Baaghi TV

Tag: anwar maqsood

  • ریاست مدینہ بن گئی تو کیا ہوگا انور مقصود نے بتا دیا

    ریاست مدینہ بن گئی تو کیا ہوگا انور مقصود نے بتا دیا

    حال ہی میں کراچی آرٹس کونسل میں ماہرہ خان کے اعزاز میں ایک تقریب رکھی گئی جس میں انہیں انور مقصود نے انٹرویو کیا. انور مقصود نے ماہرہ خان سے سوال کیا کہ اگر آپ پاکستان کی وزیراعظم بن گئیں تو کیا کریں گی تو انہوں نے کہا کہ میں اگر وزیراعظم بنی تو وہ میری فلم ہے نا قائداعظم زندہ باد اس میں قوی خان کا ایک ڈائیلاگ ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ خدایا کوئی معجزہ ہوجائے حرام اور حلال کی کمائی میں فرق ہو. اس پر انورمقصود نے کہاکہ اکیلا ایماندار آدمی کچھ نہیں کر سکتا. اس کے بعد پلٹ کر ماہرہ خان نے انور مقصود سے سوال کیا کہ آپ اگر وزیراعظم بن جائیں تو کیا کریں گے تو اس پر انہوں نے کہا کہ میں تمام بے ایمانوں کو معاف کر دوں گا ، اور اگر ریاست مدینہ بن گئی تو پھر تو

    30 کروڑ کی آبادی میں سے 19 کروڑ کو ہتھکڑیاں‌لگ جائیں گی. انور مقصود کی یہ بات سن کر ماہرہ خان اور ہال میں موجود لوگ ہنستے رہے. ماہرہ خان اور انور مقصود کو اس انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا پر کافی تنقید کا سامنا ہے. کیونکہ اس میں انہوں نے ان سیاستدانوں کی تعریف کی ہے جن کو وہ پسند کرتے ہیں اور جن کو ناپسند کرتے ہیں ان پر طنز کی ہے.

  • ماہرہ خان کس سیاستدان کو سپورٹ کرتی ہیں اداکارہ نے بتا دیا

    ماہرہ خان کس سیاستدان کو سپورٹ کرتی ہیں اداکارہ نے بتا دیا

    پاکستان کی جانی مانی اداکارہ ماہرہ خان کے اعزاز میں کراچی آرٹس کونسل نے ایک تقریب رکھی اس تقریب کی میزبانی کے فرائض انور مقصود نے انجام دئیے انہوں نے ماہرہ خان سے کئی سوال کئے ، ایک سوال یہ بھی کہا کہ وہ کس سیاسی لیڈر کو پسند کرتی ہیں تو اس پر انہوں نے کہا میں پٹھان ہوں لیکن چاہتی ہوں کہ جو بھی اس ملک پر حکمرانی کرے وہ ایماندار ہو جو ایسا ہو گا وہی میرا پسندیدہ بھی ہوگا . انہوں نے کہا کہ میں بچپن سے ہی اداکاری کا شوق رکھتی تھی لیکن میری نانی بہت مخالفت کرتی تھیں، تاہم اب ایسا نہیں ہے. مجھے جب فلم بول کے لئے شعیب منصور کی کال آئی تو میرے تو زمین پر پائوں ہی نہیں لگ رہے تھے. اتنے بڑے ڈائریکٹر کے ساتھ کام کرنا یقینا

    مجھ جیسی نیو کمر کےلئے اعزاز کی بات تھی . انہوں نے کہا کہ میں اپنے کام سے کام رکھنے والی خاتون ہوں ، میں سوشل میڈیا پر ہوں لیکن وہاں‌پر زیادہ سیاسی ٹویٹس دیکھتی ہوں تو بھاگ جاتی ہوں. انہوں نے کہا کہ میں نے ابھی تک جتنا بھی کام کیا ہے اس سے بہت مطمئن ہوں اور سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ میں آج جو بھی ہوں اپنے مداحوں کی سپورٹ کی وجہ سے ہوں. یاد رہے کہ اس تقریب کے اختتام پر صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے آرٹس کونسل کی جانب سے ماہرہ خان کو کلچرل ایمبیسڈر آف پاکستان کا ایوارڈ بھی دیا۔

  • لاہور میں پہلی بار سٹیج پلے کرنے آیا ہوں ساجد حسن

    لاہور میں پہلی بار سٹیج پلے کرنے آیا ہوں ساجد حسن

    سینئر اداکار ساجد حسن جوکہ آج کل لاہور میں ہیں اور لاہور میں ہیں انور مقصود کے سٹیج پلے ساڑھے 14 اگست کے لئے . اس ڈرامے میں انہوں نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے. اداکار ساجد حسن نے اس موقع پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں لاہور میں‌پہلی بار کوئی سٹیج پلے کرنے کے لئے آیا ہوں اس سے پہلے میں نے کبھی بھی لاہور میں اس طرح سے پرفارم نہیں کیا. ساجد حسن کے کہا کہ لاہور کے لوگ ہمیشہ ہی بہت زیادہ پیار دیتے ہیں ، میں یہاں آیا ہوں اور بہت زیادہ پرجوش ہوں ، یہاں نوجوانوں کا جوش و جذبہ دیکھ کر کافی دل خوش ہوا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ انور مقصود کے ساتھ میرا بہت پرانا تعلق ہے ہم نے ایک ساتھ بہت زیادہ کام کیا ہے. اور جب بھی کام کیا ہے وہ

    یادگار ہی رہا ہے. میں ساڑھے 14 اگست کے لئے بہت زیادہ پرجوش ہوں. ساجد حسن نے مزید کہا کہ انور مقصود اس ملک کا اثاثہ ہیں ، انہوں نے جب اورجو بھی لکھا اس نے دیکھنے پڑھنے اور سننے والوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا . میں یہاں اپنی اہلیہ کے ساتھ آیا ہوں امید ہے کہ یہاں‌ سٹیج پر کام کرنے کا تےتجربہ بہت اچھا رہے گا .

  • سجاد علی نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ انور مقصود کا سٹیج پلے دیکھا

    سجاد علی نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ انور مقصود کا سٹیج پلے دیکھا

    معروف گلوکار سجاد علی کو الحمراء میں دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے جب وہ وہاں انور مقصود کا سٹیج ڈرامہ دیکھنے کے لئے پائے گئے. سجاد علی کے ساتھ ان کی اہلیہ اور بیٹی بھی تھیں. اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سجاد علی نے کہا کہ میں‌اپنی زندگی میں پہلی بار کسی سٹیج پلے کو دیکھنے کےلئے آیا ہوں. چونکہ میرا انور مقصود کے ساتھ بہت اچھا تعلق ہے اور ان کے کام کا میں کیا ساری دنیا دیوانی ہے وہ جب بھی کچھ لکھتے ہیں وہ سبق آموز ہوتا ہے اسلئے آج میں خاص کر یہ ڈرامہ دیکھنے کے لئے آیا ہوں. سجاد علی نے کہا کہ انور مقصود نے جب مجھے کہا کہ آپ یہ ڈرامہ دیکھنے آئیں تو مجھے لگا

    کہ یقینا اس میں کچھ الگ ہی بات ہو گی ، میں نے سٹیج ڈرامہ دیکھا ہے بہت اچھا ہے جس طرح سے ڈرامے کو سٹیج کیا گیا ہے وہ قابل ستائش ہے ، ڈرامے کے تمام کرداروں نے بہت محنت کی ہے. سجاد علی نے کہا کہ سبق آموز سٹیج پلیز نوجوان نسل کو دکھائے جانا وقت کی اہم ضرورت ہے . میں نے کبھی سٹیج پلے دیکھا نہیں تھا لیکن آج دیکھا ہے تو بہت مزا آیا ہے. ڈرامہ دیکھتے ہوئے بہت بار ایسا ہوا کہ زہن اُن وقتوں میں چلا گیا جب تقسیم ہند ہو رہی تھی .

  • انور مقصود کا ساڑھے 14 اگست کا لاہور میں میڈیا شو

    انور مقصود کا ساڑھے 14 اگست کا لاہور میں میڈیا شو

    معروف رائٹر انور مقصود کا سٹیج پلے ساڑھے 14 اگست کا لاہور میں گزشتہ شب میڈیا شو کیا گیا.اس میں سجاد علی ، تجزیہ نگار امتیاز عالم ، ساجد حسن اور انکی اہلیہ، ڈاکٹر یونس ملک و دیگر نے شرکت کی ، ڈرامے کو دیکھنے کےلئے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد آئی. ساڑھے 14 اگست میں گاندھی اور محمد علی جناح کے آپسی مکالموں اور اُس وقت کے دور کو دکھایا گیا جب تقسیم ہو رہی تھی. ڈرامے کے ڈائیلاگز کمال مہارت کے ساتھ لکھے گئے ہیں ، ہر مکالمہ سننے والوں کے لئے ایک سبق ہے. ڈرامے میں جناح اور گاندھی کے خوبصورت مکالموں کو سن کو تقسیم ہند کے وقت کی یاد بخوبی آتی ہے اور آنکھوں کے سامنے وہ منظر دوڑ جاتا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہم

    اسی دور میں بیٹھے ہوئے ہیں جب یہ سب ہو رہا تھا. ڈرامے میں جناح اور گاندھی کا کردار نوجوان لڑکوں نے ادا کیا ہے. ساڑھے 14 اگست لاہور سے پہلے کراچی اور اسلام آباد میں پیش کیا گیا جہاں یہ ڈرامہ کئی ماہ تک چلا . لاہور میں یہ ڈرامہ تین سے چار ہفتے تک جاری رہے گا. بہت عرصے کے بعد کسی سٹیج پلے کو شائقین کی ایک بڑی تعداد دیکھنے کےلئے الحمراء کا رخ کررہی ہے.

  • پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا میلہ کل  سے لاہور الحمراء میں سجے گا

    پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا میلہ کل سے لاہور الحمراء میں سجے گا

    تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول کل سے لاہور میں شروع ہونے جا رہا ہے، ایونٹ کا افتتاح جمعہ 10 فروری شام 3 بجے الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علیٰ شاہ کریں گے جب کہ پنجاب کے وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر اور سندھ کے وزیر ثقافت اور تعلیم سید سردار شاہ بھی شرکت کریں گے۔ فیسٹیول کے 50سے زائد سیشن ہوں گے جس میں تفریح، مزاح،موسیقی ، ڈانس کے علاوہ ادب،تعلیم، معیشت، کتابوں کی تقریب رونمائی،ملک کے معروف دانشوروں اور فن کاروں کے ساتھ گفتگو اور دیگر سنجیدہ سیشن بھی ہوں گے۔ صدر آرٹس کونسل پاکستان کراچی احمد شاہ کا کہنا ہے کہ آج ہمارے ملک کے دشمن زیادہ ہو گئے ہیں پاکستان میں یکجہتی کی بہت ضرورت ہے۔ کلچر اور ادب کے ذریعے ملک کی تمام اکائیوں کو جوڑا جا سکتا ہے۔ پاکستان لٹریچر فیسٹیول لاہور سے شروع ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ انور مقصود کی مشاورت سے پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں فیسٹیول کا افتتاح لاہور

    سے کر رہے ہیں، لاہور ادبی و تہذیبی مرکز رہا ہے، یہ شہر اس ریجن میں سب سے بڑا ثقافتی مرکز تھا، دلی اور چندی گڑھ سے لوگ یہاں پڑھنے آتے تھے. فیسٹیول میں میوزک،ڈانس، اردو ادب، ادبی نشستیں شامل ہیں، جبکہ تعلیم،معیشت ، شاعری پر مختلف سیشنز ہیں، معاشرے میں سب مرغے لڑا رہے ہیں، دانشور ختم ہوتے جا رہے ہیں، شاعر ادیب کا حکومت سے رشتہ نہیں رہا. ہم نوجوان نسل کو آپس میں جوڑ رہے ہیں، لاہور کے بعد گوادر،مظفر آباد،گلگت،پشاور، اسلام آباداور کراچی میں اس فیسٹیول کا انعقاد ہو گا،اس کے بعد امریکہ کے چار مختلف شہروں میں جائیں گے، ہیوسٹن، نیویارک، شکاگو سلیکان ویلی، ڈیلس اور ٹورنٹو میں پاکستان لیٹریچر فیسٹیول کا انعقاد کیا جائے گا.

  • پاکستان لٹریچر فیسٹیول کے حوالے پریس کانفرنس

    پاکستان لٹریچر فیسٹیول کے حوالے پریس کانفرنس

    آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے دس تا بارہ فروری الحمراء آرٹس کونسل لاہور میں منعقد ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول کی پریس کانفرنس کا آج لاہور میں انعقاد ہوا. پریس کانفرنس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ ،صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر نے شرکت کی۔ معروف ادیب و دانشور انور مقصود اور ذوالفقار زلفی نے میڈیا کو سہہ روزہ اس ایونٹ کی بریفنگ دی.صدر آرٹس کونسل کراچی محمد احمد شاہ نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم لوگوں کو ادب سے قریب رکھیں چاہے حالات کچھ بھی ہوں.انہوں نے کہا کہ میں وزیر ثقافت و اطلاعات جناب عامر میر کا شکر گزار ہوں یہ میری درخواست پر یہاں تشریف لائے ہیں۔ادب کی خدمات کے لئے اس طرح‌ کی تقریبات میں گزشتہ سولہ برس سے کررہا

    ہوں.پاکستان میں کلچر کے فرغ کے لئے اس طرح‌کے ایونٹس کا انعقاد بے حد ضروری ہے. انور مقصود نے کہا کہ میں نے احمد شاہ سے پوچھا کہ پاکستان میں جو حالات ہیں ایسے میں اسطرح‌ کے ایونٹس کے انعقاد کا حوصلہ کہاں سے لاتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ جس ملک میں ادب زندہ رہتا ہے وہ کہیں نہیں جاتا۔انور مقصود نے کہا کہ لاہور نہ ہوتا تو پاکستان میں اردو نہ ہوتی۔ ہر آدمی کا حق ہے کہ کہ اس کا آنے والا دن اچھا ہو۔حالات برے ہیں لیکن ہمیں اچھے کی امید رکھنی چاہیے. نوجوان ہمارا مستقبل ہیں.