Baaghi TV

Tag: Baaghi TV

  • آرٹیکل 370 اور مسئلہ جموں و کشمیر ۔۔۔ تحریر: حافظ معظم

    جنگی جنون میں مبتلا مودی حکومت نے خطے کے امن کو ایک بار پھر داؤ پر لگا دیا ہے، بھارتی حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے مقبوضہ کشمیر کی الگ خصوصی حیثیت کا حامل آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، اس قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر اور لداخ آج سے بھارتی یونین کا حصہ تصور کیا جائے گا، آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی، جغرافیائی اور مذہبی صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی، مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسایا جائے گا. دراصل بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، آرٹیکل 370 ختم ہونے سے فلسطینیوں کی طرح کشمیری بھی بے گھر ہوجائیں گے، کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیر مسلم کشمیر میں آ کر آباد ہوجائیں گے، غیر مسلم آبادکار کشمیریوں کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے اور یوں مسلم اکثریتی تناسب اقلیتی تناسب میں تبدیل ہو کر رہ جائے گا.

    آرٹیکل 35 اے کی رو سے

    کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں کشمیر کا شہری مانا جا سکتا تھا اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہوتا

    کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں و کشمیر میں کوئی جائیداد نہیں خرید سکتا تھا
    کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں و کشمیر میں مستقل شہریت حاصل نہیں کر سکتا تھا
    کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں و کشمیر میں ملازمت کا حقدار تسلیم نہیں کیا جاتا تھا
    دراصل آرٹیکل 35 اے جموں و کشمیر کے عوام کی مستقل شہریت کی ضمانت تھا، بھارت نے اسے منسوخ کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی ریاست کے درجے کو ختم کر دیا ہے، آرٹیکل 370 کی وجہ سے صرف تین ہی معاملات بھارت کی مرکزی حکومت کے کنٹرول میں آتے تھے.
    جن میں
    سیکیورٹی
    خارجہ امور
    کرنسی شامل ہیں،

    آرٹیکل 370 کے تحت ان اختیارات کے علاوہ باقی تمام اختیارات جموں و کشمیر حکومت کے کنٹرول میں تھے. اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے بھارت آرٹیکل 370 کی منسوخی کے زریعے کشمیریوں کے جداگانہ تشخص کو ختم کر کے اس متنازعہ علاقے میں غیر کشمیریوں کو لا کر بسانا چاہتا ہے تاکہ وہ جموں و کشمیر میں مسلم آبادی کا تناسب تبدیل کر سکے.
    جہاں ایک طرف آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارت اس علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے جا رہا ہے وہیں دوسری طرف اقوام متحدہ کی جموں و کشمیر کے حوالے سے قراردادیں اپنی رہی سہی اہمیت بھی گنوا چکی ہیں جن کے مطابق جموں کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ قرار دیا گیا تھا اور بھارت نے یو این میں وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دے گا لیکن افسوس یہ قراردادیں صرف فائلوں کی حد تک ہی محدود رہیں.
    قائد اعظم کے فرمان کے مطابق "کشمیر پاکستان کی شاہ رگ ہے” آج بھارت عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتا ہوا جموں و کشمیر پر اپنے غاصبانہ قبضے کو قانونی حیثیت دینے جا رہا ہے ایسے وقت میں حکومت پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کشمیر کاز کو بچانے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کرے، امریکہ سمیت عالمی دنیا سے کسی اچھے کی امید رکھنا احمقانہ سوچ ہو گی، ہمیں کشمیر کاز کو بچانے کے لیے جو بھی کرنا ہو گا خود کرنا ہو گا، کشمیری گزشتہ 7 دہائیوں سے پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑ رہے، وہ اپنا سب کچھ پاکستان پر قربان کر چکے ہیں آج ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ ہم زبانی دعووں کی بجائے عملی اقدام اٹھائیں اور مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں کے عین مطابق حل کروانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں.

  • صبح سویرےایمبولینس اور آئل ٹینکر میں تصادم کے نتیجہ میں 4افراد شدید زخمی

    مظفرگڑھ میں میت کو لے جانے والی تیزرفتار ایمبولینس بے قابو ہوکر ہزاروں لیٹر پٹرول سے بھرے ہوئے آئل ٹینکر سے ٹکراگئی،حادثے میں ایمبولینس پر سوار 4 افراد شدید زخمی ہوگئے.مظفرگڑھ میں ڈیرہ غازیخان روڈ پر باڑا سٹاپ کے قریب تیزرفتار ایمبولینس بے قابو ہوکر آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی.ریسکیو ذرائع کیمطابق ایمبولینس میں ایک شخص کی میت کو حاصل پور سے بصیرہ منتقل کیا جارہا تھا.حادثے میں ایمبولینس پر سوار میت کے لواحقین اور ڈرائیور سمیت 4 افراد شدید زخمی ہوگئے.حادثے کا شکار ہونے والے آئل ٹینکر میں 40 ہزار لیٹر پٹرول موجود ہونے کے باعث علاقے کو ٹریفک کے لیے بند کرکے ریسکیو آپریشن مکمل کیاگیا،ریسکیو آپریشن کے بعد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا.ریسکیو کے مطابق حادثے کے شکار ہونے والی ایمبولینس سے میت کو نکال کر دوسری ایمبولینس کے ذریعے بصیرہ منتقل کردیا گیا ہے.

  • 10ہزار لیٹر ڈیزل سڑک پر! امدادی کاروائیاں شروع۔

    تحصیل جتوئی میں تیزرفتاری کے باعث ڈیزل سے بھرا ہوا آئل ٹینکر الٹ گیا،ریسکیو ٹیموں نے علاقے کو ٹریفک کے لیے بند کردیا.مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی کے علاقے کوٹلہ رحم علی شاہ کے قریب تیزرفتاری کے باعث آئل ٹینکر الٹ گیا.پولیس کیمطابق آئل ٹینکر میں 10 ہزار لیٹر سے زائد ڈیزل موجود ہے.حادثے کے بعد پولیس اور ریسکیو 1122 نے علاقے کو ٹریفک کے لیے بند کردیاجبکہ الٹنے والے آئل ٹینکر سیدھا کرنے اور اس سے ڈیزل نکالنے کے لیے امدادی کاروائی جاری ہے.پولیس ذرائع کیمطابق حادثے کے شکار ہونے والے آئل ٹینکر کا ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا.

  • پیٹر دی گریٹ ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    پیٹر دی گریٹ ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    پیٹر دی گریٹ سترھویں صدی کے عظیم روسی سربراہ مملکت گزرے ہیں۔ آپ نے روس کو جدید خطوط پر یورپ کا ترقی یافتہ ملک بنا دیا۔ پیٹر دی گریٹ سے پہلے روس ہر لحاظ سے یورپ کا پسماندہ ترین ملک تھا۔ مذہبی طبقہ نے اقتدار کی ایوانوں میں پنجے گاڑھ رکھے تھے۔ علاقائی "ارباب” کی بدمعاشی قائم تھی۔ تاجر طبقے نے عوام کے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ ملک داخلی اور خارجی سطح پر عدم استحکام کا شکار تھا۔ ان حالات میں پیٹر دی گریٹ نے عقلمندی اور شعور سے کام لیتے ہوئے ملک میں اصلاحات کا عمل شروع کیا۔ کسی بھی ملک میں اصلاحات کے لیے مضبوط فوج کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر فوج کمزور ہو تو اصلاحات ایک خواب رہ جاتی ہے۔ افغانستان کے امیر امان اللہ خان کمزور فوج کی وجہ سے اصلاحات کا عمل ادھورا چھوڑ کر بھاگ گئے۔ پیٹر دی گریٹ نے سب سے پہلے فوج کو مضبوط اور ہمنوا کیا۔ تاکہ اصلاحات کے عمل میں کوئی خلل نہ پڑے۔ مضبوط فوج کی موجودگی میں پیٹر ہر شعبہ زندگی میں اصلاحات لانے کے عمل میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ آپ نے پہلی بار روس میں اخبار شروع کیا۔کیونکہ کسی نظریے اور اصلاحات کی ترویج کے لیے اخبار کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ روسی کلچر کو پروموٹ کیا۔ تعلیمی اصلاحات نافذ کیں۔ جدید خطوط پر نظام تعلیم کو استوار کیا۔ سائنس کو اہمیت دی۔ معاشی نظام کو بہتر کیا۔ تاجروں پر ٹیکس لگایا۔ مذہبی طبقہ کو محدود کیا۔غریبوں کے لیے وظائف مقرر کیے۔ پیٹر برگ کے نام سے جدید شہر آباد کیا۔ جس کو بعد میں دارالحکومت کا درجہ دیا گیا۔ یہ شہر اپنی خوبصورتی اور طرز تعمیر سے جدیدیت کا بے نظیر نمونہ پیش کر رہا ہے۔ پیٹر دی گریٹ نے مختصر عرصے میں اصلاحات کی بدولت پسماندہ ترین روس کو یورپ کا جدید ترین ملک بنا دیا۔ کسی ملک میں اصلاحات اور تبدیلی کے لیے مضبوط فوج، باعمل حکمران اور سوچ و جذبہ کار فرما ہونا بہت ضروری اور لازمی ہے۔

  • کشمیر کے موجودہ حالات اور حکومت پاکستان ۔۔۔ ازقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

    کشمیر کے موجودہ حالات اور حکومت پاکستان ۔۔۔ ازقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

    آزادی کا متوالا اب خود ہی قید کیوں؟؟؟؟؟
    سر سبز و شاداب کشمیر اب سرخ ولال کیوں؟؟؟؟

    ایک مشترکہ سوال جو ہم سب کے ذہنوں میں ہے کہ….!!!!
    کشمیر کے موجودہ حالات کا ذمہ دار کون ہے؟؟

    اپنی اس تحریر میں…میں حالات و واقعات کی روشنی میں اپنا نقطہ نظر واضح کرنے کی کوشش کروں گی…جس سے یقیناً آپ سب اتفاق کریں گے….
    اگر کبھی آپ کو اتفاق ہوا ہو کشمیر کی وادیوں کو بذات خود اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھنے کا….یا کبھی تصاویر میں کشمیر کا حسن دیکھا ہو تو…آپکی آنکھیں ضرور گواہی دیں گی…
    اس سر سبزو شاداب خطے کی دلکشی کی….
    وہاں کی شفاف فضاء کی…
    فر فر بہتے سفیدوسبز پانی کے دریائوں کی….
    اور قدرت کے خوبصورت رنگوں کی چمک کی….
    جو ہمیں یہاںدیکھنے کو میسر نہیں ….بڑی سے بڑی پینٹ کمپنی اپنے رنگوں میں وہ چمک اور دلکشی پیدا نہیں کر سکتی جو وہاں کے سر سبز خطوں میں ہے….
    لیکن یہ کیا….؟؟؟

    وہ خوبصورت رنگ مدھم کیوں پڑتے جا رہے ہیں…؟؟؟

    وہ خاموش پر سکون فضائیں چیخ وپکار سے کیوں گونج رہی ہیں…؟؟؟

    بہتے دریا کا سفید پانی اب سرخی مائل کیوں ہوتا جا رہا ہے…؟؟

    سر سبز کشمیر اب اپنی پہچان کھو کر سرخ و لال کیوں ہوتا جا رہا ہے…؟؟؟

    پرندوں کی میٹھی بولیوں کی جگہ مائوں کی دلدوز چیخیں کیوں سنائی دیتی ہیں؟؟؟

    بچوں کی کلکاریوں کی جگہ دہشت زدہ سہمی ہوئی گھٹی گھٹی آوازیں کیوں سماعت کو چیرتی ہیں؟؟؟؟

    نوجوان بچے اور بچیوں کی سکول و کالج جاتے ہوۓ ہنسی اور قہقوں کی آوازیں کہاں کھو گئ ہیں؟؟؟

    بڑی بوڑھوں کی لاٹھی کی ٹک ٹک (جو اپنے آس پاس والوں کو متوجہ کر کے احساس دلاتی تھی کہ بزرگ جا رہا ہے عزت سے سلام کیا جاۓ) وہ آواز وہ ٹک ٹک کس خوف سےخاموش ہو گئ ہے؟؟؟؟؟؟

    زندگی کتنی حسین ہے…
    اسکا مزہ لینے کی بجاۓ وہ لوگ ہر سانس اک قرض کی طرح کیوں لے رہے ہیں…؟؟؟

    زندگی کی نعمتوں سے فیض یاب ہونے کی بجاۓ وہ زندگی جیسی نعمت سے ہی محروم کیوں ہو رہے ہیں…؟؟؟

    وقت جو پر لگا کر گزر جاتا ہے…
    یہی وقت وہاں لمحوں کی قید سے آزاد نہیں ہوتا….لمحہ لمحہ سال کی طرح کیوں ہو گیا…؟؟؟ہم پاکستانی گرمی کی شدت سے پسینہ میں شرابور ہو کر شکایت کرنے لگتے ہیں….

    وہاں…کشمیری بچے اپنے ہی خون میں غوطہ زن ہو کر بھی والدین سےکیوں شکایت نہیں کرتے….؟؟؟

    آج یہاں ہماری اولاد میں سے کسی ایک کو بھی کوئ باہر کا بچہ پتھر مار دے تو ہم پورے طیش سے اسکے گھر جھگڑنے چلے جاتے ہیں….

    وہاں اولادیں قتل ہو رہی ہیں والدین حرف شکایت لبوں میں دبائے..سسکیوں اور آہوں کے درمیان رب تعالی سے زیر لب دعا گو کیوں ہیں… ؟؟؟

    نظریں دور کہیں افک پر ٹکی ہوئ ہیں….کہ کب کوئ قاسم …حافظ سعید بن کر آۓ اور اس ظلم کی زنجیر کی اک اک کڑی کو اپنی ایمانی طاقت و قوت سے توڑ ڈالے….

    آج یہاں والدین بیماری سے لڑتے ہیں….یہ سوچ کر کہ ہمارے بعد یہاں ہمارے بچوں کی نگہداشت کرنے والا کون ہو گا…؟؟؟

    وہاں والدین بچوں کی نگہداشت کرنے سے پہلے ہی شہیدکیوں کیے جا رہے ہیں…؟؟؟

    لکن ان معصوم بچوں کی امید بھری نگاہیں اب بھی بارڈر کے اس پار اس منظر کو دیکھنے کیلیے ٹکی ہوئی ہیں….

    کہ کب کوئی حافظ سعید کا سپاہی…سیف اللہ کی تلوار ہاتھ میں تھامے ایمان و قوت …شجاعت و حوصلے کے گھوڑے پر سوار ہو کر آۓ اور ظلم و جبر کی اس دنیا کا سر قلم کر دے….اور قید کے اندھیرے سے نکال کر آزادی اور ایمان کی روشنی میں لے آۓ….
    یہ ظلم کے اندھیرے کشمیر کی وادی پر کیوں چھا گئے ہیں…؟؟ میں بتاتی ہوں….

    انڈین 10 ہزار فوجی کشمیر مین ظلم و ستم کیلیے کیوں بھیجے گۓ….؟؟

    میں بتاتی ہوں…
    28 ہزار انڈین فوجی مقبوضہ وادی میں کیوں اتارے گۓ…؟؟؟
    میں بتاتی ہوں…
    قارئین کرام ….!!!

    وجہ بہت واضح اور صاف ہے…..
    جب کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرہ پر عملی طور پر کام کرنے والے دین کے ترجمان …حافظ سعید کو نظر بند کر دیا جاۓ گا…..
    تو یہی ہو گا نہ…؟؟
    جب اجلاس اور تقاریر میں چیخ چیخ کر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا احساس اجاگر کرنے والے حافظ سعید کی آواز کو زندان میں دبا دیا جاۓ گا۔
    ….تو پھر ایسا ہی ہو گا نہ….؟؟؟
    کشمیریوں کو جانے والی ہر وہ مدد جو حافظ سعید کے سپاہیوں کی شکل میں ان کو میسر تھی….ہمارے پاکستانی حکمرانوں کے فیصلے کی بھینٹ چڑھ کر ہر مدد ہر کاوش سلاخوں کے پیچھے قید ہو کر رہ گئ ہو تو ….

    ایسا تو ہونا ہی تھا نا…؟؟؟
    انڈین فوج سے لے کر انڈین حکمران تک جس آواز سے لرزتے تھے…وہ آواز دبا دی گئ ہو …
    تو ایسا تو ہوناہی تھا نا…؟؟
    جو وجود انڈیا اور کشمیر کے درمیان ظلم کے خلاف اک دیوار بن کے کھڑا تھا….وہ وجود ہی ہٹا دیا جاۓ …..
    تو بتاؤ کیا یہ نہیں ہونا تھا…؟؟؟
    اب تک انڈین فوج کے ہاتھ جس زنجیر سے بندھے تھے….وہ حافظ سعید اور انکے ساتھی ہی تو تھے…..
    اب تک جس للکار سے خوف کھا کر وہ بلوں میں چھپے بیٹھے تھے…وہ للکار حافظ سعید کی ہی تو تھی….
    اب تک انڈیا کے مذہبی رہنما ان کے مذہب سے متعلق سب سے بڑا خطرہ جس ذات کو بتاتے تھے …وہ نام وہ ذات حافظ سعید ہی تو تھے….

    مگر افسوس…!!! صد افسوس…!!!پاکستان کی اس پالیسی اور پاکستانی حکمرانوں کے اس فیصلے پر افسوس ہی تو کر سکتے ہیں…
    حکام اعلی …..!!!!سوچو ذرا….!!!اپنے کیے ہوۓ فیصلے پر نظر ثانی کرو کہ کہیں….
    کشمیر پر آنے والے اس ظلم کے عذاب کی وجہ ..تمہارا حافظ سعید کو گرفتار کرنے والا گناہ تو نہیں…؟؟؟؟

    کہیں حافظ صاحب کو گرفتار کر کے تم نے انڈیا کی کشمیر کو کچلنے اور اس زمین کو اپنا بنانے کی راہیں ہموار تو نہین کر دیں…؟؟؟

    ظلم و جبر کے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوۓ سمندر میں اب بھی ایک کشتی اس طوفانی ظلم کا سامنا کر کے کشمیر کو اس طوفان سے بچا سکتی ہے….

    اس کشتی کو زنجیروں سے آزاد کر کے تو دیکھو….!!!
    کہیں دیر نہ ہو جاۓ….

    اس سے پہلے کہ اس طوفان کی لہریں کشمیر کے ہر مسلمان گھر کو نگل لیں…تم حافظ سعید کو رہا کر دو….

    اتنی جانوں کا نقصان تم اپنے سر نہیں لے سکتے…پاکستانی حکمرانو اب بھی وقت ہے اپنی پالیسی کو بدلو…اپنے فیصلے کو مسترد کرو…کایا پلٹ سکتی ہے… بس حافظ صاحب کو رہا کرنے کی دیر ہے..

    سر سبز کشمیر اب سرخ و لال ہو رہا ہے….
    اے حافظ سعید تو کب آزاد ہو رہا ہے…
    کشمیر کا ہر باشندہ تجھے ہی پکار رہاہے….
    توڑ کہ غلط فہمیوں کا پھندہ تو کب رہا ہو رہا ہے….

  • افسوسناک خبر! مظفرگڑھ میں دو کمسن بچے غلطی سے کار میں بند ہونےپر دم گھٹنےسےجاں بحق

    مظفرگڑھ میں گاڑی میں بند ہوکر دم گھٹنے سے 2 بچے جاں بحق ہوگئے،دونوں بچوں کی عمریں 4 سے 5 سال کے درمیان ہیں.مظفرگڑھ کے علاقے محلہ کوتوال والا میں 4 سالہ عبداللہ اور 5 سالہ نعیم گلی میں کھڑی ہمسائے کی کار سے کھیلتے ہوئے غلطی سے کار کے دروازے اندر سے لاک کربیٹھے۔پولیس کیمطابق 2 گھنٹوں سے زائد کار میں بند رہنےکے سبب گرمی اور دم گھٹنے سےدونوں بچے کار میں ہی دم توڑ گئے.مختلف جگہوں پر2 گھنٹوں کی تلاش کے بعد اہلخانہ نے بچوں کو کار میں مردہ حالت میں دیکھا تو علاقہ میں کہرام مچ گیا۔بچوں کی لاشوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال مظفرگڑھ منتقل کیاگیا جہاں ڈاکٹروں نے بچوں کی موت کی تصدیق کردی.پولیس کیمطابق واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں.

  • ایک مسیحا چاہیے، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام ۔۔۔ تحریر : رفیع شاکر

    ایک مسیحا چاہیے، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام ۔۔۔ تحریر : رفیع شاکر

    ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عدالتی نظام انصاف اور پولیس میں بہت زیادہ اصلاحات کی اشد ضرورت ہے ۔ جہاں پر ایک ملزم ۔! جی ہاں ایک ملزم جس پر صرف کوئی الزام ہوتا ہے جبکہ وہ الزام ابھی ثابت نہیں ہوا ہوتا ہے مگر اس انسان کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ انسان اور انسانیت کی تذلیل کی انتہا ہوتی ہے ۔ جس کو ذلیل رسوا خوار کر کر کے 1 سال سے 20 سال کے بعد بے گناہ لکھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے مگر اس کی وہ جو تذلیل ہوتی ہے جو اس کی عزت کا جنازہ اٹھتا ہے اس کے بعد تو جیسے وہ مر ہی جاتا ہے اور ایک زندہ لاش بن جاتا ہے ۔ پہلے پہل تو پولیس کسی بھی سچے یا جھوٹے الزام میں کسی کو بھی ایک سادہ سی درخواست پر دھر لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی تو درخواست کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے بس کسی کی فرمائش یا پولیس کی اپنی مرضی پر بھی منحصر ہوجاتا ہے اور اس انسان کو حوالات میں بند کردیا جاتا ہے ۔

    حوالاتوں میں جو ماحول ہے وہاں جانور بھی رہنا گوارہ نا کریں کوئی سہولت نہیں ہوتی ہے ہر طرف بدبو کا راج کہیں بجلی نہیں ہوتی تو کہیں مچھر جو بھی شریف النفس انسان صرف کسی الزام میں ہی حوالات میں چلا جائے تو ساری زندگی اس حوالات کے گندے ماحول کا خیال اس کے ذہن سے نہیں جاتا ہے۔ پھر اس کے اس کی جو چھترول اور گندی گندی گالیوں سے خدمت کی جاتی ہے وہ بھی اس کے اندر کے انسان اور انسانیت کو مار دیتی ہیں جبکہ قیدیوں کی تربیت پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے شائد کاغذوں میں ایسے منصوبے چلتے ہوں مگر عملی طور پر نظر نہیں آتے ہیں۔ تاکہ وہ اس جیل سے باہر نکلنے کے بعد اپنی اصلاح کرتے ہوئے اچھے شہری بن سکیں بلکہ وہاں پر ان کی شناسائی ایسے عادی مجرموں سے ہوجاتی ہے کہ پہلے مجرم نا ہونے یا چھوٹے موٹے ہونے کے بعد بڑے بڑے گروہوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

    اس کے بعد پولیس کا اس کو بے گناہ لکھنے کرنے کے لیے ( بے گناہ ہونے کے باوجود ) اس کو قرضے لے کر یا اپنی جمع پونجی لٹا کر ہی وہ عدالتی لمبے سسٹم سے گزر کر بے گناہ ہو پاتا ہے ۔ پھر اس کو جیل میں بھیج دیا جاتا ہے وہاں پر بھی اس کو ہر سہولت یا ضروریات زندگی کی چیزیں حاصل کرنے کے لیے جگہ جگہ پر رشوت دینی پڑتی ہے ۔

    پھر وکیلوں کی باری آتی ہے تو وہ بھی اس کے مال و دولت پر اپنے دونوں ہاتھ اچھے سے صاف کرتے نظر آتے ہیں ۔ اس کے بعد پیشیاں در پیشیاں چلتی رہتی ہیں کئی مہینے سال بلکہ زندگی لگ جاتی ہے اپنے آپ کو بے گناہ ہونے کے باوجود بے گناہ ثابت کرنے کے لیے ۔

    ہم نے اپنے نظام انصاف کو چھوڑ کر انگریزوں کے کالے قانون کو اپنے لیے نجات کا راستہ سمجھ لیا اور اپنے اسلامی نظام انصاف کو چھوڑ دیا اور آج ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اب اس نظام کو ختم کیوں نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے پولیس سے عدالت وکیل اور ان کے ساتھ وابستہ افراد کا روزگار چل رہا ہے اور سیاستدانوں کی سیاست بھی کامیابی کے ساتھ دن دگنی رات چگنی ترقی کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔

    جو حقیقت حال احوال خود ملزم یا الزام علیہ خود جواب دے سکتا ہے وہ کوئی بھی نہیں دے سکتا ہے مگر ہزاروں لاکھوں کی فیس ادا کرکے وکیل رکھنا ضروری ہے کیوں کیونکہ یہ ہمارا فرسودہ قانون ہے ۔؟

    بے گناہ ہونے کے باوجود پولیس کا اس کو پکڑنا پھر کیس بنا کر عدالتوں میں اس مظلوم کا اتنا ذلیل و خوار ہونا کیوں ۔؟

    دوسری طرف جس کے ساتھ واقعی کوئی ظلم زیادتی ہوتی ہے اس کو حصول انصاف کے لیے پہلے ایف آئی آر کروانا بہت مشکل ہے جب آیف آئی آر کے موجودہ کیس کی نوعیت کے مطابق وہ تفتیشی افسر کو رشوت نا دے یا کسی سیاسی بااثر شخصیت کا حکم یا اجازت نامہ لے کر نا آئے اس کی شنوائی نہیں ہوتی ہے ۔ پھر وکیل جج عدالتیں پیشیاں در پیشیاں چلتی رہتی ہیں مگر انصاف حاصل کرنے کے لیے زندگی لگ جاتی ہے

    بلکہ یہ کہنا بھی غلط نا ہوگا کہ انصاف خریدنے کے لیے زندگی لگ جاتی ہے کیونکہ جگہ جگہ پر رشوت دینی پڑتی ہے تو ایسے گھٹیا نظام انصاف کو آخر کیوں تبدیل نہیں کیا جاتا ہے ۔؟

    آخر کب تک اس ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عوام کو فوری اور سستا انصاف مل پائے گا آخر ستر سالوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس نظام کو بہتر کرنے میں کون رکاوٹ ہے ۔آخر انسانوں کو کب تک ذلیل و خوار کیا جاتا رہے گا ۔؟
    آخر وہ کون ہوگا جو عام آدمی کے مسائل کے حل کرنے کی مخلصانہ کوشش و عمل کرے گا اس قوم کو اب بھی کسی مسیحا کی تلاش ہے ۔ موجودہ سیاستدان تو صرف اپنے پروٹوکول اور ذاتی مفادات کے لیے گرداں نظر آتے ہیں چھوٹے چھوٹے کام کرکے بس عوام کو بے وقوف بناتے رہتے ہیں مگر اس ملک اور قوم کو آج تک شائد کوئی مسیحا نہیں مل سکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • عیدالاضحی پر ریلیز ہونے والی پاکستانی فلمیں  تحریر: فہد شیروانی

    عیدالاضحی پر ریلیز ہونے والی پاکستانی فلمیں تحریر: فہد شیروانی

    پاکستانی فلم انڈسٹری پر عرصے سے طاری جمود آہستہ آہستہ ٹوٹتا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ریلیز ہونے والی فلمز نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بہت طویل عرصے کے بعد اس عیدالاضحی پر کئی پاکستانی فلمز نمائش کے لئے سینماز میں پیش کی جارہی ہیں۔ ان میں سے کئی فلمز میں پاکستانی نامور فلمسٹار اپنی اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آئیں گے۔ امید کی جارہی ہے کہ یہ فلمز پاکستانی فلم انڈسٹری کو مزید پروان چڑھانے میں اپنا کردار بخوبی ادا کریں گی۔

    سپر سٹار:
    پاکستان فلم انڈسٹری کی سب سے بڑی سپر سٹار ماہرہ خان کی ڈرامہ فلم "سپر سٹار” 12 اگست کو عید کے دن ہم فلمز کے بینر تلے شائقین فلم کے لئے سینماز میں نمائش کے لئے پیش کی جائے گی۔ پروڈیوسر مومنہ درید کی پروڈکشن میں بننے والی فلم کے مرکزی کرداروں میں ماہرہ خان، بلال اشرف، ندیم بیگ، جاوید شیخ، مرینہ خان، اسماء عباس، علیزے شاہ اور علی کاظمی اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آئیں گے۔ عدنان شاہ ٹیپو، کبری خان، ہانیہ عامر، عثمان خالد بٹ، مانی، سائرہ شہروز، فہیم برنی اور وہاج علی نے فلم میں مہمان اداکار کا کردار ادا کیا ہے۔ ٹیلنٹڈ محمد احتشام الدین نے فلم کی ڈائریکشن کے فرائض سرانجام دئیے ہیں۔ علی اور مصطفی آفریدی کے قلم سے نکلے خوبصورت الفاظ نے اس فلم کی انفرادیت میں بھرپور اضافہ کیا ہے۔ "سپر سٹار” کا سکرین پلے اور میوزک اذان سمیع خان کی تخلیق ہے۔ "سپر سٹار” کا ٹریلر عنقریب ریلیز ہونے والی فلمز میں سب پر سبقت لے چکا ہے اور شائقین فلم کے ریلیز ہونے کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

    پرے ہٹ لو:
    پروڈیوسر شہریار منور اور عاصم رضا کی 12 اگست کو ریلیز ہونے والی فلم ” پرے ہٹ لو” میں پاکستان کے مایا ناز ڈائریکٹر عاصم رضا نے ہدایتکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ ARY فلمز کے بینر تلے ریلیز ہونے والی اس فلم میں نمایاں کردار ہر دلعزیز حنا دلپذیر، شہریار منور، مایا علی، ندیم بیگ، احمد علی بٹ اور فریحہ الطاف نے ادا کئے ہیں۔ عمران اسلم نے اس فلم کر تحریر کیا ہے جبکہ فلم کا میوزک اذان سمیع خان نے ترتیب دیا ہے۔ خوبصورت لوکیشنز پر فلمائی گئی اس فلم کے ٹریلر نے ابھی سے شائقین فلم کے دل موہ لئے ہیں ۔

    ہیر مان جا:
    اظفر جعفری کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم "ہیر مان جا” عیدالاضحی پر سینما گھروں کی زینت بننے جارہی ہے۔ جیو فلمز کے بینر تلے ریلیز ہونے والی اس رومانٹک کامیڈی فلم میں پاکستان کی حسین اداکارہ حریم فاروق، آمنہ شیخ، علی رحمان، سلیم معراج، عابد علی، اور فیضان شیخ نمایاں کردار ادا کرتے دکھائی دیں گے۔ فلم کو امان الحقی، عمران رضا کاظمی، حریم فاروق اور عارف لاکھانی نے پروڈیوس کیا ہے۔ اویس بلوچ کی عمدہ تحریر اور جملوں پر مشتمل "ہیر مان جا” کا ٹریلر اس وقت عوام کی بھرپور توجہ کا باعث بنا ہوا ہے۔

    پاکستان کی فلم انڈسڑی اور شائقین کی امیدیں ان فلموں سے وابستہ ہو چکی ہیں۔امید کی جارہی ہے کہ یہ فلمز شائقین فلمز کو دوبارہ سینما ہالز کا رخ کرنے پر مجبور کر دیں گی۔

  • پاکستان نے کشمیریوں کیلئے دعاؤں کا پیغام بھجوایا ۔۔۔ وقاص احمد

    پاکستان نے کشمیریوں کیلئے دعاؤں کا پیغام بھجوایا ۔۔۔ وقاص احمد

    بھارتی راجیہ سبھا میں بی جے پی صدر /وزیر داخلہ امیت شاہ کی طرف ایک قرارداد پیش کی گئی جس کی حمایت میں125 ووٹ جبکہ مخالفت میں 61 ووٹوں کے ساتھ پاس کرکے سمری بھارتی صدر کو بھیج دی گئی جسے دستخط کرکے مقبوضہ وادی کشمیر میں آرٹیکل 35-A منسوح کرکے مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارت میں ضم اور کشمیر کا اسپیشل ریاستی سٹیٹس ختم کر دیا گیا،
    واضح رہے کہ بھارت اسرائیل کے نقش قدم پر چل کر اب وہاں آبادی کا تناسب تبدیل کررہا ہے جہاں پہلے ہزاروں فوجی کالونیاں بناکر ہندووں پنڈتوں کو آباد کیا گیا،اب رہے سہے کشمیریوں کو ایل او سی کے آس پاس کے علاقوں میں دھکیل کر ان کو مہاجر یا اقلیت ظاہر کر کے کشمیر پر مستقل قبضہ مسلط کر لے گا،
    اور اس طرح ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مسئلہ کشمیر کو خاموش کر دیا جائے گا
    واضح رہے قرارداد پیش کرنیوالا وہی بدنام زمانہ امیت شاہ ہے جس نے الیکشن میں مودی سرکار کی کامیابی کیلئے کشمیر میں خودکش حملہ کروا کہ اپنے ہی چالیس فوجی جوانوں کی قربانی کا بکرا بنا دیا تھا، اس کے علاوہ تمام غیر قانونی کاموں مساجد پر حملے،مسلمان کا قتل ،دلتوں ،سکھوں کے مقدس مقامات پر قابض ہوکر مندروں میں تبدیل کرنے کیلئے حکومتی سطح پر بھی امیت شاہ کی خدمات لی جاتی ہیں،
    کشمیر کی صورتحال دن بہ دن مزید بگڑتی جارہی ہے ،شبیر شاہ کے علاوہ یسین ملک شدد علالت میں تہاڑ جیل میں قید ہیں،سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق ،آسیہ اندرابی سمیت تمام حریت لیڈر نظر بند ہے ،پوری وادی میں کرفیوں نافذ ہے،گزشتہ چار دن سے کشمیریوں کو گھروں میں محصور رکھا ہوا،پیٹرول ادویات ،اشیأ ضروریات زندگی میں شدید قلت کا سامنا ہے اس صورتحال میں جہاں پاکستان کشمیریوں کا واحد وکیل اور سہارا سمجھا جاتاتھا اب یہ ایٹمی پاکستان سر سبز گرین پاکستان اور خطہ میں اکنامک ٹائیگر بننے کے خواب سجائے اپنی دھن میں مگن اپنے فارن منسٹر کو جلتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی مدد کے لیئے فریضہ حج پر بھیج کر وہاں سے کشمیریوں کیلئے خصوصی دعاؤں کا پیغام بھجوایا گیا ہے،

    کشمیریوں نے پاکستان پر ہونے والے بھارتی حملوں کو اپنے اوپر لیتے ہوئے پاکستان کی خاطر جان کی بازیاں لگا دی کشمیر اصل میں اپنی ہی نہیں بلکہ پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں،اور انہیں یہ قربانیاں دینے میں ایک بار لغزش نہیں آئی،بلکہ وہ اسے اپنا مذ ہبی فریضہ سمجھتے ہوئے شھادت نوش کرتے ہیں،
    ایک دفعہ کشمیریوں کی مدد کیلئےبات گئ کہ جن کشمیریوں کے گھروں ،بستیوں اور باغات کو انڈین آرمی نے کیمکل ہتھیار استمعال کرتے ہوئے آگ لگا دی ان کی مدد کیلئے کچھ امداد پاکستان سے بجھی جائے،تو جب یہ پیغام کشمیریوں تک پہنچا تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے امداد لینے سے انکار کر دیا کہ ہماری قربانی اللہ کی رضا کی خاطر ہے اور یہ امداد لینے سے دکھاوا اور لالچ سے ہماری قربانیاں رائیگاں نہ چلی جائیں،
    آرٹیکل 35-A کی منسوحی سے جہاں کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ گرائے گئےتو یہاں محب وطن پاکستانیوں میں شدید غم و غصہ ہے،
    جبکہ حکومت پاکستان اس معاملے میں مکمل طور پر بے حِس دکھائی دیتی ہے بیانات اور واضح پالیسی کی بجائے ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے
    جبکہ معتبر حلقوں میں یہ بازگشت جارہی ہے پاکستانی حکمرانوں کی مرضی کے بغیر انڈیا اتنا بڑا فیصلہ نہیں لے سکتا،اگر تو یہ بات درست تو عمران خان صاحب یہ آپ کی بیک چینل ڈپلومیسی کسی کشمیری اور پاکستانی کیلئے قابل قبول نہیں اورنہ ہی یہ پاکستان کے لئیے نیک شگون ثابت ہوگی،
    وزیر اعظم عمران خان صاحب ہمیں بھی سر سبز گرین پاکستان چاہیے مگر کشمیر کے بغیر نہیں ،
    شاہ محمود قریشی صاحب اللہ نے آپ کو حج کی سعادت نصیب فرمائی مگر کشمیر بھائیوں کیلئے تو مساجد میں نماز پر پابندی لگا دی گئی،
    آپ حج پہ دعا ضرور کریں مگر کشمیری بہنوں کی عزتیں کو تار تار ہونے سے بھی بچائیں،
    آرمی چیف صاحب آپ کور کمانڈ کانفرنس ضرور بلائیں مگر اعلامیہ نعرہ تکبیر ہونا چاہیے

  • مظفرگڑھ میں پولیس کا سرچ آپریشن،9افراد گرفتار اسلحہ برآمد

    مظفرگڑھ کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران پولیس نے 9 افراد کو گرفتار کرکے ان سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کرلیا گیا.مظفرگڑھ کے علاقے چوک سرور شہید اور اطراف کے علاقوں میں گرینڈ سرچ آپریشن جاری ہے.پولیس ترجمان وسیم خان گوپانگ کیمطابق آپریشن میں پولیس اور ایلیٹ فورس کے 200 سے زائد افسران اور اہلکار شریک ہیں.گھروں کی چیکنگ اور بائیومیٹرک تصدیق کے بعد 9 ملزمان گرفتار.پولیس ترجمان وسیم خان گوپانگ کیمطابق گرفتار کیے گئے ملزمان سے بھاری مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا ہے.