Baaghi TV

Tag: #BaaghiTV #Strike #exclusive

  • محکمہ موسمیات کے مطابق آج اور کل سرگودہا میں بارش کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق آج اور کل سرگودہا میں بارش کا امکان

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی)محکمہ موسمیات کی پیشین گوئی کے مطابق سرگودہا میں آج بروز جمعتہ المبارک اور کل ہفتہ کے روز سرگودہا میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا مکان ہے گزشتہ کئی روز سے سرگودہا میں شدید گرمی اور حبس نے لوگوں کا جینا دو بھر کر رکھا ہے سورج اپنی پوری شدت سے آگ برسا رہا ہے جبکہ آج موسم ودرے خوشگوار ہے آسمان پر بادلوں کا راج ہے جس سے بارش کی نوید مل رہی ہے عید کے روز بھی سرگودہا میں شدید گرمی تھی گرمی سے لوگوں کا برا حال ہے معمولات زندگی متاثر ہیں لوگ آج صبح سے بارش کی دعا کر رہے ہیں موسم کے کروٹ بدلتے ہی چہروں پر خوشی کے آثار نمودار ہو گئے ہیں

  • 22 برس گزر جانے کے باوجود نصرت فتح علی خان آج بھی دلوں پر راج کرتے ہیں

    22 برس گزر جانے کے باوجود نصرت فتح علی خان آج بھی دلوں پر راج کرتے ہیں

    شہنشاہ قوال اور موسیقی کے بے تاج بادشاہ استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 22 برس بیت گئے لیکن ان کی خوبصورت آواز کا جادو آج بھی دلوں پر راج کرتا ہے۔
    نصرت فتح علی خان نے 16 سال کی عمر میں صوفی قوالی کا رنگ اپنایا اور قوالی کے ساتھ غزلیں،کلاسیکل اور صوفی گیت بھی گائے۔ وہ ہارمونیم، طبلہ اور دیگر آلات بجانے کے فن سے بھی خوب آشنا تھے۔
    پاکستان، بھارت، برطانیہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے منفرد صوفی انداز سے سب کو اپنا گرویدہ بنانے والے استاد نصرت فتح علی خان نے اردو، پنجابی اور فارسی زبان میں قوالیاں اور غزلیں گائیں جنہیں بے حد سراہا گیا۔
    انہوں نے قوالیوں اور غزلوں سمیت ملی نغمے بھی گائے جن میں ’میرا پیغام پاکستان‘ سب سے زیادہ مقبول ہے۔
    نصرت فتح علی خان نے متعدد قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز حاصل کیے۔
    قوال کی حیثیت سے ایک سو پچیس آڈیو البم ان کا ایک ایسا ریکارڈ ہے، جسے توڑنے والا شاید دوردورتک کوئی نہیں، ان کی شہرت نے انہیں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ دلوائی، دم مست قلندر مست ، علی مولا علی ، یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے، میرا پیاگھر آیا، اللہ ہو اللہ ہو اور کینا سوہنا تینوں رب نے بنایا، جیسے البم ان کے کریڈٹ پر ہیں، ان کے نام کے ساتھ کئی یادگار قوالیاں اور گیت بھی جڑے ہیں۔انہوں نے متعدد بھارتی فلموں کے گانوں میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایا، خاص کر بالی وڈ کی مشہور فلم دھڑکن کا گانا ‘دولہے کا سہرا سہانا لگتا ہے’ کو تو بے حد پزیرائی ملی۔
    ٹائم میگزین نے دوہزار چھ میں ایشین ہیروز کی فہرست میں ان کا نام بھی شامل کیا، بطور قوال ا اس عظیم فنکار کو کئی بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ن کی کئی قوالیوں اور گیتوں کو پاکستان اوربھارت کے گلوکاروں نے اپنے اپنے انداز میں گایا ہے۔
    شہنشاہ قوال نصرت فتح علی خان جگر اور گردے کی تکلیف کے باعث 16 اگست 1997 کو دنیائے فانی سے کوچ کرگئے لیکن ان کے گائے گئے گیت امر ہوگئے آج ان کی بائیسویں برسی منائی جا رہی ہے

  • اردو کے معروف ادیب اور محقق کا آج یوم پیدائش ہے

    اردو کے معروف ادیب اور محقق کا آج یوم پیدائش ہے

    سید وقار عظیم کی پیدائش *

    17 نومبر 1976ء کو اردو کے معروف ادیب، نقاد،مترجم، محقق اور ماہر تعلیم پروفیسر سید وقار عظیم وفات پاگئے۔

    سید وقار عظیم 15 اگست 1910ء کو الٰہ آباد (یوپی) میں پیدا ہوئے تھے۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی ٹی کیا۔ الٰہ آباد یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ دہلی سے تدریس کا آغاز کیا۔ اسی دوران حکومت ہند کے سرکاری ادبی جریدے آج کل کے مدیر ہوگئے۔ قیام پاکستان کے بعد محکمہ ٔ مطبوعات و فلم ماہ نو کے بانی مدیر مقرر ہوئے۔ 1949ء میں لاہور چلے آئے اورنقوش کی ادارت سنبھالی۔ 1950ء میں اورینٹل کالج لاہور میں اردو کے لیکچرر مقرر ہوئے۔ اور 1970ء تک اسی کالج سے وابستہ رہے۔ اسی دوران اقبال اکیڈمی، مرکزی اردو بورڈ مجلس ترقی ادب، مجلس زبان، دفتری اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ و تصنیف و تالیف میں بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ غالب کی صد سالہ تقریبات پر 1969ء میں انہیں پہلا غالب پروفیسر مقرر کیا گیا۔ سید وقار عظیم، اردو کے افسانوی ادب کے اولین نقاد شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اٹھارہ کتابیں تصنیف کیں جن میں افسانہ نگار، داستان سے افسانے تک، نیا افسانہ، ہماری داستانیں، فن اور فن کار، ہمارے افسانے، شرح اندر سبھا، اقبال بطور شاعر، فلسفی اور اقبالیات کا تنقیدی جائزہ کے نام سرفہرست ہیں۔ سید وقار عظیم نے 17 نومبر 1976ء کو لاہور میں وفات پائی اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔۔!!!

  • شیخ امام بخش ناسخ کون تھے اور ان کی خدمات کیا ہیں

    شیخ امام بخش ناسخ کون تھے اور ان کی خدمات کیا ہیں

    *آج – ١٥ ؍ اگست ١٩٣٨*

    *لکھنؤ کے ممتاز اور رجحان ساز کلاسیکی شاعر, غالبؔ کے ہم عصر، بانی زبان دان دبستانِ لکھنؤ اور زبان شناس مقبول استاد شاعر” شیخ امام بخش ناسخ ؔ صاحب “ کا یومِ وفات…*

    نام *شیخ امام بخش، ناسخ* تخلص۔ *۱۰ ؍اپریل ۱۷۷۲ء* کو *فیض آباد* میں پیدا ہوئے۔ کہاجاتا ہے کہ ایک شخص مسمیٰ خدا بخش خیمہ دوزنے، جو لاہور کا ایک دولت مند سوداگر تھا اور اس کی کوئی اولاد نہ تھی، ان کو متبنّٰی کرلیا تھا۔ ناسخ سے اسے اولاد کی طرح محبت تھی اور ان کی تعلیم وتربیت کا خاص خیال رکھا ۔ *محمد عیسیٰ* جو *مصحفیؔ* کے شاگرد تھے ان سے مشورہ سخن کرتے تھے۔ ناسخ کو ورزش کا بہت شوق تھا۔بڑ ے تن وتوش اور قوی ہیکل آدمی تھے۔ خوراک بہت تھی۔ تمام عمر مجرد رہے۔بہت وضع دار آدمی تھے۔ *غازی الدین حیدر* کے زمانے میں لکھنؤ گئے۔ بادشاہ موصوف ان کو دربار سے متعلق کرنا چاہتے تھے اور *ملک الشعرا* کا خطاب دینا چاہتے تھے۔ ناسخ نے خطاب قبول نہیں کیا۔ بادشاہ کو غصہ آگیا اور *ناسخ* کو لکھنؤ چھوڑنا پڑا۔ *١٥ ؍اگست ۱۸۳۸ء* کو انتقال کرگئے۔ دو دیوان ان کی یادگار ہیں۔
    *وزیرؔ،بحرؔ،برقؔ ، رشکؔ، منیرؔ* ان کے شاگرد تھے۔ *ناسخؔ* کو *دبستان لکھنؤ کا بانی زبان دان* اور *زباں شناس* کہا گیا ہے۔تاریخ گوئی میں ان کو خاص ملکہ تھا۔

    *ممتاز شاعر امام بخش ناسخ ؔ کے یومِ وفات پر منتخب اشعار بطورِ خراجِ عقیدت…*

    *آنے میں سدا دیر لگاتے ہی رہے تم*
    *جاتے رہے ہم جان سے آتے ہی رہے تم*

    اے اجل ایک دن آخر تجھے آنا ہے ولے
    آج آتی شبِ فرقت میں تو احساں ہوتا

    دریائے حسن اور بھی دو ہاتھ بڑھ گیا
    انگڑائی اس نے نشے میں لی جب اٹھا کے ہاتھ

    *دیکھ کر تجھ کو قدم اٹھ نہیں سکتا اپنا*
    *بن گئے صورتِ دیوار ترے کوچے میں*

    فُرقتِ یار میں انسان ہوں میں یا کہ سحاب
    ہر برس آ کے رلا جاتی ہے برسات مجھے

    ہم مے کشوں کو ڈر نہیں مرنے کا محتسب
    فردوس میں بھی سنتے ہیں نہرِ شراب ہے

    گیا وہ چھوڑ کر رستے میں مجھ کو
    اب اس کا نقشِ پا ہے اور میں ہوں

    *فرقت قبولِ رشک کے صدمے نہیں قبول*
    *کیا آئیں ہم رقیب تیری انجمن میں ہے*

    جس قدر ہم سے تم ہوئے نزدیک
    اس قدر دور کر دیا ہم کو

    *جستجو کرنی ہر اک امر میں نادانی ہے*
    *جو کہ پیشانی پہ لکھی ہے وہ پیش آنی ہے*

    کام اوروں کے جاری رہیں ناکام رہیں ہم
    اب آپ کی سرکار میں کیا کام ہمارا

    *رفعت کبھی کسی کی گوارا یہاں نہیں*
    *جس سر زمیں کے ہم ہیں وہاں آسماں نہیں*

    کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی تلوار
    تلوار کی تلوار ہے رفتار کی رفتار

    *کس طرح چھوڑوں یکایک تیری زلفوں کا خیال*
    *ایک مدت کے یہ کالے ناگ ہیں پالے ہوئے*

    لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میں
    نام لے لے کر ترا راتوں کو چلاتا ہوں میں

    *معشوقوں سے امیدِ وفا رکھتے ہو ناسخؔ*
    *ناداں کوئی دنیا میں نہیں تم سے زیادہ*

    منہ آپ کو دکھا نہیں سکتا ہے شرم سے
    اس واسطے ہے پیٹھ ادھر آفتاب کی

    *خواب ہی میں نظر آ جائے شبِ ہجر کہیں*
    *سو مجھے حسرتِ دیدار نے سونے نہ دیا*

    سیہ بختی میں کب کوئی کسی کا ساتھ دیتا ہے
    کہ تاریکی میں سایہ بھی جدا رہتا ہے انساں سے

    جسم ایسا گھل گیا ہے مجھ مریض عشق کا
    دیکھ کر کہتے ہیں سب تعویذ ہے بازو نہیں

    تمام عمر یوں ہی ہو گئی بسر اپنی
    شبِ فراق گئی روزِ انتظار آیا

    تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت
    ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں

    تازگی ہے سخن کہنہ میں یہ بعد وفات
    لوگ اکثر مرے جینے کا گماں رکھتے ہیں

    وہ نہیں بھولتا جہاں جاؤں
    ہائے میں کیا کروں کہاں جاؤں

    *زندگی زندہ دلی کا ہے نام*
    *مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں*

    زلفوں میں کیا قید نہ ابرو سے کیا قتل
    تو نے تو کوئی بات نہ مانی مرے دل کی

    *ہیں اشک مری آنکھوں میں قلزم سے زیادہ*
    *ہیں داغ مرے سینے میں انجم سے زیادہ*

    ●•●┄─┅━━━★✰★━━━┅─●•●

    *امام بخش ناسخؔ*

  • ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سرگودہا میں جشن آزادی کی تقریب

    ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سرگودہا میں جشن آزادی کی تقریب

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی) ڈسٹرکٹ بار ایسو ای ایشن سرگودہا میں جشن آزدای کی پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں خصوصی شرکت کمشنر سرگودہا،ڈی پی او حسن مشتاق سکھیرا اور ایم این اے عامر سلطان چیمہ ،انصر ہرل نے کی تقریب کی میزبانی ملک احمد عاصم اعوان سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار ایسوای ایشن نے کی اس موقع پر سینئر وکیل نصیر احمد چیمہ سابق صدر ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن عنصر عباس بلوچ کے علاوہ دیگر وکلاء نے شرکت کی تقریب میں قومی پرچم لہرایا گیا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ہم کسی صورت بھارت کے جبری مسلط کو قبول نہیں کریں گے قائد اعظم نے بطور وکیل پاکستان کا کیس احسن انداز میں پیش کیا اب یہ وکلاء کی ذمہ داری ہے کہ کشمیریوں کے کیس کو ہر فورم پہ احسن انداز سے پیش کریں تقریب میں ڈسٹرکٹ بار کی عمارت پہ پرچم کشائی بھی کی گئی

  • ضلعی انتظامیہ سرگودہا کی جانب سے "یکجہتی کشمیر "ریلی کا انعقاد

    ضلعی انتظامیہ سرگودہا کی جانب سے "یکجہتی کشمیر "ریلی کا انعقاد

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی)ضلعی انتظامیہ سرگودہا کی جانب سے کمپنی باغ سرگودہا میں "جشن آزادی مبارک "اور "کشمیر بنے گا پاکستان "ریلی کا انعقاد کیا گیا ریلی کی قیادت ایم این اے عامر سلطان چیمہ ،صوبائی وزیر عنصر مجید نیازی، کمشنر سرگودہا،آر پی او سرگودہا افضال احمد کوثر ،ڈی پی او حسن مشتاق سکھیرا اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے کی ریلی میں عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی ریلی کے شرکاء نے کشمیری پرچم اٹھا کر کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا شرکاء کا کہنا تھا کہ ہم کشمیریوں کو تنہا نہییں چھوڑیں گے اور ہر مخاذ پر ان کا ساتھ دیں گے ملک بھر میں آج یوم آزادی کی تقریبات کے ساتھ ساتھ یکجہتی کشمیر ریلیاں نکالی گئیں جس میں عوام نے بھرپور شرکت کی سرگودہا میں بھی سرکاری احکامات کی پابندی کرتے ہوئے کمپنی باغ میں ریلی کا انعقاد کیا گیا

  • سرگودہاجشن آزادی کے حوالے سے پرچم کشائی کی پروقار تقریب

    سرگودہاجشن آزادی کے حوالے سے پرچم کشائی کی پروقار تقریب

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )جناح ہال کمپنی باغ سرگودہا میں جشن آزادی کے حوالے سے پرچم کشائی کی خصوصی تقریب منعقد کی گئی تقریب میں آر پر او سرگودہا افضال احمد کوثر اور ڈی پی او سرگودہا حسن مشتاق سکھیرا نے پولیس کے چاق و چوبند دستے کے ہمراہ سلامی پیش کی اس موقع پر وزیر اعظم کے مشیر ندیم افضل چن،صوبائی وزیر عنصر مجید نیازی ،ایم این اے عامر سلطان چیمہ اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے خضرات نے خصوصی شرکت کی سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنٹ تھا کہ سرگودہا شہر میں جشن آزادی کی تقریب منعقد کرنا خوش آئند ہے انتظامی سطح پر اس طرح کی قومی تقریبات منعقد کرنی چاہیئں تاکہ نئی نسل تک اچھی روایات منتقل ہو سکیں

  • سرگودہا پریس کلب کی جشن آزادی کے حوالے سے خصوصی تقریب

    سرگودہا پریس کلب کی جشن آزادی کے حوالے سے خصوصی تقریب

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )سرگودھا پریس کلب میں جشن آزادی کی تقریب منعقد کی گئ اس حوالے سے کیک کاٹا گیا، اس موقع پر مہمان خصوصی ملک عزیزالحق رھنماء تحریک انصاف رانالیاقت کےعلاوہ صدر پریس کلب مہرآصف حنیف نے خصوصی شرکت کی دیگر ممبران پریس کلب میں ملک اصغر ،عمران گورائیہ، عبدالحنان چوھدری،مجاہد بخاری.جاوید گجر ،بلال مون سمیت دیگر صحافیوں اور ممبران پریس کلب نے بھرپور شرکت کی اس موقع پر ملک عزیزالحق، صدر پریس کلب مہرآصف حنیف سمیت دیگر مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ھوئے کہا کہ یہ ملک پاکستان بڑی قربانیوں کےبعد آزاد ھوا ہے اور ھمارےبڑوں نے اپنا تن من دھن قربان کرکے یہ ملک حاصل کیاہے، مقبوضہ کشمیر ھمارا ھے انشاءاللہ کشمیریوں کی جدوجہد جلد رنگ لائے گی وہ دن دور نہیں جب کشمیری اپنی آزادی کا جشن منائیں گے ہم بطور صحافی کشمیریوں کی آواز بلند کرتے رہیں گے اور ہر فورم پر بھارتی مظالم کو بے نقاب کریں گے صدر پریس کلب مہر آصف خنیف نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافت ریاست کا ستون ہے صحافیوں نے کشمیریوں کی آواز بلند کر کے صحافت کا حق ادا کیا ہے اور بھارتی عزائم کو بے نقاب کیا ہے ہم آئندہ اس سے بھی بڑھ کر ملکی مسائل علاقائی مسائل کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی آواز بھرپور اور مؤثر انداز سے ہر فورم اور ہر سطح پر بلند کریں گے تقریب کے اختتام پر "پاکستان زندہ باد”کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگائے گئے”ممبران پریس کلب کو صدر پریس کلب کی جانب سے خصوصی کھانا دیا گیا

  • یوم آزادی کے حوالے سے پرچم کشائی کی تقریب جناح ہال سرگودہا میں منعقد کی گئی

    یوم آزادی کے حوالے سے پرچم کشائی کی تقریب جناح ہال سرگودہا میں منعقد کی گئی

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )یوم آزادی کے حوالے سے جشن آزادی کی اور پرچم کشائی کی پر وقار تقریب جناح ہال کمپنی باغ سرگودہا کمپنی باغ سرگودہا میں منعقد ہونے والی تقریب میں آر پی او سرگودھا افضال احمد کوثرکے علاوہ معاون خصوصی وزیر اعظم پاکستان ندیم افضل چن۔کمشنر سرگودھا شیخ ظفر اقبال۔ ڈپٹی کمشنر سرگودھا آسیہ گل،ڈی پی او سرگودھا حسن مشتاق سکھیرا صوبائی وزیر عنصر مجید نیازی ایم این اے عامر سلطان چیمہ اور سول سوسائٹی کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سبز ہلالی پرچم کو سلامی دی۔ تقریب میں قومی سنوکر چیمپئن اسجد اقبال کو ایک لاکھ کا نقد انعام بھی دیا گیا بعد ازاں آزادئ کشمیر کیلیے خصوصی دعا بھی کی گئی

  • ملک کے سابق وزیر اعظم کی تاریخ پیدائش 14 اگست ہے

    ملک کے سابق وزیر اعظم کی تاریخ پیدائش 14 اگست ہے

    غلام مصطفی خان جتوئی 14 اگست 1931ء پاکستان کے بزرگ سیاستدان اور سابق نگراں وزیراعظم غلام مصطفی خان جتوئی کی تاریخ پیدائش ہے۔
    غلام مصطفی خان جتوئی کے والد غلام رسول جتوئی کئی مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
    انہوں نے 1956ء میں مغربی پاکستان اسمبلی کی رکنیت سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔
    1962ء اور 1965ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
    1967ء میں جب پاکستان پیپلزپارٹی کا قیام عمل میں آیا تو وہ اس کے اساسی ارکان میں شامل ہوئے۔
    1970ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1971ء میں جب ملک میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو وہ مرکزی کابینہ کے رکن بن گئے۔
    1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں صوبہ سندھ کا وزیراعلیٰ مقرر کیا ۔ 1977ء میں وہ بلامقابلہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعدازاں متفقہ طور پر وزیراعلیٰ بھی بن گئے۔
    1977ء میں ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کے لئے بڑا فعال کردار ادا کیا اور 1983ء میں ایم آر ڈی کی تحریک کی قیادت بھی کی۔
    مارچ 1986ء میں جب بے نظیر بھٹو نے ان سے مشورہ کئے بغیر سندھ پیپلزپارٹی کی قیادت میں بنیادی تبدیلیاں کی تو انہوں نے اسے بڑا محسوس کیا اور وہ پاکستان پیپلزپارٹی سے علیحدہ ہوگئے۔
    1986ء میں ہی انہوں نے اپنی سیاسی جماعت نیشنل پیپلزپارٹی قائم کی۔ 1988ء کے عام انتخابات میں وہ کامیاب نہ ہوسکے مگر اگلے ہی برس وہ کوٹ ادو کی ایک نشست پر ضمنی انتخابات میں منتخب ہوکر نہ صرف قومی اسمبلی کے رکن بنے بلکہ متحدہ اپوزیشن کے سربراہ بھی بن گئے۔
    6 اگست 1990ء کو بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ نگراں وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔
    وہ 1990ء، 1993ء اور 1997ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تاہم 2002ء اور 2008ء کے عام انتخابات میں انہوں نے حصہ نہیں لیا۔
    20 نومبر 2009ء کوغلام مصطفی خان جتوئی لندن کے سینٹ میری اسپتال میں وفات پاگئے۔وہ نیو جتوئی کے مقام پر آسودۂ خاک ہیں۔۔!!!