Baaghi TV

Tag: #BaaghiTV #Strike #exclusive

  • مرکزی انجمن تاجران سرگودہا نے فاؤنڈر گروپ کی حمایت کا اعلان کر دیا

    مرکزی انجمن تاجران سرگودہا نے فاؤنڈر گروپ کی حمایت کا اعلان کر دیا

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )مرکزی انجمن تاجران شہر وضلع سرگودھا نے چیمبر اف کامرس کے سالانہ انتخابات میں فاونڈر گروپ کی حمایت کا اعلان مرکزی انجمن تاجران فاونڈر گروپ کی بھرپور حمائیت کا اعلان کرتی ھے ناصر سہگل صدر شیخ نعیم کپور کا سپائیسی میرج ھال میں شہر وضلع بھر کے کی مختلف تنظیموں کے صدور وعہدیران کی موجود گی میں حمائیت کا اعلان کیا تفصیلات کے مطابق شھر وضلع سرگودھا کی تاجر برادری نے اپنا پلہ چیمبر اف کامرس کے سالانہ انتخابات میں فاونڈر گروپ کی حمایت کا اعلان کردیا یہ تقریب اپنی نوعیت کی ایک منفرد اور پروقار تقریب سپائیسی میرج ھال میں منعقد ھو ئی اسکی میں شہر کے مختلف بازوں کے صدور وعہدیران نے بھر پور شرکت کی اور فاونڈر گروپ کے گروپ لیڈر عامرعطاء باجوہ راو فضل الرحمن ناصر سہگل شیخ نعیم کپور حاجی عتیق الرحمن میاں عبدالخالق شھباز خان نے اپنے اپنے خیالات کااظہار کرتے ھوئے کہاھے کہ انشاءاللہ 17اور18زستمبر کو فاونڈر گروپ کے امیدوار ایسوسی ایٹ اور ایزیگٹوں باڈی کے ممبران بھاری اکثریت کامیاب ھونگے کیونکہ حقیقی گروپ صرف اور صرف فاونڈر گروپ ھی ھے جو پوری تاجر برادری کے تعاون سے اپنی کامیابی کے جنھڈے گاڑ تاھے اج فاونڈر گروپ کی بدولت پوری دنیاں میں سرگودھا چیمبر اف کامرس کو عزت کی نگاہ سے دیکھا اور جانا جاتاھے الحمداللہ چیمبر اف کامرس کی ایک ایک پائی کاحساب موجود ھے چیمبر کا ھر ممبر ایک ایک پائی چیک کرسگتاھے اج تاجر برادری کی ذات کاروباری معاملات کو مسئلہ درپیش اتاھے تو تاجر برادری کے ساتھ ھمہ وقت چیمبر اف کامرس کھڑی ھوتی ھے اور بھرپور شرکت کرتی ھے انہوں نے کہاکہ فاونڈر گروپ میں کالی بھیڑے نکل چکی ھیں فاونڈر گروپ سے اب مفاد پرست لوگوں کا صفایا ھوچکاھے یہی وجہ ھے کہ ھر مرتبہ فاونڈر گروپ برسر اقتدار میں ھوتا ھے آخر میں دعا کرائی گئی

  • تحصیل ساہیوال سے تعلق رکھنے والے میجر جنرل بھی لیفٹیننٹ جنرل بن گئے

    تحصیل ساہیوال سے تعلق رکھنے والے میجر جنرل بھی لیفٹیننٹ جنرل بن گئے

    ساہیوال /سرگودہا کا اعزاز،
    تحصیل ساہیوال کے شہر سے تعلق رکھنے والے میجر جنرل چراغ محمد حیدر بھی لیفٹیننٹ جنرل بن گئے،
    اہل علاقہ کی مبارکباد

    سپوت ساہیوال (سرگودہا)
    وہ منہ میں سونے کا چمچہ لیکر پیدا ہوا مگر پیشہ ایسا اختیار کیا جو سخت مشقت اور آرام کو تج دینے کا متقاضی ہے۔سپاہ گری؛وطن اور دین سے محبت ایک لحاظ سے اسے ورثہ میں ملی ۔اس کے دادا کے بڑےبھائی سردار عبدالرحمن خان ایچی سن سے پڑھ کر برٹش آرمی میں بھرتی ہوئے اور جنگ میں فرنٹ مورچوں پر لڑائیاں لڑیں مگر جب ان کے رسالے کو مکہ معظمہ پر حملہ کے احکامات ملے تو انہوں نے انگریزسرکار کے ان احکامات کو ماننے سے انکار کردیا اور بڑے عرصہ تک روپوش رہے۔لیفٹینینٹ جنرل چراغ حیدر(تمغہ ہلال امتیاز)کے داداکپتان سردار محمد حیات خان کا تعلیمی پس منظر بھی ایچی سن سے متعلق ہے ۔وہ بھی جنگ عظیم دوم میں فوج میں شامل ہوئےاور ہندوستان سے باہر کے ممالک میں کئی محاذوں میں حصہ لیامگر وہ بھی بعض وجوہات کی بنا پر قبل ازوقت سروس سے ریٹائرڈ ہوگئے۔کپتان صاحب کے پاس سینکڑوں مربع اراضی تھی۔تحصیل ساہیوال کے کئی افراد پاک فوج میں پہلے سے موجود ہیں تاہم لیفٹینینٹ جنرل چراغ حیدر خان پہلا فرد ہے جواس عہدہ پر پہنچا گویا چراغ حیدر بلوچ ساہو کی دھرتی کا اولین جنرل قرار دیا جا سکتا ہے۔ساہیوال کے محلہ سردار مبارک خان میں سردار امیر علی خان کے گھر آنکھ کھولنے والے کمسن چراغ حیدر کا بچپن ساہیوال اور گروٹ کی گلیوں میں گزرا ہے۔صادق پبلک سکول میں اسے داخل کروایا گیا۔دو تین سال بعد یہ ایچی سن کے طالب علم بنے اور ایف ایس سی اسی ادارہ سے امتیاز کے ساتھ مکمل کی۔میرٹ کی بنیاد پر میڈیکل کالج فیصل آباد میں ایم بی بی ایس میں داخلہ مل گیا مگر چراغ حیدر نے اپنے شوق کی تکمیل کے لئےپاک فوج کو جوائن کیااور اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت لیفٹینینٹ جنرل کے عہدے پر فائز ہو چکے ہیں۔2005 کے قیامت خیز زلزلہ میں متاثرین کی بحالی کے لئے چراغ حیدر خان کی خدمات تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ساہیوال کے اس سپوت کو پاک فوج میں گراں قدر خدمات کی بدولت یومِ پاکستان2019کے موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تمغہ ہلال امتیاز سے نوازا ہے جو قوم کے اس بیٹے کے توسل سے تحصیل ساہیوال کے لئے بھی بہت بڑا اعزاز ہے۔لیفٹینینٹ جنرل چراغ حیدر تمغہ ہلال امتیاز سابق ایم این اے سردار شفقت حیات بلوچ کے برادر نسبتی اور سردار ضیغم حسن بلوچ سابق چئیرمین میونسپل کمیٹی کے ہم زلف بھی ہیں۔اہل علاقہ کو قوم اور ساہیوال کے اس سپوت پر ناز ہے۔یہ ان چار میجر جنرلز میں سے ایک ہیں جن کو ترقی دے کر لیفٹینینٹ جنرل بنایا گیا ہے۔۔۔امید واثق ہے کہ قوم کا یہ سپوت ایک دن پاک فوج کی کمانڈ بھی سنبھالے

  • اسلحہ برانچ کا کلرک رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار

    اسلحہ برانچ کا کلرک رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی)اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرگودھا تصور عباس بوسال نے ایک کامیاب ٹریپ ریڈ کر کے ڈی سی او آفس سرگودھا کے اسلحہ برانچ کے کلرک شہباز خان کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا اور ملزم سے رقم رشوت نو ہزار روپے برآمد کر لی ہے . سائل عاصم گلزار نے اسلحہ لائسنس ری نیو کروانے کے حوالے سے ڈی سی او آفیس سرگودھا کے اسلحہ برانچ رابطہ کیا تو کلرک شہباز خان نے اسلحہ لائسنس ری نیو کرنے کے کیے پچیس ہزار روپے رشوت کا مطالبہ کیا . آج رشوت وصول کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انویسٹی گیشن اینٹی کرپشن سرگودھا تصور عباس بوسال نے ملزم شہباز خان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا. اس ضمن میں مقدمہ نمبر 21/2019 درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے .

  • کرپشن معاشرے کا ناسور ہے ،بابر رحمان وڑائچ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرگودہا

    کرپشن معاشرے کا ناسور ہے ،بابر رحمان وڑائچ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرگودہا

    سرگودھا)نمائندہ باغی ٹی وی )ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب جناب گوہر نفیس کے ویژن کے مطابق بابر رحمان وڑائچ، ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرگودھا کی سربراہی میں اینٹی کرپشن سرگودھا نے اشتہاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔اینٹی کرپشن سرگودھا نے 7سال سے اشتہاری ملزم دلشاد اکاؤنٹنٹ، ریجنل پولیس آفس سرگودھا کو ڈرامائی انداز میں گرفتار کر لیا۔
    اشتہاری ملزم سے خردبرد کی گئی رقم32لاکھ55ہزار88روپے ریکور کرکے خزانہ سرکار میں جمع کروا دی۔ بابر رحمٹن وڑائچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن اور بے ایمانی معاشرے کا ناسور ہیں جو کسی صورت قابل برداشت نہیں ہے کرپشن کے خاتمے کیلیے مزید اقدامات اور صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے

  • پاکستان کے پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ،سابق گورنر مشرقی پاکستان

    پاکستان کے پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ،سابق گورنر مشرقی پاکستان

    لیفٹیننٹ جنرل (ر) اعظم خان کی وفات
    13 ستمبر 1994ء کو پاکستان کے پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور مشرقی پاکستان کے سابق گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) اعظم خان لاہور میں وفات پاگئے۔
    لیفٹیننٹ جنرل (ر) اعظم خان 1910ء میں متھرا ضلع پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1929ء میں انہیں انڈین آرمی میں کمیشن ملا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران انہوں نے برما کے محاذ پر خدمات انجام دیں۔
    قیام پاکستان کے بعد 1950ء میں انہیں میجر جنرل بنایا گیا۔
    1953ء میں جب لاہور میں احمدیوں کے خلاف تحریک پر قابو پانے کے لئے مارشل لاء لگایاگیا تو وہ پاکستان کے پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔
    اکتوبر 1958ء میں صدر ایوب خان کے مارشل لاء کے زمانے میں انہوں نے سینئر وزیر اور پھر وزیر مہاجرین و بحالیات کے عہدے پر خدمات انجام دیں۔ 1960ء سے 1962ء کے دوران وہ مشرقی پاکستان کے گورنر رہے اور اپنی عوامی خدمات کے باعث عوام میں ایک ہر دلعزیز شخصیت کی حیثیت حاصل کی۔ جنرل اعظم خان نے بعدازاں عملی سیاست میں بھی حصہ لیا مگر اپنی شفاف شخصیت کے باعث اس شعبے میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کرسکے۔۔!!!

  • ایس ایچ او حاضر ہوں، ڈی پی او نے احکامات صادر کر دیے

    ایس ایچ او حاضر ہوں، ڈی پی او نے احکامات صادر کر دیے

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )ڈی پی او حسن مشتاق سکھیرا نے دونئے ایس ایچ اوز اور ایک انوسٹی گیشن آفیسرتعینات جبکہ تین ایس ایچ او کو لائن حاضر کر نے کے احکامات صادر کر دیئے۔ تفصیلات کے مطابق انسپکٹر ارشد گوندل کو پولیس لائن سے ایس ایچ او تھانہ لکسیاں، انسپکٹر قیصر الہی کو پولیس لائن سے ایس ایچ او تھانہ سٹیلائٹ ٹاؤن، انسپکٹر حاجی خان کو پولیس لائن سے انچارج انوسٹی گیشن تھانہ صدرتعینات کر دیا گیاہے جبکہ ایس ایچ او تھانہ سٹیلائٹ ٹاون انسپکٹر شہزاد فیض،ایس ایچ او تھانہ لکسیاں انسپکٹر عبدالقیوم اور ایس ایچ او تھانہ صدر انسپکٹر خدا بخش کو پولیس لائن رپورٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔

  • صدیوں تک اہتمام شب ہجر میں رہے،  صدیوں سے انتظار سحر کر رہے ہیں ہم

    صدیوں تک اہتمام شب ہجر میں رہے، صدیوں سے انتظار سحر کر رہے ہیں ہم

    ؍ستمبر۱۹۱۴

    پاکستان کے معروف شاعر” رئیسؔ امروہی “ کا یومِ پیدائش…

    نام سیّد محمد مہدی، تخلص رئیسؔ اور عرفیت اچھن تھی۔ ۱۲؍ستمبر۱۹۱۴ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے۔۱۹۱۸ء میں مکتبی تعلیم شروع ہوئی۔ان کی تعلیمی عمر کا زیادہ حصہ مطالعہ میں گزرا۔ پہلا شعر ۱۹۲۴ء میں کہا۔ ادب وصحافت سے عملی تعلق کی ابتدا ۱۹۳۱ء میں ماہ نامہ ’’حیات‘‘ کی ادارت سے کی۔ متعدد اخبارات اور رسائل سے متعلق رہے۔ اکتوبر ۱۹۴۷ء میں رئیس ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور کراچی میں سکونت پذیر ہوئے۔ تین سال تک وہ بہ حیثیت مدیر روزنامہ ’’جنگ ‘‘ کراچی سے وابستہ رہے۔ چالیس سال سے زیادہ روزنامہ ’’جنگ‘‘میں حالات حاضرہ پر روزانہ ایک قطعہ لکھتے رہے۔ ۲۲؍ ستمبر ۱۹۸۸ء کو کسی نامعلوم شخص کی گولی سے کراچی میں انتقال کرگئے۔ رئیس اکادمی کے زیر اہتمام ان کی تیس سے زیادہ کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں پانچ مجموعے نظم وغزل کے شامل ہیں۔ نثری کتب کے موضوعات نفسیات ، مابعد النفسیات، ہپناٹزم، جنات، عالم برزخ، حاضرات ارواح، عالم ارواح، روحانیت اور فلسفہ بشریات ہیں۔ ان کی چند تصانیف کے نام یہ ہیں:
    ’’الف‘‘، ’’پسِ غبار‘‘، ’’حکایات نے‘‘، ’’ملبوس بہار‘‘، ’’قطعات‘‘(اول ودوم)، ’’بحضرتِ یزداں‘‘، ’’نجمُ السحر‘‘، ’’آثار‘‘، ’’انا من الحسین‘‘۔ ۱۹۸۴ء میں حکومت پاکستان نے ان کے ادبی خدمات کے صلے میں تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ وہ بیسویں صدی کے سب سے بڑے قطعہ نگار شاعر تھے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:64

    🍃 معروف شاعر رئیسؔ امروہی کے یوم پیدائش پر منتخب اشعار پیش خدمت… 🍃

    خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم
    گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم

    ابھی سے شکوۂ پست و بلند ہم سفرو
    ابھی تو راہ بہت صاف ہے ابھی کیا ہے

    اپنے کو تلاش کر رہا ہوں
    اپنی ہی طلب سے ڈر رہا ہوں

    صدیوں تک اہتمام شب ہجر میں رہے
    صدیوں سے انتظار سحر کر رہے ہیں ہم

    پہلے یہ شکر کہ ہم حدِ ادب سے نہ بڑھے
    اب یہ شکوہ کہ شرافت نے کہیں کا نہ رکھا

    اب دل کی یہ شکل ہو گئی ہے
    جیسے کوئی چیز کھو گئی ہے

    ہم اپنے حال پریشاں پہ بارہا روئے
    اور اس کے بعد ہنسی ہم کو بارہا آئی

    کس نے دیکھے ہیں تری روح کے رستے ہوئے زخم
    کون اترا ہے ترے قلب کی گہرائی میں

    دل سے مت سرسری گزر کہ رئیسؔ
    یہ زمیں آسماں سے آتی ہے

    صرف تاریخ کی رفتار بدل جائے گی
    نئی تاریخ کے وارث یہی انساں ہوں گے

    ہم اپنی زندگی تو بسر کر چکے رئیسؔ
    یہ کس کی زیست ہے جو بسر کر رہے ہیں ہم

    چند بے نام و نشاں قبروں کا
    میں عزا دار ہوں یا ہے مرا دل

    کل فقط گیسوئے برہم تھے نشان تشویش
    آج دیکھا تو انہیں اور پریشاں پایا

    کتنی مغرور ہے نسیمِ سحر
    شاید اس آستاں سے آتی ہے

    کہیں سے سازِ شکستہ کی پھر صدا آئی
    بہت دنوں میں اک آواز آشنا آئی

    رئیسؔ اشکوں سے دامن کو بھگو لیتے تو اچھا تھا
    حضورِ دوست کچھ گستاخ ہو لیتے تو اچھا تھا

    بتا کیا کیا تجھے اے شوق حیراں یاد آتا ہے
    وہ جان آرزو وہ راحت جاں یاد آتا ہے

    قلب پاکیزہ نہاد و دل صافی دے کر
    آئینہ ہم کو بنایا ہے تو حیراں ہوں گے

    دیارِ شاہد بلقیس ادا سے آیا ہوں
    میں اک فقیر ہوں شہرِ سبا سے آیا ہوں

    مقربین میں رمزِ آشنا کہاں نکلے
    جو اجنبی تھے وہی اپنے رازداں نکلے

    اے دل شریکِ طائفۂ وجد و حال ہو
    پیارے یہ عیب ہے تو بہ حدِ کمال ہو

    جو زائرین حریم وفا ہیں ان کے لئے
    نوید رحمت پروردگار لائی ہے

    رئیسؔ ہم جو سوئے کوچۂ حبیب چلے
    ہمارے ساتھ ہزاروں بلا نصیب چلے

    ✦•───┈┈┈┄┄╌╌╌┄┄┈┈┈───•✦

    🔰 رئیسؔ امروہی 🔰

  • اپنی شاعری کے اداس رنگ کے لیے معروف شاعر” فانیؔ بدایونی صاحب “ کا یومِ ولادت…

    اپنی شاعری کے اداس رنگ کے لیے معروف شاعر” فانیؔ بدایونی صاحب “ کا یومِ ولادت…

    آج – ١٣ ستمبر ١٨٧٩

    ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، اپنی شاعری کے اداس رنگ کے لیے معروف شاعر” فانیؔ بدایونی صاحب “ کا یومِ ولادت…

    فانی کا اصل نام شوکت علی خان تھا۔ شوکت تخلص ہو سکتا تھا۔ لیکن انہوں نے فانی تخلص رکھ کر اس خواہش کی تسکین کا سامان کیا۔
    وہ ١٣ ستمبر ١٨٧٩ء کو پیدا ہوئے ۔
    جب کبھی ہم کو دامن بہار سے عالم ِیاس میں بوئے کفن آتی ہے تو فانی کی یاد آتی ہے۔ کیونکہ انہوں نے موت ہی کو ”زندگی جانا تھا اور غم کو موضوع بنایا۔
    جوش ملیح آبادی کا کہنا ہے ’’ان کی وکالت کبھی نہ چلی۔اس لئے کہ وہ شعر خوانی اور دل کی رام کہانی کا سلسلہ وہ توڑ نہیں سکتے تھے اس کا قدرتی نتیجہ یہ نکلا کہ غم دوراں کے ساتھ غم جاناں نے بھی رہی سہی کسر پوری کر دی ،ان کا ذوق سخن ابھرتا اور شیرازۂ وکالت بکھرتا گیا۔اور غریب کو پتہ بھی نہ چلا کہ میری معیشت کا دھارا ایک بڑے ریگستان کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے۔وہ پریکٹس کی جگہیں بدلتے رہے لیکن نتیجہ ہر جگہ وہی تھا گھوم پھر کر وہ ایک بار پھر لکھنو پہنچے اور اس بارغم دوراں کے ساتھ وہاں غم جاناں بھی ان کا منتظر تھا۔یہ تقّن نام کی اک طوائف تھی جو ایک رئیس کے لئے وقف تھی جوش کے الفاظ میں معاشی ابتری کے ساتھ ساتھ بیچارے کے معاشقہ میں بھی فساد رونما ہونے لگا چنانچہ وہی ہوا جو ہونا تھا ایک طرف تو معاشی زندگی کی نبضیں چھوٹیں اور دوسری طرف عاشقانہ زندگی میں ایک رقیب روسیاہ کے ہاتھوں ایسا زلزلہ آیا کہ ان کی پوری زندگی کا تختہ ہی الٹ کر رہ گیا۔کانپتے ہاتھوں سے بوریا بستر باندھ کر لکھنو سے آگرہ چلے گئے۔” فانی جگہ جگہ قسمت آزماتے رہےاور ہر جگہ فلاکت اور عشق ان کے ساتھ لگے رہے اٹاوہ میں وہ نور جہاں کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوئے لیکن کچھ دن بعد اس نے آنکھیں پھیر لیں آخر میں فانی حیدر آباد چلے گئے جہاں مارراجہ کشن پرشاد شاد ان کے مدّاح تھے ۔فانی نے اپنی زندگے کے کچھ بہترین اور با لآخر بدترین دن حیدرآباد میں گزارے۔جوان بیٹی اور پھر بیوی کا داغ دیکھا اور نہایت بیکسی اور کسمپرسی میں ١٢ اگست ١٩٤١ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔

    🌹 ممتاز شاعر فانی بدایونی کے یومِ ولادت پر منتخب اشعار بطور خراجِ تحسین… 🌹

    اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
    زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

    ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔ
    زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا

    ہرمصیبت کا دیا ایک تبسم سے جواب
    اس طرح گردشِ دوراں کو رلایا میں نے

    موجوں کی سیاست سے مایوس نہ ہو فانیؔ
    گرداب کی ہر تہہ میں ساحل نظر آتا ہے

    ناامیدی موت سے کہتی ہے اپنا کام کر
    آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے

    جوانی کو بچا سکتے تو ہیں ہر داغ سے واعظ
    مگر ایسی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے

    نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم
    رہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو وہ بھی کیا معلوم

    میرے جنوں کو زلف کے سائے سے دور رکھ
    رستے میں چھاؤں پا کے مسافر ٹھہر نہ جائے

    آتے ہیں عیادت کو تو کرتے ہیں نصیحت
    احباب سے غم خوار ہوا بھی نہیں جاتا

    زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں
    ہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں

    رونے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں فانیؔ
    یہ اس کی گلی ہے تیرا غم خانہ نہیں ہے

    کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملا
    بشر کو زیست ملی موت کو بہانہ ملا

    اے بے خودی ٹھہر کہ بہت دن گزر گئے
    مجھ کو خیال یار کہیں ڈھونڈتا نہ ہو

    اس درد کا علاج اجل کے سوا بھی ہے
    کیوں چارہ ساز تجھ کو امیدِ شفا بھی ہے

    یارب تری رحمت سے مایوس نہیں فانیؔ
    لیکن تری رحمت کی تاخیر کو کیا کہیے

    دیر میں یا حرم میں گزرے گی
    عمر تیرے ہی غم میں گزرے گی

    مجھ تک اس محفل میں پھر جام شراب آنے کو ہے
    عمر رفتہ پلٹی آتی ہے شباب آنے کو ہے

    ہجر میں مسکرائے جا دل میں اسے تلاش کر
    نازِ ستم اٹھائے جا رازِ ستم نہ فاش کر

    بیمار ترے جی سے گزر جائیں تو اچھا
    جیتے ہیں نہ مرتے ہیں یہ مر جائیں تو اچھا

    کفن اے گردِ لحد دیکھ نہ میلا ہو جائے
    آج ہی ہم نے یہ کپڑے ہیں نہا کے بدلے

    دنیائے حسن و عشق میں کس کا ظہور تھا
    ہر آنکھ برق پاش تھی ہر ذرہ طور تھا

    میری ہوس کو عیشِ دو عالم بھی تھا قبول
    تیرا کرم کہ تو نے دیا دل دکھا ہوا

    جس دل ربا سے ہم نے آنکھیں لڑائیاں ہیں
    آخر اسی نے ہم کو آنکھیں دکھائیاں ہیں

    دل آباد کا فانیؔ کوئی مفہوم نہیں
    ہاں مگر جس میں کوئی حسرت برباد رہے

    🍁 فانی بدایونی

  • سرگودہا کی ترقی میں اہم نام ،رانا منور غوث خاں

    سرگودہا کی ترقی میں اہم نام ،رانا منور غوث خاں

    آج کی سیاسی شخصیت
    رانا منور غوث خاں
    والد رانا غوث خاں (سابق ایم پی اے )
    تاریخ پیدائش 1 اپریل 1972 چک نمبر 120 جنوبی سلانوالی سرگودھا
    گورنمنٹ کالج سرگودھا 1991
    سیاست کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے شروع کیا

    2008 میں پہلی دفعہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے میدان میں اترے پی پی 36 سرگودھا سے
    33221 ووٹ حاصل کئے مد مقابل امید وار فیصل فاروق گھمن امیدوار مسلم لیگ ق کو ھرا کر کامیابی حاصل کی
    2013 میں پاکستان پیپلز پارٹی کو خیر آباد کہہ کر مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی
    2013 میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ سے میدان میں اترے پی پی 36 سرگودھا اور کامیابی حاصل کی
    2018 میں پھر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ سے میدان میں اترے پی پی 79 سرگودھا سے اور کامیابی حاصل کی
    اسی حلقے سے ان کے والد محترم رانا غوث صاحب کامیاب ھوتے رھے ہیں
    رانا منور غوث خاں صاحب اسی حلقے سے 3 دفعہ کامیاب ھوے
    یہاں پر سب سے زیادہ ووٹ راجپوت برادری کا ھے ارائیں برادری گجر برادری کا ووٹ بینک ھے

  • اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ  پنجاب میں تقرر و تبادلے

    اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب میں تقرر و تبادلے

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب میں تقرر و تبادلے تفصیلات کے مطابق علی منصور کو ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فنانس ہیڈکوارٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب تعینات کردیا گیا انہیں ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور A کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے عمران رضا عباسی کو ڈائریکٹر و جیلینس ہیڈ کوارٹر لگایا گیا ہے انہیں ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن فیصل آباد کا اضافی چارج دیا گیا ہے
    کاشف محمد علی کو ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن بہاولپور تعینات کردیا گیا
    بابر رحمان وڑائچ کو ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سرگودھا تعینات کیا گیا ہے
    عبد السلام عارف کو ڈپٹی ڈائریکٹر ویجیلینس ہیڈکوارٹر تعینات کیا گیا ہے اور انہیں ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور B کا اضافی چارج دیا گیا ہے