Baaghi TV

Tag: #BaaghiTV #Strike #exclusive

  • پاک بحریہ نے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا

    پاک بحریہ نے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا

    پاک بحریہ کا جناح نیول بیس (پی این ایس درمان جاہ) اورماڑ ہ میں سماعتی مسائل کی اسکریننگ کے لیئے مفت میڈیکل کیمپ منعقد

    کراچی، ساحلی علاقوں میں آباد افراد کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے عزم خاص طور پر کرونا وائرس وبا کی صورتحال کے تناظر میں مناسب طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے پاک بحریہ کی جانب سےروٹری انٹر نیشنل اور ساحل ویلفیئر ایسوسی ایشن کے اشتراک سے سماعتی مسائل کی مفت اسکریننگ کے لیئے جناح نیول بیس (پی این ایس درمان جاہ) اورماڑہ میں میڈیکل کیمپ قائم کیا گیا۔

    ای این ٹی اسپیشلسٹس اورماہرینِ سماعت کی ٹیم نے کیمپ میں دستیاب جدید تشخیصی آلات سے مریضوں کا معائنہ کیا اور انہیں مفت مشاورت فراہم کی۔ کیمپ میں کئی مریضوں کے لئے مفت سماعتی آلات فراہم کیے گئے اور ایک کثیر تعدادمیں مریض کیمپ سے مستفید ہوئے۔

    میڈیکل کیمپ میں آنے والے مریضوں کو کرونا وائرس وبا کے حوالے سے احتیاطی اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں مریضوں کو بیماریوں کی روک تھام اور رہائشی علاقوں کی صفائی سے متعلق آگہی بھی دی گئی۔

    پاک بحریہ ساحلی پٹی پر مقیم افراد کومستقل بنیادوں پر معیاری طبی علاج فراہم کرتی ہے۔ حالیہ میڈیکل کیمپ بھی پاک بحریہ کےاسی عزم کا ایک اور عملی مظاہرہ ہے۔

  • سقوط ڈھاکہ۔۔۔۔۔۔ ایک جائزہ از قلم خلیل احمد تھند

    سقوط ڈھاکہ۔۔۔۔۔۔ ایک جائزہ از قلم خلیل احمد تھند

    سقوط ڈھاکہ۔۔۔۔۔۔ ایک جائزہ

    سیاست کا المیہ نظام نہیں مفاد پرستی ہے ہمارے نزدیک سیاست کو مفاد پرستوں کے قبضے سے آزادی دلا کر وولینٹئرز سیاسی لیڈر شپ کے حوالے کرنے کا عمل اہم ترین مشن کا درجہ رکھتا ہے۔
    ہم سمجھتے ہیں کہ نظام اچھا ہو یا برا اسے چلانا بہرحال انسانوں نے ہی ہوتا ہے سیاست اور اختیار جن ہاتھوں میں ہو ان کا کردار اچھے یا برے نتائج پیدا کرتا ہے اچھے لیڈرز برے نظام میں بھی اچھا پرفارم کر لیتے ہیں جبکہ مفاد پرست لیڈرز اچھے نظام میں بھی اپنے مفاد کو ترجیح پر رکھنے کی وجہ سے برے نتائج دیتے ہیں لہذا ملک بچانے ، اسے مستحکم رکھنے اور عوامی حقوق یقینی بنانے کے لئے ملک کا اختیار بے لوث ، مخلص اور باصلاحیت قیادت کے ہاتھوں میں منتقل کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔
    بانیان پاکستان نے مسلمانوں کی آزادی عمل کے لئے الگ وطن حاصل کرنے کے مشن کے لئے اپنا مستقبل ، اپنی جائیداد ، اپنا کیریئر ، اپنی خانگی زندگی سب کچھ نثار کردیا قائد اعظم محمد علی جناح ، محترمہ فاطمہ جناح ، نواب لیاقت علی خان ، سردار عبدالرب نشتر سمیت دیگر ہیروز قربانی کی داستانیں رقم کر کے لازوال ہوگئے ہمارےان بے لوث ہیروز کے سیاسی منظر سے ہٹتے ہی مفاد پرست اقتدار پر قابض ہو گئے جنہوں نے اپنی ہوس اقتدار کی خاطر ملک کو تختہ مشق بنا ڈالا بانیان پاکستان کے برعکس سول اور فوجی بیورو کریٹس غلام محمد ، سکندر مرزا ، جنرل ایوب خان ، جنرل یحیی’ خان نے ملک کو ڈی ٹریک کیا ، اپنے اقتدار کی خاطر قومی یکجہتی کی جگہ انتشار کو پروان چڑھا کر نفرتوں کی جانب دھکیل دیا انکے خود غرض ، مفاد پرست اور اخلاقیات سے عاری طرز عمل نے ملک کے دو بازووں میں سے ایک کو کاٹ ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
    16 دسمبر 1971 کے سانحے کے اصل محرک بھی دراصل یہی مفاد پرست کردار ہیں جنہوں نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بننے کی راہ ہموار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن اس گناہ عظیم کے باوجود وہ پوتر کے پوتر ہی ہیں۔
    ہوشیار اور طاقتور سول و فوجی بیورو کریٹس نے بہت صفائی سے پاکستان توڑنے کا سارا ملبہ سول سیاسی لیڈر ذولفقار علی بھٹو جیسے چھوٹے مجرم پرڈال کر خود کو اس الزام سے بری الذمہ کر لیا۔
    سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان محض بھٹو سے منسوب ” ادھر ہم ادھر تم” کے تحقیق طلب بیان کی وجہ سے ٹوٹ گیا ؟ کیا کبھی ایسا ہوا کہ کسی شخص کے ایک بیان کی بنیاد پر اچانک ملک دولخت ہوگئے ہوں؟ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ملکوں کے ٹوٹنے میں سالہا سال کے منفی روئیے اور عوامل کارفرما ہوتے ہیں ایک وقت ایسا آتا ہے جب پس پردہ پنپنے والا نفرتوں کا لاوا پک کر اچانک پھٹ پڑتا ہے اور پھر ملک ٹوٹ جاتے ہیں۔
    پاکستان سے بنگلہ دیش بننے کاجرم بھٹو کی گلے منڈھ دیا جائے یا انڈین مداخلت کو جواز بنا کر دل کی تسلی کا سامان کرلیا جائے کیا کبھی مشرقی پاکستان کے باسیوں کے دلوں میں پروان چڑھنے والی نفرتوں کے اندرونی اسباب کو بھی تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
    جمہوری طریقے سے قائم ہونے والے ملک سول یا فوجی ڈکٹیٹر شپ کے جبری اقتدار کی وجہ سے یکجا اور مستحکم نہیں رہ سکتے دونوں کے خمیر میں اپنے اقتدار کا مفاد رچا بسا ہوتا ہے جس سے حق داروں کے حقوق غصب ہوتے ہیں جو نفرتوں کو جنم دیتے ہیں۔
    مشرقی اور مغربی پاکستان کے شہریوں کے معیار زندگی ، سیاسی ، سماجی اور معاشی حقوق میں عدم مساوات کو پاکستان ٹوٹنے کے عوامل سے کسی بھی طرح الگ نہیں کیا جا سکتا بالکل اسی طرح جیسے متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کو لاحق خطرات کو جواز بنا کر الگ وطن کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔
    1970 کے الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کی جمہوریت کی بحالی کی تحریک کے سپاہی اور مشرقی پاکستان کے عوام کی محرومیوں کی زبان بن کر ابھرنے والے شیخ مجیب کی سیاسی بالا دستی کو جنرل ایوب خان کے جانشین جنرل یحیی خان نے تسلیم نہیں کیا بلکہ الٹا قوم کی محسنہ محترمہ فاطمہ جناح کی طرح محب وطن شیخ مجیب کو بھی غدار وطن کے منصب تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ایسا دوسری مرتبہ ہورہا تھا جب عوام کی مرضی کے خلاف اقتدار پر قابض ہونے والے محب وطن اور عوام کی رائے سے منتخب ہوکر ابھرنے والے سیاسی لیڈر غدار ٹھہرائے گئے۔
    کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ جس سرزمین پر حصول پاکستان کی تحریک کی بناء پڑی ہو اسی سرزمین کے لوگ بلاوجہ اپنے حاصل کردہ وطن کو توڑنے کے گناہ میں شریک ہو جائیں؟
    ناانصافی اور محرومیاں نفرتوں کو جنم دیتی ہیں پھر ان پر آواز بلند کرنے والے مجرم ٹھہرائے جاتے ہیں کیا مشرقی پاکستان پر لشکر کشی کرنے اور انکا ساتھ دینے والے کرداروں کو ان پہلووں پر غور کرکے اپنے طرز عمل پر ندامت کا احساس ہو سکے گا؟
    کیا موجودہ پاکستان سے وہ عوامل جن کی وجہ سے پہلے ملک دولخت ہوا کا تدارک ہو گیا ہے ؟ کیا مفاد پرست عناصر سے ملک محفوظ ہو گیا ہے؟ کیا ملک کے تمام علاقوں کا معیار زندگی برابر ہو گیا ہے؟ کیا ملک سے ناانصافی اور محرومیاں ختم ہو گئی ہیں؟ کیا ملک کے تمام شہریوں کو آئین کے مطابق انسانی احترام ، تعلیم ،علاج ،روزگار، تحفظ اور سیاسی مساوی حقوق حاصل ہوگئے ہیں؟
    اگر ایسا نہیں ہے تو کیا ایک مرتبہ پھر نانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں اور آئین میں دئے گئے حقوق مانگنے والوں کو غدار ٹھرایا جائے گا اور ان پر لشکر کشی کی جائے گی؟
    غور طلب پہلو یہ ہے کہ کیا صرف مشرقی پاکستان کے لوگ ہی غلط اور غدار تھے اور موجودہ پاکستان کے کرتا دھرتا درست اور محب وطن؟
    سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے ماضی سے کچھ سبق حاصل کر پائیں گے یا اسی ڈگر پر چلتے رہیں گے #
    (خلیل احمد تھند )

  • خاتون کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنانے کی کوشش ناکام

    خاتون کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنانے کی کوشش ناکام

    خاتون کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنانے کی کوشش ناکام

    ڈولفن ٹیم نے 15 کی کال پر ریسپانڈ کرتے ہوئے خاتون کو اغواء ہونے سے بچا لیا، رکشہ سوار خاتون کو 4 مسلح ملزمان نے گن پوائنٹ پر اغواء کیا، ڈولفن ٹیم کے پہنچنے پر ملزمان نے ڈولفن پر فائرنگ کردی، کراس فائرنگ کے تبادلے میں ملزم موقع پر ہلاک ہوگیا۔ہلاک ہونے والا ملزم ریکارڈ یافتہ ہےجس کے خلاف ہوائی فائرنگ وشراب نوشی کے متعدد مقدمات درج ہیں۔

    ہلاک ملزم کے دیگر ساتھی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے،
    ہلاک ملزم کی شناخت جہانگیر کے نام ہوئی، ڈیڈ باڈی کو جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
    ملزمان ممتاز نامی خاتون کو اغواء کرکے ساتھ لے جانا چاہ رہے تھے۔رکشہ ڈرائیور کا بیان چاروں ملزمان کے پاس اسلحہ تھا اور نشے میں دھت تھے۔رکشہ ڈرائیور عادل ۔
    ڈولفن ٹیم نے خاتون کو اپنی تحویل میں لیکر تھانہ لیاقت آباد منتقل کردیا۔

  • ایل ڈی اے کے 20 اہل کاروں کو ترقی دے دی گئی

    ایل ڈی اے کے 20 اہل کاروں کو ترقی دے دی گئی

    لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے وائس چیئر مین ایس ایم عمران کے ویژن کے تحت ترقی کی شرائط پورا کرنے والے اہل ملازمین کو بلاتاخیر ترقی دینے کے لئے ایل ڈی اے کی محکمانہ پروموشن کمیٹی کے اجلاس میں ایل ڈی اے کے20اہلکاروں کو ترقی دے دی گئی۔

    ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے احمد عزیز تارڑ نے کہا کہ ترقی پانے والے محنت اور جانفشانی سے کام کریں.

    لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہیڈ کوارٹرزفارقلیط میر کی زیر صدارت منعقدہ محکمانہ پرموشن کمیٹی کے اجلاس میں 20اہلکاروں کو ترقی دے دی گئی۔
    ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن محمدنواز گوندل نے اس سلسلے میں نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    گریڈ16میں کام کرنے والے تین کمپیوٹر افسروں محمد باسط علیم ، سیف الرحمن اور برکت علی کوگریڈ17میں ترقی دے کر اسسٹنٹ ڈائریکٹر (آئی ٹی /کمپیوٹر )بنا دیا گیا ہے۔
    گریڈ16میں کام کرنے والے پانچ اسسٹنوں ظہیر احمد،محمد اصغر ، محمد ناصر،احسان سلیم اور محمد حسنین رفیق کو گریڈ17میں ترقی دے کر سٹاف افسر بنا دیا گیا ہے۔
    گریڈ 16میں کام کرنے والے 12سینئر سکیل سٹینو گرافروں کو گریڈ17میں ترقی دے کر پرائیویٹ سیکرٹری بنا دیا گیا ہے ۔ ان میں ذیشان جاوید ،محمد حسیب، محمد ریاض امین خان،محمد خالد ،محمد شفیق لڈن،انجم جمیل ، علی ذیشان ، بابر حسین ، لقمان بشیر ، یاسر شکیل، سلمان ظفراور عرفان قادرشامل ہیں۔

  • پولیس میں بھرتیوں کیلئے تحریری امتحان کا سلسلہ جاری،8جعلی امیدوار گرفتار

    پولیس میں بھرتیوں کیلئے تحریری امتحان کا سلسلہ جاری،8جعلی امیدوار گرفتار

    پولیس میں بھرتیوں کیلئے تحریری امتحان کا سلسلہ جاری،اے پی ایس ماڈل ٹاؤن امتحانی مرکز سے08جعلی امیدوار گرفتار،

    ملزمان ڈرائیور کانسٹیبل کی آسامی کیلئے تحریری امتحان میں مختلف امیدواروں کی جگہ امتحان دے رہے تھے،Lگرفتار امیدواروں میں اصغر،دلاور اور تبریز وغیرہ شامل،

    ملزمان کیخلاف مقدمات درج،مزید تحقیقات شروع،ایس ایچ او ماڈل ٹاؤن انسپکٹر اظہر نوید

    ایس پی ماڈل ٹاؤن دوست محمد کی ایس ایچ او ماڈل ٹاؤن اور انکی ٹیم کو شاباش،

  • سینیٹر رحمان ملک نے حکومت سے ایسا مطالبہ کردیا کہ بھارت کے ہوش اڑ جائیں

    سینیٹر رحمان ملک نے حکومت سے ایسا مطالبہ کردیا کہ بھارت کے ہوش اڑ جائیں

    چئیرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ سینیٹر رحمان ملک کا وزیراعظم عمران خان کو خط اور ‏ای یو ڈس انفو لیب انکشافات کی بنیاد پر بھارت کیخلاف انٹر ٹرپول عالمی، عدالت انصاف و اقوام متحدہ میں جانے کا مطالبہ کیا

    ای یو ڈس انفو لیب انکشافات کی بنیاد پر بھارت کیخلاف انٹر ٹرپول عالمی، عدالت انصاف و اقوام متحدہ میں جانے کا مطالبہ کیا ہے،مذموم مقاصد کے لئے بھارت نے اقوام متحدہ، یوروپین یونین سمیت سو سے زائد ممالک کی سرزمین کو غلط استعمال کیا،بھارت نے پاکستان کی خودمختاری پر بہت سنگین حملہ کیا ہے فقط ایک سادہ احتجاج کافی نہیں ہوگا،پاکستان انٹرپول سے بھارت، مودی اور اجیت ڈول کیخلاف انٹرپول کمیشن بنانے کا مطالبہ کرے،

    اب پاکستان کے پاس بھارت کیخلاف نا قابل تردید بین الاقوامی ٹھوس ثبوت موجود ہیں،ای یو ڈس انفو لیب نے بھارت کے پاکستان اور چائینہ کیخلاف مذموم عزائم سے پردہ اٹھایا ہے،

    بھارت ایک منظم طریقے سے ہر سال اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اجلاس کے دوران پاکستان مخالف مہم چلاتی ہیں،بھارت پاکستان کے اندر فرقہ واریت، لسانیت و صوبائیت کو ہوا دیکر بدامنی پھیلانا چاہا،

    بھارت سینکڑون جعلی میڈیا گروپ، این جی اوز و تھنک ٹینکس کے ذریعے پاکستان و چین کیخلاف پروپیگنڈہ کر رہا ہے،بھارت کا مقصد پاکستان کی معشیت کو نقصان پہنچانے کےلئے ایف اے ٹی ایف سے بلیک لسٹ کرنا تھا،بھارت نے زہرالود پروپیگنڈہ کے ذریعے پاکستان و افغانستان و دیگر ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی،

    بھارت نے پاکستان کے بارے عالمی اداروں میں جھوٹے پروپیگنڈہ کے ذریعے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی،بھارت قابل سزا بین الاقوامی جرائم کا مرتکب ہوا ہے،حکومت کو بھارت کے خلاف اقوام متحدہ و عالمی اداروں میں سخت آواز اٹھانی ہوگی،
    بھارت نے مودی کے مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم کو چھپانے کے لئے یہ جعلی سازی کی،

  • وزارت تجارت کی طرف سے ٹیکسٹائل شعبے کیلئے 1.78ارب جاری کرنا خوش آئند ہے،ادیب اقبال شیخ

    وزارت تجارت کی طرف سے ٹیکسٹائل شعبے کیلئے 1.78ارب جاری کرنا خوش آئند ہے،ادیب اقبال شیخ

    برآمد کنندگان کے لیکویڈیٹی مسائل کے حل سے برآمدات میں اضافہ سے صنعتی شعبہ ترقی کرے گا،
    برآمدات میں اضافہ کیلئے دنیا بھر کی منڈیوں تک رسائی کو یقینی بنایا جائے، زونل چیئرمین پرگمیا

     لاہور، ادیب اقبال شیخ زونل چیئرمین پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے وزارت تجارت کی طرف سے ٹیکسٹائل کے شعبے کے لیے 1.78ارب کی رقم جاری کرنے کو  خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ برآمدکنندگان کی رکی ہوئی لیکویڈیٹی کی وجہ سے برآمد کنندگان جو سرمائے کی کمی کا شکار ہیں وہ اب دلچسپی سے ملکی برآمدات میں اضافہ کیلئے کوشاں ہونگے۔۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی برآمدات میں اضافہ کیلئے دنیا بھر کی منڈیوں تک رسائی کو یقینی بنایا جائے اس ضمن میں بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں میں موجود ٹریڈ آفیسر کو فعال کیا جائے تاکہ وہ بیرون ملک پاکستانی اشیاء کی نمائشوں کا اہتمام کریں اور بیرونی ملک پاکستانی اشیاء کی کھپت کیلئے سرمایہ کاروں سے اپنے رابطوں کو مستحکم بنائیں۔برآمدات میں اضافہ سے ہی ملکی صنعتیں ترقی کرینگے نیز زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ سے حکومت کو مزید قرضوں سے نجات ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریڈمیڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

    ادیب اقبال شیخ نے کہا کہ ٹیکسٹائل شعبہ کے برآمد کنندگان کے لیکویڈیٹی مسائل کے حل سے صنعتی شعبہ ترقی کرے گا او ر برآمد کنندگان خوشدلی سے ملکی برآمدات میں اضافہ کیلئے سرگرم عمل ہونگے۔انہوں نے کہا کہ   ایشیاء کی بڑی معاشی قوت بننے اور ملک میں معاشی استحکام کیلئے برآمدات بڑھانے کیلئے بھر پور اقدامات کی ضرورت ہے۔بہت سے شعبے ایسے ہیں جنہیں فروغ دے کرپاکستان کی معیشت مستحکم کی جاسکتی ہے لیکن ماضی کے ادوار پر ان پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔موجودہ حکومت ان شعبوں پر توجہ مرکوز کرکے ملکی برآمدات میں اضافہ کرے۔

  • چاند نظر نہیں آیا،یکم جُمَادَی الأُوْلٰی جمعرات 17دسمبر کو ہوگی ، مفتی منیب الرحمن

    چاند نظر نہیں آیا،یکم جُمَادَی الأُوْلٰی جمعرات 17دسمبر کو ہوگی ، مفتی منیب الرحمن

    مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان کے چیرمین مفتی منیب الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ ماہِ جُمَادَی الأُوْلٰی کا چاند نظرنہیں آیا ،یکم جُمَادَی الأُوْلٰی 1442؁ھ جمعرات17،دسمبر 2020؁ء کو ہوگی ۔ دریں اثنا آج مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان کا اجلاس مفتی منیب الرحمن کے زیرِ صدارت دفترمحکمہ موسمیات (میٹ کمپلیکس)، موسمیات چورنگی ، یونیورسٹی روڈ کراچی میں منعقد ہوا۔زونل رویتِ ہلال کمیٹی کراچی سے مولانا حافظ محمد سلفی ،قاری نذیر احمد نعیمی ، قاری محمد اقبال ،مولانا محمد صابر نورانی ،علامہ سید علی کرار نقوی ،ڈائرکٹر اسپیس سائنس سپارکو غلام مرتضیٰ نے شرکت کی اور ڈائرکٹرمحکمہ موسمیات عبدالقیوم بھٹو نے اجلاس کے انعقاد کے لئے تمام سہولتیں فراہم کیں۔

    پاکستان بھر میں صوبائی وضلعی اور زونل رویتِ ہلال کمیٹیوں کے اجلاس ان کے متعلقہ ہیڈکواٹرز پر منعقد ہوئے۔اکثر مقامات پر مطلع ابر آلود تھا یا غبار آلود ، پاکستان بھر میں کسی بھی مقام سے رویت کی شہادت موصول نہیں ہوئی ، محکمہ موسمیات کے تمام مراکزسے بھی عدمِ رویت کی رپورٹ موصول ہوئی ، لہٰذا اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیاکہ جُمَادَی الأُوْلٰی 1442؁ء کا چاند نظرنہیں آیا ،یکم جُمَادَی الأُوْلٰی 1442؁ھ جمعرات17دسمبر 2020؁ء کوہو گی15،دسمبر 2020؁

  • ظالم حکومت کے دن اب گنے جا چکے،بلاول بھٹو زرداری

    ظالم حکومت کے دن اب گنے جا چکے،بلاول بھٹو زرداری

    لاہور: پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری سے پی پی پی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود کی ملاقات،چئیرمین بلاول بھٹو زرداری سے مخدوم احمد محمود کے ہمراہ رکن قومی اسمبلی مصطفی محمود، علی محمود اور عبدالقادر شاہین کی بھی ملاقات

    چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی جنوبی پنجاب کے وفد کے درمیان سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال،چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کو پارٹی وفد نے جنوبی پنجاب کی سیاسی صورت حال سے آگاہ کیا،پارٹی کارکنان تیار رہیں، حکومت کے خلاف تحریک اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی گفتگو

    چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام دشمن عمران خان کی ظالم حکومت کے دن اب گنے جاچکے،
    عمران خان عوام کے غیض و غضب سے نہیں بچ سکیں گے،

  • پاکستان اسٹیل مل کے ڈائریکٹر پر وفاقی محتسب اعلی میں جنسی ہراسگی کیس دائر

    پاکستان اسٹیل مل کے ڈائریکٹر پر وفاقی محتسب اعلی میں جنسی ہراسگی کیس دائر

    اسٹیل مل جنسی ہراسگی کیس، ڈائریکٹر A&P نے افسران بھیج دیئے

     تین افسران کس حیثیت میں وفاقی محتسب اعلی میں پیش ہوئے، سوالات کھڑے ہوگئے

    پیش ہونے والے تینوں افسران پر کرپشن دوسرے کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس اور تیسرے پر عہدے کے ناجائز استعمال کا کیس ہے، زرائع

    کراچی ،پاکستان اسٹیل مل میں کرپشن کی کہانیوں کے بعد اب افسران پر جنسی ہراسمنٹ کیس داخل ہونے لگے، وفاقی محتسب اعلی میں اسٹیل مل جنسی ہراسمنٹ کیس میں نامزد ڈائریکٹر A&P نے اپنے چہیتے افسران بھیج دیئے، زرائع کے مطابق وفاقی محتسب اعلی میں لفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان پر زاتی کیس میں طلبی پر اسٹیل مل کے تین افسران کس حیثیت میں پیش ہوئے جن میں سے ایک پر کرپشن اور دوسرے کے خلاف کیس سپریم کورٹ میں زیر التوا جبکہ تیسرے پر عہدے کے ناجائز استعمال کا الزام ہے۔
    تفصیلات کے مطابق پاکستان اسٹیل مل کے کنٹریکٹ پر آئے ڈائریکٹر A&P لفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان اور دیگر  پر وفاقی محتسب اعلی کے دفتر میں درج شکایت نمبر 86/2020  پیر 14 دسمبر کو سماعت کیلئے مقرر تھی تاہم وفاقی محتسب کے نوٹس جاری کرنے کے باوجود نامزد ملزمان لفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان، کیپٹن ریٹائرڈ بابر برنارڈ میسی، نواز خٹک، ابو ظفر، ارتضی علی، عبدالودود خان اور شہریار احمد ناخود پیش ہوئے اور نہ ہی ان کا نامزد کردہ کوئی وکیل پیش ہوا بلکہ اسٹیل مل کی طرف سے جنسی ہراسمنٹ کیس کی نمائندگی کرنے کیلئے انچارج اے اینڈ پی ریاض منگی، انچارج آئی آر و انچارج لاء زرداد عباسی اور یامین زیبری پیش ہوئے جبکہ مدعی اکرم دھامنہ نے ملزمان کو براہ راست اپنی شکایت میں فریق بنایا ہے اور ان کی جگہ دیگر افسران پیش ہوکر کیس کی قانونی طور پر پیروی نہیں کرسکتے۔ کیس میں پیش ہونے افسران کا شکایت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    ذرائع کے مطابق لفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق خان کی طرف سے پیش ہونے والے تینوں افسران پر انچارج اے اینڈ پی ریاض حسین منگی نامی افسر خود کرپشن کے مقدمات میں ملوث ہے جبکہ انچارج آئی آر و انچارج لاء زرداد عباسی و دیگر کے خلاف پاکستان اسٹیل مل انتظامیہ نے سپریم کورٹ میں کیس دائر کیا ہوا ہے۔ جس میں سپریم کورٹ نے زرداد عباسی و دیگر افسران کو ڈپٹی مینیجر سے اسسٹنٹ مینیجر بنانے کا حکم دے رکھا ہے جسے ڈائریکٹر A&P کرنل ریٹائڑڈ طارق نے خان سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرنے کے بجائے ردی کی ٹوکری پھینک دیا ہے جبکہ تیسرے افسر یامین زبیری اسٹیل مل کا ایک ریٹائرڈ آفیسر ہے جس نے دوران ملازمت محکمہ کی اجازت کے بغیر قانون کی ڈگری حاصل کی اور ملازمت ہی کے دوران غیر قانونی طور پر وکالت کا لائنسس حاصل کیا ہے اور اس افسر کو کرنل ریٹائرڈ طارق خان کا خاص آشیر باد حاصل ہے جسے بند اسٹیل ملز میں ڈیلی ویج افسر بھرتی کرلیا گیا تھا جبکہ قانون میں ایسی بھرتی کرنے کا انتظامیہ اسٹیل مل کو کوئی اختیار نہیں ہے۔