Baaghi TV

Tag: .

  • کترینہ کیف کو اردو کس نے سکھائی ؟‌

    کترینہ کیف کو اردو کس نے سکھائی ؟‌

    سب جانتے ہیں کہ کترینہ کیف کو اردو بولنی نہیں آتی تھی انہوں نے فلموں میں‌ کام کرکے اردو اور ہندی سیکھی. لیکن کترینہ کیف کی اردو ایک پاکستانی اداکار نے ٹھیک کی اور اس پاکستانی اداکار کا نام علی ظفر ہے. علی ظفر نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارت میں جا کر کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا. جب میں بھارت میں کام کرنے گیا تو اس دوران کترینہ کیف سے کام کرنے کے سلسلے میں ملاقاتیں رہیں اور کام کے دوران میں نے محسوس کیا کہ کترینہ کیف کو اردو بولنے میں دوقت محسوس ہوتی ہے اس لئے میں نے ان کو اردو سکھائی. انہوں نے کہا کہ آپ کہہ سکتےہیں کہ کترینہ کیف کا اردو سکھانے کے معاملے میں استاد رہا ہوں. انہوں نے یہ بھی کہا کہ

    میں نے ہمیشہ کام کرکے عزت کمائی ہے. میں مقابلے پر یقین نہیں رکھتا نہ ہی کسی کی ٹانگیں‌ کھینچتا ہوں میں خود اچھا کام کرنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھتا ہوں. انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ طیفا انٹربل کو بہت زیادہ پسند کیا گیا، میں ایسی فلمیں بنانے کی کوشش جاری رکھوں گا. انہوں نے کہا کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہوتی ہے اس لئے میں مشکلات سے نہیں گھبراتا ان کا مقابلہ کرتا ہوں .

  • وزیراعظم کا سیاسی قوتوں کو پاکستان دشمن عناصر کے خلاف اتحاد کا پیغام

    وزیراعظم کا سیاسی قوتوں کو پاکستان دشمن عناصر کے خلاف اتحاد کا پیغام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پشاور دھماکے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے سیاسی جماعتوں کو ایک بار پھر اتحاد کا پیغام دے دیا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اپنی گھناؤنی حرکتوں کے ذریعے دہشت گرد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں، یہ لوگ دہشت گردی کے خلاف ہماری محنت سے حاصل کامیابیوں کو پلٹنا چاہتے ہیں، تمام سیاسی قوتوں کو پاکستان دشمن عناصر کے خلاف اتحاد کا پیغام دیتا ہوں ہم اپنی سیاسی لڑائی بعد میں لڑ سکتے ہیں، پاکستان دشمن عناصر کے خلاف ایک ہونے کا وقت ہے

    قبل ازیں سینیٹ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں سانحہ پشاور کے حوالے سے تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمنٹ کے 8 فروری کو ہونے والے مشترکہ اجلاس میں انسداد دہشت گردی کی نئی پالیسی تشکیل دی جائے جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کو بلایا جائے، ایوان کو پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لئے بغیر ٹی ٹی پی سے مذاکرات کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لینا چاہیے پارلیمنٹ میں قومی مذاکرہ کو فروغ دیا جائے، ملک کو دہشت گردی سمیت کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ سیاسی جماعتیں انتخابات کی تاریخ پر بحث میں مصروف ہیں حالانکہ اس حوالے سے آئین میں سب کچھ واضح ہے۔

    سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہا کہ خیبرپختونخوا خون سے لہو لہو ہے، ہمیں اس معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ سینیٹر محمد اکرم نے کہا کہ مضبوط معیشت نہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ سانحہ پشاور کی مذمت کرتے ہیں اور اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، ہم ابھی تک انسداد دہشت گردی پالیسی وضع نہیں کر سکے، ہمیں ماضی سے سبق سیکھ کر درست راہ کا تعین کرنا ہو گا، ہمیں اقتدار کی جنگ چھوڑ کر پاکستان کے لئے متحد ہونا ہو گا، مسائل کے حل کے لئے انتخابات کی طرف جانا ہو گا، 8 فروری کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس معاملے پر بحث کرائی جائے، انسداد دہشت گردی پالیسی کی تشکیل کے لئے ٹاسک فورس قائم کی جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پشاور میں پولیس لائنز کی مسجد میں نماز ظہر کے دوران خودکش دھماکے میں امام مسجد اور پولیس اہلکاروں سمیت شہید ہونے والوں کی تعداد 95 ہوگئی جب کہ 140 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں

    وزیراعظم شہباز شریف پشاور پہنچ گئے،

    مقدس مقام اور عبادت کے دوران حملہ سفاکیت کی انتہاء ہے,مولانا فضل الرحمان

    سیکیورٹی کے باوجود خود کش حملہ آور کیسے مسجد پہنچا انکوائری ہو گی،وزیر داخلہ

    پشاور دھماکہ / شہداء فہرست

    امریکہ، ایران، ترکی، سمیت دیگر ممالک نے بھی مذمت کی

    ہوسکتا ہے کہ حملہ آور پہلے سے ہی پولیس لائنز میں موجود ہو 

    نیشنل ایکشن پلین پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے،

  • چپ تو پہلے بھی جھیلتے تھے مگر،یوم وفات خادم رزمی

    چپ تو پہلے بھی جھیلتے تھے مگر،یوم وفات خادم رزمی

    چپ تو پہلے بھی جھیلتے تھے مگر
    مگر اس قدر کب تھے بے زباں ہم لوگ

    خادم رزمی

    اصل نام:خادم حسین

    تاریخ ولادت:2 فروری 1932ء
    کبیر والا خانیوال، پاکستان
    تاریخ وفات:2 جنوری 2006ء
    خانیوال، پاکستان
    مذہب:اسلام

    خادم رزمی ضلع خانیوال کی تحصیل کبیر والا جنوبی پنجاب کے ایک مشہور شاعر ہیں۔ خادم رزمی کا اصل نام خادم حسین ہے۔
    ولادت
    ۔۔۔۔۔۔
    خادم رزمی کبیر والا کے ایک چھوٹے سے گاؤں محمود والا میں 02 فروری 1932ء کو پیدا ہوئے۔
    معلم
    ۔۔۔۔۔
    خادم رزمی ایک پرائمری اسکول ٹیچر کے طور پر کبیروالا کے مختلف قصبات میں تعینات رہے۔ سروس ریکارڈکے مطابق خادم رزمی 63 سال 8 ماہ ملازمت کرنے کے بعد 1991ء میں گورنمنٹ ماڈل مڈل اسکول دار العلوم کبیروالا میں ریٹائر ہوئے ۔
    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    مولوی فضل دین اور لالہ رام لعل سرگباشی جیسے اساتذہ کی رہنمائی سے خادم رزمی کا شعری ذوق پروان چڑھا۔ ملازمت کا زیادہ تر عرصہ تاریخی شہر تلمبہ میں گزرا۔ جہاں کی اساطیری فضا نے ان کے شعری ذوق کو پروان چڑھانے اور قدیم تہذیبوں سے دلچسپی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ تلمبہ جیسے قدیم تاریخی حیثیت والے شہر میں بزمِ ادب تلمبہ کے زیرِاہتمام ایک ماہانہ مشاعرہ ہوتا تھا ،جس میں خادم رزمی باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے۔ اس کے علاوہ غنضنفر روہتکی، صادق سرحدی ،جعفر علی خان، اسلام صابر دہلوی ،دلگیر جالندھری ،ڈاکٹر مہر عبدالحق، کیفی جامپوری ،وفا حجازی ،اسماعیل نور، بیدل حیدری، ساغر مشہدی، عاصی کرنالی ،جعفر طاہر، شیر افضل جعفری ،اور ضیغم شمیروی جیسے شعرا کی صحبت میسر آئی جنھوں نے ان کی علمی اور ادبی صلاحیتوں کو جلا بخشی ۔
    مجموعہ کلام

    ان کا اردو شعری مجموعہ ”زرِخواب“ یکم فروری 1991ء اور پنجابی شاعری مجموعہ ”من ورتی“1994ء میں شائع ہوا۔ ان کی وفات کے بعد ایک اور پنجابی شاعری مجموعہ ” اساں آپے اُڈن ہارے ہو“ کے نام سے چھپا۔ ان کا کافی غیر مطبوعہ کلام ہے جس میں آشوبِ سفر اور جزائے نعت شامل ہیں۔ طباعت کے مراحل میں ہے خادم رزمی کا زیادہ تر کلام اوراق، فنون ،سیپ، الکلام اور ادب لطیف میں شائع ہوتا رہا ہے۔ انہیں اکادمی ادبیات کی طرف سے پنجابی شعری مجموعہ ”من ورتی“ پر ”وارث شاہ ہجرہ ایوارڈ 1994ء “اور خواجہ فرید ایوارڈ 1998ء بھی مل چکا ہے۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے 2008ء میں ڈاکٹر ممتاز کلیانی کی زیرِ نگرانی امتیاز احمد نے ”خادم رزمی۔ بحیثیت شاعر“” ایم۔ اے کے لیے مقالہ لکھا ۔2006ء میں قلندر عباس نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ڈاکٹر روبینہ ترین کی زیرِنگرانی ”خادم رزمی۔ شخصیت و فن“ کے نام سے ایم۔ فل کے لیے مقالہ لکھا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    خادم رزمی 02 جنوری 2006ء کو وفات پا گئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    آن پہنچے ہیں یہ کہاں ہم لوگ
    اب زمیں ہیں نہ آسماں ہم لوگ

    کل یقیں بانٹتے تھے اوروں میں
    اب ہیں خود سے بھی بد گماں ہم لوگ

    کن ہواؤں کی زد میں آئے ہیں
    ہو گئے ہیں دھواں دھواں ہم لوگ

    چپ تو پہلے بھی جھیلتے تھے مگر
    اس قدر کب تھے بے زباں ہم لوگ

    کب میسر کوئی کنارہ ہو
    کب سمیٹیں گے بادباں ہم لوگ

    بن گئے راکھ اب نجانے کیوں
    تھے کبھی شعلۂ تپاں ہم لوگ

    ہم کو جانا تھا کس طرف رزمیؔ!
    اور کس سمت ہیں رواں ہم لوگ

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہاتھ کٹتے ہیں جہاں سینہ و سر کھلتے ہیں
    ایسے ماحول میں ہم اہل ہنر کھلتے ہیں

    دن نکلتا ہو جہاں خوف کا نیزہ بن کر
    ایسی بستی میں کہاں رات کو در کھلتے ہیں

    کیسے آسیب کا سایہ ہے مرے رستے پر
    گرد چھٹتی ہے نہ اسرار سفر کھلتے ہیں

    ہم نے اک عمر گزاری ہے انہی خوابوں میں
    اب قفس ٹوٹتا ہے اور ابھی پر کھلتے ہیں

    رخ پہ گلشن کے کھلیں جس کے دریچے اکثر
    سوئے صحرا بھی اسی شہر کے در کھلتے ہیں

    جن زمینوں پہ کھرے لوگ بسا لیں خود کو
    راستے سیل بلا کے بھی ادھر کھلتے ہیں

    اہل ساحل سے کہو کشف کی صورت رزمیؔ
    موج کھلتی ہے کبھی ہم پہ بھنور کھلتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • صبا فیصل کی بہو نیہا بھی بول پڑیں

    صبا فیصل کی بہو نیہا بھی بول پڑیں

    سینئر اداکارہ صبا فیصل جنہوں نے گزشتہ روز ایک وڈیو سوشل میڈیا پر جاری کی جس میں انہوں نے منہ بھر کر اپنی بہو کی برائیاں کرتے ہوئے کہا کہ بہو کے ساتھ ساتھ بیٹے سلمان فیصل سے بھی میرا کوئی تعلق نہیں ہے. میں‌کیا میری پوری فیملی کا ان دونوں سے تعلق نہیں‌. نیہا گھر توڑنے والی عورت ہے میں تو پریشان ہوں کہ میرا بیٹا ایسی لڑکی کے ساتھ ساری زندگی گزارے گا. صبا فیصل کی اس وڈیو کے بعد ان کی بہو نیہا نے بھی کیا ہے پلٹ کر وار اور انہوں نے صبا فیصل اور اپنی نند کا نام لئے بغیر کہا ہے کہ جو غلط ہو اس کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے. انہوں نے مزید

    یہ بھی کہا کہ اپنی زندگی کا موازنہ ان کے ساتھ ہرگز نہ کریں جو حرام کے مزے لیتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ وہ آپ سے زیادہ کامیاب نظر آئیں گے یا آپ سے زیادہ مزے کر رہے ہوں گے۔ لیکن اللہ کے سامنے وہ کچھ بھی نہیں ہیں اور اسی بات کی اہمیت ہے۔ نیہا کا یقینا اشارہ اپنی ساس اور نند کی طرف ہی تھا انہوں نے ایک سمجھداری کی کہ ان کا نام نہیں لیا لیکن سننے والوں کو اندازہ ہے کہ انہوں نے اپنے سسرال والون کی ہی بات کی ہے.

  • امیر گیلانی نے خوبصورت الفاظ کے ساتھ ماورا حسین کو سالگرہ کی دی مبارکباد

    امیر گیلانی نے خوبصورت الفاظ کے ساتھ ماورا حسین کو سالگرہ کی دی مبارکباد

    اداکار امیر گیلانی اور ماورا حسین کی دوستی کے چرچے ڈرامہ سیریل ثبات میں کام کرنے کے بعد سے ابھی تک مسلسل ہیں. دونوں ایکدوسرے کے ساتھ سوشل میڈیا پر اپنی محبت کا اظہار کرتے رہتے ہیں. دونوں کا تعلق اور دوستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے. دونوں ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں شامل رہتے ہیں. حال ہی میں امیر گیلانی نے اپنی قریبی دوست ماورا حسین کو دی ہے ان کی سالگرہ کی مبارکباد . انہوں نے سالگرہ کی مبارکباد نہایت ہی خوبصورت الفاظ میں دی ہے. امیر گیلانی نے سوشل میڈیا پر لکھا ایک نوٹ ” سب سے زیادہ اچھی پیاری ، کُول اور مثبت انسان کو سالگرہ کی مبارکباد . امیر گیلانی کی سوشل میڈیا اس پوسٹ کے بعد ان کے مداحوں اور ساتھیوں نے بھی بھی دی ماورا حسین کو ان کی

    سالگرہ کی مبارکباد. یاد رہے کہ امیر گیلانی اور ماورا حسین کی قربتیں ڈرامہ سیریل ثبات کے بعد بڑھیں یہاں تک کہ ان کی شادی کی خبریں بھی گردش کرتی رہیں تاہم دونوں‌نے ابھی تک شادی کی خبر نہیں سنائی. امیر گیلانی اور ماورا حسین ڈرامہ سیریل ثبات کے بعد ابھی تک ایکساتھ کسی بھی ڈرامے میں‌ نظر نہیں آئے. ماورا حسین ویسے بھی کافی وقت سے سکرین سے غائب ہیں اور وہ کسی پراجیکٹ کو کرتی ہوئی نظر بھی نہیں آرہیں. ماورا کے پرستار ان کو سکرین پر دیکھنا چاہتے ہیں.

  • عمران خان بہادرافواج کو سیاسی بیانیہ کا حصہ نہ بنائیں،شیری رحمان

    عمران خان بہادرافواج کو سیاسی بیانیہ کا حصہ نہ بنائیں،شیری رحمان

    عمران خان بہادر افواج کو اپنی سیاسی بیانیہ کا حصہ نہ بنائیں،شیری رحمان

    وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے یومِ دِفاع کے موقع پر پیغام میں کہا ہے کہ 6 ستمبر 1965 کے شہداء، غازیوں اور پاک افواج کے بہادر جوانوں کو سلام پیش کرتی ہوں،

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ اس دن ہماری بہادر افواج نے ملک کے دفاع کی ایک عظیم مثال قائم کی تھی، پوری قوم 6 ستمبر کے عظیم شہداء اور ان کے خاندانون کو سلام پیش کرتی ہے، پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے ہمیشہ جرات اور بہادری سے پاکستان کی سرحدوں کا دفاع کیا ہے، پاک افواج نے ملک کے خلاف ہر جنگ اور سازش کو ناکام بنایا ہے، ہر شہری کو بہادر افواج پر فخر ہے، ملک کے دفاع و سلامتی کے مشن میں پوری قوم پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، افسوس کے آج کل عمران خان پاک فوج کے جرنیلز کے بیچ کشمکش پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کو چاہئے وہ پاکستان کی بہادر افواج کو اپنے سیاسی بیانیہ کا حصہ نہ بنائیں،

    مادروطن کے دفاع میں مسلح افواج کا کردار ناقابل فراموش ہے،خالد مقبول صدیقی
    رہنما ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ مادروطن کے دفاع میں مسلح افواج کا کردار ناقابل فراموش ہے پاک فوج کے جوان ہمیشہ دشمنوں کے سامنے آہنی دیوار ثابت ہوئے، وطن کے دفاع میں مسلح افواج نے جو قربانیاں دی ہیں وہ قوم کا اثاثہ ہیں پاک فوج نے ہر مشکل وقت اور قدرتی آفات میں عوام کی بحالی کیلئے خدمات انجام دیں، لاکھوں جوان اس وقت بھی سیلاب متاثرین کی آبادکاری اور ریسکیو عمل میں مصروف ہیں،

    قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی نے کہا ہے کہ ملکی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں ، دفاعی سلامتی کےساتھ داخلی سلامتی کےلئے بھی قوم متحد ہو،علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ قوم کو مختلف ایشوز پر منقسم کرکے ملک کو کھوکھلا کرنے کی سازشیں کی گئیں اب بھی قوم میں تفریق کا بیج بونے کی کوششیں کی جارہی ہیں جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دینگے،سیلاب سے پورا ملک متاثر ہے، دکھی پاکستانی امداد کے منتظر ہیں، سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے حکومت سمیت تمام رفاحی، فلاحی، مذہبی اداروں و تنظیموں کی کاوشیں لائق تحسین ہیں، آخری متاثر شخص کی بحالی تک اسی جذبے کےساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے،

    لاہور پولیس سرحدوں کے دفاع کیلئے پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے،سی سی پی او لاہور
    سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کا کہنا ہے کہ ملکی بقا اور سلامتی کے لئے پاک فوج کے جذبہ ایثار و قربانی کی کہیں مثال نہیں ملتی،آج کے دن افواج پاکستان نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا،لاہور پولیس ملک کی اندرونی، بیرونی اور نظریاتی سرحدوں کے دفاع کیلئے پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے،یوم دفاع وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا سے تجدید عہد کا دن ہے،پولیس فورس کے افسران اور جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے،دشمن ممالک سوشل میڈیا وار کے ذریعے ہماری نظریاتی سرحدوں پر حملہ آور ہیں،ہمیں ففتھ جنریشن وار میں اپنی نئی نسل کی اخلاقی،دینی اور سماجی اقدار کا دفاع اور تربیت کرنا ہے،لاہور پولیس نے اندرونی سرحدوں اور شہریوں کی حفاظت کیلئے قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا پاکستان انشا اللہ اسلام کا قلعہ ہے اور ہمیشہ رہے گا،

    الحمراء میں یوم دفاع پُروقار اور سادگی سے منایا گیا۔1965کی جنگ کے شہداء کے بلند درجات کے لئے دعا کی گئی۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا محمد رفیع اللہ ٗ تمام افسران وملازمین نے پاک فوج کے بہادر سپوتوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء محمد رفیع اللہ کا کہنا تھا کہ یوم دفاع جنگ ستمبر کی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔اس دن ہمارے وطن کے بہادر سپوتوں نے نئی تاریخ رقم کی۔

    پاکستان شہیدوں، غازیوں کی امانت ہے ،سینیٹر کامل علی آغا
    پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری سینیٹر کامل علی آغا نے کہا ہے کہ6 ستمبر یوم دفاع پاکستان افواج پاکستان کی بے مثال اور لازوال فتح کا دن ہے۔ 6 ستمبرکا دن شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔ ستمبر 1965 ء جنگ کا سب سے بڑا ہتھیار اتحاد اور قومی جذبہ تھا، آج تعمیر پاکستان کے لیے ستمبر 1965 ء والے قومی جذبہ اور حب الوطنی کے مظاہرے کی ضرورت ہے، دفاع وطن پر قربان ہونے والے بری بحری فضائی جوانوں افسروں کی قربانیوں کی وجہ سے آج 21 کروڑ سے زائد عوام آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں، پاکستان شہیدوں، غازیوں کی امانت ہے ہر شہری اس سے پیار کرے اور اس خطہ زمین کی قدر کرے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ ہاؤس میں مسلم لیگ کارکنوں سے یوم دفاع پاکستان کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ 1965کے معرکے میں بھارت کے بزدلانہ حملے کے جواب میں پوری پاکستانی قوم نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔بھارت کے ناپاک عزائم اور پاکستان پر قبضے کی سازش کو عبرتناک شکست ہوئی پاکستان کے غیور عوام ان عظیم شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرینگے۔ یوم دفاع پاکستان ہمارے وقار اور جرات کی علامت ہے اس دن افواج پاکستان اور غیور قوم نے مل کر عیار دشمن کو شکست فاش دی،آج ہمیں اسی جذبہ کو فروغ دے کر ملک کو اندرونی و بیرونی خطروں سے بچانے کیلئے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے ستمبر1965میں دشمن نے ہماری آزادی کو چیلنج کیا اور ہم نے اپنے دفاع کے لئے ہر طرح کی قربانی دے کر دشمن کو شکست فاش دی۔ہمارے شہدا ء کی لازوال قربانیوں کی بدولت وطن عزیر پوردنیا میں سرخرو ہوا افواج پاکستان کے بہادر سپوتوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر ہمارے آج کی حفاظت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ 6ستمبر وطن سے تجدید عہد وفا کا دن ہے۔ہمیں ایک مستحکم خوشحال اور مضبوط پاکستان کے لئے اپنے اختلافات کو بھلا کر جدوجہد کرنے کی ہے شہیدوں کا خون رنگ لائے گا اور پاکستان حقیقی معنوں میں خوشحال و ترقی کی راہوں پر گامزن ہوگا

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

    افغان وار کی سب سے زیادہ قیمت پاکستان نے چکائی، ترجمان پاک فوج

  • تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس کا انسپکٹر مقتول کے کفن کا سودا کرنے لگا

    تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس کا انسپکٹر مقتول کے کفن کا سودا کرنے لگا

    تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس کا انسپکٹر عاشق شاہ مقتول کے کفن کا سودا کرنے لگا۔مدعیہ پر ظلم اور بربریت کی انتہا کردی۔ مقتول کے بھائی سے 4 لاکھ روپے تک کی رشوت وصول کر لی۔ بوڑھی والدہ اور بہنوں کے سامنے قاتل کو کمرہ میں بیٹھا کر مدعیہ سے ڈیل کرنے لگا۔عاشق شاہ کہتا ہے کہ یہ قاتل تیرے دوسرے بچے کا نام لے رہا ہے۔ اگر پیسے دو تو یہ قاتل تیرے دوسرے بچے کا نام نہیں لے گا۔بوڑھی ماں بیٹیوں سمیت در در کے دھکے کھانے پر مجبور ہو گئی۔

    ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے مدعی کو دھمکیاں دینے لگا مقدمہ میں نامزد ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے مقتول کے بھائی سے پانچ لاکھ روپے کی اور رشوت کی ڈیمانڈ کر لی گئی۔کہ اگر پانچ لاکھ روپے نہ دئیے تو تمھارے بھائی کے قتل کے الزام میں تمہیں اندر کروں گا۔ بوڑھی والدہ در در کے دھکے کھانے پر مجبور ہو گئی۔بوڑھی والدہ کا کہنا ہےکہ پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کرتی ملزمان بااثر ہیں۔ان کو عاشق شاہ نے رشوت کے عوض ان کو مقدمہ سے ڈسچارج کروا دیا۔اب ہمیں انسپکٹر عاشق شاہ دھمکیاں دے رہا ہےکہ پانچ لاکھ کی رشوت دو ورنہ تمہارے قتل ہونے والے بچے کا قتل تمہارے دوسرے بچے پر ڈال دونگا۔تم لوگ پیسے سود پر کسی سے مانگ لو۔میں بوڑھی عورت ہوں جاؤں تو جاؤں کہاں؟ تمام دروازے کھٹکھٹا لیے لیکن کچھ نہ بنا.آئی جی سے انصاف کی اپیل کرتی ہوں۔میرا کیس ایماندار افسر کو دیا جائے۔انسپکٹر عاشق شاہ سے میرا 4 لاکھ روپیہ واپس دلوایا جائے۔ جو کہ میرے بیٹے عبران سے اس نے وصول کیا۔ میں بوڑھی ماں ہوں۔عاشق شاہ نے گزشتہ روز ایک ملزم جو میرے بیٹے کے قتل کے وقت سے غائب تھا۔

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    شوبز سے وابستہ لڑکیوں سے کروائی جا رہی جسم فروشی، 60 ہزار میں ہوتا ہے "سودا”

    عاشق شاہ نے پیسوں کی خاطر مجھے اور میری دونوں بیٹیوں کو تھانہ میں اپنے کمرے میں بلوایا۔اور ملزم کو کرسی پر بیٹھا دیا۔اور راشی تفتیشی نے پیسوں کی خاطر ملزم کے ساتھ مل کر ہم پر ہنسا اور ملزم کو کہا کہ جو تم کو بولا ہے ان کو بتاؤ۔ملزم غیور نے کہا کہ تمھارے چھوٹے بیٹے اور داماد نے تیرا بیٹا رضوان مجھ سے قتل کروایا۔ملزم مجھ بوڑھی ماں پر ہنسا اور کہنے لگا کہ عاشق شاہ کو خرچہ لگاؤ یہ مجھے جیسے کہیں گے میں ویسے ہی بیان دونگا۔اور عاشق شاہ کے ساتھ اختر نامی پولیس اہلکار میری بیٹی کو ہراساں کرنے لگا۔اور میری بیٹی کو کہنے لگا کہ میں تم کو بھی بند کر دونگا۔میں بوڑھی ماں اپنی بیٹیوں کو لے کر تھانے سے ذلالت سمیت نکل آئی۔کیا پولس والوں کی کوئی ماں بہن نہیں ہوتی۔میرا ایک بیٹا بھی قتل ہو گیا اور ذلالت بھی میرے مقدر میں کیوں؟میں انصاف کی اپیل کرتی ہوں میرے ساتھ انصاف کیا جائے۔وزیراعظم شہباز شریف وزیر داخلہ اور آئی جی اسلام آباد سے انصاف کی اپیل کرتی ہوں۔ کہ میرے بیٹے کے اصل قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور ایسے پولیس افسر جو پورے محکمے کی رسوائی کرتے ہیں ایسے راشی تفتیشی سے میری جان چھڑوائی جائے۔تاکہ انصاف کا بول بالا ہو سکے۔

  • فرح گوگی اور احسن جمیل گجر کی کرپشن کہانی، بشریٰ بی بی اور فرح نے مافیا کیسے چلایا؟

    فرح گوگی اور احسن جمیل گجر کی کرپشن کہانی، بشریٰ بی بی اور فرح نے مافیا کیسے چلایا؟

    فرح گوگی اور احسن جمیل گجر کی کرپشن کہانی، بشریٰ بی بی اور فرح نے مافیا کیسے چلایا؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کی اس ویڈیو کو دیکھ کر آپ کے چودہ طبق روشن ہونے والے ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو آپ کو نہ صرف احسن جمیل گجر بلکہ فرح گوگی کے ماضی اور حال کے کارناموں کا پول کھولے گی۔ بلکہ اس ویڈیو میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ فرح گوگی بشرہ بی بی کو کیسے ملی۔ کس کس کی جیب کاٹی اور ہیروں اور انگوٹیوں سے پیمنٹ کا نیٹ ورک کیسے چلتا تھا۔ بلکہ اگر میں آپ یہ یہ بتانے لگ گیا کہ کیا کیا بتاوں گا تو اس پر ایک الگ سے ویڈیو بن جائے گی، اس لیے بلا تاخیر ویڈیو شروع کرتے ہیں۔

    خاندانی پس منظر
    احسن جمیل گجر کے آباؤ اجداد 1947 میں گورداسپور، ہندوستان سے ہجرت کر آئے تھے۔ ان کے دادا چوہدری سلطان گجر پھر گوجرانوالہ اور ساہیوال میں 50 سے 100 ایکڑ زرعی زمین کے مالک تھے۔ چوہدری محمد اقبال، احسن جمیل گجر کے والد مسلم لیگ ن کے ایم پی اے اورگجرانوالہ کے ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں۔اور 1985-2018 کے درمیان آٹھ دفعہ ایم پی اے/صوبائی وزیر رہے۔ احسن جمیل گجر نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1996 میں کیا اور پی ایم ایل این حکومت کے دوران 1998 میں چیئرمین ضلع کونسل گوجرانوالہ بنے اور 13 ماہ تک چیئرمین رہے۔ ضلع کونسل گوجرانوالہ کے چیئرمین ہونے سے پہلےاحسن جمیل گجر کاکا مالی پس منظر معمولی تھا۔ وہ اپنی آبائی زمین کے 30 ایکڑ کے مالک تھے اور ایک ناکام کاروبار کے بعد دیوالیہ ہو گئے۔ چیئرمین ضلع کونسل گوجرانوالہ کے طور پر ان کا 13 ماہ کا دور انہیں کروڑ پتی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، انہوں نے پرویز حیدری (اس وقت کی مقامی حکومت گوجرانوالہ) کے ساتھ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں کمیشن کے طور پر لاکھوں روپے بٹورے۔ مدثر قیوم ناہرا، سابق پی ایم ایل این ایم این اے نے بھی ضلع گوجرانوالہ میں ٹول وصولی (محسول چونگی) کا ٹھیکہ حاصل کرنے پر انہیں لاکھوں کا انعام دیا۔

    احسن جمیل گجر2005 میں ایک میگنیٹ کے طور پر ابھرا۔احسن جمیل گجرنے سردار رفیق (سابق ایم پی اے حافظ آباد) کے ساتھ مشترکہ منصوبے میں اپنی خاندانی زمین پر G. Magnola Park Housing Scheme Gujranwalaکا آغاز کیا ، سردار رفیق اس سوسائٹی میں لینڈ فراہم کرنے والا Main contributer تھا ۔ G-Magnolia کی منظوری کے بعد،AJG نے تمام قانونی اور غیر قانونی طریقے استعمال کیے اور فائلوں اور Allocations میں بدعنوانی اور غلط استعمال کے ذریعے عوام سے5,6 ارب روپے کمائے 2006-2007 میں، وہ متحدہ عرب امارات گئے اور مبینہ طور پر سیٹھ عابد کے ساتھ مل کر 30 فلیٹس کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا۔ یہ منصوبہ اس وقت زوروں پر تھا جب اسے عالمی معاشی کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑا اور اسے زبردست مالیاتی دھچکا لگا۔ احسن جمیل گجر نقصانات برداشت نہیں کر سکا اور پاکستان واپس چلا آیا۔اس دور میں آپہ کو یاد ہو گا کہ لوگ اپنی گاڑیاں پارکنگ میں کھڑی کر کے دبئی سے بھاگ گئے تھے۔ اسی عرصے کے دوران 2007۔ 2008 اس نے سیٹھ عابد کے ساتھ مل کر گلبرگ لاہور میں ایک مارکیٹ بنائی۔ اطلاعات کے مطابق احسن جمیل گجر نے ایڈن گارڈن ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور کے مالک ارشد (مرحوم) کے ساتھ دو کروڑکی سرمایہ کاری بھی کی۔ اسی عرصے کے دوران انہیں صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور اس وجہ سے وہ اپنے سوتیلے بھائی کے تعاون سے علاج کروانے کے لیے تقریباً دو سال تک امریکہ میں رہے۔یہ تو ہو گیا احسن جمیل گجر اور اب بات کرتے ہیں احسن جمیل گجر کی بیوی فرح شہزادی کی۔۔۔ ان کی کہانی سن کے آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔

    فرح خان ۔۔
    محمد حسین خان اور بشیراں خان کی بیٹی ہیں۔ خاندان کا تعلق درحقیقتChurrKhana Sheikhupura
    سے تھا اور بعد میں لاہور میں آباد ہو گئے۔فرح کی ایک بہن ہے یعنی مسرت خان عرف بلو اور ایک بھائی شفیق خان ۔اس کے والد کی موت کے بعد، خاندان مالی بحران کا شکار تھا لہذا دونوں بہنیں رقاص،پارٹی گرل بن گئیں۔احسن جمیل گجر سے رشتہ2001 میں۔ فرح شہزادی لاہور میں عامر سہیل (سابق کرکٹر) کی mistress کے طور پر رہ رہی تھی جب اس کی ملاقات فریڈیز کے نام کے ایک ریستوراں میں احسن جمیل گجر سے ہوئی۔ احسن جمیل گجر اور فرح شہزادی نے ناجائز تعلقات استوار کئے۔ احسن جمیل گجر نے اسے ٹی بلاک ڈی ایچ اے (پہلے فلور) میں اپنے بنگلے میں رہائش دی۔ اس دوران وہ ایف ایس (مسرت) کی بہن سمیت ایک گروپ میں کئی بار مری بھوربن اور پی سی کراچی گئے اور ان کے ناجائز تعلقات سے لطف اندوز ہوئے۔2003 میں احسن جمیل گجر ریئل اسٹیٹ میں تھا اور اس نے Silicon valley کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔ کرپشن کے ذریعے اربوں کمائے۔ اس واقعے کے بعد احسن جمیل گجر مالی طور پر مضبوط ہو گیا اور اس نے مختلف رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری شروع کر دی یعنی اپنی سوسائٹی G magnolia پارک ہاؤسنگ سکیم، نزد چاند دا قلعہ چوک جی ٹی روڈ گوجرانوالہ۔یہ وہ دور تھا جب احسن جمیل گجر واقعی فرح شہزادی سے attachہو گیا اور دونوں نے2003/2004 میں جوہر آباد سے Spiritual guide کی تجویز پر شادی کر لی۔

    خاتون اول سے دوستی ۔احسن جمیل گجر روحانیت کی راہ پر گامزن ہونے کے ساتھ ساتھ پاکپتن کے مانیکا خاندان کےساتھ بھی تعلقات استوار کر لیے۔ 2009-2010 کے دوران احسن جمیل گجر کو صحت کے سنگین مسائل پیدا ہوئے اور انہیں علاج کے لیے اکثر امریکہ جانا پڑتا تھا۔ مانیکا کے خاندان کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے کی وجہ سے احسن جمیل گجر نے مانیکا خاندان کو فرح کاخیال رکھنے کو کہا۔ فرح شہزادی نے ان کی غیر موجودگی میں اس وقت بشریٰ مانیکائی (اب خاتون اول) سے دوستی کر لی، انہی رشتوں کی بنیاد پر دونوں نے وزیراعظم عمران خان کی بشریٰ بی بی کے ساتھ ان کی رہائش گاہHouse # 99 , Street # 18, Y block, DHA phase 3میں شادی کی تقریب کا اہتمام کیا۔جنرل الیکشن 2018 سے پہلے اور اس کردار کی وجہ سے وہ عمران خان کی آنکھوں کا تارا بن گئی۔احسن جمیل گجر اور فرح شہزادی وہی تھے جنہوں نے عمران خانکو عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب مقرر کرنے پر راضی کیا کیونکہ عثمان بزدار کی اہلیہ پہلے ہی فرح شہزادی کے قریب تھیں۔ اور بشریٰ بی بی کے مشہور خواتین گروپ کی رکن تھیں۔

    پنجاب میں بیوروکریٹس کے لیے لابنگ۔۔
    فرح شہزادی اور احسن گجر بشرہ بی بی کے لنکس کا ستعمال کرتے ہوئے خود کو ایک ایسی پوزیشن میں لے گئے جہاں وہ بشریٰ بی بی کے ساتھ مل کر ریاست کے کسی بھی فرد یا ادارے کو متاثر کر سکتے تھے۔ انہوں نے بیوروکریسی میں اپنا اثر و رسوخ کا دائرہ بنا لیا۔ فرح شہزادی اپنے قریبی ساتھیوں اور دوستوں کو پنجاب میں منافع بخش تقرریوں پر تعینات کرنے میں کامیاب رہی۔

    مویشی منڈی کے ذریعے بدعنوانی۔۔۔
    دوہزار بیس اور اکیس میں طاہر خورشید کےخلاف نیب انکوائری کے بعد ان کا تبادلہ کر دیا گیا۔ اور فرح شہزادی کا گروپسرخیوں میں آیا اور سی ایم آفس میں ان کا اثر و رسوخ کمزور پڑ گیا ،کیونکہ قریبی خاندانی دوست منافع بخش تقرریوں سے ٹرانسفر ہو گئے۔اس مرحلے یعنی 2020 سے 2021 کے دوران، فرح شہزادی اور اس کے ساتھیوں نے پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی (PCMMDC) بنائی۔ اس سے قبل پنجاب میں نو مویشی منڈیاں کام کرتی تھیں لیکن فی الحال انہوں نے جون 2021 میں نئی کمیٹی بنائی اور قریبی دوستوں کو مقرر کیا۔PCMMDC کے قیام کے بعد، انہوں نے مویشی منڈیوں کے لیے ٹینڈرز کی تشہیر کی۔ تمام بڑے ٹھیکیداروں کی ون ٹو ون ملاقات کا اہتمام فرح شہزادی کے ساتھ ایسوسی ایٹس کے ذریعے کیا گیا تھا۔مویشی منڈیوں کا ٹھیکہ ملنے کے بعد ہر ٹھیکیدار کو بڑی منڈی کے لیے ایک سے دو کروڑ اور چھوٹی منڈی کے لیے بیس سے تیس لاکھ معاہدے کے تحت رشوت کے طور پر ادا کرنا پڑتے تھے۔
    کنسٹرکشن کمپنیوں کے ذریعے کرپشن
    فرح شہزادی حسنین بلڈرز کے ساتھ بھی قریبی روابط میں تھی جو شیخ ایوب کی ملکیت ہیں۔ کمپنی فرح شہزادی کے اثر و رسوخ کے ذریعے بڑے پیمانے پر سرکاری منصوبے،تعمیراتی کام حاصل کرتی ہے اور رشوت کی رقم کے طور پر اپنے حصص ادا کرتی ہے۔فرح شہزادی خود ایک تعمیراتی کمپنی کے ڈائریکٹر ہیں جسے غوثیہ بلڈرز کے نام سے جانا جاتا ہے۔فرح شہزادی اور جمیل گجرکا ایک اور فرنٹ مین، پاکستانی نزاد امریکی شہری عطا چوہدری نے بیوروکریٹک چینلز کے ذریعے ڈی ایچ اے اسلام آباد میں تعمیراتی منصوبے حاصل کیے ۔

    بحیرہ ٹاؤن کے ساتھ کام کرنا
    کالا شاہ کاکو کے قریب بحریہ ٹاؤن کے لیے زمین حاصل کی جا رہی ہے۔
    فرح شہزادی ملک ریاض کے فرنٹ مین اعظم بھٹی کو اراضی کے حصول میں سہولت فراہم کر تی تھی اور اپنا حصہ وصول کرتی تھی۔ جن دو ہزار گیارہ میں فرح شہزادی گروپ کے کرتوت منظر عام پر آنے لگے تو کرپشن کا طریقہ واردات بدل دیا گیا۔
    نقد رقم کے بجائے، گروپ نے مہنگےتحفے جیسے ہیرے، پینٹنگز اور رسیدوں کے ساتھ گھڑیاں حاصل کیں جو یو اے ای میں 5 فیصد کٹوتی کے بعد یو ایس ڈالرز میں تبدیل کی جاتی ہیں۔ بیرون ملک میں نقد رقم کو سنبھالنا آسان ہے کیونکہ بینک اس میں شامل نہیں ہیں۔ مبینہ طور پر شیخ نیئر (لنک انٹرنیشنل ایکسچینج) اور خواجہ عارف(ڈی ایچ اے) نے گروپ کو حوالہ، ہنڈی اور دیگر ذرائع سے منی لانڈرنگ میں سہولت فراہم کی ۔اگر کسی کو شک ہے تو شیخ نیئر کے اُس بیٹے سے تفتیش منی لانڈرنگ کے نیٹ ورک کو مزید بے نقاب کر سکتی ہے۔ رانا ثنا ء اللہ صاحب سن لیں۔ ہم نے اپنا کام کر دیا، اب اسے آگے لے جانا آپ کا کام ہے۔

    مختلف کمپنیوں میں حصص۔
    فرح شہزادی سات
    مختلف کمپنیوں میں شیئر ہولڈر،ڈائریکٹر ہے۔ 2017 سے پہلے وہ چار کمپنیوں سے وابستہ تھیں اور 2021 تک وہ بطور شیئر ہولڈر ڈائریکٹر کل سات کمپنیوں کا حصہ ہیں۔ اگر بینک اکاؤنٹس اور لین دین کی بات کی جائے تولبرٹی مارکیٹ، لاہور میں فرح شہزادی کا بینک الحبیب میں امریکی کرنسی ڈالر اکاونٹ ہے جہاں لگ بھگ 75 مشکوک ٹرانزیکشنز کی نشاندہی کی گئی۔فرح شہزادی اور احسن جمیل گجر کے جو منصوبے اس وقت جاری ہیں ان میں۔۔Palm Jumeirahدوبئی میں لگژری فلیٹس کی تعمیر کا منصوبہ جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق آدھے سے زیادہ کام مکمل ہو چکا ہے۔
    چکری روڈ اسلام آباد کے قریب تین ہزار کنال زرعی زمین خریدی گئی ہے ۔ جسے RDAسے کمرشل کروانے کا منصوبہ ہے جس سے چار سے پانچ ارب روپے اس کی قیمت بڑھ جائے گی۔ فیروز پور روڈ پر سوسائٹی بنانے کے لیے زرعی اراضی حاصل کی گئی ہے جسے ایگری سے Brown land میں بدلنے سے 100ارب روپے کمانے کا منصوبہ ہے۔انہوں نے بھاری منافع کمانے کے لیے اسی مقصد کے لیے Kana Kaachaلاہور کے قریب زرعی زمین بھی خریدی ہے۔گزشتہ تین سالوں میں احسن جمیل گجر نے چار سے پانچ ارب روپے کی تین سو ایکڑ جگہ اپنی پرانی سوسائٹی G Mangoliaکے لیے خریدی ہے جبکہ دو سے تین ارب روپے کے اپنے قرض کی بھی ادائیگی کی ہے۔جبکہ غوثیہ بلڈر کے دائرہ کار کو اس حد تک بڑھا دیا گیا ہے کہ اس کے پراجیکٹ اب لاہور اور دبئی میں چل رہے ہیں۔فرح اور احسن جمیل گجر نے Graana.com آن لائن رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاری کی ہے جسے مبینہ طور پر زلفی بخاری کی سرپرستی حاصل ہے۔ اطلاعات کے مطابق Graana.com
    زلفی بخاری اور بشریٰ بی بی کا مشترکہ منصوبہ ہے جسے وہ اپنے مختلف فرنٹ مین کے ذریعے چلاتے ہیں۔ پاکستان میں Graana.com کے جاری میگا پراجیکٹس میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔
    Golf Floras Garden city Islamabad
    Imarat Residences ExpressWay Islamabad
    Amazon Outlet GT road isb
    Imarat Mall GT road Islamabad
    Mall of Arabia Expressway isb
    Florence Galleria DHA 2 Islanmabad
    Taj residencies i-14 isb
    فرح شہزادی اور احسن جمیل گجرزلفی بخاری اور بشریٰ بی بی کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں مارگلہ ہالز کے نام سے تین تجارتی منصوبے بھی شروع کر رہے ہیں۔فرح شہزادی نے لاہور میں جیا بگا گاوں میں دو سو ایکڑ زمین ایل ڈی اے سٹی کے اردگرد خریدی ہے۔ان کا منصوبہ ہے کہ یا تو اس زمین کو ایل ڈی اے سٹی کے ساتھ ملایا جائے یا اسے ایک آزاد ہاؤسنگ پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا جائے۔اطلاعات کے مطابق احسن جمیل گجر نے اپنی پہلی بیوی سے بیٹے کے لیے امریکہ میں پراپرٹی کے کاروبار میں ایک بڑی رقم انویسٹ کی ہے، اطلاعات کے مطابق زلفی بخاری، بشریٰ بی بی، غلام سرور خان، احسن جمیل گجر اور فرح شہزادی نے مل کر مبینہ طور پر مجوزہ رنگ روڈ پروجیکٹ راولپنڈی سے متعلق نووا ہاؤسنگ اور دیگر ہاؤسنگ اسکیموں میں اہم سرمایہ کاری کی ہے۔
    فرح شہزادی اور احسن جمیل گجر نے طاہر خورشید کے ساتھ مل کر لاہور کی تین ہاوسنگ سوسائٹیوں میں فرنٹ مین اونگزیب جتولا کے زریعہ انویسٹمنٹ کی۔۔مشہور بلڈر مسعود شاہ جو BRT peshawerاور فردوس مارکیٹ انڈر پاس کا کنٹریکٹر ہے اورM 8 پراجیکٹس میں بلیک لسٹ ہو گیا تھا اسے مبینہ طور پر زلفی بخاری کے کہنے پر دیگر CPEC منصوبوں سے نوازا گیا۔نعیم الحق مرحوم احسن جمیل گجر اور زلفی بخاری کے ان منصوبوں سے واقف تھے۔ کرپشن میں جمع کی گئی تخمینی رقم۔بنیادی بیوروکریٹس، سیاست دانوں اور تاجروں کی بدعنوان ٹیم کی مدد سے،فرح شہزادی ،احسن جمیل گجر اور فرنٹ مینوں نے منظم بدعنوانی میں مہارت حاصل کر لی تھی۔ان کے ڈکلیئر اثاثوں کی کل مالیت تقریبا ستر کروڑ روپے ہے جبکہ غیر اعلانیہ اثاثوں کی کل مالیت 8 سے10 ارب ہے۔

    فرح شہزادی کے اثاثوں کی تفصیلات
    فرح شہزادی نے سینٹ الیکشن میں کاغزات نامزدگی کے دوران اپنے اثاثوں کی مالیت ستر کروڑ روپے درج کی تھی جبکہ اس کی جائیداد کی نا ختم ہونے والی ایک لمبی لسٹ ہے جو غیر اعلانیہ جائیداد ، کاروبار اور اثاثوں کے زمرے میں آتی ہے۔
    House no 99 Y DHA Lahore 10 crore
    House no 422AA DHA Lahore worth 7 crore
    Plot 163 DHA C, Lahore worth 6 crore
    Shop No 19, Gulberg Sunflower Bahria Town Lahore worth 2crore
    Shop no 620A DHA Phase 5, Lahore worth 26.5 Million
    House No. B369 DHA Phase 6, Lahore 127.5 M
    Plot F0009 DHA Phase 5, Lahore 297M
    Plot Bahriya Town Islamabad 25M
    GBPC Investment. gift from husband 60M
    Flat 2AG Bahriya Town Lahore 45M
    GBPC Investment 29M
    Combined Investment (Enterprises) 30M
    Combined Financing (Investment) 1M
    Combined Saroon Investment 1M
    Davan Developers Pvt Ltd 0.04M
    Dr Waqar Khan (Investment) 5.5M
    Bahria Town Karachi Investment) 20M
    Ghazanfar Trust (Investment 1M
    Bank Al-Habib Liberty Branch 0.4M
    Bank AI-Habib BP Branch 0.5M
    silk Bank DHA Branch 4.4M
    Samba Bank, Gulberg Lahore 0.04M
    Toyota Hilux Revo 6.6M
    2 Porsche 36M
    Toyota Hilux Vigo 7M
    1 Toyota Corolla 3.9M
    1 Cyenne SE Hybrid 66M
    1 Suzuki Alto 1.5M
    1 Suzuki Mehran 0.8M
    7 Toyota Corolla Husband 28M

  • اسلحہ سے بھرا ٹرک پاکستان منتقلی کی کوششیں ناکام بنا دی گئی

    اسلحہ سے بھرا ٹرک پاکستان منتقلی کی کوششیں ناکام بنا دی گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلحہ سے بھرا ٹرک پاکستان منتقلی کی کوششیں ناکام بنا دی گئی ہیں

    افغانستان سے اسلحہ کا بھرا ہوا ٹرک پاکستان کے لئے روانہ ہو چکا تھا تاہم طالبان حکومت نے کاروائی کی اور ٹرک کو پکڑ لیا، طالبان پولیس نے کاروائی میں تین سمگلر بھی گرفتار کر لیے ہیں، جدید اسلحے سے بھرے ٹرک کو افغان طالبان نے اپنی تحویل میں لےلیا ہے. ٹرک صوبہ غزنہ سے پکڑا گیا ہے گرفتار ملزمان افغانستان کے ہی باشندے ہیں اور وہ اسلحہ سے بھرا ٹرک افغانستان سے پاکستان منتقل کرنا چاہتے تھے

    افغان سیکورٹی اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، افغان وزارت داخلہ نے بھی اس کاروائی کی تصدیق کی ہے، ‏افغان طالبان کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے غزنی صوبے میں اسلحے سے بھرا ٹرک قبضے میں لے کر تین افراد کو گرفتار کرلیا ہے یہ سارا اسلحہ پاکستان اسمگل کرنا چاہ رہے تھے

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کا کیس، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    چائلڈ پورنوگرافی میں‌ ملوث ملزم گرفتار،کتنی اخلاق باختہ ویڈیوز شیطان صفت کے پاس برآمد ہوئیں

    لڑکی کو نازیبا ،فحش تصاویر بھیجنے والا ملزم گرفتار

    لڑکی بن کر لڑکوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنیوالا ملزم گرفتار

  • پرویز الہیٰ کی اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ملتوی

    پرویز الہیٰ کی اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ملتوی

    پرویز الہیٰ کی اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ملتوی

    سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کی جانب سے ن لیگی رہنما حمزہ شہباز ، آئی جی پنجاب ، ایس ایس پی کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت سیشن کورٹ میں ہوئی ،

    سیشن کورٹ میں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کی نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز ، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، ایس ایس پی کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔ دالتی حکم پر ایس پی سول لائنز اور تھانہ قلعہ گجر سنگھ کے ایس ایچ او عدالت پیش ہوئے ۔ ایس پی سول لائنز نے عدالت میں کہا کہ پٹیشن کی کاپی اور عدالتی فیصلہ موصول نہیں ہوا ، جواب کیلئے موقع دیا جائے ۔

    سیشن کورٹ نے پولیس کو جواب داخل کرانے کا ایک موقع دیدیا جبکہ پرویز الٰہی کے وکیل نے پٹیشن کی کاپی ایس پی سول لائنز کو فراہم کی ۔ درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پولیس کو پنجاب اسمبلی میں جھگڑے کے ذمہ داران کے خلاف اندراج مقدمہ کیلئے درخواست دی ہے ، پولیس نے جھگڑے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا۔سیشن کورٹ نے پولیس سے 29 اپریل کو جواب طلب کرلیا۔

    واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کے موقع پر ہنگامہ آرائی ہوئی تھی، پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے ڈپٹی سپیکر پر تشدد کیا گیا تھا ،ڈپٹی سپیکر نے پولیس بلائی تو اراکین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر بھی تشدد کیا گیا تھا، اس دوران خواتین اراکین اسمبلی بھی پیچھے نہ رہیں اور انہوں نے پولیس اہلکاروں کے بال کھینچے، گردن سے پکڑا، راجہ یاسر بھی ایک ویڈیو میں نمایاں ہیں جو پولیس والوں کو دھکے دے رہے ہیں

    تین دفعہ شریفوں نے وعدے لئے جو کبھی پورے نہ ہوئے،پرویز الہیٰ پھٹ پڑے

    ہماری آفر پرویز الہیٰ نے مانی،دعا خیر کی پھر عمران کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو گئے،خواجہ آصف

    پنجاب اسمبلی میں دوبارہ جھگڑا ،پرویز الہیٰ بھی زخمی ہو گئے

    پنجاب اسمبلی اجلاس، تصادم کے بعد پی ٹی آئی کا بائیکاٹ

    زخمی ہونے کے بعد پرویز الہیٰ کی ہاتھ اٹھا کر بددعا، ویڈیو وائرل

    حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، شہزاد اکبر کو کیوں نکالا؟

    عمران خان کے مشیر بیرون ملک روانہ

    میری جان سے زیادہ پاکستان کی آزادی ضروری ، فوری الیکشن چاہتے ہیں ، عمران خان

    کراچی جانے کیلئے عمران خان کو جہاز کس نے دیا؟ بحث چھڑ گئی

    این اے 33 ہنگو،ضمنی انتخابات، پولنگ جاری،سیکورٹی سخت

    پنجاب اسمبلی، ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج