Baaghi TV

Tag: Arif Alvi

  • ہر پاکستانی کا حق ہے کہ اسے درست طریقے سے گنا جائے. خرم دستگیر

    ہر پاکستانی کا حق ہے کہ اسے درست طریقے سے گنا جائے. خرم دستگیر

    خرم دستگیر نے کہا ہے کہ ہر پاکستانی کا حق ہے کہ اسے درست طریقے سے گنا جائے اور اسمبلیوں میں سیٹیں دی جائیں جبکہ آئین یہ بھی کہتا ہے نئی مردم شماری پر انتخابات ہوں گے، پچھلی مردم شماری میں گجرانوالہ میں ایک قومی اسمبلی کی سیٹ کم ہوئی تھی اور انہوں نے کہا ہے کہ انتخابات کی حتمی اور آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، نگران حکومتیں صرف الیکشن کمیشن کی معاونت کیلئے ہوتی ہیں۔

    تاہم آئند عام انتخابات کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ اگلے سال کے شروع میں الیکشن ہو جائیں گے، ہم کہتے ہیں کہ ملک میں آئین کی پاسداری ہونی چاہیے جبکہ انکا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں سیکیورٹی اور مالی حالات کا سامنا تھا، پنجاب اسمبلی کے الیکشن پر چھوٹے صوبوں نے اعتراض کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر
    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    علاوہ ازیں رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کا ریکارڈ پہلے سے ہی خراب ہے ، صدر مملکت نے بہت سارے معاملات پر آئین پر عمل نہیں کیا ، صدر مملکت نے نیشنل فنانس کمیشن کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کے ممبران کو خود لگانے کی کوشش کی جبکہ خرم دستگیر نے کہا ہے کہ صدر مملکت کو آئین تیسرا کوئی آپشن نہیں دیتا، پارلیمنٹ دوبارہ بل کو منظور کر ے تو صدر مملکت نہیں روک سکتے، صدر اپنے ٹوئٹ میں اعتراف جرم کر رہے ہیں ، صدر مملکت پارلیمان کے پاس کئے گئے بل غیر موثر نہیں کر سکتے۔

  • صدر مملکت پوسٹ کے بجائے قانونی طریقہ اختیار کرتے. شاہد خاقان عباسی

    صدر مملکت پوسٹ کے بجائے قانونی طریقہ اختیار کرتے. شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ صدر مملکت ایکس پوسٹ نہ کرتے تو بہتر ہوتا کیونکہ انہیں معاملہ قانونی طریقے سے اٹھانا چاہئے تھا جبکہ صدر مملکت کسی پارٹی کی نمائندگی نہیں کر رہے اور دیکھنا ہوگا کہ صدر مملکت ردعمل نہ دیں تو کیا ہوگا، بل پر صدر کے ردعمل نہ دینے پر آئین بھی خاموش ہے اور صدر مملکت اپنے عملے کو تبدیل کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ عارف علوی نئے صدر کے آنے تک عہدے پر رہ سکتے ہیں، صدر مملکت کی مدت میں توسیع کی نظیر نہیں ملتی جبکہ ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی پر بحث نہیں ہوئی، بہت سے بلز عجلت میں پاس کرائے گئے، بلز کی منظوری کیلئے کوئی دباؤ یا مخالفت نظر نہیں آئی۔ اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عجلت میں قانون سازی ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ انتخابات 90 دن میں نہیں ہوسکتے، الیکشن کمیشن نے کہہ دیا ہے کہ ساڑھے 4 ماہ درکار ہیں جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حلقوں میں وسیع تبدیلیاں آئیں گی، اصل مسئلہ حلقہ بندیوں کا ہے، دسمبر میں الیکشن ہوئے تو 35 نشستیں سردی سے متاثر ہوں گی، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پرانی مردم شماری پر الیکشن کرنا بھی درست نہیں تھا، 5 سال بعد نئی مردم شماری کرانے کا وقت آجائے گا، مردم شماری کی تاخیر سے منظوری میں بدنیتی نہیں ہے، پی ٹی آئی دورمیں نئی مردم شماری پر الیکشن کا فیصلہ ہوا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر

    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی وطن واپسی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو الیکشن کے قریب واپس آنا چاہئے، ووٹ کوعزت دو کا بیانیہ اپنا جگہ قائم ہے، شہباز شریف بتائیں گے کہ الیکشن مہم میں بیانیہ کیا ہوگا، مہنگائی کا بوجھ ن لیگ کو برداشت کرنا پڑے گا۔ اٹک جیل میں عمران خان کے سیل کے باہر کیمروں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیرک میں کیمرے لگانا زیب نہیں دیتا، بیرک میں سیکیورٹی دینی ہوتی ہے، جیل مینول کے مطابق سہولیات دی جاتی ہیں، سہولیات کیلئے عدالت میں درخواست دائر کی جاتی ہے۔

  • صدر مملکت معاملہ، شفاف تحقیقات کرنی چاہئے. سابق وزیراعظم

    صدر مملکت معاملہ، شفاف تحقیقات کرنی چاہئے. سابق وزیراعظم

    سابق وزیراعظم شہبازشریف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے بیان کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے جبکہ سابق وزیراعظم شہباز شریف مسلم لیگ (نواز) کے قائد نوازشریف سے ملاقات کے لیے ایون فیلڈ ہاؤس پہنچے ہیں، جبکہ اس موقع پر شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت عارف علوی نے جو بیان دیا ہے اس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیئں، تاکہ شفاف تحقیقات کے ذریعے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیئے۔

    جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ صدر جس بل کو چیک کرتے ہیں اس پر دستخط بھی کرتے ہیں، اس میں زبانی کلامی والی کوئی بات نہیں ہوتی، پاکستان کے سب سے بڑے آئینی عہدے پر بیٹھے شخص کو زبانی کلامی بات نہیں کرنی چاہیئے۔ تاہم واضح رہے کہ سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر مملکت صاحب نے اتنے دن انتظار کیوں کیا؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے، بلوں پر دستخط نہ کرنے والا معاملہ اتنا آسان نہیں، اس پر صدر عارف علوی کو جواب دینا پڑے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    تاہم واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر مملکت عارف علوی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں آرمی اور آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل 2023 پر دستخط کرنے کی تردید کی تھی۔ اور پھر آج صدر مملکت عارف علوی کے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کردی گئیں جبکہ ایوان صدر نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے نام خط لکھ دیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت کے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات مزید درکار نہیں ہیں لہذا وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کی جاتی ہیں۔

  • صدر 10 دن میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے تو بل  قانون بن جاتا. نگران وزیراطلاعات

    صدر 10 دن میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے تو بل قانون بن جاتا. نگران وزیراطلاعات

    نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احمد عرفان اسلم کا کہنا ہے کہ پاکستان آرمی امینڈمنٹ بل 27 جولائی کو سینیٹ نے پاس کیا تھا اور یہی بل 31 جولائی کو قومی اسمبلی نے بھی پاس کیا اور پھر یہ بل ایوان صدر کو دو اگست کو موصول ہوا تھا جبکہ انہوں نے بتایا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی نے پہلی اگست کو پاس کرکے سینیٹ کو بھیجا لیکن سینیٹ نے کچھ اعتراضات لگا کر واپس قومی اسمبلی میں بھیج دیا جسے دور کرکے قومی اسمبلی نے 7 اگست کو منظور کیا اور اسکے بعد یہ بل صدر مملکت کو بھیجا گیا جو 8 اگست کو انہیں موصول ہوا تھا.

    احمد عرفان اسلم کے مطابق قانونی پوزیشن یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت جب کوئی بل صدر مملکت کے پاس منظوری کیلئے بھیجا جاتا ہے تو ان کے پاس دو اختیارات ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اس بل پر اپنی رضامندی دے دیں اور وہ قانون بن جائے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ بل پر اپنی آبزرویشنز تحریری صورت میں واپس بھیجیں تاکہ مجلس شوریٰ ان رہنمائی پر غور کرسکے۔

    تاہم ان کے مطابق آرٹیکل 75 کے تحت کوئی تیسرا اختیار نہیں ہے، اور یہ دونوں اختیارات استعمال کرنے کیلئے قانون میں ٹائم لمٹ 10 دن لکھی گئی ہے۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کے پاس 10 دن تھے، ماضی بعید اور ماضی قریب میں صدر مملکت نے کئی مرتبہ 10 دن کی ٹائم لمٹ پر عملدرآمد کیا۔ نگراں وزیر قانون نے کہا کہ صدر مملکت نے 10 دن میں نہ تو بل پر دستخط کیے اور نہ مشاہدات درج کرکے واپس بھجوائے، صدر 10 دن میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے تو بل خودبخود قانون کاحصہ بن جاتا ہے۔. علاوہ ازیں ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ صدر آئینی سربراہ ہیں اور ان کی بہت تعظیم ہے، صدر کو آئینی تحفظات حاصل ہیں، صدر کا ریکارڈ لینے جیسی کوئی حرکت ہم نہیں کرسکتے۔

    مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ صدر اپنی ٹویٹ میں کس سے معافی مانگ رہے ہیں وہی بتاسکتے ہیں، اللہ سے ہم سب ہی معافی مانگتے ہیں، اگر کوئی غیر آئینی کام کریں تو اس پر عوام سے مانگنی چاہئے۔ صدر مملکت کے اسٹاف سے انکوائری کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت نامناسب بات ہوگی کہ صدر کے اسٹاف سے پوچھا جائے۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ کوئی فرد یا گروہ ملک کے آئین کے خلاف کوئی بات کرے تو اس کا جواب دینا حکومت کا کام ہے، موجودہ حکومت آئین کے تحت بنی ہے، اگر کوئی غیرآئینی بات کا حکومت جواب دے تو اسے سیاسی بیان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    اس بل کے تحت شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی گرفتاری کے سوال پر وزیراطلاعات نے کہا کہ کچھ لوگوں کی گرفتاری کی جو بات ہے اس پر ہم اپنا بیان دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی باقیوں کی طرح ٹی وی سے گرفتاریوں کا علم ہوتا ہے۔ مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ہم مفروضوں پر بات نہیں کرتے، ہم سے کوئی بھی توقع نہ کرے کہ ہم صدر کے آئینی عہدے کی تعظیم کے خلاف کوئی بات کریں، صدر صاحب کے اسٹاف کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرسکتا، یہ صدر کو دیکھنا ہوگا، ہم صدر کو کوئی مشورہ نہیں دے سکتے۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیر قانون نے احمد عرفان اسلم نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے تو یہ اس کا حق ہے۔

  • عارف علوی ٹوئیٹ؛ پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کرلیا

    عارف علوی ٹوئیٹ؛ پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کرلیا

    تحریک انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ٹوئٹ کی روشنی میں سپریم کورٹ سے فوری رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاہم خیال رہے کہ صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان جاری کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل اور پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل پردستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سےمتفق نہیں تھا۔

    ٹویٹر پیغام میں ڈاکٹر عارف علوی نے کہا تھا کہ اپنے عملے سےکہا بغیر دستخط شدہ بلز مقررہ وقت میں واپس کردیں تاکہ غیرمؤثر بنایاجاسکے، میں نے کئی بار تصدیق کی اور مجھے یقین دلایا گیا کہ بلز واپس جاچکے ہیں۔ جبکہ صدر مملکت نے کہا کہ مجھے آج پتہ چلا میرا عملہ میری مرضی اور حکم کیخلاف گیا، میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو قانون اس سے متاثرہوں گے۔ اللہ سب جانتا ہے وہ انشاءاللہ معاف کردے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    پی ٹی آئی کی جانب سے اس معاملے پر قومی و عدالتی سطح پر صدر مملکت کے مؤقف کی بھرپور تائید وحمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ ترجمان پاکستان تحریک انصاف کے مطابق قانونی مسوّدوں کی توثیق کے عمل پر صدر کا مؤقف غیر معمولی اقدامات کا متقاضی ہے، صدر مملکت نے ٹویٹ کے ذریعے ریاستی و حکومتی ڈھانچے کے مرض کی نشاندہی کی ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ صدر مملکت کے فیصلوں پر ان کی مرضی کے بغیر عملدرآمد روکنا غیرآئینی ہے، معاملے کو سپریم کورٹ کے سامنے رکھیں گے اور تحقیقات کی استدعا کریں گے۔

  • صدر مملکت  خط؛  12 اگست تک نگران وزیرِ اعظم کا نام مانگ لیا

    صدر مملکت خط؛ 12 اگست تک نگران وزیرِ اعظم کا نام مانگ لیا

    صدر مملکت خط؛ 12 اگست تک نگران وزیرِ اعظم کا نام مانگ لیا

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیرِ اعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف کو 12 اگست تک نگران وزیرِ اعظم کا نام دینے کا کہہ دیا جبکہ صدر مملکت کا وزیراعظم میاں محمد شہبار شریف اور تحلیل شدہ قومی اسمبلی کے قائدِ حزبِ اختلاف راجہ ریاض احمد کو خط میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 224 ایک اے کے تحت صدر مملکت وزیراعظم اور قائدِحزب ِاختلاف کے مشورے سے نگران وزیرِ اعظم کی تعیناتی کرتے ہیں.


    جاری اعلامیہ کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت قومی اسمبلی کی تحلیل کے 3 دن کے اندر وزیرِ اعظم اور قائدِحزب اختلاف کو نگران وزیرِ اعظم کا نام تجویز کرنا ہوتا ہے۔

    صدرمملکت کا خط میں کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 224 ایک اے کے تحت صدر مملکت وزیراعظم اور قائدِحزب ِاختلاف کے مشورے سے نگران وزیرِ اعظم کی تعیناتی کرتے ہیں، اور آئین کے تحت وزیرِ اعظم اور قائدِحزب اختلاف کو قومی اسمبلی کی تحلیل کے 3 دن کے اندر نگران وزیرِ اعظم کا نام تجویز کرنا ہوتا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    جبکہ صدر مملکت نے کہا کہ میں نے وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کی ، 9 اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کر دی ہے اور وزیرِ اعظم اور قائد حزبِ اختلاف 12 اگست تک موزوں نگران وزیر اعظم کا نام تجویز کریں.

  • صدر مملکت  نے 3 بلوں کی منظوری دے دی

    صدر مملکت نے 3 بلوں کی منظوری دے دی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 3 بلوں کی منظوری دے دی ہے جبکہ صدر عارف علوی نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی(ڈی ایچ اے) اسلام آباد ترمیمی بل 2023 کی منظوری دی ہے، بل کا مقصد ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اسلام آباد 2013 میں ترمیم کرنا ہے۔ علاوہ ازیں صدر نے پیٹرولیم ترمیمی بل 2023 کی بھی منظوری دی ہے جس کا مقصد پٹرولیم ایکٹ 1934 میں ترمیم کرنا ہے۔


    صدر عارف علوی نے پاکستان نرسنگ کونسل ترمیمی بل 2023 بھی منظور کرلیا ہے جبکہ بل کا مقصد پاکستان نرسنگ کونسل ایکٹ 1973 میں ترمیم کرنا ہے اور تینوں بلوں کی منظوری آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت دی گئی ہے۔


    جبکہ دوسری جانب اس سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو برطانیہ اور ملاوی کے نامزد ہائی کمشنر اور کوریا کے نامزد سفیر نے سفارتی اسناد پیش کیں اور صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان تجارت، معیشت اور ثقافت کے شعبوں میں برطانیہ، کوریا اور ملاوی کے ساتھ تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مریم نواز تشدد کا شکار کم عمر بچی کی عیادت کے لیے ہسپتال پہنچ گئیں
    بغداد، پاکستانی سفارتخانے میں مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ سسٹم کا افتتاح
    انتخابی عمل میں خواتین کی شرکت سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے،وفاقی وزیر قانون

    عارف علوی نے مزید کہا کہ پاکستان اور ملاوی تعلقات مشترکہ مفادات، اقدار اور اہداف پر مشتمل ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی تعلقات کو وسعت دینے کی ضرورت ہے. علاوہ ازیں صدر مملکت نے تمام سفراء کو ان کی تقرری پر مبارکباد بھی دی اور کہا کہ امید ہے کہ نامزد سفراء پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعاون کے مزید فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے.