ایشز سیریز کے چوتھے ٹیسٹ میں انگلینڈ ٹیم شدید مشکلات میں پھنس گئی، چوتھے ٹیسٹ میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 497 رنز بنائے جس میں اسٹیو اسمتھ کی شاندار ڈبل سینچری شامل تھی ،کھیل کے تیسرے روز انگلینڈ نے اپنی اننگز کا آغاز 23 رنز پر ایک وکٹ کے نقصان سے کیا، 25 رنز کے مجموعے پر کریگ اورٹن بھی پویلین لوٹ گئے اس کے انگلش کپتان جوئے روٹ نے اوپنر روری برنز کےساتھ شاندار 141 رنز کی شراکت داری قائم کی ،166 رنز کے مجموعے پر روری برنز ہیزل ووڈ کا شکار ہوئے اور پویلین واپس لوٹ گئے اس کے بعد کپتان روٹ پر بھاری زمہ داری آ پڑی لیکن وہ ہیزل ووڈ کے اٹیک کا شکار ہو ہی گئے اور انہوں نے 71 رنز بنائے اس کے بعد جیسن روئے 22 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے، اور خراب روشنی کے باعث کھیل مقررہ اوورز سے پہلے ہی حتم کر دیا گیا،
Tag: Baaghi TV

بھارتی اداکارہ پاکستان میں پرفارم کرنے کو بے قرار
متنازع رئیلٹی شو بگ باس کے حالیہ سیزن کو جیتنے والی بھارتی اداکارہ شلپا شندے نے کہا ہے کہ اگر بھارتی حکومت مجھے پاکستان جانے کاویزہ دیتی ہے تو میں ضرور جاؤں گی اور پرفارم کروں گی،
شلپا شندے نے بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے انہیں پاکستان جا کر کام کرنے سے کوئی پرابلم نہیں ہے ، فنکار کسی سرحد کا قید نہیں ہوتا ، فنکاروں پر پرفارمنس کی وجہ سے پابندیاں لگانے والی تنظیموں اور لوگوں کو شرم آنی چاہیے کہ انہوں نے فنکاروں کا روزگار کم کیا
ًّمعروف کامیڈین امان اللہ خان کو دل کا دورہ
باغی ٹی وی کے زرائع کے مطابق معروف کامیڈین امان اللہ خان کو دل کا دورہ پڑا ہے اور انہیں ڈاکٹر ہسپتال لاہور کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں منتقل کردیا گیا ہے، امان اللہ خان کے خاندانی زرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز نے علاج شروع کردیا ہے لیکن پرستاروں سے دعاؤں کی اپیل ہے یادرہے امان اللہ خان عارضہ سانس میں کافی عرصے سے مبتلا ہیں اور وہ ان دنوں شدید تکلیف کا شکار تھے کہ انہیں دل کا دورہ پڑا

بھارتی میڈیا آر ایس ایس کی پروپیگنڈہ مشین— انشال راؤ
صدیاں بیت جانے کے باوجود پروپیگنڈہ ایسا کارگر اور مہلک ہتھیار ہے، زمانہ قدیم میں پروپیگنڈے کے لیے ٹیمیں تشکیل دیکر مختلف علاقوں میں بھیج دی جاتی تھیں جو زبانی کلامی یہ کام سرانجام دیتے تھے جسکے نتائج بہت عرصے میں حاصل ہوتے تھے مگر آج مواصلاتی ترقی کے دور میں میڈیا اور انٹرنیٹ نے پروپیگنڈے کو پہلے سے زیادہ موثر اور خطرناک حد تک قوت بخش دی ہے، بھارت پاکستان کے خلاف عرصہ دراز سے مسلسل پروپیگنڈہ کرتا آرہا ہے، بھارتی پروپیگنڈے کے باعث پاکستان ناقابل تلافی نقصان برداشت کرتا آرہا ہے، FATF کے ذیلی گروپ APG کی میٹنگ کے بعد روایتی ہتھیار کا استعمال کرتے ہوے بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کردیا،
RSS کی پروپیگنڈہ مشین کا درجہ پانے والے بھارتی میڈیا و زبردستی کے صحافیوں کی جانب سے بےبنیاد دعوے کیے جاتے رہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرلیا گیا اور نریندر مودی کو اس کا کریڈٹ دیکر ہیرو بناکر پیش کیا جاتا رہا، حکومت پاکستان اور پاکستانی میڈیا نے بھارتی پروپیگنڈے کو جھوٹا اور بےبنیاد ثابت کرکے ساری دنیا میں ایک بار پھر بھارتی میڈیا کو بےنقاب کردیا، جھوٹ و سنسنی پھیلانے میں بھارتی میڈیا کا کوئی ثانی نہیں حتیٰ کہ اب بھارتی عوام بھی انڈین میڈیا کے دوہرے معیار اور غیرذمہ دارانہ پن کی وجہ سے بیزاری و عدم یقینی کا اظہار کرتی نظر آتی ہے، سینٹر فار ریلیجیس فریڈم امریکہ کے سینئر فیلُو پال مارشل کے مطابق "BJP جب پہلی بار 1998 میں اقتدار میں آئی تو انڈین اطلاعات و نشریات کے محکمے میں اہم عہدوں پر RSS و ویشنو ہندو پریشد کے کارکنوں کو بڑی تعداد میں بھرتی کیا” جسکے باعث بھارتی میڈیا براہ راست سٙنگھ خاندان یعنی ہندوتوا آرگنائزیشنز کے زیر اثر آگیا اور BJP و RSS میڈیا کو بطور پروپیگنڈہ مشین کے استعمال کرنے لگی،
معروف بھارتی انویسٹیگیٹو جرنلسٹ پیوش کی ٹیم نے اسٹنگ آپریشن میں بھارتی میڈیا کی کریڈیبلٹی کو بے نقاب کرکے رکھدیا جسکے مطابق بھارتی میڈیا پیسے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں، ایک اور آپریشن میں کوبرا پوسٹ نے یہ ثابت کیا کہ 90 فیصد بھارتی میڈیا اس وقت BJP کی پروپیگنڈہ مشین ہے یہی وجہ ہے کہ معروف بھارتی اداکارہ و ڈائریکٹر نندیتا داس نے بھارتی میڈیا کو BJP کی پروپیگنڈہ مشین قرار دیا، درحقیقت نام نہاد بھارتی میڈیا اب صحافت کے نام پر بدنما داغ بن کر رہ گیا ہے اور عالمی سطح پر اپنی ساخ کھوچکا ہے جس کا اندازہ اس جھوٹے دعوے سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں ایک جھوٹے سرجیکل اسٹرائیک میں 350 افراد کے جانبحق ہونے کی خبر چلا کر نریندر مودی کو ہیرو بناکر پیش کرتا رہا مزیدیکہ جنگ کے لیے سنسنی پیدا کرتا رہاجس پر عالمی شہرت یافتہ امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ "Many reports run by Indian Media were contradictory, biased, uncendiary & uncorreborated” صرف اتنا ہی نہیں بھارتی میڈیا کے جنگی جنون و پروپیگنڈہ کو دیکھ کر Foriegn Policy جریدے نے لکھا کہ "If India & Pakistan ever resolve their conflict, it won’t be thanks to indian media” اسکے علاوہ pseudo media کے پروپیگنڈے اور جنگی جنون سے بیزار آکر انڈین سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ و دانشور بھارتی نام نہاد جرنلسٹوں و اینکرز کو Humiliated Military, extremist leaders, leashed media جیسے القابات سے نوازتے ہیں اس سے بڑھ کر RSS کی پروپیگنڈہ مشین کی ڈھٹائی کیا ہوگی کہ ساری دنیا ایک طرف اور بھارتی میڈیا ایک طرف ہے کشمیر میں بھارتی حکومت و فوج کی جارحیت اور بنیادی حقوق کی پامالی کو احسن اقدام قرار دیتے نہیں تھکتے،
یہ درحقیقت صحافی نہیں بلکہ اب ہندوتوا بریگیڈ کے پیڈ ورکرز ہیں جو پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے مگر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ سب کچھ جانتے ہوے بھی پاکستان نے اس کے زور کو توڑنے و جوابی حکمت عملی کے لیے کوئی سنجیدہ حکمت عملی نہیں بنارکھی، جب کبھی بھارت کی طرف سے بےبنیاد منظم پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے تو پاکستان صرف صفائیاں دینے تک ہی محدود رہتا ہے ایسا ہی کچھ کل کے FATF میں بلیک لسٹ ہونے کے پروپیگنڈے میں دیکھا گیا جبکہ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر ہونا چاہئے،
کشمیر ہی کو لے لیں کارگل جنگ سے پہلے کنٹرول لائن ایک عارضی بارڈر ہی ہوا کرتا تھا مگر بھارتی پروپیگنڈے کا موثر جواب نہ دیے جانے کے باعث پاکستان آرمی کو راگ آرمی کہا گیا جوکہ حقیقتاً ہماری حکومتی و قومی کمزوری تھی اس کے علاوہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ظلم و بربریت کو چھپانے کے لیے پاکستان پر عسکریت پسندوں کی مدد کا الزام لگاکر دبانے کی کوشش کرتا آرہا ہے جوکہ محض پروپیگنڈہ ہے جبکہ ہمارے خودساختہ دانشور اور موم بتی مافیا کا یہ حال ہے کہ وہ بھی اس دوڑ میں شامل ہوکر بھارتی میڈیا کا حصہ بن جاتے ہیں، اس صورتحال کے پیش نظر اب حکومت کو اس طرف بھرپور توجہ دینی ہوگی خصوصی طور پر انگلش میڈیا کے ساتھ ساتھ عربی، ہسپانوی و دیگر اہم زبان میں میڈیا کو ترجیحی بنیادوں پر میدان میں لانا ہوگا تاکہ دیگر اقوام ہمارے موقف سے بخوبی آگاہ ہوسکیں۔
تحریر از انشال راؤ


مسئلہ کشمیر اور امت مسلمہ —بقلم فردوس جمال
دو دن قبل امارتی وزیر خارجہ دوڑے دوڑے پاکستان آئے تو ہم سمجھے تھے کہ شاید کشمیر کا غم انہیں لے آیا ہے چلیں دیر آید درست آید لیکن سفارتی ذرائع نے ہماری خوش فہمی دور کر دی کہ وہ موصوف تو اپنی حکومت کا پیغام لائے تھے”پاکستان کشمیر کو امت مسلمہ کا مسئلہ نہ بنائے”
یادش بخیر 5 اگست کو جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا شرمناک فیصلہ سنایا تب دہلی میں کھڑے ہوکر امارتی سفیر نے کہا تھا کہ یہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے،آرٹیکل 370 ختم کرنے سے کشمیر میں بہتری آئے گی،دہلی میں متعین امارتی سفیر ڈاکٹر احمد نے کھل کر مودی حکومت کے فیصلے کی حمایت کیا تھا حالانکہ یہ وہ وقت تھا جب بھارت کی صف میں کھڑے ممالک کا رد عمل بھی انتہائی محتاط تھا.جب کہ اس سے قبل او آئی سی کے اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھی امارات نے ہی بلایا تھا،امارات کا جھکاؤ ہندوستان کی طرف کیوں ہے اس حوالے سے میری ایک مستقل پوسٹ موجود ہے میرے پیج پر آپ جا کر آرام سے پڑھ سکتے ہیں.
سر دست اس پوسٹ میں ایک اور پہلو پہ بات کرنی ہے وہ یہ کہ امارات کے اس افسوس ناک رویے کے بعد ہمارے کچھ جذباتی لوگ دلبرداشتہ ہو کر یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہمیں سوکولڈ امت کے تصور سے اب باہر آنا چاہئے،ہمیں مسلم ورلڈ کے بخار و خمار کو اتار پھینکنا چاہئے،کشمیر ہمارا مسئلہ ہے ہمیں اس مسئلے کو لیکر عیاش شیخوں کے در پر جا کر مزید ذلیل نہیں ہونا چاہئے.وغیرہ وغیرہ ‘
سوال یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر صرف پاکستان ہندوستان کا علاقائی مسئلہ ہے یا پھر ڈیڑھ ارب مسلمانوں، 60 سے زائد اسلامی ملکوں کا بھی اس مسئلے سے کچھ لینا دینا ہے؟ اگر دینی تاریخی اور اخلاقی اعتبار سے دیکھا جائے تو کشمیر امت کا مسئلہ ہے حاضر تاریخ میں اگر کشمیر امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں ہے تو پھر سمجھیں کہ کوئی دوسرا مسئلہ بھی امت کا نہیں ہے،پاکستان جس کلمہ طیبہ کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا کشمیری بھی اسی نسبت سے پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں چنانچہ اس نعرے پر وہ ایک لاکھ شہداء پیش کر چکے ہیں کہ پاکستان سے رشتہ کیا
لا الہ الا اللہ
اگر کشمیر امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں تو او آئی سی کا وجود بے معنی،اگر کشمیر امت کا مسئلہ نہیں تو کشمیر پر او آئی سی کے اب تک کے درجنوں اجلاس چہ معنی دارد؟ اگر کشمیر امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں تو ستر اسی اور نوے کی دہائی میں خانہ کعبہ میں کشمیر کے لئے دعاؤں کا کیا مقصد؟ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر دونوں امت کے لئے ایک طرح کے مسئلے ہیں،کشمیر میں بھی فلسطین ماڈل پر کام ہو رہا ہے،دونوں کے قاتل ہاتھ ملا چکے ہیں،دونوں جگہ مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے.عرب دنیا کے حکمران اپنی عاقبت نا اندیشی میں کچھ بھی کہیں لیکن عرب دنیا کی یونیورسٹیوں میں "حاضر العالم الإسلامي و قضاياه المعاصرة” میں اب بھی مسئلہ کشمیر پڑھایا جاتا ہے،حکومتیں،بادشاہتیں اور اقتدار سدا نہیں رہیں گے لیکن جن دلوں میں ایمان کی شمعیں روشن ہیں وہ بھلا کشمیر میں جاری مظالم پر کرب کیسے محسوس نہیں کریں گے،وہ کیسے نہیں تڑپیں گے؟کشمیر امت کا مسئلہ تھا اور ہے،کسی حکمران حکومت اور بادشاہ کو اختیار نہیں کہ اقتدار کے نشے میں مست ہو کر اس مسئلے کو نقصان پہنچائے اور تاریخ میں اپنا نام سیاہ حروف میں لکھوائے،اللہ کی عدالت میں اور امت کے کل کی عدالت میں وہ مجرم بن کر کٹہرے میں ہوگا. ہمارے ہی عہد حاضر میں مغربی عیسائی ممالک نے دباؤ اور اثر و رسوخ استعمال کرکے جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور آزاد کروا کر عیسائی ریاستیں بنوائی بعینہ مسلم ممالک کو کشمیر کے لئے آگے آنا ہوگا.
پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق بہت جلد کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر او آئی سی کا اجلاس طلب کیا جائے گا دیکھنا یہ ہے کہ اس اجلاس میں کون سا اسلامی ملک مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہو کر سرخرو ہوتا ہے اور کون سے ملک کے حکمران قاتل مودی کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنے زوال اور دنیا و آخرت کی رسوائی خریدتے ہیں. ہاں ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم قنوطیت اور مایوسی سے نکل کر رب تعالی کی اس کائنات میں اپنی مسئولیت اور ذمہ داری سے عہدہ براں ہوں،ہم باد نیسم کے جھونکے کی طرح خوشبو کا امید کا اور فتح کا پیغام دیتے جائیں.
کتابِ مِلّتِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
ربود آں تُرکِ شیرازی دلِ تبریز و کابل را
صبا کرتی ہے بُوئے گُل سے اپنا ہمسفر پیدا
اگر "کشمیریوں” پر کوہِ غم ٹُوٹا تو کیا غم ہے
کہ خُونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداتحریر از فردوس جمال

ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نےمظفرگڑھ میں مضرصحت دودھ پینےسے 2بچوں کی ہلاکت کانوٹس لے لیا
مظفرگڑھ میں مضر صحت دودھ پینے سے دو بچوں کی ہلاکت کا معاملہ،ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی کیپٹن (ر) محمد عثمان نے واقعہ کا نوٹس لےلیا۔ابتدائی تحقیقات کیلئے فوڈ سیفٹی ٹیموں کو ہسپتال پہنچنے کےاحکامات جاری کردیئے۔ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نےٹیم کو واقعہ سےمتعلق ابتدائی رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایت دی۔ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق واقعہ کی تہہ تک پہنچنے کے لئےہسپتال میں ڈاکٹرز ،مریضوں اور اہلخانہ سے مکمل معلومات حاصل کرکے اصل حقائق کا تعین کیا جائے گا اورمتعلقہ دکان سے دودھ کے نمونے لے کر لیبارٹری بھجوائے جائیں گے۔ابتدائی تحقیقات کے بعد حقائق کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مضرصحت دودھ پینے سے 2 ننھے پھول مرجھاگئے،4کی حالت تشویشناک
مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں بازار سے خریدا گیا مبینہ مضرصحت دودھ پینے کے بعد 2 بچے جاں بحق ہوگئے،4 بچوں کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا.مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے علاقے موضع گھلواں میں مبینہ طور پر مضرصحت دودھ پینے سے 2 بچے جاں بحق ہوگئے.پولیس ذرائع کیمطابق دودھ پینے کے بعد 4 بچوں کی حالت غیر بھی ہوئی۔متاثرہ بچوں کو تشویشناک حالت میں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال علی پور منتقل کیا گیا.پولیس ذرائع کیمطابق جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 3 اور 5 سال کے درمیان ہیں.بچوں کے اہلخانہ کیمطابق بچوں نے گزشتہ شام چاول کھائے تھے،چاول کھانے کے بعد بچوں نے مبینہ طور پر بازار سے خریدا جانے والا مضرصحت دودھ پیاتھا۔اہلخانہ کیمطابق دودھ پینے کے بعد تمام بچوں کی حالت غیر ہوگئی.دوسری جانب پولیس کیمطابق واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں.

مظفرگڑھ میں پولیس نے قتل کے ملزم کو 8 سال بعد گرفتار کرلیا
مظفرگڑھ کے تھانہ خانگڑھ کی حدود میں8سال قبل مخالفین سےخوفزدہ ہوکر اپنی جان بچانے کے لئے جان بوجھ کر جرم کرکے جیل جانے والے قیدی کو مخالفین نے ضمانت پر رہائی دلوا کر قتل کر دیاتھا۔ قاتل 8 سال بعد بلآخر تھانہ شہر سلطان پولیس نے گرفتار کر لیا۔تفصیل کے مطابق مظفرگڑھ کےتھانہ شہر سلطان کے علاقہ بلو سندیلہ کے رہائشی شخص محمد نعیم پر ملزمان کو شک تھا کہ وہ ان کی عزیزہ خاتون کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھتاہے جسکی بنا پر ملزمان نے محمد نعیم کوقتل کی دھمکیاں دیں ۔دھمکیوں سے خوفزدہ ہو کر مقتول نے جان بوجھ کر اپنے اوپر چیک ڈس آنر کا پرچہ کروایا اورجیل چلا گیا تاکہ ملزمان اس کو قتل نہ کر سکیں۔ تاہم ڈرامائی طور پر ملزمان نے خود ضمانتی ڈھونڈ کر عدالت میں مقتول کی ضمانت کی درخواست دائر کردی اور کیس لڑنے کے بعد اپنے دشمن کی خود ہی ضمانت کرا لی۔ بعدازاں رہائی ملتے ہی مقتول کو تھانہ خانگڑھ کے علاقے میں لے جا کر قتل کردیا۔ قتل کی اس واردات کے باقی تمام ملزمان پہلے سے ہی گرفتار ہو چکے تھے۔ تاہم ملزم علمدار 8 سال سے فرار تھابالاخر تھانہ شہر سلطان کے رہائشی ہونے پر ایس ایچ او تھانہ شہر سلطان فرحان کریم نے اپنی ٹیم کے ہمراہ جدید ذرائع استعمال کرتے ہوئے ملزم کو ٹریس کر لیا۔
زمین تنازعہ پر تصادم! پولیس کے شیر جوان تصادم رکوانے کی بجائے چھپ گئے
مظفرگڑھ کے علاقہ بیٹ میر ہزار میں دو گروپوں کے درمیان تصادم کے دوران اینٹوں اور پتھروں کا آزادانہ استعمال ،تصادم کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے شیر جوان جائے وقوعہ پر تو پہنچنے لیکن تصادم رکوانے کی ہمت نہ کرسکے اوردیواروں کے پیچھے چھپ کر تماشہ دیکھتے رہے۔مظفرگڑھ کے تھانہ بیٹ میر ہزار خان پولیس کے جوانوں کا تصادم ختم کرانے کی بجائے تماشہ دیکھنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔بیٹ میرہزارخان اڈا چوک کے نزدیک ماسٹر بلال بھٹی اور مخالف پارٹی میں کھالے کی تعمیر کا تنازعہ تھا جس پر دونوں پارٹی کے درمیان تصادم ہوا ۔تصادم کے دوران دونوں اطراف سے اینٹوں کے آزادانہ استعمال کے باعث چار افراد زخمی ہوگئے۔
مخالفین کی فائرنگ سے تحریک انصاف کے رہنما زخمی!
مظفرگڑھ میں زمین کے تنازع پر مخالفین کی فائرنگ سے پی ٹی آئی کے مقامی رہنما زخمی ہوگئے۔واقعے کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے.مظفرگڑھ کے علاقے موضع بیٹ رائعلی میں فائرنگ کے نتیجہ میں پی ٹی آئی کے مقامی رہنماء خضرحیات مکول شدید زخمی ہوگئے.پولیس کیمطابق خضرحیات مکول کو زمین کے تنازع پر 4 افراد نے مبینہ طور پر فائرنگ کرکے زخمی کیا.زخمی ہونے والے مقامی رہنما کو ڈی ایچ کیو ہسپتال مظفرگڑھ منتقل کردیا گیا.پولیس کیمطابق فائرنگ کے واقعے کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکہ واقعے کا مقدمہ تھانہ شاہجمال میں درج کیا جارہا ہے.







