Baaghi TV

Tag: Australia

  • جان اپڈائیک: امریکا کے صف اول کے ناول نگار اور لکھاری

    جان اپڈائیک: امریکا کے صف اول کے ناول نگار اور لکھاری

    پیدائش: 18 مارچ 1932
    انتقال: 27 جنوری 2009

    امریکا کے صف اول کے ناول نگار اور لکھاری۔ اپنے ناولوں میں انھوں نے عام امریکیوں اور خاص طور چھوٹے شہروں میں رہنے والے متوسط طبقات کی زندگیوں کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔ انھیں کئی پلِٹزر پرائز سمیت کئی ادبی انعامات سے نوازا گیا۔ وہ 60 سے زیادہ کتابوں کے مصنف رہے۔

    جان اپڈائیک نے امریکا میں ایک ایسے شخص کی زندگی پر بھی ناول لکھا جس کا باپ مسلمان تھا مگر اپنی امریکی بیوی کو چھوڑ گیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے نیوجرسی کے پس منظر میں مذہبی انتہاپسندی کو بھی اپنے ایک ناول کا موضوع بنایا۔ پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔

  • افغان خواتین کی تعلیم پر پابندی؛ ضیاءالدین یوسف زئی اپنے آنسو نہ روک سکے

    افغان خواتین کی تعلیم پر پابندی؛ ضیاءالدین یوسف زئی اپنے آنسو نہ روک سکے

    افغان خواتین کی تعلیم پر بات کرتے ہوئے ضیاء الدین یوسف زئی اپنے آنسو پر قابو نہ پاسکے

    نوبل انعام یافتہ ملالہ کے والد اور اسے پرواز کرنے دو کتاب کے مصنف، تعلیم بارے متحرک کارکن ضیاء الدین یوسف زئی نے ایک پشتو میڈیا پلیٹ فام سے بات کررہے تھے جب افغانستان کی خواتین بارے ان پر حصول تعلیم پر پابندی کی بات آئی تو وہ جزباتی ہوگئے اور اپنے آنسو نہ روک پائے.


    اس انٹرویو میں انہوں نے پشتوں زبان میں بات کرتے ہوئے افغانستان کے مردوں سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ؛ "میں اپنے افغان پشتون بھائیوں سے ناراض ہوں کیونکہ انہیں خواتین اور اپنی بچیوں کے اس حقوق کے حق میں آواز بلند کرنی چاہئے اور حصول تعلیم پر لگی ان پابندیوں کیخلاف ان کا ساتھ دینا چاہئے. انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم ہر مرد و عورت کا برابر کا حق ہے لہذا ہم مردوں کو بھی ان خواتین کا ساتھ دینا چاہئے جن سے ان کا یہ حق چھینا گیا ہے.”

    صحافی ملک رمضان اسراء نے ضیاء الدین یوسفزئی کی یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے پشتوں اور انگریزی میں لکھا کہ تعلیم بارے متحرک کارکن افغان خواتین اور بچیوں کی تعلیم بارے بات کرتے ہوئے اپنے آنسو پر قابو نہ رکھ سکا. اور انہوں نے مردوں سے درخواست کی کہ وہ خواتین کے حصول تعلیم کیلئے دنیا بھر میں اپنی آواز بلند کریں.


    ضیاء الدین یوسفزئی نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں دعا کی کہ؛ "خدا کرے کہ میری آواز تمام افغانوں اور پشتونوں کو سنائی دے اور وہ تعلیم، کام اور آزادی کے انسانی حقوق کی جدوجہد میں افغانستان کی بیٹیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی آواز کو ان کی آواز میں شامل کریں۔”

  • مائیک پومپیو نے شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنی کتاب میں عالمی تاریخی شخصیت قرار دے دیا

    مائیک پومپیو نے شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنی کتاب میں عالمی تاریخی شخصیت قرار دے دیا

    مائیک پومپیو نے شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنی کتاب میں عالمی تاریخی شخصیت قرار دے دیا
    سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی نئی کتاب ’’ نیور گیو این انچ: فائٹنگ فار دا امریکہ آئی لو‘‘ کا پوری دنیا میں چرچا ہے ۔ پومپیو کی یادداشتوں میں بہت سے سرپرائز موجود ہیں۔ اس کتاب نے بہت سے معاملات پر موجود معلومات کی روشنی میں امریکہ کے اندر اور باہر امریکی سیاسی حلقوں اور میڈیا کی دلچسپی کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

    اپنی یادداشتوں میں پومپیو نے سعودی عرب کا بھرپور دفاع کیا ہے ۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ان کے سفارتی تعلقات امریکی میڈیا کو پریشان کر رہے تھے۔ پومپیو نے زور دے کر کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ایک مصلح ہیں جو اپنے وقت کے اہم ترین رہنماؤں میں سے ایک ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ محمد بن سلمان عالمی سطح پر واقعی ایک تاریخی شخصیت ثابت ہوں گے۔

    اپنی کتاب میں پومپیو نے اکتوبر 2018 میں اپنے ریاض کے دورے کا حوالہ دیا اور کہا کہ جس چیز نے میڈیا کو گوشت کے مذبح میں سبزی خوری سے زیادہ پاگل پن کا شکار کردیا وہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات تھے۔ ٹرمپ کی جانب سے خود کو سعودی عرب جانے کا ٹاسک سپرد کئے جانے کے حوالے سے پومپیو نے بتایا کہ ایک طرح سے مجھے لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ مجھ سے حسد محسوس کر رہے تھے کیونکہ میں ہی وہ تھا جس نے واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک اور حقیقت سے دور رہنے والے دوسرے بزدلوں کو تکلیف پہنچائی تھی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ خاشقیجی کا قتل اشتعال انگیز اور ناقابل قبول تھا لیکن انہوں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ خاشقیجی ایک "صحافی” تھے۔ پومپیو نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے خاشقیجی کو "سعودی باب ووڈورڈ” بنا دیا تھا حالانکہ خاشقیجی ایک ایکٹوسٹ تھے۔

  • نوجوان کو قتل کرنیوالے کو سزائے موت کا حکم

    نوجوان کو قتل کرنیوالے کو سزائے موت کا حکم

    نوجوان کو قتل کرنیوالے کو سزائے موت کا حکم

    سعودی عرب میں ڈیڑھ ماہ قبل کار میں ایک نوجوان کو جلا کر مار ڈالنے کی ویڈیو نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ واقعہ جدہ میں پیش آیا تھا۔ مقتول بندر القرھدی کے مقدمہ کے وکیل اور مشیر عبد العزیز القلیصی نے بتایا ہے کہ بندر القرھدی کیس کا فیصلہ جاری کردیا گیا ہے جس میں مجرم کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ القلیسی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا "اے اللہ، تیری ہی حمد ہے جب تک کہ تو راضی نہ ہو جائے، مقتول اور شہید بندر بندر القرھدی کا مقدمہ مدعا علیہ کے خلاف سزائے موت کے ساتھ ختم ہوا۔ یہ اللہ کی طرف سے احسان ہے۔ ہم اس مقدمہ میں تعاون اور مدد کرنے والے ہر شخص کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ مقدمہ کے آغاز سے لیکر عدالت تک میں کام کرنے والے اپنے دفتر کے ارکان کا بھی شکرگزار ہوں۔
    https://twitter.com/ks2k_A/status/1618505964289724417
    العربیہ نیٹ کے مطابق مقتول کے والد طہٰ القرھدی بھی وکیل کے ساتھ ویڈیو میں نمودار ہوئے اور انہوں نے کہا کہ الحمد للہ، مجرم برکات کو سزا سنا دی گئی۔ یہ اس بہتر اور پاک ملک میں اللہ کا حق اور انصاف ہے۔ واضح رہے ڈیڑھ ماہ مواصلاتی ویب سائٹس کے کارکنوں نے ایک ویڈیو بڑے پیمانے پر شیئر کی تھی جس میں ایک ایک نوجوان کو گلی میں چیختے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ نوجوان پکار رہا تھا ’’ میں تو بہت پیارا ہوں‘‘۔ بندر کو اس کے دوست ورغلا کر لائے تھے اور جدہ میں ایک گاڑی میں اسے جلا دیا تھا۔

    اس وقت بندر کے والد طٰہ نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا تھا کہ میرا بیٹا بندر میرے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا ہے اور میری اس سے آخری مرتبہ ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب وہ اپنے ساتھ ایک برگر اور شوارما پر مشتمل کھانے کے طور پر لایا اور اسے اپنے کمرے کے دروازے پر لٹکا کو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ بدقسمتی سے وہ اپنی موت کی وجہ سے اپنے لٹکائے ہوئے کھانے کو کھانے واپس نہیں آسکا۔ اس کے دوست نے اس کے ساتھ غداری کی اور اس کو زندگی سے محروم کردیا۔

    انہوں نے کہا میرا بیٹا بندر اپنی مہربانی اور اچھے سلوک کے لیے جانا جاتا تھا۔ وہ 20 سال سے سعودی ایئرلائنز میں کام کر رہا تھا۔ وہ حسن سلوک کے سوا کچھ نہیں جانتا تھا۔ میں نے اسے دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے لیے پالا تھا اور اسے نیکی سے محبت کرنا سکھایا تھا۔ انہوں نے دکھ سے بھرے الفاظ میں کہا تھا کہ کام پر اس کا ساتھی وہی ہے جس نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا۔ اور جو واقعہ پیش آیا وہ ہمارے معاشرے کے لیے غیر معمولی ہے۔ ہم نے اس سے قبل ایسے واقعے کے متعلق کبھی نہیں سنا۔

  • ڈرون جو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر600 میل فاصلہ طے کر سکتا ہے

    ڈرون جو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر600 میل فاصلہ طے کر سکتا ہے

    نیویارک: امریکی کمپنی نے سامان لے جانے والے ڈرون میں ایک نئی پیشرفت کا اعلان کیا ہےجو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر 600 میل (960) کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: خود مختار ڈرون کومشہور کمپنی مائٹی فلائے نے بنایا ہے اور ڈرون کو سینٹو کا نام دیا گیا ہے یہ ایک وقت میں 450 کلوگرام وزن اٹھا کر اسے 960 کلومیٹر کے فاصلے تک لے جاسکتا ہے ڈرون اپنے سافٹ ویئر کے بل پر اڑتا ہے، لینڈ کرتا ہے اور خود ہی سامان کو باہر بھیجتا ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیک آف کے لیے اسے بہت کم جگہ درکار ہوتی ہے۔

    پاکستان کی معیشت تباہی کے قریب پہنچ چکی ہے،امریکی اخبار

    اس کا فریم کاربن فائبر کا ہے جس کا کل وزن 161 کلوگرام ہے ڈرون کو اٹھانےکےلیے اس میں 8 پنکھڑیاں لگائی گئی ہیں جبکہ یہ کم رن وے کےلیے اپنے پروپلشن پوڈ بھی استعمال کرتا ہے۔ اسی بنا پر یہ زیادہ سے زیادہ 240 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے۔ سینو کی لمبائی 5 اور چوڑائی 4 میٹر ہے جبکہ اس کے اندر ایک کنویئر بیلٹ بھی لگایا گیا ہے جس پر چیزیں رکھی اور اٹھائی جاسکتی ہے۔ یہ بیلٹ ایئرپورٹ کی سامان پٹی کی طرح ازخود کام کرتا ہے۔

    سلمان خان کی نئی فلم ’کسی کا بھائی، کسی کی جان‘ کا ٹریلر جاری

    کمپنی کےمطابق یونائیٹڈ پوسٹل سروس کے 96 چھوٹےپیکٹ لے جاسکتا ہے اور زمینی گاڑی سے دوگنی رفتار سے سفر کرتے ہوئے سامان کی تیزترین رسائی کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ امریکی ایف اے اے اتھارٹی نے اسے استعمال کی اجازت بھی دے چکی ہے۔

  • پاکستانیوں نے میرے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا،ماہر اقبالیات اور شاعرہ جرمن  ڈاکٹر این میری شمل

    پاکستانیوں نے میرے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا،ماہر اقبالیات اور شاعرہ جرمن ڈاکٹر این میری شمل

    پاکستانیوں نے میرے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا

    ممتاز جرمن فلسفی ،مستشرق ، ماہر اقبالیات اور شاعرہ ڈاکٹر این میری شمل

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ممتاز جرمن اسکالر‘ ماہر اقبالیات‘ مستشرق اور اردو زبان کی پرستار ڈاکٹر این میری شمل 7 اپریل 1922 کو جرمنی کے شہر ایفرٹ میں پیدا ہوئیں ان کے والد صاحب کا نام انا شمل اور والدہ محترمہ کا نام پاؤل تھا۔ انہوں نے جرمنی کے شہر بون میں اعلی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں ہاروڈ اور بون یونیورسٹی میں بطور پروفیسر اپنے فرائض سرانجام دیتی رہیں۔ انہیں انگریزی عربی فارسی ترکی اور اردو زبان پر عبور حاصل تھا۔

    تحقیق اور تصوف اور اسلامیات و اقبالیات سے گہری دلچسپی تھی جبکہ پاکستان کی علاقائی زبانوں سندھی، سرائیکی اور پنجابی زبانوں سے بھی گہری دلچسپی تھی وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتی تھیں۔ وہ کئی بار پاکستان کا دورہ کر چکیں مختلف کالجز اور کانفرنسز اور یونیورسٹیز میں لیکچرز دیتی رہیں ۔

    انہوں نے علامہ اقبال کی تصانیف” بانگ درا، پیام مشرق اور جاوید نامہ کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے این میری شمل کو 3 ایوارڈز سے نوازا گیا جن میں ہلال امتیاز ستارہ امتیاز اور عالمی صدارتی اقبال ایوارڈ شامل ہیں ۔

    ڈاکٹر شمل میری نے 19 سال کی عمر میں مملوک خاندان کے مصر میں خلیفہ اور قاضی کا مقام کے عنوان سے ڈاکٹریٹ کیا۔ انہوں نے علامہ اقبال کی کتاب” جاوید نامہ” کا منظوم ترجمہ بھی کیا۔ وہ جرمن‘ انگریزی‘ عربی‘ فارسی‘ اردو اور دیگر پاکستانی زبانوں پر عبور رکھتی تھیں۔ انہوں نے اقبال کے علاوہ سندھی زبان کی ممتاز علمی اور ادبی شخصیات پیر علی محمد راشدی‘ پیر حسام الدین راشدی‘ غلام ربانی آگرو اور جمال ابڑوکی تصانیف کو بھی جرمن زبان میں منتقل کیا۔

    ڈاکٹر این میری شمل کی زندگی میں ہی حکومت پاکستان نے لاہور میں ایک سڑک کو ان کے نام سے موسوم کر دیا تھا جس پر بھرپور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے متعدد بار مذاق میں کہا تھا کہ "پاکستانیوں نے میرے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا "۔ این میری شمل انگریزی اور جرمن زبان میں شاعری کرتی تھیں۔

    انگریزی اور جرمنی میں ان کے 2شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔ تصوف اور اسلامیات سے انہیں خاص دلچسپی تھی۔ ان کی 100 سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ انہوں نے علامہ اقبال کے مذہبی خیالات پر مبنی "جبرائیل کے پر” کے عنوان سے ایک کتاب لکھی این میری شمل کا 26جنوری 2003 کو جرمنی کے شہر بون میں انتقال ہوا۔

  • پنجاب کی نگراں کابینہ میں شامل وزراء نے حلف اُٹھالیا

    پنجاب کی نگراں کابینہ میں شامل وزراء نے حلف اُٹھالیا

    لاہور:پپنجاب کی نگراں کابینہ میں شامل وزراء نے حلف اُٹھالیا۔ گورنرپنجاب بلیغ الرحمان نے نگراں کابینہ سے حلف لیا۔پنجاب کی11 رکنی نگران کابینہ میں بلال افضل، ایس ایم تنویر، ڈاکٹر جاوید اکرم شامل ہیں۔

    ابراہیم مراد، تمکینت کریم، ڈاکٹر جمال ناصر، منصور قادر، وہاب ریاض، سید اظفر علی ناصر، عامر میر اور نسیم صادق نگران کابینہ کا حصہ ہیں۔

     

    ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں نگران کابینہ میں داخلہ، اطلاعات، خزانہ، قانون، فوڈ، ہیلتھ اور دیگر وزیر بنائے جائیں گے، ڈاکٹر جاوید اکرم کو صحت، امین وینس کو داخلہ، نسیم صادق کو محکمہ فوڈ کی وزارت دیئے جانے کا قوی امکان ہے۔

     

    ادھرخیبر پختونخوا کی نگران کابینہ نے حلف اٹھا لیا، کابینہ میں 15 وزرا کو شامل کیا گیا ہے۔مالا کنڈ سے تعلق رکھنے والے سابق آئی جی پولیس سید مسعود شاہ نگران وزیراعلیٰ محمد اعظم خان کے سمدھی ہیں۔

    صوبائی وزیر جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر کا تعلق پشاور سے ہے، وہ پشاور ہائیکورٹ کی جج اور الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بطور ممبر فرائض انجام دے چکی ہیں۔صوبائی وزیر بیرسٹر سانول نذیر کا تعلق بنوں سے ہے اور پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں۔شاہد خان خٹک کاروباری شخصیت ہیں اور ان کا تعلق نوشہرہ سے ہے۔ اے این پی کے ٹکٹ سے صوبائی اور قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں۔

    پرویز الہیٰ کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست

    صوبائی وزرا تاج محمد آفریدی اور منظور آفریدی کا تعلق ضلع خیبر سے ہے۔ منظور آفریدی کا تعلق جے یو آئی سے ہے جبکہ ان کا شمار مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔تاج محمد آفریدی سینیٹ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

    ڈسٹرکٹ جیل گجرات میں کی جانے والی ہنگامہ آرائی ذمہ دارکومعطل کردیا گیا

    پشاور سے تعلق رکھنے والے عدنان جلیل کاروباری شخصیت ہیں اور اے این پی کے مرحوم رہنما حاجی محمد عدیل کے صاحبزادے ہیں۔محمد علی شاہ کا تعلق سوات سے ہے اور ان کی مسلم لیگ ن سے وابستگی ہے۔ نگران کابینہ کے رکن معروف صنعت کار حاجی غفران کا تعلق ضلع صوابی سے اور یہ سابق گورنر خیبرپختونخوا سردار مہتاب احمد خان کے سمدھی ہیں۔

    صوبائی نگران وزیر فضل الہٰی بھی صنعتکار ہیں۔ صوبائی وزیر بخت نواز کا تعلق ضلع بٹگرام سے ہے اور یہ سابق صوبائی وزیر عالم زیب خان کے صاحبزادے ہیں۔اس کے علاوہ صوبائی وزیر خوشدل خان کا تعلق ضلع نوشہرہ سے ہے۔ عبدالحلیم قصوریہ بھی رکن صوبائی اسملبی رہ چکے ہیں۔بنوں سے تعلق رکھنے والے سابق ایم پی اے حامد شاہ مختلف سیاسی جماعتوں میں رہ چکے ہیں جبکہ شفیع اللہ خان کو بھی صوبائی وزیر بنایا گیا ہے۔

  • زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    چین میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے دعوی کیا ہے کہ زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی:جرنل نیچر جیو سائنسز میں شائع تحقیق کے مطابق زمین کی اوپری تہہ سیال دھات پر مبنی ہے جبکہ اندرونی تہہ ٹھوس دھاتوں پر مشتمل ہے اور اس کا حجم چاند کے 70 فیصد رقبے کے برابر ہے۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    خیال کیا جاتا ہے کہ مینٹل کی نسبت زمین کے اندرونی تہہ کی تفریق گردش کور ڈائنامکس اور گروویٹیشنل کور مینٹل کپلنگ پر جیوڈینامو کے اثرات کے تحت ہوتی ہے اس گردش کا اندازہ بار بار زلزلہ کی لہروں کے درمیان وقتی تبدیلیوں سے لگایا گیا ہے جو اندرونی کور سے ایک ہی راستے سے گزرتی ہیں۔

    ایسا مانا جاتا تھا کہ زمین کی اندرونی تہہ کاؤنٹر کلاک وائز گھومتی ہے مگر Peking یونیورسٹی کی تحقیق میں نتیجہ نکالا گیا کہ اندرونی تہہ کی گردش 2009 کے قریب تھم گئی تھی اور پھر وہ مخالف سمت یا کلاک وائز گھومنا شروع ہوگئی۔

    محققین نے بتایا کہ ہمارے خیال میں یہ تہہ پہلے ایک سمت میں گھومتی ہے اور پھر دوسری جانب گھومنے لگتی ہے دونوں سمتوں میں گھومنے کا یہ چکر 70 سال (ہر سمت کا چکر 35 سال میں مکمل ہوتا ہے) تک مکمل ہوتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 2009 سے قبل آخری بار زمین کی اندرونی تہہ کی سمت 1970 کی دہائی میں تبدیل ہوئی تھی اور اگلی بار ایسا 2040 کی دہائی کے وسط میں ہوگا۔

    گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا 6 فیصد ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ

    زمین کی اندرونی تہہ کے حوالے سے تفصیلات اکٹھا کرنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ وہ سطح سے 5 ہزار کلومیٹر گہرائی میں واقع ہے تاہم اس تحقیق کے لیے ماہرین نے زلزلوں کی لہروں کا تجزیہ کیا تھا اوراس کی مدد سےاندرونی تہہ کی گردش کا تعین کرنےمیں کامیابی حاصل ہوئی۔

    محققین نے 1960 سے 1990 کی دہائی کے زلزلوں کے ریکارڈز کا موازنہ حالیہ زلزلوں سے کیا، جس سے عندیہ ملا کہ زمین کی اندرونی تہہ کی گردش 2009 میں رک گئی تھی اور پھر اس نے سمت بدل لی محققین کے مطابق اندرونی تہہ کے گھومنے کی سمت بدلنے سے دنوں کی لمبائی اور زمین کے مقناطیسی میدان میں تبدیلیاں آتی ہیں۔

    چاند سے زمین کے طلوع ہونے کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ناسا نے ویڈیو جاری کر دی

    عالمی سطح پر مسلسل پیٹرن بتاتا ہے کہ اندرونی تہہ گردش حال ہی میں موقوف ہوئی ہے۔ ہم نے اس حالیہ پیٹرن کا موازنہ 1964 کے جنوبی جزائر کےڈبلٹس کےالاسکا کےزلزلہ ریکارڈ سے کیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ تقریباً سات دہائیوں کے دہورے حصے کے طور پر اندرونی تہہ کی بتدریج واپسی کے ساتھ منسلک ہے-

    ایک اور اہم موڑ کے ساتھ۔ 1970 کی دہائی کے اوائل میں۔ یہ کثیر الجہتی وقفہ کئی دوسرے جیو فزیکل مشاہدات، خاص طور پر دن کی لمبائی اور مقناطیسی میدان میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ موافق ہے۔

  • روسی افواج کےحملوں میں تیزی:جرمنی اورامریکہ نےجدید ٹینک بھیج دیئے

    روسی افواج کےحملوں میں تیزی:جرمنی اورامریکہ نےجدید ٹینک بھیج دیئے

    کیف:یوکرین کی جنگ اپنے تمام سیاسی، فوجی، معاشی، سماجی حتی ثقافتی نتائج کے ساتھ اپنے گیارہویں مہینے میں داخل ہوگئی ہے اور مغربی ممالک اب بھی یوکرین کو ہتھیار بھیج رہے ہیں ۔ روسی حکام اور بعض مغربی ماہرین اور میڈیا نے یوکرین کی جنگ کو مغرب اور روس کے درمیان پراکسی وار قرار دیا ہے۔

    صرف 24 گھنٹوں میں پاکستان کے قرضوں میں 2500 ارب روپے کا اضافہ

    روس یوکرین جنگ 337 ویں روز میں داخل ہوگئی، امریکا اور جرمنی کی جانب سے ٹینکس بھیجنے کے اعلان کے جواب میں روس نے یوکرین پر بمباری تیز کردی۔روسی افواج نے اوڈیسہ میں انرجی اسٹرکچر کو نشانہ بنایا جبکہ کیف پر بھی 30 سے زائد میزائلز داغے جس میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، لوگوں نے بمباری سے بچنے کیلئے میٹرواسٹیشنز میں پناہ لی۔

    جرمنی کا کہنا ہے چودہ لیپرڈ ٹینکوں کی فراہمی جنگ میں گیم چینجر ہوگی جبکہ امریکی صدربائیڈن کہتے ہیں کہ روسی فوجیں واپس چلی جائیں تو امریکی ابرامز ٹینک ان کیلئے خطرہ نہیں۔

    ڈیرہ اسماعیل خان : 15 گھنٹوں کے بعد بھی انڈس ہائی وے نہ کھل سکا

    یوکرینی صدر زیلنسکی نے ٹینکوں کی فراہمی پر مغربی ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کو شکست دینے کیلئے 300 ٹینکوں کی ضرورت ہے، یوکرینی فوج کی تربیت اور ٹینکوں کی فراہمی میں تیزی آنی چاہیے۔

    انگلینڈ، جرمنی، فرانس اور اٹلی کے رہنماؤں سے یوکرین کے لیے فوجی مدد جاری رکھنے کی ضرورت کے حوالے سے ٹیلی فون پر مشاورت کی ہے۔ انگلینڈ، فرانس اور جرمنی، یوکرین کو جنگی ٹینک فراہم کریں گے اور امریکہ اکتیس ابرامز ٹینک کیف بھیجے گا۔

  • نیا دریافت شدہ سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا،ناسا

    نیا دریافت شدہ سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا،ناسا

    ایک نیا دریافت شدہ سیارچہ اس ہفتے زمین کے بہت قریب سے گزرے گا-

    باغی ٹی وی: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 2023 بی یو (2023 BU) نامی سیارچہ زمین کے سب سے زیادہ گزرنے والے سیارچوں میں سے ایک ہوگا۔

    شہابی پتھر سے دو نئی معدنیات دریافت

    2023 BU کی پیمائش 12 اور 28 فٹ چوڑائی (3.8 سے 8.5 میٹر) کے درمیان ہے، اور اسے ابھی ہفتہ (21 جنوری) کو ماہر فلکیات Gennadiy Borisov نے کریمیا میں MARGO آبزرویٹری میں دریافت کیا تھا۔

    ای ایس ٹی (2117 GMT)، خلائی چٹان زمین کی سطح سے صرف 2,178 میل (3,506 کلومیٹر) کی اونچائی پر زمین سے چاند کے اوسط فاصلے کے 3 فیصد سے بھی کم کے اندر ہوگی مقابلے کے لیے، زیادہ تر جیو سٹیشنری سیٹلائٹ تقریباً 22,200 میل (35,800 کلومیٹر) مدار میں گردش کرتے ہیں-

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    یہ سیارچہ پاکستانی وقت کے مطابق 27 جنوری کو صبح ساڑھے 5 بجے جنوبی امریکا کے اوپر سے گزرے گا اور اس وقت ہمارے سیارے کی سطح سے محض 3600 کلومیٹر اوپر ہوگا، یعنی سیٹلائیٹس کے قریب ہوگا زمین کے اکثر سیٹلائیٹس 160 سے 2 ہزار کلومیٹر کی بلندی پر گردش کرتے ہیں مگر ناسا کے مطابق سیارچے کا ہمارے سیارے سے ٹکرانے کا خطرہ نہیں۔

    ناسا نے کہا کہ اگر سیارچہ زمین کے بہت زیادہ قریب آگیا تو یہ جل جائے گا اور اس کے چھوٹے ٹکڑے شہاب ثاقب کی شکل میں سطح تک پہنچیں گےناسا کی جیٹ Propulsion لیبارٹری کے ماہر Davide Farnocchia نے بتایا کہ یہ سیارچہ زمین کے بہت زیادہ قریب آنے والا ہے، درحقیقت یہ زمین کے سب سے زیادہ قریب آنے والے چند سیارچوں میں سے ایک ثابت ہوگا۔

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر…

    یہ سیارچہ حجم کے لحاظ سے کسی ڈیلیوری ٹرک (delivery truck) جتنا بڑا ہے اور اسے سب سے پہلے کریمیا کے شوقیہ خلا باز Gennady Borisov نے دیکھا تھا جس کے بعد ناسا کے ماہرین کی جانب سے اس کے راستے کا تعین کیا گیا۔

    ناسا کے مطابق اس سیارچے کا راستہ زمین کے قریب سے گزرنے کے دوران کشش ثقل سے نمایاں طور پر متاثر ہوا۔