Baaghi TV

Tag: Baaghi TV

  • مسئلہ کشمیر اور مہندر سنگھ دھونی ۔۔۔ محمد فہد شیروانی

    مسئلہ کشمیر اور مہندر سنگھ دھونی ۔۔۔ محمد فہد شیروانی

    ہاتھ میں موجود کرکٹ کے بلے کو گن سے تبدیل کرنے والے مہندر سنگھ دھونی نے جولائی 2019 میں انڈین آرمی کو بطور لیفٹیننٹ کرنل جوائن کیا۔ مہندر سنگھ دھونی کی بطور آرمی آفیسر پہلی ڈیوٹی کشمیر میں لگائی گئی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب سے دھونی نے کشمیر میں انڈین آرمی کو جوائن کیا ہے تب سے خطہ کشمیر میں انڈین آرمی کی جارحانہ کاروائیاں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔
    مہندر سنگھ دھونی کے علاوہ انڈیا نے کشمیر کی وادی میں 28 ہزار مزید انڈین فوجی تعینات کر دئیے ہیں۔انڈیا نے ائر فورس کو الرٹ کردیا ہے۔ انڈین نیوی کی نقل و حرکت سمندروں میں بڑھا دی گئی ہے۔کشمیر میں لوکل پولیس سے انتظام لے کر انڈین آرمی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ہوٹلز، ریسٹورنٹس سمیت دیگر ایسی جگہوں پرانڈین فوج آکر بیٹھ گئی ہے۔ انڈین آرمی کو چار ماہ کا راشن جمع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کشمیر میں لوگوں نے خوراک سٹاک کرنی شروع کر دی ہے۔ان کے نیتجے میں آنے والے دنوں میں کشمیر میں خوفناک خونریزی کے امکانات ہیں جس کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔۔انڈین آرمی نے کشمیر میں جاری ظالمانہ کاروائیوں میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔ حال میں انڈیا کی بزدل فوج نے نہتے کشمیری شہریوں پر خوفناک کلسٹر بموں سے حملہ کیا ہے جس سے شدید جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انڈین فوج نے کشمیر میں موجود تمام غیرملکی سیاحوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم بھی دے دیا ہے جس کے باعث جنت نظیر وادی کشمیر میں موجود سیاح تیزی سے اپنے ممالک واپسی کا رخ کر رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ انڈین فوج نے کشمیر میں غیر معینہ مدت کے لئے کرفیو بھی نافذ کردیا ہے جس سے خطے میں اور بالخصوص کشمیری شہریوں میں تشویش کی شدید لہر دوڑ گئی ہے
    مہندر سنگھ دھونی کی کشمیر میں تعیناتی کئی سوالوں کو جنم دے رہی ہے۔ ان کو تعینات کرنے کے بعد انڈین آرمی کی بزدلانہ کاروائیوں میں کیا گیا اضافہ کہیں کوئی پیغام تو نہیں ہے؟ ان کاروائیوں سے انڈیا کے مجرمانہ عزائم کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ مہندر سنگھ دھونی کی کشمیر جیسے متنازعہ علاقے میں تعیناتی کہیں اپنے کھلاڑیوں میں تشدد اور شدت پسندی کو اجاگر کرنا تو نہیں ہے؟ مہندر سنگھ دھونی نے اپنی تعیناتی کی بعد کشمیر یوں پر ڈھائے جانے مظالم کے بارے میں اب تک کوئی بیان نہیں دیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہندر سنگھ دھونی مظلوم و معصوم نہتے کشمیریوں پر کی جانے والی ان بزدلانہ ظالمانہ کاروائیوں میں اپنی آرمی کے ساتھ ہے۔
    عالمی سطح پر دنیا اس وقت جن خطرات کا سامنا کر رہی ہے ان میں سب سے بڑا خطرہ امن کو ہے اور بلاشبہ کشمیر کا امن اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ تقسیم ہند کے وقت برطانوی سامراج کی جانب سے پیدا کئے گئے اس مسئلے پر انڈیا اور پاکستان کے مابین تین جنگیں ہو چکی ہیں اور موجودہ حالات کے پیش نظر اس وقت پھر جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایٹمی اور جوہری طاقت رکھنے والی دونوں قوتوں میں اگر خدانخواستہ جنگ ہوگئی تو یہ نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کے امن کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ جنگی جنون میں مبتلا انڈیا حالات کی نزاکت کو نہ سمجھتے ہوئے نہ صرف کشمیر میں فوج اور مظالم بڑھا رہا ہے بلکہ کھلے عام پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب بھی ہورہا ہے۔ بارڈر لائن ہر بھارت کی اشتعال انگیز فائرنگ اور بمباری سے اب تک نہ صرف درجنوں پاکستانی شہری شہید ہو چکے ہیں بلکہ ہزاروں انڈین فوجی بھی جہنم کی راہ دیکھ چکے ہیں۔
    ایک کروڑ کی آبادی اور 84 ہزار مربع میل پر مشتمل کشمیر پاکستان کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی سرزمین پر بہنے والے تمام دریا کشمیر کی وادی سے ہی نکل کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ کشمیر کے مسلمان پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں جس کا مطالبہ کشمیری عوام اور لیڈران بارہا کر چکے ہیں۔ جبکہ انڈیا اپنی اذلی بے حسی اور ڈھٹائی سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو نہ صرف تسلیم کرنے سے انکاری ہے بلکہ یہ مطالبہ کرنے والے کشمیری رہنماؤں کو وقتا فوقتا پابندی اور ظلم کا نشانہ بناتا رہتا ہے۔
    پاکستان کے نام میں موجود "ک” کا حرف کشمیر سے منسوب کیا گیا تھا۔ مذہبی و خونی رشتوں، تجارتی تعلق، آبی و جغرافیائی حیثیت کی بناء پر ہر لحاظ سے کشمیر پاکستان کا حصہ بنتا ہے۔ بدقسمتی سے ریڈ کلف ایوارڈ کے وقت انگریزوں اور ہندوؤں کے باہم گٹھ جوڑ نے کشمیر کو پاکستان سے ملحق کرنے کے بجائے ایک سازش کے تحت اسے متنازعہ بنادیا۔ اقوام متحدہ کی بارہا کوششوں کے باوجود انڈیا کشمیر کا مسئلہ حل کرنے سے ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کسی حد تک سیریس دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستان نے امریکی صدر کے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی آفر کو نہ صرف قبول کیا ہے بلکہ سراہا بھی ہے جبکہ انڈیا اس سے پیچھے ہٹتا دکھائی دے رہا ہے۔
    کشمیر میں اپنی تعیناتی پر خوش مہندر سنگھ دھونی کشمیریوں کے لئے دکھ اور تکلیف کا باعث بن چکے ہیں کیونکہ ان کی آمد کے بعد سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔ انڈیا کے سابق کرکٹ کپتان سے امن اور محبت کے پیام و پیغام کی جو توقع کی جارہی تھی وہ اس کے بالکل برعکس ثابت ہوئے ہیں۔

  • نہ جرمِ ضعیفی اور کرو ۔۔۔ قرأة العين عینیہ شاہین

    نہ جرمِ ضعیفی اور کرو ۔۔۔ قرأة العين عینیہ شاہین

    کشمیر کرہ ارض کا وہ خطہ جو جنت ارضی کہلاتا ہے جو پاکستان کی شہہ رگ ہے۔ شہہ رگ کے بغیر انسان نہیں تو کشمیر کے بغیر پاکستان کا وجود خطرے میں پڑسکتا ہے۔ کشمیری قوم ستر سالوں سے پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑ رہی ہے۔ کلمہ طیبہ اور دوقومی نظریہ کی بنیاد پر بننے والے ملک کی شہہ رگ میں بسنے والوں کی تیسری نسل اس جنگ کا سامنا کر رہی ہے۔ انڈیا کے مظالم ساری دنیا پر عیاں ہیں۔ پاکستان کے پرچم کو جائے نماز اور کفن بنانے والی قوم پہ عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ پاکستان سے اٹھنے والی کشمیریوں کی آواز پابند سلاسل کر دی گئی اور ادھر کشمیر میں تمام حریت قیادت پس زنداں۔۔۔۔
    اور اس وقت کشمیر میں انڈین فورسز کے مزید دستوں کی تعیناتی، تعلیمی اداروں میں چھٹیوں میں اضافہ کرنا، ایمرجنسی ہسپتالوں کا قیام، کلسٹر بموں کا استعمال، سیاحوں کو فورا کشمیر سے روانہ کرنا اور باقی سب اچانک اقدامات حالات کے کسی اور ہی رخ پہ مڑنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔
    بزرگ کشمیری راہنما سید علی گیلانی کا یہ کہنا کہ اگر ہم مارے جائیں تو تمہیں روز قیامت جوابدہ ہونا پڑے گا۔ حریت راہنما یسین ملک کی جیل میں تشویشناک حالت۔۔۔۔ لائن آف کنٹرول پہ انڈین آرمی کی نقل و حرکت۔۔۔۔ یہ سب آخر کیا ہے؟؟
    شہہ رگ میں بسنے والوں کی نسل کشی کےمنصوبے اور ادھر وطن کے اندر سازشیں عروج پہ ہیں۔ کہیں سیاسی چپقلش اور کہیں مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دینے کی چالیں، کہیں "جمہوریت کے بھیس میں آمریت ہے” کا راگ الاپ کر اپنے دفاعی اداروں کے خلاف عوام کو بھڑکانے کی چالیں، کہیں حکومت اور عوام کو آمنے سامنے کر کے مہنگائی کا راگ اپنے مذموم مقاصد کے لیے الاپ کر خانہ جنگی کی چالیں، ملکی سالمیت کو خطرے میں ڈالنے کےلیے دفاعی اداروں پہ حملے، فورسز کے جوانوں کی شہادتیں، اور یہ سب ایسے نازک حالات میں جب ملک کے اندر نیشنل ایکشن پلان کے تحت سچے محب الوطن پس زنداں، خادمین انسانیت فلاح و بہبود تک بین اور ملک قدرتی آفات کے گھیرے میں، ایک طرف مون سون بارشیں بے تحاشہ اور دوسری طرف سیلابی خطرات۔۔۔۔
    اے ملت پاکستان!!!!
    یاد رکھنا
    ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظرفردا رہنے والی قوموں پہ کوئی سیف اللہ، کوئی ابن قاسم، کوئی غزنوی ، کوئی موسی بن نصیر، کوئی طارق بن زیاد نہیں اترا کرتا۔۔۔۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے قرطبہ و غرناطہ کی تباہی کی داستانیں پڑھیے۔۔۔۔
    اپنے حصے کی جنگ خود لڑنی پڑتی ہے ان حالات میں ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    کچھ نہی ہوگا اندھیروں کو برا کہنے سے
    اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہو گا
    اس ففتھ جنریشن وار کا جو کہ سکستھ جنریشن میں داخل ہو چکی ہے بھرپور توڑ ہمیں مل کر کرنا ہوگا۔

    ہم کیا سمجھتے ہیں یہ آگ ایل او سی کے اس پار ہی رہے گی ۔ادھر نہیں آئے گی۔ بلی کو دیکھ کر اگر کبوتر آنکھیں موند بھی لے تو بھی کیا خطرہ تو بہرحال ہےاور سر پہ ہے۔
    یہ جنگ ایل او سی کے پار کی جنگ نہیں ہے۔ کشمیر کی موجودہ صورتحال ستر سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ اک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ انڈیا کے یہ اقدامات ان حالات میں جب امریکہ میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری دفعہ ثالثی کی پیشکش کر چکا ہے پاکستان امریکہ اور طالبان کے مذاکرات میں کامیابی کےلیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سی پیک کی کامیابی سے پاکستان دنیا کو ایک نئی راہ پہ چلانے والا ہے لانگ ٹرم معاشی منصوبہ بندی سے دنیا کو لیڈ کرنے جارہا ہے
    تو یہ کشمیر کی صورتحال صرف وہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ کسی اور ہی بات کا عندیہ ہے۔
    بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکا ہے اور اپنی بزدلانہ حرکتوں سے انتہائی اقدامات کی طرف بڑھ رہا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ
    جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

    ان حالات کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جاسکتا گورنمنٹ اور سکیورٹی اداروں کےساتھ ساتھ ہر شہری کو بھی اپنے طور پہ مکمل تیار رہنا ہوگا۔ پاکستان الحمد اللہ ہارپ ٹیکنالوجی جیسی جدید صلاحیتوں کا حامل ہے اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بارشوں کو کنٹرول کیا جانا چاہیے اور جن علاقوں میں پانی کی کمی ہے وہاں استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ سیلاب جیسی صورتحال سے ایمرجنسی بچا جاسکے۔ عوام الناس کو کسی بھی سیاسی یا مذہبی تعصب سے باہر آکر یکجان ہوکر ملکی سالمیت کےلئیے ڈٹ جانا چاہیے مہنگائی اور ٹیکسز کا راگ الاپنے والی موم بتی مافیا کو اس وطن کا حق ادا کر کے دشمن کو منہ توڑ جواب دینا چاہیے۔
    ثمرین اختر اصباح کس بہترین انداز میں نوائے امروز لکھتی ہیں اور اس ملت کو اس کی ذمہ داری ادا کرنے پہ ابھارتی ہیں۔ آئیے آپ بھی جس طرح بھی ممکن ہو سکے اپنی آواز کو اٹھائیے اس ملت کو یکجان کرنے میں اس وطن کے پاسبان بننے میں۔۔۔۔۔۔
    اک جسم کی مانند ہے امت یک قلب سبھی یکجان سبھی

    جب درد میں ہو اک حصہ تو بن جاتے ہیں درمان سبھی

    پر اب وہ اخوت کی باتیں ہیں مجھ کو لگیں انجان سبھی

    کیوں کوئی کسی کا غم بانٹے، ہیں اپنی جگہ شادان سبھی

    ممکن ہے کل یہ سب قصے تجھ پر دہرائے جائیں گے

    یہ چھریاں ، نیزے یہ بھالے، تجھ پر برسائے جائیں گے

    تُو آج نہ جن کے پاس گیا کل تیرے پاس نہ آئیں گے

    مت آنسو دیکھ کے یہ سمجھو تری آنکھ میں یہ نہ آئیں گے

    آ متحد ہوکے سب مسلم کچھ کام کریں کچھ کار کریں

    آ تھام کے تیغِ نبوی ہم پھر اس مرحب پہ وار کریں

    آ دہرائیں آباء کا عمل ، آؤ تو سہی اک بار کریں

    آ پھول بچائیں امت کے، آ کفر پہ ہم یلغار کریں

    آ تھام کے پھر سب تیر و تفنگ سب چلتے ہیں اس اور جہاں

    ناموس ہماری تن تنہا سولی پہ لٹکتی ہے بے جاں

    جلتے ہوئے جسموں کی تم کو رلاتی نہیں کیا آہ و فغاں

    ہم مسلم ہیں اور مسلم کو جچتی ہی نہیں خاموش زباں

    پھر یاد دلاؤ دشمن کو اس قوم میں غیرت باقی ہے

    جس دین کا موضوع انساں ہے اس دیں کی محبت باقی ہے

    خالد کی حمیت باقی ہے ، حیدر کی وہ جرأت باقی ہے

    ہاں بتلاؤ کہ تیرے لیے مومن کی عدالت باقی ہے

    سب باقی ہے ، تم باقی ہو ، گر اٹھ کے بڑھو، گر عمل کرو

    ہاں عمل کرو ، ہے وقت عمل ، مرنا ہے اٹل، کچھ کرکے مرو

    ہے وقت نشانے بازی کا ترکش کو نئے تیروں سے بھرو

    جو ہاتھ اٹھے مسلم پہ یہاں اس ہاتھ کو جڑ سے قلم کرو

    نہ جرمِ ضعیفی اور کرو ، جرات تو کرو ،رہے آں باقی

    جو آں باقی، تو جاں باقی ، گر جاں ہے تو یہ جہاں باقی

    اللہ کرے اس بہن کا ہو زور قلم اور زیادہ اور کاش اس ملت کے دل میں اتر جائے یہ بات۔۔۔۔

  • بانی پاکستان،کشمیر، اور بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    بانی پاکستان،کشمیر، اور بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    3جون1947ء کے تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت ریاستوں کی آزادی اور الحاق کے بارے میں جو اصول طے ہوئے تھے، ان سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ کشمیرکو پاکستان کا حصہ بننا تھا، لیکن جب کشمیریوں کو حق خود ارادیت کا موقع نہیں دیا گیا تو کشمیریوں نے اولاً 19 جولائی 1947ء کو الحاق پاکستان کی قرار داد منظور کی۔ بعد میں 24 اکتوبر 1947ء کو سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا ۔

    قائداعظمؒ کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناحؒ نے اپنی کتاب ’’مائی برادر‘‘ میں بھی قائداعظمؒ کی کشمیر سے وابستگی اور تشویش کے بارے میں جو اشارہ دیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قائد اعظمؒ کشمیر کے بارے میں کس حد تک فکر مند تھے۔

    آپ لکھتی ہیں کہ قائداعظمؒ کے آخری ایام میں ان پر جب غنودگی اور نیم بے ہوشی کا دورہ پڑتا تھا تو آپ فرماتے تھے کہ کشمیر کو حق ملنا چاہئے۔ انہوں نے آئین اور مہاجرین کے الفاظ استعمال کئے۔

    قائداعظم محمد علی جناحؒ نے 1926ء میں کشمیر کا دورہ کیا اور وہاں کشمیری زعما سے ملاقاتیں بھی کیں۔ اس وقت اگرچہ کشمیر میں تحریک حریت کے خدوخال زیادہ نمایاں نہیں تھے، لیکن کشمیری مسلمانوں کی حالت دِگرگوں تھی اور انہیں ہندؤوں کے مقابلے میں دوسرے تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا تھا۔

    قائدا عظم ؒ دوسری بار 1929ء، تیسری بار 1936ء اور چوتھی بار1944ء میں کشمیر گئے،جہاں آپ نے نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس کے اجلاسوں سے خطاب بھی کیا اور کم و بیش ڈیڑھ ماہ کے لگ بھگ کشمیر میں قیام کیا۔
    بھارت مقبوضہ کشمیر کو3حصوں میں تقسیم کرنے کے منصوبوں پر غور کر رہا ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی قانونی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ بھارت کے آئین میں ایسی شقیں موجود ہیں جس کے تحت پاکستانی سرحد کے ساتھ واقع کسی بھی ریاست کی سرحدیں تبدیل کی جا سکتی ہیں تاہم پاکستانی قانونی ماہرین کے مطابق ایسی کوئی بھی اقدام بین الاقوامی قانون اور حتیٰ کے بھارتی آئین کی بھی خلاف ورزی ہوگی۔

    بھارتی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کو تقسیم کرنے اورنئی سرحدیں بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارتی آئین کا آرٹیکل 370ہے۔ آرٹیکل35-A کے برعکس آرٹیکل 370آئین کا باضابطہ حصہ ہے اور ریاست کو خودمختارانہ حیثیت دیتا ہے۔ آرٹیکل35-A کو آئین میں صدارتی حکم نامے کے ذریعے شامل کیا گیا تھا۔

    یہ آرٹیکل ریاستی اسمبلی کو ریاست کے مستقل رہائشیوں کا تعین کرنے کی اجازت دیتا ہے اور مستقل رہائشیوں کو خصوصی حقوق اور مراعات دیتا ہے۔ بھارتی ماہرین کے مطابق یہ دونوں قوانین ابتدا میں عارضی طور پر بنائے گئے تھے۔ ان کے باضابطہ ہونے کی بنیاد مقبوضہ کشمیر کی آئین ساز اسمبلی ہے جس نے ریاست کا آئین تشکیل دیا اور آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کی سفارش کئے بغیر اس نے خود کو تحلیل کر دیا۔

    بھارتی رپورٹس کے مطابق آرٹیکل 370 میں آرٹیکل 368(1)کے ذریعے ترمیم کی جا سکتی ہے جس کیلئے لوک سبھا میں ایک تحریک پیش کرنے کی ضرورت ہے جس میں آرٹیکل 368(1) کے ذریعے آرٹیکل 370منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جائے جو پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا طریقہ کار طے کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

    پا رلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کویہ ترمیم منظور کرنا ہوگی اور اس کے بعد بھارت کی آدھی ریاستوں کو اس کی توثیق کرنا ہوگی اور یہ عمل مکمل ہونے میں کافی وقت لگے گا۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بھارتی پارلیمنٹ کو مقبوضہ کشمیر کی سرحدوں کے ازسر نو تعین کا اختیار حاصل ہو جائیگا۔اس کے بعد پارلیمنٹ آرٹیکل 3کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے ریاست کو مختلف حصوں میں تقسیم یا اس کی سرحدوں کا دوبارہ تعین کر سکتی ہے تاہم آرٹیکل 370کی موجودگی میں یہ اقدام غیرقانونی ہو گا۔

    بھارت کی نیوز ایجنسی ’’آئی اے این ایس‘‘ کے مطابق لوک سبھا کے سابق سیکرٹری جنرل سبھاش کیشپ نے دعویٰ کیا کہ آرٹیکل 370آئین کی خصوصی نہیں عارضی شق ہے اور مختلف عارضی، عبوری اور خصوصی شقوں میں عارضی شق سب سے کمزور ہوتی ہے اور فیصلہ صرف یہ کرنا ہوتا ہے کہ اس شق کو کب اور کیسے ختم کرنا ہے۔

    بین الاقوامی قانون کے ممتاز پاکستانی ماہر احمر بلال صوفی نے کہا کہ بھارت کی طرف سے ایسی کوئی بھی کوشش جو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ آئینی حیثیت کو تبدیل کرے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہو گی۔ایسا کوئی بھی اقدام چوتھے جنیوا کنونشن کی بھی خلاف ورزی ہو گی، حکومت پاکستان کو یہ معاملہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کے سامنے بھرپور طریقے سے اٹھانا چاہئے۔

    بین الاقوامی قانون کے ایک اور ماہر بیرسٹر تیمور ملک نے کہا کہ آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35-Aمقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو بنیادی تحفظ فراہم کرتے ہیں اور متنازعہ علاقے کے طور پر مقبوضہ وادی کی حالت جوں کی توں رکھنے پر زور دیتے ہیں۔ یہ آرٹیکل ختم کرنے سے بھارت کی عالمی برادری سے کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہو گی اور اس کا آزاد کشمیر کی حیثیت پر بھی پڑیگا۔ پاکستان کو فوری طور پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز سے رجوع کرنا چاہئے تاکہ بھارت کو اس اقدام سے باز رکھنے کے لئے عالمی دباؤ ڈالا جا سکے۔اس سلسلے میں سلامتی کونسل سے قرارداد منظور کرانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

    پاکستان کو یہ اقدام بھارتی جارحیت تصور کرنا چاہئے کیونکہ مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت پاکستان کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کا اہم حصہ ہے اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانا اس علاقے کو ضم کرنے کے مترادف ہے جس پر پاکستان دعویٰ رکھتا ہے۔ بیرسٹر اسد رحیم خان نے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی اور یہ امن کوششوں کیلئے تباہ کن ہوگا۔

    بھارت شملہ معاہدے میں اس امر پر اتفاق کر چکا ہے کہ دونوں ممالک کشمیر کی حیثیت میں یکطرفہ طور پر کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے۔ مقبوضہ وادی میں ہندوؤں کی آبادکاری اور مسلم رہائشیوں پر مظالم کے ذریعے مودی کا ہندوتوا منصوبہ نہ صرف وادی کو تباہ کر دے گا بلکہ کئی دہائیوں میں طے پانے والے قانونی اتفاق رائے کا بھی خاتمہ کردیگا۔
    پاکستان کو اس حساس ایشو میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے مظلوم کشمیری عوام کا بھرپور ساتھ دینا اور مدد کرنی چاہئے۔

  • "دو خواب۔۔۔۔اور۔۔۔۔تعبیریں۔۔۔!!!” جویریہ چوہدری

    "دو خواب۔۔۔۔اور۔۔۔۔تعبیریں۔۔۔!!!” جویریہ چوہدری

    صدیوں پہلے اللّٰہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑھاپے میں اپنے پروردگار سے دعا مانگتے ہیں۔۔۔۔:
    رَبِّ ھَب لِی مِنَ الصّٰلِحِین¤
    "میرے رب مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما۔۔۔”
    اللّٰہ تعالی نے اپنے خلیل کی دعا قبول کرتے ہوئے بردبار لڑکے کی بشارت دی۔۔۔
    مگر آزمائش کا دور ابھی باقی تھا۔۔۔بیٹا جب دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللّٰہ کے خلیل پیغمبر خواب میں دیکھتے ہیں کہ اسے ذبح کر رہے ہیں۔۔۔
    اپنے فرمانبردار اور صالح بیٹے سے مشاورت کی۔۔۔۔کیونکہ پیغمبروں کے خواب بھی وحی ہوا کرتے ہیں۔۔۔۔!!!
    تو بیٹے نے نہایت عاجزی اور ثابت قدمی سے کہا:
    ابا جان!
    آپ کو جو حکم اللہ کی طرف سے ملا ہے۔۔۔۔اسے بجا لایئے۔۔۔
    کر گزریئے۔۔۔!!!!!
    ان شآ ء اللّٰہ آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔۔۔
    باپ اپنے لاڈلے بیٹے کو لے کر چل پڑا۔۔۔۔اور چھری تلے گردن رکھ دی۔۔۔
    جہانوں کا خالق اپنے بندے کی فرمانبرداری کے نظارے عرش پر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔:
    فرشتے کے ذریعے ندا آئی۔۔۔”یقیناً تو نے خواب سچ کر دکھایا۔۔۔”
    تیرے اس بھاری عمل کی لاج اب ہم یوں رکھیں گے کہ قیامت تک تیری اس سنت کو زندہ رکھیں گے۔۔۔۔
    اور اہل ایمان قیامت تک اللّٰہ کی رضا کے لیئے تیری اس قربانی کی یاد میں اپنے جانور اللّٰہ کی راہ میں قربان کرتے رہیں گے۔۔۔
    "اور ہم نے اس کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا۔
    ابراھیم علیہ السلام پر سلام ہو۔
    ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔
    بے شک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے۔۔۔”(سورۃ الصّٰفٰت)
    اسکے ساتھ یہ سبق بھی ابراھیم علیہ السلام کی سنت کی اتباع کرنے والوں کے لیئے اہمیت رکھتا ہے کہ جب وقت آ گیا حق کے لیئے وہ اپنی جانوں کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔۔۔!!!!

    بیسویں صدی کے باسیانِ ہندوستان نے بھی ایک خواب دیکھا تھا کہ اگر ان غیور و باشعور مسلمانوں کے لیئے برصغیر کے اندر الگ سے ایک نمائندہ ریاست قائم ہو جائے۔۔۔جہاں وہ اپنی مرضی کے مطابق جی سکیں۔۔۔۔اپنے دین کی تعلیمات پر آذادی سے عمل کر سکیں۔۔۔
    ظاہر سی بات تھی کہ یہ انسانوں کی زبان سے نکلتی بات تھی۔۔۔جسے دیوانے کا خواب بھی کہا گیا۔۔۔۔نا قابل عمل بھی کہا گیا۔۔۔مگر سنت ابراہیمی سے پیار رکھنے والوں نے تاریخ کے انمٹ ابواب پر خونِ دل سے تحریر کر دیا کہ لا الہ الا اللہ کے وارث کسی دور میں بھی قربانیوں سے ہچکچائے نہیں ہیں۔۔۔
    امتحان بڑا سخت تھا۔۔۔
    سفر بڑا کٹھن اور راہیں بڑی دشوار گزار تھیں۔۔۔!!!!
    مال کی قربانی تھی۔۔۔۔جان کی بھی۔۔۔۔
    گھر بار کی۔۔۔تو خاندان کی بھی۔۔۔
    مگر قافلہ ہجرت چل پڑا تھا۔۔۔جانبِ منزل۔۔۔۔آبلہ پا۔۔۔سورج کی حدت اور موسم کی شدت سے بے پرواہ ہو کر۔۔۔
    ایک ہی امید کا چراغ دلوں میں جلائے۔۔۔کہ خواب سے تعبیر تک کا سفر طے ہو جائے۔۔۔
    آذاد دھرتی۔۔۔پاک وطن۔۔۔پاکستان کی مٹی کا بوسہ نصیب ہو جائے۔۔۔!!!!!!
    ردا و آنچل۔۔۔۔
    لختِ جگر۔۔۔۔
    ماؤں کی ممتا۔۔۔
    شفقتِ پدری۔۔۔۔
    کی قربانیاں دے کر یہ قافلہ ہجرت اپنے مشن میں کامیاب ٹھہرا تھا۔۔۔۔
    14اگست 1947ء اقوام عالم کی تاریخ کا تابناک دن جب دنیا کے نقشے پر مسلمانوں کی ریاست”پاکستان” کے انوکھے اور پیارے نام کے ساتھ ابھری۔۔۔
    دشمن کے سینے آگ سے بھڑک اٹھے تھے مگر۔۔۔۔۔
    اللّٰہ کا وعدہ بھی برحق تھا:
    "ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔۔۔۔۔”

    اس پاک وطن کی عمارت۔۔۔۔ انسانوں کے اعضاء اور پاکیزہ لہو کے گارے سے چُنی گئی۔۔۔
    کتنی نسلوں کی قربانیوں سے ملا۔۔۔۔
    اے وطن تو ہماری وفا کا صلہ۔۔
    خواب سے تعبیر تک سفر تو کس عزم سے طے ہوا تھا۔۔۔۔شاید ہم جیسے اس کا ادراک کبھی صحیح معنوں میں نہ کر سکیں۔۔۔
    ہاں چودہ اگست تک جوش و خروش باقی رہے گا۔۔۔پھر وہی ڈگر۔۔۔؟؟؟
    لیکن سوچنا یہ ہے کہ اپنی اپنی”میں”سے ہٹ کر ہم سب مل کر اس پاک وطن کی مضبوطی اور نا قابل تسخیر دفاع میں شامل ہو جائیں۔۔۔
    اس آذادی کے تحفہ کی دل و جان سے قدر اور بقاء کے لیئے کمر بستہ ہو جائیں۔۔۔
    اس پاک وطن کے دفاع میں اپنے اپنے محاذوں پر ڈٹ جائیں۔۔۔
    اور پاکستان کے دشمنوں کو یہ واضح پیغام پہنچا دیں کہ ابراھیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں عید و یومِ آذادی مناتی یہ قوم کبھی کسی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹی اور اس کے جوان بیٹے آج بھی اپنے پاکیزہ لہو سے اس کے در و دیوار کا بھر پور دفاع کر رہے ہیں۔۔۔
    جس طرح 12،13،14اگست کو ہم مالی قربانی کریں گے۔۔۔۔
    اسی طرح 14اگست کو یوم آزادی مناتے ہوئے اس عہد کا اعادہ بھی کریں گے کہ اس دیس کی حرمت ہمیں جانوں سے بڑھ کر ہے۔۔۔۔!!!
    اور لاریب اس وطن پاک کو بھی قیامت تک پائندہ و سلامت رہنا ہے۔۔۔۔۔!!!!!
    ہم اس دھرتی کے روشن مستقبل کے خواب کو کبھی بکھرنے نہیں دیں گے۔۔۔ان شآ ء اللّٰہ۔۔۔
    آیئے!
    اپنا اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اس وطن کی ترقی و استحکام کے لیئے اپنے اپنے کردار کا از سر نو جائزہ لیں۔۔۔۔کہ آذادی سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہے۔۔۔سب سے پہلی چیز یہی”آذادی” ہے۔۔۔۔
    کیونکہ جب ہم آذاد ہوں گے تو آزادانہ اپنے تمام عملوں کو بھی بجا لا سکیں گے۔۔۔۔!!!!!
    اس کا بہترین مشاہدہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے مسلمانوں کی حالت زار سے کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔!!!
    تو سلامت وطن۔۔۔۔تا قیامت وطن۔۔۔!!!
    دل دل کی آواز۔۔۔۔ہر دل کی آواز "پاکستان زندہ باد”

  • تشکیل پاکستان اور عوام کا جذبہ ایثار ۔۔۔ ثنا صدیق

    تشکیل پاکستان اور عوام کا جذبہ ایثار ۔۔۔ ثنا صدیق

    پاکستان انتہائی کٹھن حالات میں معرض وجود میں آیا اس کا قیام انگریزوں اور ہندوں کی مرضی کے خلاف تھا بلکہ ہندو تو یہاں تک کہا کرتے تھے کہ پاکستان صرف چھہ ماہ تک ہی قائم رہ سکتا ہے کیونکہ ہندوستان کو تقسیم خاص کر ہندوں کی مرضی کے خلاف کیا گیا تھا انہیں مجبورا اس تقسیم کو ماننا پڑا تھا اس لیے انہوں نے کبھی بھی پاکستان کو دل سے تسلیم ہی نہیں کیا الٹا پاکستان کو ختم کرنے کی سازش میں مصروف ہیں
    پنڈت لال نہرو نے ایک موقع پر کہا تھا:
    "یہ تقسیم عارضی ہے ہندوستان ایک دفعہ پھر متحد ہو کر رہے گا جناح کو پاکستان لینے دو لیکن اقتصادی حربوں اور دوسرے طریقوں سے اتنی مشکلات پیدا کر دی جائیں گی کہ بااخر پاکستان گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا اور دوبارہ ہندوستان میں شمولیت کی درخواست کرے گا”
    لیکن اللہ تعالی کے فضل و کرم سے، قائداعظم کی مدبرانہ قیادت سے اور پاکستان کی عوام کے جذبہ و ایثار اور اتحاد کی بدولت نہ صرف قائم ہوا بلکہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا
    انگریزوں نے ہندوستان چھوڑنے کا جو منصوبہ بنایا تھا اس کی تاریخ جون 1948 تک مقرر کی گی تھی فروری 1947 کو برطانوی وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ جون 1948 کو برصغیر کو اقتدار منتقل کر دیا جائے گا اور ساتھہ یہ ابھی طے نہیں کیا گیا تھا کہ اقتدار کس کے حوالے کیا جائے گا لیکن پٹیل کے کہنے کی وجہ سے لارڈ ماونٹ بیٹن نے برطانوی حکومت کو لکھہ بھیجا کہ دو ماہ کے اندر اندر انتقال اقتدار کی منظوری کا قانون پاس کرے اگر اقتدار کی منتقلی 1948 کو ہوتا تو دونوں حکومتوں کو اثاثے، فوج اور دیگر سازوسامان کی تقسیم کا وقت مل جاتا مگر دو ماہ کے قلیل عرصے میں پاکستان کی تقسیم سے پیدا ہونے والے مسائل کا اندازہ لگانا نہ صرف مشکل تھا اس کو سلجھانا بھی ناممکن تھا اس کے پیچھے وہ سازش تھی جو کانگریس کی پاکستان کو ناکام کرنے کی تھی ہندوں کی یہ سازش تھی اگر انتقال اقتدار میں طویل وقت مل گیا تو مسلم لیگ اس کے لے کئی انتظامات کر لے گی لیکن افراتفری کی صورت میں اقتدار منتقل ہو جائے تو مسلمان اس کو سنبھال نہیں سکے گے اسی سارش کے تحت انگریز اور ہندوں کے گٹھہ جوڑ سے قانون آزادی ہند 1947 کو پاس کروایا گیا ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاکستان کے لیے بہت سے مسائل تھے کچھہ مسائل تو ایک نئی ریاست کو لازما پیش اتے ہیں لیکن زیادہ تر مسائل ہندوں کے پیدا کردہ تھے بھارت کے لیڈروں نے یہ مسائل اس لیے پیدا کیے تھے کہ پاکستان اپنے پاوں پر کھڑا نہ ہو سکے لیکن پاکستان کی عوام کا بے دریغ قربانیاں اور جذبہ ایثار نے دنیا کو دکھایا کہ یہ پاکستان ختم ہونے کے لیے نہیں بلکہ ہمشہ قائم رہنے کے لیے تشکیل پایا گیا ہے
    پاکستان کی عوام نے قائداعظم کی قیادت کے علاوہ مسلمانوں کی بے پناہ جذبہ اخوت اور ایثار کی وجہ سے قائم ہوا وہ اپنا علحدہ وطن اور اسلامی ریاست کے حصول کے لیے اپنا سب کچھہ قربان کرنے کے لیے تیار ہو گے قیام پاکستان کے بعد سب سے سنگین مسئلہ مہاجرین کا تھا اگرچہ پاکستان تو بن گیا تھا لیکن اتش زنی اور خنجر زنی کے واقعات بڑی تعداد میں رونما ہو رہے تھے سب سے زیادہ تکلیف دو صورتحال مہاجرین کی تھی کیونکہ ہندوں نے ٹھان لیا تھا کہ کوئی مسلمان زندہ بچ کر نہ جائے اگر مسلمان زندہ بچ بھی جائے تو زخمی اور برباد کر دیا جائے ہندوں اس قدر اشتعال تھے کہ زیادہ تکلیف دہ صورتحال مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کی تھی جن کے پاس لباس کے سوا کچھہ نہ تھا پاکستان کی عوام نے اپنے ان بے یارومددگار اور بے خانماں بھائیوں کو جس فراخ دلی اور جذبہ اخوت سے دل کے ساتھہ لگایا وہ ہماری اعلی تاریخی روایات کا ایک حصہ ہے اقتصادی میدان میں اور دوسرے شعبوں یہاں ماہرین کی کمی تھی اس کو جس محنت اور دل لگی سے پورا کیا گیا وہ ہماری قومی خلوض دیانت اور محنت کی عمدہ مثالیں ہیں پاکستانی قوم انتہائی کٹھن حالات میں بھی احساس محرومی اور کمتری کا شکار نہیں ہوئی بلکہ قومی جذبہ سے سرشار تعمیر وطن کے لیے تیار ہو گئی انتظامیہ کے سامان کی قلت کے پیش نظر خیموں اور فوجی بارکوں میں بیٹھہ کر محنت سے دن رات کام کیا گیا ڈاکٹروں نے آلات کی عدم موجودگی کے باوجود زخمی مہاجرین کا خلوص دل سے علاج کیا غرضیکہ کہ ہر شعبہ ذندگی سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں نے ثابت کیا کہ قوموں کی بقاء کے لیے وسائل کی کمی نہیں بلکہ محنت دل لگی خلوص ایثار و قربانی کی ضرورت ہوتی ہے اس طرح پاکستانی عوام نے چند مہنوں میں دنیا کو خاص کر ہندوؤں کو دکھا دیا کہ پاکستان ہمشہ رہنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

  • اک قرض…. جو ابھی چکانا باقی ہے… ڈاکٹر ماریہ نقاش

    اک قرض…. جو ابھی چکانا باقی ہے… ڈاکٹر ماریہ نقاش

    لمحوں کی قید سے آزاد ہو کر پل بیتتے رہے….لمحوں اور پلوں کے تانا بانا بنتے بنتے …گھنٹوں, ہفتوں اور مہینوں کے گزرنے کا پتا ہی نہ چل سکا….اور ماہ و سال کی پت جھڑ اور شب و روز کی قید سے آزاد ہو کر اک بار پھر اگست کا مہینہ آن نازل ہوا….
    وہی آزادی کا مہینہ جسے باقی عام مہینوں پر اس لیے بھی برتری حاصل ہے کہ اس مہینے میں ملک آزاد ہوا تھا ….آج آزادی کے اکہترویں سال جب قلم ہاتھ میں لیے میں لکھنے بیٹھی تو بڑے بوڑھوں سے سنے آزادی اور قربانی کے کئ قصے ذہن کی سکرین پر اک تسلسل کے ساتھ گردش کرنے لگے…
    کہیں لڑکیوں کو عصمت بچانے کیلیے بھاگتے ہوۓ دیکھ رہی ہوں …..
    کہیں عزت لٹنے کے خوف سے کنویں میں کودتی لڑکیاں دکھائ دے رہی ہیں…
    کہیں ماں کی چیخوں کے درمیان بچے کو برچھے میں پروتا ہوا منظر آنکھوں کو دھندھلا کر رہا ہے…
    کہیں باپ کی کٹتی ٹانگیں دل کو افسردہ کر گئیں….
    کہیں بھائی کے چیختے وجود سے گردن الگ ہوتے دیکھ کر وجود لرز سا گیا….
    اور کہیں بیٹا بازو کٹوا کر بوڑھے باپ کی ڈھال بننے کی ناکام کوشش کرتے ہوۓ دکھا تو روح لرز گئ…
    گھبرا کر ان مناظر کو نظروں سے دل و دماغ سے اوجھل کرنا چاہا نکالنا چاہا ….
    تو….. یہ کیا….؟؟؟
    میں ناکام کیوں ہو گئی..؟؟؟
    یہ اذیت اور درد بھرے مناظر میری سوچ و فکر کی قید سے آزاد کیوں نہیں ہو رہے؟؟؟
    کیوں مجھے اس آزادی کے پر کیف نشے اور خوبصورت آزاد فضاؤں میں اکیلا نہیں چھوڑ رہے؟؟؟
    ذہنی قید سے آزاد ہو کر ان آزاد فضاؤں کا مزہ کیوں نہیں لوٹ پا رہی….؟؟؟
    یہ اک آزاد ملک ہے جسکی آزاد باشندی ہوں میں….میری اک اک سانس آزاد ہے…پھر کیوں یہ خطرناک مناظر مجھے اپنی قید سے آزاد نہیں کر رہے…؟؟؟
    کوئ گھنٹہ بھر ان سوچوں سے لڑنے کے بعد میں جس نتیجے پر پہنچی…آئیے قارئین کرام….!!!
    آپ بھی سنتے چلیے….
    کیا معلوم
    کبھی نہ کبھی…
    کہیں نہ کہیں….
    کسی بھیڑ میں یا تنہائی میں…
    کبھی دکھ میں یا درد میں…
    کبھی جلوت میں یا خلوت میں…
    کبھی خوشی میں یا غم میں….
    کسی سوچ میں یا فکر میں…
    آپ بھی کبھی اس کیفیت کا شکار ہوۓ ہوں….
    تو ناظرین کرام….!!!
    یہ آزادی اک ایسی حقیقت ہے جسے آپ کبھی بھی محسوس کریں تو کچھ افسردہ یادیں اس کے ساتھ وابستہ ہیں….
    آزادی کو تصور کرتے ہی وہ قربانیاں آپکی بے قراری اور بے چینی کی وجہ بن جائیں گی….
    جیسے دھوپ اور چھاؤں کاساتھ ہے….
    دریا اور کنارے کا سنگم ہے….
    سمندر اور ساحل دونوں اک دوسرے کا لازمی جزو ہیں….
    بادل اور بارش…..
    آندھی او طوفان…
    کا ساتھ ہے….بالکل اسی طرح آزادی اور قربانی کا ساتھ بھی ازل سے ہے…
    آج ہم آزاد ملک کے باشندے ہیں….آزادی حاصل کر کے بے فکر ہیں….بے فکری کی نیند سوتے جاگتے ہیں….
    مگر یاد رکھیے ہم سب پر اس آزاد سر زمین کا اک قرض ہے…جو ہم سب کو اپنی اپنی حیثیت میں رہتے ہوۓ اتارنا ہے…
    یاد رکھیے…!!
    کوئی بھی کیفیت مستقل نہیں ہوتی….
    کوئی بھی عروج ہمیشگی حاصل نہیں کر سکتا …
    کوئی ذی روح ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتا….
    اسی طرح آزادی ہمیشہ قائم رہنے والی چیز کا نام نہیں….
    اسے قائم رکھنا ہے…
    میں نے…
    آپ نے….
    ہم سب نے ملکر…
    جب تک اس ملک کے سبھی لوگ اپنے اپنے حصے کا کردار ادا نہیں کریں گے….اس ملک کی درو دیوار دائم و قائم اور سلامت رکھنے میں آرمی کا ساتھ نہیں دیں گے…تو یاد رکھیے دنیا کی ابتدا ہی اسی شرط پر ہوئ تھی….( کہ اک دن ہر چیز کو زوال ہے )سواۓ رب تعالی کے….
    ارے وہاں تو ماں, بیٹی, باپ, بھائی سب کٹے تھے…مرے تھے….
    ہمیں تو یہاں صرف ملک کی سرحدوں کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے…
    چاہے وہ فنڈز کی صورت میں ہو…
    یا آرمی کے روپ میں جوان بیٹے کی شکل میں ہو…
    چاہے نیک خواہشات اور تمناؤں کی شکل میں ہو ….
    یا چھوٹی موٹی کوششوں کی شکل میں….
    یا…..
    اک فکر و خیال اور جذبات کو ابھارتی ہوئ تحریر کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو….
    قارئین….!!!
    میں اپنے حصے کا کردار ادا کر رہی ہوں… یہ اپنی سوچ میں.,,, قلم اور کاغذ کے ذریعئے آپ تک پہنچا رہی ہوں….اب آپکی باری ہے….چاہے پڑھ کر نظر انداز کریں…
    یا
    عمل کریں….
    اور وطن سے محبت کا ثبوت دیتے ہوۓ دوسروں سے بھی عمل کروائیں….اور ملک دوست بن جائیں…..
    کیونکہ…..!!!
    آزادی اک قرض ہے…جسے ہم سب نے ملکر چکانا ہے….

  • ہم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں دنیا جانتی ہے….سلیم اللہ صفدر

    ہم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں دنیا جانتی ہے….سلیم اللہ صفدر

    ہم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں دنیا جانتی ہے…

    لیکن جب معاہدے کیے ہوں تو معاہدوں کی پاسداری بھی ضروری ہے

    اور دشمن کو بھی یہ موقع دینا ضروری ہے کہ وہ اپنا چہرہ بے نقاب کر سکے کہ وہ کسی معاہدے کو ماننے اور سننے والا نہیں

    جب دشمن کا چہرہ مکمل طور پر دنیا کے سامنے آ جائے گا تو ہم وہ کرنے کا حق رکھتے ہوں گے جو نہ کرنے پر آج احتجاجی آوازیں آٹھ رہی ہیں

    اور اگر ہم نے وہ سب پہلے کر لیا… تو نہ تو دشمن کا اتنا نقصان ہو گا اور نہ ہی ہمیں کوئی فائدہ ملے گا.

    قوموں کے درمیان رہنا ہے تو بین الاقوامی قوانین کو ساتھ لیکر چلنا پڑتا ہے. اپنا آپ بچانا پڑتا ہے… دشمن کو سامنے لانا پڑتا ہے ورنہ اچھی بھلی جیتی جنگ کے ہارنے کا خدشہ رہتا ہے.

    جن لوگوں نے کشمیر کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو خموش کروایا ہے…وہ اس خاموشی کے نقصانات بھی جانتے ہیں اور اب وادی نیلم سے سیالکوٹ تک کے بارڈر پر ان کے فوجی جذبہ شہادت سے سرشار کھڑے ہیں.
    جہاں جہاں وہ مناسب سمجھ رہے ہیں جواب بھی دے رہے ہیں.

    بیشک پاک فوج کی خاموشی وحشت ناک ہے لیکن وقت اور جگہ کا تعین بھی تو پاک فوج ہمیشہ سے خود ہی کرتی آئی ہے اس لیے گزارش ہے کہ میڈیا کی خاموشی کو عسکری محاذ پر خاموشی نہ سمجھا جائے. بھارتی جارحیت کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور 26 فروری جیسے کسی سرپرائز کا انتظار کیا جائے.

  • کشمیر, جنگی گھڑی اور روایتی جنگ کا کنٹرولڈ ورژن!!! بلال شوکت آزاد

    کشمیر, جنگی گھڑی اور روایتی جنگ کا کنٹرولڈ ورژن!!! بلال شوکت آزاد

    کشمیر کی جنگی صورتحال پر بہت غور و حوض کیا اور کافی مشاہدے کے بعد اور کچھ "سمارٹ اور انٹیلیجنٹ” اذہان سے مکالمے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پاکستان اپنا دفاعی وقت کم کرے, مطلب وار لمٹ یا جنگی گھڑی کو مہینوں اور ہفتوں سے کم کرکے گھنٹوں اور منٹوں پر کرکے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنالے اور محنت و قسمت اور اللہ کی مہربانی سے جو ایٹم بم بنا لیا ہے اس کی ہیبت گلیِں باتی ختم کرکے حقیقت میں طاری کرے۔

    بھارت کو جب تک یہ معلوم ہے کہ پاکستان کے پاس محدود اور روایتی جنگ لڑنے کا بندوبست ہے یعنی ایٹمی اسلحہ استعمال کرنا پاکستان کا بیشک اہم اور آخری آپشن ہے پر اس آخری آپشن تک پہنچنے سے پہلے پاکستان دس بیس دن کی دفاعی یا جارحانہ جنگ لڑنے کا بندوبست رکھتا ہے تو بھارت اسی طرح اگلے اور سو سال بھی کشمیر کے عوام کا جینا دوبھر کرتا رہے گا, پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کرتا رہے گا اور ہم اسی طرح سرجیکل سٹرائیک اور سرپرائزز کا کھیل کھیلتے رہیں گے۔

    اور سب سے اہم بات ان مبینہ بھارتی سرجیکل سٹرائیکس کو اگر مبینہ پاکستانی نیوکلیئر سٹرائیکس کے ڈراوے اور بہکاوے کے درمیان معلق نہ کیا گیا تو پاکستان کا سارا دفاعی بجٹ روایتی جنگ کے اخراجات میں خرچ ہوتا رہے گا اور بھارت کا جب دل کرے گا وہ ہماری سرحدوں کا تقدس پامال کرتا رہے گا اور ہمارے عام شہری جان سے جاتے رہیں گے۔

    جب ہم ایک ایٹمی اور خودمختار قوت ہیں بقول ریاست و حکومت تو ہمیں اس عنوان کی لاج رکھنے کے لیئے کچھ کڑوے فیصلے وقت رہتے کرنے ہونگے تاکہ برصغیر کے سر پر چھائے فضول جنگوں کے سائے ختم ہو سکیں۔

    اس ضمن میں یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں میں خود کفیل ہے لیکن فورتھ جنریشن وار یا محدود روایتی جنگی ہتھیاروں میں خود کفیل نہیں بلکہ دوسروں پر انحصار کرتا ہے جس سے ہر سال قومی بجٹ کا ایک حصہ باہر کی اسلحہ ساز کمپنیوں کو چلا جاتا ہے با امر مجبوری یا فیصلہ و پالیسی سازوں کی پالیسیز کی وجہ سے۔

    جبکہ بھارت کو یہ جنگی, سرجیکل سٹرائیکس اور فالس فلیگ آپریشنز کے غیر ضروری پنگے اسی لیئے سوجھتے ہیں کہ وہ پاکستان کو چھیڑ کر کاؤنٹ ڈاؤن شروع کردیتا ہے اور جب الٹی گنتی دس سے ایک کی جانب خاتمے کے قریب پہنچتی ہے تو وہ تالی بجاتا ہوا بھاگ جاتا ہے کہ "ھھھھھھ پاکستان ڈر گیا پاکستان ڈر گیا”, حالانکہ پاکستان نے دس سے ایک کی الٹی گنتی کے دوران بیشک نو ٹھڈ بھارت کو رسید کردیئے ہوں وہ اہمیت رکھ کر بھی اہمیت نہیں رکھ پاتے کہ بھارت کا مقصد ٹھڈوں سے بچنا ہرگز نہیں بلکہ پاکستان کو بار بار روایتی جنگ کی دھمکی دیکر یا محدود روایتی جنگ میں گھسیٹ کر دنیا کو یہ میسج دینا مقصد ہوتا ہے کہ "ہوگی پاکستان کوئی واحد اسلامی ایٹمی خودمختار طاقت لیکن ہمیں فرق نہیں پڑتا”۔

    معاف کیجیئے نا تو میں پاکستان کو انڈر اسٹیمیٹ کررہا ہوں اور نہ ہی میرا یہ یقین بدلا ہے کہ پاکستان کوئی کمزور ریاست ہے پر میرا سادہ لفظوں میں کہنا یہ ہے کہ پاکستان کاؤنٹ ڈاؤن ٹائم کو کم کرنے کی سکت رکھتا ہے تو یہ کیوں اس ٹائم کو بجائے کم کرنے کے اور بڑھانے پر فوکسڈ ہے؟

    یقین مانیئے ایٹم بم اور ایٹمی وار ہیڈ لیجانے والے جدید میزائیل بنانے سے کئی گنا زیادہ اہم اب یہ مدعا ہے کہ جنگ کی گھڑی کا ڈائل اب ہماری مرضی سے چلے اور کاؤنٹ ڈاؤن ٹائم کی لمٹ دس سے کم کرکے پانچ کی جائے۔

    بھارت ایک بندر کے جیسے ہے, جو تب تک چھیڑ خانی کرتا رہے گا جب تک ہم اس کی اکڑ توڑ نہیں دیتے اور اس کی پونچھ کاٹ نہیں دیتے۔

    کشمیر اسی دن ان شاء ﷲ آزاد ہوجائے گا اور پاکستان اسی دن بھارتی جارحیت سے بالکل محفوظ ہوجائے گا جب پاکستان کا روایتی جنگ کا سازو سامان دس بیس دن کے بجائے صرف دو دن سے پانچ دن تک کا ہوجائے گا اور ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد آج سے دو گنی ہوجائے گی۔

    پاکستان کا اب بوس بننے کا وقت ہے اور بوس رسک لیتے ہیں جب بات بقاء اور وعدے وفا کو ایفاء کرنے کی ہو تب۔

    بھارت سے کشمیر چھڑانا ہے تو بھارت کے چھکے چھڑانے ہونگے اور اس کا پسینہ نکلوانا ہوگا ایک انجانے ڈر اور خوف کو اسکی سینا اور جنتا پر ہروقت طاری کرکے اور بھارتی سب سے زیادہ پرمانڑوں حملے سے ڈرتے ہیں, نہیں یقین تو تحقیق کرکے دیکھ لیں۔

    قصہ المختصر کہ کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی خودمختاری داؤ پر ہے صرف اَن لمیٹڈ جنگی گھڑی اور روایتی جنگ کے کنٹرولڈ ورژن کی وجہ سے۔

    امید ہے کہ میری اس تجزیاتی نما مشوراتی تحریر کو عائلی نظر سے پڑھ کر نظر انداز یا اختلاف برائے اختلاف کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

  • مسئلہ کشمیر، پاکستانی موقف کی جیت اور بھارتی ناکام ہتھکنڈے ۔۔۔انشال راؤ

    مسئلہ کشمیر، پاکستانی موقف کی جیت اور بھارتی ناکام ہتھکنڈے ۔۔۔انشال راؤ

    ہندوستان کے شمال مغربی حصے میں ایک آزاد مسلم ریاست قائم ہوگی، "گاہ میری نگاہ تیز چیر گئی دل وجود” یہ اقبال ہی تھے جس نے اس وقت تقدیر مبرم کا مشاہدہ کرلیا تھا جب قائداعظم نے 14 نکات ہی پیش کیے تھے پھر دنیا نے دیکھا کہ قدرت والے نے پاکستان کو رمضان کے مہینے میں نازل فرمایا اور اہم بات یہ کہ اللہ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج پہلے نہ پیدا کیا ہو بالکل اسی طرح اسرائیل کے وجود سے 9 مہینے پہلے پاکستان کا قیام عمل میں آیا، تقسیم ہند اس بنیادی اصول کے تحت طے پائی تھی کہ مسلم اکثریت والے علاقے پاکستان میں شامل ہونگے اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت میں، اس حساب سے کشمیر قطعی طور پر پاکستان کا حصہ بنتا تھا مگر انگریز کی عیاری اور بدنیتی کے باعث کشمیر کا معاملہ ادھورا رہ گیا جس پر لارڈ ماونٹ بیٹن و نہرو نے غاصبانہ قبضہ جمالیا اس حق تلفی کے سبب پاکستان و بھارت کے مابین کئی خونریز جنگیں بھی ہوئیں جن میں ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہوے اور باہمی کشیدگی پر ہر سال ارب ہا ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، معاملہ شروع میں اقوام متحدہ کے احاطے میں گیا مگر اقوام متحدہ کی عدم دلچسپی اور بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث آج تک حل نہ ہو پایا، اس ضمن میں شملہ معاہدہ کے تحت دونوں ملک مسئلہ کشمیر کو باہمی مذاکرات سے حل کرنے پہ متفق تو ہوے مگر کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوا، دانشمندی تو اسی میں تھی کہ دونوں ملک ستر سالہ مخاصمت کو مٹانے کے لیے کوئی عملی کام کرتے، عین ممکن تھا ایسا ہو بھی سکتا تھا مگر ہندوتوا دہشتگرد کبھی بھی ہندو مسلم منافرت کی دیوار برلن کو گرانے کے لیے تیار نہیں بلکہ مودی سرکار میں تو ہندوتوا دہشتگردی سر چڑھ کر بولنے لگی ہے۔ جنوبی ایشیا کو کشیدگی سے پاک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے کیا جائے، ماضی میں اس کی راہ میں سوویت یونین کا ویٹو بھی حائل تھا اور امریکی عدم دلچسپی بھی مگر اب امریکہ نے اس مسئلے کے حل میں گہری دلچسپی دکھائی ہے، دورہ عمران خان کے موقع پر امریکہ نے کشمیر پہ ثالثی کا بیان دیا اور اب اس مسئلے کو نمٹانے کا عزم کا اظہار کیا ہے لیکن یہ بات عالمی حالات کے تناظر میں دیکھی جائے تو ہر ذیشعور شخص جانتا ہے کہ امریکہ نیو ورلڈ آرڈر کے قیام کے لیے سر توڑ کوشش کرتا آرہا ہے جیسا کہ اب چین امریکہ کے مقابلے میں ایک طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آرہا ہے تو دوسری طرف روس ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے ایسے میں امریکہ کو اس پورے علاقے میں ایک دوسرے اسرائیل کی بھی ضرورت ہے جو شاید ممکن نظر نہیں آتی البتہ مشکل ضرور ہے، اس ضمن میں بھارتی ڈیفینس ریسرچ ٹیم کے سربراہ کی رپورٹ میں بتایا جاچکا ہے کہ امریکہ کا آزاد خود مختار کشمیر کے قیام کا منصوبہ ہے جوکہ آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر اور جموں و لداخ کے علاقوں پہ مشتمل ہے اور آزاد خود مختار کشمیر کا آپشن "آل پارٹیز حریت کانفرنس” کے دستور میں شامل ہے مزید برآں ملک یاسین سے انڈین ٹی وی کے اینکر کا خودمختار ریاست کا سوال جس پہ ملک یاسین کا یہ کہنا کہ آپشن موجود ہے اور حریت پسند تنظیم کے سپریم کمانڈر عمر خالد کا روزنامہ جنگ میں شایع ہونے والا انٹرویو بھی موجود ہے جس میں انہوں نے واضح کہا تھا کہ کشمیر میں خودمختاری کا نظریہ فروغ پانے لگا ہے اور یہ بات سب پہ عیاں ہے کہ جنگ جیو گروپ کو بات متن سے ہٹا کر پیش کرنے میں اولیت حاصل ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ 2010 کے بعد سے بالعموم اور 2014 کے بعد سے بالخصوص کشمیری عوام میں نظریہ پاکستان کی جڑیں زیادہ گہری ہورہی ہیں اور اگر کشمیر خودمختار بھی بنتا ہے تو بھی سو فیصد پاکستان کے حق میں ہے کیونکہ کشمیری بھائیوں سے پاکستان کا رشتہ قیام پاکستان سے پہلے ہی قائم ہوگیا تھا جس کا عملی مظاہرہ 1931 سے شروع ہونے والا آزادی کا جذبہ سامنے آچکا ہے اور قیام پاکستان کے فوری بعد گلگت بلتستان بریگیڈ کے کمانڈر کا سپاہ سمیت پاکستان کے حق میں کھڑا ہوجانا بھی ریکارڈ پہ موجود ہے یہ درحقیقت خالصتاً انڈین رپورٹ تھی جوکہ مسئلہ کشمیر کے حل کو ٹالنے کے لیے ایک ہتھیار بھی تھا مقصد کشمیری اور پاکستانی عوام میں بددلی و بےچینی پیدا کرنا تھا جیسا کہ ماضی میں بھارت کامن ویلتھ ٹروپس یا امریکی ثالثی کو پاکستان کے سیٹو اور سینٹو پیکٹ کو لیکر بطور ہتھیار استعمال کرتا رہا اور Demilitarize کرنے سے بھاگتا رہا جس کے سبب استصواب رائے نہ ہوسکی لیکن اب شاید بھارتی ہتھکنڈے زیادہ نہ چل سکیں کیونکہ پوری دنیا میں مسئلہ کشمیر کے حل کو لیکر بحث جاری ہے 2014 میں برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر ڈبیٹ میں واضح طور پر کہدیا گیا تھا کہ Kashmir is not a forgotten conflict اس کے علاوہ یورپی یونین اور برطانیہ نے بھی بھارتی اٹوٹ انگ کے دعوے کی نفی کردی ہے کہ Kashmir is unresolved issue جس سے پاکستانی موقف کی جیت ہوگئی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ماضی قریب کی پاکستانی حکومتوں کا کشمیر کے مسئلے پہ عملی کام مایوس کن رہا حتیٰ کہ UNSC کی طرف سے کشمیر کو Unresolved Issue کی فہرست سے نکالنے کے لیے پاکستان سے موقف مانگنے پر حکومت وقت نے کوئی جواب ہی جمع نہیں کروایا لیکن 2014 میں قدرت نے اس وقت دوبارہ زندہ کردیا جب David Ward برطانوی پارلیمینٹیرین سمیت دیگر نے اسے Unresolved issue قرار دیا جسکی جزوی تائید یورپی یونین نے بھی کی لیکن افسوس پاکستانی حکومت اور اینکر مافیا اس وقت کہاں سوئے تھے جس پر کمنٹ کا حق قارئین خود استعمال کریں، اس کے علاوہ فروری 2019 کی پاک بھارت کشیدگی کے بعد یورپی یونین سمیت پوری دنیا نے اس مسئلے کے حل کو دنیا کے امن کے لیے ضروری قرار دیا ہے، اب امریکہ کے ساتھ ساتھ چین بھی کشمیر کے حل کے لیے سرگرم ہے جس کے بعد سے بھارت نے کشمیر میں پچاس ہزار مزید فوجی دستے بھیج دیئے ہیں اور کنٹرول لائن پر شدید دراندازی شروع کررکھی ہے مزید برآں امرناتھ یاترا پہ آنیوالوں پہ حملے کا خدشہ قرار دے رہا ہے عین ممکن ہے کہ پارلیمنٹ حملے کی طرح کوئی حملہ کرواکر دنیا میں پاکستان کے خلاف ڈھونگ رچائے دوسری طرف یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اس سال امرناتھ یاترا پہ جانے والوں کی تعداد ابتک کی تاریخ کی سب سے بڑی تعداد ہے یقینی ہے کہ ان کی آڑ میں ہزاروں ہندوتوا دہشتگرد خطے میں بھیجے گئے ہوں جن کے مذموم مقاصد مکتی باہنی طرز کے ہوسکتے ہیں جسے بھارت پروپیگنڈے کے تحت حریت پسندوں کے خلاف استعمال کرسکتا ہے لیکن انشاءاللہ اب کی بار بھارت کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

  • ماہ آزادی اور ہم ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    ماہ آزادی اور ہم ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    ہم ایک بار پھر یوم آزادی منانے جا رہے ہیں،یہ وہ دن ہے جب 1947ء میں تحریک آزادی میں شامل ہمارے قومی رہنماؤں اوراسلاف کی قربانیوں کے نتیجے میں برطانوی سامراج سے آزاد ہوکر دنیا میں کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والا دوسرا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان معرض وجود میں آیا۔ یوم آزادی ہر سال کیطرح 14اگست کو سرکاری و قومی سطح پر شایان شان طریقے سے منایا جائے گا۔مسلم لیگ نے برصغیر کو قائداعظم محمد علی جناح‘ علامہ اقبال‘ نواب بہادر یار جنگ‘ خواجہ ناظم الدین‘ شیر بنگال‘ مولوی فضل الحق اور لیاقت علی خان جیسے عظیم رہنما دئیے جن کی محنت اورجہد مسلسل کے نتیجہ میں آج ہم ایک آزاد وطن میں سکھ کا سانس لے رہے ہیں۔ آج یوم آزادی کی اہمیت‘ اسلاف کی قربانیوں اور ان کے پیغام کو بھر پور اندازمیں اجاگر کرنے اور ہرمکتبہ ہائے فکر خاص طور پر نوجوانوں تک پہنچانے کی اشد ضرورت ہے،
    ہمیں اس وطن کی ترقی و دفاع کیلئے ہر وقت کام کرنا چاہئیے، اپنے محافظوں کی عزت کریں، انکے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں، اپنے اپنے شعبہ سے انصاف کریں،
    ہم سب کو چاہئیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا بھرپور شکر ادا کریں، اور رب العزت کا شکریہ ادا کرنے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ ہم شکرانے کے نوافل ادا کریں اور اپنے سر کو اللہ کے سامنے جھکا دیں،
    ناکہ ہم اس مہینے میں اپنوں کی قربانیوں، شہادتوں کا مذاق بننے کا سبب بنیں، موٹر سائیکلوں کے سائلنسرز نکال کر منہ پر پینٹ کر کے آوارہ گردی کریں اور بلا وجہ کے تماشے کر کے اھل وطن کو تنگ کریں۔