Baaghi TV

Tag: #BaaghiTV #Strike #exclusive

  • اسمائے شہدائے کربلا ، مشہور تعداد بہتر ہی بنتی ہے

    اسمائے شہدائے کربلا ، مشہور تعداد بہتر ہی بنتی ہے

    اسمائے شہدائے کربلا
    یہ 140 ناموں کی فہرست ہے۔ بعض کتب 108 نام اور بعض میں کم یا زیادہ نام ملتے ہیں۔ اس فہرست میں بنی ہاشم (کے 25 سے زیادہ شہدا) اور غلاموں (30 کے قریب) نیز دیگران (جیسے یوم عاشورہ سے پہلے کے شہداء وغیرہ یا دشمنوں کے لشکر سے آنے والے شہداء 10 کے قریب) کو شمار نہ کیا جائے تو مشہور تعداد 72 کے قریب ہی بنتی ہے

    اگر بنی ہاشم کے شہدا کو ملا کر شمار کیا جائے تو شہدائے کربلا کی تعداد 136 ہو جائے گی۔ اور اگر قیس بن مسہر صیداوی، عبد اللہ بن بقطر اور ہانی بن عروہ جو واقعہ کربلا سے پہلے کوفہ میں شہید کیے گئے تھے کو بھی اس واقعہ سے مربوط کر کے شمار کیا جائے تو کل تعداد 139 ہو گی۔

    شہدائے کربلا میں بنی ہاشم کے سب شہداء حضرت ابوطالب کے ہی پوتے اور پڑپوتے تھے۔

    علی بن ابی طالب کے بیٹے
    حسین بن علی (سالار لشکر)
    عباس بن علی (غازی عباس علمدار)
    جعفر بن علی
    عبد اللہ بن علی
    عثمان بن علی
    عمر بن علی
    ابو بکر بن علی

    حسن بن علی کے بیٹے
    ابو بکر بن حسن
    بشر بن حسن
    عبد اللہ بن حسن
    قاسم بن حسن
    عمر بن حسن
    ( حسن مثنی کربلا میں شدید زخمی ہوئے تھے مگر شہید نہیں ہوئے۔)

    حسین بن علی کے بیٹے
    علی اکبر بن حسین
    علی اصغر بن حسین

    عبداللہ بن جعفر و زینب بنت علی کے بیٹے
    عون بن عبد اللہ
    محمد بن عبد اللہ

    عقیل ابن ابی طالب کی اولاد (بیٹے اور پوتے)

    مسلم بن عقیل (جائے شہادت کوفہ)
    عبد الرحمان بن عقیل
    عبد اللہ اکبر بن عقیل
    جعفر بن عقیل
    عبد اللہ بن مسلم بن عقیل
    عون بن مسلم بن عقیل
    محمد بن مسلم بن عقیل
    جعفر بن محمد بن عقیل
    احمد بن محمد بن عقیل

    حسین بن علی کے اصحاب

    ابراہیم بن حضین اسدی
    ابو حتوف بن حارث انصاری
    ابو عامر نہشی
    اسلم ترکی مولی و (خادم امام حسین)
    ادہم بن امیہ عبدی
    امیہ سعد طاعی
    انس بن حارث کاہلی
    انیس بن معقل اصبحی
    بریر بن خضیر ہمدانی
    بشر بن عبد اللہ حضرمی
    بکر بن حی تیمی
    جابر بن حجاج تیمی
    جبلہ بن شیبانی
    جنادہ بن حارث ہمدانی
    جنادہ بن کعب انصاری
    جندب بن حجیر خولانی
    جون بن حوی مولی
    جوین بن مالک تیمی
    حارث بن امرؤ القیس کندی
    حارث بن بنہان
    حباب بن حارث
    حباب بن عامر شعبی
    حبشی بن قیس نہمی
    حبیب بن مظاہر (یا ابن مظہر)
    حجاج بن بدر سعدی
    حجاج بن مسروق جعفی
    حر بن یزید ریاحی دشمنوں کے لشکر سے آئے
    حلاس بن عمرو راسبی
    حنظلہ بن اسعد شامی
    حنظلہ بن عمرو شیبانی
    رافع مولی مسلم ازدی
    زاہر بن عمرو کندی
    زہیر بن بشر خثعمی
    زہیر بن سلیم ازدی
    زہیر بن قین بجلی
    زیاد بن عریب صادی

    سالم مولی بنی مدینہ کلبی
    سالم مولی عامر عبدی
    سعد بن حارث انصاری
    سعد مولی علی بن ابی طالب
    سعد مولی عمرو بن خالد
    سعید بن عبد اللہ حنفی
    سلمان بن مظارب جبلی
    سلیمان مولی حسین بن علی
    سوار بن منعم نعمی یا سوار بن حمیر جابری (کربلا میں گرفتار ہونے کے بعد زخمی ہوئے، بعد میں شہید ہو گئے)
    سوید بن عمرو بن ابی مطاع
    سیف بن حارث جابری
    شوذب مولی بنی شاکر
    ضرغامہ بن مالک
    عائذ بن مجمع
    عائذیعابس بن ابی شبیب شاکری
    عابر بن حساس بن شریح
    عامر بن مسلم عبدی
    عباد بن مہاجر جہنی
    عبد الاعلی بن یزید کلبی
    عبد الرحمن ارحبی
    عبد الرحمن بن عبد ربہ انصاری
    عبد الرحمن بن عروہ غفاری

    عبد الرحمن بن مسعود تیمی
    عبد اللہ بن ابی بکر
    عبد اللہ بن بشر خثعمی
    عبد اللہ بن عروہ غفاری
    عبد اللہ بن عمیر بن حباب کلبی
    عبد اللہ بن یزید کلبی
    عبید اللہ بن یزید کلبی
    عقبہ بن سمعان
    عقبہ بن صلت جہنی
    عمارہ بن صلخب ازدی
    عمران بن کعب بن حارثہ اشجعی
    عمار بن حسان طائی
    عمار بن سلامہ دالانی
    عمرو بن خالد عبد اللہ جندعی(کربلا میں زخمی ہوئے بعد میں شہید ہو گئے)
    عمرو بن خالد ازدی
    عمرو بن خالد صیداوی
    عمرو بن قرظہ انصاری
    عمرو بن مطاع جعفی
    عمرو بن جنادہ انصاری
    عمرو بن ضبیعہ ضعبی
    عمرو بن کعب، ابو ثمامہ صائدی
    قارب مولی حسین بن علی
    قاسط بن زہیر تغلبی
    قاسم بن حبیب ازدی
    کردوس تغلبی
    کنانہ بن عتیق تغلبی
    مالک بن دودان
    مالک بن عبد اللہ بن سریع جابری
    مجمع جہنی
    مجمع بن عبد اللہ عائذی
    محمد بن بشیر حضرمی
    مسعود بن حجاج تیمی
    مسلم بن عوسجہ اسدی
    محمد بن کثیر ازدی
    مقسط بن زہیر تغلبی (یا مقسط بن عبد اللہ بن زہیر)
    منجح مولی حسین بن علی
    موقع بن ثمامہ اسدی( کربلا میں زخمی ہوئے بعد میں شہید ہو گئے)۔
    نافع بن ہلال جملی
    نصر
    نعمان بن عمرو راسبی
    نعیم بن عجلان انصاری
    واضح رومی مولی حارث سلمانی
    وہب بن حباب کلبی
    ہفہاف بن مہند راسب
    یزید بن ثبیط عبسقی
    یزید بن زیاد بن مہاصر کندی
    یزید بن مغفل جعفی

  • یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے منعقدہ ہاکی میچ پاکستان آرمی نے جیت لیا

    یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے منعقدہ ہاکی میچ پاکستان آرمی نے جیت لیا

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی) سرگودہا ہاکی سٹیڈیم میں سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے یوم دفاع پاکستان کے سلسلے میں ہاکی میچ کا انعقاد کیا گیا یہ دوستانہ میچ پاکستان آرمی اور پاکستان ائیر فورس کے مابین کھیلا گیا جو پاکستان آرمی کی ٹیم نے جیت لیا اس موقع پر ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر منظر فرید شاہ نے کہا کہ یہ میچ قومی کھیل ہاکی کو فروغ دینے کے سلسلہ میں منعقد کیا گیا ہے سپورٹس ڈیپارٹمنٹ سرگودہا کھیلوں کے فروغ کیلیے کوشاں ہے اور اس طرح کی سرگرمیوں کو آئندہ بھی فروغ دیا جائے گا آخر میں دونوں ٹیموں کا منظر فرید کے ساتھ یادگار ی گروپ فوٹو بھی بنایا گیا

  • خواندگی کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی واک

    خواندگی کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی واک

    سرگودھا(نمائندہ باغی ٹی وی) پیپلز سوشل ویلفیئر سوسائٹی رجسٹرڈ کے زیر اہتمام خواندگی کے عالمی دن کے موقع پر واک کا اہتمام کیا گیا جس میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر محکمہ سوشل ویلفیئر صدر پیپلز سوشل ویلفیئر سوسائٹی عبدالمنان چوہدری،صدر مدینہ سوشل ویلفیئر سوسائٹی سمیرا عبدالخالق،محمدمعظم،محمد شفیق کے علا وہ اساتذہ اور بچوں کی بڑی تعدادنے شرکت کی۔واک کے شرکاسے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر عاصمہ منظور نے کہا خواندگی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں شامل ہے جہاں شرح خواندگی 58فی صد سے بھی کم ہے ہم سب کا فرض ہے کہ تعلیم کی روشنی کو پورے ملک میں پھیلائیں۔پیپلر سوشل ویلفیئر سوسائٹی کے صدر عبدالمنان چوہدری نے کہا پاکستان خواندگی کے لحاظ سے 113ویں نمبر پر ہے پاکستان میں 10سے 3بچے سکول میں داخلہ ہی نہیں لے سکتے،سکول میں نہ جانے والوں میں زیادہ تعداد بچیوں کہ ہے۔ خواندگی کا عالمی دن منانے کا مقصد دنیا بھر کے اُن کروڑوں مرد، خواتین اور بچوں کو امید دلائی جا سکے جو اپنا نام تک نہیں لکھ سکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے بچوں کو علم کی روشنی سے منور کرنے کا عہد کرنا ہوگا تاکہ پاکستان سے جہالت کا خاتمہ ہو سکے اور پاکستان ترقی کے مناظر طے کر سکے واک کے شرکا سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

  • شکاری پرندوں کو گن رہا ہوں ، ایم ایم عالم کے یادگار الفاظ

    شکاری پرندوں کو گن رہا ہوں ، ایم ایم عالم کے یادگار الفاظ

    ایک ۔۔ دو ۔۔ تین ۔۔ چار ۔۔۔۔۔۔ پانچ”
    سرگودھا ایئر بیس کے کنٹرول روم میں لگے وائر لیس سیٹ پر وقفے وقفے سے گنتی کی یہ آواز اُبھر رہی تھی ۔۔
    آپریٹر اس اچانگ گنتی کا سگنل کچھ سمجھ نہ پایا اور پائیلٹ سے مخاطب ہوا "کیا تم کوئی گانا گنگنا رہے ہو ۔۔؟”
    "نہیں ۔۔۔ شکاری پرندوں کو گِن رہا ہوں ۔۔” پائیلٹ نے اطمینان سے جواب دیا ۔۔
    آپریٹر دوبارہ الجھن کا شکار ہو گیا "پرندے ۔۔؟؟ کیا تم دشمن کے ہنٹرز طیاروں کی بات کر رہے ہو۔۔؟”
    "ہاں ۔۔۔۔ میرے لیئے یہ پرندوں کی مانند ہی ہیں ۔۔”
    نوجوان پائیلٹ کے ہونٹوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ اُبھری ۔۔
    یہ 7ستمبر 1965 کی صبح تھی جب دشمن کے طیاروں نے سرگودھا ایئر بیس پر دھاوا بول دیا ۔۔ اور اپنے ملک کے دفاع کیلئے یہ نوجوان اپنے سکاڈ کے ساتھ نکلا تھا ۔۔ لیکن اُس وقت وہ نہیں جانتا تھا کہ آنے والی دنیا کی تاریخ اسے پاک فضائیہ کے ایک "فائٹر پائیلٹ” کے بجائے "قومی ہیرو” کے نام سے لکھے گی ۔۔
    اس صبح کمال مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس اکیلے نوجوان پائیلٹ نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے 5 جنگی طیارے مار گرائے تھے ۔۔ جن میں سے چار طیارے پہلے تیس سیکنڈ میں ہی مار گرانے کا عالمی ریکارڈ بنا ڈالا تھا ۔۔ اور اب اپنے جنگی طیارے سبیئر 86 کے کاک پٹ میں بیٹھا شکار ہونے والے دشمن طیاروں کو گنتی کر رہا تھا ۔۔
    اس نوجوان ہوا باز کا نام محمد محمود عالم تھا ۔۔ جو 1965 کی پاک بھارت جنگ کا ہیرو کہلایا ۔۔
    ایم ایم عالم کا خاندان تقسیمِ ہند کے بعد کراچی میں مقیم ہوا تھا ۔۔ ایم ایم عالم نے ابتدائی تعلیم کے بعد پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کی اور 1965 میں بطور سکارڈن لیڈر سرگودھا ایئر بیس پر تعینات تھے جب دشمن نے پاکستان پر حملہ کیا ۔۔ لیکن اس جنگی کارنامہ نے جہاں افواجِ پاکستان کے حوصلے بلند کیئے وہاں پاکستان کی عسکری تاریخ میں جرات و شجاعت کی ایک نئی داستان رقم کی ۔۔
    انہیں حکومتِ پاکستان کی طرف کی سے ستارہءِ جرآت اور ستارہ امتیاز سے نوازا گیا ۔۔ اس عظیم کارنامے پر ان کا کہنا تھا کہ "ایک منٹ میں پانچ طیارے گرانا صرف ایک معجزہ ہے ۔۔ اور شاید اللہ تعالٰی نے میرے حب الوطنی کے جذبے کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ موقع عطا کیا” ۔۔
    انہوں نے پاک فضائیہ میں ایئر کموڈور کے عہدے تک ترقی پائی اور بعد ازاں ریٹائر منٹ لے کر اپنے اہل و عیال میں زندگی بسر کی ۔۔ 18 مارچ 2013 کی صبح پاکستانی تاریخ کا یہ عظیم ہیرو اس دنیا سے رخصت ہو گیا اور ان کے جسدِ خاکی کو جناح بیس کراچی میں فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا ۔۔
    پاکستان کیلئے ان کی گراں قدر خدمات اور عظیم تاریخی کارنامے کو سراہتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے لاہور میں ایک مصروف شاہراہ اور میانوالی ایئر بیس کو سر ایم ایم عالم کے نام سے منسوب کیا ۔۔ جو رہتی دنیا تک "سر ایم ایم عالم” کے عظیم کارنامے کی یاد تازہ کرتے رہیں گے۔۔
    اللہ تعالٰی ان کو جوارِ رحمت میں جگہ نصیب فرمائے۔ آمین

    پاک فوج زندہ باد
    پاک فضائیہ زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

  • 1983ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا

    1983ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا

    عرش منیر کی وفات *

    عرش منیر کا تعلق لکھنؤ سے تھا جہاں وہ برطانوی ہند کے دور میں پیدا ہوئیں۔
    ان کے شوہر شوکت تھانوی اردو کے معروف ادیب تھے اور آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستہ تھے۔
    انہی کی تحریک پر عرش منیر نے آل انڈیا ریڈیو سے صداکاری کا آغاز کیا۔
    قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئیں اور ریڈیو پاکستان سے بطور اسٹاف آرٹسٹ وابستہ ہوگئیں۔
    ٹیلی وژن کے آغاز کے بعد انہوں نے متعدد ٹی وی ڈراموں میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
    1983ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
    8 ستمبر 1998ء کو ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کی مشہور صداکارہ اور اداکارہ عرش منیر کراچی میں وفات پاگئیں اور سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔۔!!!

  • ایوب کی آمریت کے خلاف تن تنہا لڑنے والا شخص آخر کون تھا

    ایوب کی آمریت کے خلاف تن تنہا لڑنے والا شخص آخر کون تھا

    حسین شہید سہروردی کی پیدائش
    حسین شہید سہروردی 8 ستمبر 1893ءکو بنگال کے شہر مدنا پور میں پیدا ہوئے تھے۔
    قیام پاکستان سے قبل وہ سیاست میں ایک نمایاں مقام حاصل کرچکے تھے۔
    قیام پاکستان کے بعد 1949ءمیں انہوں نے جناح عوامی لیگ کی بنیاد ڈالی جو بعد میں عوامی لیگ کے نام سے معروف ہوئی۔
    1950ءکی دہائی میں شروع شروع میں وہ قائد حزب اختلاف کے فرائض انجام دیتے رہے۔
    1956ءمیں جب پاکستان کا آئین منظور ہوا تو وہ ان چند افراد میں شامل تھے جنہوں نے بعض اصولوں کی بنیاد پر اس آئین پر دستخط نہیں کیے تھے لیکن بعد ازاں وہ اسی آئین کے تحت 12ستمبر 1956ء کو ملک کے وزیر اعظم مقرر کیے گئے اور انہوں نے اس آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا۔
    1958ءمیں جب ایوب خان نے ملک میں مارشل لا نافذ کیا تو سہروردی تن تنہا حزب اختلاف کی آواز بن گئے۔
    حکومت نے ایبڈو کے کالے قانون کے تحت انہیں سیاسی طور پر نااہل قرار دینے کا مقدمہ چلایا مگر انہوں نے عدالت میں اپنے اوپر لگائے گئے ہر الزام کا بھرپور دفاع کیا اور حکومت کو اپنی فصاحت‘ بلاغت اور ذہانت و قابلیت سے زچ کیے رکھا۔
    حکومت نے سہروردی کو ایبڈو کے قانون کے تحت سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا لیکن سہروردی نے اس چیلنج کو قبول کیا اور سیاسی طور پر مسلسل متحرک رہے۔
    انہوں نے مشرقی اور مغربی پاکستان‘ دونوں صوبوں کے طوفانی دورے کیے اور عوام کو مارشل لاءحکام کے عزائم سے آگاہ کیا۔
    انہوں نے ایوب آمریت کے خلاف یہ جنگ تن تنہا لڑی۔
    انہیں اس کا دکھ نہیں تھا کہ حکومت ان پر حملے کرکے ان سے ایبڈو کی پابندیاں منوانا چاہتی ہے بلکہ وہ دل گرفتہ اس بات سے تھے کہ سیاست دانوں کی اکثریت نے سیاسی جنگ میں ان کا ساتھ دینے سے پہلو تہی کرلیا تھا۔
    1963ءکے اوائل میں ان پر دل کا دورہ پڑا۔ وہ علاج کروانے کے لیے یورپ گئے اور پھر آرام کرنے کی غرض سے بیروت کے ایک ہوٹل میں مقیم تھے۔
    5 دسمبر 1963ءکو نصف شب کے قریب ان کی حالت اچانک خراب ہوگئی۔
    اس سے پہلے کہ انہیں کوئی طبی امداد پہنچائی جاسکتی وہ حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوٹل ہی میں دم توڑ گئے۔
    سہروردی کی میت وطن واپس لائی گئی جہاں 8 دسمبر 1963ءکو انہیں شیر بنگال مولوی فضل الحق کے پہلو میں دفن کیا گیا۔۔!!!

  • کشمیر کی موجودہ صورتحال ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے ،سراج الحق

    کشمیر کی موجودہ صورتحال ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے ،سراج الحق

    سرگودہا،بھلوال(نمائندہ باغی ٹی وی)امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی 3چک بھلوال میں آمد
    صوبائی نائب امیر ڈاکٹر مبشر احمد،ضلعی صدرسیاسی کمیٹی میسراحمد گجر کے بھانجے حافظ محمد عرفان ادریس کی وفات پر فاتحہ خوانی و اظہار تعزیت
    کشمیر ایک کربلا ہے لوگ گھروں میں محصور ہیں کرفیو لگا ہوا جو پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔
    حکومت پاکستان سے ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ عملی اقدامات کریں نہ کہ اُنکی موت کا انتظارکریں
    ہماراتعلق کشمیریوں کے ساتھ ایک جان کا ہے ہماری شہہ رگ ان کے ہاتھ میں ہے جوکٹ رہی ہے
    ہمارے سامنے مائیں،بیٹیاں دم توڑ رہی ہیں ہم اُن کے ساتھ عملی تعاون کریں کشمیر کے حوالہ سے جماعت اسلامی نے مہم شروع کی ہے ہم لوگوں کو اس مسئلہ پر بیدارکررہے ہیں بھارت کے عزائم نہ صر ف پاکستان ،کشمیر کیلئے خطرناک ہیں بلکہ بھارت کے 22کروڑ مسلمانوں کیلئے بھی خطرناک ہیں ،بھارت میں مساجد ،مسلمان ،ماﺅں ،بہنوں ،بیٹیوں کی عزت وعصمتیں داﺅ پر ہیں بھارت میں اقلیت سکھ برادری ،ہندولت برادری بھی خطرہ میں ہے یہ امتحان ہمارا ہے ہماری صلاحیت کا ہے کہ ہم صرف تماشہ کرینگے یا عملی اقدام بھی کرینگے

  • زرعی ترقیاتی بینک بھاگٹانوالہ کے سٹاف کا یوم دفاع پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

    زرعی ترقیاتی بینک بھاگٹانوالہ کے سٹاف کا یوم دفاع پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی) زرعی ترقیاتی بینک بھاگٹانوالہ کے سٹاف کا یوم دفاع پاکستان کے موقع پر کشمیریوں سے خصوصی اظہار یکجہتی،زرعی ترقیاتی بینک کے مینجر ناصر محمود،موبائل کریڈیٹ آفیسرز فضل الہی چیمہ ،فیاض احمد، سعداللہ ،اسد جاوید اور دیگر سٹاف کے ہمراہ پینافلکس اٹھا کر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا اس موقع پر فضل الہی چیمہ موبائل کریڈیٹ آفیسر نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی قوم میں 1965ء والا جذبہ موجود ہے پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے اور بھارت سے کشمیر کو آزاد کروا کر دم لیں گے بھارت کو اب کشمیریوں کو ان کا حق دینا ہو گا یوم دفاع پاکستان کے موقع پر ہم شہدائے پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور پاکستانی افواج کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں

  • معروف پاکستانی شاعر” حسنؔ عابدی صاحب “ کا یومِ وفات…

    معروف پاکستانی شاعر” حسنؔ عابدی صاحب “ کا یومِ وفات…

    آج – ۶؍ستمبر ۲۰۰۵ء

    معروف پاکستانی شاعر” حسنؔ عابدی صاحب “ کا یومِ وفات…

    نام سیّد حسن عسکری عابدی اور تخلص حسن تھا۔۷؍جولائی ۱۹۲۹ء کو قصبہ ظفرآباد، ضلع جون پور(بھارت) میں پیدا ہوئے۔ انٹر میڈیٹ شبلی کالج اور بی اے الہ آباد یونیورسٹی سے کیا۔۱۹۴۸ء کے اواخر میں روزگار کی تلاش میں حسن عابدی کراچی آگئے۔دو دفعہ جیل بھی گئے۔ رہائی کے بعد روزنامہ’’آفاق‘‘، ’’لیل ونہار‘‘، ہفت روزہ’اخبار خواتین‘ میں کام کیا۔ آخر میں روزنامہ ’’ڈان ‘‘ سے منسلک تھے۔ ۶؍ستمبر ۲۰۰۵ء کو کراچی میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ حسن عابدی کی شاعری کا آغاز دور طالب علمی ہی سے ہوگیا تھا۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’نوشت نے‘، ’جریدہ‘(شعری مجموعے)، ’کاغد کی کشتی‘، ’شریر کہیں کے‘ (بچوں کے لیے نظموں کا مجموعہ)، ’بھارت کا بحران‘(ترجمہ)، ’پاکستانی معاشرہ اور عدم رواداری‘، ’فرار ہونا حروف کا‘۔
    بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:236

    🍂 معروف شاعر حسن عابدی کے یومِ وفات پر ان کے چند منتخب اشعار بطورِ خراجِ عقیدت… 🍂

    اشکوں میں پرو کے اس کی یادیں
    پانی پہ کتاب لکھ رہا ہوں

    تشنہ کاموں کو یہاں کون سبو دیتا ہے
    گل کو بھی ہاتھ لگاؤ تو لہو دیتا ہے

    اے خدا انسان کی تقسیم در تقسیم دیکھ
    پارساؤں دیوتاؤں قاتلوں کے درمیاں

    کچھ نہ کچھ تو ہوتا ہے اک ترے نہ ہونے سے
    ورنہ ایسی باتوں پر کون ہاتھ ملتا ہے

    دل کی دہلیز پہ جب شام کا سایہ اترا
    افق درد سے سینے میں اجالا اترا

    یاد یاراں دل میں آئی ہوک بن کر رہ گئی
    جیسے اک زخمی پرندہ جس کے پر ٹوٹے ہوئے

    سب امیدیں مرے آشوبِ تمنا تک تھیں
    بستیاں ہو گئیں غرقاب تو دریا اترا

    شہر نا پرساں میں کچھ اپنا پتہ ملتا نہیں
    بام و در روشن ہیں لیکن راستہ ملتا نہیں

    دنیا کہاں تھی پاس وراثت کے ضمن میں
    اک دین تھا سو اس پہ لٹائے ہوئے تو ہیں

    کچھ عجب بوئے نفس آتی ہے دیواروں سے
    ہائے زنداں میں بھی کیا لوگ تھے ہم سے پہلے

  • کمشنر سرگودہا کی قیادت میں یوم دفاع پاکستان اور یکجہتی کشمیر ریلی

    کمشنر سرگودہا کی قیادت میں یوم دفاع پاکستان اور یکجہتی کشمیر ریلی

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی) ڈپٹی کمشنر آسیہ گل اور کمشنر شیخ ظفر اقبال DPO حسن مشتاق سکھیرا نے یوم دفاع و شہداء پاکستان کے موقع پر شہیدوں سے یکجہتی کے لئے سکولوں کے بچوں کے ساتھ ریلی نکالی پاک فوج کے حق میں نعرہ بازی کی اور کشمیر بنے گا پاکستان کے بھی نعرے لگائے ۔ یکجہتی کشمیر اور یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے تقریب کا انعقاد بورڈ آف سیکینڈری ایجوکیشن سرگودہا میں کیا گیا جس میں طلباء کے علاوہ سول سوسائٹی صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی