Baaghi TV

Tag: #BaaghiTV #Strike #exclusive

  • رنگ برنگی پتنگوں کی آڑ میں خطرناک کاروبار،ملزم گرفتار

    رنگ برنگی پتنگوں کی آڑ میں خطرناک کاروبار،ملزم گرفتار

    شاہدرہ .سٹی ڈویژن پولیس شاہدرہ کا رنگ برنگی پتنگوں کی آڑ میں موت کا سامان فروخت کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ

    شاہدرہ ایس پی سٹی فراز احمد کی سربراہی میں شاہدرہ ٹاؤن پولیس کی پتنگ فروشی کے حوالہ سے بڑی کاروائی تین پتنگ فروش گرفتار 450 تیار پتنگیں برآمد ملزمان لاہور کے مختلف مقامات پر پتنگوں کی سپلائی کرتےتھےملزمان کو خفیہ اطلاع ملنے پر فوری کاروائی کرتے گرفتار کیا گرفتار ملزمان میں سلمان, ناظم اور تنویر شامل مقدمات درج انسداد پتنگ فروشی کے حوالہ سے بہتر کاروائی کرنے پر ڈی ایس پی عثمان حیدر ,ایس ایچ او شاہدرہ ٹاؤن عامر شہزاد اور انکی ٹیم کو شاباش. (ایس پی سٹی ) پتنگ بازی جیسے خونی کھیل کے انسداد کے لیے بلا امتیاز کاروائیاں کی جا رہی ہیں (ایس پی سٹی فراز احمد دوسری طرف شہریوں نے ایس پی سٹی سی اپیل کی ہے کہ شاہدرہ اور دوسرے شہروں میں أے روز ڈکتیوں چوریوں میں اضافہ ہو رہا شہری غیر محفوظ ہیں شاہدرہ میں موٹر ساٸیکلیں چھننیں کی وارداتوں نے عوام کا جینا حرام کر رکھا ہے اس پر کنٹرول کروایا جاے ان واداتوں کی وجہ پولیس بہ بس ہے

  • 4 ماہ سے تنخواہ کے منتظرمعروف فیکٹری کے ملازمین سڑکوں پر نکل آئے

    4 ماہ سے تنخواہ کے منتظرمعروف فیکٹری کے ملازمین سڑکوں پر نکل آئے

    شاہدرہ .رستم سہراب فیکٹری شاہدرہ میں لیبر یونین کے صدر رانا اصغر کی قیادت میں ملازمین نے گزشتہ 4 ماہ سے تنخواہ کی ادائیگی نا ہونے پر سراپا احتجاج بن گے

    شاہدرہ مزدوروں کا مطالبہ ہے انکی چار ماہ سے تنخواہوں نہیں دی جارہی ہمیں واجبات کی ادائیگی جلد از جلد کی جاۓ چار ماہ سے تنخواہ بلاوجہ ادا نہیں کی گی سب غریب اور دہاری دار طبقہ ہیں ان کے گھروں کا گزر بسر اسی تنخواہ سے ہوتا ہے چار ماہ سے تنخواہ کی ادائیگی نا ہونے کی وجہ سے قرضوں کے نیچے دب گے ہیں ہمارے گھروں کے چوہلے ٹھنڈے پڑ گیے ہیں گھروں کا کرایہ نہیں ادا کر پارہے بجلی بل گیس کا بل جاٸیں تو جاٸیں کہاں ایک طرف طرف مہنگاٸ کا جن بہ قابو ہو گیا ہےاور اس جن نے غریبوں کی کمر توڑ ڈالی ہے مزدور خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاٸیں گے خدارا ان مزدوروں کا سوچا جاۓ اگر تنخواہوں ادا نہ کی گٸی توں گھر تباہ برباد ہو جاٸیں گے جنکی تمام زمیداری فیکٹری مالکان پر پڑے گی احتجاج کرنے والوں نے بینر اور پلے کارڈ اوٹھا رکھے تھےاور مر گے پوکھے مر گے سار نعارے لگارہے تھے چور لٹرے یہ ہیں سارے

  • بلوچستان،قوم کیلیے اپنے جگر گوشے پیش کرنے والے قابل تحسین پیں

    بلوچستان،قوم کیلیے اپنے جگر گوشے پیش کرنے والے قابل تحسین پیں

    صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نےایس ایس جی کمانڈوز و لیویز فورس کی ٹریننگ پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی وزیر داخلہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو جرائم سے پاک کرنے کا عہد کر رکھا ہے، جرائم کے خاتمے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تمام وسائل مہیاکر رہے ہیں فورسز عام آدمی کے تحفظ کیلئے کوشاں ہے، ہم نے مایوسی کو افسوس کے بجائے محنت میں بدلنا ہے،قوم کے لیے اپنے جگر گوشے پیش کرنے والے جوان قابل تحسین ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے لیویز فورس ایس ایس جی کمانڈوز کی چوتھی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوے کیا۔

    وزیر داخلہ نے فورسز کے دستے کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ کیا اور  چاک و چوبند دستے نے وزیر داخلہ کو گارڈ آف آنر بھی پیش کی اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حافظ عبدالباسط، مجیر جنرل دلاور خان، سی او فاہیو لاہٹ کمانڈو, و,کرنل محمد سلطان محسود ، ڈی جی لیویز مجیب الرحمٰن ،سمیت دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے ۔ اپنے خطاب میں وزیر داخلہ  نے امن کیلئے میدان عمل میں اترنے والوں لیویز اور ایس ایس جی کمانڈوز کے فارغ التحصیل جوانوں اور ان کے والدین کو مبارکباد، خراج تحسین پیش کیا انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو آپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں پر فخر ہے

    انہوں نے کہا کہ تربیت کی سہولیات فراہم کرنے پر پاک فوج کے بھی شکر گزار ہیں پاک فوج کے جوانوں نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے عظیم قربانیاں دیں تقریب کے اختتام پر پاس آوٹ ہونے والے اہلکاروں نےتربیت پر اعتماد کا اظہار کیا اور عوام کے تحفظ کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ٹریننگ کے دوران اچھی کارکردگی دکھانے جوانوں میں معزز مہمانوں نے انعامات بھی تقسیم کیا گیا

  • گریٹر اقبال پارک ،تالے توڑنے کا معاملہ، پی ایچ اے حرکت میں آگیا

    گریٹر اقبال پارک ،تالے توڑنے کا معاملہ، پی ایچ اے حرکت میں آگیا

     پی ایچ اے نے گریٹر اقبال پارک میں سیکورٹی اہلکاروں پر تشدد ‘ کارسرکار میں مداخلت کرنے اور بغیر اجازت سامان و جنریٹرپارک میں لانے کے خلاف درخواستیں تھانہ لاری اڈہ میں جمع کروا دیں

    مینار پاکستان نہ صرف لاہور بلکہ پاکستان کی شان ہے جس کی حفاظت ہر شہری کی ذمہ داری ہے، پی ایچ اے اپنے نقصان کی ایک ایک پائی کا حساب لے گی،وائس چیئرمین پی ایچ اے حافظ ذیشان ر شید کی اے پی پی سے خصوصی گفتگو

    لاہور،پی ایچ اے نے گریٹر اقبال پارک میں سیکورٹی اہلکاروں پر تشدد ‘ کارسرکار میں مداخلت کرنے اور بغیر اجازت سامان و جنریٹرپارک میں لانے کے خلاف درخواستیں تھانہ لاری اڈہ میں جمع کروا دیں۔درخواستیں پی ایچ اے سیکورٹی سپروائزرسید ذیشان حیدر ‘رفاقت حسین اور محمد یوسف کی جانب سے جمع کروائی گئی ہیں ۔ جمع کروائی جانے والی درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آج صبح 9بجے مسلم لیگ ن کے 20سے 25کارکن گیٹ نمبر 5پر آئے ا ور نعرہ بازی و سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے گیٹ کے تالے کو توڑا جبکہ سیکورٹی اہکار کو دھکے دیئے اور پارک میں داخل ہو گئے ۔

    دوسری درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ گزشتہ رات ساڑھے دس بجے کہ مختلف ٹرک ‘پیک اپ ‘ شہ زوراور چنگ چی رکشے جو سامان سے لوڈ تھے جن میں گرسیاں وغیرہ تھیں ان کو زبردستی تالے توڑے کر گیریٹر اقبال پارک میں داخل کیا جبکہ ساتھ آنے والے کارکنوں میں ڈنڈے بھی تھے جس کی اطلاع 15پر بھی دی گئی ہے ۔ تیسری درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ڈی ایم کے کارکنان جو مینار پاکستان کے جنگلا کے باہر پریس کانفرنس کر رہے تھے کہ وہاں پر موجود کارکنان نے نعرے بازی شروع کر دی اور مشتعل ہو کر گیٹ کے تالا کو توڑا اور اندر گھس گئے جن کے ہاتھوں میں ڈنڈے سوٹے بھی تھے ۔ مذکورہ درخواستیں کارروائی کیلئے تھانہ لاری اڈہ میں جمع کروا دی ہیں۔

    اس موقع پر وائس چیئرمین پی ایچ اے حافظ ذیشان ر شید نے کہا ہے کہ لاکھوں روپے خرچ کر کے مہینوں کی محنت کے بعد تیار ہونے والے پودوں اور پھولوں کو اپوزیشن کے جلسے کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیں گے‘ گریٹر اقبال پارک اور مینار پاکستان نہ صرف لاہور بلکہ پاکستان کی شان ہے جس کی حفاظت ہر شہری کی ذمہ داری ہے لیکن جن شر پسند عناصر نے سیکورٹی دروازے توڑ کر قانون کوہاتھ میں لیا ہے ان کے خلاف تھانہ لاری اڈہ میں درخواستیں جمع کروا دی ہیں ۔ حافظ ذیشان رشید نے کہا کہ قومی املاک کے ساتھ سیاست کرنا ملک کے ساتھ زیادتی اور دہشتگردی کے مترادف ہے، قومی املاک کو نقصان پہنچانا کہاں کا انصاف ہے ۔ پوری دنیا اس وقت کرونا جیسی خطرناک بیماری کا مقابلہ کر رہی ہے اور اس کے بچاﺅ کیلئے اقدامات کر رہی ہے جبکہ ناعاقبت اندیشن پی ڈی ایم والے حکومتی رٹ کو چیلنج کر کے بیماری پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں ۔

    انہوں نے بتایا کہ گریٹر اقبال پارک کے تالے توڑنے ‘ سیکورٹی اہلکاروں پر تشدد کرنے اور کرسیوں کے ٹرک زبردستی پارک میں لانے پر تھانہ لاری اڈہ میں درخواستیں جمع کروا دی ہیں تاکہ ان ملک دشمن عناصر کےخلاف کارروائی کی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ایچ اے اپنے ہونے والے نقصان کے ازالہ کیلئے ایک ایک پائی کا حساب لے گی اور ان عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

  • انسداد دہشت گردی عدالت نے ہائی پروفائل ٹارگٹ کلرز کو رہا کر دیا

    انسداد دہشت گردی عدالت نے ہائی پروفائل ٹارگٹ کلرز کو رہا کر دیا

    انسداد دہشت گردی عدالت

    پراسیکیوشن ایم کیو ایم کے مرکرز نائن زیرو سے گرفتار 4ہائی پروفائل ٹارگٹ کلرز پر جرم ثابت کرنے میں ناکام،عدالت نے شہری کے قتل میں ملوث ایم کیو ایم لندن کے دہشت گردوں کو بری کردیا

    پولیس کے مطابق بری ہونے والے ملزمان میں شکیل عرف بنارسی، ممظور عالم، افسر زیدی اور عادل عرف پگلہ شامل ہیں،ملزمان نے فروری 2013میں پاکستان بازار کے علاقے میں فیض الرحمان کو فائرنگ کرکے قتل کیا ملزمان کو 11مارچ 2015کو نائن زیرو سے گرفتار کیا

    عدالت نے حکم سناتے ہوئے کہا کہ ملزمان کسی اور مقدمہ میں نامزد نہیں تو انھیں رہا کردیا جائے

  • وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے ترقیاتی فنڈز کی تفصیلات جاری کردیں

    وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے ترقیاتی فنڈز کی تفصیلات جاری کردیں

    رواں مالی سال وفاقی حکومت نے ترقیاتی پروگرام کی مد میں فنڈزکی تفصیلات جاری،دستاویزات کے مطابق وزارت آبی وسائل کےترقیاتی منصوبوں کیلئے43ارب26کروڑجاری ہوئے،کابینہ ڈویژن کیلئے38ارب22کروڑروپےسےزائدکی رقم جاری کی گئی

    وزارت خزانہ کیلئے32ارب34کروڑسےزائد کے فنڈزجاری ہوئے،نیشنل ہائی وے اتھارٹی کےمنصوبوں کیلئے53ارب43 کروڑسےزائدکی رقم جاری کی گئی
    اعلیٰ تعلیمی کمیشن کیلئے14ارب4کروڑروپےسے زائد جاری،این ٹی ڈی سی اور پیپکو کیلئے23ارب3کروڑ سے زائد رقم جاری کی گئی ،وزارت ریلویزکیلئے11ارب75کروڑ روپےسےزائدرقم جاری ہوئی

    وزارت صحت کیلئے6ارب88کروڑروپےسےزائدکےفنڈزجاری کئے گئے
    وزارت قومی تحفظ خوراک کیلئے6ارب جاری
    آزادکشمیراورگلگت بلتستان کیلئے24ارب14کروڑسےزائدکی رقم جاری ہوئی
    تخفیف غربت ڈویژن کیلئے6کروڑ75کروڑکےفنڈزجاری کئےگئے
    ایراکیلئے75کروڑروپےکےترقیاتی فنڈزجاری ہوئے۔

  • راولپنڈی پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیاں تیز،خطرناک مجرم گرفتار

    راولپنڈی پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیاں تیز،خطرناک مجرم گرفتار

    راولپنڈی:تھانہ واہ کینٹ پولیس کی اہم کاروائی، موٹرسائیکل چوری کی وارداتوں میں ملوث طفیلا گینگ کے 02 ملزمان گرفتار،چوری شدہ 05موٹر سائیکل برآمد۔تفصیلات کے مطابق راولپنڈی پولیس کا متحرک و منظم گینگز کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، ڈی ایس پی ٹیکسلا کی زیر نگرانی ایس ایچ او واہ کینٹ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کاروائی کرتے ہوئے موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں ملوث طفیلا گینگ کے 02ملزمان کو گرفتار کر لیا، گرفتارملزمان میں نعمان بٹ عرف طفیل اور نعمت اللہ عرف گلی شامل ہیں، ملزمان کے قبضہ سے چوری شدہ 5 0موٹر سائیکل برآمدہوئے،ایس پی پوٹھوہار کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان کے دیگر ساتھیوں اور سہولت کاروں کا پتہ لگا کر ان کو بھی گرفتار کیا جائے گا،سی پی اومحمد احسن یونس نے ایس پی پوٹھوہار،ڈی ایس پی ٹیکسلا،ایس ایچ اوواہ کینٹ اور پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان ومال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے، جس کیلئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔

    راولپنڈی:تھانہ روات پولیس کی کاروائی، نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں شیشہ سینٹر پر چھاپہ،شیشہ سینٹر مالک سمیت04ملزمان گرفتار، حقے، حقہ فلیورز و دیگرمتعلقہ سامان برآمد، مقدمہ درج۔تفصیلات کے مطابق راولپنڈی پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، ایس ایچ او روات نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کاروائی کرتے ہوئے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی پر چھاپہ مارا، چھاپے کے دوران شیشہ نوش کرنے والے04ملزمان کو گرفتار کر لیا،گرفتار ملزمان میں شیشہ سینٹر کا مالک واجد منیر جبکہ دیگر ملزمان میں حمزہ عباس،انوار احمد اور دانیال رفاقت شامل ہیں،ملزمان کے قبضہ سے3 حقے، 6شیشہ فلیوراور متعلقہ سامان برآمد ہوا،ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، ایس پی صدر نے ایس ایچ او روات اور پولیس ٹیم کوشاباش دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کا مستقبل تاریک کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے۔

    راولپنڈی : تھانہ گوجر خان پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی،02ملزمان گرفتار،ہیروئن اور چرس برآمد،مقدمات درج۔ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی پولیس کا منشیات فروشوں کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے،ایس ایچ اوگوجر خان نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کاروائی کرتے ہوئے02منشیات فروش طاہر خان اور عظیم کو گرفتا رکر لیا، ملزم طاہر خان کے قبضہ سے01کلو135گرام ہیروئن جبکہ ملزم عظیم کے قبضہ سے 520گرام چرس برآمد کر کے ملزمان کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کر لیے گئے،ایس پی صدر نے ایس ایچ اوگوجر خان اور پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہاکہ منشیات کے ذریعے نوجوان نسل کو تباہی کی جانب گامزن کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے اورگرفتارملزمان کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کرکے عدالت سے سخت سزا دلوائی جائے۔

    تھانہ صدر بیرونی پولیس کی کاروائی، اشتہاری مجرم کو پناہ دینے والے ملزم اور کیٹیگری(بی)کے 02اشتہاری مجرمان سمیت 03 گرفتار۔تفصیلات کے مطابق راولپنڈی پولیس کا اشتہاری مجرمان اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ایس ایچ او صدر بیرونی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کاروائی کرتے ہوئے کیٹیگری(بی)کے 02اشتہاری مجرمان بابر کھوکھر اور احتشام گلزار کو گرفتار کرلیا، اشتہاری مجرمان چیک ڈس آنر کے مقدمہ میں چند ماہ سے صدر بیرونی پولیس کو مطلوب تھے، جبکہ دوسری کاروائی کے دوران صدر بیرونی پولیس نے قتل کے مقدمہ میں مطلوب کیٹیگری (اے) کے اشتہاری مجرم محسن خان کی گرفتاری کے لیے ریڈ کیا، ریڈکے دوران ملزم صفدر خان نے اشتہاری مجرم کو پناہ دینے اور فرار ہونے میں مدد دی، جس پر صدر بیرونی پولیس نے کاورائی کرتے ہوئے اشتہاری مجرم کو پناہ دینے اور فرار ہونے میں مدد دینے والے ملزم صفدر خان کو گرفتار کر لیا،ایس پی صدر نے ایس ایچ او صدر بیرونی اور پولیس ٹیموں کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ملزم قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتا،اشتہاری مجرمان اور اُن کے سہولت کاروں کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔

    پوٹھو ہار ڈویژن پولیس کی پتنگ بازوں کے خلاف کاروائی،04ملزمان گرفتار پتنگیں اور ڈور یں برآمد، مقدمات درج۔تفصیلات کے مطابق راولپنڈی پولیس کا پتنگ فروشوں او ر پتنگ بازوں کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، ایس ایچ اوائیر پورٹ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کاروائی کرتے ہوئے 02ملزمان یاسر اعجاز اور چوہدری فیضان کو گرفتار کر لیا، ملزم یاسر اعجاز کے قبضہ سے40پتنگیں جبکہ ملزم چوہدری فیضان کے قبضہ سے30 پتنگیں برآمد ہوئی،ایس ایچ اومورگاہ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کاروائی کرتے ہوئے 02ملزمان حمزہ ساجد اور سلیمان خان کو گرفتار کر لیا، ملزم حمزہ ساجد کے قبضہ سے20پتنگیں اور01ڈور جبکہ ملزم سلیمان خان کے قبضہ سے32پتنگیں اور01ڈور برآمد ہوئی،ملزمان کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کر لیے گئے، ایس پی پوٹھوہار نے متعلقہ ایس ایچ او ز اور پولیس ٹیموں کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ پتنگ بازی ایک خطرناک کھیل ہے، پتنگ فروشوں اور پتنگ بازوں کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔

    راولپنڈی پولیس کی ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف کاروائیاں جاری،10ملزمان گرفتار،اسلحہ و ایمونیشن برآمد، مقدمات درج۔ تفصیلات کے مطابق ایس ایچ اووارث خان نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کاروائی کرتے ہوئے عدنا ن اقبال کو گرفتار کر کے01 پستول30بو ر معہ ایمونیشن برآمد کرلیا، ایس ایچ او نیوٹاؤن نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کاروائی کرتے ہوئے 02ملزمان شایان اور ملک نعمان کو گرفتار کر لیا، ملزم شایان کے قبضہ سے01پستول09ایم ایم معہ ایمونیشن جبکہ ملزم ملک نعمان کے قبضہ سے01پستول30بور برآمد کر لیا،ایس ایچ او ائیر پورٹ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کاروائی کرتے ہوئے 02ملزمان شجاعت احمد اور آفتاب احمد کو گرفتار کر کے02پستول30بور معہ ایمونیشن برآمد کرلیے،ایس ایچ او ٹیکسلانے اپنی ٹیم کے ہمراہ کاروائی کرتے ہوئے ملزم عمران خان کو گرفتار کر کے01پستول30بور معہ ایمونیشن برآمد کر لیا،ایس ایچ اوگوجر خان نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کاروائی کرتے ہوئے ملزم ذوالفقار کو گرفتار کر کے 01رائفل12بور برآمد کر لی،ایس ایچ ا وکلرسیداں نے نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کاروائی کرتے ہوئے ملز م فخر شاہ کو گرفتار کر کے 01پستول30بور معہ ایمونیشن برآمد کر لیا،ایس ایچ او کوٹلی ستیاں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کاروائی کرتے ہوئے ملزم شاہ زیب کو گرفتار کر کے01پستول 30بور معہ ایمونیشن برآمد کر لیا،ایس ایچ او مری نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کاروائی کرتے ہوئے ملزم بختیار کو گرفتار کر لیا، ملزم کے قبضہ سے01پستول30بور معہ ایمونیشن برآمد ہوا، ملزمان کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کر لیے گئے، ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف کاروائی پر ڈویژنل ایس پیزنے متعلقہ ایس ایچ اوز اور پولیس ٹیموں کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ کاروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔

    راولپنڈی پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے09ملزمان کوگرفتار کرکے ان کے قبضہ سے53لیٹر شراب،590گرام چرس برآمد کرکے ملزمان کے خلا ف الگ الگ مقدمات درج کر لیے۔تفصیلات کے مطابق تھانہ گنجمنڈی پولیس نے منصف سے20لیٹر شراب، تھانہ پیرودہائی پولیس نے عمر فاروق سے10لیٹر شراب،تھانہ وارث خان پولیس نے دلاور خان سے03لیٹر شراب،دولت خان سے200گرام چرس، تھانہ صادق آباد پولیس نے نعیم سے10لیٹر شراب، اسلم مسیح سے05لیٹر شراب، تھانہ ویسٹریج پولیس نے دائم کروبی سے05لیٹر شراب، تھانہ آراے بازار پولیس نے وحید عباس سے150گرام چرس، طاہر خان سے240گرام چرس برآمد کر کے ملزمان کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کر لیے۔

  • خیبرپختونخوااحتساب کمیشن ، قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا گیا

    خیبرپختونخوااحتساب کمیشن ، قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا گیا

    خیبرپختونخوامیں احتساب کمیشن کی ناکامی کے اسبابآڈیٹرجنرل کی اسپیشل اسٹڈی رپورٹ میں چشم کشا انکشافات،اسپیشل اسٹڈی رپورٹ خیبرپختونخوا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو ارسال

    رپورٹ کے مطابق ڈی جی احتساب کمیشن سے ملزم کو گرفتار کرنے کا اختیار لینا اسکی ناکامی کی بڑی وجہ ہے۔ انٹرنل مانیٹرنگ اور پبلک کمپلینٹ ونگ کی ناقص کارکردگی بھی احتساب کمیشن کی ناکامی کی ایک بنیادی وجہ ہے۔احتساب کمیشن میں بے ضابطگیوں کی بڑی وجہ ناقص نگرانی قرار ۔

    ایڈیشنل ڈائریکٹر انوسٹیگیشن کو غیرقانونی توسیع دینے سے قومی خزانے کو 1کروڑ 14 لاکھ روپے کا نقصان ہوا ۔مانیٹرنگ ڈائریکٹر کی تقرری غیرقانونی ہوئی۔جس کو تنخواہوں کی مد میں 75لاکھ جاری ہوئے ۔افسران کو اعزازی پیسوں کے نام پر تین کروڑ تراسی لاکھ سے زائد روپے دئیے گئے ۔

    کنٹرولر جنرل سے منظوری کے بغیر 53 کروڑ 74 لاکھ خرچ کئے گئے ۔ دفترکی گاڑیوں کے غیرضروری استعمال سے 22 لاکھ روپے اضافی خرچ ہوئے ۔
    جنریٹر اور دیگرسامان کی خریداری میں خردبرد کیا گیا ۔ناقص انوسٹیگیشن اور کمزور پراسیکیوشن ٹیم کی وجہ سے کمیشن اپنے کیسز کا دفاع نہیں کرسکا۔

  • تھوہا محرم خان میں طالبات کا استحصال

    تھوہا محرم خان میں طالبات کا استحصال

    تھوہا محرم خان میں طالبات کا استحصال

    ہر حکومت نے اپنے دور میں مفت اور معیاری تعلیم کا نعرہ لگایا ہے لیکن تعلیم محض پانچ جماعتیں پڑھنے کا نام تو نہیں (UPE)یونیورسل پرائمری ایجوکیشن کے نعرے دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے کہ مصداق پر کشش تو ہیں لیکن کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ آج کل کے دور کا تقاضا محض پرائمری تعلیم نہیں بلکہ دور حاضر کی جدت ہم سے ہر شعبہ زندگی کی طرح تعلیم میں بھی Do Moreکا مطالبہ کرتی ہے۔مقابلے کی اس فضا میں جب ملک میں ایم اے لوگ تو کسی گنتی میں نہیں ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی تگ و دو کا شکار ہیں کیسے اس بات کو جوا ز مہیا کیا جا سکتا ہے کہ حکومت پرائمری تک تعلیم دے کر بری الذمہ ہے؟پھر اس میں بھی ایک تلخ خقیقت یہ ہے کہ پرائمری ایجوکیشن میں تمام زور لڑکوں کے لیے ادارے بنانے میں ہے۔
    تھوہا محرم خان میں بھی یہ امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے 30سے زائد سکولوں میں لڑکیوں کے سکول پانچ یا چھ ہوں گے۔لاوہ تحصیل کے بعد موضع تھوہا محرم خان ایشیاء کا دوسرا بڑا قصبہ ہونے کا اعزاز رکھتا ہے۔اس کا رقبہ اورآبادی دونوں غیر معمولی ہیں۔ ضلع چکوال میں یہ شائدواحد گاؤں ہے جہاں نہ صرف دو یونین کونسلز ہیں بلکہ 30سے زائد سرکاری سکول بھی کام کر رہے ہیں۔ بادی النظر میں تو ایک گاؤں میں 30سکول کافی سے زیادہ ہیں لیکن یہاں حقائق انتہائی تلخ ہیں۔مرکزی شہر تھوہا محرم خان کے ساتھ ملحق کئی ڈھوکیں ایسی ہیں جہاں نہ صرف لوگ زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں بلکہ ان کے لیے تعلیم خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم ایک سراب کی حیثیت رکھتی ہے۔ تھوہا محرم خان سے ڈھرنال کی جانب جانے والے پختہ راستہ پر دو موڑ ایسے ہیں جہاں سے راستہ آپ کو لیجاتا ہے ان آبادیوں میں جہاں بجلی کسی حد تک 2020میں مہیا کر دی گئی ہے لیکن دیگر ضروریات زندگی سے کوسوں دور،تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم کئی چھوٹی چھوٹی بستیاں کسی مسیحا کی منتظر ہیں۔ ڈھوک کنڈ میاں محمد،ڈھوک تلہ جابہ،ڈھوک دابڑ ڈھبہ یہ تین علاقے تھوہامحرم خان کی یونین کونسل 58میں شامل ہیں یہاں ہر ڈھوک پر ایک ایک بوائز پرائمری سکول موجود ہے۔ ڈھوک ڈابڑ ڈھبہ سکول میں طلباء کی تعداد 95ہے جس میں لڑکیاں 49ہیں۔ گورنمنٹ پرائمری سکول کنڈ میاں محمد میں طلباء کی تعداد 175ہے جس میں 70 سے زائد لڑکیاں زیر تعلیم ہیں۔ جبکہ گورنمنٹ پرائمری سکول تلہ جابہ میں تعدادطلباء 94ہیں ان میں لڑکیوں کی تعداد42ہے۔کل مِلا کر ان تین سکولوں میں لڑکیوں کی تعداد 161ہے۔لیکن اسی علاقے میں تین سکولوں کے UPEسروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ درجنوں لڑکیوں کے والدین گرلز سکول نہ ہونے کی وجہ سے بچیوں کو مدارس میں بھیج رہے ہیں یا پھر گھر بٹھا رکھا ہے۔یعنی بنیادی تعلیم تک بھی لڑکیوں کی رسائی 100فی صد نہیں ہے جبکہ حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہواکے مصداق المیہ صرف یہ نہیں بلکہ اس سے آگے یعنی ایلمنٹری ایجوکیشن تک رسائی تمام طالبات کے لیے نہایت مشکل ہے۔ نہ تو والدین کے معاشی وسائل اتنے ہیں کہ وہ لڑکیوں کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرسکیں اور نہ ہی علاقہ کا محل وقوع اجازت دیتا ہے کہ لڑکیاں اکیلی گھر سے دور روزانہ آئیں جائیں۔ان علاقوں میں عام طور پر پنجم جماعت کے بعد لڑکیوں کی تعلیم کا فی تصور کرتے ہوئے ان کو گھر بٹھا لیا جاتا ہے۔ علاقہ کا نزدیک ترین گرلز پرائمری سکول ڈھبہ ہرمل ہے جہاں کسی حد تک ڈھوک دابڑ ڈھبہ کی آبادی کو اس کا فائدہ ہے لیکن اس کا دائرہ کار چند نزدیکی گھروں تک محددود ہے۔تلہ جابہ سے گرلز سکول ڈھبہ ہرمل کا فاصلہ 8کلومیڑ جبکہ کنڈ میاں محمد سے یہ فاصلہ12کلومیٹر ہے۔ یہ فاصلہ ایک سکول تا دوسرے سکول ماپ کر لکھا گیا ہے۔ اصل مسائل ہر سکول سے ملحق آبادیوں کے لیے ہیں۔ جو ان سکولوں کا فیڈنگ ایریا تصور کی جاتی ہیں۔ڈھوک کنڈ میاں محمد پرائمری سکول میں بچے اور بچیاں ڈھوک سڑیا،ڈھوک گوچھڑشمالی حصہ، ڈھوک چھوئی مجید ڈھوک، گلی،ڈھوک ولاوئیں، ڈھوک کنڈ،ڈھوک ککڑ،ڈھو ک ڈ نگا گاٹا سے پڑھنے کے لیے ایک تا چار کلومیٹر جبکہ بعض دور کی ڈھوکوں سے پانچ تا چھ کلومیڑ تک پیدل چل کر آتے ہیں۔ تلہ جابہ پرائمری سکول میں بھی صورتحال یہی ہے ڈھوک گوچھڑ کاجنوبی حصہ، ڈھوک وچھوال، ڈھوک لیٹاں، ڈھوک ڈانڈا، ڈھوک پٹیاں، ڈھوک مہلی، ڈھوک کاچھل، سے بچے ایک تا چھ کلومیٹر پیدل سفر کرکے سکول پڑھنے آتے ہیں۔ان تما م علاقوں کو لڑکیوں کی پنجم سے آگے تعلیم کے لیے دو سکول میسر ہیں ایک کا ذکر پہلے کیا جاچکا ہے یعنی گرلز ایلمنٹری سکول ڈھبہ ہرمل جس کا فاصلہ ان ڈھوکوں سے 10کلومیٹر سے کم نہیں، جبکہ دوسرا سکول ان علاقوں سے پندہ کلومیٹر دور تھوہا محرم خان گرلز ہائی سکول ہے۔علاقے کی جغرافیائی ساخت سے نا واقف معزز قارئین کو ممکنہ طور پر بیان کیا گیا فاصلہ کم محسوس ہو لیکن واقفانِ حال جانتے ہیں یہ نیم پہاڑی علاقہ ہے جس کے75فیصد راستے محض ٹریکٹر یا جانوروں اور موٹر سائیکل سواروں کی گزر گاہ ہیں۔علاقے کو ایک نیم پختہ سڑک تھوہا محرم خان سے ملاتی ہے لیکن اس پر پبلک ٹرانسپورٹ بالکل نہیں چلتی علی الصبح چند گاڑیاں تلہ گنگ جاتی ہیں جو شام ڈھلے گاؤں کا رخ کرتی ہیں۔اس طرح طلبہ کو علاقائی ٹرانسپورٹ کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ پرائمری پاس لڑکے تو موٹر سائیکل، سپیشل گاڑیوں پر (اکثر چھتوں پر یا سائیڈ پر لٹک کر) تھوہا محرم خان بوائز ہائی سکول یا کھوڑ بوائز ایلمنٹری سکول تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں لیکن ان کا بہت سا وقت اور توانائی آنے جانے میں صرف ہو جاتی ہے۔اس پر مرے کو ماریں شاہ مدار کے مصداق زرعی پس منظر کی وجہ سے سکول سے واپسی پر کافی وقت کھیتی باڑی اور مال مویشی سنبھالنے میں گزر جاتا ہے۔جبکہ لڑکیاں تو 5یا 10سے زیادہ پنجم سے آگے پڑھنے بھیجی ہی نہیں جاتیں۔ان 5یا10میں سے بھی کئی ایک کو 8جماعتیں پوری ہونے سے پہلے سکول سے نکلوا لیا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کنڈ میاں محمد پرائمری سکول کو نہ صرف اپ گریڈ کر کے ایلمنٹری کیا جائے بلکہ علاقے میں لڑکیوں کا ایک ایلیمنٹری سکول بھی بنایا جائے جس کو داخلے کا رجحان اور نتائج سے مشروط کر کے ہائی کرنے کی بھی امید دلائی جائے۔اہل علاقہ پر یہ حکومت وقت،سیاسی معززین اور سرکردہ شخصیات کا ایک ایسا احسان ہو گا جس کا ثمر ان کو اللہ کے ہاں تو ملے گا ہی ان شا اللہ آنے والی نسلوں تک دنیا میں بھی اس اہم ترین کاوش کو یاد رکھا جائے گا۔ قارئین آنے والا ہر دن ہمیں اس طرف لیجا رہا ہے جب انسان وہی کامیاب اور دولت مند ہو گا جس کے پاس علم ہو گا۔عالمی اداروں میں پیشہ وارانہ مہارتوں کو جس شرح سے ترجیح دی جا رہی ہے آنے والے چند سالوں میں تعلیم سے بڑا نہ تو کوئی خزانہ ہو گا اور نہ اس کا کوئی نعم البدل ہوگا۔تھوہا محرم خان ضلع چکوال کے ان چنیدہ علاقوں سے ہے جہاں ٹیلنٹ کی بہتات ہے لیکن یہ تمام تر ہونہار،ذہین اور قابل طلبہ و طالبات مناسب مواقع نہ ملنے کی وجہ سے دن بدن ضائع ہو رہے ہیں۔یہ تحریر تھوہا محرم خان کے خواص و عوام کے منجمد احساسات و خیالات کی جھیل پر پہلا کنکر ہے۔ان شاللہ علاقہ میں بچوں کا مستقبل محفوظ بن جانے تک ہر سماجی،سیاسی اور معاشرتی دہلیز پر بذریعہ قلم دستک جاری رہے گی کیوں کہ ہم صبح پرستوں کی یہ ریت پرانی ہے ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا۔

    (کاشف شہزاد تبسم،مبشر حسن شاہ)

  • قیام امن کے لئے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کیا جائے، ازقلم غنی محمود قصوری

    قیام امن کے لئے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کیا جائے، ازقلم غنی محمود قصوری

    قیام امن کے لئے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کیا جائے، ازقلم غنی محمود قصوری

    جب تک امن و امان قائم نا ہو قومیں ملک اور معاشرے ترقی نہیں کر سکتے

    انسان خطا کا پتلا ہے اور اس سے کئی طرح کی خطائیں ہوتی رہتی ہیں جن کی اصلاح کیلئے احتسابی نظام بنایا جاتا ہے تاکہ خطاء پر سزا دے کر اصلاح کی جاسکے اور آگے سے دوبارہ خظا نا ہو

    ہمارے معاشرے میں ہر فرد کے احتساب کا قانون موجود ہے جس کے تحت سزائیں و جرمانے کئے جاتے ہیں

    جیسا کہ سویلین کے لئے کئی طرح کی عدالتیں قائم ہیں جن میں مقدمات چلا کر سزائیں دی جاتی ہیں تاہم سب سے مشکل اور کٹھن احتساب فوج کا ہے جسے کورٹ مارشل ( عسکری عدالت) کہتے ہیں جو کہ 1951 کو شروع کیا گیا اور آج بھی موجود ہے اور اسی کے ذریعے فوجی ججوں پر مشتمل عدالت میں مسلح فوج کے افسروں و جوانوں پر جنگی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی صورت میں مقدمات چلا کر سزائیں دی جاتی ہیں تاہم سویلین پر بھی کورٹ مارشل لاگو ہے کیونکہ فوج کے اندر بہت زیادہ سویلین بھی کام کرتے ہیں جیسا کہ ڈاکٹرز ،پیرا میدیکل سٹاف اور دیگر شعبوں میں سویلین تعینات ہیں اس لئے ان کا بھی کورٹ مارشل کیا جاتا ہے جیسا کہ 2018 میں آرمی ہسپتال میں تعینات سویلین ڈاکٹر وسیم اکرم کو آفیسرز سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزائے موت کی سزا سنائی گئی اسی طرح بریگیڈیئر راجہ رضوان کو ملک دشمن ایجنسی را سے معاونت پر آفیسرز سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی گئی

    کورٹ مارشل کا ٹرائل زیادہ تر دو سے چھ دن میں کر دیا جاتا ہے اور دوران ٹرائل ملزم کو اپنے دفاع کا پورا موقع فراہم کیا جاتا ہے

    عسکری عدالت سے سزا یافتہ فوجی دوبارہ ڈیوٹی نہیں کر سکتا اور اس کو مراعات بھی نہیں دی جاتیں اور کریمنل ریکارڈ بنا کر پوری زندگی کسی بھی سرکاری محکمے میں نوکری کرنے سے روک دیا جاتا ہے اور اس کی سزا کو مکمل کئے بغیر ختم نہیں کیا جاتا

    سول اور عسکری احتساب میں کافی فرق ہے جیسا کہ سویلین مقدمے میں سزا پانے والے قیدی کو اپنی سزا پر التجاء کرنے کا حق ہوتا ہے جیسا کہ سزائے موت کا قیدی اپنی سزا کو عمر قید میں یا صدر پاکستان سے رحم کی اپیل کی صورت میں کم کروا سکتا ہے جبکہ عسکری عدالت سے سزا پانے والا قیدی ایسے طریقے سے مستفید نہیں ہو سکتا

    سول گورنمنٹ ملازمین پر کرپشن و بدعنوانی کے مقدمات سول کورٹس و محکموں کی کمیٹیوں میں نمٹائے جاتے ہیں جن کا دائرہ کار بہت لمبا ہوتا ہے بعض دفعہ سالوں سال لگ جاتے ہیں اور جرم ثابت ہونے پر معمولی سزا دی جاتی ہے مگر جبکہ کریمنل ریکارڈ بھی نہیں بنایا جاتا زیادہ تر تو معطل ملازمین کو چند ماہ بعد ہی باعزت بری کر دیا جاتا ہے اور ساری رکی ہوئی مراعات بھی دی جاتی ہیں جس سے ان کرپٹ عناصر کو مذید شہہ ملتی ہے

    اس وقت پاکستان کے محکموں میں کرپشن کی انتہا ہے خاص طور پر محکمہ پولیس میں بغیر رشوت کے کام ایک معجزہ ہی تصور کیا جاتا ہے اور سب سے زیادہ قانون شکنی بھی محکمہ پولیس میں ہوتی ہے حالانکہ آئین پاکستان 1973 کی دفعہ 8 کے تحت پولیس کا کام امن و امان کی بحالی ہے مگر پاکستان کی کل ساڑھے 4 لاکھ پولیس رشوت کا گڑھ اور لوگوں کے لئے خوف کی علامت ہے جبکہ آئے روز پولیس ملازمین کی طرف سے لوگوں سے پیسے لے کر مخالفین کا ماورائے آئین و عدالت قتل کرکے پولیس مقابلہ قرار دیا جاتا ہے

    پولیس کے خلاف مقدمات سول عدالت میں چلتے ہیں کمزور عدالتی نظام اور گواہوں کو ڈرا دھمکا کر یہ صاف بچ نکلتے ہیں زیادہ تر عدالتوں سے مقدمات میں سے بچ نکلنے والے پولیس اہلکاران و افسران مذید دہشت و خوف کی علامت بن جاتے ہیں جیسا کہ سندھ پولیس کا راؤ انوار جعلی پولیس مقابلوں کے باعث خوف کی علامت بنا ہوا ہے اور اسی کمزور نظام کے باعث ہر بار صاف بچ جاتا ہے حالانکہ نقیب اللہ معسود کے قتل کے کافی شوائد بھی اسے سزا نا دلوا سکے

    اس لئے وقت کا تقاضہ ہے کہ سول محکموں خاص طور پر پولیس اصلاحات کیلئے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے آئین پاکستان 1973 کی دفعہ 8 ،(3) میں ترمیم کی جائے اور پولیس اہلکاران کا کورٹ مارشل کیا جائے تاکہ معطل ملازم دوبارہ بحال نا ہو اور دوسرے اس سے عبرت حاصل کریں

    جس دن پولیس نظام ٹھیک ہو گیا اسی دن ملک پاکستان سنورنا شروع ہو جائے گا کیونکہ جب کسی کی چوری ہوتی ہے تو اسے اپنی ایف آئی آر درج کروانے کیلئے پولیس کو مذید رشوت دینی پڑتی ہے سو مجبوراً وہ بندہ رشوت دیتا ہے اس کی چوری چاہے ملے نا ملے رشوت کے بغیر کام نہیں چلتا سو وہ بندہ اپنی چوری و رشوت کی کمی پوری کرنے کیلئے کسی دوسرے کو مالی نقصان پہنچاتا ہے اگر وہ تاجر ہے تو اپنے دام تیز کر دے گا اگر وہ ملازمت پیشہ ہے تو لوگوں سے جائز کام کے عیوض رشوت لے گا اور اسی طرح آگے سارا نظام خراب ہوتا جائے گا

    موجود حالات کا تقاضہ ہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی پیش کردہ سمری کے مطابق قیام امن کے لیے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کیا جائے