Baaghi TV

Tag: #BaaghiTV #Strike #exclusive

  • ٹانک،ہیلتھ آفیسر کے گھر دستی بم سے حملہ،ذمہ دارکون؟

    ٹانک،ہیلتھ آفیسر کے گھر دستی بم سے حملہ،ذمہ دارکون؟

    ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر احسان بیٹنی کے گھر دستی بم سے حملہ ہوا ،حملے میں کوئی جانی نقصان رونماء نہیں ہوا، ڈاکٹر احسان نے اپنے محکمہ صحت کے کلرک کو حملے کا ذمہ دار قرار دے دیا پولیس نے کلرک کو گرفتار کرلیا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی

    تفصیلات کے مطابق رات گئے 3 بجکر 40 منٹ پر میاں لال موڑ کے قریب واقع ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ٹانک ڈاکٹر احسان کی رہائش گاہ پر دستی بم حملہ کیا گیا ہے حملہ میں خوش قسمتی سے کسی بھی قسم کا کوئی جانی نقصان رونماء نہیں ہوا ہے تاہم ایک گاڑی کی ونڈ سکرین ٹوٹ گئی ہے سٹی پولیس کو رپورٹ کرتے ہوئے ڈاکٹر احسان نے اپنے ہی محکمہ صحت کے ایک کلرک پر دعویداری ظاہر کی ہے پولیس نے ڈی ایچ او کی رپورٹ مقدمہ درج کرکے کلرک کو گرفتار کرلیا ہے پولیس کے مطابق مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے

  • ٹانک کو گیس کی فراہمی 2 ماہ سے بدستور بند ،شہری شدید مشکلات کا شکار

    ٹانک کو گیس کی فراہمی 2 ماہ سے بدستور بند ،شہری شدید مشکلات کا شکار

    ٹانک کو گیس کی فراہمی 2 ماہ سے بدستور بند ہے،گیس بحران سے شہری مشکلات کا شکار ہیں

    تفصیلات کے مطابق ضلع ٹانک کو گزشتہ دو ماہ سے گیس کی سپلائی صرف دن کے اوقات میں کی جارہی ہے دوران سپلائی بھی گیس پریشر ناقابل استعمال حس تک کم کردیا جاتا ہے جبکہ صبح اور شام کو جن اوقات میں گیس کی فراہمی گھریلو کام کاج کیلئے بے حد ضروری ہوتی ہے ان اوقات میں گیس کی سپلائی بلکل بند کردی جاتی ہے جس سے شہری اور خصوصا خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

    تاریخ میں پہلی مرتبہ کچھ دن پہلے سوئی گیس آفس ٹانک سے گیس لوڈ شیڈنگ کا شیڈول بھی جاری ہوا جس میں ٹائم بھائی ٹائم ٹوٹل 24 گھنٹوں میں 10 گھنٹے عوام کو گیس میسر ہو گی مسلسل گیس کی بندش کے خلاف شہریوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے شہریوں نے صوبائی حکومت اور اعلی حکام سے اصلاح و احوال کا مطالبہ کیا ہے

  • کراچی،شہریوں سے چھینا جھپٹی میں ملوث ملزم گرفتار

    کراچی،شہریوں سے چھینا جھپٹی میں ملوث ملزم گرفتار

    گلشن معمار سے شہریوں سے چھینا جھپٹی میں ملوث ملزم گرفتار کر لیا ۔پولیس نے دوران گشت نادرن بائی پاس نزد انڈس ٹاؤن کے قریب کارروائی کی۔گرفتار ملزم سے غیر قانونی اسلحہ بمعہ لوڈ میگزین برآمد کر لی گئیں پولیس نے ملزم کے زیر استعمال بغیر نمبر پلیٹ مشکوک موٹرسائیکل بھی تحویل میں لے لی۔

    ملزم نزیر احمد ولد فدا حسین نے گلشن معمار اور اطراف کے علاقے میں چھینا جھپٹی کی وارداتوں کا اعتراف کیا۔ملزم کیخلاف مقدمہ درج کر کے ، تفتیش شروع کر دی گئی ،ملزم سے برآمد اسلحہ فارنزک معائنے کیلئے بھیجا جائے گا۔

  • ووٹ پر سب سے زیادہ ڈاکہ کہاں پڑ تا ہے،رہنما پاکستان پیپلز پارٹی نے بتا دیا

    ووٹ پر سب سے زیادہ ڈاکہ کہاں پڑ تا ہے،رہنما پاکستان پیپلز پارٹی نے بتا دیا

    مرکزی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات پیپلز پارٹی چودھری منور انجم کی میڈیا سے خصوصی گفتگو

    اپنی گفتگو میں چوہدری منور انجم نے کہا کہ جمہوریت کی آزادی کیلیئے پنجاب بھرپور کردار ادا کریگا، ووٹ پر ڈاکہ سب سے ذیادہ پنجاب پر پڑتا ہے ، عمران خان سے این آر او نہیں استعفے مانگتے ہیں،
    سلیکٹڈ کو اب گھر نہیں جیل جانا ہے ،

    جبکہ دوسری جانب باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ میری خواہش ہے کہ درمیانی راستہ نکلے تاہم اگر اپوزیشن استعفے دینا چاہتی ہے تو شوق سے دے،

    ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز کے دورہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق وزارت داخلہ نے بہتری کی ہے اور مزید کرے گی ،شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی کل ملاقات ہوئی ہے اور بلاول نے استعفوں کا ایٹم بم چلانے کی دھمکی دے دی ہے لیکن مجھے یقین ہے وہ پھلجھڑی ہوگی کیونکہ پیپلزپارٹی جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے اور اس نے ہمیشہ جمہوری عمل کو سپورٹ کیا۔ تاہم کچھ لوگ انتہائی قدم اٹھانا چاہتے ہیں تاکہ جمہوریت بند گلی میں داخل ہوجائے اور خدانخواستہ جمہوریت کو کوئی خطرات لاحق ہوجائیں۔

  • میاں محمود الرشید مریم نواز کی ضمانت خارج کروانے کے حامی کیوں نہیں؟مبشر لقمان کو خصوصی انٹرویو میں بتا دیا

    میاں محمود الرشید مریم نواز کی ضمانت خارج کروانے کے حامی کیوں نہیں؟مبشر لقمان کو خصوصی انٹرویو میں بتا دیا

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی صوبائی وزیر برائے ہاؤسنگ و کالونیز میاں محمود الرشید سے خصوصی گفتگو

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے صوبائی وزیر میاں محمود الرشید کو مبارکباد دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اس حکمت عملی کی سمجھ نہیں آئی کہ دس جماعتوں کا جلسہ اور صرف گیارہ ہزار لوگوں کا آنا آخر یہ آپ نے کیسے کیا؟ جس کے جواب میں صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ یہ سب سے پہلے اللہ نے کیا ہے کہ پی ڈی ایم کا جلسہ ناکام ہوا ہے

    صوبائی وزیر میاں محمود الرشید نے نے مزید پی ڈی ایم جلسے کی ناکامی کے اسباب بتاتے ہوئے کہا کہ ایک تو 13 دسمبر کا دن اور رات کے وقت 6 بجے جلسہ کرنا یہ ناکامی کی وجہ ہے اور اسے مریم نواز نے بھی تسلیم کیا ہے دوسرا مریم نواز جس انداز سے آٹھ نکلیں ان کے بیانیے کو اہل لاہور نے پسند نہیں کیا کرونا کے دنوں میں لوگوں کو موبلائز کرنا بیوقوفی تھی اس پر سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ لاہور میں لکی ایرانی سرکس والے بھی تین دن سے زیادہ نہیں لگاتے ان کو پتہ ہے کہ لوگ نہیں آئیں گے

    صوبائی وزیر میاں محمود الرشید نے کہا کہ لاہوریے بیوقوف نہیں ہیں کہ وہ کوویڈ کے دنوں میں نکلیں صوبائی وزیر نے کہا کہ میں نے جلسے سے دو دن قبل اہل لاہور سے کہا تھا کہ آپ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے اور اس طرح کے کسی جلسے میں نہیں جائیں گے جس سے لوگوں کی جان کو خطرہ ہو انہوں نے مزید کہا کہ یہ مسلم لیگ ن کے لیے بڑا سوالیہ نشان ہے کہ تحت لاہور کا دعویٰ ان کا خاک میں مل گیا ہے اور حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کی بجائے یہ جلسہ ان کی سیاست میں آخری کیل ثابت ہوا ہے یہ کہتے تھے کہ لاہور جلسہ ریفرنڈم ہو گا تو عوام نے ریفرنڈم کر دیا ہے اور اہل لاہور نے فیصلہ دے دیا ہے

    اس پر سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ پی ڈی ایم کی جماعتیں مریم نواز سے سخت نالاں ہیں جس کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ انہیں بالکل نالاں ہونا چاہیے کیوں کہ مریم نواز پر اعتماد تھیں کہ لاہور نکلے گا اور لاکھوں لوگ جلسے میں آئیں گے مگر ایسا نہیں ہوا اور جلسے کے چشم دید گواہوں کو کہنا ہے کہ جلسے میں گیارہ ہزار سے لوگوں سے زیادہ لوگ نہیں تھے

    سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے سوال اٹھایا کہ حکومت کی نا اہلی ہے کہ ایک عورت ضمانت پہ باہر ہے اور حکومت اس کی ضمانت کینسل کرانے میں ناکام ہے جس کے جواب میں صوبائی وزیر میاں محمود الرشید نے کہا کہ یہ وفاق کا کام ہے کہ وہ دیکھے کہ ان کی ضمانت خارج کروانی ہے اور کب کروانی ہے لیکن میری ذاتی رائے میں ان کی ضمانت خارج نہیں کروانی چاہیے جس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اس سے بہتر موقع کیسے مل سکتا ہے کہ مریم نواز خود ہی ایکسپوز ہو گئی ہیں ،جس طرح سے وہ اپنی پارٹی کو تباہی کی طرف لے کے جا رہی ہیں تو وہ اپنا کام خود تمام کرکے ہمارا کام آسان کر رہی ہیں ہم اس چیز سے لطف اندوز ہو رہے ہیں

  • پی ڈی ایم کا آر پار تحریر: کنول زہرا

    پی ڈی ایم کا آر پار تحریر: کنول زہرا

     
     
     
     
    پی ڈی ایم کا آر پار
    تحریر: کنول زہرا
     
    یوں تو پی ڈی ایم کا مفہوم پاکستان ڈیموکرڈیڈ موؤمنٹ ہے, مگر بہت سے لوگ اسے پاکستان ڈکیت موؤمنٹ کہتے ہیں, جب میں نے ان سے پوچھا کہ ایسا کیوں تو انہؤں نے اس گیارہ رکنی  اتحاد کی کلی کھول کر میرے سامنے کچھ اس طرح رکھی,
    امریکی مصنف رے مونڈ ڈبلیو بیکر نے اپنی  کتاب کیپیٹلزم اچیلیس ہیل میں انکشاف کیا کہ     نواز شریف نے ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے دو بار اقتدار کے دوران $ 418 ملین کا مالی فائدہ اٹھایا۔،
    یہ کتاب نواز شریف سمیت تاریخ کے سب سے زیادہ تسلط رکھنے والے سیاسی خاندانوں کی بدعنوانی اور ان کی جائیدادیں ، اور بے تحاشا دولت جمع کرنے کے بارے میں ہے۔
     
    اس کتاب کے مطابق ، 1990 میں وزیر اعظم کی حیثیت سے وزیر اعظم کے پہلے دور میں کم از کم 160 ملین ڈالر کا غبن کیا ، یہ کرپشن اپنے آبائی شہر لاہور سے اسلام آباد تک شاہراہ تعمیر کرنے کے معاہدے کے دوران کی گئی۔
    کم از کم140 ملین ڈالر کا پاکستان اسٹیٹ بینکس سے غیر محفوظ قرضوں سے فائدہ اٹھایا ۔ نواز شریف اور ان کے کاروباری ساتھیوں کے زیر انتظام ملوں کے ذریعہ برآمد کی جانے والی چینی پر سرکاری چھوٹ سے 60 ملین ڈالر سے زیادہ کا مال کمایا۔
    کم از کم 58 ملین ڈالر امریکا اور کینیڈا سے درآمدی گندم کی ادائیگی کی قیمتوں سے اسکیم ہوئی۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گندم کے معاہدے میں ، شریف حکومت نے واشنگٹن میں اپنے ایک قریبی ساتھی کی نجی کمپنی کو قیمت سے کہیں زیادہ ادائیگی کردی۔ گندم کی غلط انوائسز نے لاکھوں ڈالر نقد رقم بٹوری۔
    کتاب کے جائزے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "اس بدعنوانی کی حد اور وسعت اتنی حیرت انگیز ہے کہ اس نے ملک کی سالمیت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔” نواز شریف کے دور میں ، بغیر معاوضہ بینک قرض اور بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری دولت مند ہونے کے لئے پسندیدہ راستہ بنی رہی۔
    اقتدار سے محروم ہونے پر ، غاصب حکومت نے سب سے بڑے قرض نادہندگان میں سے 322 کی ایک فہرست شائع کی ، جس میں بینکوں کو واجب الادا 4 بلین ڈالر میں سے تقریبا$ 3 بلین ڈالر کی نمائندگی کی گئی تھی۔ شریف اور ان کے اہل خانہ کو 60 ملین ڈالر میں ٹیگ کیا گیا۔
    1999 میں پرویز مشرف نے تحقیقات کی ، نواز شریف پر مقدمہ چلا ، عمر قید کی سزا سنائی گئی ، لیکن پھر 2000 میں انہیں جلاوطن کرکے سعودی عرب بھیج دیا گیا۔    امریکی مصنف نے اپنی اس کتاب میں نواز شریف کی کرپشن کے  بارے دستاویزاتی ثبوت بھی فراہم کئے ہیں ۔ اس کتاب میں حدیبیہ پیپرز مل اسکینڈل کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے جبکہ منی لانڈرنگ کے ذریعے 643 ملین روپے کا فراڈ بھی شامل ہے ۔ رائیونڈ اسٹیٹ کی ڈویلپمنٹ کے نام پر قومی خزانہ سے 620 ملین لوٹے گئے تھے ۔ ریمنڈ بیکر لکھتا ہے کہ نواز شریف نے بی ایم ڈبلیو گاڑیوں کی خریداری میں کرپشن کی تھی کرپشن کے ذریعے مری میں جائیداد خریدی گئی ۔ منی لانڈرنگ کے لئے پاسپورٹ جعلی بنائے گئے ۔
    کوہ نور انرجی مل کے نام پر 450 ملین لوٹے گئے اور قانون سازی کر کے بلیک منی کو وائٹ کیا گیا جبکہ بنکوں کے 35 ارب روپے کے قرضے معاف کرائے گئے ۔   نواز شریف پر بطور وزیر خزانہ پنجاب اور بعد میں بطور وزیراعلی پنجاب اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات لگے ۔ خاص کر 1988/89 کی آڈیٹر جنرل کی رپورٹ جس میں نواز شریف پر قومی خزانے کو کم از کم 35 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام لگا۔
    وزارت عظمی کے پہلے دور میں نواز شریف پر بینکوں کے کئی سو ارب روپے کی غیر قانونی قرضے جاری کرنے ( کم از کم 675 ارب روپے )، کواپریٹیو سوسائیٹیز اسکینڈل ،  گندم فراڈ ، موٹر وے فراڈ اور پیلی ٹیکسی اسکیم میں فراڈ کرنے کے الزامات لگے ۔ ان تمام معاملات میں نواز شریف پر کل ملا کر کم از کم 1000 ارب روپے سے زائد کی کرپشن کے الزامات ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ انہی وجوہات کی بنا پر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت برطرف کی تھی ۔
    28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ پاکستان سے سزا یافتہ, سیاست ؤ حکمرانی کے لئے تاحیات نااہل مجرم  نوازشریف پر نجکاری کے عمل میں سب سے زیادہ کرپشن کرنے کے الزامات ہیں ۔ سپریم کورٹ سے سزایافتہ اور نااہل نواز شریف نے کئی اہم ادارے کوڑیوں کے مول بیچ کرخرید اس سلسلے میں متعدد  لوگوں کو بطور فرنٹ مین استعمال کیا ۔ ان لوگوں میں میاں محمد منشاء کا نام سر فہرست ہے ۔
    نواز شریف پر یہ بھی الزام ہے, انہوں نے رمضان شوگر مل اور اپنی رائونڈ کی رہائش گاہ کے لیے اربوں روپوں سے سڑکوں کی تعمیروغیرہ جسے ذاتی امور پر سرکاری رقم خرچ کی.
    ۔1997 میں نواز شریف نے غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس فریز کر کے لوگوں کو کم از کم 11 ارب ڈالر کا نقصان دیا ۔ یہ اتنا بڑا نقصان تھا جسکی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔۔۔۔
    سستی روٹی اسکیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس اسکیم میں قومی خزانے کو کم از کم 40 ارب روپے کا نقصان دیا گیا.
    اسی طرح لیپ ٹاپ اسکیم اور میٹرو بس پراجیکٹ میں بھی نواز شریف پر اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں ۔ صرف میٹرو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس پراجیکٹ میں نواز اینڈ کمپنی نے کم از کم 30 ارب روپے کی کرپشن کی اور منصوبہ پر لگائی گئی اصل رقم کے اعداد و شمار چھپانے کے لیے ریکارڈ تک جلا دیا گیا۔۔۔
    پاکستان میں کام کرنے والی آئی پی پیز کو نواز شریف نے اقتدار میں آتے ہی 400 ارب روپے منتقل کیے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا اصل مالک میاں محمد منشاء نہیں بلکہ نواز شریف خود ہے ۔
    اس کے علاوہ نواز شریف پر پاکستان سے باہر غیر قانونی جائداد رکھنے اوراربوں روپے کے منی لانڈرنگ کے الزامات بھی ہیں.
    نواز شریف پر مختلف قومی اداروں میں غیر قانونی بھرتیا ں کرنے کا الزام ہے جن میں ایف آئی اے اور پی آئی اے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب بھر میں اہم پوسٹوں پر اپنے پسندیدہ بندے تعئنات کروائے ۔
    نواز شریف نے مہنگی گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی کم کروائی تاکہ وہ اور اس کے ساتھی مہنگی ترین گاڑیاں آسانی سے درآمد کر سکیں ۔
    انہیں غیر قانونی ہیلی کاپٹر رکھنے کے الزام میں سزا بھی سنائی جا چکی ہے ۔ اس کے علاوہ بڑے میاں صاحب کے خلاف مختلف عدالتوں اور نیب میں کئی طرح کے کیسز زیر سماعت ہیں.
    نوازشریف جب بھی اقتدار میں آتے ہیں تو اپنے رشتے اور قربی ساتھیوں میں اچھے اچھے عہدے بانٹ دیتے ہیں اور اس سلسلے میں کوئی میرٹ نہیں دیکھا جاتا۔ مثلاً اس وقت نواز شریف کے خاندان کا کوئی فرد ایسا نہیں جس کے پاس کوئی بہت بڑا عہدہ نہ ہو اور وہ سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے کی تنخواہ اور مراعات نہ لے رہا ہو۔
    نواز شریف جمہوریت کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن وہ خود آمریت کی پیدوار ہیں ۔ ان کو جنرل ضیاء کی فوجی حکومت سیاست میں لائی اور اس کو یہاں تک پہنچانے میں مدد دی ۔ اس سلسلے میں آئی جے آئی والا معاملہ کافی مشہور ہے, جب سے ان کی حقیقت کھول کر سامنے آئی ہے لندن میں بیٹھ کرپاکستان افواج پر چڑھائی کر رہے ہیں.
     
    نواز شریف بارہا قوم سے کئے گئے اپنے وعدوں سے پھر گئے مثلاً آصف زرداری کی لوٹی گئی رقم واپس لانے کا معاملہ جب سوئس حکومت رقم دینے پر تیار تھی اور ان کو صرف خط لکھنا تھا تب نواز شریف نے زرداری سے اپنے حق میں تیسری بار وزیراعظم بننے کے لیے آئنی ترمیم کروا لی اور بدلے میں افتخار چودھری کے ذریعے خط والا معاملہ لٹکا دیا اور دو سال نکلوا دئیے ۔
    اور اسی طرح کئی معاملات پر وہ دوغلا رویہ رکھتے ہیں ۔ مثلاً جب غلام اسحاق خان نے بے نظیر کی حکومت کرپشن کے الزامات کے تحت گرائی تو اس نے اس اقدام کی پرزور تائید کی لیکن جب کچھ عرصے بعد اسی صدر نے اسکی اپنی حکومت انہی الزامات کے تحت گرانی چاہی تو اس نے صدر کا یہ آئینی حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
     
    نواز شریف کے پاکستان دشمنوں سے قریبی تعلقات رہے ہیں ۔ ان میں انڈیا اور جیو اور جنگ گروپ جیسے متنازعہ ادارے اور لشکر جھنگوی کے دہشت گرد شامل ہیں ۔ انکے علاوہ پاکستان کی چند متنازعہ ترین شخصیات جیسے عاصمہ جہانگیر ، نجم سیٹھی سے بھی قریبی تعلقات ہیں اور ان کو اہم ترین عہدوں پر فائز کرتے رہے ہیں ۔
    نواز شریف نے اپنے دور میں پاکستان کی افغان مجاہدین کی امداد روکنے کی کوشش کی تھی ان کے علاوہ ان پر کشمیری مجاہدین سے غداری کرنے کا الزام بھی ہے ۔
     
    نواز شریف کے ہر دور حکومت میں مہنگائی ، بیرونی قرضے اور ڈالر کی قیمت بے اندازہ بڑھ جاتی ہے ۔ جبکہ ادارے یا تباہ ہو جاتے ہیں یا بیچ دئیے جاتے ہیں ۔ مثلاً آخری بار جب پرویز مشرف نے مارشل لاء لگایا تو زرمبادلہ کے ذخائر صرف 400 ملین ڈالر رہ گئے تھے اور پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ لوگ اتنے تنگ تھے کہ مارشل لاء لگنے پر لاہور میں لوگوں نے مٹھائیاں بانٹیں ۔
     
    نواز شریف پر صحافی خریدنے اور ان کو ہراساں کرنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں ۔
     
    نواز شریف اکثر اہم ترین قومی اداروں کے ساتھ حالت جنگ میں ہوتے ہیں ۔ ان میں سب سے اہم ادارہ افواج پاکستان کا ہے ۔ جس کی وجہ سے ایک بار فوج نے انکا تختہ بھی الٹ دیا تھا ۔ ان کے علاوہ وہ سپریم کورٹ پر بھی حملہ کر چکے ہٰیں جبکہ کم از کم دو بار ان کی ایوان صدر کے ساتھ بھی جنگ رہی ۔ جس کے نتائج بعد میں اس کو خود بھی بھگتنا پڑے ۔
     
    نواز شریف کے ہر دور میں پنجاب پولیس اسٹیٹ بن جاتی ہے اور پولیس کی جانب سے لوگوں کو حراساں کرنے اور قتل کر دینے کے واقعات بھی عام ہو جاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ماڈل ٹاؤن کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے.
     
    نواز شریف نے کئی بار کشمیر کاز کو بے پناہ نقصان پہنچایا خاص کر کارگل کی جنگ میں انہوں نے پاکستان کو شرمندہ کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی.
    ڈاکٹر عبدالقدیر سمیت کئی لوگوں نے کہا ہے کہ نواز شریف ایٹمی دھماکے کرنے کے خلاف تھے اور کئی اہم ترین لوگوں کے پریشر پر مجبوراً دھماکے کیے ۔
    نواز شریف نے پاکستان کے حاضر سروس چیف آف آرمی سٹآف پرویز مشرف کا طیارہ اترنے نہیں دیا اور ان کو انڈیا بھجوانے کی کوشش کی,  بعد ازاں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا ۔
    پاک ایران گیس پائپ لائن جیسا اہم نوعیت کا قومی منصوبہ نواز شریف کی ہٹ دھرمی کی نطر ہوگیا۔ جبکہ ڈیموں کے لیے نواز شریف کے پاس ہمیشہ بجٹ میں رقم نہیں ہوتی ۔
    نواز شریف پر ٹیکس چوری کا الزام بھی ہے. وہ پاکستان کی امیر ترین شخصیت ہونے کے باوجود بہت معمولی ٹیکس ادا کرتے ہیں.
    پیپلزپارٹی کسی دور میں پاکستان کی مقبول سیاسی جماعت سمجھی جاتی تھی اب صرف سندھ کی ہو کر رہی گئی ہے, یہاں کا بھی الله ہی حافظ ہے, کراچی کے شہریؤں سمیت اندروں سندھ  کے عوام  پینے کے صاف پانی، پکی سڑکوں اور دیگر بنیادی ضروریات سے محروم ہیں. وزیراعظم پاکستان عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل کے مطابق,  ن لیگ اور پیپلز پارٹی بظاہر دو مخالف  مگر اندر سے ایک ہیں، دونوں کےدرمیان نظریات کا ڈھونگ، نوراکشتی اور سیاسی مخالفت صرف عوام کو بے وقوف بنانےکے لیے ہے,  اوپر سے جتنی مخالفت کریں کرپشن کے محاذ پر ن لیگ اورپیپلزپارٹی کا نظریہ بالکل ایک ہے،کرپشن کے لیے ایسے طریقے اختیار کیے گئے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ شریف خاندان کی ٹیلی گرافک ٹرانزیکشنز (ٹی ٹیز) اور زرداری خاندان کے جعلی اکاؤنٹس کرپشن کی داستان میں قدرمشترک ہیں، نواز شریف نے لوٹ مار کی دولت کے تحفظ کے لیے 1992ء میں قانون بنا دیا تھا، قانون یہ بنایا گیا کہ باہر سے جو بھی پیسہ لائے گا اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی,  دونوں کی کرپشن  کے طریقہ کار کو اگر عکس بند کیا جائے تو سپرئیٹ سیزن بن سکتا ہے, جب ان عناصر سے ناجائز دولت کا پوچھا جاتا ہے تو سادہ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے کہتے ہیں کرپشن ثابت کرو، قانون نے ان کا پیسے سے تعلق ثابت کرنا ہوتا ہے،ذرائع بتانا ان کا کام ہے۔ ٹی ٹیز اور جعلی اکاؤنٹس سے باہر بھیجےگئے پیسے اور ان سےخریدی گئی جائیدادوں سے یہ انکار نہیں کرسکتے۔ زرداری صاحب پر جعلی اکاونٹس کی بدولت فرد جرم بھی عائد ہوچکی ہے,  سندھ میں وازات بانٹنے کا حال تو آپ دیکھ ہی چکے ہیں,  سہیل انور سیال جو سندھ کے وزیر داخلہ ره چکے ہیں ان کی زرداری صاحب کے پاؤں چھؤتی اور ادی فریال کے ہینڈبیگ لٹکائے تصاؤیر سوشل میڈیا کی زینت رہی ہیں, سندھ کی بیؤرو کریسی میں بھی زرداری صاحب کی بہت چلتی ہے خیر سے بد نامے زمانہ ایس ایس پی ملیر  راؤ انوار  کو  اپنا بچہ بھی کہے چکے ہیں,  ان کی بہن دھمکیاں دیکر ووٹ لیتی نظر آئیں ہیں بدنامے زمانہ gangster  عذر بلوچ کے تانے بانے بھی زرداری صاحب سے ملتے ہیں جعلی اکاؤنٹس اور شؤگر ملز مالکان سندھ کے بے تاج بادشاه ہیں جبکہ ؤفاق پر بھی براجمان رہے ہیں مگر آج تک اپنے سالے مرتضی بھٹو اور بی بی شہید کے قاتلوں کا سراغ نہیں لگاپائیں ہیں,  عؤام کو سوچنا ہوگا کیا یہ لوگ پی ڈی ایم کا ڈھول بجا کر عوام کی فلاح کرسکتے ہیں جبکہ  معتدد بار ؤفاق اور تاحال صوبہ سندھ کے حکمران ہیں,  ان آزمائے ہوئے لوگوں نے ایسا کیا عوام کے لئے اچھا کیا ہے جو اب کر دیں گے,  یقینا پاور میں آنے کا مقصد اپنی دونمبریوں کی پردہ پوشئ اور مزید لوٹ مار کی چاہ ہے,  کیونکہ ان لوگؤں کو یہ ہی آتا ہے,  دنیا کارونا کی وجہ سے خؤف کا شکار ہے,  یہ لوگ اپنے مفادات کے تحت جلسے کر رہے ہیں تا کہ الله نہ کرئے پاکستان کا حال سرحد پار جیسا ہو, دوسری جانب رواں ماہ زداری صاحب کی دختر بختاور صاحبہ کی منگی کی تقریب منگنی  معنقد کی گئی جس کے  دعوت نامہ میں مہمانوں سے گزارش کی گئی کہ پہلے اپنے کورونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ اسکین کرکے بلاول ہاوس بھیجیں، جس کے بعد انہیں تقریب میں شرکت کی اجازت ملے گی۔۔ جبکہ ذاتی مفاد پر کیے جانے والے  جلسے، جلوس، ریلیوں میں کسی قسم کے ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا گیا, یعنی  ان  کی نظر میں عوام کی حیثیت ٹشوپیپر یا کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں ہے.  یہ ووٹ کو نہیں بلکہ اپنے مفادات اور جعلی بینک اکاؤنٹس کو عزت دینے کے حامی ہیں,  ازلی دشمن بھارت سے دوستی,  تحائف,  بزنس ڈیل اور ساتھ بیٹھ کر آلو گؤشت کھانے کے شؤقین ہیں,  ان کی نظر میں ملک کی نہیں بلکہ اپنی دونمبری کی عزت ہے,  ان لوگوں کو ریلیف نہیں بلکہ سیٹھ ؤقار کے فیصلے کے مطابق سلوک کرنا چاہیں.
     
    اب بات کرتے ہیں جے یو آئی ف کی سب سے پہلے بات کرتی چلوں کہ مولانا فضل الرحمن کو ڈیزل کیوں کہا جاتا ہے اس کے معتلق معروف صحافی و تجزیہ کار ہارون الرشید نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مجلس عاملہ کے اجلاس میں پیش آنے والا حیران کن واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ یہ سب کچھ انہیں مجلس عاملہ کے ایک ممبر نے بتایا ہے, مجلس عاملہ کے اجلاس میں جے یو آئی کے امیر سے پوچھا گیا کہ ڈیزل کا پرمٹ آپ نے لیا ہے؟ جس پر مولانا فضل الرحمان نے اعتراف کیا اور کہا کہ مجاہدین کو پیسے چاہئے تھے، میں نے وہ پرمٹ فروخت کر کے انہیں پیسے دیدئیے۔“  مولانا فضل الرحمن کو جب سے 2018 الیکشن میں شکست حاصل ہوئی ہے وہ تب سے شدید کوفت اور غصے کا شکار ہیں آج تک ان کی کسی سیاسی حکمت عملی کا کیا  لائحہ عمل رہا ہے وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر ہیں۔ جے یو آئی ف کے آزادی مارچ کی ہی مثال لے لیں، وزیر اعظم عمران خان سے استعفی کا مطالبہ تو کیا لیکن کن بنیادوں پر یہ آج تک مولانا صاحب بھی واضع نہیں کر پائے, پھر پی ڈی ایم کے سربراہ بنکر بھی  کوئی کامیابی حاصل نہ کر پائے,  ہر حکومت کا حصہ مولانا فضل الرحمن آجکل سیاسی طور پر مکمل بے روزگار ہیں اسی وجہ سے اشتعال کا شکار ہیں,  حکومت میں رهنے کا لالچ ہی انہیں عورت کی حکومت کے مخالف ہونے کے باوجود محترمہ بے نظیر کی کابینہ کا ممبر بنے, 2018 کی تاریخی شکست کے بعد مولانا کی تو دنیا ہی اجڑ گئی اور انہوں نے 14 اگست تک نہ بنانے کا اعلان کرکے بھارت سے آنے والے اس ٹولے کی یاد تازہ کردی جو ابتدا میں پاکستان کے مخالف تھے اور قائداعظم کو قاتل اعظم کہتے تھے مگر پاکستان بنتے ہی یہاں براجماں ہوگئے,  اپنی آرمی رکھنے والے مولانا کی بھارت کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول کے ساتھ تصویر بھی سوشل میڈیا کا حصہ رہی ہے,  آجکل جے یو آئی ایف کے امیر, نجی آرمی انصار اسلام کے چیف آف آرمی اسٹاف اور سربراہ پی ڈی ایم  نیب کے رایڈر کی زد میں ہیں.
    رواں سال اکتوبر کو حزب اختلاف نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی سیاست کا آغاز کیا, مزے کی بات  استعفے کا مطالبہ ہرگز بھی بڑھتی مہنگائی یا بے روزگاری نہیں ہے بلکہ "مجھے کیوں نکالا” کا دکھ ہے, جس کا اظہار میاں صاحب کی جانب سے بارہا ہوتا ہے,  اپنی غلطیوں اور وزیراعظم ہوکر بیٹے سے معمولی تنخواہ لینے کی چھوٹی حرکت کا غصہ اداروں پر نکالنے والے نواز شریف صاحب اپنے گیٹ نمبر چار کے روحانی اجداد کی کرم فروانیوں کو بھول کر ناخلف بیٹے بنکر  ملک کے راز اگل رہے ہیں جس پر بھارت شادیانے بجا رہا ہے بلکہ وہ تو میاں صاحب کو ”  اپنا آدمی ” بھی کہہ چکا ہے,پھر میاں صاحب کا مودی کو بنا ویزے بلانا,  قمیتی تحائف کا تبا دلہ کر نا کسی سے پوشیده نہیں ہے, خواجہ آصف کے بعد ایاز صادق کے توہین قومی سلامتی بیانات سب کو یاد ہیں,اس پر نادان سمجھ رہے ہیں عوام ان کو سنجیدہ لیں گے, یعنی حد ہے نا سمجھی کی,  دخترنواز اور بیگم صفدر اعوان تیرہ دسمبر کو یوم آر پار کہہ رہی تھیں, یعنی حکومت پر آری کا دن جو پاکستان کی خوش قسمتی سے پی ڈی ایم پر کاری ضرب ثابت ہوا,  اہلیان لاہور نے ثابت کردیا مینار پاکستان, مادر وطن کی بقا کا ضامن ہے, چوروں کی داد رسی کے لئے لاہور والوں کے پاس وقت نہیں ہے, پھر جس تحریک کا سربراہ ہی 14,اگست نہیں مناتا ہو اور نہ ہی افواج پاکستان کو مانتا ہو وہ کیسےملک کے خیر خواہ ہوسکتے ہیں. عوام کو سمجھ آگئی ہے, جس تحریک میں اچکزئی جیسا منتشر ذہین کا مالک ہو وہ کیسے قومی امور پریگانیت سے کام کرسکتے ہیں, اب صورتحال یہ ہے,
    13دسمبر کو آرپار کرنے والے لانگ مارچ تک آگئے ہیں, استعفی جمع کرانے والے  اسپیکر کے بجائے اپنے قائدین کو پیش کر رہے ہیں. یعنی تیرہ دسمبر 2020 پی ڈی ایم کا یوم آر پارتھا قوم کو پاکستان ڈکیٹ موومنٹ کی شکست مبارک ہو.
     
     
     
     
     
     
     
     
     
     
     
     
     
     
     
     

  • پمز ہسپتال میں سترہ روز سے ملازمین سراپا اجتجاج،حکومت خاموش تماشائی

    پمز ہسپتال میں سترہ روز سے ملازمین سراپا اجتجاج،حکومت خاموش تماشائی

    پمز اسپتال میں ایم ٹی آئی آرڈیننس کے خلاف احتجاج 17ویں روز میں داخل،گرینڈ ہیلتھ الاائنس کے زیر اہتمام احتجاج میں پمز ملازمین کی بڑی تعداد شریک ،پمز ملازمین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیئے سینیٹر عثمان خان کاکڑ پمز پہنچ گئے

    سنیٹر عثمان کاکڑ کا پمز ملازمین سے خطاب
    ہیلتھ کے حوالے سے گرینڈ ہیلتھ الائینس بنانے والوں کو سلام ،پمز میں مختلف علاقوں سے 30 لاکھ مریض ہر سال آتے ہیں،پمز میں ملازمین کو بجٹ نہیں دیا جارہا ،دواؤں کے لیئے بھی انکو کچھ نہیں دیا جارہا

    پمز میں بیوروکریٹ اور عام آدمی کا فرق نہیں،ہماری گزارش ہے کہ اس جنگ میں سبکو حصہ بننا چاہئے ،اس وقت ملک میں سلیکٹڈ حکومت کو سلیکٹ کیا گیا ہے ،ہمارے اوپر حکومت کو مسلط کیا گیا ہے ،انکا ایجنڈا ہے کہ پارلیمنٹ کو تالا لگا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو ختم کردو،یہ چاہتے ہیں کہ عوام پر ٹیکس بڑھا دو, ملک کے سارے اداروں کو پرائیویٹ کردو ،ہیلتھ اور ایجوکیشن سسٹم کو بھی پرائیویٹ کیا جارہا ہے

    14 کے قریب اداروں کو ایک ٹاسک دیا گیا ہے ،جس کے لیئے کوئی بھی حکومت تیار نہیں ،جنرل منیجر عمران خان دنیا کو کہتا ہے کہ پاکستان برائے فروخت ،عمران خان وزیراعظم رہا تو اور ملک برائے فروخت رہے گا،اس کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ اور دوسرے ادارے کھڑے ہیں،یہ سب مل کر پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہ رہے ہیں ،بجٹ میں تنخواہوں کا ایک فیصد بھی نہیں بڑھایا گیا ،ٹی وی پر سب کچھ سستا اور دکان پر مہنگائی ہے ،ٹی وی پر ملک بہت اچھا اور مہنگائی سے پاک ہے

  • تین روزہ لاہور ڈویژن ہاکی ٹورنامنٹ برائے خواتین کا انعقاد

    تین روزہ لاہور ڈویژن ہاکی ٹورنامنٹ برائے خواتین کا انعقاد

    سپورٹس بورڈ پنجاب کے زیر اہتمام نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں 3روزہ لاہور ڈویژن ہاکی ٹورنامنٹ برائے خواتین کا انعقاد
    ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے اس کی ترقی کیلئے بھرپور اقدامات کررہے ہیں، لاہور ڈویژن ہاکی ٹورنامنٹ برائے خواتین سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا، ڈی جی سپورٹس پنجاب
    صوبہ میں 315سپورٹس کی سہولیات موجود ہیں اور 200سکیموں پر کام جاری ہے،15بلین روپے کی لاگت سے سپورٹس سہولیات پرکام جاری ہے، عدنان ارشد اولکھ

    ۔سپورٹس بورڈ پنجاب کے زیر اہتمام نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں 3روزہ لاہور ڈویژن ہاکی ٹورنامنٹ برائے خواتین کا انعقادکیاگیا،افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی ڈائریکٹرجنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ تھے، ڈی جی سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ نے اس موقع پر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے اس کی ترقی کیلئے بھرپور اقدامات کررہے ہیں، لاہور ڈویژن ہاکی ٹورنامنٹ برائے خواتین سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا،سپورٹس بورڈ پنجاب نے کورونا وباء کے باوجود ایس او پیز کے تحت کھیلوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے،اس وقت صوبہ میں 315سپورٹس کی سہولیات موجود ہیں اور 200سکیموں پر کام جاری ہے اس طرح صوبہ میں 500سے زائد سکیمیں اس مالی سال کے آخر تک موجود ہوں گی،15بلین روپے کی لاگت سے ان سپورٹس سہولیات پرکام جاری ہے،25تحصیلوں میں جون تک سپورٹس کمپلیکس مکمل ہو جائیں گے،

    ڈائریکٹرجنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ نے اپنے دورہ ترکی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کھیلوں کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں ہمارے ہاں جو کھیل زیادہ مقبول ہیں اس میں ہم ترکی کے ساتھ تعاون کریں گے اور اسی طرح جو کھیل ترکی میں زیادہ مقبول ہیں اس میں وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔

    جنرل منیجروومن ونگ پی ایچ ایف تنزیلہ عامر چیمہ نے اس موقع پر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈائریکٹرجنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ ہاکی کے فروغ کیلئے بھرپور کام کررہے ہیں ہاکی کے فروغ کیلئے ہر مشکل وقت میں انہوں نے ہماری مدد کی ہے،پاکستان ہاکی وومن ونگ کی طرف سے ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    مہمان خصوصی ڈائریکٹرجنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ کا گراؤنڈ پہنچنے پر پرتپارک استقبال کیا گیا، کھلاڑیوں سے تعارف بھی کرایا گیا اور گروپ فوٹوز بھی بنائے گئے،افتتاحی تقریب میں ڈائریکٹر سپورٹس محمد حفیظ بھٹی، ڈپٹی ڈائریکٹر چاند پروین اور سابق کپتان قومی ہاکی ٹیم راحت خان ودیگر شریک تھے۔

    پہلے میچ میں لاہور گرین نے لاہور وائیٹ کو1-0سے ہرادیالاہور گرین کی طرف سے واحد گول شارقہ نے کیا، جبکہ دوسرا میچ لاہور ریڈاور لاہور بلیوکے درمیان 1-1گول سے برابر رہاہے لاہور ریڈ کی طرف سے نشاء نے گول کیا اور لاہور بلیو کی جانب سے سعدیہ نے ایک گول کیا۔

  • پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی معطل ہو گئی،وجہ سامنے آگئی

    پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی معطل ہو گئی،وجہ سامنے آگئی

    آل پاکستان آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے مطالبات کی منظوری کے لیے ہڑتال کردی، جس سے راولپنڈی اسلام آباد سمیت متعدد علاقوں کو پٹرول و ڈیزل کی سپلائی معطل ہوگی۔ آئل ٹینکرز کے اوقات کار میں ردوبدل کے خلاف آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز نے ہڑتال کی۔ جس کے نتیجے میں پٹرول پمپس پر پٹرول بحران پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا۔

    آل پاکستان آئل کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری نعمان بٹ کا کہنا تھا کہ راولپنڈی انتظامیہ نے دن میں آئل ٹینکرز کے داخلے پر پابندی عائد کی ہے جو قابل عمل نہیں، انتظامیہ سے مذاکرات بھی کیے اورسیکرٹری پٹرولیم کو خطوط بھی ارسال کیے لیکن کسی نے مسئلے کے حل کے لیے سنجیدگی نہیں دکھائی، موجودہ اوقات کی پابندی میں آئل ٹینکرز پٹرول ڈیزل سپلائی نہیں کرسکتے، مطالبات کی منظوری تک ہڑتال کریں گے۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ جڑواں شہروں، آزادکشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد ایئرپورٹ اور پاور پلانٹس کو بھی پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بند کردی ہے۔

  • مایہ ناز باکسر عامر خان کا کرتارپور راہداری، گوردوارہ دربار صاحب کا دورہ

    مایہ ناز باکسر عامر خان کا کرتارپور راہداری، گوردوارہ دربار صاحب کا دورہ

    مایہ ناز باکسر عامر خان کا کرتارپور راہداری، گوردوارہ دربار صاحب کا دورہ،کرتارپور راہداری کے دورے کے بعد باکسر عامر خان کا اظہار خیال

    عامر خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کرتارپور کا دورہ، گوردوارہ دربار صاحب پر حاضری خوشگوار تجربہ رہا، عاکرتارپور میں بہترین میزبانی پر شکر گزار ہوں، گوردوارہ دربار صاحب بین المذاہب ہم آہنگی کا حقیقی استعارہ ہے،

    پاکستان نے تمام اقلیتوں کو حقیقی مذہبی آزادی دی، بھارت، پاکستان کے برعکس اقلیتوں کے خلاف اقدامات کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر، بابری مسجد ہو یا سکھ کمیونٹی، بھارت ہر روز اقلیتوں کیخلاف اقدامات کر رہا ہے ، باکسر عامر خان نے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت سکھوں کیلئے گیٹ کھولے، کرتارپور آنے دے،