہر سازش کرکے پولیس پرپیٹرول بم گرائے، وزیر اطلاعات نے کہا اس کےبعد اس کی یہ خواہش ہے،کہ مجھ سے فارن فنڈ سےمتعلق نہ پوچھا جائے،لیکن اس سے عوام کے ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے گا،