Baaghi TV

Tag: .

  • قومی اسمبلی اجلاس،پانی کی قلت بارے جواب نہ آنے پر اسپیکر برہم

    قومی اسمبلی اجلاس،پانی کی قلت بارے جواب نہ آنے پر اسپیکر برہم

    اسپیکرایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کااجلاس ہوا

    ملک میں پانی کی قلت سے متعلق سوال کا جواب نہ آنے پر اسپیکر برہم ہو گئے، کہا سیکریٹری آبی وسائل کہاں ہیں؟ اسپیکرایاز صادق نے سیکریٹری آبی وسائل کو طلب کر لیا ، ایاز صادق نے کہا کہ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر پارلیمنٹ کو سنجیدہ نہیں لے رہے،ایک ماہ سے سوال کا جواب کیوں نہیں آیا؟ قرارداد پاس کریں گے کہ سیکریٹری آبی وسائل پارلیمنٹ کو سنجیدہ نہیں لیتے، بعد ازاں وزارت آبی وسائل کی جانب سے قومی اسمبلی میں تحریری جواب جمع کروایا گیا جس میں بتایا گیا کہ ملک بھر کے 29 شہروں کے 61 فیصد پانی غیر صحت بخش قرار دیئے گئے ہیں،

    قومی اسمبلی اجلاس،وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے وقفہ سوالات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10 سال میں پن بجلی منافع کی مد میں خیبر پختونخوا کو 216 ارب روپے اداکئے ، پنجاب کو 73 ارب اور آزاد کشمیر کو 3 ارب 36 کروڑ روپے ادا کئے گئے ،فروری2024 تک پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں خیبر پختونخوا کے 36 ارب روپے واجب الادا ہیں،پنجاب کے 72 ارب اور آزاد کشمیر کے 37 کروڑ 90 لاکھ روپے واجب الادا ہیں، اعدادوشمار پر اعتراض ہے تو ساتھ بیٹھ کر جائزہ لینے کے لئے تیار ہیں

    کرتار پورطرز پر بھارت سےکوئی مذہبی راہداری شروع کرنے کی تجویز زیر غور نہیں،سالک حسین
    قومی اسمبلی اجلاس:وزیر مذہبی امور چوہدری سالک حسین نےوقفہ سوالات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ کرتار پورطرز پر بھارت سےکوئی مذہبی راہداری شروع کرنے کی تجویز زیر غور نہیں،کرتار پور راہداری پر یاتریوں کی تعداد اتنی نہیں جتنی ہونی چاہیے،پاکستان سکھ یاتریوں کو تمام خدمات فراہم کر رہا ہے،بھارت کی جانب سے سکھ یاتریوں کی گردوارہ دربار صاحب آمد کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں،پاکستان کرتار پور راہداری کے ذریعے یومیہ 5 ہزار سکھ یاتریوں کی میزبانی کی گنجائش رکھتا ہے، معاملہ بھارت کے ساتھ سفارتی سطح پر اٹھانے کی ضرورت ہے

    میر منور علی تالپور نے کہا کہ پہلے کراچی سے میرپورخاص کیلئے متعدد ٹرینیں چلا کرتی تھیں، اب ایک ہی ٹرین چلتی ہے اور وہ بھی کھٹارا ہے۔میرپورخاص سے پنجاب اور ملک کے دیگر شہروں کیلئے کوئی ٹرین کیوں نہیں چلائی جاتی ہے۔وقفہ سوالات کے دوران رکن قومی اسمبلی رعنا انصر نے میرپور خاص سے کراچی جانے والی مہران ایکسپریس ٹرین سے متعلق سوال کیا کہ کب کھولی گئی جس پر وفاقی وزیر جام کمال خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مہران ایکسپریس کب کھولی گئی تاریخ وزارت بتا سکتی ہے لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ ٹرین چلا دی گئی ہے،ریلوے کے افسران سے تاریخ لے کر بتاتا ہوں،

    پمز کو سندھ کے سرکاری اسپتالوں کے طرز پر کیوں نہیں بنایا جاتا،ڈاکٹر مہرین بھٹو
    ڈاکٹر مہرین بھٹو نے کہا کہ پمز اسپتال میں کرپشن کا بازار گرم ہے، یہاں ادویات موجود نہیں، اگر کسی مریض کا آپریشن ہو تو اس کے رشتہ دار آپریشن کیلئے آلات،ادویات اپنی جیب سے خرید کر لاتے ہیں،پمز کو سندھ کے سرکاری اسپتالوں کے طرز پر کیوں نہیں بنایا جاتا،یہ واحد ہسپتال ہے پبلک سیکٹر کا اور اسکے پاس بہت بڑا علاقہ لگتا ہے، لیکن یہاں سہولیات نہیں ہیں، مریض اور انکے لواحقین رل رہے ہیں،

    گلی محلے میں گلی ڈنڈا کھیلنے والے نامور کرکٹر بنتے تھے،آج بھی وہی والی ٹیم چاہئے، طاہرہ اورنگزیب
    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکنِ اسمبلی طاہرہ اورنگزیب اور پی ٹی آئی کے رہنما نثار احمد جٹ کے درمیان دلچسپ مکالمے پر ہال قہقہوں سے گونج اٹھا،طاہرہ اورنگزیب نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم میں سیلیکشن کا طریقہ کار کیا ہے، پہلے بہت نامور کھلاڑی پیدا ہوا کرتے تھے، گلی محلے میں گلی ڈنڈا کھیلنے والے نامور کرکٹر بنتے تھے، آج کی ٹیم کی سمجھ ہی نہیں آتی، ہمیں وہی والی ٹیم چاہیے، آج اسی ٹیم کی ضرورت ہے، ضرورت ہے کہ اسکولوں اور کالجز سے لڑکے قومی ٹیم میں لیے جائیں، بصورتِ دیگر اس ٹیم اور کھیل پر پابندی لگا دینی چاہیے، وہ کھلاڑی کہاں چلے گئے جو پاکستان کو فتح سے ہمکنار کرتے تھے؟

    نثار جٹ نے طاہرہ اورنگزیب کو لقمہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ جس کی بات کر رہی ہیں وہ آج جیل میں ہے،نثار جٹ کے طاہرہ اورنگزیب کو لقمہ دینے پر ایوان میں قہقے گونج اٹھے،طاہرہ اورنگزیب نے نثار جٹ کے اس جملے پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہیں نہیں وہ جاوید میانداد، مدثر نذر اور دوسرے کھلاڑی تھے، کرکٹر ماہانہ لاکھوں لیتے ہیں لیکن کسی قومی المیے میں کبھی انہوں نے عطیہ بھی دیا؟ پہلے تو کھلاڑی قومی سانحات میں حصہ لیتے تھے۔

    سکول میں بڑا جنسی سیکنڈل،طالبات سےزیادتی،بنائی گئیں برہنہ ویڈیو

    بھارت کا سب سے بڑا سیکس سیکنڈل،مودی کے اتحادی نے کی 400 خواتین سے زیادتی

    ایک اور مدرسہ، ایک اور جنسی سیکنڈل،ایک دو نہیں ،کئی بچوں سے بدفعلی

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    کوئٹہ نازیبا ویڈیو سیکنڈل،عدالت نے دو ملزمان کو بری کر دیا

    گیارہویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ 7 ملزمان کی 48 گھنٹے تک اجتماعی زیادتی

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

  • جج ہمایوں دلاور نے ہدایت پر سزا سنائی،سپریم کورٹ میں درخواست

    جج ہمایوں دلاور نے ہدایت پر سزا سنائی،سپریم کورٹ میں درخواست

    پی ٹی آئی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو میرے خلاف تمام مقدمات کی شنوائی سے روکا جائے،میرے تمام مقدمات اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور یا پشاور ہائیکورٹس منتقل کیے جائیں،عدالتی فیصلہ ہونے تک جسٹس عامر فاروق کو مقدمات کی سماعت سے روکا جائے،

    سپریم کورٹ میں درخواست آرٹیکل 186 اے کے تحت دائر کی گئی ،درخواست ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ کی وساطت سے دائر کی گئی ،درخواست میں کہا گیا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے میرے خلاف تعصب کے بارے میں ٹھوس شواہد موجود ہیں، مجھے جیل میں رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے تاکہ میں انتخابات میں حصہ نہ لے سکوں،مجھے میرے قانونی حقوق سے محروم رکھا جا رہا، جج ہمایوں دلاور مجھے سزا دینے کے لیے تیار تھا اس لیے میرا مقدمہ اس کے پاس بھجوایا گیا،جج ہمایوں دلاور مجھ سے نفرت کرتا ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایت پر جج ہمایوں دلاور نے مجھے سزا سنائی،

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کو سزا سنائی ،جس کے بعد عمران خان اٹک جیل میں ہیں، جج ہمایوں دلاور پر پی ٹی آئی نے اعتراض عائد کیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی تا ہم عدالت نے دو بار یہی فیصلہ دیا تھا کہ جج ہمایوں دلاور ہی کیس کو سنیں گے جس کے بعد پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جج ہمایوں دلاور کیس کا فیصلہ سنا چکے ہیں اور عمران خان جیل میں ہیں

    عمران خان کو جب زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل لے جایا گیا تھا تو ابتدائی ایام میں عمران خان کو جیل میں مشکلات کا سامنا تھا ، انکو ایک چھوٹی سی بیرک میں رکھا گیا تھا اور واش روم بھی اسی بیرک کے اندر ہی موجود تھا تا ہم اب عمران خان کو جیل میں سہولیات ملنے لگ گئی ہیں،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • پیسے سپریم کورٹ میں،چاہتے ہیں وہ رقم کراچی سکیمز پر لگائی جا سکے،وزیراعلیٰ سندھ

    پیسے سپریم کورٹ میں،چاہتے ہیں وہ رقم کراچی سکیمز پر لگائی جا سکے،وزیراعلیٰ سندھ

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں وزیراعلیٰ سندھ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی پر مشتمل بنچ نے درخواست پر سماعت کی ،دوران سماعت وکیل نالہ متاثرین نے عدالت میں کہا کہ متاثرین کو ابتک صرف دو چیک ادا ہوئے ہیں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے عدالت میں کہا کہ مجموعی طور پر 6 ہزار 932 گھر ہٹائے گئے، گجرنالہ، اورنگی نالہ اور محمود آباد نالہ سے یہ گھر ہٹائے گئے،عدالت نے استفسار کیا کب تک بقیہ چیک ادا ہو جائیں گے، مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ آئندہ 6 مہینے میں ادا ہو جائیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بتائیں، آپ کی توہین عدالت درخواست کیا ہے؟ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ 2سال میں چیک کی 4 اقساط ادا کی جانی تھیں اب تک صرف 2 چیک کی اقساط ادا کی گئیں عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہا کہ سی ایم صاحب، چیف سیکرٹری صاحب آگے آ جایئے،

    مرتضیٰ وہاب نے عدالت میں کہا کہ محمود آباد کے چیکس کا 2 سالہ پیریڈ شروع ہو چکا ہے، کچھ لوگ تیسرا اور چوتھا چیک بھی لے چکے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اس معاملے میں کوئی فوکل پرسن تعینات نہیں کیا باہر لوگوں کا احتجاج چل رہا ہے، میئر کراچی صاحب آپ میئر ہیں،سی ایم صاحب آپ نے حلفیہ بیان دیا تھا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ میں تیسری، چوتھی سماعت میں پیش ہو رہا ہوں، 2020 میں کراچی میں شدید برسات ہوئی،2007 کی برسات میں کئی ہلاکتیں ہوئیں،نگران وزیراعلیٰ آج حلف رہے ہیں آج تک وزیراعلیٰ ہوں، 2020 کی بارش کے بعد سپریم کورٹ نے نالے صاف کرنے کا حکم دیا نالوں کی صفائی، متاثرین بحالی کا معاملہ این ڈی ایم اے کا تھا، ایک نیشنل کوآرڈینشن کمیٹی تمام اداروں پر بنائی گئی،یہ ذمہ داری بنیادی طور پر این ڈی ایم اے کی تھی،احساس پروگرام، نیا پاکستان کے تحت 36 ارب روپے رکھے، 2021 میں وفاقی حکومت نے یوٹرن لے لیا،یہ وفاقی حکومت کا ہمیشہ کی طرح یوٹرن تھا،36ارب مختص کرکے وفاقی حکومت نے کہا کہ فری کچھ نہیں دیں گے،میں وکیل نہیں، غلطی کر جاؤں تو معافی چاہوں گا،نالوں سے متعلق این ای ڈی یونیورسٹی سے سروے کروایا گیا متاثرین کی تعداد ہیرا پیھری سے 6 ہزار 932 پر لاک کردی،وفاق سے جو فنڈز آنے تھے وہ نہیں دیئے گئے سکیم بنائی، جو 10 اب روپے کی تھی،رقم نہیں تھی پھرسپریم کورٹ سے رجوع کیا،نجی ہاؤسنگ سکیم کے پیسے سپریم کورٹ میں پڑے ہیں ہم چاہتے ہیں وہ رقم کراچی سکیمز پر لگائی جا سکے

    جسٹس محمد علی مظہر نے وزیراعلیٰ سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آخری آرڈر میں تو آپ نے حلفیہ بیان لکھا ہوا ہے،مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت متاثرین کی بحالی سے مکر گئی ،مگر کچھ فنڈز کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں،سارے فنڈز تو سندھ حکومت سے جنریٹ نہیں ہوتے،ایک جینئن ایشو سیلاب آیا 2022 میں،یو این سیکرٹری کا سندھ کے سیلاب پر بیان ریکارڈ پر موجود ہے،صرف ریلیف پر 66 بلین روپے خر چ ہوئے،یہ سیلاب ریلیف فنڈز وفاقی اورصوبائی تھا،وزیراعلیٰ سندھ تو کچھ نہیں ہوتا کابینہ ہوتی ہے، مصطفی امپکس کیس میں کابینہ ذمہ دارہوتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہ یہ بات تو حلفیہ بیان دیتے وقت کہنی تھی آپ نے، یہ بتائیں، 2 چیک کب دیں گے؟مراد علی شاہ نے کہا کہ 3 آپشنز بنائے تھے، متاثرین بحالی کے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپشنز میں آپ نے ٹائم نکال دیا نہ ،مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ 7 دن چیک بنانے میں لگیں گے،7 دن کے اگلے 30 دن میں چیک متاثرین کو دے دیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایسا نہ ہو لوگ کل ہی سے آنا شروع ہو جائیں، چیف سیکرٹری صاحب!یہ چلے جائیں گے اگلی حکومت آئے گی،یہ سب معاملات آپ نے دیکھنے ہیں ،

    وزیر اعلیٰ کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس،عدالت کا واپس لینے سے انکار
    سپریم کورٹ نے گجر نالہ کیس میں وزیر اعلیٰ کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس لینے سے انکار کر دیا،دوران سماعت عدالت نے حکم دیا کہ ایک مہینے میں تمام متاثرین کو چیک دیے جائیں اورابتدائی رپورٹ 15 دن میں عدالت کے سامنے پیش کی جائے ،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے اکاؤنٹ میں 462 ارب روپے سے زائد رقم جمع ہے جو سندھ کے عوام کی ہے اگر سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع رقم سندھ حکومت واپس چاہتی ہے توعدالت میں درخواست دائر کرے ، عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک مہینے کیلئے ملتوی کر دی

    عدالت پیشی کے بعد وزیراعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سارا کام کرتے رہے لیکن رپورٹ جمع نہ کرا سکے ،سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت لوگوں کو بےگھر کرنے کے حق میں نہیں ہوتی، وفاق نے معاملہ اپنے ذمہ لیا پھر یو ٹرن لے لیا،اس وقت کی وفاقی حکومت نے 36 ارب دینے کا معاہدہ کیا بعد میں مکر گئے،ہم سارا کام کرتے رہے لیکن ماہانہ رپورٹ جمع نہیں کرا سکے، رپورٹ جمع نہ کرانے پر عدالت سے معذرت کی،عدالت نے کہا کہ 7 دن میں چیکس تیار کریں ، 30 دن میں متاثرین کو دیئے جائیں، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عدالت کو یقین دلایا ہے کہ ہماری حکومت مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں ہے، سپریم کورٹ میں پڑا 462 ارب سندھ کا پیسہ ہے،حکومت نے نیک نیتی سے اس پر کام کیا ہے،عدالت نے ہدایت کی کہ کمشنر کراچی چیک کی ادئیگی میں شفافیت کو یقینی بنائیں،عدالت جب بھی بلائے گی پیش ہوں گا، بے گھر افراد کے چیک 15 روز میں تیار کر دیں گے، بے گھر افراد کے پلاٹ اور تعمیر کے پیسے دینے کو تیار ہیں،

    مفتی عزیز الرحمان کا اعتراف جرم، کہا بہت شرمندہ ہوں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل، پولیس نے مانگا مفتی کا مزید”جسمانی” ریمانڈ

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل ،مفتی عزیز الرحمان کی عدالت پیشی، عدالت کا بڑا حکم

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل،مفتی عزیز الرحمان کے بیٹوں کی درخواست ضمانت پر ہوئی سماعت

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،خواجہ آصف کے ریمارکس پر پی ٹی آئی سینیٹرز کا احتجاج

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،خواجہ آصف کے ریمارکس پر پی ٹی آئی سینیٹرز کا احتجاج

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے، اجلاس سے اراکین اظہار خیال کر رہے ہیں،

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے سینیٹر میاں رضا ربانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کی توجہ آج کے آرڈر آف دا ڈے میں بے قاعدگیوں کی طرف مبذول کراؤں گا بلز ابتداء میں پارلیمنٹیرینز کو مہیا کر دیئے گئے ہوں گے ترامیم والے بلز کی نقلیں ہمیں اب تک مہیا نہیں کی گئیں ترامیم کو اصل قوانین کے ساتھ پڑھے بغیر کیسے پاس کیا جا سکتا ہے؟ مشترکہ اجلاس کو بھی سینیٹ اور قومی اسمبلی کی طرح بے توقیر کیا جا رہا ہے سینیٹر میاں رضا ربانی نے ایوان کے رولز آف بزنس کی شک 7 پڑھ کر سنا دی اور کہا کہ ترمیم کی صورت میں لازم ہے کہ ممبر کو ایک دن کا نوٹس ملے یہاں اب تک ایک ترمیم بھی ایک بھی فاضل ممبر کو نہیں ملی استدعا ہے کہ آپ ترامیم کو متعارف کئے جانے کی اجازت نہ دیں ،بہت سی حساس ترامیم متعارف کرائی جا رہی ہیں ،رضا ربانی نے اسپیکر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک اگر آپ ان ترامیم کی اجازت دیتے ہیں تو آپ پارلمینٹ کو بے توقیر کرنے کے کھیل کا حصہ بن جائیں گے، اگر ان ترامیم پر کل غور کیا جاتاہے تو قیامت نہیں آ جائے گی

    کوئی شرم کوئی حیا بھی کرنی چاہیے،خواجہ آصف ایک بار پھر برس پڑے
    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ، وزیر دفاع خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومت میں ایک منٹ میں 54 قوانین بھی پاس کئے گئے ہیں،ایسی بات کرتے ہوئے کوئی شرم کوئی حیا بھی کرنی چاہیے، اس وقت ان کا ضمیر کہاں تھا ؟ اسی سانس میں اسمبلی کو غیر آئینی طور پر تحلیل کیا گیا،اپنا دامن دیکھیں پھر ہمیں لیکچر دیں، خواجہ آصف کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی سینیٹرز اور خواجہ آصف کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ اس شخص کا کوڑا کرکٹ رہ گیا جو آرمی چیف کو قوم کا باپ کہتا تھا،خواجہ آصف کے ریمارکس پر پی ٹی آئی سینیٹرز نے شدید احتجاج کیا،

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سینیٹر علی ظفر نے ممبران کو بھیڑیوں کا ریوڑ کہ دیا،اسپیکر قومی اسمبلی نے خواجہ آصف کے کوڑا کرکٹ اور بیرسٹر علی ظفر کے ریمارکس کو کارروائی سے حذف کر دیا

    الیکشن نتائج میں اگر دانستہ تاخیر کی گئی تو ریٹرننگ افسران کے خلاف فوجداری کارروائی ہو گی،
    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑنے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازی ہمارے دل کے بہت قریب ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خط کے ذریعے انتخابات ایکٹ میں ترامیم کی سفارش کی،الیکشن ایکٹ میں ترامیم پارلیمنٹ کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں متعارف کرائی جا رہی ہیں ،اسپیکر نے کہا کہ وزیر قانون الیکشن ایکٹ میں سفارش کردہ ترامیم پڑھ کر سنا دیں، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑنے کہا کہ ٹیکنوکریٹ کی تعریف میں ابہام تھا جسے درست کیا گیا،پریزائڈنگ افسران کی جانب سے رزلٹ روکے جانے کی شکایات ملتی تھیں، فارم 45 کی تصویر بنا کر الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ آفس کو بھیجی جائیں گی،پولنگ افسر کو نتیجے کی دستخط شدہ کاپی فراہم کی جائے گی،رات 2 بجے تک ہر صورت نتیجہ دے دیا جائے گا،اگر دانستہ تاخیر کی گئی تو ریٹرننگ افسران کے خلاف فوجداری کارروائی ہو گی، موجودہ بینک اکاؤنٹ کی ایک ہفتے کی بینک اسٹیٹمنٹ دی جائے گی،بہت سی جگہوں سے لفظ فاٹا ہٹایا گیا ہے،اسپیکر نے کہا کہ ممبران کی طرف سے ایک دن کا نوٹس دینے کا مطالبہ آیا تھا ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ کوئی چیز خفیہ طور پر نہیں ہو رہی، الیکشن کی مدت ختم ہو رہی ہے ہمارا فرض ہے پنڈنگ ترامیم ایوان کے سامنے آئیں، 12 اگست تک قومی اسمبلی نے اپنی مدت پوری کرنی ہے

    پارلیمنٹ کی ساکھ کو بچانا ضروری ہے، بیریسٹر سید علی ظفر
    ممبر پارلیمنٹ سینیٹر بیریسٹر سید علی ظفر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ ہماری ریاست کا اہم ستون ہے اور ایک عظیم ادارہ ہے یہ ادارہ قانون سازی کرتا ہے اور اسکا قانون 22کروڑ عوام پر لاگو ہوتا ہے ملک کے سارے ادارے اسی کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق کام کرتے ہیں ،پارلیمنٹ کا لفظ ایک خاص ڈیبیٹ کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب گفت و شنید کرنا ہے پارلیمنٹ کی ساکھ کو بچانا ضروری ہے ،قانون سازی بلڈوز کی جارہی ہے ,اگر ایسا چلتا رہا تو لوگ پارلیمنٹ کو نہیں ما نیں گے ۔

    ایک طرف پارلیمنٹ کی بالادستی ، دوسری طرف سے آگ لگانے کی بات کرتے ہیں،ایاز صادق
    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ،سردار ایاز صادق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کی رپورٹ میں کوئی ابہام نہیں ہے، اقتدار کے خاطر جان بوجھ کر کی جانے والی غلطیاں تکلیف دہ ہوتی ہیں، پارلیمنٹ پر پہلی دفعہ حملہ کس نے کیا ؟ایاز صادق نے سینیٹر زرقا تیمور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ مجھے ٹوکیں گی تو آپ بھی نہیں بول سکیں گی، انہوں نے جمہوریت کا مذاق بنایا ، یہ ایک طرف پارلیمنٹ کی بالادستی ، دوسری طرف سے آگ لگانے کی بات کرتے ہیں،عدم اعتماد کے آنے کے بعد اسمبلی تحلیل کر کے مذاق بنایا گیا،اسمبلی میں جلاؤ گھیراؤ کر نے کی باتیں کرنے والے اسی اسمبلی میں آکر بیٹھ گئے،کبھی کہتے ہیں استعفے دینے ہیں، کبھی کہتے ہیں اسمبلی جانا ہے،

    دوسری جانب سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا جس میں وقفہ سوالات میں سینیٹر مشتاق احمد نے ایف بی آر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نہیں بلکہ فراڈ بورڈ آف ریونیو ہے ایف بی آر افسران کے اثاثے بھی ظاہر کیے جانے چاہئے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ایف بی آرافسران کے اثاثوں کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارلیمنٹ ہے معلومات تک رسائی کا معاملہ نہیں ہے۔ پارلیمنٹ سپریم ہے اس کی عزت رکھیں ،سینیٹرمشتاق احمد نے کہا کہ ایف بی آرکی ری اسٹرکچرنگ کریں تو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی جب کہ ن لیگی سینیٹر رانا مقبول نے کہا کہ ایف بی آر اہلکاروں کے اثاثے حیران کن ہیں ،اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے ایف بی آر اہلکاروں کے اثاثوں کا معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    ناجائز تعلقات سے منع کرنے پر بیوی نے شوہر کو مردانہ صفت سے محروم کر دیا

    لاہورپولیس کا نیا کارنامہ،نوجوان کو برہنہ سڑکوں پر گھمایا، تشدد سے ہوئی موت

    خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کرنے والے دوملزمان گرفتار

    واش روم میں نہاتی خاتون کی موبائل سے ویڈیو بنانے والا پولیس اہلکار پکڑا گیا

    گھناؤنا کام کرنیوالی خواتین پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں

    پشاور کی سڑکوں پر شرٹ اتار کر گاڑی میں سفر کرنیوالی لڑکی کی ویڈیو وائرل

  • دریائے سندھ میں تین بھائی نہاتے ہوئے ڈوب گئے

    دریائے سندھ میں تین بھائی نہاتے ہوئے ڈوب گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تین بھائی نہاتے ہوئے ڈوب گئے،

    واقعہ حیدر آباد میں پیش آیا، مہران پل کے قریب تینوں بھائی ڈوبے، پولیس ،ریسکیو ادارے موقع پر پہنچ گئے، تین میں سے ایک بھائی کو بچا لیا گیا، دو کی تلاش جاری ہے،اہلخانہ بھی دریا کے کنارے پہنچ چکے ہیں،ریسکیو ٹیموں کا آپریشن جاری ہے، ڈوبنے والے 3 بھائیوں میں سے 1 کو بچالیا گیا، دو کی تلاش ابھی تک جاری ہے

    واضح رہے کہ دریائے سندھ میں شہریوں کے ڈوبنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، رواں برس ماہ اپریل میں بھی تین نوجوان ڈوب کر جاں بحق ہو گئے تھے،دریائے سندھ میں سوجھنڈا کے مقام پر دریا کنارے پکنک منانے گئے ہوئے تھے، ایک نوجوان وضو کرنے گیا لیکن پاؤں پھسلنے سے پانی میں جا گرا،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • 17 ملٹری کورٹس کام کر رہیں،102 شرپسندوں کا ٹرائل ہو رہا،ڈی جی آئی ایس پی آر

    17 ملٹری کورٹس کام کر رہیں،102 شرپسندوں کا ٹرائل ہو رہا،ڈی جی آئی ایس پی آر

    ترجمان پاک فوج میجر جنرل احمد شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد سانحہ نو مئی کے حوالہ سے آگاہ کرنا ہے،نومئی کے واقعہ نے ثابت کیا کہ دشمن جو پچھتر برسوں میں نہ کرسکا وہ مٹھی بھر شرپسندوں نے کیا، نومئی کا سانحہ پاکستان کے خلاف بہت بڑی ساز ش ہے جس کے لئے منصوبہ بندی کی گئی ، ماحول بنایا گیا، جھوٹ پر مبنی بیانیہ بنایا گیا،اب تک تحقیقات میں بہت سارے شواہد مل چکے ہین، افواج پاکستان، شہداء کے ورثا میں نو مئی کے سانحہ پر سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے، افواج پاکستان آئے روز شہدا کے جناز وں کو کندھا دے رہی ہیں، افواج پاکستان کے خلاف گھناؤنا پروپیگنڈہ کیا گیا، شہدا پاکستان کے خاندانوں کی دل آز اری کی گئی، ہم سوال کرتے ہیں کہ کیا قوم کے نوجوانوں نے قربانیاں اسلئے دی تھیں کہ انکی نشانیوں کی بے حرمتی کی جائے شہداء کے ورثاء ہم سب سے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ہماری قربانیوں کی اس طرح بے حرمتی کرنی ہے تو ہم نے جانیں کیوں قربان کی ہیں

    آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں شہدا کے لواحقین کی ویڈیوز چلائی گئیں، جس میں شہداء کے لواحقین نے اپنے جزبات کا اظہار کیا،

    نو مئی نہ بھلایا جائے گا، نہ کسی کو معافی ملے گی،ڈی جی آئی ایس پی آر
    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ یہاں یہ بات کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ کسی بھی ملک و قوم کے استحکام کی بنیاد حکومت،عوام اور فوج کے درمیان احترام کا رشتہ ہے،ملک دشمن قوتوں نے کئی دہائیوں سے کوشش کی کہ فوج اور عوام کے درمیان خلیج ڈال دی جائے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بیرونی ایجنڈے سے تشبیہہ دینے، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا جھوٹا بیانیہ بنایا گیا ،پھر بھی دشمن افواج پاکستان اور عوام کے مابین دراڑ نہ ڈال سکا،افواج پاکستان ان گنت قربانیاں عوام پاکستان کے لئے دے رہی ہیں اور کبھی کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی،افواج پاکستان تمام اکائیوں، مکتبہ فکر کی نمائندگی کرتی ہیں، عوام کو افواج سے جدا نہیں کیا جا سکتا، اسکی گواہی شہدا افواج پاکستان کی قبریں بھی دیتی ہیں جو پاکستان کے تمام صوبوں،بشمول آزاد کشمیر،گلگت میں موجود ہیں،اس تمام حقائق کے باوجود پچھلے ایک سال میں جھوٹے، گمراہ کن پروپیگنڈے کو چلایا گیا اور چلایا جا رہا ہے،نو مئی کو پاکستان کی معصوم عوام کو انقلاب کا جھوٹا نعرہ لگا کر بغاوت پر اکسایا گیا، پاکستان کی افواج میں مکمل ہم آہنگی ہے، 25 مئی کو یوم تکریم شہدا کا پیغام، سات جون کو جاری پریس ریلیز اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملٹری لیڈر شپ نو مئی کے سہولت کاروں اور انکے ایجنڈوں سے آگاہ ہے اور کلیئر ہے کہ سانحہ نو مئی کو پاکستان کی تاریخ میں نہ بھلایا جائے گا، نہ ملوث عناصر،سہولت کاروں کو معاف کیا جا سکتا ہے، سب کو سزائیں دی جائیں گی خواہ انکا تعلق کسی بھی ادارے یا جماعت سے نہ ہو،اس عمل میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کے‌ خلاف سختی سے نمٹا جائے گا،

    سکیورٹی برقرار رکھنے میں ناکامی پر پاک فوج کے اعلیٰ افسران فوج سے فارغ

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ مفصل احتسابی عمل کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ سکیورٹی میں ناکامی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے فوجی تنصیبات اور جی ایچ کیو کے سکیورٹی کے ذمہ داران کے خلاف کاروائیاں کی گئی ہیں , پاک فوج نے خود احتسابی کا عمل مکمل کر لیا ہے لیفٹیننٹ جنرل سمیت3 افسران کو نوکری سے برخاست کردیا گیا ،میجر جنرل اور 7بریگیڈیئرز کیخلاف تادیبی کارروائی ہوچکی ہے، ان سزاؤں سے یہ اندازہ ہو گا کہ فوج میں خود احتسابی کا عمل بغیر کسی تفریق کے مکمل کیا جاتا ہے ،فوجی عدالتوں میں 102 شرپسندوں کا ٹرائل کیا جا رہا ہے ،

    ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کی نواسی بھی اس وقت قانون کی گرفت میں ہیں ,فوج میں جتنا بڑا عہدہ ہو گا ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہو گی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ رواں سال 95 آفیسر و جوانوں نے جام شہادت نوش کیا پوری قوم ان بہادر سپوتوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے اپنی جانیں ملکی سلامتی کے لئے پیش کیں، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی، عوام کے تعاون سے ہر چینلج پر قابو پا لیں گے

    17 ملٹری کورٹس کام کر رہیں،102 شرپسندوں کا ٹرائل ہو رہا،ڈی جی آئی ایس پی آر
    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ ملٹری کورٹ کا سپریم کورٹ میں کیس چل رہا ہے، کچھ حقائق کا جاننا ضروری ہے، 17 سٹینڈنگ کورٹس کام کر رہی ہیں جو پہلے سے فعال تھیں، 102 شرپسندوں کے مقدمات سول کورٹ نے ثبوت اور قانون کے مطابق ملٹری کورٹ میں منتقل کیا ،ان کورٹس میں سول وکیلوں تک رسائی کا حق حاصل ہے، ہائیکورٹ سپریم کورٹ میں اپیل کا حق حاصل ہے، آرمی ایکٹ،آئین پاکستان اور قانون کا کئی دہائیوں سے حصہ ہے، اسکے تحت سینکڑوں مقدمات نمٹائے جا چکے ہیں،تمام حقائق کی موجودگی میں اگر کوئی جھوٹا بیانیہ بنائے تو بنا سکتا ہے، آئین پاکستان ہمارے لئے سب سے مقدم ہے،

    نو مئی کا سانحہ فوج یا ایجینسیوں نے کروایا، اس سے زیادہ گھٹیا بات نہیں کی جا سکتی، ڈی جی آئی ایس پی آر
    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ نو مئی کا سانحہ فوج یا ایجنسیوں نے کروایا اس سے بڑی شرمناک بات کوئی نہیں ہو سکتی، یہ زہریلی سوچ کی عکاسی ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج، تصاویر،کالز ریکارڈنگ سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبہ بندی کے تحت یہ ہوا اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، نو مئی سے پہلے ہی فوج کی قیادت کے خلاف زہن سازی کی گئی، کیا فوجی قیادت نے خود یہ زہن سازی کروائی ،گرفتاری کے چند گھنٹے بعد دو سو سے زائد مقامات پر حملے ہوئے ،لاہور ،پنڈی، میانوالی،چکدرہ، کوئٹہ،پشاور سمیت دیگر شہروں میں کیا فوج نے خود ایجنٹ پھیلائے ہوئے تھے، میں سوال کرتا ہوں کہ کیا ہم نے اپنے ہاتھوں سے فوج کے شہدا کی یادگاروں کو جلایا، غیر ملکی ابلاغ و اشخاص کو ریاست کے خلاف مواد ہم نے خود فراہم کیا، کون نامی بے نامی اکاؤنٹ سے پرچار کر رہا تھا کہ مزید جلاؤ، قبضہ کرو، یہ کون کر رہا تھا، سب سامنے ہے

    آرمی چیف نے مختلف فارمیشنز کے الوداعی دوروں کے ایک حصے کے طور پر سیالکوٹ اور منگلا گیریژن کا دورہ کیا۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرمی چیف کی تعیناتی پر دستخط کر دئیے

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں

    فوری ردعمل نہ دے کر پاک فوج نے انکی سازش کو ناکام بنایا،ڈی جی آئی ایس پی آر
    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ کئی مہینوں سے فوجی قیادت کے خلاف زہن سازی کی جا رہی ہے جب فوجی ردعمل آنا تھا تو انہوں نے مزموم مقاصد پھر پورے کرنے تھے، کچھ جگہوں پر خواتین کو بھی منصوبہ بندی کے ساتھ ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا،یہ کوئی بھی توقع نہیں کرتا تھا کہ ایک سیاسی پارٹی اپنے ہی ملک میں اپنی فوج پر حملہ آور ہو، فوری ردعمل نہ دے کر پاک فوج نے انکی سازش کو ناکام بنایا، یہ ضروری تھا کہ جہاں پر سیکورٹی میں غیر ارداری غفلت یا کوتاہی ہوئی اسکا تعین کیا جائے، اسکی وجوہات دیکھی جائیں، فوج میں خود احتسابی کا ایک سسٹم ہے ،دو ادارہ جاتی انکوائری ہوئی، تمام شواہد کو تفصیلات سے دیکھا گیا اور سفارشات تیار کی گئیں، پھر ایکشن لیا گیا، جتنا بڑا عہدہ، اتنی بڑی زمہ داری،حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج کا ہر افسر یا جوان، کسی بھی علاقے سے فرقے مزہب سے ہو اسکی آخری ترجیح ریاست پاکستان ہے، اس میں کسی کو کوئی ابہام نہیں ہونا چاہئے، یہی وہ جزبہ ہے جس کی وجہ سے ہمارا نوجوان قربانی دے رہا ہے، البتہ جھوٹ کا بیانیہ بنا کر صرف عوام کی آنکھوں میں دھول ڈالی جا سکتی ہے، عوام نو مئی کے بیانئے کو پہچان چکے ہیں

    معاشرے میں بے چینی کو کم کرنے کی ضرورت ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بیانیہ ریاست پاکستان کے خلاف بنایا جاتا ہے غلط بیانات اور فیک ویڈیوز سے یہ بیانیہ چلایا جاتا ہے۔ اسکے ماسٹر مائنڈ کون ہیں؟ سوشل میڈیا پر جو پروپیگنڈہ ہے وہ پاکستان میں وبا کی صورت اختیار کر چکا، بے نامی اکاؤنٹس بھی چل رہے ہیں جو فیک ہیں،ابھی حال میں ہی ایک اکاؤنٹ کا انکشاف ہوا جو خاتون کے نام پر چل رہا تھا لیکن اس کے پیچھے مرد تھا، فیک پروپیگنڈہ کا حل ضروری ہے، حکومت سنجیدگی سے کام کر رہی ہے،جو صحافی کمیونٹی ہے پاکستان کی اسکو چاہئے کہ وہ زمہ دارانہ صحافت کرے، بجائے اسکے کہ سنسنی کی صحافت کرے، معاشرے میں بے چینی کو کم کرنے کی ضرورت ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ جس طرح باقی ادارے ہیں فوج بھی ایک ادارہ ہے، جن معاملات میں حکومت سمجھتی ہے کہ فوج کی ضرورت ہے فوج رول ادا کر سکتی ہے تو اس میں فوج کردار ادا کرتی ہے، یہ آج کی بات نہیں، دہائیوں سے چل رہا ، ہم چھوٹے ہوتے تھے تو فوج کو صفائی کرتے بھی دیکھا، فیٹف میں کردار ادا کیا، پولیو کے قطروں میں بھی فوج کردار ادا کرتی ہے، ہمیں اس پر فخر ہے، عوام کے فلاح و بہبود کے لئے اگر جان دے سکتے ہیں تو یہ تو بہت چھوٹی بات ہے،

    اگر اندرونی انتشار کا راستہ نہ روکا تو یہ بیرونی یلغار کا راستہ ہموار کرے گا. ڈی جی آئی ایس پی آر
    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں سانحہ نو مئی کا تدارک کیسے کرنا ہے کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو، اسکا جو رسپانس ہے وہ خالی فزیکل رسپانس نہیں اور ڈومین میں ہے، جو عوامل جن وجوہات کی وجہ سے یہ سانحہ پیش آیا ان تک پہنچا جائے انکا تدارک کیا جائے، جو منصوبہ ساز تھے ان کو بے نقاب کر کے انکا کیفر کردار تک پہنچایا جائے، ہم سب نے اس گھناؤنی سوچ کی نفی کرنی ہے تاکہ دوبارہ واقعہ نہ ہو، مملکت پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ اندرونی انتشار سے ہے، دو شکلیں ہیں ایک دہشت گردی کی صورت میں ہے،جس کے خلاف افواج قربانیاں دے رہی ہیں، دوسری شکل مزموم سیاسی مقاصد کے لئے عدم برداشت ہے جس کا نقطہ عروج نومئی کو دیکھا، اگر اندرونی انتشار کا راستہ نہ روکا تو یہ بیرونی یلغار کا راستہ ہموار کرے گا. اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاک فوج چاہتی ہے کہ تمام سٹیک ہولڈر آپس میں بیٹھ کر قومی اتفاق رائے پیدا کریں، یہ نو مئی کے بعد 15 مئی کو اعلامیہ جاری ہوا، تا کہ ملک میں معاشی استحکام ہو، اسی اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاک فوج ہر ایسے عمل کو سپورٹ کرتی ہے اور کرتی رہے گی،ہمارے لئے تمام سیاسی جماعتیں قابل احترام ہیں،سانحہ 9 مئی ،اس وقت تک انصاف کا منتظر رہے گا، جب تک اس کے منصوبہ سازوں اور سہولتکاروں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا،اگر ایسا نہ ہوا تو کل کو کوئی اور سیاسی گروہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے اس واقعے کو دہرائے گا

    سیاسی جماعت اپنے ہی ملک میں اپنی ہی فوج پر حملہ آور ہو گی،اسکی توقع نہیں کی جا سکتی تھی،ڈی جی آئی ایس پی آر
    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ نو مئی کے واقعہ کا مقصد تھا کہ فوج سے فوری ردعمل لیا جائے، نقصان ہو اور اس پر سیاست کی جائے، اس کے لئے منصوبہ بندی کی گئی تھی، لوگوں کے بیانات سنیں، سی سی ٹی وی فوٹیج ہے، آڈیو ریکارڈنگ ہے، ویڈیو ریکارڈنگ ہے واضح ہو چکا کہ یہ سب طے شدہ طریقے سے کیا گیا،ہمارے ہی ملک میں ایک سیاسی جماعت اپنے ہی ملک میں اپنی ہی فوج پر حملہ آور ہو گی،اسکی توقع نہیں کی جا سکتی تھی،فوج کا جو خود احتسابی کا اپنا سسٹم ہے، غیر ارادی غلطی، کوتاہی میں ملوث افراد کو سزائیں دی گئیں، جھوٹے بیانئے بنائے جا رہے ہیں، میں آپکے سامنے کھڑا ہوں، کس علاقے سے ہوں، کس فرقے سے ہوں کس سیاسی جماعت سے وابستگی ہے یہ بعد میں فوج اور ریاست پہلے، جب ہم کسی کو آرڈر دیتے ہیں کہ جاؤ اور کود جاؤ، تو جانتے بوجھتے بھی ملک کی خاطر ، فوج کی خاطر قربانی دیتا ہے، کوئی جھکاؤ تھا، کوئی سازش تھی،لوگ پروپیگنڈہ کرتے ہیں،

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ فوج کی الیکشن ڈیوٹی ہوتی ہے، اس کے علاوہ باتیں سب مبالغہ آرائی ہیں،فوج کا موقف 15 مئی کے اعلامیہ میں واضح ہے کہ سیاسی استحکام کے لئے ضروری ہے کہ سٹیک ہولڈر بیٹھیں اتفاق رائے، اسکو سپورٹ کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے، جب ہم نے کہہ دیا کہ ادارہ جاتی انکوائری ہوئیں تو اس میں یہی جانچا گیا کہ یہ لائن کراس ہوئی، یہاں پر سیکورٹی کی غفلت ہوئی، اسکو کس حد تک روکا جا سکتا تھا ،بلوائی، شرپسند آئے، غفلت کی نوعیت کو جانا گیا اور زمہ داران کیخلاف کاروائی ہوئی،

  • مرتضیٰ وہاب کی میئر کراچی کی حیثیت سے تقرری کا نوٹیفیکیشن چیلنج

    مرتضیٰ وہاب کی میئر کراچی کی حیثیت سے تقرری کا نوٹیفیکیشن چیلنج

    سندھ ہائیکورٹ: مرتضیٰ وہاب کی میئر کراچی کی حیثیت سے تقرری کا نوٹیفیکیشن چیلنج کر دیا گیا،

    سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخؤاست میں کہا گیا ہے کہ 16جون کو الیکشن کمیشن کی جانب سے مرتضیٰ وہاب کی میئر کی حیثیت سے تقرری کا نوٹیفیکیشن معطل کیا جائے، درخواست گزار محمد عامرکا کہنا تھا کہ مرتضیٰ وہاب کو الیکشن لڑنے کیلیے جو قانون بنایا گیا وہ آئین سے متصادم ہے ،مرتضیٰ وہاب کے انتخاب کے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے،آئینی درخواست میں صوبائی حکومت ،الیکشن کمیشن پاکستان اور مرتضیٰ وہاب کو فریق بنایا گیا ہے معاملے کی فوری نوعیت کے پیش نظر منگل 20جون کو سماعت کی درخواست کی گئی ہے۔

    میئر کراچی کی تقریب میں پی پی نے حافظ نعیم کو بھی دعوت دی ہے جنہیں مرتضیٰ وہاب کے مقابلے میں شکست ہوئی ہے،میئر کراچی کے انتخابات میں مرتضیٰ وہاب کو 173 ووٹ ملے تھے جبکہ جماعت اسلامی کے حافظ نعیم کو 160 ووٹ ملے تھے

    شمولیت سے پارٹی مضبوط سے مضبوط تر ہوگی ,سعید غنی

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف سہراب گوٹھ ٹائون کے سنئیر نائب صدر سمیت تحریک انصاف کے سینکڑوں عہدیداروں اور کارکنوں نے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا۔ پیر کو سردار خان چانڈیو کی سربراہی میں سہراب گوٹھ ٹائون سمیت دیگر علاقوں سے چانڈیو سمیت دیگر مختلف سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف، مسلم لیگ نون و دیگر کارکنوں نے وزیر محنت و افرادی قوت سندھ و صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سہراب گوٹھ ٹائون کے سنئیر نائب صدر ندیم چانڈیو، مسلم لیگ نون کے نومنتخب کونسلر خرم عباسی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر سعید غنی نے تمام شامل ہونے والوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا وژن ہے کہ سب کو ساتھ لے کر مل جل کر چلنا ہے۔ ماضی میں کراچی کے عوام کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا ہے اب ہم اس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ پرانے اور نئے شامل ہونے والے ساتھیوں کی مدد سے ہم نے کراچی میں تمام سیاسی جماعتوں کے مقابلے سب سے زیادہ سیٹیں جیتی ہیں۔ انشاءاللہ مزید آپ لوگوں کی شمولیت سے پارٹی مضبوط سے مضبوط تر ہوگی اور انشاءاللہ آئندہ عام انتخابات میں ہم کراچی سے بھی درجنوں نشستیں حاصل کریں گے۔

    پاکستان پیپلزپارٹی آزادی صحافت کی حمایت جاری رکھے گی۔

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

     اگر دوسرے صوبوں کے ساتھ بھی نا انصافی ہوئی تو آواز اٹھائیں گے 

  • فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، سات خواتین سمیت 9 ملزمان  گرفتار

    فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، سات خواتین سمیت 9 ملزمان گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے فحاشی کے اڈے پر چھاپہ مار کر سات خواتین سمیت 9 ملزمان کو گرفتارکر لیا

    جیکب آباد کے علاقے میں پولیس نے کاروائی کی، ترجمان پولیس کے مطابق تھانہ سول لائن ایس ایس پی جیکب آباد ڈاکٹر سُمیر نور چنہ کے سخت احکامات برائے سماجی برائیوں کی روک تھام کو مدنظر رکھتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ سول لائن مشتاق احمد بنگوارنے اسٹاف پولیس ہمراہ کامیاب کاروائی کی تھانہ سول لائن کی حدود جانی ڈیرو چوک میں واقع فحاشی کا اڈہ چلانے والی خاتون ملزمہ ثناء آرائیں کے اڈے پہ چھاپہ مارا، اس دوران 07 خواتین ملزمان سمیت 09 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جنکی شناخت 01 زین ولد لاشار بگٹی 02 امیر بخش بہرانی 03 دیبا بھٹی 04 نادیہ آڑائیں 05 نیلم آرائیں 06 نازیہ آرائیں 07 فری آرائیں 08 نینا آرائیں 09 چندہ آرائیں کے طور پر ہوئی، ملزمان کے خلاف FIR No. 64/2023 u/s 294 PPC OF PS CIVIL LINE مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،

    عوامی حلقوں نے فحاشی کے اڈے پر چھاپے پر پولیس کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پولیس کو فحاشی پھیلانے والوں کے خلاف فوری کاروائی کرنی چاہئے، عوامی حلقوں کے مطابق غلط کام کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، پولیس کا پر صحیح کام میں ساتھ دیں گے،

    یہ ہے لاہور، ایک ہفتے میں 51 فحاشی کے اڈوں پر چھاپہ،273 ملزمان گرفتار

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    دوسری جانب پنجاب پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں پنجاب کے شہر گوجر خان میں پولیس نے کاروائی کی ہے اور فحاشی کے اڈے پر چھاپہ مار کر پانچ لڑکیاں، سات لڑکے گرفتار کر لیے ہیں ،گوجر خان پولیس نے فحاشی کے بدنام زمانہ اڈے پر چھاپہ مارا ہے، پولیس نے ڈہوک حیات علی میں فحاشی کے اڈے پر کاروائی کے دوران پانچ لڑکیاں اور نو لڑکے گرفتار کرلیے ایس ایچ او ملک نذیر احمد گھیبہ نے پولیس نفری کے ہمراہ ریڈ کیا پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد مقدمہ درج کرلیا اور ساڑھے سات ہزار رقم بھی برآمد کر لی ،اہلیان علاقہ کے مطابق فحاشی کا یہ اڈہ کافی عرصے سے قائم تھا اسکے خلاف اہل علاقہ نے متعدد بار متعلقہ اداروں کو شکایات بھی کیں لیکن بااثر نائکہ کی وجہ سے کاروائی نہ ہو سکی شہریوں نے ایس ایچ او تھانہ گوجرخان ملک نذیر گھیبہ کو اس قبحہ خانے کے خلاف کارروائی پر خراج تحسین پیش کیا ہے

  • میں اس کیس سے اکتا چکا ،قومی اثاثہ مزاق بنا رکھا ہے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    میں اس کیس سے اکتا چکا ،قومی اثاثہ مزاق بنا رکھا ہے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ میں ریلوے گالف کلب کیس کی سماعت ہوئی،

    سپریم کورٹ نے گالف کلب مینیجمینٹ کمیٹی کیلئے بڈنگ کا عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی ،دوران سماعت بڈنگ کے عمل پر عدالت کے سخت ریمارکس سامنے آئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس سارے عمل سے خوش نہیں، میں اس کیس سے اکتا چکا ہوں ،قومی اثاثہ ہے مزاق بنا رکھا ہے ،ریلوے کا بھی ایسا ہی حال ہے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پہلی بلڈنگ میں تمام بڈرز کو مسترد کردیا گیا تھا، اب دوبارہ سے بڈنگ کرنا ہوگی ،گالف کلب حکام نے عدالت میں کہا کہ 4-5 میں دوبارہ بڈنگ کا عمل مکمل ہو گا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے سب بڈرز کو مسترد کرتے جائیں گے تو وقت ضائع ہو جائے گا، شکایت کمیٹی میں تین ریلوے کے ممبران ہیں ،ریلوے ملازمین کو کاروبار یا گالف کا کیا تجربہ ؟

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ممکن ہوتو عائد کردہ شرائط کا بھی جائزہ لیں، جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تو کوالیفائی کے طریقہ کار میں ایشوز نظر آرہے ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ستمبر میں بڈنگ پراسس کی پیش رفت کا جائزہ لیں گے ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت ستمبر تک ملتوی کردی چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی

    سپریم کورٹ نے رائل پام کنٹری کلب اراضی کس کے حوالے کر دی اہم فیصلہ آگیا
    رائل پام کنٹری گالف کلب،وزارت ریلوے نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروا دیا
  • تحریک انصاف کی احتجاجی مہم سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط

    تحریک انصاف کی احتجاجی مہم سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط

    الیکشن نہ ہونے کی صورت میں تحریک انصاف کی احتجاجی مہم کا معاملہ ،تحریک انصاف نے اپنی احتجاجی تحریک سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط کردی

    فی الوقت تحریک انصاف نے کسی بھی لانگ مارچ کا فیصلہ نہیں کیا، چھوٹے بڑے شہروں میں ریلیوں کے انعقاد سے حکومت پر پریشر بنانے کی کوشش کی جائے گی انتخابات کے انعقاد کے لیئے حکومت مخالف لانگ مارچ آخری آپشن ہوگا،سپریم کورٹ کی جانب سے انتخابات کرانے کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہوا تو احتجاجی تحریک کا آغاز ہو گا،احتجاجی تحریک کے پہلے مرحلے میں جلسے اور ریلیاں نکالی جائیں گی ،

    دوسری جانب حماداظہر نے اپنی ٹویٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے چیف جسٹس سے اظہار یکجہتی کے حوالے سے ریلی کا روٹ شیڈول جاری کر دیا، کل بروز ہفتہ، دوپہر تین بجے ، زمان پارک سے لکشمی چوک تک ریلی نکالی جائے گی، ریلی کی قیادت چیرمین عمران خان کریں گے ، حماد اظہر کے مطابق ریلی کا مقصد ملک میں آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کا تحفظ ہے،ریلی کا روٹ زمان پارک، اقبال روڈ (گڑھی شاہو)، ریلوے سٹیشن، نشتر روڈ، میکلوڈ روڈ، لکشمی چوک ہوگا،

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج