Baaghi TV

Tag: America

  • امریکی صدر کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کا ممکنہ اعتراف جرم

    امریکی صدر کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کا ممکنہ اعتراف جرم

    امریکی صدر جوبائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے ممکنہ طور پر دوران تفتیش ٹیکس کے دو جرائم کے اعتراف کیلئے حکام سے درخواست کی ہے جس میں وہ اپنے جرائم کا اعتراف کرے گا جبکہ منشیات کے استعمال کے ساتھ ساتھ غیر قانونی طور پر بندوق رکھنے کا اعتراف بھی کرنے کا امکان ظاہر کیا جارہا رہے.بی بی سی ورلڈ کے مطابق ڈیلاویئر میں اٹارنی کی طرف سے جمع کروائے گئے کاغذات کے مطابق ظاہر ہوتا ہے کہ درخواست کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔


    علاوہ ازیں ہنٹر بائیڈن نے اس بات پر بھی آمادگی کا اظہار کیا ہے کہ وہ خود کو منشیات سے نجات کیلئے اعلاج کی خاطر خود کو پیش کرنا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ مانیٹرنگ پر بھی رضا مند ہوگئے ہیں. تاہم معاہدے کی شرط یہ ہے کہ انہیں جیل سے باہر نکالا جائے گا، تاہم اس مجوزہ معاہدے کو ابھی بھی بزریعہ جج منظوری حاصل کرنی ہوگی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انسانی سمگلنگ روکنے کیلئے انٹر ایجنسی ٹاسک فورس کا مشاورتی اجلاس
    کراچی بندرگاہ عرب امارات کو دینے کیلئے حتمی معاہدہ کیلیے کمیٹی تشکیل
    عمران خان، حسان نیازی، مسرت جمشید چیمہ،حماد اظہرکے وارنٹ جاری
    پرویز الہی اور انکے صاحبزادے مونس الٰہی کے خلاف ایک اور مقدمہ درج
    چیئرمین سینیٹ کی مراعات میں اضافے کا بل ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی خاموش نہ رہی
    برٹش ائیرویز کا طیارہ 30 ہزار فٹ کی بلندی پر ہچکولے کھانے لگا
    لیکن فلحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ملزم بائیڈن کب کورٹ میں پیش ہوکر یہ اعتراف جرم کی درخواست اپنی موجودگی میں پیش کریں گے، خیال رہے کہ ہنٹر بائیڈن موجودہ امریکی صدر جوبائیڈن کے بیٹے ہیں اور وہ اس وقت منشیات سمیت مختلف جرائم میں ملوث ہونے کے پیش نظر بند ہیں.

  • سعود کی غفلت ، امریکہ کے شاپنگ مال میں بیٹے کو بھول آئے

    سعود کی غفلت ، امریکہ کے شاپنگ مال میں بیٹے کو بھول آئے

    اداکار سعود اور جویریا سعود جو اکثر امریکہ جاتے آتے رہتےہیں، اپنے حالیہ انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا ہے ایک ایسے واقعہ کا جس کو سن کر آپ بھی رہ جائیں حیران. جویریا سعود نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ میرا بیٹا ابراہیم دو برس کا تھا میں نے سعود سے کہا کہ آپ اسکی دیکھ بھال کیجیے ،سعود اس کے ساتھ شاپنگ مال چلے گئے ، اس دوران میں اپنی بچیوں کا میک اپ کروانے سیلون گئی ہوئی تھی ، کچھ دیر کے بعد سعود وہاں پر پہنچ گئے ، میں نے سعود کو دیکھتے ہی کہا کہ ابراہیم کہاں ہے تو سعود کو یاد آیا کہ میں تو بیٹے کو شاپنگ مال میں

    چھوڑ آیا ہوں ، پھر ہم نے پولیس سے رابطہ کیا انہوں نے ہماری مدد کی بیٹے کو تلاش تو کر دیا لیکن ان کے دل میں شک تھا کہ شاید ہم نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے ، لہذا انہوں نے ہمارے گھر کے چکر لگائے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کہیں ہم نے جان بوجھ کر بچہ تو شاپنگ مال میں نہیں‌چھوڑا، اس واقعہ کے بعد ہم بہت چوکنے ہو گئے اور بچوں کی دیکھ بھال پہلے سے بھی زیادہ کی . جویریا نے کہا کہ امریکہ میں بچوں کے معاملے میں قوانین بہت زیادہ سخت ہیں.

  • وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے کیس کا فیصلہ آج متوقع.

    وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے کیس کا فیصلہ آج متوقع.

    وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے خلاف دائر مقدمے کا فیصلہ آج کیا جائے گا. ‏جولین اسانج پر 10برس پہلےخفیہ امریکی فوجی دستاویزات شائع کرنے کا الزام ہے. ‏امریکی گرانڈ جیوری نے جولین اسانج پر 18 الزامات عائدکر رکھے ہیں جن میں سے 17 جاسوسی سے متعلق ہیں.
    ‏جولین اسانج کوامریکاحوالےکرنےیا نہ کرنےکا آج فیصلہ کیا جائے گا.

  • اصل سُپر پاور کون! امریکہ،چائنہ یاکوئی اور؟  تحریر وہاب ادریس خان

    اصل سُپر پاور کون! امریکہ،چائنہ یاکوئی اور؟ تحریر وہاب ادریس خان

    پہلے جنگ تھی پھر سرد جنگ بھی ہوئی اب آجکل مارکیٹ میں نئی چیزآئی ہے اور وہ ہے تجارتی جنگ۔ان تمام جنگوں کی ایک اہم وجہ دنیا میں اپنی حکمرانی قائم کرنا اور خود کو سُپر پاور منوانا ہے جب بھی سونامی زلزلے یا قدرتی آفات آتی ہیں تو ہمیشہ یہی سوچ آتی ہےکہ کوئی تو ہوگا جو یہ سب روک سکے۔ چائنہ، روس اور امریکہ جیسے ممالک میں بھی جب آفات آئیں تو میری توقع کے عین خلاف وہ لوگ بھی اس کونہ روک سکے، کیونکہ سپر پاور ہونے کے دعوے اور خواب تو سب کے ہی ہیں لیکن اُس ملک کو میں کیسےسپرپاور مان لوں جوقدرت کی بھیجی ہوئی کسی بھی آفت کے خلاف اپنا دفاع نہ کرسکے۔ لفظ سُپر پاورسن کر تو زہن میں کسی ایسی طاقت کا تصور بنتاہے جودنیا میں سب سے طاقتور ہو اور اس کو نقصان پہنچانا کسی کے بس میں نہ ہو۔ پچھلے کچھ سالوں میں تو ٹیکنا لوجی بہت زیادہ ترقی کر چکی اور خود کو سُپر پاور کہنے والے چاندپر بھی اپنی برتری حاصل کرنے کیلئے زوروشورسے سرگرم ہیں۔

    میں اس فیصلے پر پہنچنے ہی والا تھا کہ اصل سُپر پاور کونسا ملک ہے لیکن ایک سانحہ نے مجھے یقین دلادیا کہ سُپر پاور ہونے کے سب دعوے جھوٹے ہیں اور یہ لوگ تو خودکو ہی نہیں بچا سکتے۔ واقعہ ہےیہ آج سے قبل کچھ مہینوں کا جب ایک خطرناک وائرس نے چائنہ میں سر اُٹھایا اورپوری دنیا بہت پریشان نظر آئی، مگر میں مطمئن تھا کہ چائنہ جیسا سُپرپاور کااُمیدوار ملک ایک چھوٹے سے وائرس کو گلےسے دبوچ کر بہت جلد اس کا قلعہ قمع کردے گامگر میرے سارے بھرم آہستہ آہستہ ٹوٹتے گئے اور چین میں دیکھتے ہی دیکھتے اس وائرس نے کئی زندگیاں نِگل لیں اور پورے ملک کا نظام درہم برہم کر دیا اور میں یہ سوچنے پر مجبورہو گیاکہ نہیں یہ سُپر پاور نہیں ہوسکتا کیونکہ کسی سُپر پاور کو ایک چھوٹا سا وائرس مفلوج نہیں کرسکتااور پاکستان جیسا چھوٹا ملک ادویات بھیج کر اس کی مددکر رہا تھا تو میں نے چائنہ کانام سُپر پاور کی لسٹ میں سے نکال دیا۔

    دیکھتے ہی دیکھتےیہ وائرس پوری دنیاکو اپنی لپیٹ میں لے بیٹھا اور دنیا کے کئی سربراہان اور کئی دنیا کے شاہی خاندانوں کو بھی متاثر کیا، لیکن مجھے یقین تھا کہ یہ وائرس امریکہ کا کچھ نہیں بگار سکے گا کیونکہ میراذہن امریکہ کوسپر پاور ماننے کے بہت قریب تھااور شاید دل تو مان بھی چکا تھا۔ ایک دن میں نے ٹیلی ویژن پر امریکہ کے صدر کو شیر کی طرح دھارتے دیکھااور وہ کہہ رہا تھا کہ ہم نہیں ڈرتے اس وائرس سے، یہ عام سا فلو ہی تو ہے۔ یہ سننے کے بعد میرے یقین کو اور تقویت ملی کہ امریکہ ہی وہ سُپر پاورہے جس کی مجھے تلاش تھی مگر ابھی میرا تجسُس پوری طرح ختم نہ ہواتھا کہ وہی صدر جو کچھ روز قبل شیر کی طرح دھار رہا تھااب کسی بھیگی بلی سے کم نہ لگ رہا تھا ، آواز بھی بیٹھی بیٹھی تھی اور کہہ رہاتھا کہ پورا ملک بند کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔اور اگر پورا ملک بند نہ کی گیاتولاکھوں لوگ مر سکتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس چھوٹے سے وائرس نےامریکہ جیسے ملک کومفلوج کرکے رکھ دیا۔

    اس واقع کے بعد میں اس بات کا قائل ہو گیا تھا کہ چین ہو امریکہ یا روس کوئی بھی ملک سُپر پاور نہیں، بلکہ سُپر پاور تو وہ ہےجو بار بار قدرتی آفات اور کورونا وائرس جیسی بیماریاں بھیج کر تمام سُپر پارو ہونے کے دعویداروں کو چیلنج کرتا ہےکہ تم جتنے مرضی طاقت ورکیوں نہ ہو جاو جتنی مرضی ٹیکنالوجی کیوں نہ حاصل کر لو مگر اپنے خالق کے بھیجے ہوئےکسی بھی آزمائش اورعذاب سے نہیں بچ سکتے اور اب میں یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ اگر کوئی سُپرپاور ہے تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

  • کالعدم دہشتگرد جماعت القاعدہ کیخلاف بڑی کاروائی

    کالعدم دہشتگرد جماعت القاعدہ کیخلاف بڑی کاروائی

    اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دیئے جانے والی عالمی دہشتگرد جماعت القاعدہ کا جنوبی ایشاء کا سربراہ افغانستان میں مارا گیا ، غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ کا جنوبی ایشیاکا سربراہ ایک آپریشن میں مارا گیا، افغان فورسز کے ترجمان کیمطابق القاعدہ سربراہ کیخلاف کاروائی افغان و امریکی افواج نے مل کر کی ، القاعدہ کمانڈر کانام عاصم عمرتھا اور وہ افغانستان کے صوبہ ہلمند کے ضلع موسی قلعہ میں قیام پذیر تھا ، اس آپریشن میں امریکی افواج کے ہیلی کاپٹرز نے افغان فورسز کی مدد کی
    یہ بھی پڑھیں
    ترکی کا شام میں فوجی آپریشن، پینٹاگون نے اعلان کر دیا

  • ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند

    ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند

    دنیا بھر میں 28 ستمبر کو ورلڈ ریبیز ڈے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر سے ریبیز کی بیماری کو روکنا اور کنٹرول کرنا ہے ۔ ریبیز ایک جان لیوا بیماری ہے جو کسی جانور خاص طور پر کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہے ۔ ریبیز لاٸسا واٸرس کی وجہ سے پھیلتی ہے جو انسان میں تب اثر انداز ہوتی ہے جب یہ واٸرس انسان کی ریڑھ کی ہڈی یا دماغ کی طرف بڑھتا ہے ۔ یہ واٸرس عصاب کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور جب یہ واٸرس دماغ تک پہنچتا ہے تو اس مرض کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔ یہ واٸرس شکل میں پستول کی گولی سے مشابہ ہوتا ہے ۔ یہ واٸرس پاگل کتے کے کاٹنے سے اس کی رطوبت کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے انسان میں ریبیز کی بیماری ہوتی ہے ۔

    ریبیز کی بیماری کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔ فیورس اور ڈمپ ۔ فیورس سے انسانی دماغ میں سوزش ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مریض بے چینی اور ڈپریشن محسوس کرتا ہے ۔ ایسی حالت میں مریض انسان کو باقی لوگوں سے الگ کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دینا چاہیے جبکہ ڈمپ میں انسان پٹھوں کی کمزوری اور فالج کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ ایسی حالت میں انسان کی جلد موت واقع ہوجاتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بیماری کا کورس تین ٹیکوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اور یہ ٹیکے بیماری کے پہلے دن ، ساتویں اور اٹھاٸیسویں دن لگانے ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد احتیاط کے طور پر ایک سال بعد ایک ٹیکہ اور پانچ سال بعد ایک اور ٹیکہ لگوا کر اس بیماری سے مستقل طور پر بچا جا سکتا ہے ۔ کتے کے کاٹنے کے فورا بعد مریض کے زخم کو اچھی طرح دھونا چاہیے اگر جراثیم کش لیکوڈ پاس ہو تو چاہیے کہ زخم کو اس سے دھویا جاٸے ۔ زخم پر ٹانکے ہرگز نہ لگواٸیں جاٸیں اور نہ ہی زخم کے اوپر پٹی کرنی چاہیے ۔

    دنیا بھر میں اکثر ممالک میں یا تو ریبیز کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے یا پھر یہ بیماری زوال پذیر اور ختم ہونے کے قریب ہے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے ابھی بھی صورتحال بدتر سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ مرض سے لاعلمی اور پھر علاج کے لیے گھریلو ٹوٹکے اور دیسی علاج ہیں ۔ اس کے علاوہ اہم وجہ پاکستان کے ہسپتالوں کی ابتر صورتحال اور ادویات کی کمی بھی ہے ۔ پاکستان میں ریبیز کی ویکسین کی کمی کی وجہ سے پانچ ہزار لوگ موت کا شکار ہورہے ہیں ۔ ایک حالیہ رپوٹ کے مطابق 9 ماہ میں صرف کراچی میں ریبیز کے تقریبا آٹھ ہزار مریض سامنے آٸیں ہیں ۔ محکمہ سندھ کی طرف سے شاٸع کردہ رپوٹ کے مطابق اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں کتے کے کاٹے کے 69 ہزار کیس سامنے آٸے ہیں ۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت لوگوں کو اس بیماری کے بچاو کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کے طریقوں سے آگاہ کرے ۔ ریبیز کے مریضوں کو بھر وقت ویکسین کی سہولت دی جاٸے ۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کو پورا کیا جاٸے ۔ کتوں کی نسل کشی کی جاٸے اور ایسے کتے جس سے ریبیز کی بیماری کا خطرہ ہو انہیں فوری طور پر مار دیا جاٸے ۔ لوگوں کو ریبیز کے حوالے سے مکمل آگاہی دی جاٸے اور ابتداٸی طبی امداد کے حوالے سے آگاہ کیا جاٸے ۔

  • مسئلہ کشمیر: امریکہ کو ایٹمی جنگ سے بچنے کیلئے ثالثی کا کردار کیوں ادا کرنا چاہیئے؟

    مسئلہ کشمیر: امریکہ کو ایٹمی جنگ سے بچنے کیلئے ثالثی کا کردار کیوں ادا کرنا چاہیئے؟

    آپ کو یہ جاننے کیلئے یہودی ہونا ضروری نہیں کہ زمینی تنازعات کے باعث ملکوں کے درمیان خطرناک تشدد پیدا ہوسکتا ہے. حال ہی میں ایسا ہی مسئلہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان دیکھنے کو آیا ہے، جس سے دنیائی آبادی کا پانچواں حصہ خطرے میں ہے، اور اس مسئلہ کا حل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے.

    اسرائیل بننے سے ایک سال قبل کشمیر نام کی ریاست وجود میں آئی. 1947 (کشمیر بننے کے پہلے دن) سے ہی کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ دیکھنے کو مل رہا ہے. کچھ عرصہ پہلے 5 اگست کو بھارت نے کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کرکے اس کی خصوصی حیثیت چھین لی.

     ٹرمپ نے مودی سے کیا کہا، خبر آ گئی

    کشمیر ایسا نازک مسئلہ ہے جس کے حل کیلئے امریکہ، اقوام متحدہ، پاکستان اور بھارت نے ہمیشہ سے ہی بہت کوشش کی ہے. اگر اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ ہمیں کچھ سکھاتا ہے تو وہ یہ ہے کہ دو ملک کبھی بھی طاقت کے ذریعے کسی بھی مسئلے کا حل نہیں نکال سکتے.

    دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان مسئلہ کشمیر پر بڑھتی ہوئی کشیدگی باعث خوف ہے. گزشتہ ماہ بھی جب ڈونلڈ ٹرمپ عمران خان سے ملے تھے تو انہوں نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی.

    اس مسئلہ پر امریکہ ایک انتہائی پچیدہ پوزیشن پر کھڑا ہے. ہم (امریکیوں) نے شروع سے ہی ہندوستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ تجارتی اور سلامتی اتحاد قائم کیے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ دونوں ملکوں کے درمیان مسئلہ کشمیر حل کروائے.

    امریکہ کا پہلا قدم یہ ہونا چاہیئے کہ وہ بھارت کو اس بات پر راضی کرے کہ کشمیر سے فوری طور پر کرفیو ہٹائے، کیونکہ ایسا کرنے سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم ہوسکتی ہے. دیرینہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ہوگا اور مذاکرات کی گنجائش پیدا ہوگی۔

    ٹرمپ مودی کی تعریف نہیں ، تضحیک کر رہا ہے، آخر بھارتی میڈیا کو بھی پتہ چل ہی گیا

    مزاکرات کا سب سے زیادہ فائدہ ان 12 ملین کشمیریوں کو ہوگا جو اس وقت کشمیر میں‌ بھارتی دہشتگردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں. ان کشمیریوں کی حالت زار پر توجہ دی جانی چاہئے اور اقوام متحدہ جیسے متعدد بین الاقوامی ادارے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی غیر سرکاری تنظیموں کو بھی اس مسئلہ کے حل کیلئے کوشش کرنی چاہیئے.

    اسرائیل فلسطین کے مسئلہ کو بھولنا نہیں چاہیئے. کشمیر کا مسئلہ بھی اتنا ہی سنگین ہے، زمین کا یہ ٹکڑا بین الاقوامی تنظیموں، خاص طور پر اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہا ہے. پچھلے کچھ عرصہ میں امریکہ اسرائیل کی بہت زیادہ مدد کر رہا ہے، اور کوشش کر رہا ہے کہ خطہ میں امن قائم ہو. اگر یہ مسائل حل نہ ہوئے تو جنگ بھی ہوسکتی ہے.

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    کشمیر کی طرح اسرائیل اور فلسطین کی صورتحال بھی "حل” ہونے سے بہت دور ہے اور دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی کسی نقطہ نظر پر نہیں مل رہا. اس کے باوجود خطے میں امن مزاکرات سے ہی ممکن ہوگا. دونوں فریقوں کے درمیان یہ مسئلہ غیر ملکی مداخلت کی وجہ سے ہی حل ہوگا. اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو بات جنگ کی طرف بھی جاسکتی ہے.

    دونوں ملکوں کو مسئلہ کے حل کیلئے صدرٹرمپ کی پیشکش کو فوری طور پر قبول کرنا چاہئے. سب سے پہلے موجودہ بحران کو ختم کیا جائے، پھر اس کے بعد باقاعدہ طور پر مزاکرات کیے جائیں. امریکہ جس نے شروع سے ہی دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ کے حل کیلئے کوشش کی ہے، اب بھی تاریخی کردار ادا کرنا چاہیئے. ایٹمی جنگ اس مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتی.

    نوٹ: یہ کالم جیک روسن نے امریکی ادارے "دی واشنگٹن ٹائمز” میں‌ لکھا ہے.

  • کینیڈا میں شہریوں کے اسلحہ خریدنے پر پابندی عائد کریں گے، کینیڈین وزیراعظم

    کینیڈا میں شہریوں کے اسلحہ خریدنے پر پابندی عائد کریں گے، کینیڈین وزیراعظم

    کینیڈا کے موجودہ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ لبرل پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئے گی اور کینیڈا میں سرعام ہونے بکنے والے بھاری اسلحےپر مکمل پابندی عائد کرے گی ،
    کینیڈا میں 21 اکتوبر 2019 سے الیکشن کا آغاز ہو رہا ہے جو کہ مختلف مرحلوں میں پورے ملک میں کروایا جائے گا ، جسٹن ٹروڈو نے اپنی انتخابی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبرل پارٹی اور کنزرویٹو پارٹی میں صرف اتنا فرق ہے کہ ہم چاہتے ہیں کینیڈا میں اسلحہ خریدنے کے قوانین سخت ترین ہوں اور وہ چاہتے ہیں ہر کینیڈین اسلحہ لیکر گھومے ،
    جسٹن ٹروڈو کا مزید کہنا تھا کہ ہم تمام قسم کی اسالٹ رائفلز پر پابندی لگائیں گے اور جن لوگوں کے پاس پہلے سے موجود ہیں ان سے واپس خریدنے کا پلان بھی بنائیں گے ،

  • یوکرین کے صدر نے عالمی دنیا کے قائدین کی مزاحیہ واٹس ایپ گفتگو شیئر کردی

    یوکرین کے صدر نے عالمی دنیا کے قائدین کی مزاحیہ واٹس ایپ گفتگو شیئر کردی

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی نے عالمی دنیا کے بڑے قائدین کی واٹس ایپ گروپ کی مزاحیہ گفتگو شئیر کردی. اس گروپ میں یوکرائن، امریکہ، انگلینڈ، فرانس، جرمنی، اسپین، فن لینڈ، روس، چائنہ، ڈنمارک، شمالی کوریہ اور جنوبی کوریہ کے قائدین سمیت آئی ایم ایف اور یوکرین کے بزنس مین اور سیاستدان پیٹرو پوروشینکو شامل ہیں.

    تفصیلات کے مطابق اس گروپ کی گفتگو کا آغاز یوکرین کے قائد "خوش آمدید سب کو” سے کرتے ہیں، گفتگو میں کچھ دیر بعد یوکرین کے بزنس مین پیٹرو پوروشینکو اس وقت گروپ چھوڑ دیتے ہیں جب امریکہ کے لیڈر سب کو خوش آمدید کہتے ہیں. لیکن کچھ دیر بعد جب امریکی لیڈر بزنس کی بات کرتے ہیں تو پیٹرو پوروشینکو گروپ کو دوبارہ جوائن کرلیتے ہیں. اس بزنس ڈیل کے جواب میں جب یوکرین کے لیڈر قرضہ لینے کی بات کرتے ہیں تو آئی ایم ایف گروپ ہی چھوڑ دیتا ہے، لیکن اگلے ہی لمحے جب یوکرین اپنے قرضے کی قسط واپس کرنے کی بات کرتا ہے تو آئی ایم ایف ایک مرتبہ پھر گروپ کو جوائن کرلیتا ہے. سب سے مزاحیہ بات یہ تھی کہ جب یوکرین اگلا میسج یہ کرتا ہے کہ "ہمیں اگلی قسط کب ملے گی” آئی ایم ایف ایک مرتبہ پھر گروپ چھوڑ دیتا ہے.

    https://twitter.com/rama_rajeswari/status/1175280153510854657

    امریکی لیڈر غلطی سے میسج کردیتے ہیں کہ "تم بہت خوبصورت لڑکی ہو” لیکن ساتھ ہی اس میسج کو ڈیلیٹ کردیتے ہیں اور معافی بھی مانگتے ہیں. امریکی لیڈ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم گرین لینڈ کو خرید لیں گے، جس پر دنمارک کے لیڈر کہتے ہیں "گرین لینڈ سیل کیلئے نہیں ہے” اس ساری گفتگو کو چائنہ بھی جوائن کرتا ہے اور امریکہ کو مشورہ دیتا ہے کہ میں اس کی کاپی بناکر تمہیں 10 فیصد سستی بیچ دوں گا”.

    https://twitter.com/rama_rajeswari/status/1175280500606263296

    واضح رہے کہ یوکرین کے صدر اس میٹنگ میں آئے تھے اور یہ مزاحیہ گفتگو شیئر کی، جس پر پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا.

  • مسلئہ کشمیر: پاکستان سفارتی جنگ جیت گیا، امریکی عدالت نے مودی کو بڑا حکم جاری کردیا

    مسلئہ کشمیر: پاکستان سفارتی جنگ جیت گیا، امریکی عدالت نے مودی کو بڑا حکم جاری کردیا

    امریکی عدالت نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم سے متعلق 21 دن میں جواب طلب کرلیا ہے.

    تفصیلات کے مطابق مسئلہ کشمیر پر پاکستان بھارت سے سفارتی جنگ جیت گیا ہے، امریکی عدالت نے نہ صرف نریندر مودی سے کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم سے متعلق 21 دن میں جواب طلب کیا ہے بلکہ عمران خان کے کشمیر میں جہاد سے متعلق بیان کا بھی خیرمقدم کیا ہے. امریکی عدالت میں نریندر مودی کیخلاف درخواست 2 کشمیریوں نے جمع کروائی ہے. درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ کشمیرمیں ظلم و ستم نریندر مودی کروارہے ہیں. درخواست میں بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ پر بھی کشمیریوں کا قتل عام کرنے کا الزام لگایا گیا ہے. تاہم اب امریکی عدالت نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم سے متعلق 21 دن میں جواب طلب کرلیا ہے.

    دوسری جانب امریکہ میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے کشمیر میں جہاد سے متعلق بیان کو کافی سراہا جارہا ہے. جس میں عمران خان نے موقف اپنایا تھا کہ کشمیر میں جو کوئی بھی لڑنے جائے گا، وہ پاکستان اور کشمیریوں کا دشمن ہوگا. امریکہ میں موجود جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم پاکستانی وزیراعظم کے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ان سے مکمل اتفاق بھی کرتے ہیں.