Baaghi TV

Tag: Baaghi TV

  • محکمہ اینٹی کرپشن نے محکمہ انہار مظفرگڑھ میں کروڑوں کی کرپشن پکڑلی!

    مظفرگڑھ میں محکمہ انہار میں 8 کروڑ روپے کی کرپشن پر سابق ایکسیئن محکمہ انہار مظفرگڑھ چوہدری زاہد،ایس ڈی او،سب انجینئر اور ٹھیکیداروں کیخلاف تھانہ اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج کرلیا گیا.مظفرگڑھ کے تھانہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں درج کیے گئے مقدمے کیمطابق 2015ء میں سیلاب کے دوران فلڈ بندوں کی مرمت کے مختلف منصوبوں کے ٹھیکےمن پسند ٹھیکیداروں کو دیئے گئے.اینٹی کرپشن ذرائع کیمطابق فلڈ بندوں کی مرمت کے منصوبوں کی صرف 20 فیصد تکمیل پر ہی کروڑوں روپے کی مکمل ادائیگیاں کردی گئیں.سیزنل ڈیلی ویجز ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں بھی مبینہ طور پر کروڑوں روپے خوردبرد کیا گیا.اینٹی کرپشن ذرائع کیمطابق مقدمہ میں سابق ایکسیئن انہار کے علاؤہ ایس ڈی او،سب انجینئر اور منصوبوں کے ٹھیکیدار بھی نامزد کیے گئے ہیں.سرکل آفیسر اینٹی کرپشن وسیم اکبر لغاری کیمطابق مقدمے کے اندراج کے بعد منصوبوں میں کرپشن کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں.

  • مظفرگڑھ بھی "کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعروں سے گونج اٹھا!

    مظفرگڑھ بھی "کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعروں سے گونج اٹھا!

    مظفرگڑھ میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ہزاروں افراد کی جانب سے ریلی نکالی گئی۔اس موقع پر سائرن بھی بجایا گیا اور شہریوں نے کھڑے ہوکر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا.مظفرگڑھ میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ ڈاکٹر احتشام انور اور ڈی پی او صادق علی ڈوگر کی قیادت میں ہزاروں افراد نے ریلی نکالی۔ریلی میں طلباء،سرکاری اداروں کے ملازمین،وکلاء، پولیس،ڈاکٹروں، تاجروں، سیاسی شخصیات اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کیساتھ ساتھ ہزاروں شہریوں نے شرکت کی.اس موقع پر سائرن کی آواز پر شہریوں نے کھڑے ہوکر اور قومی ترانے کے ذریعے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا.ریلی سے خطاب کرتے ہوئےمقررین کا کہنا تھا کہ کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی قابل مذمت ہے.پاکستانیوں کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں بھارت نے جارحیت کی اگر کوئی غلطی کی تو 22 کروڑ پا کستانی پاک فوج کے ہمراہ دشمن سے لڑے گی۔

  • تونسہ بیراج ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن پر محکمہ اینٹی کرپشن ان ایکشن

    محکمہ اینٹی کرپشن نے تونسہ بیراج میں ہونے والے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی مد میں کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کردیا۔مبینہ کرپشن میں ملوث ایکسیئن تونسہ بیراج اور ایکسیئن مشینری ڈویژن فیصل آباد کیخلاف مقدمہ بھی درج کرلیاگیا.مظفرگڑھ کی تحصیل کوٹ ادو میں تونسہ بیراج میں سیلاب سے بچاؤ کے مختلف منصوبوں میں ہونے والی مبینہ کروڑوں روپے کی کرپشن اور بوگس ادائیگیوں کیخلاف اینٹی کرپشن نے تحقیقات شروع کردیں۔تھانہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کیمطابق 2016ء میں سیلاب سے بچاؤ کے مختلف منصوبوں کے نام پر مبینہ طور پر 27 لاکھ روپے کی بوگس ادائیگیاں کی گئیں.ذرائع کیمطابق 2016ء میں ہی ایکسئین تونسہ بیراج مہر ریاض اختر نے مشینری ڈویژن فیصل آباد کے ذریعے بھی مختلف منصوبوں کی مد میں مبینہ طور پر 15 کروڑ روپے کی خوردبرد کیئے.تھانہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ مظفرگڑھ نے کرپشن کی شکایات پر ایکسیئن تونسہ بیراج مہر ریاض اور ایکسیئن مشینری ڈویژن فیصل آباد عابد رشید کیخلاف مقدمہ درج کرلیا.سرکل آفیسر اینٹی کرپشن وسیم اکبر لغاری کے مطابق مقدمے کے اندراج کے بعد مبینہ کرپشن کے حوالے سے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں.

  • محرم الحرام میں سکیورٹی کےحوالے سےمظفرگڑھ میں خصوصی اجلاس

    محرم الحرام کے سلسلہ میں سپیشل برانچ کے ریجنل آفیسرکی زیرصدارت مظفرگڑھ میں اجلاس ہوا ۔اجلاس میں لائسنسداران اور علماء کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی.محرم الحرام کے دوران امن وامان کی صورتحال یقینی بنانے اور لائسنداران اور جلوسوں و مجالس کے منتظمین کو درپیش مسائل کا جائزہ لینے کے لیے ضلع کونسل ہال میں اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت سپیشل برانچ کے ریجنل آفیسر جلیل عمران نے کی۔ اجلاس میں لائسنسداران اور مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاء نے امن وامان برقرار رکھنے اور شرپسند عناصر کی سرکوبی کے لیے انتظامیہ سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اس موقع پر لائسنسداران نے انتظامیہ کو عشرہ محرم الحرام کے دوران درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریجنل آفیسر سپیشل برانچ جلیل عمران کا کہنا تھاکہ پنجاب حکومت کی ہدایت پر لائسنسداران کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ علماء کرام امن وامان قائم رکھنے کے لئے انتظامیہ سے تعاون کریں اور فرقہ واریت کو ہوا دینے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اجلاس کے دوران جلوسوں اور مجالس کی سیکورٹی کے طریقہ کار کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔

  • مظفرگڑھ میں ٹرالر اور مسافر بس کے مابین تصادم کے نتیجہ میں 3افراد جابحق،5زخمی ہوگئے

    مظفرگڑھ مسافربس اور ٹرالر میں تصادم کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوگئے،ریسکیو1122کے مطابق حادثہ تیزرفتاری کے باعث پیش آیا.مظفرگڑھ میں میانوالی روڈ پر چوک سرور شہید کے قریب مسافر بس اور ٹرالر میں تصادم ہوگیا.ریسکیو کیمطابق حادثے میں بس پر سوار 3 افراد جاں بحق جبکہ 5 افراد زخمی ہوگئے.ریسکیو 1122 نے زخمی ہونے والے مسافروں کو پہلے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال چوک سرور شہید منتقل کیا جہاں سے شدید زخمی ہونے والے 3 افراد کو نشتر ہسپتال ملتان ریفر کردیا گیا.ریسکیو 1122 کیمطابق بس ڈیرہ اسماعیل سے اوکاڑہ جارھی تھی جبکہ حادثہ تیزرفتاری اور اوورٹیکنگ کے نتیجے میں پیش آیا.پولیس کیمطابق واقعے کے حوالے سے قانونی کاروائی شروع کردی گئی ہے.

  • چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں،،عمر 10 سال،،جرم 8 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی،،

    پولیس کے ناقص تفتیشی نظام کے باعث مظفرگڑھ میں 10 سالہ بچہ گزشتہ 4 ماہ سے خطرناک ملزموں کے ہمراہ ڈسٹرکٹ جیل میں قید ہے۔گزشتہ 2 عیدیں جیل میں گزارنے والے عمر حیات پر 8 سالہ بچی سے زیادتی کا الزام ہے۔عدالت نے بچے کو مزید 2 ہفتوں کے لیے جیل بھیج دیا.مظفرگڑھ کے علاقے ٹبہ کریم آباد کا 10 سالہ خضرحیات گزشتہ 4 ماہ سے ڈسٹرکٹ جیل مظفرگڑھ میں خطرناک مجرموں کے ساتھ قید ہے۔تھانہ سٹی میں درج کرائی گئی ایف آئی آر کیمطابق 15 اپریل کو 8 سالہ بچی کوثر فاطمہ کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔بچے کو گرفتار کیا گیا،5 روز تک غیرقانونی طور پر تھانہ سٹی کی حوالات میں بند رکھا گیا،،اب گزشتہ 4 ماہ سے ڈسٹرکٹ جیل مظفرگڑھ میں قید ہے.وکیل صفائی نیازتھہیم کے مطابق ڈی این اے رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق نہیں ہوسکی،پولیس کی جانب سے مکمل چالان جمع نہ کرانے جانے کے باعث کیس مسلسل تاخیر کا شکار ہے،وکیل صفائی کے مطابق آج گواہوں کی شہادتوں اور جرح کے بعد کیس کی سماعت 2 ستمبر تک ملتوی کرکے بچے کو ایک مرتبہ پھر 2 ہفتوں کے لیے ڈسٹرکٹ جیل بھیج دیا گیا.دوسری جانب بچے کے والد محمد لطیف کا کہنا تھا کہ اسکے 9 سالہ بیٹے پر جھوٹا کیس بنایا گیا.بچہ کی تعلیم ختم ہوگئی وہ اور اسکا بچہ کورٹ کچہری کے چکر کاٹ کر تھک چکے ہیں.

  • نیب ٹیم کا ضلع کونسل مظفرگڑھ پر چھاپہ

    نیب ملتان کی ٹیم نے مظفرگڑھ ضلع کونسل میں چھاپہ مار کر گزشتہ بلدیاتی دور کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا،ذرائع کیمطابق ضلع کونسل مظفرگڑھ میں کروڑوں روپے کے منصوبوں،ٹھیکوں کی بندربانٹ اور قیمتی جائیداد کی غیرقانونی الاٹمنٹ کے حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہیں.کرپشن کی شکایات پر نیب ملتان کی ٹیم ضلع کونسل مظفرگڑھ پہنچی اور گزشتہ بلدیاتی دور کے منصوبوں کے ریکارڈ کی چھان بین کے بعد ریکارڈ قبضے میں لے لیا.ضلع کونسل کے ذرائع کیمطابق شہریوں کی جانب سے نیب کو جمع کرائی گئی شکایات پر نیب ٹیم ضلع کونسل میں کروڑوں روپے مالیت کے منصوبوں میں مبینہ کرپشن اور قیمتی جائیداد کی مبینہ غیرقانونی الاٹمنٹ کی حوالے سے تحقیقات کررہی ہے.نیب ملتان کی ٹیم نے ضلع کونسل کے مکمل ہونے والے اور زیرتعمیر منصوبوں اور اثاثوں کا بھی معائنہ کیا.ذرائع ضلع کونسل کے کیمطابق ضلع کونسل میں ٹھیکوں کی خلاف قواعد بندربانٹ،منصوبوں میں کرپشن اور ضلع کونسل میں قیمتی جائیداد کی الاٹمنٹ کے حوالے سے مختلف شہریوں کی شکایات پر نیب ملتان کی جانب سے تحقیقات کی جارہی ہیں.

  • قندیل بلوچ قتل کیس کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر ہونے کی امید!

    قندیل بلوچ قتل کیس کے پراسیکیوٹر سلیم بہار کا کہنا ہے کہ کیس ماڈل کورٹ میں ہونے کے باعث ایک مہینے میں فیصلہ ہونے کی امید ہے،ان کا کہنا تھا عدالت نے پراسیکیوشن کے موقف کی تائید کرتے ہوئے قندیل بلوچ کے والد کی اپنے بیٹوں کے ساتھ کمپرومائز کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا.
    مظفرگڑھ میں باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے قندیل بلوچ قتل کیس میں ڈپٹی پراسیکیوٹر سلیم بہار کا کہنا تھا کہ قندیل بلوچ کے درخواست گزار والد محمد عظیم نے اپنے بیٹوں وسیم اور اسلم شاہین کیساتھ کمپرومائز کے لیے ماڈل کورٹ میں درخواست دائر کی تھی.درخواست گزار کا موقف تھا کہ دفعہ 311 پی پی سی کے حوالے سے ترمیم قندیل بلوچ کے قتل کیس کے بعد کی گئی۔اس لیے کیس میں بیٹوں سے کمپرومائز کی اجازت دی جائے.ڈپٹی پراسیکیوٹر سلیم بہار کے مطابق آج کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے عدالت میں درخواست کی مخالفت کی.پراسیکیوشن کا موقف تھا کہ قندیل بلوچ قتل کیس میں 311 پی پی سی کی جو دفعہ لگائی گئی وہ ناقابل راضی نامہ ہے.جبکہ کرمنل لاء کی ترمیم 2004ء کے تحت اس طرح کے جرائم کو ناقابل ضمانت قرار دیا گیا ہے.ڈپٹی پراسیکیوٹر کیمطابق عدالت میں موقف اپنایا گیا کہ کرمنل لاء کی ترمیم 2004ء کے تحت اس طرح کے کیسز میں کمپرومائز نہیں ہوسکتا.ڈپٹی پراسیکیوٹر سلیم بہار کا باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں کہنا تھا کہ ماڈل عدالت کے جج عمران شفیع نے پراسیکیوشن کے موقف کی تائید کرتے ہوئے قندیل بلوچ کے والد کی اپنے بیٹوں کیساتھ راضی نامے کی درخواست مسترد کردی.قبل ازیں آج قندیل بلوچ کے والد محمد عظیم کی بیٹوں سے کمپرومائز کی درخواست کو ملتان کی ماڈل کورٹ نے خارج کردیا تھا.قندیل بلوچ کو 15 جولائی 2016ء کو ملتان میں اسکے بھائی وسیم نے قتل کیا تھا۔

  • کشمیر توجہ مانگتا ہے!!!!   بلال شوکت آزاد

    کشمیر توجہ مانگتا ہے!!!! بلال شوکت آزاد

    ویسے تو کشمیریوں کا نوحہ بہتر سالوں سے جاری ہے کہ وہاں ہندوتوا کے جھنڈے تلے مسلمانوں کا قتل عام، ظلم اور زیادتی ایک عام سی بات بن کر رہ گئی ہے۔

    ہم بہتر سالوں سے روزانہ میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر ضرور سنتے رہتے تھے جس میں کسی کشمیری بزرگ کا بہیمانہ قتل، کسی کشمیری بہن کی لٹی عزت کی کہانی اور کسی نوجوان کے تباہ شدہ خوابوں کا فسانہ سننے کو مل جاتا تھا۔

    آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ بار بار "تھا” کیوں کہہ رہا ہوں؟

    کیا آج وہاں ظلم اور زیادتی کا بازار بند ہو چکا ہے؟

    یا وہاں پر بزرگوں کا بہیمانہ قتل نہیں ہورہا؟

    یا وہاں پر ہماری کشمیری بہنوں کی عزتیں محفوظ ہوگئی ہیں؟

    اور یا پھر نوجوانوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہو رہے ہیں؟

    کیا وجہ ہے کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ ہمیں دس سالوں سے میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر بھولے بھٹکے ضرور مل جاتی تھی جس میں کشمیر میں جاری ظلم کا فسانہ ہمیں سننے پڑھنے کو مل جاتا تھا۔

    لیکن ابھی گزشتہ 16/17 دن سے جاری ظلم و زیادتی، قتل و غارت بلکہ سادہ لفظوں میں کہوں تو کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی ہمیں خبریں دائیں بائیں سے ضرور مل رہی ہیں لیکن ہمارے میڈیا پر وہی صورتحال غالب ہے جو اول دن سے تھی، عالمی میڈیا خبر تو دیتا ہے لیکن اپنی جانبداری کو چھپا نہیں پاتا۔

    کوئی بھی یہ نہیں بتا رہا کہ اس سال فروری سے لے کر آج کے دن تک ک سترہ ایسے مقامی کشمیری صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جو اپنی بساط کے مطابق کشمیر کے حق اور ظلم کی چکی میں پسنے والوں کی آواز دنیا بھر میں پھیلانے کا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔

    اس وقت سوشل میڈیا پر بے شمار خبریں پڑھنے سننے کو مل جاتی ہیں کشمیر کے متعلق، جن کی حقیقت یا تو کشمیری جانتے ہیں یا اللہ بہتر جانتا ہے۔

    لیکن جو بھی خبریں پڑھنے سننے کو مل رہی ہیں وہ کوئی اتنی حوصلہ افزا اور قابل برداشت نہیں۔

    سرکاری چھتری کے نیچےبھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور سرکاری ایجنسیز ہی کشمیر میں میں ظلم نہیں ڈھا رہیں بلکہ آر ایس ایس کے مہاسبائی غنڈے اور انتہا پسند ہندو کھل کر کشمیریوں کا استحصال کر رہے ہیں بلکہ یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے باضابطہ خاتمے سے پہلے صرف کشمیر سے ہندوؤں کو نکلنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ اضافی فوجی دستے بھی تعینات کیے اور انتہا پسند ہندو غنڈوں کو بھی لگاتار فلائٹس کے ذریعے کشمیر پہنچایا تاکہ وہ بڑے پیمانے پر کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی میں میں حکومت بھارت کی مدد کر سکیں۔

    اس وقت موجود خبروں کے تناظر میں بتاتا چلوں کہ کوئی چار ہزار کے قریب حریت پسند سنگباز کشمیری نوجوان زبردستی اٹھا کر جیلوں میں ڈالے گئے ہیں اور بعد میں انہیں نوجوانوں کے گھروں میں بھارتی فوجی دندناتے ہوئے گئے اور ان کی بہنوں بیٹیوں کو اغوا کر کے فوجی بیرکوں میں لے گئے ہیں۔

    خبریں تو اور بھی بہت سی ہیں جنہیں سن پڑھ کر کسی بھی غیرت مند مسلمان کو غصہ آ سکتا ہے اور اگر ضمیر زندہ ہو تو وہ انسان غصے سے پھٹ بھی سکتا ہے۔

    یہ اتنی ساری کہانی یا تمہید بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔

    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھائی ہم تو 72 سالوں سے مسئلہ کشمیر اور کشمیری مسلمانوں پر پر پڑھ، لکھ، سن اور بتا رہے ہیں تو اب کون سی ایسی توجہ ہے جو کشمیر مانگتا ہے اور ہمیں دینی ہوگی؟

    معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ ہم بہت سالوں سے بطور پاکستانی قوم کشمیر کو صرف یوم یکجہتی کشمیر، 14/15 اگست یا پھر کشمیر میں ہوئے کسی بڑے سانحے کے بعد یاد کرتے تھے اور دو دن خوب شور مچا کر خاموش ہو جاتے تھے۔

    میں یہاں کسی مخصوص گروہ، کسی مذہبی جماعت، کسی سیاسی جماعت اور کسی رائٹ لیفٹ یا سنٹر کی بات نہیں کر رہا بلکہ میرے مخاطب ساری پاکستانی قوم ہے۔

    ہم نے قائد اعظم کے انتقال کے بعد کشمیریوں کو سوائے ڈھکوسلوں، حکمت اور مصلحت کے لولی پاپس اور سیاسی بیان بازیوں کے کوئی ایسی گرانقدر خدمات پیش نہیں کیں جو کشمیریوں کا دکھ کم یا دور کر سکتیں یا مرہم بن کے ان کے دکھوں کا مداوا کر سکتیں۔ (جو انڈر دا ٹیبل کیا گیا اسے یہاں پر بیان کرنا کسی صورت بھی ممکن نہیں اور نہ ہی اسے بیان کرنا اس وقت اتنا اہمیت رکھتا ہے جب پاکستان اندرون اور بیرون معاشی مسائل کا شکار بھی ہو اور عالمی اداروں کی نظر میں یہ کسی اچھے تشخص کا حامل بھی نا ہو)۔

    ہمیں اب مسئلہ کشمیر کو باقاعدہ اپنی زندگیوں میں وہ اہمیت اور وہ جگہ دینی ہوگی جس کا وہ حقدار ہے۔

    کل لاہور میں کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا گیا جو اس رویے، اس روش اور اس ضرورت کو عوامی بنانے کی جانب پہلا قدم ہے۔

    کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام لاہور میں "کشمیر توجہ چاہتا ہے” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں نوجوانوں کی تنظیمات کے نمائندگان اور میڈیا کے شعبے سے تعلق رکھنے والے طلبہ شریک تھے۔

    سیمینار کی صدارت رانا عدیل ممتاز کررہے تھے جبکہ مقررین میں سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان، اینکراسامہ غازی، سینئر صحافی واستاد ڈاکٹر مجاہد منصوری، اسلامک سکالر اشتیاق گوندل، یوتھ ایکٹیوسٹس رضی طاہر، طہ منیب، عدیل احسن، مہک زہرا، عائشہ صدیقہ اور احقر بلال شوکت آزاد شامل تھے۔

    رانا عدیل ممتاز نے خطاب میں کہا کہ

    "پاکستانی نوجوان بھارت کو ہر محاذ ہر شکست دینے کیلئے آگے بڑھیں، پہلا قدم ٹیکنالوجی ہے، اس کے استعمال سے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کریں۔”

    مبشر لقمان صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم دنیا پر تنقید کی اور کہا کہ

    "کوئی اسلامی ملک حقیقی غیرت اسلامی کا مظاہرہ نہیں کررہا، مسلمان کشمیر میں مسلسل جانیں دے رہے ہیں اور ہمیں مالی مفادات عزیز ہیں جبکہ بھارت ایک جانب کشمیر میں خون کی ندیاں بہا رہا ہے اور دوسری جانب آبی جارحیت دکھا رہا ہے، کبھی بن بتائے پانی کھول دیتا ہے جو سیلاب کا سبب بنتے ہیں اور کبھی پانی روک کر خشک سالی کا سبب بنتا ہے، دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں پاکستان کا پانی روکیں گے تو 20 کروڑ خودکش بمبار تیار ہوجائیں گے۔”

    ڈاکٹرمجاہد منصوری نے کہا کہ

    "حیران ہوں کہ نئی دہلی میں بیٹھے 100سے زیادہ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندگان کو کشمیرکی صورتحال دکھائی کیوں نہیں دیتی؟ میڈیا کے طلبہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے سوال کریں کہ یہ کیسی بے حسی ہے۔”

    اسلامک سکالر اشتیاق گوندل نے کہا کہ

    "ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، ہم مسلمان ہیں اور بحثیت مسلمان کسی خطے میں ظلم ہو ہم اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کا حصہ ہے، تاریخ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔”

    اینکر اسامہ غازی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ

    "اگلے دو سال بہت اہم ہیں، کشمیر میں تحریک آزادی میں نیا جذبہ پیدا ہوگا، مودی کو بہت جلد اپنی غلط پالیسیوں کا احساس ہوگا، کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے”۔

    سیمینار سے کشمیر یوتھ الائنس کے قائدین اور ایکٹیوسٹس رضی طاہر، رانا عدیل احسن، طہ منیب اور بلال شوکت آزاد نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے اہل کشمیر پر ہونے والے ظلم وستم کو روکنے کیلئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔

    اقوام متحدہ سے مخاطب ہوکر ان پر عزم نوجوان مقررین نے کہا کہ

    "اقوام متحدہ دراصل اقوام شرمندہ بن چکی ہے جبکہ او آئی سی بھی محض مذمتی بیانات تک محدود ہے۔”

    سیمینار کے آخر میں کشمیر کیلئے خصوصی دعا کی گئی اور یہ عہد کیا گیا کہ کشمیر یوتھ الائنس ہر وہ دروازہ کھٹکھٹائے گی جو کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے کا حوصلہ اور ارادہ رکھتا ہوگا اور یہ سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ کشمیریوں کی آزادی کے لئے "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے نام سے ملک گیر تحریک چلانے کے لیے پرعزم ہے۔

    کل ہوئے سیمینار میں نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی جو کہ ایک حوصلہ افزا بات ہے اس صورتحال میں کے کشمیر مکمل طور پر بند ہے یہاں تک کہ ایک چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی اور اگر یہ کہا جائے کہ کشمیر ایک جیل بن چکی ہے تو غلط نہ ہوگا۔

    ہمیں کشمیر کی وہ پر شور آواز بننا ہوگا جو اقوام عالم کے کانوں کے پردے پھاڑ دے کیونکہ اب یہ حکمت اور مصلحت کی کھیلیں کھیلنے کا وقت نہیں کہ یہاں ہر سیکنڈ پر ایک کشمیری مسلمان مرد اور عورت کٹ اور لٹ رہے ہیں۔

    اور جب تک یہ ہوتا رہے گا ان کا خون اور ان کی آہ و بکا صرف بھارتی درندوں کے ہاتھ ہی نہیں ہوگی بلکہ اس کا کچھ نہ کچھ کچھ کریڈٹ ہمارے سر بھی ہوگا۔

    میں نے کل سیمینار کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے بھی یہی بات کہی تھی اور یہاں پر بھی یہی کہوں گا کہ

    "ہمیں تمام طرح کی گروہ بندیوں، ذاتی مفادات اور تفرقہ بازی سے نکل کر ایک متحدہ قوم بننا ہوگا تاکہ ہم سب مل کر اپنے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کی آواز بن سکیں، اور ان کی آزادی کی تحریک پاکستان کے گلی کوچوں سے نکال کر اقوام عالم کے گلی کوچوں تک پہنچائیں۔
    یقین مانیے ہماری باتیں، ہمارے تجزیے اور خبریں تب تک بالکل بے معنی ہیں جب تک ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو وہ توجہ نہیں ملتی ہماری جانب سے اور اقوام عالم کی جانب سے جو ان کی آزادی کو یقینی بنا سکے۔
    ہم خواہ غریب ہوں یا امیر ہوں، ان پڑھ ہوں یا پڑھے لکھے ہوں خواہ کسی بھی حیثیت میں ہوں ہمیں اپنے حلقہ احباب میں "کشمیر توجہ مانگتا ہے” تحریک کو عام کرکے پوری پاکستانی قوم کو کشمیر کا دکھ سنانا اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کے لئے لیے میدان بنانا ہو گا لہذا اب کمر کس لی جائے اور میدان میں نکلا جائے کہ باتیں بہت ہو گئیں ، اب عمل کا وقت ہے۔”

    قصہ مختصر میں اپنی بات سمیٹتا ہوں اسی جملے کے ساتھ کہ

    "بھائیو بہنو! آپ لوگ خدارا اب نظریاتی بالغ ہوجائیں اور اپنا پورا وقت مظلوم کشمیریوں کے لئے وقف کر دیں کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔

  • مظفرگڑھ میں بھی ٹارگٹ کلنگ! نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق

    مظفرگڑھ میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات کیمطابق واقعہ ٹارگٹ کلنگ معلوم ہوتا ہے.مظفرگڑھ کی تحصیل کوٹ ادو کے علاقے قصبہ گجرات میں موٹر سائیکل پر سوار منظور حسین اور اسکی بیوی سسرال سے واپس گھر جارہے تھے۔جاکھڑی نالہ کے قریب 3 نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے منظور حسین اور اسکی بیوی پر فائرنگ کردی۔ریسکیو کیمطابق فائرنگ کے نتیجے میں منظور حسین جاں بحق ہوگیا جبکہ خوش قسمتی سے اسکی بیوی محفوظ رہی.واقعے کے بعد حملہ آور موٹر سائیکل سوار ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے،دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ ذاتی دشمنی کے نتیجے میں ٹارگٹ کلنگ معلوم ہوتا ہے.واقعے کا مقدمہ درج کیا جارہا ہے جبکہ قتل ہونے والے شخص کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال مظفرگڑھ منتقل کردیا گیا ہے.