Baaghi TV

Tag: Asim Munir

  • جڑانوالہ جیسے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں۔ آرمی چیف

    جڑانوالہ جیسے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں۔ آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ جڑانوالہ کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور ناقابل مزمت ہے جبکہ ایسے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں ہے، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق آئی ایس پی آر انٹرن شپ پروگرام کے شرکاء سے خطاب میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ اقلیتوں کیخلاف عدم برداشت اور انتہا پسندی کی گنجائش نہیں ہے جبکہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ آرمی چیف نے کہا کہ مذہب، نسل اور ذات سے قطع نظر تمام شہری برابر ہیں اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، اور ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپناکردار ادا کریں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ نوجوان سچ، جھوٹ اور غلط معلومات کے درمیان فرق کو سمجھیں۔ یاد رہے کہ جڑانوالہ میں بدھ کے روز مسیحی آبادی پر حملوں اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کے تناظر میں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور کار سرکار میں مداخلت جیسی دفعات کے تحت پانچ مقدمات درج کر کے 128 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    تاہم خیال رہے کہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے اس سے قبل کہا تھا کہ جڑانوالہ میں مسیحی برادری کی املاک کو آئندہ تین سے چار روز میں اپنی پرانی حالت میں بحال کر دیا جائے گا جبکہ آج ایک اجلاس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے شہر فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں سرکاری اور دیگر املاک کی بحالی کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔

  • آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا دورہ ایران مکمل، اہم امور زیر بحث

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا دورہ ایران مکمل، اہم امور زیر بحث

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا دو روزہ دورہ ایران مکمل ہو گیا ہے، اس دوران سربراہ پاک فوج نے ایرانی عسکری قیادت سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بارڈر بارے تحفظات اور دہشتگردی بارے بھی بات ہوئی جبکہ ایک دوسرے کے ساتھ انٹیلی جنس نیٹورک شیئرنگ بارے بھی گفتگو کی گئی، علاوہ ازی ابراہیم رئیسی نے پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر سے تہران میں ملاقات کی اور ہم خیال اور مسلم ملکوں کے ساتھ تعلقات میں توسیع کو ایران کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں قرار دیتے ہوئے کہا کہ باہمی معاہدوں پر عمل در آمد کی رفتار میں تیزی سے ایران و پاکستان کے درمیان معاشی و تجارتی تعاون میں بہتری پیدا ہوگی اور اس کے نتیجے میں دونوں پڑوسیوں کے سیاسی تعلقات بھی مضبوط ہوں گے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور وزیرخارجہ ایچ ای حسین امیر عبداللہ سے ملاقاتیں ہوئیں، جس میں علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان ایران دوطرفہ تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سربراہ پاک فوج جنرل عاصم منیر کی ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل محمد باقری سے بھی ملاقات ہوئی، جس میں دونوں اطراف کے فوجی کمانڈروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی خطے کے لیے بالعموم اور دونوں ممالک کے لیے بالخصوص مشترکہ خطرہ ہے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی عسکری قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ انٹیلی جنس کے تبادلے سے سرحدی علاقوں میں دہشتگردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا، جب کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے خلاف موثر ایکشن پر بھی اتفاق کیا گیا، اور سیکورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے راستے تلاش کرنے کا عزم کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی آمد پر ایرانی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے ملٹری ہیڈ کوارٹرز میں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق رئيسی نے اسی طرح علاقائی ملکوں کے تعلقات خراب کرنے کی دشمنوں کی کوششوں کا ذکر کیا اور موجودہ گنجائشوں اور باہمی لین دین میں اضافے کے ذریعے باہمی تعاون میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ جنرل عاصم منیر کی ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات میں سرحدوں کے تحفظ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور جغرافیائی سالمیت کے لیے مل کر کام کرنے پراتفاق کیا گیا ہے۔

    ملاقات میں پاک فوج کے سربراہ سید عاصم منیر نے بھی پڑوسیوں خاص طور پر پاکستان کے ساتھ تعلقات میں توسیع کی ایران کی پالیسیوں کو سراہا اور اسے عالم اسلام کے لئے خاص قرار دیا۔ جنرل عاصم منیر نے ایران اور پاکستان کی طولانی مشترکہ سرحدوں اور سرحدی لین دین کی گنجائش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی ومعاشی تعاون سے سکیورٹی کے حالات میں بہتری آئے گی۔ ہم سکیورٹی کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

    اس سے قبل پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے ایرانی وزير خارجہ حسین امیر عبد اللھیان سے بھی ملاقات کی تھی، وزير خارجہ حسین امیر عبد اللہیان اور جنرل عاصم منیر کی ملاقات میں باہمی دلچپسی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گيا تھا ۔ جبکہ گزشتہ دو دنوں کے دوران جنرل سید عاصم منیر نے ایرانی فوج کے سربراہ محمد باقری پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ جنرل حسین سلامی سمیت کئی اعلی عہدیداروں سے ملاقات کی ہے۔

  • مایوسی کی باتیں کرنے والے غلط پروپیگنڈا کر رہے. آرمی چیف عاصم منیر

    مایوسی کی باتیں کرنے والے غلط پروپیگنڈا کر رہے. آرمی چیف عاصم منیر

    آرمی چیف جنرل سیّد عاصم منیر کا کہنا ہے کہ زرعی اصلاحات سے پاکستان کی معیشت ایک سال میں درست سمت میں آ جائے گی جبکہ پاکستان کے بارے میں مایوسی کی باتیں کرنے والے غلط پروپیگنڈا کر رہے ہیں صحافی وسیم عباسی کے مطابق اسلام آباد میں فوڈ سیکیورٹی کے حوالے سے قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان میں لوگ مایوسی اور حوصلہ شکنی کی باتیں کرتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔

    سیمینار کے دوران تقریر میں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں دوسرے زرعی انقلاب کے منصوبے گرین پاکستان انیشییٹیو کا افتتاح کیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان میں آرمی اور دیگر اداروں کے تعاون سے زراعت کے شعبے میں نمایاں تبدیلی آ جائے گی۔ چیف آف آرمی اسٹاف نے کہا کہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک ہے جو بھرپور وسائل سے مالا مال ہے۔ پاکستان اب بھی دنیا میں دودھ کی پیداوار میں چھٹے نمبر پر ہے۔ گندم میں ساتواں بڑا ملک ہے۔ چاغی اور ریکوڈک سے استفادہ حاصل ہو جائے تو پاکستان تابنے کی پیداوار میں نمبر ایک ہو جائے گا۔

    آرمی چیف کی جناح کنونشن سنٹر میں تقریر کے دوران ملک بھر سے کسان بڑی تعداد میں آئے ہوئے تھے جنہیں حکومت کے نئے زرعی منصوبے گرین پاکستان انیشییٹیو کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ جبکہ یہ پہلا موقع تھا کہ جنرل عاصم منیرنے بطور آرمی چیف اتنے بڑے مجمع سے براہ راست خطاب کیا جس میں صحافی، سفارتکار، وفاقی وزرا، کسان، اساتذہ اور ماہرین شامل تھے۔ اپنی تقریر کے آغاز میں انہوں نے کسانوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ تقریب میں سفارتکار موجود ہیں اس لیے انہیں کچھ بات انگریزی میں کرنا پڑے گی ۔ انہوں نے کچھ دیر انگریزی میں بات کرنے کے بعد اردو میں خطاب شروع کرتے ہوئے کہا کہ آج میں ایک مسلمان کےطور پر آپ سے بات کروں گا۔ اس کے بعد انہوں نے فی البدیہہ تجوید کے ساتھ قرانی آیات پڑھ پڑھ کر پاکستان کے حالات کے حوالے سے گفتگو شروع کر دی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مایوسی سے منع فرمایا ہے۔

    وی نیوز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ایک مسلمان دو حالات میں ہی رہتا ہے ۔ مشکل ہو تو صبر کرتا ہے اور اچھے حالات ہوں تو شکر ادا کرتا ہے۔ جنرل عاصم منیر نے جب قرآنی آیات زبانی تلاوت کرنا شروع کیں تو حال میں اللہ اکبر کے نعرے لگنے شروع ہو گئے۔ انہوں نے نعروں کے بعد بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں نہ مولوی ہوں ناں ملا بلکہ میں نے یہ اپنے لیے سیکھا ہے کبھی بتاؤں گا کہ کیوں سیکھا ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ غزوہ احد میں بظاہر شکست کے بعد مسلمان مایوسی ہوئے تو آیات نازل ہوئیں۔ انہوں نے آیات پڑھ کر ان کا ترجمہ کرتے ہوئے بتایا کہ اللہ نے مسلمانوں کو کہا کہ مایوس مت ہوں اور غم نہ کھائیں وہی غالب ہوں گے اگر ایمان پر قائم رہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ایکسپریس ٹرینوں کی وقت کی پابندی 59فیصد سے کم
    عالمی ریٹنگ ایجنسی کی رپورٹ میں پی ٹی آئی احتجاج کا بھی ذکر
    سونا ایک بار پھر مہنگا ہونے لگا
    ڈرائیور نے ٹرین کو حادثے سے بچا لیا

    آرمی چیف نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے زرعی منصوبے کا آغاز کیا ہے اس پر پاکستان آرمی ان کا مکمل ساتھ دی گی۔ اس منصوبے پر عمل درآمد سے ملکی معیشت ایک سال میں درست سمت میں آ جائے گی ۔ تقریب سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ آئیڈیا دراصل سپہ سالار عاصم منیر کا ہے مگر وہ سخاوت سے کام لیتے ہوئے انہیں کریڈٹ دے رہے ہیں۔ وہ کچھ عرصہ قبل میرے پاس آئے اور کہا کہ شہباز شریف صاحب زراعت پر کام کریں جس پر میں نے تمام اداروں کو اس پر کام کرنے کی ہدایت کی، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ زرعی منصوبے کے تحت ریسرچ کے ذریعے بہتر بیج، جدید ٹیکنالوجی اور پانی کی فراہمی کے جدید منصوبوں کے ذریعے پاکستان میں دوسرا زرعی انقلاب لایا جائے گا تاکہ انہیں یا کسی دوسرے وزیراعظم کو امداد کے لیے دوسرے ممالک کے پاس نہ جانا پڑے۔