Baaghi TV

Tag: #BaaghiTV #Strike #exclusive

  • قائد اعظم محمد علی جناح ، ایک بے باک لیڈر

    قائد اعظم محمد علی جناح ، ایک بے باک لیڈر

    قائداعظم محمد علی جناح

    قائداعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اسی شہر سے حاصل کی پھر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انگلستان تشریف لے گئے جہاں انہوں نے 1896ء میں بار ایٹ لاء کا امتحان پاس کیا۔ وطن واپس لوٹنے کے بعد وہ وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوگئے اور پھر 1909ء میں مجلس قانون ساز کے رکن منتخب ہوئے۔
    قائداعظم نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کانگریس میں شمولیت سے کیا، پھر کچھ عرصہ تک وہ کانگریس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کے رکن بھی رہے لیکن جب ان پر کانگریس کے انتہا پسند ہندو لیڈروں کے عزائم آشکار ہوئے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مسلم لیگ کے ہوگئے اور اس تنظیم کے پرچم تلے برصغیر کے مسلمانوں کو مجتمع کرنے میں مصروف ہوگئے۔
    1929ء میں انہوں نے موتی لال نہرو کو نہرو رپورٹ کے جواب میں اپنے مشہور چودہ نکات پیش کیے۔
    جن میں برصغیر کے مسلمانوں کے مسائل کا حل تجویز کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے لندن میں گول میز کانفرنسوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کی۔
    پھر وہ کچھ عرصے کے لیے سیاست سے دلبرداشتہ ہوکر انگلستان ہی میں مقیم ہوگئے لیکن جب ہندوستان کے مسلمانوں نے انہیں اپنی قیادت کے لیے آواز دی تو وہ اس پر لبیک کہتے ہوئے وطن واپس لوٹ آئے۔
    1937ء میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے اور پھر قیام پاکستان تک اس عہدے پر فائز رہے۔
    1940ء میں ان کی زیر صدارت لاہور میں تاریخی قرارداد پاکستان پیش کی گئی جس میں واشگاف الفاظ میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا گیا۔
    ان کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں یہ مطالبہ انگریزوں نے بھی تسلیم کیا اوربالآخر 1947ء میں دنیا کے نقشے پر ایک نئی مسلم ممالک ’’پاکستان‘‘ کا اضافہ ہوگیا۔ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم، پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔
    وہ پاکستان کے لیے بہت کچھ کرنے کے خواہاں تھے لیکن ان کی بیماری نے ان کے تعمیری منصوبوں کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے دیا اور مسلمانانِ پاکستان 11 ستمبر 1948ء کو اپنے اس عظیم رہنما کی قیادت سے محروم ہوگئے۔۔!!!

  • ممتاز مفتی کی پیدائش

    ممتاز مفتی کی پیدائش

    ممتاز مفتی کی پیدائش *

    اردو کے نامور افسانہ نگار ممتاز مفتی کا اصل نام ممتاز حسین تھا اور وہ بٹالہ ضلع گورداس پور میں 11 ستمبر 1905ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے لاہور سے تعلیم حاصل کی اور پھر تدریس کے پیشہ سے وابستہ ہوئے۔ کچھ وقت فلمی دنیا میں بھی گزارا پھر مختلف سرکاری اداروں میں خدمات انجام دیتے رہے۔ ممتاز مفتی کا پہلا افسانہ ’’جھکی جھکی آنکھیں‘‘ 1936ء میں ’’ادبی دنیا‘‘ لاہور میں شائع ہوا تھا۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں ان کہی، گہما گہمی، چپ، اسمارائیں، گھڑیا گھر، روغنی پتلے، سمے کا بندھن اور کہی نہ آجائے کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر تصانیف میں ان کے سوانحی ناول ’’علی پور کا ایلی‘‘ اور ’’الکھ نگری‘‘ سفرنامے ’’لبیک‘‘ اور ’’ہند یاترا‘‘ خاکوں کے مجموعے پیاز کے چھلکے، اوکھے لوگ اور اور اوکھے لوگ شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔ 27 اکتوبر 1995ء کوممتاز مفتی اسلام آباد میں وفات پاگئے اوراسلام آباد ہی کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔۔!!!

  • ڈاکٹر فقیر محمد کی وفات

    ڈاکٹر فقیر محمد کی وفات

    ڈاکٹر فقیر محمد فقیر کی وفات

    پنجابی زبان و ادب کے نامور شاعر، ادیب اور محقق ڈاکٹر فقیر محمد فقیر 5 جون 1900ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ پنجابی زبان و ادب کی متعدد خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں ’’بابائے پنجابی‘‘کہا جاتا ہے۔ 1951ء میں انہوں نے پنجابی زبان کا اولین رسالہ ’’پنجابی‘‘ جاری کیا پھر ڈاکٹر محمد باقر کے ساتھ پنجابی ادبی اکادمی قائم کی جس کے تحت پنجابی زبان و ادب کی متعدد قدیم و جدید کتابیں شائع ہوئیں۔ وہ ایک بہت اچھے شاعر بھی تھے اور انہوں نے پنجابی زبان کو نئے اسلوب اور نئے آہنگ سے آشنا کیا۔ ڈاکٹر فقیر محمد فقیر کی مدون کی ہوئی کتب میں کلیات ہدایت اللہ، کلیات علی حیدر، کلیات بلھے شاہ اور چٹھیاں دی وار، شعری کتب میں صدائے فقیر، نیلے تارے، مہکدے پھول، ستاراں دن، چنگیاڑے اور مناظر احسن گیلانی کی النبی الخاتم اور عمر خیام کی رباعیات کے منظوم تراجم شامل ہیں۔ ٭11 ستمبر 1974ء کو پنجابی زبان و ادب کے نامور شاعر، ادیب اور محقق ڈاکٹر فقیر محمد فقیر وفات پاگئے اور گوجرانوالہ میں احاطہ مبارک شاہ بڑا قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
    عمل دا زور
    چہرہ تیرا اے سادہ طبیعت تیری اے چور
    دل اے تیرا کجھ ہور تے دل دی ہوس کجھ ہور

    بندے دے دل دا نور اے ہوندا نظر دا نور
    باطن تیرا اے کور جے دیدے تیرے نیں کور

    بے آہنگسا اے شوق تے بکھڑے تیرے نیں راہ
    منزل تیری اے دور تے مٹھی تیری اے ٹور

    زندگی دا پا کے پج آزادی دے نال آپ
    گلاں دی نئیں پتنگ نوں دیندا عمل دی ڈور

    طاقت اوہدی دا کردا اے اقرار زمانہ
    دنیا تے جہدیاں بازوواں وچ اے عمل دا زور

  • زبیر عرف جھارا پہلوان کی وفات

    زبیر عرف جھارا پہلوان کی وفات

    زبیر عرف جھارا پہلوان کی وفات
    10 ستمبر 1991ء کو پاکستان کے مشہور پہلوان محمد زبیر عرف جھارا پہلوان لاہور میں وفات پاگئے۔
    جھارا پہلوان 1960ء میں پاکستان کے مشہور پہلوانوں کے خانوادے میں پیدا ہوئے تھے۔
    وہ اسلم پہلوان کے بیٹے، بھولو پہلوان کے بھتیجے، امام بخش پہلوان کے پوتے اور گاما کلو والا پہلوان کے نواسے تھے۔
    جھارا پہلوان کا پہلا مقابلہ 27 جنوری 1978ء کو گوگا پہلوان گوجرانوالیہ سے ہوا جس میں جھارا فتح یاب ہوئے۔
    17 جون 1979ء کو اس نے جاپان کے مشہور پہلوان انوکی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ اس کشتی میں پانچ رائونڈز کے بعد انوکی نے جھارا پہلوان کے ہاتھ کو اوپر اٹھاکر اسے فاتح قرار دے دیا تھا۔
    جھارا پہلوان نے اپنی زندگی میں 60 کے لگ بھگ کشتیاں لڑیں اور وہ ہر مقابلے میں فتح یاب ہوئے۔
    انہیں فخر پاکستان اور رستم پاکستان کے خطابات بھی عطا ہوئے۔
    جھارا پہلوان کو ان کے حریف جب اکھاڑے میں زیر نہیں کرسکے تو انہوں نے اسے منشیات کے راستے پر لگادیا جس کے باعث وہ صرف 31 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
    وہ موہنی روڈ لاہور میں بھولو پہلوان کے اکھاڑے میں آسودۂ خاک ہیں۔۔!!!!

  • بیگم زیب النسا حمید اللہ کا یومِ وفات

    بیگم زیب النسا حمید اللہ کا یومِ وفات

    بیگم زیب النسا حمید اللہ کا یومِ وفات

    آج معروف صحافی اور انگریزی زبان کی شاعرہ زیب النساء حمید اللہ کی برسی ہے.
    بیگم زیب النسا حمید اللہ 25 دسمبر 1921ء کو تیجور کلکتہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز روزنامہ ڈان سے کیا۔ اکتوبر 1951ء میں انہوں نے کراچی سے مشہور انگریزی جریدے مرر کا اجرا کیا جو اپنے گیٹ اپ اور خبروں اور مضامین کی خوب صورت پیشکش کی وجہ سے بہت جلد پاکستان کا ایک مقبول جریدہ بن گیا۔ یہ جریدہ اپریل 1972ء تک جاری رہا۔ اس دوران اسے ایک مرتبہ بندش کا بھی سامنا کرنا پڑا مگر بیگم زیب النسا حمید اللہ نے اس بندش کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کردیا۔ جہاں فیصلہ ان کے حق میں ہوا اور یوں مرر کی اشاعت دوبارہ بحال ہوگئی۔بیگم زیب النسا حمید اللہ انگریزی کی شاعرہ بھی تھیں ان کے شعری مجموعے The Indian Bouqet، The Lotus Leaves اور The Flute of Memory کے نام سے شائع ہوئے تھے۔
    تقسیم ہند سے پہلے وہ انڈیا کے متعدد اخبارات میں لکھتی تھیں اور پہلی مسلمان خاتون تھیں جنہوں نے انڈین نیوز پیپرز میں کالم لکھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی کے ایک انگریزی اخبار میں لکھنا شروع کیا۔ نیز انہیں پاکستان کی پہلی خاتون پولیٹیکل کمنٹیٹر کا اعزاز حاصل ہوا۔ 1940 میں زیب النساء کی شادی محمد حمید اللہ سے ہوئی جو جوتوں کی ایک کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائر تھے
    10 ستمبر 2000ء کو ممتاز انگریزی شاعرہ، ادیبہ اور صحافی بیگم زیب النسا حمید اللہ کراچی میں وفات پاگئی تھیں وہ کراچی میں آسودۂ خاک ہیں۔۔!!!!

  • پاکستان کے اسکواش کے معروف کھلاڑی،

    پاکستان کے اسکواش کے معروف کھلاڑی،

    گوگی علائو الدین کی پیدائش

    پاکستان کے اسکواش کے معروف کھلاڑی گوگی علائو الدین ستمبر 1950ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔
    1967ء میں انہوں نے قومی جونیئر شپ اور 1970ء اور 1971ء میں برٹش امیچر اسکواش چیمپئن شپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا.
    ۔1972ء اور 1973ء میں انہوں نے پاکستان اوپن اسکواش چیمپئن شپ جیتی۔ 1973ء اور 1975ء میں وہ برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ کے فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے مگر بالترتیب جونابیرنگٹن اور قمر زمان کے ہاتھوں شکست کھا گئے تھے۔
    ٭30 مئی 2008ء کو گوگی علائو الدین وفات پاگئے۔۔!!!

  • اکبر الٰہ آبادی ایک مصنف،جج اور شاعر

    اکبر الٰہ آبادی ایک مصنف،جج اور شاعر

    اکبر الٰہ آبادی کی وفات
    اردو کے معروف شاعر اکبر الٰہ آبادی کی تاریخ پیدائش 16 نومبر1846ء ہے۔ اکبر الٰہ آبادی کا اصل نام اکبر حسین تھا۔ 1866ء میں وکالت کا امتحان پاس کیا اس کے بعد نائب تحصیلدار ہوئے۔
    1881ء میں منصف، 1888ء میں سب جج اور 1894ء میں سیشن جج کے عہدے پر فائز ہوئے۔
    شعر گوئی شوق بچپن سے تھا۔
    وہ اردو شاعری میں ایک نئی طرز کے موجب بھی تھے اور اس کے خاتم بھی۔ انہوں نے ہندوستان میں مغربی تہذیب کے اولین اثرات کی تنقید میں اپنی طنزیہ شاعری سے خوب کام لیا۔ ان کے متعدد اشعار اردو شاعری میں ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں۔
    مثلاً: ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا ……٭٭٭……
    ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں
    کہ جن کو پڑھ کے بیٹے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں ……٭٭٭……
    فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
    ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
    اکبر الٰہ آبادی کی تصانیف میں چار جلدوں پر مشتمل کلیاتِ اکبر ، گاندھی نامہ، بزمِ اکبر اور گنج پنہاں کے نام سرفہرست ہیں۔
    ان کا انتقال 9 ستمبر 1921ء کو ہوا۔۔!!!

  • بےپناہ مقبولیت کے لئے معروف، مترنّم لب و لہجے کے مشہور شاعر” جگرؔ مراد آبادی صاحب "

    بےپناہ مقبولیت کے لئے معروف، مترنّم لب و لہجے کے مشہور شاعر” جگرؔ مراد آبادی صاحب "

    ؍ستمبر ۱۹۶۰

    شہنشاہِ تغزل، رئیس المتغزلین، ممتاز ترین قبل ازجدید شاعروں میں نمایاں، بے پناہ مقبولیت کے لئے معروف، مترنّم لب و لہجے کے مشہور شاعر” جگرؔ مراد آبادی صاحب “ کا یومِ وفات…

    *جگرؔ مراد آبادی*، نام *علی سکندر* تخلص *جگرؔ*۔ ولادت *۶؍اپریل ۱۸۹۰ء مرادآباد (اتر پردیش)* ۔ قرآن پاک ، فارسی اور اردو کی تعلیم اس زمانے کے دستور کے مطابق گھر پر ہوئی۔ ان کے والد *علی نظر* شاعر تھے۔ جگر کے خاندان کے دوسرے اصحاب بھی شاعر تھے،اس طرح جگر کو شاعری ورثے میں ملی ۔چناں چہ جگر کی شعر گوئی کا آغاز اس وقت ہوا جب وہ ۱۴ برس کے تھے۔ ابتدا میں انھوں نے *حیات بخش رسا* کو کلام دکھایا، پھر *حضرتِ داغ* سے رجوع کیا اور کچھ عرصہ *امیر اللہ تسلیم* سے بھی اصلاح لی۔ جگر صاحب کی زندگی کا بڑا حصہ مختلف اضلاع میں گزرا۔ ان کا پیشہ چشموں کی تجارت تھا۔ *اصغر گونڈوی* کی صحبت نے *جگر* کی شاعری کو بہت جلا بخشی۔ *جگرؔ* مشاعروں کے بہت کامیاب شاعر تھے ۔ ان کا ترنم بہت اچھا تھا۔بحیثیت انسان وہ نہایت شریف واقع ہوئے تھے۔ بھارتی حکومت نے انھیں *’’پدما بھوشن‘‘* خطاب دیا۔ علی گڑھ یونیورسٹی نے *جگرؔ* کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی۔ان کے آخری مجموعہ کلام *’’آتِش گل‘‘* پر ان کو ساہتیہ اکیڈمی سے انھیں پانچ ہزار روپیہ کا انعام ملا۔ اور دو سو روپیہ ماہ نامہ وظیفہ مقرر ہوا۔ *’آتش گل‘ کے علاوہ ’’داغ جگر‘‘ اور ’’شعلۂ طور‘‘* ان کی شاعری کے مجموعے ہیں۔
    شراب ترک کرنے کے بعد ان کی صحت بہت خراب رہنے لگی تھی۔ وہ مستقل طور پر *گونڈہ* میں قیام پذیر ہوگئے تھے۔ *۹؍ستمبر ۱۹۶۰ء* کو تقریباً صبح ۶بجے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
    *بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:315*

    🦋

    💐 *شہنشاہِ تغزل جگرؔ مراد آبادی صاحب کے یومِ وفات پر منتخب اشعار بطورِ خراجِ عقیدت…* 💐

    آج کیا حال ہے یا رب سرِ محفل میرا
    کہ نکالے لیے جاتا ہے کوئی دل میرا

    *نگۂ ناز لے خبر ورنہ*
    *درد محبوب اضطراب ہوا*

    ایسا کہاں بہار میں رنگینیوں کا جوش
    شامل کسی کا خونِ تمنا ضرور تھا

    *جگرؔ کا ہاتھ ہوگا حشر میں اور دامنِ حضرت*
    *شکایت ہو کہ شکوہ جو بھی ہوگا برملا ہوگا*

    جب کوئی ذکرِ گردشِ آیام آ گیا
    بے اختیار لب پہ ترا نام آ گیا

    *جان ہی دے دی جگرؔ نے آج پائے یار پر*
    *عمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا*

    شکستِ حسن کا جلوہ دکھا کے لوٹ لیا
    نگاہ نیچی کئے سر جھکا کے لوٹ لیا

    ہر حقیقت کو باندازِ تماشا دیکھا
    خوب دیکھا ترے جلووں کو مگر کیا دیکھا

    کیا جانئے کیا ہو گیا اربابِ جنوں کو
    مرنے کی ادا یاد نہ جینے کی ادا یاد

    *حسنِ کافر شباب کا عالم*
    *سر سے پا تک شراب کا عالم*

    پہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شراب
    کوئی پلا رہا ہے پیے جا رہا ہوں میں

    شاعرِ فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میں
    روح بن کر ذرے ذرے میں سما جاتا ہوں میں

    *وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ*
    *جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ*

    محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیں
    کہ منزل پہ ہیں اور چلے جا رہے ہیں

    *ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں*
    *ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں*

    اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے
    سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانا ہے

    *اپنے فروغِ حسن کی دکھلا کے وسعتیں*
    *میرے حدودِ شوق بڑھا کر چلے گئے*

    یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے
    یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے

    ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکا
    مسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیا

    جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں
    وہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں

    یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
    اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

    آغازِ محبت کا انجام بس اتنا ہے
    جب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہے

    دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
    کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں

    مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے
    مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ

    اے محتسب نہ پھینک مرے محتسب نہ پھینک
    ظالم شراب ہے ارے ظالم شراب ہے

    کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
    ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے

    جان ہے بے قرار سی ، جسم ہے پائمال سا
    اب نہ وہ داغ، وہ جگر، صرف ہے اِک خیال سا

    کچھ ہمی جانتے ہیں لطف تر ے کوچے کا
    ورنہ پھرنے کو تو مخلوقِ خدا پھرتی ہے

    مدت ہوئی اک حادثٔہ عشق کو لیکن
    اب تک ہے ترے دل کے دھڑکنے کی صدا یاد

    معراجِ شوق کہئے، یا حاصلِ تصوّر !
    جس سمت دیکھتا ہُوں تُو مُسکرا رہا ہے

    دیوانہ وار جان بفشاندن گناہِ من
    بیگانہ وار رخ ننمودن گناہِ کیست؟

    ترجمہ :-

    دیوانہ وار جان لٹانا ہے میرا جُرم
    بیگانہ وار رُخ نہ دکھانا ہے کس کا جُرم؟

    ‏تو نے نہ اٹھایا رُخِ نادیدہ سے پردہ
    دنیا کو تیری حسرتِ دیدار نے مارا

    اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہلِ دل
    ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا

  • شدید رومانی نظم نگاری اور شاعری کے لئے مشہور، ممتاز شاعر” اخترؔ شیرانی صاحب “

    شدید رومانی نظم نگاری اور شاعری کے لئے مشہور، ممتاز شاعر” اخترؔ شیرانی صاحب “

    ؍ستمبر ١٩٤٨

    *مقبول ترین اردو شاعروں میں شامل ، شدید رومانی نظم نگاری اور شاعری کے لئے مشہور، ممتاز شاعر” اخترؔ شیرانی صاحب “ کا یومِ وفات…*

    *اخترؔ شیرانی* نام *محمد داؤد خاں،، اخترؔ* تخلص۔ *۴؍مئی ۱۹۰۵ء* کو *ریاست ٹونک* میں پیدا ہوئے۔ مشہور محقق *پروفیسر محمود شیرانی* کے فرزند تھے۔ ۱۹۱۹ء میں اپنے والد کے ہمراہ لاہور آگئے۔ یہاں ادیب فاضل اور منشی فاضل کے امتحانات پاس کیے۔ اختر کا بیشتر زمانہ لاہور میں گزرا۔ شعروسخن کا شوق اوائل عمر سے تھا۔ *تاجور نجیبؔ آبادی* سے مشورہ سخن کرتے تھے۔ لاہور سے *’’بہارستان‘‘*، *’’خیالستان‘‘اور ’’رومان‘‘* رسائل نکالے۔ اردو کی مشہور لغت *’جامع اللغات‘* کی ادارت کی۔ وہ ایک رومانی شاعر تھے۔ کثرت شراب نوشی کی وجہ سے کم عمری میں *۹ ؍ستمبر ۱۹۴۸ء* کو *لاہور* میں انتقال کرگئے۔ ان کے شعری مجموعوں کے نام یہ ہیں:
    *’شعرِ ستان‘، ’اخترِ ستان‘، ’شہناز‘، ’لالۂ طور‘، ’طیورِ آوارہ‘، ’صبحِ بہار‘ اور ’شہرود‘، ’اردو ترجمہ جامع الحکایات‘، ’کلیاتِ اخترشیرانی‘*(مرتبہ ڈاکٹر یونس حسنی) بھی چھپ گئی ہے۔
    *بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:386*

    🦋

    💐 *رومانی شاعر اخترؔ شیرانی کے یومِ وفات پر منتخب اشعار بطورِ خراجِ عقیدت…* 💐

    آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا
    کیا بتاؤں کہ مرے دل میں ہیں ارماں کیا کیا

    *مستوں نے اس ادا سے کیا رقصِ نو بہار*
    *پیمانہ کیا کہ وجد میں مے خانہ آ گیا*

    *کوئی ہمدرد زمانے میں نہ پایا اخترؔ*
    *دل کو حسرت ہی رہی کوئی ہمارا ہوتا*

    حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دل
    محبت پر مگر مجبور ہے دل

    جوانی بھی تو اک موجِ شراب تند و رنگیں ہے
    برا کیا ہے اگر ہم مشربِ رندانہ رکھتے ہیں

    *نکہتِ زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کر*
    *میری جاگی ہوئی راتوں کو سلا دے آ کر*

    تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں
    یہ شرمیلی نظر کہہ دے تو کچھ گستاخیاں کر لوں

    ہونے کو ہے طلوعِ صباح شبِ وصال
    بجھنے کو ہے چراغِ شبستانِ آرزو !

    *ان وفاداری کے وعدوں کو الٰہی کیا ہوا*
    *وہ وفائیں کرنے والے بے وفا کیوں ہو گئے*

    چمن میں رہنے والوں سے تو ہم صحرا نشیں اچھے
    بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی

    عشق کو نغمۂ امید سنا دے آ کر
    دل کی سوئی ہوئی قسمت کو جگا دے آ کر

    غم عزیزوں کا حسینوں کی جدائی دیکھی
    دیکھیں دکھلائے ابھی گردش دوراں کیا کیا

    مانا کہ سب کے سامنے ملنے سے ہے حجاب
    لیکن وہ خواب میں بھی نہ آئیں تو کیا کریں

    یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئی
    اے محبت مرے پہلو سے مگر تو نہ گئی

    اب وہ باتیں نہ وہ راتیں نہ ملاقاتیں ہیں
    محفلیں خواب کی صورت ہوئیں ویراں کیا کیا

    *یوں ہی تکمیل ہوگی حشر تک تصویر ہستی کی*
    *ہر اک تکمیل آخر میں پیامِ نیستی بھی ہے*

    مٹ چلے میری امیدوں کی طرح حرف مگر
    آج تک تیرے خطوں سے تری خوشبو نہ گئی

    یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو
    میری اور اپنی جوانی کو نہ برباد کرو

    *مجھے دونوں جہاں میں ایک وہ مل جائیں گر اخترؔ*
    *تو اپنی حسرتوں کو بے نیاز دو جہاں کر لوں*

    ┄┄┅┅✪❂✵••••••••••✵❂✪┅┅┄┄

  • جدید اردو تنقید کے بنیاد سازوں میں شامل اور معروف شاعر” آل احمد سرورؔ صاحب “

    جدید اردو تنقید کے بنیاد سازوں میں شامل اور معروف شاعر” آل احمد سرورؔ صاحب “

    ستمبر ١٩١١ ؁

    جدید اردو تنقید کے بنیاد سازوں میں شامل اور معروف شاعر” آل احمد سرورؔ صاحب “ کا یومِ ولادت…

    آل احمد سرور، ٩ ستمبر ١٩١١ء کو بدایوں کے ایک ذی علم گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1928 میں ہائی اسکول پاس کیا۔ اس کے بعد سینٹ جانس کالج آگرہ سے بی ایس سی کی۔ 1932 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایم اے انگریزی میں داخلہ لیا۔ 1936 میں علی گڑھ ہی سے اردو میں بھی ایم اے کیا۔ 1938 میں شعبۂ اردو میں لکچرر ہوگئے۔ 1946 سے 1955 تک لکھنؤ یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ 1955 میں پھر علیگڑھ آگئے اور رشید احمد صدیقی کے بعد شعبے کے صدر رہے۔
    لکھنؤ میں اپنے قیام کے دوران سرور ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئے اور انجمن کے جلسوں میں شریک ہونے لگے لیکن وہ کبھی بھی ترقی پسند نظریاتی جبر کا شکار نہیں ہوئے ۔ ان کی ترقی پسند فکر ہمیشہ انسان دوستی کی علمبردار رہی ، وہ سرمایہ داری اور رجعت پسندی کی مخالفت کرتے رہے لیکن ادب کے اس ہنگامی اور انقلابی تصور کے خلاف رہے جس کا پرچار اس وقت میں جوشیلے نوجوان کر رہے تھے۔ سرور نے مغربی اور مشرقی ادب کے گہرے مطالعے کے بعد اپنی تنقید نگاری کے لئے ایک الگ ہی انداز دریافت کیا۔ اس میں مغربی تنقیدی اصولوں سے استفادہ بھی ہے اور مشرقی اقدار کا رچاو بھی۔
    تنقید نگار کے ساتھ ایک شاعر کے طور پر بھی سرور منفرد حیثیت کے مالک ہیں۔ ان کی غزلوں اور نظموں میں فکر انگیزی، کلاسیکی رچاو اور جدید احساس کی تازہ کاری ملتی ہے۔ سرور کی تنقید اور شاعری کی متعدد کتابیں شائع ہوئیں۔ کچھ کے نام یہ ہیں۔
    ’نئے اور پرانے نظریے‘ ’تنقید کیاہے‘ ’ادب اور نظریہ‘ ’مسرت سے بصیرت تک‘ ’اقبال کا نظریہ اور شاعری‘ ’ذوق جنوں‘ (شاعری) ’خواب باقی ہیں‘(خودنوشت)۔
    ٩ فروری ٢٠٠٢ء ، کو دہلی میں انتقال کر گئے۔

    🦋

    🍁 معروف شاعر آل احمد سرورؔ کے یومِ ولادت پر منتخب اشعار بطور اظہارِ عقیدت… 🍁

    آج پی کر بھی وہی تشنہ لبی ہے ساقی
    لطف میں تیرے کہیں کوئی کمی ہے ساقی

    ساحل کے سکوں سے کسے انکار ہے لیکن
    طوفان سے لڑنے میں مزا اور ہی کچھ ہے

    تمہاری مصلحت اچھی کہ اپنا یہ جنوں بہتر
    سنبھل کر گرنے والو ہم تو گر گر کر سنبھلے ہیں

    حسن کافر تھا ادا قاتل تھی باتیں سحر تھیں
    اور تو سب کچھ تھا لیکن رسمِ دل داری نہ تھی

    آتی ہے دھار ان کے کرم سے شعور میں
    دشمن ملے ہیں دوست سے بہتر کبھی کبھی

    مے کشی کے بھی کچھ آداب برتنا سیکھو
    ہاتھ میں اپنے اگر جام لیا ہے تم نے

    کچھ تو ہے ویسے ہی رنگیں لب و رخسار کی بات
    اور کچھ خونِ جگر ہم بھی ملا دیتے ہیں

    جو ترے در سے اٹھا پھر وہ کہیں کا نہ رہا
    اس کی قسمت میں رہی در بدری کہتے ہیں

    ہم تو کہتے تھے زمانہ ہی نہیں جوہر شناس
    غور سے دیکھا تو اپنے میں کمی پائی گئی

    لوگ مانگے کے اجالے سے ہیں ایسے مرعوب
    روشنی اپنے چراغوں کی بری لگتی ہے

    یہ کیا غضب ہے جو کل تک ستم رسیدہ تھے
    ستم گروں میں اب ان کا بھی نام آیا ہے

    بستیاں کچھ ہوئیں ویران تو ماتم کیسا
    کچھ خرابے بھی تو آباد ہوا کرتے ہیں

    وہ تبسّم ہے کہ غالبؔ کی طرح دارِ غزل
    دیر تک اس کی بلاغت کو پڑھا کرتے ہیں

    تمام عمر کٹی اس کی جستجو کرتے
    بڑے دنوں میں یہ طرزِ کلام آیا ہے

    اب دھنک کے رنگ بھی ان کو بھلے لگتے نہیں
    مست سارے شہر والے خون کی ہولی میں تھے

    ابھی آتے نہیں اس رند کو آدابِ مے خانہ
    جو اپنی تشنگی کو فیضِ ساقی کی کمی سمجھے

    جہاں میں ہو گئی نا حق تری جفا بد نام
    کچھ اہلِ شوق کو دار و رسن سے پیار بھی ہے

    ہستی کے بھیانک نظارے ساتھ اپنے چلے ہیں دنیا سے
    یہ خوابِ پریشاں اور ہم کو تا صبحِ قیامت سونا ہے

    آج سے پہلے ترے مستوں کی یہ خواری نہ تھی
    مے بڑی افراط سے تھی پھر بھی سرشاری نہ تھی

    ہمارے ہاتھ میں جب کوئی جام آیا ہے
    تو لب پہ کتنے ہی پیاسوں کا نام آیا ہے

    دل کی جو بات تھی وہ رہی دل میں اے سرورؔ
    کھولے ہیں گرچہ شوق کے دفتر کبھی کبھی

    ●•●┄─┅━━━★✰★━━━┅─●•●