Baaghi TV

Tag: Ahsan Iqbal

  • نگران وزیراعظم بارے پی پی سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی. احسن اقبال

    نگران وزیراعظم بارے پی پی سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی. احسن اقبال

    وفاقی وزیر اور مسلم لیگ کے اہم رہنماء احسن اقبال کا کہنا ہے کہ موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے نام پر تمام جماعتیں متفق ہوئیں تو وہ نگران وزیراعظم ہونگے جبکہ نجی ٹی وی گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھاکہ فیصلے جو بھی ہوں گے کابینہ اور اتحادیوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کے نام پرتمام جماعتیں متفق ہوئیں تووہ نگران وزیراعظم ہونگے، کون ان ہے کون آؤٹ ہے کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا، نگران وزیراعظم پر پارٹی میں کوئی گفتگو نہیں ہوئی، میرے سامنے نگران وزیراعظم پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا جو بھی فیصلہ ہوگا اس پر کابینہ کو اعتماد میں لیا جائےگا۔

    ان کا کہنا تھاکہ حکومت کے آخری ہفتےمیں نگران سیٹ اپ پراتفاق ہوجائے گا، 9 مہینے کے آئی ایم ایف پروگرام پر نگران سیٹ اپ میں عمل درآمد ہونا ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ تین سال کے پروگرام کا معاہدہ کرنا پڑے گا، ہمیں مستحکم حکومت کی ضرورت ہے جس کے پاس 5 سال کامینڈیٹ ہو، میری ذاتی رائے ہے کہ مختصرسےمختصر وقت میں ہم الیکشن سےگزر جائیں، ہمیں جلدی الیکشن کرواکر مستحکم حکومت چاہیے تاکہ اصلاحات لاکر ملک کو معاشی مشکلات سے نکالیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی، سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار تبدیل
    بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر
    کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ

    ان کا کہنا تھاکہ سب جانتے ہیں نوازشریف کو سازش کے تحت نااہل کیاگیا، عمران خان نے برطانیہ سے آئی رقم پر رشوت لی، اسے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا، المیہ ہےکہ پاکستان میں موجود جوڈیشل سسٹم پر لوگوں کا اعتماد نہیں۔ تاہم خیال رہے کہ موجودہ اسمبلی کی مدت 12 اگست کو پوری ہو رہی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف مدت سے پہلے حکومت چھوڑنے کا اعلان کرچکے ہیں۔

  • 9 خصوصی اقتصادی زونز پر کام جاری. احسن اقبال

    9 خصوصی اقتصادی زونز پر کام جاری. احسن اقبال

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ خصوصی اقتصادی زونز ( ایس ای زیڈز) چینی سرمایہ کاروں کو ان مراعات سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کریں گے جو پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے پیش کرتا ہے۔ چین کے حالیہ دورہ کے بعد خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہم 9 خصوصی اقتصادی زونز پر کام کر رہے ہیں۔ جبکہ رشکئی خصوصی اقتصادی زون کا افتتاح اس ماہ کے آخر میں کیا ہوجائے گا۔ اسی طرح سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں دیگر اقتصادی زونز بھی ترقی کے مراحل میں ہیں۔ پاکستان کو سستی لیبر فورس کا بڑا فائدہ ہے۔ چین میں، بہت سی صنعتیں لاگت کی بڑھتی ہوئی سطح کی وجہ سے پیداواری لاگت کا سامنا کر رہی ہیں اور اب وہ ویتنام، کمبوڈیا اور لاؤس جا رہی ہیں۔

    علاوہ ازیں وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کا بنیادی ڈھانچہ بہت اچھا ہے اور پھر اس کے پاس چین پاکستان اقتصادی راہداری ( سی پیک) کا فریم ورک ہے۔ اس لئے چینی کاروباری اداروں کے لیے پاکستان میں ان اقتصادی زونز میں منتقل ہونا بہت ہی پرکشش ہے۔ بہت سی چینی کمپنیاں پاکستان آ رہی ہیں۔ بہت سے چینی سرمایہ کاروں نے گوادر فری زونز میں سرمایہ کاری کی ہے۔ اور ہم نئی ٹیکنالوجیز پر مبنی اپنے زرعی شعبے کو ترقی دینے کے منتظر ہیں۔ جبکہ اپنے بیجوں کے معیار کو اپ گریڈ کرنے کے لیے تعاون کی کوشش بھی کر رہے ہیں تاکہ وہ کمپنیاں جو تحقیق اور بیج تیار کر رہی ہیں، ہماری مدد کر سکیں۔ احسن اقبال کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان پانی کو محفوظ کرنے اور زراعت میں کارکردگی لانے کے لیے آبپاشی کی نئی ٹیکنالوجیز بھی تلاش کر رہا ہے۔ ہم فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری میں بھی شراکتداری کے خواہاں ہیں۔ کان کنی کے شعبے میں بھر پور مواقع کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ماربل کے بہت بڑے ذخائر ہیں، جنہیں نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اسی طرح پاکستان کے پاس لیتھیم اور دیگر کانیں بھی ہیں جن کی معدنیات الیکٹرک گاڑیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔

    وزیر وزیر کے خیال میں پاکستان مشترکہ تعاون اور ٹیکنالوجی بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بھی شراکتداری کا خواہاں ہے۔ پاکستان میں بہت بڑی تعداد میں نوجوان آبادی ہے جس میں بہت اچھی آئی ٹی مہارتیں ہیں۔بہت سی چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں پاکستان میں انسانی وسائل کی کم قیمت اور ہماری نوجوان آبادی کی اعلیٰ مہارتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان منتقل ہو رہی ہیں۔ اس لیے میرے خیال میں زراعت، صنعت، کان کنی، آئی ٹی، توانائی کے شعبے یہ تمام شعبے چینیوں کے لیے بہت امید افزا ہیں اور چینی ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ چین کی بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنیاں آکر ہاؤسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کر سکتی ہیں اور مزید کہا کہ ہمارے پاس ہاؤسنگ کی بہت زیادہ کمی ہے۔ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لیے بہت پرکشش شرائط پیش کر رہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    شاہراہ قراقرم؛ سیاحوں کی گاڑی کو حادثہ 6 افراد جانبحق
    بیوی کے ساتھ کیسے پیش آیا جائے بیٹے کو بتاتی رہتی ہوں غزل صدیق
    سلمان خان نےفالج کے بعد میرے اسپتال کے بل ادا کیے، اورکسی جگہ اس کی تشہیر بھی نہیں کی،راہول رائے

    سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان چینیوں کی سیکیورٹی کے لیے اضافی احتیاط برت رہی ہے۔ ہم نےسی پیک منصوبوں کو سیکورٹی کی چار پرتیں فراہم کی ہیں۔ سی پیک ایک بہت ہی تذویراتی منصوبہ ہے، چین اور پاکستان کے دشمن اسے کامیاب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔انہوں نے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ چینی انٹرپرائز کے تحفظ کے لیے جس قسم کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ 10,000 اہلکاروں پر مشتمل ایک خصوصی فورس بنائی گئی ہے جو مکمل طور پر سی پیک منصوبوں کی حفاظت کے لیے وقف ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے اس فورس کو اپنی پولیس، نیم فوجی دستوں اور مقامی سیکورٹی کے ساتھ ضم کر دیا ہے۔ یہ سیکورٹی اہلکار اعلیٰ ترین سطح کی سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے تعینات ہیں۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ جس شخص نے کبھی یو سی نہیں چلائی اس کے سپرد ملک کردیا گیا، اور اس نے تجربے کرتے کرتے ملک کی تباہی کردی، ترقی کرتے پاکستان کو اناڑی کے سپرد کردیا گیا۔

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں آپ نے حکومت کیوں قبول کی، اگرمعیشت کو اس حال پر چھوڑ دیتے تو عوام کا مستقبل بھی دم توڑ دیتا، ہم نے معیشت کےعلاج کےلیے کڑوی دوائی کھائی، وہ معیشت جسے پی ٹی آئی چیئرمین آئی سی یو میں پھینک دیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ معیشت آج اپنے پاؤں پر کھڑی ہورہی ہے، آج دوست ممالک کا اعتماد بحال ہورہا ہے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین نے نہ مرغی اور نہ انڈہ دیا، اس نے صرف خواب دکھایا اور چلا گیا۔

  • پاکستان، چین ایم ایل ون منصوبے پر عملدرآمد تیز کرنے پر متفق

    پاکستان، چین ایم ایل ون منصوبے پر عملدرآمد تیز کرنے پر متفق

    پاکستان اور چین نے ایم ایل۔ون اور خصوصی اقتصادی زونزکے نفاذ پر عملدرآمد کو تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جا سکے جبکہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ،ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال اور چیئرمین نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن (این ڈی آر سی) زینگ شانجی کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران اتفاق کیا گیا۔ تاہم واضح رہے کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سی پیک کی 10 سالہ تقریبات کے سلسلے میں چین کے چار روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ اپنے دورے میں قومی ترقی اور اصلاحاتی کمیشن کے وائس چیئرمین کے ساتھ خصوصی مشترکہ تعاون کمیٹی (جی سی سی) کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کے علاوہ اہم چینی حکام کے ساتھ ملاقاتیں بھی کیں۔

    چیئرمین این ڈی آر سی ژینگ شانجی سے ون ٹو ون ملاقات کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے چیئرمین ژینگ کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور انہیں سی پیک منصوبوں پر عملدرآمد میں مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی کی تجویز پر چیئرمین این ڈی آر سی نے پاکستان کی برآمدات کو بڑھانے اور خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی کو تیز کرنے کے لئے چینی مہارت کی بھی پیشکش کی۔ دونوں فریقوں نے سی پیک کے فریم ورک کے تحت جاری تعاون کا جائزہ لینے کے لئے مشترکہ ورکنگ گروپس کے باقاعدہ اجلاس منعقد کرنے اور اگلے مرحلے کے لئے تمام منصوبوں کی عملدرآمد کو یقینی بنانے کا فیصلہ بھی کیا جس کا دائرہ کار بہت وسیع ہے جن میں صنعت کاری، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور سماجی شعبے پر زیادہ توجہ مرکوز کرتا ہے۔

    یاد رہے کہ اپریل 2022 میں حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے، موجودہ حکومت نے شہباز شریف کی سربراہی میں سی پیک منصوبوں کو بحال کیا گیا ہے جو پچھلی حکومت نے روک دے تھے۔ ملاقات میں ایک دہائی قبل سی پیک کے آغاز کو یاد کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اپنے ہم منصب سے کہا کہ سی پیک کی ترقی کا سفر شاندار ’سفر رہا جس میں بہت سے چیلنجز کا سامنا رہا لیکن حکومت ثابت قدم رہی۔ 2013 سے دونوں اطراف کے متعلقہ اداروں نے ایک ٹیم کے طور پر کام کیا اور توانائی اور فزیکل انفراسٹرکچر کے کلیدی منصوبوں کو کامیابی کے ساتھ نافذ کیا،جس سے سی پیک کے اگلے مرحلے کی مضبوط بنیاد رکھی گئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سعودی عرب نے اسٹیٹ آف پاکستان میں 2 ارب ڈالر ڈپازٹ کردیئے،اسحاق ڈار
    سرکاری ملازمین کا دوسرے روز بھی مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاج
    پیپلز پارٹی کی حکومت نے شہر میں امن و امان بحال کیا،وزیراعلیٰ سندھ
    چیئرمین پی ٹی آئی جیسا ڈکٹیٹر ملکی تاریخ میں پیدا نہیں ہوا، شرجیل میمن
    موسم گرما میں حاملہ خواتین کے لئے قدرتی مشروبات
    سویڈن میں اسلام دشمن سرگرمی پر جنرل ہسپتال میں ہیلتھ پروفیشنلز کی احتجاجی ریلی
    کویت کا سویڈش زبان میں قرآن کریم کے ایک لاکھ نسخے شائع کرنے کا اعلان

    اس موقع پر چیئرمین این ڈی آر سی نے کہا کہ چین اور پاکستان اچھے دوست اور شراکت دار ہیں۔ عالمی سیاست کے اتار چڑھاؤ کے باوجود دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور ایک دوسرے کی مکمل حمایت کی ہے۔ انہوں سی پیک کی ترقی میں احسن اقبال کے کلیدی کردار کو بھی سراہا۔ واضح رہے کہ چینی حکام گزشتہ سال اپریل میں احسن اقبال کو سی پیک کا لقب دے چکی اور سی پیک کے منصوبوں کو بحال کرنے میں ان کی خدمات کو بھی سراہا ہے۔

  • سبز انقلاب کی منصوبہ بندی، پاکستان ترقی کی طرف گامزن. احسن اقبال

    سبز انقلاب کی منصوبہ بندی، پاکستان ترقی کی طرف گامزن. احسن اقبال

    وفاقی وزیر احسن اقبال کاکہنا ہےکہ وزیراعظم کی صدارت میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا ۔ اس میں عسکری حکام اور صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔ ان کاکہنا تھا کہ ترقی کیلئے ہر ملک ایسا ماحول پیدا کرتا ہے کہ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کو لایا جائے، نواز شریف کے دور میں سی پیک منصوبے کا آغاز ہوا، سی پیک کے تحت ہزاروں میگاواٹ کے بجلی منصوبے شروع ہوئے۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا پی ٹی آئی نے اپنے 4 سالہ دور میں سی پیک منصوبے کو نقصان پہنچایا، اب پاکستان کے پاس دوبارہ معیشت کی بحالی کا موقع ہے، آئی ایم ایف سے سٹاف لیول معاہدہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ حکومت نے جہاں دیگر شعبوں کو تباہ کیا وہیں سی پیک بھی نشانہ بنا، 2018 کے بعد حکومت کا منفی ایجنڈا اور انتقامی سوچ تھی، آئی ایم ایف معاہدے سے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان کسی فرد کی میراث نہیں یہ ہم سب کا ملک ہے، ایس آئی ایف سی میں وفاق اور صوبے موجود ہیں، سرمایہ کاروں کو ہر سہولت فراہم کی جائے گی، زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، زرعی شعبے کو جدید ٹیکنالوجی سے آگے بڑھائیں گے، پاکستان میں سالانہ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری ڈیڑھ ارب ڈالر ہے، ویت نام میں غیرملکی سرمایہ کاری 30 ارب ڈالر ہے۔
    مزید یہ پڑھیں؛
    وزیراعظم کی غیرملکی سرمایہ کاری سے متعلق مواقع تلاش کرنے کی ہدایت
    ڈی جی پی ٹی اے کے گھر چوری کی واردات
    شمالی وزیرستان؛ خودکش دھماکے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 10شہری زخمی
    امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس سے کوکین برآمد
    اسحاق ڈار کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات
    لاہورمیں 285 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوچکی ہے،عامر میر
    سی پیک کے دس سال مکمل،وزیراعظم شہبازشریف کی چین اورپاکستان کو مبارکباد
    احسن اقبال نے کہا سرمایہ کاری اور برآمدات کو ہنگامی طور پر فروغ دیا جائے گا سی پیک کے تحت 28 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری آ چکی ہے۔ ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی ایکسپورٹس بڑھانے کیلئے روڈمیپ بنایا گیا ہے۔ بڑی بڑی ٹیک کمپنیوں کو پاکستان لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان کو معیشت کی بحالی کا موقع مل گیا ہے، دنیا کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ آرمی کی مدد سے لینڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم لائیں گے۔ وزیر اعظم 7 جولائی کو لینڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کا افتتاح کریں گے، ملک میں سبز انقلاب کیلئے منصوبہ بنایا گیا ہے۔ توانائی کا شعبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے جسے قابل تجدید توانائی ذرائع کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، پاکستان معدنیات سے مالا مال ہے، اس شعبے پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جبکہ دفاعی مصنوعات کو برآمد کر کے زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے، ایس آئی ایف سی سے پاکستان کی ترقی کا ایک نیا دروازہ کھلے گا، تاجروں کے ویزا کے حوالے سے مسائل کو حل کیا جائے گا۔

  • پی ٹی آئی  نے آئی ایم ایف معاہدہ کو ناکام بنانے کے لیے لابنگ کی. احسن اقبال

    پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف معاہدہ کو ناکام بنانے کے لیے لابنگ کی. احسن اقبال

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف معاہدہ کو ناکام بنانے کے لیے لابنگ کی لیکن شکر خدا کا معاہدہ طے پاگیا جبکہ انہوں نے مسلم لیگ ن کی حکومت گرانے کو 1971 کے سانحے کے برابر قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2018 میں پاکستان کا مستقبل چھینا گیا، احسن اقبال کا کہنا تھا عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاہدہ وزارت خزانہ کی اس ٹیم کی کامیابی ہے جس کی قیادت وزیراعظم نے کی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے آئی ایم ایف سے معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے لابنگ کی لیکن اس کے باوجود موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا، آئی ایم ایف کے معاہدے سے معیشت بہتر ہو گی اور روپے کی قدر مستحکم ہو گی، اگلے چند ماہ میں مہنگائی میں بھی کمی آئے گی، ہم پاکستان کے مسائل حل کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سویٹزرلینڈ کے اعلی سطح وفد اگلے ہفتے پاکستان دورے کا امکان
    سعودی شہزادہ طلال بن عبدالعزیز آل سعود سپردخاک
    دو گروپوں میں تصادم، 4 افراد جاں بحق
    دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
    صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کا بِل واپس لینے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی نے 17 رکنی کراچی نگراں کمیٹی کا اعلان کر دیا
    احسن اقبال کا کہنا تھا پاکستان کو 9 بڑے چیلنجز درپیش ہیں جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے نظام عدل کو مضبوط کرنا ہے کیونکہ جس ملک میں عدل نہیں ہوتا وہاں غیر ملکی سرمایہ کار نہیں آتے، بجلی اور گیس کی چوری سے بھی ملک پر بوجھ پڑتا ہے۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے درخواست کی کہ سمندر پار رہنے والے پاکستانی اپنے پیسے بینکنگ چینل کے ذریعے ملک میں بھیجیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا 2018 کی سازش 1971 کے سانحے سے کم نہیں تھی، 2018 میں پاکستان کا مستقبل چھینا گیا۔