Baaghi TV

Tag: 9 May

  • جی ایچ کیو حملہ کیس کا روپوش  ملزم گرفتار

    جی ایچ کیو حملہ کیس کا روپوش ملزم گرفتار

    راولپنڈی میں 9 مئی کے پرتشدد واقعات اور جنرل ہیڈ کوارٹر پر حملے کے کیس میں نامزد ایک اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ راولپنڈی پولیس کے مطابق 9 مئی کے واقعات اور جی ایچ کیو پر حملے کے کیس میں نامزد سابق چیئرمین یونین کونسل 18 سجاد حیدر کو گرفتار کر لیا گیا ہے ، ملزم 9 مئی کو جی ایچ کیو پر حملے کے بعد سے روپوش تھا ۔

    جبکہ پولیس نے بتایا ہے کہ حملے کا مقدمہ تھانہ نیوٹاؤن میں دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج ہے اور ملزم کو کیس کی تفتیش کیلئے تھانہ نیوٹاؤن منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ خیال رہے کہ سابق صوبائی وزیر راجہ راشد حفیظ بھی نامزد مرکزی ملزمان میں شامل ہیں تاہم انہیں تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    یاد رہے کہ اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ میں پیش کی گئی پولیس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حسان نیازی جناح ہاوس حملہ کیس کے مرکزی ملزم ہیں انہیں ملٹری ٹرائل کے لئے فوج کے حوالے کردیا گیا ہے۔ ملزم کے وکیل فیض اللہ نیازی نے کہا کہ حسان نیازی کو عدالت نے اپنے پاس طلب کیا تھا، تھانہ سرور روڈ پولیس نے حسان نیازی کو ازخود گرفتار کرکے ملٹری عدالت کےسپرد کردیا ہے۔

    جبکہ گزشتہ دنوں چیئرمین پی ٹی آئی کے بھانجے حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی نے بیٹے کو حبس بے جا میں رکھنے کے خلاف اور بازیابی سے متعلق لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ لاہور ہائیکورٹ نے حسان نیازی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور سے جواب طلب کیا تھا۔

  • تھانہ سرور روڈ میں درج مقدمے کی ایک اور جے آئی ٹی تشکیل

    تھانہ سرور روڈ میں درج مقدمے کی ایک اور جے آئی ٹی تشکیل

    محکمہ داخلہ پنجاب نے تھانہ سرور روڈ میں درج مقدمہ کی ایک اور پانچ رکنی جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے جبکہ نو مئی کو جناح ہاؤس سمیت دیگر حساس تنصیبات کے جلاؤ گھیراؤ کا تھانہ سرور روڈ میں درج مقدمہ کی ایک اور پانچ رکنی جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔ جس میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن عمران کشور جے آئی ٹی کی سربراہی کریں گے جب کہ ایس پی انویسٹی گیشن سٹی ڈویژن رضا تنویر، ایس پی اے وی ایل ایس لاہور زاہد پرویز اور اے ایس پی تیمور خان کمیٹی کا حصہ ہیں۔

    جبکہ اس کے علاوہ پانچ رکنی جے آئی ٹی میں انچارج انویسٹی گیشن تھانہ فیکٹری ایریا انسپکٹر سرور بھی جے آئی ٹی میں شامل ہیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مقدمہ قتل، اقدام قتل، جلاؤ گھیراؤ، دہشت گردی سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت درج ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کو سائفر کے سیاسی استعمال کی قیمت چکانا پڑے گی۔ خواجہ آصف
    بھتہ طلبی پر ایس ایچ او سول لائن کو ساتھیوں سمیت مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا گیا
    ہم پاکستان میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں. امریکہ
    عمران خان کی عبوری ضمانت میں 8 اگست تک توسیع
    کاروبار کے دوران انڈیکس میں 600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
    خواہش ہے میری اولاد میرے شوہر جیسی خصوصیات کی حامل ہو زارا نور عباس

    دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی مذکورہ مقدمہ کی تفتیش نئے سرے سے کرے گی، مقدمہ چیئرمین پی ٹی آئی، اسلم اقبال، محمود الرشید سمیت دیگر کے خلاف درج ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق 9 مٸی واقعات پر صوبے میں 50 سے زائد عسکری ٹاور جب کہ جناح ہاؤس کے واقعات پر 15 کے قریب جے آئی ٹیز تشکیل دی جاچکی ہیں۔

  • پی ٹی آئی نے پرویز خٹک کے الزامات کی تردید کردی

    پی ٹی آئی نے پرویز خٹک کے الزامات کی تردید کردی

    ترجمان تحریک انصاف نے پرویز خٹک کے الزامات کی تردید کردی ہے جبکہ ان الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خٹک ممکن ہے کہ الزامات کے ذریعے نئی کنگز پارٹی میں اپنے لیے کسی مرکزی عہدے کی راہ ہموار کر رہا ہے جبکہ تحریک انصاف نے پرویز خٹک کے حالیہ بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان سراسر لغو، بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے جس کی کوئی صداقت نہیں اور پرویز خٹک پارٹی کے عہدوں سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ان الزامات سے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ عمران خان کو 9 مئی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں جو سراسر جھوٹ ہے۔

    پی ٹی آئی ترجمان کے مطابق پرویز خٹک بطور صوبائی صدر پارٹی کے تمام فیصلوں میں مکمل طور پر شریک ہونے کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی رابطے میں تھے لیکن اب انہیں پریس کانفرنس کے بعد عمران خان کے فیصلے غلط نظر آنے لگے ہیں اور اگر ان کو پارٹی کے کئے ہوئے فیصلوں سے اختلاف تھا تو اسی وقت عہدے اور پارٹی رکنیت سے مستعفی کیوں نہ ہوئے تھے؟ لہذا کیا وجہ تھی کہ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کیلئے انہوں نے 9 مئی کا انتظار کیا اور قوم گواہ ہے کہ عمران خان نے اپنی 27 سالہ سیاست میں ہمیشہ پر امن احتجاج کی بات کی ہے۔

    تحریک انصاف کی جانب سے مزید کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے پچھلے 1.5 سال میں 100 سے زائد جلسے کیے لیکن ایک گملا تک نہ ٹوٹا، عمران خان نے 25 مئی اور 26 نومبر کے دھرنے بھی انتشار کے خدشے کے پیش نظر منسوخ کئے، عمران خان پر قاتلانہ حملے کے باوجود ملک میں کوئی پر تشدد کاررائیواں نہیں کی گئیں، نو مئی کے ہنگاموں کے وقت عمران خان ریاست کی قید میں تھے اور ان کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں تھا،پرویز خٹک کو پارٹی رہنماؤں کو پارٹی چھوڑنے پر اکسانے کیلئے شو کاز نوٹس جاری کیا گیا۔

    ترجمان پی ٹی آئی کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ پرویز خٹک جھوٹے الزامات لگانے کی بجائے فیصلہ کریں کہ انہوں نے پارٹی میں رہنا ہے کہ نہیں، شاید پرویز خٹک اس قسم کے الزامات کے ذریعے نئی کنگز پارٹی میں اپنے لیے کسی مرکزی عہدے کی راہ ہموار کر رہے ہیں، پرویز خٹک اچھی طرح جانتے ہیں کہ تحریک انصاف چھوڑنے کے بعد ان کا سیاسی مستقبل ختم ہو چکا ہے، عمران خان یا پی ٹی آئی پر بے بنیاد الزمات لگا کر یہ اپنی کھوئی ہوئی عزت بحال نہیں کر سکتے ، پاکستانی قوم تمام لوٹوں کو پہلے ہی یکسر مسترد کر چکی ہے،ان جھوٹ پر مبنی بے ہودہ ہتھکنڈوں سے پرویز خٹک سمیت تمام منحرف اراکین قوم میں اپنی رہی سہی عزت بھی گنوا دیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سویٹزرلینڈ کے اعلی سطح وفد اگلے ہفتے پاکستان دورے کا امکان
    سعودی شہزادہ طلال بن عبدالعزیز آل سعود سپردخاک
    دو گروپوں میں تصادم، 4 افراد جاں بحق
    دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
    صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کا بِل واپس لینے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی نے 17 رکنی کراچی نگراں کمیٹی کا اعلان کر دیا
    تاہم خیال رہے کہ عید کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے پی ٹی آئی کی جانب سے موصول ہونے والے شوکاز نوٹس پر کہا تھا کہ میں کوئی سرکاری ملازم تو نہیں جو مجھے شوکاز ملا ہے۔ میں نے ہمیشہ عوامی سیاست کی ہے۔ ہماری صوبے کی اپنی روایات ہیں، ہم سیاست میں دشمنی نہیں کرتے۔ پارٹی اراکین سے رابطے کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔