Baaghi TV

Tag: Baaghi TV

  • مقبوضہ کشمیر میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    مقبوضہ کشمیر میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    یوں تو قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہندوستان کئی مرتبہ پاکستان سے منہ کی کھا چکا مگر پھر وہی اب کی مار کے دکھا کے مصداق پھر نئے سرے سے مار کھانے کو تیار رہتا ہے
    ان شاءاللہ ثم ان شاءاللہ کارگل اور پھر 27 فروی 2019 کے بعد اب سب سے بڑی ذلت انڈیا کی مقبوضہ وادی کشمیر میں بننے جا رہی ہے
    اس جنوری میں پلوامہ میں ہندوستانی فوج پر ہوئے حملے کے بعد 20 کمپنی فوج کا اضافہ کیا گیا حریت راہنماؤں کو جیل میں ڈالا گیا اور تقریبا ساری حریت قیادت ابھی بھی جیلوں میں قید ہے مودی سرکار نے سوچا تھا کہ اب فوج میں اضافہ کرکے حریت قیادت کو جیل میں ڈال کے وہ آزادی کی تحریک کو ڈبا لے گا مگر نتجہ میں ہندوستانی فوج میں خودکشیاں بڑھیں اور دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے مجاھدین نے بھی اپنے حملے انڈین فوج پر تیز کر دیئے نیجہ میں بھارتی فوج کا کافی جانی و مالی نقصان ہوا تو دوسری جانب برسر پیکار مسلح فریڈم فائٹرز کی شہادتوں میں بھی اضافہ ہوا اس وقت تقریبا ریاض نیکو کے علاوہ سارے ٹاپ کمانڈر شہید ہو چکے ہیں جسے شاید ہندوستانی فوج اپنی فتح سمجھ رہی ہے مگر وہ بھول گئے کہ برہان مظفر وانی بھی تو ایک غیر مسلح فریڈم فائٹر تھا اور ایک شوشل میڈیا ایکٹیویسٹ تھا پھر پھر آخر کیا ہوا کہ وہ غیر مسلح سے مسلح ہو کر ایسا لڑا کہ تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونگ گیا دنیا خاص طور پر ہندوستانی فوج برہان وانی کی دلیری کا برملا اعتراف کرچکی ہے
    اب اگر اس بنیاد پر انڈیا فوج میں اضافہ کرے کہ سارے مجاہدین شہید ہو چکے ہیں اور وہ فوجی اضافے سے غیر مسلح کشمیری عوام کے دلوں میں اپنی ڈھاک بٹھا لے گا تو یہ اس کی بھول ہے انڈیا ابتک کتنی بار فوجی اضافہ کر چکا سیاحت کے بہانے ہندءوں کو کشمیر میں بسا چکا کچھ دیگر تھوڑی بہت سہولیات کا لالچ دے کر کشمیریوں کے دل جیتنے کی کوشش کر چکا مگر ہر بار ناکام رہا کیونکہ کشمیریوں کے نزدیک آزادی کے سوا دوسرا راستہ ہے ہی نہیں لہذہ انڈیا فوجی اضافہ کرنے کی بجائے کشمیریوں کو ان کا حق حق آزادی اور کشمیر سے فوجیں نکال کر فوج پر صرف ہونے والے پیسے سے اپنی عوام کو سہولیات دے جو جو عوام خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے

  • نجی مشروب ساز کمپنی کی بوتل پینے سے 1 بچےسمیت 4افراد کی حالت غیر ہوگئی

    مظفرگڑھ میں مضرصحت مشروب پینے سے ایک بچے سمیت 4 افراد کی حالت غیر ہوگئی۔متاثرہ افراد کو تحصیل ہیڈ کوارٹرہسپتال جتوئی منتقل کردیا گیا.مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی کے علاقے بستی صادق مستوئی میں مضرصحت مشروب پینے کے بعد 4 افراد کی حالت غیر ہوگئی۔متاثرہ افراد میں ایک بچہ اور 3 خواتین شامل ہیں.ریسکیو کیمطابق اہلخانہ کے مطابق متاثرہ افراد نے بازار سے بجی مشروب ساز کمپنی ڈیو کی بوتل خرید کر پی تھی۔بوتل پینے کے بعد چاروں افراد کی حالت غیر ہوگئی.متاثرہ افراد کو طبی امداد کے لیے ٹی ایچ کیو ہسپتال جتوئی منتقل کردیا گیا.دوسری جانب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے بھی واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں.

  • عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت    واحکام ومسائل ۔۔۔ حافظ عبدالرحمٰن منہاس

    عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت واحکام ومسائل ۔۔۔ حافظ عبدالرحمٰن منہاس

    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَالْفَجْرِ وَ لَیَالٍ عَشْرٍ یعنی مجھے فجر اور دس راتوں کی قسم ہے۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ بحوالہ بخاری فرماتے ہیں: ’’اس سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں‘‘۔

    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ان دس دنوں میں اللہ تعالیٰ کو عمل صالح بہت پسند ہے‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کیا جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی زیادہ یہ دن پسند ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ہاں! یہ دن جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی بہتر ہیں سوائے اس شخص کے جو اپنے مال اور جان کو لے کر نکلے اور کسی چیز کو واپس لے کر نہ آئے‘‘ (صحیح البخاری)۔

    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ان دس دنوں سے بڑھ کر اور سب سے زیادہ محبوب اللہ تعالیٰ کو کوئی اور دن نہیں ہیں لہٰذا تم ان دنوں میں کثرت سے تسبیح، تحمید اور تہلیل کیا کرو‘‘۔ ( طبرانی)۔

    سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان ایام عشرہ میں سخت ترین محنت سے عمل صالح فرماتے تھے۔ ( دارمی)۔ امام ابن حجر رحمہ اللہ کے مطابق اس عمل صالح کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ان دنوں میں حج کا اجتماع منعقد ہوتا ہے اور حج اسلام کے اراکین میں شامل ہے۔

    مستحب اعمال

    کثرت سے نوافل ادا کرنا۔ نمازوں میں مکمل پابندی کرنا، کثرت سجود سے قربِ الٰہی کا حاصل کرنا۔ (صحیح مسلم)۔

    نفل روزے کا اہتمام کریں۔ کیونکہ اعمال صالحہ میں روزے شامل ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ذی الحجہ کی تاریخ کو روزے رکھتے تھے یوم عاشور، محرم اور ہر مہینے تین روزے رکھنا بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا معمول تھا۔ ( ابوداؤد، مسند احمد)۔
    کثرت سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنا بھی ان ایام کا ایک معروف فعل ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کے مطابق سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہم بازاروں میں جاتے تھے، خود بھی تکبیرات کہتے اور لوگ بھی تکبیریں بلند آواز سے پڑھتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے خیمے میں بلند آواز سے تکبیریں کہتے تو اہل مسجد اس کو سن کر جواباً تکبیریں کہتے تھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نمازوں کے بعد، گھر میں، آتے جاتے، پیدل چلتے ہوئے تکبیریں کہتے تھے۔ افسوس صد افسوس کہ ان ایام میں یہ عظیم سنت ختم ہو گئی ہےتکبیر ان الفاظ سے کہی جاتی تھی:

    اَﷲُ اَکْبَر اَﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَرکَبِیْرًا

    اور

    اَﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَرلَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَ اﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَر وَ ِﷲِ الْحَمْدُ

    یومِ عرفہ کا روزہ رکھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’میں اُمید کرتا ہوں کہ یومِ عرفہ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے‘‘ (صحیح مسلم) لیکن یہ روزہ حاجیوں کے لئے نہیں ہے۔

    قربانی کا دن مسلمانوں کی عظیم الشان قربانی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان کی نشاندہی کرتا ہے۔ تمام علماء کے مطابق سال کا افضل ترین دن قربانی کا دن ہے۔ سنن ابوداؤد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا اِرشاد ہے کہ ’’قربانی کا دن افضل ترین دن ہے‘‘۔

    احکام ومسائل قربانی

    قربانی کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربانی کیا کرتے تھے۔ قربانی زندہ افراد کرتے ہیں۔ اگر کوئی اپنے فوت شدگان کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ (لیکن درج ذیل شرطوں کے ساتھ):
    قربانی اصل میں زندوں کی طرف سے ہوتی ہے، ان کے ضمن میں فوت شدگان کا نام بھی لیا جا سکتا ہے۔

    فوت شدگان کی قربانی ان کی وصیت کو پورا کرتے ہوئے کی جا سکتی ہے۔

    تخصیص کرتے ہوئے صرف فوت شدہ افراد کی طرف سے قربانی کرنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی فوت شدہ صحابی یا اپنے رشتہ دار کی طرف سے قربانی نہیں کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ محترمہ اُمّ المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ، تین بیٹیاں اور سید الشہداء حمزہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں انتقال فرما گئے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی بھی ان کی طرف سے قربانی نہیں کی۔

    قربانی کرنے والا ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں تک اپنے بدن کے بال نہ کاٹے۔ اُمّ المؤمنین سیدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جب عشرئہ ذوالحجہ شروع ہو جائے اور کوئی قربانی کا ارادہ کر لے تو اس کو چاہیئے کہ وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے‘‘ (صحیح مسلم) اس عمل کی حکمت یہ ہے کہ قربانی کرنے والا حج کے اعمال میں شریک ہو جاتا ہے۔

    عیدالاضحی کے آداب

    قارئین کرام! ہم تمہیں عیدالاضحی کی مبارک باد دیتے ہیں۔ تمام قسم کی بھلائیاں اتباع سنت اور پیروئ رسول صلی اللہ علیہ و سلم میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسول نے ہمیں یومِ عید اور ایام تشریق میں چند اُمور کا حکم دیا ہے:

    بلند آواز میں تکبیریں کہنا، یوم عرفہ سے لے کر، ایام تشریق کے آخری دن عصر تک اور یاد رہے کہ آخری دن ویں ذوالحجہ کو ہوتا ہے۔ بازاروں، گھروں اور مساجد میں تکبیر کا ورد جاری رکھیں۔

    قربانی، نماز عید کے بعد کی جاتی ہے۔ پہلے کرنا منع ہے۔ ـ (صحیح مسلم)۔ قربانی کے چار دن ہوتے ہیں۔ ایک یومِ نحر اور تین ایام تشریق (بروایت سلسلہ الصحیحہ:)۔
    خوشبو لگائیں۔ غسل کریں۔ اچھے لباس پہنے لیکن اسراف اور نمود و نمائش سے پرہیز کرے۔ خواتین بھی عیدگاہ میں جا کر نمازِ عید پڑھیں۔ عید کی مبارک باد دینا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فعل سے ثابت ہے۔

    عید کے دن کھیل تماشے، محفل موسیقی، رقص و سرود شراب نوشی کی محفلیں سجاتے نہ گزاریں۔ فضول خرچی اور فخر و رِیا کرنا منع ہے۔ گوشت سارا خود نہ کھائیں بلکہ غرباء کو بھی دیں۔

    ایام ذوالحجہ کی ایک اہم عبادت حج، عمرہ اور مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات کی زیارت ہے۔ ہم حج پر تفصیل سے نہیں لکھ رہے کیونکہ حج کے ارکان اور دیگر مسائل پر آج کل بیشمار چھوٹے رسائل میں موجود ہیں۔ لوگ وہاں رجوع بھی کر سکتے ہے۔

  • اپنے ہی اغواء کا ڈرامہ رچانا نوجوان کو مہنگا پڑگیا

    مظفرگڑھ میں اغوا برائے تاوان کے مقدمہ کا ڈراپ سین ہوگیا بیٹا اپنے اغواء کا ڈرامہ کر کے باپ سے خود 7 لاکھ روپے تاوان مانگتا رہا۔پولیس نے لڑکے کو لاہور سے گرفتار کرالیا۔تفصیل کے مطابق تھانہ کوٹ ادو کے علاقہ کے رہائشی سعید احمد نے پولیس کو درخواست دی تھی کہ اس کے بیٹے شہباز کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے جس پر تھانہ کوٹ ادو پولیس نے اغوا کا مقدمہ درج کرتے ہوئے تفتیش کا آغاز کیا۔مغوی کو لاہور بادامی باغ سے برآمدکر لیاگیا۔ تاہم ابتدائی تحقیقات میں مغوی شہباز نے بیان دیا کہ اس نے اپنےوالدین کو پریشان کرنےکے لئے اپنے ہی اغوا کا ڈرامہ رچایا اوروالد سے 7 لاکھ مانگے۔

  • کشمیر پر بھارتی تسلط اور 35-A کا قانون ۔۔۔محمد عبداللہ گل

    کشمیر پر بھارتی تسلط اور 35-A کا قانون ۔۔۔محمد عبداللہ گل

    کشمیر پر انڈیا کا غاصبانہ اور جابرانہ قبضہ ہے۔قبضے سے قبل کی تاریخ کا مطالعہ کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر پر ڈوگرا راج تھا۔انڈیا کے آئین میں جموں کشمیر کی خصوصی شہریت کے حق سے متعلق دفع 35-A کا مسئلہ کشمیر سے بھی پرانا ہے۔ اس قانون کی رُو سے جموں کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیرمنقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا، یہاں نوکری حاصل نہیں کرسکتا اور نہ کشمیر میں آزادانہ طور سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔یہ قوانین ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے سنہ 1927 سے 1932 کے درمیان مرتب کیے تھے اور ان ہی قوانین کو سنہ 1954 میں ایک صدارتی حکمنامہ کے ذریعہ آئین ہند میں شامل کرلیا گیا۔انڈیا کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) گذشتہ 70 سال سے کشمیر سے متعلق انڈین آئین میں موجود اُن تمام حفاظتی دیواروں کو گرانا چاہتی ہے جو جموں کشمیرکو دیگر بھارتی ریاستوں سے منفرد بناتی ہیں۔ مثال کے طور پرجموں کشمیر کا اپنا آئین ہے اور ہندوستانی آئین کی کوئی شق یہاں نافذ کرنی ہو تو پہلے مقامی اسمبلی اپنے آئین میں ترمیم کرتی ہے اور اس کے لیے اسمبلی میں اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے۔آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے کے لیے بھارتی کوششیں آخر کیوں؟؟ اس سوال کا جواب یہ ھے کہ جس طرح فلسطین یروشلم پر اسرائیل نے قبضہ کیا تو کچھ سال بعد اس کی قانونی حثیت ختم کی اور ادھر اپنا سفارت خانہ قائم کر لیا۔اسی طرح بھارت بھی کشمیر کی قانونی حثیت ختم کرنا چاہتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ قانون ختم ہو جاتا ہے تو بھارت ایک حربہ استعمال کرے گا وہ یہ کہ کشمیر میں کثیر تعداد میں ہندو متین کر دے گا اور جیسا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں کشمیر میں استصواب رائے کا ہے تو یہاں کشمیری عوام اکثریت میں پاکستان سے الحاق چاہتی ہے تو جب وہ اپنے نمائندے متین کرے گا وہ بھی کثیر تعداد میں تو استصواب رائے کا فیصلہ بھارت کے حق میں ہو جائے گا۔میں حیران ہوں جب میں نے تحریر کے لیے ریسرچ کی تو سامنے آیا کہ آرٹیکل 35 اے کو بنانے کے پیچھے جو نظریہ تھا وہ یہ تھا کہ کشمیر کا تعلق لاہور، سیالکوٹ ،گوجرانوالہ سے بھرپور تھا جب ہندو پنڈتوں نے دیکھا کہ مسلمان ادھر کشمیر میں دوسرے علاقوں سے آنا شروع ہو گئے ہیں تو ان کو خطرہ لاحق ہوا کہ ہم تو صرف 2 سے 3 فیصد ہے اگر باہر سے بھی مسلمان آنا شروع ہو گے تو ہمارا اقتدار، ہمارا ہٹ دھرمی والا قبضہ ختم نہ ہوجائے اب 2019 کو دیکھ کے بے جے پی کا نریندر مودی جس کو بھی یہ ہی خطرہ لاحق ہو گیا ہے کہ جس طرح اب بین الاقوامی سطح پر مسلہ کشمیر اجاگر ہو چکا ہے۔اگر کشمیر میں استصواب رائے شروع ہو گئی تو میرا تو کام خراب ہو جائے گا میرے ہاتھوں سے تو کشمیر پھسل کر پاکستان سے مل جائے گا ۔اسے بھی پتہ ہے کی کشمیر کو بالآخر آزادئ ملنی ہی ملنی ہے میرا یہ ہٹ دھرمی والا قبضہ ختم ہونا ہے ۔اس لیے ہاتھ پاوں مار رہا ہے۔اس کے بعد اگر دیکھے تو بھارت نے 10 ہزار مزید فوج وادی کشمیر میں بھیج دی ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اب تک تقریبا 10 لاکھ کے قریب بھارت کی فوج ایک چھوٹے سے خطے میں موجود ہے۔کیا یہ اقوام متحدہ کو نظر نہی آ رہا۔غیر مسلم ممالک کا کوئی کتا بھی مر جائے تو قوانین آ جاتے ہیں ادھر ہمارے کشمیری مظلوم اور غیور مسلمانوں پر انڈین مظالم کی انتہا ہے۔اب تک سینکڑوں نہی ہزاروں نہی لاکھوں کو انڈین آرمی اپنے ظلم و ستم کا شکار کر چکی ہے۔میرا سوال ہے کدھر اقوام متحدہ ہے ،کیا سلامتی کونسل سو گئی ،کہاں گئے انسانی حقوق، کہاں گئی بین الاقوامی وہ تنظیمیں اور ادارے جو آزادی پسند ہے۔اقوام متحدہ کا رویہ نا قابل برداشت ہے۔وہ کشمیری عوام پاکستان کو پکار رہی ہے ۔پاکستان کو چاہیے یہ مسلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کریں

  • مظفرگڑھ میں محکمہ صحت کےمرکزی دفتر میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگ گئی

    مظفرگڑھ میں محکمہ صحت کے مرکزی دفتر میں شارٹ سرکٹ کے سبب آگ بھڑک اٹھی،ریسکیو1122نے فوری طور پر آگ پر قابو پالیا۔مظفرگڑھ میں چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے دفتر کی گیلری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔آگ لگنے کے باعث پیدا ہونے والے کالے دھوئیں سےدفتر میں افراتفری پھیل گئی.دفتر کے ملازمین خوف کے مارے دفتر سے باہر نکل آئے.ریسکیو کیمطابق اطلاع ملنے پر فائر ٹینڈر کے ذریعے بروقت آگ پر قابو پالیا گیا،جس کے بعد کولنگ کا عمل جاری ہے.آگ لگنے کے باعث دفتر میں پڑا فرنیچر جل گیا.ریسکیو کیمطابق آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی.

  • دریائے سندھ اور دریائےچناب نے مظفرگڑھ کی چاروں تحصیلوں میں تباہی مچادی

    مظفرگڑھ کی چاروں تحصیلوں میں دریائے سندھ اور دریائے چناب کے کٹاؤ نے تباہی مچادی،مسلسل کئی سال سے ہونے والے کٹاؤ کی وجہ سے ابتک ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی اور ان پر کھڑی فصلیں،باغات اور مکانات دریا برد ہوچکے ہیں.دریائے سندھ میں پانی بڑھتے ہی تحصیل مظفرگڑھ کے علاقوں بیٹ دریائی،کلیم چوک میں دریائے سندھ کے کٹاؤ میں شدت آگئی ہے جبکہ موضع جڑھ،چک مٹھن اور ملحقہ بستیوں میں دریائے چناب کے کٹاؤ کے باعث ابتک سینکڑوں ایکڑ زرعی زمین اور اس پر کھڑی فصلیں دریا برد ہوچکی ہیں.تحصیل کوٹ ادو میں احسانپور،بیٹ خادم والی سمیت مختلف بستیوں میں 2010ء کے سیلاب کے بعد سے دریائے سندھ کے کٹاؤ میں تیزی آئی ہےکٹاؤ کے باعث ابتک تحصیل کوٹ ادو میں بھی کئی بستیاں دریا برد ہوچکی ہیں.تحصیل جتوئی میں لنڈی پتافی،موضع رام پور اول،دوئم اور سوم سمیت ملحقہ بستیوں کی سینکڑوں ایکڑ اراضی ابتک دریائے سندھ کی نذر ہوگئی ہے،،جبکہ تحصیل علی پور میں سیت پور،بستی سانگھی سمیت مختلف قریبی بستیوں کی بھی ابتک کئی ایکڑ اراضی دریائے سندھ کی نذر ہوگئی ہے.کٹاؤ سے متاثرہ افراد کیمطابق دریائی کٹاؤ کے باعث ان کے باغات،مکانات،کپاس،چاول اور دیگر فصلیں بھی برباد ہوچکی ہیں.فصلیں،باغات اور مکانات تباہ ہونے سے متاثرہ افراد کو کروڑوں روپے کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا.دوسری جانب محکمہ انہار کے مطابق ضلع بھر میں سپر بندوں اور مختلف ذرائع سے دریائی کٹاؤ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں.محکمہ انہار کا کہنا ہے کہ دریاؤں کے اپنے روایتی راستوں سے ہٹ کر بہنے کے باعث دریائی کٹاؤ میں تیزی آتی ہے.

  • مظفر گڑھ کے مشہور ومقبول کو این جی او کے حوالے کرنے پر طلباء سراپا احتجاج بن گئے

    مظفرگڑھ میں سردار کوڑے خان سکول کی این جی اوکو حوالگی کے خلاف طلباءسراپا احتجاج بن گئے۔طلباء نےڈی سی آفس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے ڈی سی مظفرگڑھ کیخلاف شدیدنعرے بازی کی۔
    مظفرگڑھ کے سردار کوڑے خان ہائر سکینڈری سکول کوکیئر فاونڈیشن نامی این جی او کے حوالے کرنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے طلباء کا کہنا تھا کہ این جی او کے حوالے کرکے مظفرگڑھ کے اس مشہور سکول کو تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے سکول کو پرائیویٹ آرگنائزیشن کے حوالے کرکے طلباء کے مستقبل سے کھیلا جارہا ہے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ سردار کوڑے خان سکول نے دہم امتحان میں پنجاب بھر میں نمایاں پوزیشن حاصل کی اس کے باوجود سکول کو این جی او کے زیر سیاہ دینا سازش ہے۔مظاہرین کے مطابق سردار کوڑے خان سکول کی این جی او کو حوالگی سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے اس کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کریں گے۔

  • مظفرگڑھ میں دریائے سندھ نے تباہی مچادی، کئی مقامات پر نہروں میں بھی شگاف پڑگئے

    مسلسل بارش اور پانی کے دباو کے باعث میان مختلف مقامات دریائی بند اور نہروں میں شگاف پڑ گئے سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ گھر زیر آب آگئے۔مظفرگڑھ میں ٹو ایل غازی نہر میں ایک مرتبہ پھر 60 فٹ سے زائد چوڑا شگاف پڑگیا،شگاف پڑنے سے درجنوں ایکڑ قریبی زرعی اراضی اور ان پر موجود فصلیں زیرآب آگئیں.پانی چوری کی وارداتوں کے باعث 7 جون کو بھی اسی مقام پر نہر شگاف پڑا تھا۔دوسری جانب احسان پوربیٹ خادم۔والی کے مقام پر دریائے سندھ نے تباہی مچادی دریائی کٹاو کے باعث سینکڑوں ایکڑپر موجود فصلیں اور گھر دریا برد ہوچکے ہیں .مظفرگڑھ کے علاقے سلطان کالونی کے قریب ٹو ایل غازی نہر میں شگاف پڑگیا،اہل علاقہ کیمطابق نہر میں پڑنے والا شگاف 60 فٹ سے بھی زائد چوڑا ہے،شگاف پڑنے کے باعث درجنوں ایکڑ قریبی زرعی اراضی اور اس پر کھڑی مختلف فصلیں زیر آب آگئیں.اس سے قبل بھی 7 جون کو ٹو ایل غازی نہر میں اسی مقام پر شگاف پڑگیا تھا،مقامی افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ بااثر افراد کی جانب سے محکمہ انہار کے عملے کی ملی بھگت سے نہری پانی چوری کیاجاتا ہے،،جس کے باعث نہر کے کنارے کمزور ہوئے اور نہر میں بار بار شگاف پڑ رہا ہے،اہل علاقہ نے محکمہ انہار عملے کیخلاف احتجاج بھی کیا ہے.دوسری جانب محکمہ انہار کے مطابق شگاف پر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں.احسان پوربیٹ خادم والی کے مقام پر دریائے سندھ کے پانی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔اہل علاقہ کے مطابق دریائی کٹاو کے نتیجہ میں 2010 سے لیکر ابتک ان کی 25سے زائد بستیاں دریا برد ہوچکی ہیں اگر دریا کی ان طاقتور موجوں کو نہ روکا گیا تو اس علاقہ کی بستی چانڈیہ،گرمانی،میرانی،خوشحالی،گاڈی اور مشوری بھی دریا کی نذر ہوجائیں گی۔علاقہ مکینوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دریائے سندھ کی بے رحم موجوں کو روکنے کے لئے بند بنائیں تاکہ ان کی قیمتی زمینیں اور املاک بچ سکیں۔