Baaghi TV

Tag: ARAB

  • سندالہ لگژری جزیرے پر جی سی سی خطے کا پہلا گولف کورس قائم

    سندالہ لگژری جزیرے پر جی سی سی خطے کا پہلا گولف کورس قائم

    سعودی عرب کے ایک جزیرے پر نیا گالف کورس بنایا جائے گا۔ یہ اس علاقے میں پہلا گولف کورس ہوگا۔ عامی ادارے کی خبر کے مطابق نیوم، ایک کمپنی نے کہا کہ وہ آئی ایم جی گالف کورس کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ ان کے گولف کورس میں ان کی مدد کی جا سکے۔ وہ کھلنے کے لیے تیار ہونے، اشتہار دینے اور کورس چلانے جیسی چیزوں میں مدد کریں گے۔

    نیوم کے چیف اربن ڈیولپمنٹ اینڈ آئی لینڈ آفیسر انٹونی ویویس نے کہا ہے کہ سندالا نیوم کا پہلا بڑا پروجیکٹ ہوگا جسے وہ سب کو دکھائیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک خاص جگہ ہوگی جو گالف کھیلنا پسند کرتے ہیں اور یہ کسی بھی چیز کے برعکس ہوگا جبکہ وہ جگہ جہاں لوگ گولف کھیلنے کی مشق کر سکتے ہیں وہاں نئی ​​ٹیکنالوجی کے ساتھ خصوصی کیمرے ہوں گے جو یہ ٹریک کر سکتے ہیں کہ گولف کی گیند کہاں جاتی ہے اور اس بارے میں معلومات دے سکتے ہیں کہ انہوں نے کتنا اچھا کھیلا۔

    رابرٹ ٹرینٹ جونز جونیئر نے گولف کی ایک خاص جگہ بنائی جو ماحول کا خیال رکھنے اور لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے لیے واقعی اچھے اصولوں کی پیروی کرتی ہے۔ اسے یہ بتانے کے لیے ایک خاص سرٹیفیکیشن ملا کہ یہ ان چیزوں کو کرنے میں کتنا اچھا ہے۔ جبکہ سندالا گالف اکیڈمی کے نام سے ایک خاص جگہ ہوگی جہاں لوگ گولف سیکھنے اور پریکٹس کرنے جا سکیں گے۔ اس میں مختلف کمرے ہوں گے جہاں وہ نئے آلات آزما سکتے ہیں اور خصوصی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے گولف کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    اسپورٹس کلب میں، ورزش کرنے کے لیے ایک جگہ ہوگی جسے جم کہا جاتا ہے، تیراکی کے لیے واقعی ایک بڑا پول جیسا کہ اولمپکس میں، ایک آرام دہ سپا، اور مختلف کھیل کھیلنے کے لیے علاقے۔ سندالا بحیرہ احمر میں ایک خاص جگہ ہے جہاں جزیروں کا ایک گروپ ہے۔ ان میں سے ایک جزیرے میں فینسی کشتیوں کے لیے واقعی ٹھنڈی جگہ ہو گی جسے یاٹنگ کی منزل کہا جاتا ہے۔ اسے اٹلی کے ایک مشہور ڈیزائنر نے ڈیزائن کیا ہے۔ تین واقعی فینسی ہوٹل، ایک گولف کورس، کھانے کے لیے بہت سی جگہیں، اور 51 فینسی اسٹورز کے ساتھ ایک خاص شاپنگ ایریا ہے۔
    2024 کے پہلے حصے میں بچے اسے دیکھ سکیں گے اور اسے دریافت کر سکیں گے۔

  • سعودیہ عرب کا  انسانی اسمگلنگ کیخلاف  اقدامات پر زور

    سعودیہ عرب کا انسانی اسمگلنگ کیخلاف اقدامات پر زور

    سعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ تارکین وطن کے استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے جرائم کی روک تھام سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے اور منظم جرائم کے نیٹ ورکس کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اتوار کے روز اٹلی کے شہر روم میں مہاجرت سے متعلق منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی ہے۔اس میں تارکینِ وطن کے بحران اور قوموں پر اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

    سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق مملکت کی نمائندگی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف بن عبدالعزیز نے کی اور انھوں نے کانفرنس میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ایک وفد کی قیادت کی۔ شہزادہ عبدالعزیز نے مملکت کے انسانی ہمدردی کے کاموں اور منصوبوں پر روشنی ڈالی جن کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کے خطرات اور استحصال کی مختلف شکلوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔انھوں نے اس کانفرنس کے انعقاد میں اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی کوششوں کو سراہا۔

    انھوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ بے ضابطہ نقل مکانی کے پیچھے کارفرما سیاسی، سماجی اور معاشی پہلوؤں سے نمٹنے کے لیے یک جہتی کا اظہاراور تعاون کرے۔ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے بہ نفس نفیس کانفرنس میں شرکت کی۔ انھوں نے غیر قانونی امیگریشن سے متاثرہ ممالک میں ترقیاتی منصوبوں کی معاونت کے لیے اپنے ملک کی جانب سے 10 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اطالوی وزیر اعظم نے کہا کہ تارکین وطن کا غیر قانونی بہاؤ بحیرہ روم (بحرمتوسط) کے اس پار تمام ممالک کو نقصان پہنچا رہا ہے۔میلونی نے اپنے ماضی کے سخت گیر بیانات کو نرم کرتے ہوئے کانفرنس کو بتایا کہ ان کی حکومت قانونی راستوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو لینے کے لیے تیار ہے کیونکہ ’’یورپ اور اٹلی کو امیگریشن کی ضرورت ہے‘‘۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ غیر مجاز ذرائع سے بحیرہ روم کے خطرناک راستے عبور کرنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔انھوں نے بڑے پیمانے پرغیر قانونی امیگریشن ہم میں سے ہر ایک کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا، سوائے جرائم پیشہ گروہوں کے جو انتہائی کمزور لوگوں کی قیمت پر امیر ہوجاتے ہیں اور حکومتوں کے خلاف بھی اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن نے 27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین (ای یو) میں قانونی راستوں کی پیش کش کے بارے میں میلونی کے نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔ یورپی یونین اور تُونس نے گذشتہ ہفتے ’’تزویراتی شراکت داری‘‘ کے ایک معاہدے پر دست خط کیے تھے جس میں انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن اور سرحدوں کو سخت کرنا شامل ہے۔یورپ نے تُونس کی تباہ حال معیشت کے لیے ایک ارب یورو (1.1 ارب ڈالر) کی امداد کا وعدہ کیا ہے جبکہ 10 کروڑ یورو خاص طور پر غیر قانونی تارکین وطن سے نمٹنے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

    وان ڈیر لیئن نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ تُونس کے ساتھ ہمارا معاہدہ ایک نمونہ ہو اور مستقبل میں خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ شراکت داری کے لیے ایک خاکا ہو‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین تُونس جیسے ممالک کے ساتھ مل کر قابل تجدید توانائی کی پیداوار کو سب کے فائدے کے لیے بڑھا سکتی ہے۔ لیبیا کی صدارتی کونسل کے سربراہ محمد یونس المنفی نے کانفرنس سے خطاب میں امیر ممالک سے مدد کی اپیل کی ہے۔انھوں نے کہا:’’ہم تارکین وطن کے مصائب کو روکنے کے لیے مؤثر طریقے سے حصہ لینے کو تیار ہیں‘‘۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی، سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار تبدیل
    بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر
    کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ

    پوپ فرانسیس نے اتوار کے روز سینٹ پیٹرز اسکوائر میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے یورپی اور افریقی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ شمالی افریقا کے صحرائی علاقوں میں پھنسے تارکین وطن کی مدد کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے سمندر دوبارہ موت کا تھیٹر نہ بن جائے۔ کانفرنس کے میزبان اٹلی کو اپنے جنوبی جزیرے لیمپیڈوسا جیسے مراکز میں پہنچنے والے غیر مجاز تارکین وطن کی تعداد سے نمٹنے میں جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔تاہم ، اس کی عمر رسیدہ اور گھٹتی ہوئی آبادی بھی ہے اور اسے اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اضافی کارکنوں کی ضرورت ہے۔

    رواں ماہ کے اوائل میں اٹلی نے 2023 سے 2025 تک غیر یورپی یونین کے شہریوں کے لیے 4 لاکھ 52 ہزار نئے ورک ویزے جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کے بعد 2025 میں ہر سال دستیاب اجازت ناموں کی تعداد ایک لاکھ 65 ہزار تک پہنچ جائے گی۔ 2019 میں کووِڈ 19 سے پہلے اٹلی نے صرف 30 ہزار 850 ویزے جاری کیے تھے۔ اٹلی میں اس سال سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب تک 83,000 سے زیادہ افراد ساحل پر آ چکے ہیں جبکہ 2022 کے اسی عرصے میں یہ تعداد 34،000 تھی۔ اطالوی وزیرخارجہ انتونیو تاجانی نے کانفرنس میں کہا کہ ’’ہمیں مہاجرین کے مسئلے کو اس کی جڑوں میں ہی حل کرنا ہوگا۔ہمیں موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی، بیماریوں اور غُربت کے خلاف جنگ جیسے بڑے مسائل پر ایک دوسرے کا سامنا کرنا ہوگا‘‘۔

  • رجب طیب اردوان سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

    رجب طیب اردوان سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

    ترک صدر رجب طیب اردوان اپنے پہلے سرکاری غیر ملکی دورے پر سعودی عرب کے شہر جدہ پہنچ گئے ہیں جبکہ عرب میڈیا کے مطابق متعدد سعودی حکام کو اردوان کا استقبال کرتے ہوئے دکھایا جب وہ بحیرہ احمر کے شہر جدہ میں سعودی-ترک تجارتی فورم کے مقام پر پہنچے اور پھر اپنے دورے کے دوران رجب طیب اردوان سعودی بادشاہ شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے اور دونوں ممالک کے درمیان متعدد مشترکہ امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جبکہ توقع ہے کہ ترک صدر سعودی ترک بزنس مین فورم سے پہلے ایک تقریر بھی کریں گے۔

    رجب طیب اردوان کا سعودی عرب کا دورہ 17 سے 19 جولائی کے درمیان خلیجی ممالک کے دورے کا پہلا پڑاؤ ہوگا جس میں قطر ، متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ ترک رہنما سرمایہ کاری اور مالیات کے لیے بڑی امیدوں کے ساتھ خلیج کا دورہ کر رہے ہیں کیونکہ ترک بجٹ کے تناؤ، دائمی افراط زر اور کمزور ہوتی کرنسی کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ خلیج سے سرمایہ کاری اور فنڈنگ نے 2021 سے ترکی کی معیشت اور ہارڈ کرنسی بفر پر دباؤ کو کم کرنے میں مدد کی ہے، جب انقرہ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششوں کا آغاز کیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پرویز خٹک کی جانب سے نئی پارٹی بنائے جانے پر عمران خان کا ردعمل بھی سامنے آ گیا
    ایشیا کپ سے متعلق معاملات طے پا گئے، میگا ٹورنامنٹ کا آغازکہاں سے ہوگا؟
    3 ماہ تک سمندر میں کچی مچھلی کھا کر اور بارش کا پانی پی کر زندہ رہنے والا شخص
    تحریک انصاف کے 44 اور ہمارے 14ماہ کا جائزہ لیا جائے،مریم اورنگزیب
    توشہ خانہ فوجداری کارروائی سے متعلق کیس کی سماعت 18 جولائی تک ملتوی
    روانگی سےقبل استنبول میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ دورے کے دو اہم موضوعات ہیں: سرمایہ کاری، اور ایک مالی جہت۔ ہمیں دونوں سے بہت امیدیں ہیں۔ہمارے پاس تینوں ممالک میں دفاعی صنعت، انفراسٹرکچر اور سپر اسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے سنجیدہ مواقع ہوں گے۔اس کے علاوہ، ان ممالک کو ترکیہ سے کچھ اثاثے خریدنے کا موقع ملے گا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق دوسری طرف ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ وہ شام کے صدر بشار الاسد کے ساتھ ملاقات کے لیے تیار ہیں، لیکن یہ شامی سرزمین سے ترک فوجیوں کے انخلاء کو مذاکرات کے لیے پیشگی شرط قرار دینا ”ناقابل قبول“ ہے۔

  • پاک اسرائیل تعلقات ، فوائد و نقصانات کا ایک تاریخی جائزہ از طہ منیب

    اسرائیل کے قیام اور اس سے تعلقات سے متعلق سوال پر قائد اعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے جسے ہم تسلیم نہیں کر سکتے ، اسی طرح 1948 میں قائد اعظم کو پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان کا ٹیلیگرام موصول ہوا جسے اگنور کرتے ہوئے جواب نہیں دیا گیا۔ لیاقت علی خان کے پہلے دورہ امریکہ پر کچھ تاجروں نے انہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بعد معاشی و تجارتی اہمیت بیان کی تو انہوں نے کہا، "Gentleman our souls are not for sale”۔ پاکستان نے 1948 ، 1967 ، 1973 اور 1982 کی جنگوں میں عربوں کی حمایت کی ، پاک فضائیہ کے شاہینوں کو چار اسرائیلی طیارے گرانے کا اعزاز بھی ہے۔ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بن گوریان نے پاکستان کو اپنا دشمن نمبر قرار دیتے ہوئے کہ کہا کہ ہمیں عربوں سے زیادہ انکے دوست پاکستان سے خطرہ ہے جسکے مقابل اسرائیل کو اقدامات کرنے ہونگے۔

    یہ تو ہے اسرائیل پاک تعلقات کے معاملات کی کچھ تاریخ تاہم مشرف دور میں انقرہ میں ترکی نے خفیہ طور پر پاک اسرائیل وزراء خارجہ ملاقات کا اہتمام کروایا جسکا مقصد یقیناً مستقبل قریب میں پاک اسرائیل تعلقات کی بحالی تھا۔ تاہم اس کے بعد پاکستان کی طرف سے اسرائیل سے تعلقات سے متعلق کوئی خاص کاوش دیکھنے میں نہیں آئی۔ ابھی گزشتہ دو تین سالوں سے مخصوص قبیل کے کچھ اینکرز کی طرف سے مسلسل اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے فوائد و ثمرات پر دلائل دیکھنے میں آرہے ہیں یہاں تک کہ کل کامران خان نے کہا کہ پاکستان کو متحدہ عرب امارات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ طاقت کے ایوانوں میں عمران خان اسرائیل کے حوالے سے خاصا سخت مؤقف رکھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ اس پر مزید کوئی ڈویلپمنٹ سامنے نہیں آئی۔

    پاکستان میں پبلک پریشر خارجہ و داخلہ امور میں ہمیشہ سے اثر انداز رہا ، ایٹمی دھماکے ہوں ، توہین رسالت کا مسئلہ ہو یا اسرائیل کا تسلیم کرنا اس قسم کے معاملات پر ہمیشہ سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اسکی اپنی جگہ حقیقت لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ریاست کسی فیصلے پر عمل درآمد کا ارادہ کرتی ہے تو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی جیسے غیر مقبول معاملات بھی کر گزرتی ہے۔

    اسرائیل کی شروع دن سے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش رہی ہے ، جبکہ ہم واحد ایٹمی اسلامی ریاست ہیں جو اسرائل کے ناجائز وجود کو دنیا میں تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور اپنے پاسپورٹ پر بھی لکھ رہا ہے کہ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے ہر ملک میں کارآمد ہے۔ ہمارے تسلیم کرنے سے دنیا میں اسرائیل کے راستے کی واحد رکاوٹ بھی ختم ہو جائے گی اور اسکی سلامتی کو ہم سے لاحق خطرات بھی ختم ہو جائیں گے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر پاکستان کے پالیسی میکرز کہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سرگرم و متحرک ہوتے ہیں تو شاید تجارتی و معاشی فوائد تو حاصل ہو جائیں جیسا کہ ماضی میں بھی لیاقت علی خان کو اس کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی موقف کو کھو دے گا ، کشمیر ہماری بقاء اور خارجہ پالیسی کا بنیادی مرکز ہے اس پر کسی قسم کی اخلاقی کجی کمی ہمیں اقوام عالم میں کھڑا نہیں رکھ پائے گی۔

  • جامعہ ملیہ کے طلبا پر بھارت سرکار کا کریک ڈاؤن ، عرب ایکٹوزم اور امریکی رپورٹ، تحریر طہٰ منیب

    کرونا کی تباہ کاریوں اور عربوں کے سوشل میڈیا ایکٹوزم اور اب چند گھنٹے قبل امریکہ کی جانب سے بھارت پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کے باوجود محسوس ایسا ہوتا ہے کہ مودی ہٹ دھرمی سے باز آنے والا نہیں ہے۔

    بھارت میں گزشتہ شام سے #ReleaseJMIPeople یعنی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے لوگوں کو رہا کرو ٹرینڈ ٹاپ پر ہے،

    یہ تین لوگ ہیں جنکی رہانی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ صفورہ زرگر، شفاالرحمان، میران حیدر تینوں جامعہ کے طلبا ہے جن پر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا ایکٹ UAPA Unlawful Activities Prevention Act لگا کر گرفتاری کے بعد دس دس دن کے ریمانڈ پر عدلیہ کے زریعے پولیس کے حوالے کر کے تہاڑ جیل نیو دہلی میں ڈال دیا گیا ہے، شفا الرحمان سابق طالبعلم ہیں، صفورا زرگر کی دو سال قبل شادی ہوئی ، پریگننٹ حالت میں اسے کوئی رعایت بخشے بغیر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے،

    صفورہ زرگر

    صفورہ زرگر تہاڑ جیل میں

    شفا الرحمان

    میران حیدر

    ان کا جرم چند ماہ قبل مسلم دشمن متنازعہ شہریت بل سٹیزن شپ امینڈمیٹ بل CAB کی مخالفت میں اواز بلند کرنا تھا ، جس بل کا مقصد مسلمانوں کو بھارتی شہریت سے فارغ کر کے انہیں حراستی مراکز ڈیٹینشن کیمپوں میں ڈال کر نسل کشی کرنا تھا، جس پر روایتی بھارتی مسلم قیادت ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور جامعہ ملیہ کے طلبا نے ظلم و تشدد آنسو گیس ، شیلنگ ، فائرنگ، لاٹھی چارج اور بعد ازاں بڑی تعداد میں گرفتاریاں پیش کر کے قربانیوں کی لازوال داستان رقم کی، اور یہ آواز ہر غیر متعصب انسان کی آواز بنی ، مسلمان بھی جاگے،

    کرونا لاک کی تباہ کاریوں نے کچھ عرصے کیلئے اس توجہ بٹائی تو ضرور تھی لیکن انتہا پسند ہندو کرونا وائرس کا زمہ دار مسلمانوں کو ٹھرانے لگے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے ایک نئی لہر اٹھی اور عرب بلاگرز اور زمہ داران کی توجہ سے کچھ معاملہ بظاہر تو ٹھنڈا ہوا تو اب ان طلبا کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں،
    گوکہ امریکی سرکاری ادارے نےبھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک پر سفری اور دیگر پابندیوں کی تجاویز دی ہیں لیکن شاید ہی امریکہ سرکار اس پر کوئی ایکشن لے، ہمارے بھارتی بھائیوں کو ظلم کی یہ سیاہ رات اپنی قربانیوں سے کاٹنی ہے اور وہ اب کسی حد تک تیار ہو بھی چکے ہیں، ہمارا کام انکے لئے آواز بلند کرنا اور رمضان کی بابرکت ساعتوں میں انکے دعائیں کرنا ہے کہ ظلم کی یہ رات ختم ہو اور ہندو کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی کی صبح نصیب ہو