Baaghi TV

Tag: Army Act

  • حکومتی اتحادی جماعتوں کی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی مخالفت

    حکومتی اتحادی جماعتوں کی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی مخالفت

    حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی مخالفت کردی ہے جبکہ سینیٹ میں بل پیش کرنے پراپوزیشن کا شور شرابا ،نو نو کے نعرے لگا دیئے گئے۔ جبکہ سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا ہے جس میں حکومت کی اتحادی جماعتوں پیپلزپارٹی، جے یو آئی ایف سمیت اے این پی نے بھی اس بل کی مخالفت کردی ہے جبکہ نون لیگ کے افنان اللہ بھی ہم آواز ہوگئے، جبکہ جے یو آئی اور اے این پی نے بھی شدید اعتراض اُٹھادیا۔

    اراکین کا شکوہ تھا کہ آرمی ایکٹ سمیت دیگر قوانین کے بارے میں اُنھیں کان و کان خبر تک نہ ہونے دی گئی تھی جبکہ اِسی غصے میں پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے بھٹو کی لیگیسی کا ذکر کرتے ہوئے بل کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے ہیں ۔ رضا ربانی نے مزید کہا ایسا لگتا ہے کہ میں ایوان میں نہیں راج واڑے میں بھیجا گیا ہوں ۔ میری آنکھوں پر پٹی اور ہاتھ بندھے ہیں ۔ چیئرمین سینیٹ نے بل قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔

    جبکہ وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ تاویلیں دیتے رہے ،تاہم ان کی وضاحتیں کچھ کام نہ آئیں۔ جیسے ہی بل پیش کیا گیا ، چیئرمین صادق سنجرانی نے فوری طور پر صورتحال بھانپ لی اوروزیر قانون کو چپ کراتے ہوئے بل قائمہ کمیٹی کو بھجوادیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ ترمیمی بل دوہزار تئیس کی منظوری دے دی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی مدت کے آخری دن، قومی اسمبلی میں مزید قوانین منظور
    اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ملتوی
    میڈیا ملازمین کی کم سے کم تنخواہ حکومت کی مقررکردہ ہوگی،مریم اورنگزیب
    عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی،شہزاد اکبر
    علاوہ ازیں اجلاس کے دوران یونیورسٹیوں کے قیام کے بلز پر حکمران اتحاد کے ارکان آمنے سامنے گئے۔ اور پھر ڈپٹی اسپیکر کی کوششوں کے باوجود پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان تنازع حل نہ ہوسکا۔تاہم ایوان نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل 2023کی منظوری دے دی۔

  • قومی اسمبلی نے بھی پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 منظور کرلیا

    قومی اسمبلی نے بھی پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 منظور کرلیا

    سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 منظورکثرت رائے سےمنظور کرلیا۔

    قومی اسمبلی میں وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے بل پیش کیا جس کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف کرنے والے شخص کو پانچ سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی۔ جبکہ ترمیمی بل کے مطابق آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہوگی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا۔

    آرمی ترمیمی بل کے مطابق اس قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا، علاوہ ازیں عام عہدے پر تعینات افسر ریٹائرمنٹ، استعفیٰ ، برطرفی کے دو سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکے گا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    ترمیمی بل کے مطابق حساس ڈیوٹی پر تعینات اعلی افسران ریٹائرمنٹ کے بعد پانچ سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکیں گے، خلاف ورزی کرنے والے کو دو سال تک سخت سزا ہو گی۔ بل میں کہا گیا ہےکہ آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکٹرانک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 کے مطابق آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگریزی پھیلائے تو اسے دو سال تک قید اور جرمانہ ہو گا۔