Baaghi TV

Tag: Baaghi TV

  • مظفرگڑھ میں منشیات سے بھرا ٹرک پکڑا گیا،خاتون سمیت 4افراد گرفتار

    مظفرگڑھ میں پولیس نے منشیات کے بین الصوبائی سمگلروں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کی چرس اور لاکھوں روپے نقدی برآمد کرلی۔کاروائی کے دوران خاتون سمیت 4 سمگلروں کو بھی گرفتار کیاگیا.مظفرگڑھ کی تحصیل کوٹ ادو کے علاقے سنانواں میں پولیس نے خفیہ اطلاع پر کاروائی کرتے ہوئے ایک ٹرک کو قبضے میں لے کر اس میں موجود کروڑوں روپے مالیت کی منشات برآمد کرتے ہوئے خاتون سمت 4ملزمان کو گرفتار کرلیا۔آر پی او ڈیرہ غازیخان عمران احمد کے مطابق ٹرک کے مختلف خانوں میں چھپی ہوئی کروڑوں روپے مالیت کی ایک من 12 کلوگرام چرس اور 3 لاکھ روپے سے زائد نقدی برآمد کرلی گئی.ٹرک میں چھپائی گئی چرس بلوچستان سے مظفرگڑھ کی تحصیل کوٹ ادو منتقل کی جارہی تھی.آر پی او ڈیرہ غازیخان کیمطابق کاروائی کے دوران خاتون سمگلر زبیدہ سمیت 3 دیگر سمگلروں سیفل،قمر اور پیرمحمد کو بھی گرفتار کرلیاگیا ہے.گرفتار افراد میں سے قمر اور پیرمحمد کا تعلق بلوچستان اور زبیدہ اور سیفل کا تعلق کوٹ ادو سے ہے.آر پی او ڈیرہ غازیخان عمران احمدنے پولیس کو مطلوب منشیات کے سمگلروں کی گرفتاری پر ڈی ایس پی کوٹ ادو اور تھانہ سنانواں پولیس کو شاباش دی اور انکے لیے تعریفی سرٹیفکیٹ اور انعام کا بھی اعلان کیا۔آر پی او کا کہنا تھا کہ بین الصوبائی منشیات فروش گینگ کے دیگر ارکان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں.

  • مظفرگڑھ سے آئی ایسی خبر جسکو سن کرترکی کے صدر رجب طیب اردگان ہوجائیں گےپریشان!!

    مظفرگڑھ میں شارٹ سرکٹ کے باعث رجب طیب اردگان ہسپتال میں آگ بھڑک اٹھی۔آگ لگنے کے باعث جنوبی پنجاب میں معذور افراد کے لیے بنایا گیا واحد ری ہیبلیٹیشن سنٹر مکمل طور پر جل گیا.
    مظفرگڑھ میں رجب طیب اردگان ہسپتال کے معذور افراد کے ری ہیبلیٹیشن سنٹر میں آگ لگ گئی.ریسکیو ذرائع کے مطابق شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگنے کے باعث ہسپتال میں معذور افراد کے لیے موجود جنوبی پنجاب کا واحد ری ہیبلیٹیشن سنٹر مکمل طور پر جل گیا۔ریسکیو 1122کے مطابق آگ لگنے کے باعث سنٹر میں موجود کروڑوں روپے مالیت کے مصنوعی اعضاء،مشینری اور آلات مکمل طور پر جل گئے.ریسکیو کے 3 فائر ٹینڈرز نے ایک گھنٹے کی محنت کے بعد آگ پر قابو پایا اور نزدیکی وارڈ کو آگ کی زد میں آنے سے بچالیاگیا۔ریسکیو کیمطابق آگ بجھانے کے بعد کولنگ کا عمل جاری ہے.ریسکیو کیمطابق آگ لگنے سے خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا.واضح رہے کہ 2010کے بدترین سیلاب کے بعد رجب طیب اردگان نے ترک حکومت کی جانب یہ ہسپتال بنوایا تھا۔

  • پلانٹ فار پاکستان مہم کے تحت مظفرگڑھ کے سکولز میں شجرکاری مہم شروع ہوگئی

    حکومت کی پلانٹ فار پاکستان مہم کے تحت مظفرگڑھ میں شجرکاری مہم کا افتتاح کردیاگیا،پراجیکٹ کے تحت سرکاری سکولز میں ہزاروں ماحول دوست پودے لگائے جائیں گے.حکومت کی پلانٹ فار پاکستان مہم کے تحت مظفرگڑھ کے گورنمنٹ کمپری ہنسو سکول میں گرین سکولز منصوبے کا افتتاح کیا گیا۔مشیروزیراعلی پنجاب سردار عبد الحئی دستی اور ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر احتشام انور نے مشترکہ طور پر سکول میں پودا لگا کر منصوبے کا افتتاح کیا.اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیروزیراعلی پنجاب برائے زراعت سردار عبدالحئی دستی کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تبدیلیوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کی پلانٹ فار پاکستان مہم کو کامیاب بنایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ منصوبے سے پاکستان کو سرسبز بنانے میں مدد ملے گی.اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر احتشام انور کا کہنا تھا کہ گرین سکولز پراجیکٹ کے تحت ضلع بھر کے سرکاری سکولوں میں ہزاروں ماحول دوست پودے لگائے جائیں گے.ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پرائیویٹ شعبے اور سول سوسائٹی کے تعاون سے ضلع بھر میں پلانٹ فار پاکستان مہم کے تحت لاکھوں پودے لگائے جارہے ہیں.

  • کشمیریوں پر مظالم کے خلاف مظفرگڑھ میں سیاستدان،وکلاء،انتظامیہ،تاجر سب سراپا احتجاج

    مظفرگڑھ میں بھی بھارتی یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا اورریلی نکالی گئی۔ریلی میں سیاہ پرچم اٹھائے ہزاروں افرد نے شرکت کی اور بھارت کیخلاف شدید نعرہ بازی کی.بھارتی یوم آزادی کے حوالے سے مظفرگڑھ میں ضلعی انتظامیہ،تاجروں،وکلاء اور سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی.ریلی کی قیادت مشیروزیراعلی پنجاب سردار عبد الحئی دستی،ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ ڈاکٹر احتشام انور اور ڈی پی او مظفرگڑھ صادق علی ڈوگر نے کی.ڈپٹی کمشنر آفس سے نکالی جانے والی ریلی مظفرگڑھ پریس کلب پہنچی جہاں شرکاء نے بھارت کیخلاف شدید نعرہ بازی کیاور مودی کت پوسٹر پر جوتیاں برسانے کے بعد اسے نذر آتش کیا.ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت ناقابل برداشت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر عالمی خاموشی تشویشناک ہے.مقررین نے عالمی برادری سے بھارت پردباو ڈالنے کا مطالبہ کیا ان کا کہناتھا کہ عالمی برادری کشمیریوں پر ظلم و ستم بند کرائے اور بھارت کو مذاکرات کی میز پر لائے.

  • لیڈی ڈاکٹر عید مناتی رہی! سرکاری ہسپتال میں ڈیلیوری کے لئے آنے والی خاتون اور بچہ ہلاک

    مظفرگڑھ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر اور طبی عملے کی مبینہ غفلت سے زچہ و بچہ انتقال کرگئے،لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ رات جب خاتون کو ہسپتال لایا گیا تو لیڈی ڈاکٹر غیرحاضر تھی جبکہ نرسز اور عملہ موبائل فون کے استعمال میں مصروف تھا.مظفرگڑھ کے علاقے ٹبی چوک کی رہائشی سمیرا بی بی کو ڈیلیوری کے لیے گزشتہ رات ڈی ایچ کیو ہسپتال مظفرگڑھ کے زچہ و بچہ وارڈ میں منتقل کیاگیا تھا۔اہلخانہ کیمطابق گزشتہ رات سے وارڈ میں لیڈی ڈاکٹر موجود نہیں تھی اور نرسز سمیت دیگر عملہ موبائل فون کے استعمال میں مصروف تھا.لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ لیڈی ڈاکٹر اور طبی عملے کی غفلت کے باعث پہلے خاتون کے پیٹ میں موجود بچہ مرا اور بعدازاں بروقت طبی امداد نہ ملنے پر علی الصبح خاتون سمیرا بی بی بھی دم توڑ گئی.ہسپتال انتظامیہ کے خلاف خاتون کے لواحقین نے زچہ و بچہ وارڈ کے باہر احتجاج کیا۔اس موقع پر مظاہرین نے ڈاکٹروں اور طبی عملے کے خلاف شدید نعرہ بازی بھی کی.بعدازاں پولیس تھانہ سول لائن بھی موقع پر پہنچ گئی،پولیس کے مطابق قانونی کاروائی کے لیے لواحقین کی جانب سے درخواست موصول ہوگئی ہے اور واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں.

  • اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ۔۔۔ تحریر : سلمان آفریدی

    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ۔۔۔ تحریر : سلمان آفریدی

    حافظ ابتسام الحسن بھائی ایک انسان دوست ، حکمت سے معمور اور دعوتی جذبے سے سرشار عالم دین تھے۔ دعوتی تڑپ اور دین کے پھیلاؤ کی جو لگن ان مِیں دیکھی وہ بہت ہی کم لوگوں میں نظر آتی ہے۔ گزشتہ روز رات بارہ بجے کے قریب ہمارے ایک مشترکہ دوست اور ایک عزیز بھائی اویس کا فون آیا جنہوں نے اطلاع دی کہ سلمان بھائی ابتسام بھائی ہم میں نہیں رہے ، چند ثانیے تو یقین ہی نہیں آیا وہ کہنے لگے کہ ان کے چھوٹے بھائی اور اہلیہ ہسپتال میں ہیں میں اپنی فیملی کے ساتھ ان کے پاس جا رہا ہوں آپ بھی آ جائیں۔ میں کچھ تاخیر سے جب وہاں پہنچا تو ان کا جسد خاکی میو ہسپتال کے ڈیڈ ہاوس میں پوسٹ مارٹم کے لیے لایا جا رہا تھا۔ گلاب کی طرح کھلا ہوا چہرہ ، اور چہرے پر اطمینان دیکھ کر آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
    ابتسام بھائی روڈ ایکسیڈنٹ میں گاڑی کی ٹکر سے شہید ہوئے ۔ اطلاعات کے مطابق انار کلی بازار لاہور کے قریب گاڑی میں دو لوگ سوار تھے جو آپس میں کسی وجہ سے الجھے جس بناء پر گاڑی ابتسام بھائی کی بائیک سے جا ٹکرائی وہ گرے مگر اٹھ کر کھڑے ہو گئے گاڑی والا ڈر کر بھاگتے ہوئے دوبارہ ان سے جا ٹکرایا اور ان کو شدید چوٹیں آئیں۔ اس دوران وہاں موجود لوگ ڈرائیور کے ساتھی کو پکڑنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ڈرائیور بھاگ نکلا۔ ابتسام بھائی کو قریب واقع میو ہسپتال لے جایا گیا جہاں پہلے ان کی طبیعت سنبھل گئی۔ اس دوران جب ان کی طبیعت بہتر تھی انہوں نے دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ ڈرائیور کو معاف کرنے کی بھی وصیت کی (اللہ اکبر کیسا اعلی ظرف انسان تھا، کیسا وسیع القلب آدمی تھا اللہ تو اس کو معاف کر اور اس سے راضی ہو جا) کچھ دیر ٹھیک رہنے کے بعد طبیعت پھر بگڑنا شروع ہوئی یہاں تک کہ ابتسام بھائی بہت سی آنکھوں کو اشکبار چھوڑ کر جان جان آفریں کے سپرد کر گئے۔
    اس دھیمے مزاج اور خوبیوں سے مالا مال شخص کی وفات کی اطلاع جس جس نے سنی اس کا دل غم سےلبریز ہو گیا۔ ابتسام بھائی ایک واعظ اور خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی تحریر و تقریر سے دعوت کے کام میں مصروف عمل رہتے تھے۔ ڈیفنس کی جامع مسجد الرباط میں ایک لمبا عرصہ امام تراویح رہے۔ ان کی دلنشیں اور پرسوز آواز میں کی جانیوالی قرات قران سننے کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے خصوصا قنوت میں ان کا رو رو کر دعائیں کرنا دیکھ کر بہت رشک آتا جب وہ خود بھی رو رہے ہوتے اور ان کے پیچھے کھڑے مقتدیوں کی آنکھیں بھی اشکبار ہوتیں۔ سوشل میڈیا پر وہ علم و عمل انسٹیٹوٹ، پاک بلاگرز فورم سمیت کئی فورمز سے وابستہ تھے ۔ ان کے مضامین ، کالمز اور آڈیو ویڈیو لیکچرز گاہے بگاہے شائع و نشر ہوتے رہتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ حفظ القران اور تجوید کے استاد بھی تھے۔ مرکز الودق ڈیفنس اور دیگر کئی مقامات پر خدمات سرانجام دینے بعد انہوں نے حلیمہ سعدیہ ایجوکیشنل کمپلیکس نزد شرقپور روڈ پر کام کا آغاز کر رکھا تھا جہاں تعلیم بالغاں کے ساتھ مدرسہ حفظ القران اور تجوید کا بھی اجراء کیا جا چکا تھا۔ یقینا وہ گوناگوں صفات کے مالک اور کثیر الصلاحیت شخص تھے۔
    ان کے ساتھ کام کرنے والے دوستوں میں طہ منیب بھائی نے ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اچانک وفات سے دل بہت غمگین اور اداس ہے۔ دعوتی اور اصلاحی پلیٹ فارمز پر ویڈیو ریکارڈنگ کے سلسلے میں ان سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔ رمضان المبارک اور ربیع الاول میں محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر ان کے متعدد لیکچرز ریکارڈ کروائے جبکہ چند ماہ پہلے ان کی کال آئی جس میں انہوں نے اپنے مقتدیوں کے اصرار پر تلاوت قران کی ریکارڈنگ کے لیے آڈیو ریکاڈنگ سٹوڈیو کا پوچھا ہم نے ریکارڈنگ شروع کی اب تک تین پارے ہو چکے تھے کہ اللہ کی مشیت غالب آ گئی۔
    اس طرح پاک بلاگرز فورم کے مدیر خنیس الرحمان نے ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ
    ہم حافظ ابتسام رحمۃ اللہ کے ہوتے ہوئے فخر محسوس کرتے تھے کہ ہمارے درمیان عالم دین موجود ہیں آج پاک بلاگرز فورم ان کے جانے سے یتیم ہوگیا, ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا, یقین ہی نہیں آتا. بار بار ان کی گفتگو اور ان کے کہے ہوئے بہت سے الفاظ کانوں میں گونجتے ہیں۔ ان کو یاد کرنے اور کہنے کو بہت کچھ ہے مگر ان کی جدائی کا صدمہ اس قدر ہے کہ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کہوں۔

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

    شہادت کی دعائیں مانگنے والا شہادت کا یہ طلبگار ان شااللہ شہید ہو کر اپنے رب کے پاس پہنچا۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ رب العالمین ہمارے بھائی کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے اس کو معاف فرمائے اس سے راضی ہو جائے اور اس کو جنت الفردوس میں اپنا مہمان بنائے۔ آمین یا رب العالمین

  • شاہ محمود قریشی،یوسف رضاگیلانی اور مخدوم جاوید ہاشمی ملتان میں عید منائیں گے

    ملتان کی مشہور ومعروف مساجد،عید گاہ اور درباروں میں نماز عیدالضحی کی ادائیگی کے اوقات جاری کردیئے گئے۔شاہی عید گاہ خانیوال روڈ میں نماز عید 8:15 بجے ادا کی جائے گی۔مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنمامخدوم جاوید ہاشمی عید نماز شاہی عید گاہ خانیوال روڈ پر ادا کریں گےجبکہ شاہی عید گاہ میں نماز عید کی امامت علامہ سید مظہر سعید کاظمی کریں گے۔مخدوم جاوید ہاشمی بعدازاں نماز شہریوں سے عید ملنے کے ساتھ ساتھ میڈیا سے بھی گفتگو کریں گے۔قدیمی جامع مسجد ممتاز آباد میں عید نماز 8 بجے ادا کی جائے گی اور یہاں نمازعید کی امامت کے فرائض علامہ محمد فاروق سعیدی اداکریں گے۔دربار حضرت موسیٰ پاک شہید پر عید نماز 8:15 پر ادا کی جائے گی جبکہ نماز عید کی امامت قاری محمد سعید سرمد کریں گے۔سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی عید نماز دربار حضرت موسیٰ پاک شہید پر ادا کریں گےاور بعدازاں شہریوں سے عید ملنے کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کریں گے۔جامع مسجد عمر پاک گیٹ میں عید نماز 9 بجے ادا کی جائے گی جبکہ نماز کی امامت ڈاکٹر محمد صدیق خان قادری کریں گے۔جامع مسجد نوری حضوری شریف پورہ میں عید نماز 7:15 پر ادا کی جائے گی جبکہ نماز عید کی امامت علامہ سید محمد رمضان شاہ فیضی کریں گے۔جامع مسجد حنیفہ غوثیہ باغ عام خاص میں عید نماز 8:15 پر ادا کی جائے گی مولانا جاوید عالم سعیدی امامت فرمائیں گے۔ دربار حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی پر عید نماز 8:15 پر ادا کی جائے گی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی نماز عید جامع مسجد حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی پر ادا کریں گےجبکہ عید نماز کی امامت حافظ بلال احمد اویسی کریں گے۔شاہ محمود قریشی بھی بعدازاں نماز میڈیا سے گفتگو کریں گے۔دربار حضرت شاہ رکن عالم پر عید نماز 8:15 پر ادا کی جائے گی جبکہ عید نماز کی امامت مولانا غلام درویش کریں گے۔

  • نجی اکیڈمی میں موبائل کے تنازعہ پر طلب علم نے چاقو کے وار کرکے ساتھی طالب علم کو زخمی کردیا

    مظفرگڑھ میں موبائل فون کے تنازع پر ایک طالب علم نے چاقو کے وار کرکے دوسرے طالب علم کو زخمی کردیا۔زخمی طالب علم کو ہسپتال منتقل کردیا گیا.مظفرگڑھ کے علاقے جھنگ روڈ پر 19 سالہ طالب علم عزت اللہ نے چاقو کے وار کرکے اپنے کلاس فیلو طالب علم ہمایوں خان کو شدید زخمی کردیا.ریسکیو ذرائع کیمطابق دونوں انٹرمیڈیٹ کے طالب علم تھے اور نجی اکیڈمی میں زیرتعلیم تھے۔دونوں طالب علموں میں موبائل فون کے لین دین کے تنازع پر جھگڑا ہوا اور عید کی چھٹیوں پر گھرجاتے ہوئے ایک طالب علم نے چاقو کے وار کرکے دوسرے کو زخمی کردیا.ریسکیو کیمطابق زخمی ہونے والے نوعمر لڑکے کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ واقعے کے بعد ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا،حملہ آور اور زخمی ہونے والے دونوں طالب علموں کا تعلق صوبہ بلوچستان سے بتایا جاتا ہے.

  • مظفرگڑھ میں قربانی کے بیل نے شہریوں کو لہو لہان کردیا

    بپھرے ہوئے بیل نے دکانوں کو نقصان پہنچانے کے علاؤہ کئی راہگیروں کو بھی ٹکریں ماریں.مظفرگڑھ میں دیہات سے ایک بیل کو قربانی کے لیے جھنگ روڈ پر لایاگیا تو ٹریفک کے رش اور شور کی وجہ سے بیل بے قابو ہوگیا.ریسکیو کیمطابق بپھرے ہوئے بیل نے رسی تڑواتے ہوئے نہ صرف کئی راہگیروں کو ٹکریں ماریں بلکہ جھنگ روڈ پر واقع دکانوں کو بھی نقصان پہنچایا.ریسکیو نے شہریوں کی مدد سے بپھرے ہوئے بیل کو قابو کرکے مالک کے حوالے کردیا.

  • دو قومی نظریہ اور آزادی کی قدر و قیمت ۔۔۔ تحریر : سلیم اللہ صفدر

    دو قومی نظریہ اور آزادی کی قدر و قیمت ۔۔۔ تحریر : سلیم اللہ صفدر

    تاریخ شاہد ہے کہ ملکوں کی جنگ ہفتوں نہیں مہینوں نہیں…. سالوں تک چلتی ہے. اور ہمارے وہ اسلاف جن کی کہانیاں ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں چاہے وہ محمد الفاتح ہوں، محمود غزنوی یا سلطان ایوبی … یہ تمام فاتحین جب بھی جنگ شروع کرتے تھے تو عمریں گزر جاتیں تھیں تب جا کر قسطنطنیہ، سومنات کے مندر، یروشلم( مسجد اقصی) جیسی فتوحات حاصل ہوتیں تھیں .

    اگر یہی فاتحین ایک وقت میں زیادہ دشمنوں سے لڑائی کریں تو کسی مخصوص علاقے کی فتح اور زیادہ دور چلی جائے.

    چلیں چھوڑیں میں ان کی بات نہیں کرتا جو پانچ وقت کی بجائے سات وقت (تہجد، اشراق ) کے نمازی تھے اور ان کا ایمان بہت ہی زیادہ… ہماری سوچ سے زیادہ مضبوط تھا. میں تو پاکستان اور پاک فوج کی بات کرتا ہوں جن میں پانچ وقت کے نمازی بھی مشکل سے ہوں گے . واللہ اعلم

    پاکستان نائن الیون سے لیکر گزشتہ سال تک حالت جنگ میں رہا. کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ تو کبھی تکفیریوں، خارجیوں کے خلاف. اس سال اسے کچھ سانس ملا تو اس نے چوروں کو اکٹھا کر کے احتساب شروع کر کے معیشت مضبوط کرنے کی کوشش کی …اور ساتھ ہی عالمی برادری سے تعلق مضبوط بنانے کے لیے اور اپنے آپ کو امن پسند و شریف ثابت کرنے کے لیے آزاد کشمیر میں رہنے والے کشمیری مجاہدین کے ہاتھ روک دئیے.

    اسی دوران بھارت میں انتخابات ہوئے تو مودی نے یہ وعدہ دے کر ووٹ حاصل کیے کہ دوبارہ وزیر اعظم بن گیا تو میں کشمیر کے معاملے کو حل کر کے چھوڑوں گا. ایک طرف مجاہد محصور… دوسری طرف بھارتی حکومت آزاد….! اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے کشمیر میں جارحانہ اقدام اٹھا لیا. جو لوگ بصیرت رکھتے تھے وہ پہلے ہی کہتے تھے کہ مودی نے کشمیر کے معاملے پر کوئی نہ کوئی فیصلہ کن کارنامہ سرانجام دے ہی دینا ہے. اور ایسے کارنامے مسلمانوں کے حق میں بہتر ہوا کرتے ہیں. (اگر مجاہدین کے ہاتھ بندھے ہوئے نہ ہوتے تو بھی مودی حکومت یہی فیصلہ کرتی بھارتی عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے کے مطابق )

    اب جب بھارتی حکومت نے کام کر ہی دیا تو پاکستان بھلا کیا کر سکتا تھا. ایک حل یہ تھا جس کا مطالبہ کیا جاتا رہا کہ مجاہدین آزاد کر دو کشمیر بھی آزاد ہو جائے گا لیکن اس صورت میں بات صرف کشمیر کی نہیں ایف اے ٹی ایف کی بھی تھی. مجاہدین آزاد کرنے کی صورت میں پاکستان عالمی برادری میں تنہا رہ جاتا. اور جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کہ فی الحال اتنا ایمان نہیں کہ صرف اللہ کی ذات پر یقین کر کے دہلی پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کے لیے مجاہدین کو دوڑا دیا جاتا. اور اگر دوڑا دیا جاتا تو اس ایمان اور وسائل کے ساتھ مجاہدین جا کر مودی کی گردن تو اتار لیتے شاید… لیکن مودی کے تخت پر بیٹھ کر فیصلہ تبدیل کروانا ممکن نہیں تھا.

    پھر یہی فیصلہ کیا گیا کہ آخری حد تک جانا چاہیے اور آخری ممکنہ حد یہی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ساری دنیا کے سامنے ڈنکے کی چوٹ پر پیش کیا جائے… ساری دنیا سے پوچھا جائے کہ اگر کشمیر واقعی بھارت میں شامل ہونا چاہتا ہے تو دو دن سے نیٹ سروس کیوں بند ہے…. ساری دنیا کو دکھایا جائے کہ کشمیر کی گلیوں میں بھارت کا حصہ بن جانے کے بعد سبز ہلالی پرچم لہرائے جاتے ہیں کہ ترنگے… اور اس کے بعد ساری دنیا کے سامنے کشمیر پر ہونے والے ظلم کی کہانی بیان کی جائے تا کہ دنیا کو پتہ چل جائے کہ پہلے جو بھارت الزام لگاتا تھا کہ پاکستان نے آزاد کشمیر میں فریڈم فائیٹر بٹھا رکھے ہیں وہ الزام غلط ہے اور فریڈم فائیٹر نہ ہونے کے باوجود کشمیری پھر بھی دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں.

    کشمیر یقیناً پاکستان کی شاہ رگ ہے… اور اس کی سلامتی یقیناً پاکستان کی سلامتی ہے. بات یہ نہیں کہ شہہ رگ دشمن کے حوالے کر دی گئی… وہ تو پہلے ہی دشمن کے ہاتھوں میں تھی. بات یہ ہے کہ پہلے دشمن نے شہہ رگ دبوچی ہوئی تھی اب دشمن کہتا ہے کہ یہ شاہ رگ میری ہے تمہاری نہیں. اور اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم عالمی برادری کو سمجھائیں کہ یہ شہہ رگ ہماری ہے بھارت کی نہیں.

    اب صورتحال یہ ہے کہ بھارت کی انتہائی کوشش کے باوجود عالمی عدالت میں پاکستان پر کوئی الزام نہیں کہ وہ فریڈم فائٹر کو آگے لا رہا ہے. پاکستان عالمی برادری میں تنہا نہیں ہونا چاہتا اور ہر حد تک جانے کے لیے تیار بھی ہے. یعنی پاکستان اپنا سافٹ ایمیج سب کے سامنے رکھ کر دنیا کو بتا رہا ہے کہ کشمیر میری خواہش ضرور ہے(دو قومی نظریہ کی وجہ سے ) لیکن میں زبردستی نہیں چھین رہا بلکہ شہہ رگ خود زور لگائے گی.

    جو احباب افغان مجاہدین کا موازنہ پاکستانی فوج یا پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ کر رہے ہیں ان سے مودبانہ گزارش ہے کہ علاقائی و جغرافیائی موازنہ بھی کر لیں. افغانستان میں بیس کیمپس ، افغانیوں کے گھر اور میدان جنگ ایک ہی جگہ پر ہیں … اور بات مجاہدین کے لیے فائدہ مند ہے. کشمیر میں مجاہدین کے بیس کیمپ پہلےتو تھے نہیں اور اگر چند ایک تھے تو وہ بھی میدان جنگ سے انتہائی فاصلے پر. جو لوگ تحریک آزادی کے ساتھ تھوڑا بہت لگاؤ رکھتے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کشمیر میں بیس کیمپ سے میدان جنگ تک کا سفر کتنا طویل اور کتنا پرکٹھن ہے.

    اس کے علاوہ افغانیوں کا بچہ بچہ راکٹ لانچر، کلاشنکوف چلانے میں ماہر ہے لیکن کشمیری بھائیوں میں جرات و شجاعت کی اتنی اور ایسی زبردست لہر برہان وانی کی شہادت کے بعد پیدا ہوئی جس نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیاتھا . بہر حال بیس کیمپ جو پہلے تھے اب نہیں رہے… تمام کشمیری قیادت جیل میں ہے. تو ایسی صورت میں افغانیوں سے کشمیریوں یا پاکستان کا موازنہ کرنا سراسر ناانصافی ہے

    اب آخری بات کہ پاکستان نے اس معاملے کو ستر سال تک کیوں لٹکائے رکھا تو اس کی وجہ یہی تھی کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اس لیے دنیا کے سامنے سٹینڈ نہیں لے سکا کیونکہ 1947 میں کشمیری مسلمان قیادت نے دوقومی نظریہ کو سائیڈ پر رکھ بھارت کا ساتھ دے دیا اور اسی وجہ سے اس وقت سے اب تک پاکستان دفاعی پوزیشن پر رہا . جب کشمیری حکومت خود انڈیا کے ساتھ ہو گئی تھی تو بین الاقوامی قوانین کے مطابق پاکستان کی پوزیشن کمزور ہو گئی.

    لیکن دو قومی نظریہ کی بنیاد پر اس نے کشمیریوں کا ساتھ پھر بھی نہیں چھوڑا. اور کیسا اور کہاں کہاں ساتھ دیا اس کا جواب میں نہیں دے سکتا کشمیر کی گلیوں میں لہراتے پاکستان پرچم بتا سکتے ہیں. اب جب کہ تمام حریت قیادت(سب اس وقت جیل میں ہیں یعنی بھارت کے پے رول پر نہیں ) کے ساتھ ساتھ محبوبہ مفتی بھی سمجھ چکی ہیں کہ عافیت دو قومی نظریہ میں ہی تھی تو پاکستان بھی اب مکمل طور پر سامنے آئے گا اور انہیں عافیت دینے کی مکمل کوشش کرے گا. اور اس بار اس کی لڑائی صرف بھارت سے ہو گی… نام نہاد مسلمانوں یا غداروں سے نہیں. اور دو قومی نظریہ ہی ان شا اللہ اس بار کشمیر کی آزادی کا فیصلہ کرے گا.

    پاکستان اپنی شہہ رگ بچانے کے لیے محدود وسائل اور محدود ایمان کے ساتھ زور لگا رہا ہے اور لگاتا رہے گا لیکن شاہ رگ کس کی ہے اس کا فیصلہ شہہ رگ اب خود کرے گی… شاہ رگ سے بہتا ہوا خون کرے گا اور یہ فیصلہ کیا ہو گا یہ وقت بتائے گا. باقی جہاں تک بات ہے بھارت سے جنگ کر کے کشمیر فتح کرنے کی تو جتنی بار کوشش اور جتنا وقت ہمارے اسلاف نے کسی ایک ملک کو فتح کرنے میں لگایا… اتنا تو لگ ہی سکتا ہے. بس ذرا کشمیریوں کو سنبھلنے کا موقع دے دیں…. کہ یہ شہہ رگ اپنے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے.

    فی الحال تو اس شہہ رگ کی طرف سے( چند بناوٹی وڈیوز اور پکچرز کے علاوہ) صرف ایک ہی کنفرم ٹویٹ سامنے آئی ہے.

    جب انٹرنیٹ سروس بحال ہو گی تب پتہ چلے گا کشمیر کی گلیوں اور شہداء کی قبروں پر کون سا پرچم لہرا رہا ہے. دور سے اور سالوں سے آزادی کے سبز باغ دکھانے والے پاکستان کا پرچم یا ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو قتل کرنے کے بعد انہیں گھر، سہولیات اور وسائل مہیا کرنے کے وعدے دینے والا ہندوستانی ترنگا…. !