Baaghi TV

Tag: #BaaghiTV #Strike #exclusive

  • سائل دہلوی صاحب کی وفات

    سائل دہلوی صاحب کی وفات

    ستمبر ١٩٤٥*

    *حضرتِ داغؔ دہلوی کے داماد، شاگرد اردو کلاسیکی غزل کے معروف شاعر” سائلؔ دہلوی صاحب “ کی وفات…*

    *داغؔ* کی بنائی ہوئی لفظ ومعنی کی روایت کو برتنے اور آگے بڑھانے والوں میں *سائلؔ* کا نام بہت اہم ہے ۔ سائل داغ کے شاگرد بھی تھے اور پھر ان کے داماد بھی ہوئے انہوں نے تقریبا تمام کلاسیکی اصناف میں شاعری کی اور اپنے وقت میں برپا ہونے والی شعری محفلوں اور مشاعروں میں بھی بہت مقبول تھے ۔
    *نواب سراج الدین خاں سائلؔ* کی پیدائش *۲۹ مارچ ۱۸۶۴ء* کو دہلی میں ہوئی ۔ وہ *مرزا شہاب الدین احمد خاں ثاقب* کے بیٹے اور *نواب ضیاالدین احمد خاں نیر درخشاں جاگیر دار لوہارو* کے پوتے تھے ۔ بچپن میں ہی ان کے والد کا انتقال ہوگیا لہذا چچا اور داد کے سایۂ عاطفت میں پروان چڑھے ۔ شاگرد *غالب نواب غلام حسین خاں محو* کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا ۔
    *داغؔ* کے انتقال کے بعد *سائلؔ* اور *بیخودؔ دہلوی*، *حضرتِ داغ* کی جانشینی کے دعوے دار تھے اس لئے ان دونوں کے حامیوں میں تکرار اور معرکے ہوتے رہے ۔ *شاہد احمد دہلوی* نے ان معرکوں کے بارے میں لکھا ہے ’’ دہلی میں *بیخود* والوں اور *سائلؔ* والوں کے بڑے بڑے پالے ہوتے ۔ اکثر مشاعروں میں مار پیٹ تک نوبت پہنچ جاتی ۔ سائل صاحب ان جھگڑوں سے بہت گھبراتے تھے اور بالآخر انہوں نے دہلی مشاعروں میں شریک ہونا ہی چھوڑ دیا ‘‘۔
    *١٥ ستمبر ۱۹۴۵ء* کو *دہلی* میں *سائلؔ دہلوی* کا انتقال ہوا اور *صندل خانہ بابر مہرولی* میں سپرد خاک کیا گیا ۔

    💐 *ممتاز شاعر سائلؔ دہلوی کے یومِ وفات پر منتخب اشعار بطورِ خراجِ عقیدت…* 💐

    گماں کس پر کریں صوفی ادھر ہے اس طرف واعظ
    خدا رکھے محلے میں سبھی اللہ والے ہیں

    *آہ کرتا ہوں تو آتے ہیں پسینے ان کو*
    *نالہ کرتا ہوں تو راتوں کو وہ ڈر جاتے ہیں*

    ہمیشہ خونِ دل رویا ہوں میں لیکن سلیقے سے
    نہ قطرہ آستیں پر ہے نہ دھبا جیب و دامن پر

    تم آؤ مرگ شادی ہے نہ آؤ مرگ ناکامی
    نظر میں اب رہ ملک عدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

    خط شوق کو پڑھ کے قاصد سے بولے
    یہ ہے کون دیوانہ خط لکھنے والا

    *کھل گئی شمع تری ساری کراماتِ جمال*
    *دیکھ پروانے کدھر کھول کے پر جاتے ہیں*

    گماں کس پر کریں صوفی ادھر ہے اس طرف واعظ
    خدا رکھے محلے میں سبھی اللہ والے ہیں

    محتسب تسبیح کے دانوں پہ یہ گنتا رہا
    کن نے پی کن نے نہ پی کن کن کے آگے جام تھا

    ہمیشہ خونِ دل رویا ہوں میں لیکن سلیقے سے
    نہ قطرہ آستیں پر ہے نہ دھبا جیب و دامن پر

    *حق و ناحق جلانا ہو کسی کو تو جلا دینا*
    *کوئی روئے تمہارے سامنے تم مسکرا دینا*

    شباب کر دیا میرا تباہِ الفت نے
    خزاں کے ہاتھ کی بوئی ہوئی بہار ہوں میں

    *یہ مسجد ہے یہ مے خانہ تعجب اس پر آتا ہے*
    *جناب شیخ کا نقشِ قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی*

    *ترنم ریزیاں بزم سخن میں سن کے سائلؔ کی*
    *گماں ہوتا ہے بلبل کے چہکنے کا گلستاں میں*

    ملے غیروں سے مجھ کو رنج و غم یوں بھی ہے اور یوں بھی
    وفا دشمن جفا جو کا ستم یوں بھی ہے اور یوں بھی

    *تماشا دیکھ کر دنیا کا سائلؔ کو ہوئی حیرت*
    *کہ تکتے رہ گئے بد گوہروں کا منہ گہر والے*

    تمنائے دیدار ہے حسرت دل کہ تم جلوہ فرما ہو میں آنکھیں سینکوں
    نہ کہہ دینا موسیٰ سے جیسے کہا تھا مری عرض پر لن ترانی کہو تو

    *امیر کرتے ہیں عزت مری ہوں وہ سائلؔ*
    *گلوں کے پہلو میں رہتا ہوں ایسا خار ہوں میں*

    سائلؔ کو تم نہ چشم حقارت سے دیکھنا
    نواب پانچ پشت سے اس کا خطاب ہے

    🌸 *سائلؔ دہلوی* 🌸

  • ممتاز عالم، مترجم، ماہر لسانیات و شاعر جنہوں نے آکسفورڈ ڈکشنری کا اردو ترجمہ پیش کیا

    ممتاز عالم، مترجم، ماہر لسانیات و شاعر جنہوں نے آکسفورڈ ڈکشنری کا اردو ترجمہ پیش کیا

    ؍ستمبر ١٩١٧ ؁

    ممتاز عالم، مترجم، ماہر لسانیات و شاعر جنہوں نے آکسفورڈ ڈکشنری کا اردو ترجمہ پیش کیا” شان الحق حقّیؔ صاحب “ کا یومِ ولادت…
    شان الحق نام اور حقّیؔ تخلص تھا۔ ۱۵؍ستمبر ۱۹۱۷ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ اعلی تعلیم سینٹ اسٹیفنز کالج، دہلی اور علی گڑھ یونیورسٹی سے حاصل کی۔۱۹۵۵ ء میں لندن میں ذرائع ابلاغ کا کورس بھی مکمل کیا۔ ۱۹۵۰ء سے ۱۹۶۸ء کی درمیانی مدت میں آپ مدیر اعلی ’’ماہ نو‘‘ کراچی ونگراں مطبوعات ڈپٹی ڈائرکٹر محکمۂ اشتہارات ومطبوعات وفلم سازی حکومت پاکستان اور رکن سابق انفارمیشن سروس آف پاکستان رہے۔کراچی میں یونائیٹڈ ایڈورٹائزر کے ڈائرکٹر رہے۔پاکستان آرٹس کونسل کی مجلس انتظامیہ کے رکن بھی رہے۔ آپ کی چند تصانیف وتالیفات یہ ہیں:
    ’انتخاب ظفر‘ ، ’انجان راہی‘(ترجمہ امریکی ناول)، ’تار پیراہن‘(منظومات) ’دل کی زبان‘، ’پھول کھلے ہیں رنگ برنگے‘(منظومات) ’نکتۂ راز‘(تنقیدی مقالات)، ’لغات تلفظ‘، ’آپس کی باتیں‘، ’افسانہ در افسانہ(خودنوشت سوانح) ’حرف دل رس‘، ’اوکسفرڈانگریزی اردو لغت‘ ، ’شاخسانے‘۔ شان الحق حقی کو حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ’’ستارۂ امتیاز‘‘ عطا کیا گیا۔
    وہ ۱۱؍اکتوبر ۲۰۰۵ء کو کینیڈا میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
    بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:83

    🌸 ممتاز شاعر شان الحق حقیؔ کے یوم ولادت پر منتخب اشعار بطورِ خراجِ تحسین… 🌸

    لوگ تم سے بھی ستم پیشہ کہاں ہوتے ہیں
    جو کہیں کا نہ رکھیں اور پھر اپنا نہ کہیں

    تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
    ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    بڑی تلاش سے ملتی ہے زندگی اے دوست
    قضا کی طرح پتا پوچھتی نہیں آتی

    جدائیوں سے شکایت تو ہو بھی جاتی ہے
    رفاقتوں سے وفا میں کمی نہیں آتی

    اے دل اب اور کوئی قصۂ دنیا نہ سنا
    چھیڑ دے ذکرِ وفا ہاں کوئی افسانہ سنا

    کر چکا جشن بہاراں سے میں توبہ حقیؔ
    فصلِ گل آ کے مری جان کو رو جاتی ہے

    نکلے تری دنیا کے ستم اور طرح کے
    درکار مرے دل کو تھے غم اور طرح کے

    وہ مزا رکھتے ہیں کچھ تازہ فسانے اپنے
    بھولتے جاتے ہیں سب درد پرانے اپنے

    شمشیر کی زد پر ہیں کچھ اور ہمیں جیسے
    ہنگامِ تقاضا کیا اے دل وہ جسے چاہیں

    ہیں ابھی اہل ہوس سود و زیاں کے ہی اسیر
    پھیرتے ہیں یوں ہی باتوں سے گماں اور طرف

    اے دل ترے خیال کی دنیا کہاں سے لائیں
    ان وحشتوں کے واسطے صحرا کہاں سے لائیں

    چپ ہے وہ مہر بہ لب میں بھی رہوں اچھا ہے
    ہلکا ہلکا یہ محبت کا فسوں اچھا ہے

    سجا کے لائے تھے کچھ لوگ نامۂ اعمال
    میانِ حشر ہوا احتساب اور ہی کچھ

    اک مہک سی دم تحریر کہاں سے آئی
    نام میں تیرے یہ تاثیر کہاں سے آئی

    ایمائے غزل کرتی ہیں موسم کی ادائیں
    اک موجِ ترنّم کی ہوس میں ہیں فضائیں

    جو ہو ورائے ذات وہ جینا ہی اور ہے
    جینے کا اہلِ دل کے قرینہ ہی اور ہے

    وہی اک فریبِ حسرت کہ تھا بخششِ نگاراں
    سو قدم قدم پہ کھایا بہ طریقِ پختہ کاراں

    بیانِ شوق نہیں قیل و قال کا محتاج
    کبھی فغاں میں ادا کر کبھی نظر سے کہہ

    یہ کس نے کیا یاد کہاں جاتے ہو حقیؔ
    کچھ آج تو پڑتے ہیں قدم اور طرح

    🌹 شان الحق حقیؔ 🌹

  • اجمل خٹک پاکستانی سیاست میں ایک اہم شخصیت

    اجمل خٹک پاکستانی سیاست میں ایک اہم شخصیت

    اجمل خٹک
    پاکستان کے نامور سیاستدان اور ممتاز شاعر اجمل خٹک ستمبر 1926ء کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے تھے۔
    وہ باچاخان کے پیروکار اور نیشنل عوامی پارٹی کے سرگرم رہنما تھے۔
    نیپ پر پابندی کے بعد انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی اور اس کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے۔
    جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں انہوں نے طویل عرصہ تک افغانستان میں جلاوطنی بھی کاٹی۔ 1990ء سے 1993ء کے دوران وہ قومی اسمبلی اور 1994ء سے 1999ء تک سینٹ آف پاکستان کے رکن رہے۔
    اجمل خٹک پشتو اور اردو کے اہم اہل قلم میں بھی شمار ہوتے تھے۔
    ان کا مجموعہ کلام جلاوطن کی شاعری کے نام سے شائع ہوا تھا۔
    اکادمی ادبیات پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پرانہیں 2007ء کا کمال فن ایوارڈ بھی عطا کیا تھا۔
    7 فروری 2010ء کو اجمل خٹک نوشہرہ میں وفات پاگئے اور اکوڑہ خٹک میں آسودۂ خاک ہوئے۔۔!!

  • ہاجرہ مسرور کی وفات

    ہاجرہ مسرور کی وفات

    ہاجرہ مسرور کی وفات
    اردو کی ممتاز افسانہ نگار ہاجرہ مسرور کا آبائی تعلق ہندوستان کے مرکزِ علم و ادب لکھنئو سے تھا۔ جہاں وہ 17جنوری 1929ء کو پیدا ہوئی تھیں۔ان کے والد ڈاکٹر تہور احمد خان برطانوی فوج میں ڈاکٹرتھے۔ ہاجرہ مسرور کی پیدائش کے کچھ برس بعد دل کے دورے سے ان کے والد انتقال کرگئے اور خاندان کی ذمہ داری اْن کی والدہ کے کاندھوں پر آگئی۔والد کے انتقال کے بعد ان کا گھرانا نامساعد حالات کا شکار ہوا اور انہوں نے سخت حالات میں پرورش پائی۔ہاجرہ کی والدہ کٹھن وقت میں نہایت باہمت خاتون ثابت ہوئیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت اور پرورش نہایت اچھے اندازمیں کی۔ ہاجرہ مسرور کی بہنیں خدیجہ مستور اور اختر جمال بھی اْردو کی معروف ادیب تھیں۔ ان کے ایک بھائی توصیف احمد صحافت سے وابستہ رہے جبکہ ایک اور بھائی خالد احمد کا شمار اپنی نسل کے ممتاز شاعروں میں ہوتا تھا۔
    قیام پاکستان کے بعد ہاجرہ مسروراپنے اہل خانہ کے ساتھ پاکستان آگئیں اورلاہورمیں سکونت اختیار کرلی۔ اْس زمانے میں لاہورپاکستان کی ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا اورخود ہاجرہ بطورکہانی و افسانہ نگاراپنا عہد شروع کرچکی تھیں۔ان کی کہانیوں کو ادبی حلقوں میں ابتدا سے ہی بہت پذیرائی حاصل رہی تھی۔ انیس سو اڑتالیس میں انہوں نے معروف ادیب احمد ندیم قاسمی کے ساتھ مل کر ادبی جریدہ ’’نقوش‘‘ شائع کرنا شروع کیا۔ ہاجرہ مسرورکے افسانوں اور مختصر کہانیوں کے کم ازکم سات مجموعے شائع ہوئے، ان میںچاند کے دوسری طرف، تیسری منزل، اندھیرے اْجالے، چوری چھپے، ہائے اللہ، چرکے اوروہ لوگ شامل ہیں۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ 1991ء میں لاہور کے ایک ناشر نے ’’میرے سب افسانے‘‘ کے عنوان سے شائع کیا تھا۔افسانوں اور مختصر کہانیوں کے علاوہ انہوں نے ڈرامے بھی لکھے تھے۔چند سال قبل آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے بچوں کے لیے لکھی گئی اْن کی کئی کہانیاں کتابی شکل میں شائع کی تھیں۔
    ہاجرہ مسرور کو اْن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ حکومتِ پاکستان نے ادب کے شعبے میں ان کی نمایاں خدمات پر 14 اگست 1995ء کو انھیں صدارتی تمغہ برائے حْسنِ کارکردگی عطا کیا تھا ۔ 2005ء میں انہیں عالمی فروغِ اْردو ادب ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔
    ہاجرہ مسرور نے پاکستانی فلمی صنعت کے اچھے دنوں میں کئی فلموں کے اسکرپٹ بھی لکھے۔ ان کے ایک اسکرپٹ پر پاکستانی فلمی صنعت کا سب سے بڑا اعزاز ’’نگار ایوارڈ‘‘ بھی دیا گیا۔انہوں نے 1965ء میں بننے والی پاکستانی فلم ’’آخری اسٹیشن‘‘ کی کہانی بھی لکھی تھی۔ یہ فلم معروف شاعر سرور بارہ بنکوی نے بنائی تھی۔
    ہاجرہ مسرور کی شادی معروف صحافی احمد علی خان سے ہوئی تھی۔ جو روزنامہ پاکستان ٹائمز اور روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر رہے تھے۔ ہاجرہ مسرور کا انتقال ستمبر 2012 ء کو کراچی میں ہوا اور وہ ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں۔۔!!

  • ذاتی رنجش فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوگئے

    ذاتی رنجش فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوگئے

    سرگودھا (نمائندہ باغی ٹی وی )چک نمبر 121شمالی میں مخالفین کی فائرنگ سے تین افراد زخمی تفصیلات کے مطابق فائرنگ پرانی دشمنی اور زاتی رنجش کا نتیجہ ہےفائرنگ کے نتیجے میں 3افراد زخمی ہو گئے ملزمان نے دوکان پر بیٹھے افراد پر سیدھے فائر کئے جس سے دو افراد کو پیٹ میں گولی لگی اور ایک کے پاؤں میں فائر لگازخمیوں کو فوری DHQ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ملزمان بااثر ہیں دھند دھناتے پھر رہے ہیں اور قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں متاثرین کی ڈی پی او سرگودہا سے نوٹس لینے کا مطالبہ پولیس ملزموں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت
    مقدمات درج کرے اور انہیں فوری گرفتار کرے

    سرگودھا آہی جی پنجاب واقعہ کا نوٹس اور ہمیں انصاف فراہم کریں

  • مشہور ٹیسٹ کرکٹر عبدالقادر کی پیدائش بھی ستمبر میں ہوئی

    مشہور ٹیسٹ کرکٹر عبدالقادر کی پیدائش بھی ستمبر میں ہوئی

    عبدالقادر کی پیدائش کب ہوئی
    ستمبر 1955ء مشہور رائٹ آرم، لیگ بریک اور گگلی بائولر عبدالقادر خان کی تاریخ پیدائش ہے۔ عبدالقادر کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 14تا 19 دسمبر 1977ء کے دوران لاہور میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے ٹیسٹ میچ سے ہوا۔
    انہوں نے مجموعی طور پر 67 ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا اور 236 وکٹیں حاصل کیں۔
    انہوں نے ایک اننگز میں 5 وکٹیں لینے کا اعزاز 15مرتبہ اور ایک میچ میں 10 وکٹیں لینے کا اعزاز 10 مرتبہ حاصل کیا۔
    عبدالقادر نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ 6 تا 11 دسمبر 1990ء کو لاہور میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا۔ عبدالقادر نے 104 بین الاقوامی میچوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور 132 وکٹیں حاصل کیں۔
    ان کے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کا آغاز 11 جون 1983ء کو برمنگھم میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہوا۔
    انہوں نے ایک میچ میں 5 وکٹیں لینے کا اعزاز دو مرتبہ حاصل کیا۔
    انہوں نے اپنا آخری بین الاقوامی میچ 2 نومبر 1993ء کو شارجہ کے مقام پر سری لنکا کے خلاف کھیلا۔۔!!

  • میڈیا ورکرز کا استحصال بند کیا جائے، صحافی برادری سراپا احتجاج

    میڈیا ورکرز کا استحصال بند کیا جائے، صحافی برادری سراپا احتجاج

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے صحافتی ورکرز دشمن میڈیا مشیراور پبلک نیوز چینل کے مالک یوسف بیگ مرزا اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کے قریبی دوست اور صحافتی ورکرز دشمن نیوز ون چینل کا مالک طاہر اے خان صحافتی ورکرز کی پانچ پانچ تنخواہوں کے مقروض نکلے ہیں،
    کئی سالوں سے حکومتوں سے اربوں کا بزنس اشتہارات کی مد میں وصول کرکے لمبے چوڑے اثاثے بنانے والے ان دونوں مالکان نے اپنے صحافتی ورکرز سے دن رات ایک کرکے کام لیکر ان کی پانچ پانچ ماہ کی تنخواہیں دبا لی ہیں جبکہ ان دونوں نے اپنے اپنے اداروں میں ایسے افراد کو بھی رکھا ہوا ہے جو فری آف کاسٹ کرکے باہر اداروں کو بدنام کرکے بلیک میلنگ کے زریعے پیسے کماتے ہیں اور تنخواہیں مانگنے والے ورکرز کی اداروں میں بیٹھ کر مخالفت کرتے ہیں جن ورکرز نے دن رات محنت کرکے فلیڈ میں اداروں کا نام بنایا ہے آج ان کے پاس گھروں کا کرائے دینے کے لئے پیسے نہیں ہے آج ان کے بچے فیس کی وجہ سے سکول نہیں جاسکتے ہیں آج ان کے گھروں کے بیمار والدین ، بیوی بچے اور بہن ، بھائی دوائی لینے کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں

    آج وہ اپنے گھروں کے بجلی ، پانی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی کے لئے لوگوں سے قرضے مانگ رہے ہیں آج وہ دکانداروں سے منہ چھپا کر محلے سے گزرتے ہیں اور کوئی ان کو گھر کا راشن ادھار دینے کے لئے تیار نہیں ہے آج وہ دفتر جانے کے لئے پیدل آفس آنے پر مجبور ہیں جناب وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب یہ آپ کے وہ مشیر اور دوست ہیں جو آپ کے لئے صحافتی دنیا میں بدنامی کا باعث بن رہے ہیں جس کی وجہ سے صحافتی کمیونٹی آپ کو بدعائیں دینے اور آپکو نااہل کہنے پر مجبور ہے یہ وہ لوگ ہیں جہنوں نے دوسرے صحافتی اداروں کے مالکان کو ورغلا کر تنخواہیں روکنے اور ورکرز فارغ کرنے اور تنخواہوں کی کٹوتی کے لئے تیار کیا ہیں یہ وہ دونوں ورکرز دشمن ہیں جہنوں صحافتی ورکرز پر چند دنوں میں شب خون مارا ہیں

    اگر یہ دونوں مالکان نے اپنے ورکرز کی تنخواہوں کی ادائیگی نہ کی تو ہم اسلام آباد وزیر اعظم ہاوس اور ان دونوں مالکان کے گھروں کے باہر مظاہرے بھی مظاہرے بھی کریں گے کشکول بھی لٹکائیں گے اور ان تمام حالات اور ماحول کے ذمہ دار یہ دونوں صحافتی اداروں کے مالکان ہونگے

  • ڈسٹرکٹ ویجیلینس کمیٹی خوشاب کا اجلاس

    ڈسٹرکٹ ویجیلینس کمیٹی خوشاب کا اجلاس

    سرگودہا،خوشاب (نمائندہ باغی ٹی وی )ڈسٹرکٹ ویجیلینس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) خوشاب نادیہ شفیق نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کے احکامات کی روشنی میں باونڈڈ لیبر اور چائلڈ لیبر ایکٹ پر یقینی عملدر آمد کروایا جائیگا اور کسی ادارہ یا بزنسن مین کو ان قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرنے دی جائے گی -انہوں نے لیبر ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ جو بھی چالان کریں انہیں فالو کیا جائے تاکہ فیصلے جلدی ہوں -نادیہ شفیق ڈسٹرکٹ ویجیلینس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ضروی ہدایات جاری کر رہی تھیں -اجلاس میں اسسٹنٹ ڈائرکیٹر لیبر ویلفیئر غلام شبیرکلیرا،ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر امتیاز احمد مانگٹ،ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل سکیورٹی نیاز، عطاء اللہ گنجیال بھٹہ خشت اور کمیٹی کے دیگر ممبران موجود تھے -اجلاس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر ویلفیئر غلام شبیر کلیرا نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پچھلے ماہ چائلڈ لیبر کے تحت 42 انسپکشن اور دوایف آئی آر کا اندراج،کم از کم اور مقررہ اجرت کے متعلق 322 انسپکشن اور 22 کیسزکا اندراج،بھٹہ خشت کی 10 انسپکشن اور بھٹے چالو نہ ہونے کی وجہ سے کوئی ایف آر کا اندراج نہ ہوا -انہوں نے ڈومیسٹک ورکرز کی تفصیل سے بھی صدر اجلاس کو آگاہ کیا -ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل سکیورٹی نیاز نے سوشل سکیورٹی کارڈ کے اجرء اور ورکرز کو علاج معالجہ کی سہولت مہیا کرنے کی تفصیل بتائی –

  • سلانوالی سے تعلق رکھنے والا نوجوان 11 سال سے بے گناہ بھارتی جیل میں قید ہے

    سلانوالی سے تعلق رکھنے والا نوجوان 11 سال سے بے گناہ بھارتی جیل میں قید ہے

    سرگودہا،سلانوالی (نمائندہ باغی ٹی وی )سلانوالی کا نوجوان راجہ محمد عرفان انڈیا کی جیل میں 11 سال سے بے گناہ قید ہے لواحقین کے مطابق اس کی رہائی کی کوشش جاری ہےاور انڈیا کی سپریم کورٹ میں اس کا کیس چل رہا ہے ۔ جبکہ اس کے لواحقین اور اہل سلانوالی کا حکومت پاکستان بالخصوص وزیر اعظم پاکستان سے یہ خصوصی مطالبہ ہے کہ اس کی رہائی کیلیے معاونت کریں اور انٹرنیشنل فورمز پر راجہ عرفان کی رہائی کا مطالبہ کریں اور حکومتی سطح پر بھارت میں چلنے والے کیس کا جائزہ لیں تاکہ قانونی ماہرین کی امداد اور رائے لی جا سکے راجہ عرفان کے لواحقین اتنی استطاعت نہ رکھتے ہیں کہ وہ کیس کی پیروی کر سکیں تاہم اہل سلانوالی اور مخیر خضرات ذاتی طور پر ان کی امداد کر رہے ہیں اور وہ اس کیس کی پیروی جاری رکھے ہوئے ہیں

  • سرگودہا یونیورسٹی پہلی مرتبہ دنیا کی بہترین جامعات میں شامل ہو گئی

    سرگودہا یونیورسٹی پہلی مرتبہ دنیا کی بہترین جامعات میں شامل ہو گئی

    سرگودھا (نمائندہ باغی ٹی وی ) سرگودھا یونیورسٹی پہلی مرتبہ دنیا کی بہترین جامعات میں شامل ہو گئی۔تفصیلات کیمطابق سرگودھا یونیورسٹی نے معیار تعلیم میں بہتری کیلئے اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر یونیورسٹی کی اکیڈمک پروفائل کو بڑھایا ہے جس کی وجہ سے ٹائمز ہائر ایجوکیشن رینکنگ2020ء میں سرگودھا یونیورسٹی نے جگہ بنالی ہے، اس رینکنگ میں جامعہ سرگودھا سمیت پاکستان کی14جامعات نے جگہ بنائی ہے۔ ٹائمز ہائر ایجوکیشن رینکنگ میں دنیا بھر کے92سے زائد ممالک کی60ہزارجامعات میں سے معیار پر اترنے والی1400جامعات کو شامل کیا گیا اور سرگودھا یونیورسٹی دنیا کی بہترین جامعات کی فہرست میں 1276ویں نمبر پر آئی ہے۔ ٹائمز ہائر ایجوکیشن رینکنگ2020ء میں کسی بھی یونیورسٹی کی شمولیت 13 اہداف پر منحصر ہے جن میں تدریس، تحقیق،علم کی منتقلی اور بین الاقوامی تشخص کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ ٹائمز ہائر ایجوکیشن رینکنگ2020ء میں پاکستان کی 14جامعات نے کوالیفائی کیا جن میں قائد اعظم نے�دنیا کی 500بہترین جامعات میں جبکہ سرگودھا یونیورسٹی سمیت6دیگر جامعات نے1000+کی کیٹگری میں جگہ بنائی۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال سرگودھا یونیورسٹی کیو ایس ایشیا یونیورسٹی رینکنگ میں جگہ بناتے ہوئے ایشیا کی500بہترین جامعات میں شامل ہوئی تھی۔2002ء میں قائم ہونیوالی سرگودھا نے موجودہ یونیورسٹی انتظامیہ کے متعارف کردہ اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر اکیڈمک پروفائل میں بہتری لائی اور تعلیمی میدان میں نئے رجحانات متعارف کراتے ہوئے کیو ایس رینکنگ اور ٹائمز ہائر ایجوکیشن رینکنگ2020ء کے طے کردہ اہداف حاصل کرتے ہوئے فقید المثال کامیابیاں سمیٹی ہیں۔