Baaghi TV

Tag: author

  • میڈیا سے اجتناب کرنا

    میڈیا سے اجتناب کرنا


    ہمارے اردگرد بہت شورشرابہ ہے۔ ٹی وی، یو ٹیوب چینلز، متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، اور تو اور، تمام نسلوں کو میسجنگ کا نشہ ڈالنے والا موبائل فون، کثیر جہتی موضوعات پر واٹس ایپ گروپس – چوبیسس گھنٹے توجہ لیتے ہیں۔

    نوجوان نسل خاص طور پر، حقیقی زندگی میں دوستوں سے میل کے بجائے ورچوئل دوستوں، اور آن لائن تعلقات پر زیادہ انحصار کرتی ہے۔ اوپر سے سوشل میڈیا کی ستم ظریفی کہ جہاں اس کا مقصد لوگوں کو اکٹھا کرنا ہے، وہیں یہ افراد اور ان کے ماحول کے درمیان ایک اہم خلا بھی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ عجب ستم ظریفی ہے۔ سوشل میڈیا لوگوں کو جوڑتا ہے لیکن دوسری طرف یہ صارفین کی حقیقی زندگی میں لوگوں کے ساتھ تعلق کے درمیان حائل ہوتا ہے۔

    ان کو FOMO کاخطرہ لاحق ہوجاتا ہے، یعنی ایسے احساس کہ ان کے بغیر کچھ ہو نہ جائے۔ ان کو ایسا لگتا ہے کہ وہ ماحول کے”اندر” نہیں ہیں اور پارٹیوں میں مدعو نہیں کیے جا رہے ہیں اور انہیں پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایک کمرے میں بیٹھا خاندان اکثر اپنے آپ کو اپنے موبائل میں مشغول اور ایک دوسرے کے ساتھ کم ہی پائے گا۔

    مزید برآں، سوشل میڈیا کی لت اکثر صحت مند سرگرمیوں سے غفلت کا باعث بنتی ہے. مثلاً کھیل، ورزش، اور باہر وقت گزارنے سے۔ اس کاہلی والے طرز زندگی کے نتیجے میں صحت کے مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

    ایک دوست نے مجھے ایک اقتباس بھیجا، مصنف نامعلوم، "آج سٹاربکس میں ایک آدمی کو دیکھا۔ نہ آئی فون، نہ ٹیبلیٹ، نہ لیپ ٹاپ۔ وہ بس وہیں بیٹھا تھا۔ کافی پی رہا تھا۔ بلکل جیسے کوئی نفسیاتی مریض ہو۔” اس بات نے مجھے سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کیا۔ کیا ہم نے سادہ خوشیوں کی لذت نہیں کھو دی؟ گھر والوں کا ایک ساتھ ناشتہ کرنا؟

    خط لکھنے اور وصول کرنے کی خوشی؟ پوسٹ کارڈز؟ اپنے بزرگوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی زندگی کے قصے کہانیاں سننا؟ ہماری یادداشت میں ہمیشہ کے لیے رہنے والی تصویر کی خواہش،بزرگوں سے عیدی ملنے کی خوشی، زیادہ بڑی رقم نہیں بلکہ وہ رقم جو احساس کے اعتبار سے معنی خیز تھی؟ تمام خاندان کا ایک گھر میں کھانے پر آنا؟ بچوں، نوجوانوں، اور بزرگوں سے بھرے ہوۓ کمرے؟ عید کی روایتی سوغات۔ چاندی کے ورق والی میٹھی سویاں، حلوے کے میٹھے ٹکڑے، کھٹی اور مسالے دار چاٹ، مختلف اقسام کے سموسے، کباب، شیرمال اور نان کے ساتھ نہاری، شیرہ ٹپکتی ہوئی گھریلو گلابی جامن۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کبری خان اور میں شادی نہیں کررہے گوہر رشید
    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
    علی امین گنڈاپور کے گھر کی بجلی واجبات کی عدم ادائیگی پر کاٹ دی گئی
    ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر میں مزید بہتری
    شہر یار آفریدی کی ہمشیرہ انتقال کر گئیں
    غم کے مواقع پر، مثلاً موت، یا بیماری کے وقت، متاثرہ گھر والوں کو خاندان کے دیگر افراد نے ایسے جیسے گھیر لیا ہو، کوئی کھانا لے کر آرہا ہو گا، یا ہسپتال میں مریض کے ساتھ رہنے آیا ہو گا، یا صرف سہارا دینے کے لیے وہاں موجود ہو گا۔

    مشکل اوقات میں برادری اور تعلق کا یہ احساس بتدریج ختم ہوتا جا رہا ہے. کیونکہ خاندان علیحدہ ہوتے جارہے ہیں اور لوگ ورچوئل دنیا میں مجذوب ہوتے جارہے ہیں۔

  • نامور مصنف میلان کوندیرا 94 برس کی عمر میں چل بسے

    نامور مصنف میلان کوندیرا 94 برس کی عمر میں چل بسے

    معروف ناول نگار میلان کوندیرا 94 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، کوندرا 1929 میں برنو میں پیدا ہوئے تھے لیکن 1968 میں کمیونسٹ چیکوسلواکیہ پر سوویت حملے پر تنقید کرنے کے بعد 1975 میں فرانس ہجرت کرگئے تھے۔ جبکہ میلان کوندرا کا مشہور ناول ”The Unbearable Lightness of Being“ تھا۔ محبت اور جلاوطنی اور سیاست جیسے موضوعات پر ان کی گرفت کی بدولت ہی ناول نے تنقیدی پذیرائی حاصل کی تھی، جسے مغربی باشندوں نے خوب پڑھا۔ جس میں انہوں نے سوویت مخالف بغاوت کے ساتھ رومانویت کے بارے میں لکھا تھا۔


    نجی ٹی وی کے مطابق ایک سال قبل میلان کوندیرا فرانسیسی شہری بن گئے تھے، جب انہوں نے مصنف فلپ روتھ کو 1980 میں نیویارک ٹائمز کے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ اگر کوئی مجھے لڑکپن میں کہتا کہ ایک دن تم اپنی قوم کو دنیا سے مٹتے ہوئے دیکھو گے، تو میں اسے بکواس سمجھتا، جس کا میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا، ایک آدمی جانتا ہے کہ وہ فانی ہے لیکن وہ جس قوم سے تعلق رکھتا ہے، وہ ہمیشہ قائم رہے گی۔

    دوسری جانب جب 1989 میں ویلویٹ انقلاب نے کمیونسٹوں کو اقتدار سے پیچے دھکیل دیا، تو کنڈیرا کی قوم جمہوریہ چیک نے دوبارہ جنم لیا لیکن تب تک کوندیرا نے پیرس کے بائیں کنارے پر واقع اپنے اٹاری اپارٹمنٹ میں ایک نئی زندگی شروع کرنے کے ساتھ ایک مکمل شناخت بنالی تھی۔ کوندیرا کے فرانسیسی زبان میں لکھے گئی تحاریر کو کبھی چیک کی زبان میں ترجمہ نہیں کیا گیا، جبکہ The Unbearable Lightness of Being نامی ناول سے انہیں اتنی پذیرائی حاصل کی، اس پر 1988 میں ایک فلم بنائی گئی، لیکن جمہوریہ چیک میں ویلویٹ انقلاب کے 17 سال بعد 2006 تک شائع نہیں ہوئی، حالانکہ یہ چیک میں 1985 سے دستیاب تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سیاسی جماعت پر پابندی،ایاز صادق نے اعلان کر دیا
    یوکرینی وزیر خارجہ رواں ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے
    کوئی بتا دے ریاست پر حملہ کرنا جرم ہے یا نہیں؟ جاوید لطیف
    جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد رکن پارلیمنٹ کی ایک اور ویڈیو سامنے آ گئی
    پاکستان اور سری لنکن بورڈ الیون کا دو روزہ میچ ڈرا
    کونڈیرا کا پہلا ناول ’دی جوک‘ ایک ایسے نوجوان کے بارے میں ہے جسے کمیونسٹ نعروں کی روشنی میں بارودی سرنگوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔چیکوسلواکیہ میں 1968 میں پراگ پر سوویت حملے کے بعد اس پر پابندی لگا دی گئی، جب وہ پروفیسر کی ملازمت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے تھے تب وہ سنیما کے لئے 1953 سے ناول اور ڈرامے لکھ رہے تھے۔