Baaghi TV

Tag: #BaaghiTV #Strike #exclusive

  • 6ستمبر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بطور ایک قومی دن

    6ستمبر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بطور ایک قومی دن

    *”یومِ دفاع ہر سال 6 ستمبر کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بطور ایک قومی دن منایا جاتا ہے۔”*
    یہ دن پاک بھارت جنگ 1965ء میں افواج کی دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

    یوم دِفاع کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

    *”تقریبات”*
    جس میں پرچم کشائی، پیریڈ، فوجی نمائشیں، انعامی تقریبات، ملی نغمے گانے، فوجی تقریبات، مختلف پروگرامز اور تقاریریں۔ وغیرہ

    اس کا مقصد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دفاع اور عسکری طاقت کو مضبوط کرنے کی یاددہانی ہے، تاکہ ہر آنے والے دن میں کسی بھی حملے سے بطریق ءاحسن نمٹا جا سکے۔

    *’ اس دن اسکول، کالجز اور جامعات کے علاوہ سرکاری دفاتر میں بھی 6 ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ کے شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے اور بھارت کے اس حملے کی پسپائی کا تذکرہ کیا جاتا ہے جس میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔*

    ‘ہر پاکستانی اپنی فوج کے دفاع پر فخر کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ پاک فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے۔

    _*”6 ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والا قابلِ فخر دن ہے جب کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے سے پڑوسی ملک پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کر دیا۔”*_

    _*’ اس چھوٹے مگر غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملہ کا اس پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے، بین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی، جارحیت کرنے والا وہ بڑا ملک ہندوستان اور غیور و متحد چھوٹا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔*_

    1965ء کی ہندوستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ثابت ہوا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر ہی لڑتی اور جیت سکتی ہیں۔

    پاکستانی قوم نے اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت اورجانثاری کے جرأت مندانہ جذبے نے ملکر نا ممکن کو ممکن بنا کر دکھایا۔

    اسلامی جمہوریہ پاکستان پر 1965ء میں ہندوستان کی طرف سے جنگ کا تھوپا جانا پاکستانی قوم کے ریاستی نصب العین دوقومی نظریہ، قومی اتحاد اور حب الوطنی کو بہت بڑا چیلنج تھا۔
    جسے جری قوم نے کمال و قار اور بے مثال جذبہ حریت سے قبول کیا اور لازوال قربانیوں کی مثال پیش کر کے زندہ قوم ہونے کاثبوت دیا۔
    دوران جنگ ہر پاکستانی کو ایک ہی فکر تھی کہ اُسے دشمن کا سامنا کرنا اور کامیابی پانا ہے۔

    جنگ کے دوران نہ تو جوانوں کی نظریں دشمن کی نفری اور عسکریت طاقت پر تھی اور نہ پاکستانی عوام کا دشمن کو شکت دینے کے سوا کوئی اور مقصد تھا۔
    تمام پاکستانی میدان جنگ میں کود پڑے تھے۔
    اساتذہ، صحافی، طلبہ، شاعر، ادیب، فنکار، گلوکار، ڈاکٹرز، سول ڈیفنس کے رضا کار، مزدور، کسان اور ذرائع ابلاغ سب کی ایک ہی دھن اور آواز تھی کہ *’’اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا‘‘* ستمبر 1965ء کی جنگ کا ہمہ پہلو جائزہ لینے سے ایک حقیقی اور گہری خوشی محسوس ہوتی ہے کہ وسائل نہ ہونے کے باوجود اتنے بڑے اور ہر لحاظ سے مضبوط ہندوستان کے مقابلے میں چھوٹے سے *اسلامی جمہوری پاکستان* نے وہ کون سا عنصر اور جذبہ تھا، جس نے پوری قوم کو ایک سیسہ پلائی ہوئی نا قابل عبور دیوار میں بدل دیا تھا۔
    مثلاً ہندوستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مشترکہ سرحد *’’رن آف کچھ‘‘* پر طے شدہ قضیہ کو ہندوستان نے بلا جواز زندہ کیا فوجی تصادم کے نتیجہ میں ہزیمت اٹھائی تو یہ اعلان کر دیا کہ آئندہ ہندوستان اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ جنگ کے لیے اپنی پسند کا محاذ منتخب کرے گا اس کے باوجود اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ہندوستان سے ملحقہ سرحدوں پر کوئی جارحانہ اقدام نہ کیے تھے۔
    صرف اپنی مسلح افواج کومعمول سے زیادہ الرٹ کررکھا تھا۔
    یہی وجہ ہے کہ *6 ستمبر* کی صبح جب ہندوستان نے حملہ کیا تو آناً فاناً ساری قوم، فوجی جوان اور افسر سارے سرکاری ملازمین جاگ کر اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف گئے۔
    صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ایمان فروز اور جذبۂ مرد جہاد سے لبریز قوم سے خطاب کی وجہ سے ملک اللہ اکبر پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھا۔
    فیلڈ مارشل ایوب خان کے اس جملے *’’پاکستانیو! اٹھو لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اوردشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو للکارا‘‘* ان کے اس خطاب نے قوم کے اندر گویا بجلیاں بھردی تھیں۔

    پاکستان آرمی نے ہر محاذ پر دشمن کی جارحیت اور پیش قدمی کو حب الوطنی کے جذبے اور پیشہ وارانہ مہارتوں سے روکا ہی نہیں، انہیں پسپا ہونے پر بھی مجبور کر دیا تھا۔

    ہندوستانی فوج کے کمانڈر انچیف نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ وہ لاہور کے جم خانہ میں شام کو شراب کی محفل سجائیں گے۔

    ہماری مسلح افواج نے جواب میں کمانڈر انچیف کے منہ پر وہ طمانچے جڑے کہ وہ مرتے دم تک منہ چھپاتا پھرا۔

    *’لاہور کے سیکٹر کو میجر عزیز بھٹی جیسے سپوتوں نے سنبھالا، جان دے دی مگر وطن کی زمین پر دشمن کا ناپاک قدم قبول نہ کیا۔*

    _*’چونڈہ کے سیکٹر پر (ہندوستان کا پسندیدہ اور اہم محاذ تھا) کو پاکستانی فوج کے جوانوں نے اسلحہ وبارود سے نہیں اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر ہندوستان فوج اور ٹینکوں کا قبرستان بنادیا۔ ہندوستان کی اس سطح پر نقصان اور تباہی کو دیکھ کر بیرون ممالک سے آئے ہوئے صحافی بھی حیران اور پریشان ہوئے پاکستانی مسلح افواج کو دلیری دی۔*_

    *پاکستان نیوی:-*
    ستمبر 1965ء میں نیوی کی جنگی سرگرمیاں بھی دیگر دفاعی اداروں کی طرح قابل فخر رہیں۔
    اعلان جنگ ہونے کے ساتھ بحری یونٹس کو متحرک و فنکشنل کر کے اپنے اپنے اہداف کی طرف روانہ کیا گیا۔
    کراچی بندرگاہ کے دفاع کے ساتھ ساتھ ساحلی پٹی پر پٹرولنگ شروع کرائی گئی۔
    پاکستان کے بحری، تجارتی روٹس کی حفاظت بھی پاکستان بحریہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
    اس لیے سمندری تجارت کو بحال رکھنے کے لیے گہرے سمندروں میں بھی یونٹس بھجوائے گئے۔
    یہ امر تسلی بخش ہے کہ پوری جنگ کے دورن پاکستان کا سامان تجارت لانے لے جانے والے بحری جہاز بلا روک ٹوک اپنا سفر کرتے رہے۔
    اس کے علاوہ ہندوستانی بحریہ کو بندرگاہوں سے باہر تک نہ آنے دیا۔
    پاکستان نیوی کی کامیابی کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ ہندوستان کے تجارتی *جہاز’’سرسوتی‘‘ اور دیگر تو کتنے عرصہ تک پاکستان میں زیر حراست و حفاظت کراچی کی بندرگاہ میں رہے۔*

    *7ستمبر کا دن پاکستان کی فتح اور کامیابیوں کا دن تھا۔* پاکستان نیوی کا بحری بیڑا، جس میں پاکستان کی واحد آبدوزپی این ایس غازی بھی شامل تھی۔
    ہندوستان کے ساحلی مستقر ’’دوارکا‘‘ پرحملہ کے لیے روانہ ہوئی۔
    اس قلعہ پر نصب ریڈار ہمارے پاک فضائیہ کے آپریشنز میں ایک رکاوٹ تھی۔
    مذکورہ فلیٹ صرف 20منٹ تک اس دوار کا پر حملہ آور رہا۔ توپوں کے دھانے کھلے اور چند منٹ میں دوار کا تباہ ہو چکا تھا۔
    (پی این ایس غازی) کا خوف ہندوستان کی نیوی پر اس طرح غالب تھا کہ ہندوستانی فلیٹ بندرگاہ سے باہر آنے کی جرأت نہ کرسکا۔
    *’ہندوستانی جہاز’’تلوار‘‘کو پاکستانی بیڑے کا سراغ لگانے کے لیے بھیجا گیا مگر وہ بھی’’غازی‘‘ کے خوف سے کسی اور طرف نکل گیا۔*

    *پاک فضائیہ:-*
    ائیر مارشل اصغر خان اور ائیر مارشل نور خان جیسے قابل فخرسپوتوں اور کمانڈروں کی جنگی حکمت عملی اور فوجی ضرورتوں کے پیش نظر تجویز کردہ نصاب کے مطابق پاک فضائیہ نے اپنے دشمن کے خلاف *’’ہوا باز گھوڑوں کو تیار کر رکھا تھا‘‘* جیسا کہ مسلمانوں کو اپنے دشمن کے خلاف تیاررہنے کا حکم ہے۔
    یہ ہمارے ہوا باز 7 ستمبر کو اپنے اپنے مجوزہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دشمن پر جھپٹ پڑے۔
    *ایک طرف سکوارڈرن لیڈر ایم ایم عالم جیسے سپوت نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے پانچ جہازوں کومار گرایا، تو دوسری طرف سکوارڈرن لیڈر سر فراز رفیقی اور سکوارڈرن لیڈر منیر الدین اور علاؤالدین جیسے شہیدوں نے بھی ثابت کر دیا کہ حرمت وطن کی خاطر ان کی جانوں کا نذرانہ کوئی مہنگا سودا نہیں۔*

    پاکستان کے غازی اور مجاہد ہوا بازوں نے ہندوستان کے جنگی ہوائی اڈوں کو اس طرح نقصان پہنچایا کہ ’’ہلواڑا‘‘ بنادیا۔
    پاک فضائیہ نے میدان جنگ میں اپنی کارکردگی سے ثابت کر دیا کہ وہ فرمان قائد اعظم کے مطابق Second to None ہے۔

    *پاکستانی شہری:-*
    1965ء کی جنگ کا غیر جانبداری سے اور غیر جذباتی جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بڑے سرکش اورخونخوار شکار کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں چھوٹے سے جال میں آسانی سے قید کر لیا۔
    *سب کچھ قائد اعظم کے بتائے اصول( ایمان، اتحاد، نظم) پر عمل کرنے سے حاصل ہوا۔*
    کسی بھی زاویۂ نگاہ سے دیکھیں تو یہی اصول 1965ء کی جنگ میں پاکستان کی کامیابی کامرکز اور محور تھے۔
    پاکستانی قوم کی طرف سے ملی یکجہتی، نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر ہر طرح کا فرق مٹا کر اختلاف بھلا کرمتحد ہو کر دشمن کو ناکوں چنے چبوانے کا بے مثال عملی مظاہرہ تھا۔
    نوٹ”- اس سال حکومت پاکستان نے یہ دن یوم دفاع اور یکجہتی کشمیر کے نام سے منایا ہے تاکہ بھارت کے سفاک چہرے کو دنیا کے سامنے لایا جا سکے اور کشمیوریوں سے اظہار یکجہتی کیا جا سکے
    *”پاکستان زندہ باد پاک فوج پائندہ باد”*

  • گورنمنٹ ٹیکنیکل ہائی سکول جوہر آباد میں یوم دفاع اور یکجہتی کشمیر تقریب کا انعقاد

    گورنمنٹ ٹیکنیکل ہائی سکول جوہر آباد میں یوم دفاع اور یکجہتی کشمیر تقریب کا انعقاد

    سرگودہا،خوشاب(نمائندہ باغی ٹی وی) حکومت پنجاب کے احکامات کی رو شنی میں دیگرشہروں کی طرح ضلع خوشاب میں بھی یوم وفاع اور یکجہتی کشمیر بھر پور جوش و جذبے اور حب الوطنی کے ساتھ منایا گیا -ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام تقریب کا انعقادگورنمنٹ ٹیکنیکل ہائی سکول جوہرآباد میں ہوا-سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر مسرت جبیں نے کہا کہ آج ملک بھر میں ڈیفنس ڈے یو م یکجہتی کشمیر کے ساتھ منایا جا رہا ہے 6 ستمبر کا دن پاکستانی افواج کی جرات اور بہادری کی یاد تازہ کرنے کے لیے منایا جا تا ہے انہوں نے تقریب کے شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے تقریب میں شریک ہوکر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا -ایم پی اے ساجدہ بیگم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ انڈیا ہی اقوام متحدہ سے جنگ بندی کی بھیک مانگنے گیا تھا اسے ذھن نشیں کرلینا چاہیئے کہ یہ بھیک دوبارہ نہیں ملے گی -ڈی پی او رانا شعیب محمود اور سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی نے6 ستمبر1965 ء کے حوالے سے بھارت کی جانب سے نا پاک عزائم لے کر پاکستان پر حملہ کرنے اور اپنے ہی پیروں کی دھول چاٹ کر واپس بھاگنے،پاکستان کی تینوں افواج کی جرات اور دلیری پر تفصیل سے گفتگو کی -سٹیج سیکرٹری کے فرائض ہیڈ ماسٹر محمد شاہد نے انجام دیتے ہوئے یو م دفاع اور تنازعہ کشمیر اپنے خوبصورت الفاظ میں بیان کیا -قبل ازیں تقریب میں 8 بجکر 58 منٹ پر سائیرن بجایا گیا -بعد ازاں پرچم کشائی کی گئی پاکستانی اور کشمیر کے قومی ترانے چلائے گئے -تقریب میں مختلف سکولوں کے بچوں نے ملی نغمے اور یو م دفاع کے موضوع پر تقریریں کیں -ڈپٹی کمشنر نے تقریب کے انعقاد کا اسسٹنٹ کمشنر خوشاب کی بہترین کوآرڈینیشن، سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی میاں محمد اسماعیل اور ڈی ڈی او ایجوکیشن محمد الیاس باجوہ کے تسلی بخش انتظامات کو سراہا اور دیگر محکمہ جات کی اپنے بھر پور انداز میں ریلی میں شرکت کی کاوشوں کو بھی سراہا گیا –

  • ڈپٹی کمشنر خوشاب مسرت جبین کی قیادت میں یکجہتی کشمیر ریلی کا انعقاد

    ڈپٹی کمشنر خوشاب مسرت جبین کی قیادت میں یکجہتی کشمیر ریلی کا انعقاد

    سرگودہا،خوشاب(نمائندہ باغی ٹی وی) حکومت پنجاب کے احکامات کی رو شنی میں دیگرشہروں کی طرح ضلع خوشاب میں بھی یوم دفاع اور یکجہتی کشمیر بھر پور جوش و جذبے اور حب الوطنی کے ساتھ منایا گیا گورنمنٹ ٹیکنیکل ہائی سکول سے لے کر سی ای او ایجوکیشن آفس چوک تک ڈپٹی کمشنر خوشاب مسرت جبیں کی زیر قیادت ریلی نکالی گئی – ریلی میں ایم پی اے ساجدہ بیگم،ضلعی انتظامی و پولیس افسران،ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ،پاپولیشن،محکمہ لا ئیو سٹاک،سوشل ویلفیئر،سول ڈیفنس،رسیکیو1122 اور دیگر تمام محکموں کے افسران و سٹاف اپنی گاڑیوں اور دیگر ایکوئپمنٹس کے ساتھ،پاکستان اور کشمیر کے جھنڈے بینرز اور پلے کارڈ سمیت شریک تھے -ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر مسرت جبیں نے کہا کہ آج ملک بھر میں ڈیفنس ڈے یو م یکجہتی کشمیر کے ساتھ منایا جا رہا ہے 6 ستمبر کا دن پاکستانی افواج کی جرات اور بہادری کی یاد تازہ کرنے کے لیے منایا جا تا ہے انہوں نے ر یلی کے شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا -ڈپٹی کمشنر نے تقریب کے انعقاد کا اسسٹنٹ کمشنر خوشاب کی بہترین کوآرڈینیشن، سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی میاں محمد اسماعیل اور ڈی ڈی او ایجوکیشن محمد الیاس باجوہ کے تسلی بخش انتظامات کو سراہا اور دیگر محکمہ جات کی اپنے بھر پور انداز میں ریلی میں شرکت کی کاؤشوں کو بھی سراہا گیا –

  • ساہیوال،فروکہ میں 6 محرم الحرام کا ماتمی جلوس برآمد،سخت سیکیوٹی انتظامات

    ساہیوال،فروکہ میں 6 محرم الحرام کا ماتمی جلوس برآمد،سخت سیکیوٹی انتظامات

    سرگودہا،ساہیوال (نمائندہ باغی ٹی وی )ساہیوال ،فروکہ6 محرم الحرام کے ماتمی جلوس سیکورٹی کے سخت انتظامات ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد امتیاز محمود خان ایس ایچ او ترکھانوالہ ارباب طفیل جلوس سیکورٹی چیک کر رہے ہیں ماتمی جلوس فروکہ کے مرکزی راستوں سے گزرے گا اس سلسلے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جس کی نگرانی ایس ایچ او ترکھانوالہ ارباب طفیل کر رہے ہیں ماتمی جلوس کے راستوں پر رضاکار بھی تعینات کیے گئے ہیں

  • سرگودہا کی تحصیل سلانوالی میں قتل کی لرزہ خیز واردات

    سرگودہا کی تحصیل سلانوالی میں قتل کی لرزہ خیز واردات

    سرگودہا،سلانوالی(نمائندہ باغی ٹی وی)سلانوالی میں قتل کی لرزہ خیز واردات ،رات گئے حویلی میں سوئے شخص کو قتل کر کے لاش کو خراب ائیر کولر میں ڈال دیاتفصیلات کے مطابق مقتول یاسین رات جنازہ پڑھ کر واپسی حولی میں اکیلا سو گیا تھا تھانہ سلانوالی پولیس موقع پر پہنچ گئ مقتول یاسین کی ڈیڈ باڈی پوسٹ مارٹم کے لیے ٹی ایچ کیو ہسپتال پہنچا دی گئی
    مقتول یاسین نجی ٹی وی چینل شاہ نکڈر کے رپورٹر ملک محمد نواز کھوکھر کا بھائی تھا پولیس مزید شواہد اکٹھے کرکے تفتیش کا آغاز کرے گی

  • ستمبر1965ء کی جنگ پاکستان کی تاریخ کا تابناک باب

    ستمبر1965ء کی جنگ پاکستان کی تاریخ کا تابناک باب

    پاک بھارت جنگ کا آغاز

    4 ستمبر 1965ء کی شام پاکستان کے سیکریٹری خارجہ عزیز احمد کو ترکی سفیر کے توسط سے ترکی میں متعین پاکستانی سفیر کا ایک پیغام سائفر (Cypher) کی شکل میں موصول ہوا۔
    اس پیغام میں اطلاع دی گئی تھی کہ بھارت 6 ستمبر کی صبح‘ پاکستان پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
    عزیز احمد نے یہ پیغام وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو تک پہنچا دیا۔
    مگر ان دونوں نے ضابطے کے برخلاف اس پیغام کی نقل صدر مملکت تک نہیں پہنچائی۔
    ان کا خیال تھا کہ ارشد حسین اپنے کمزور اعصاب کے باعث حسب معمولی گھبراہٹ کا شکار ہوگئے ہیں۔
    مگر 6 ستمبر 1965ء کی صبح‘ بھارت نے واقعی پاکستان پر حملہ کردیا۔
    بھارتی افواج بغیر کسی الٹی میٹم‘ بغیر کسی انتباہ اور بغیر کسی باضابطہ اطلاع کے بین الاقوامی سرحد عبور کرچکی تھیں اور لاہور کی جانب بڑھ رہی تھیں۔
    اسی دوپہر صدر مملکت فیلڈ مارشل ایوب خان نے قوم سے خطاب کیا۔
    انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے دس کروڑ عوام جن کے دل کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کی آواز کے ساتھ دھڑک رہے ہیں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک بھارتی توپیں ہمیشہ کے لیے خاموش نہ کردی جائیں۔ اور پھر یہی ہوا بھی۔
    یہ تاریخی جنگ ہماری مسلح افواج اور ہماری باحوصلہ قوم نے بڑی یکجان ہوکر لڑی۔
    ایک جانب پاکستان کی مسلح افواج نے سازو سامان اور نفری دونوں لحاظ سے اپنی سے بڑی قوت کو پسپا کردیا تو دوسری طرف پاکستانی قوم نے اپنے اتحاد سے دشمن کو لرزہ براندام کردیا۔
    ان سترہ دنوں میں اہل پاکستان نے من حیث القوم‘ باہمی محبت‘ ملی عزت و حمیت‘ جرات اور احساس نفس کے کندن کو وقت کی کسوٹی پر پرکھا اور اس آزمائش میں ہر طرح پورے اترے۔
    ستمبر 1965ء کی جنگ پاکستان کی تاریخ کا ایک تابناک باب بن چکی ہے۔۔!!!

  • ابو ریحان البیرونی ، ایجادات کا ایک عہد ،مشہور مسلمان سائنسدان

    ابو ریحان البیرونی ، ایجادات کا ایک عہد ،مشہور مسلمان سائنسدان

    ابو ریحان البیرونی کی پیدائش
    ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی المعروف البیرونی (پیدائش: 5 ستمبر 973ء، وفات: 9 دسمبر 1048ء) ایک بہت بڑے محقق اور سائنس دان تھے۔ وہ خوارزم کے مضافات میں ایک قریہ، بیرون میں پیدا ہوئے اور اسی کی نسبت سے البیرونی کہلائے۔ البیرونی بو علی سینا کے ہم عصر تھے۔ خوارزم میں البیرونی کے سرپرستوں یعنی آلِ عراق کی حکومت ختم ہوئی تو اس نے جرجان کی جانب رخت سفر باندھا وہیں اپنی عظیم کتاب "آثار الباقیہ عن القرون الخالیہ” مکمل کی۔ حالات سازگار ہونے پر البیرونی دوبارہ وطن لوٹا اور وہیں دربار میں عظیم بو علی سینا سے ملاقات ہوئی۔

    حالات زندگی

    کاث شہر دریائے جیحون (دریائے آمو) کے مشرقی کنارے پر واقع تھا۔ اس کے اردگرد کئی مضافاتی بستییاں تھیں جن میں ایک بستی کا نام بیرون تھا۔ اس مضافاتی بستی میں ایک یتیم بچہ پرورش پا رہا تھا جس کا نام محمد بن احمد تھا جو دنیا میں البیرونی کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ بچہ شروع ہی سے قدرتی مناظر کا دلدادہ تھا۔ وہ دن بھر باغات میں بھرتا، خوب صورت پہاڑوں پر چڑھ جاتا، صحرا میں دوڑتا بھاگتا اور شام کے وقت گھر لوٹتا تو اس کے ہاتھ میں ریحان کی کونپلوں اور ٹہنیوں کا ایک گلدستہ ہوتا جسے وہ ایک پیالے میں سجا دیتا اور جب ہوا چلتی تو اس گلدستے کی خوشبو اس کے غریب خانی کو معطر کردیتی۔ اس کی ماں اس کو اسی لیے ابو ریحان کہ کر پکارتی تھی۔ البیرونی کا باپ ایک چھوٹا سا کاروبار چلاتا تھا لیکن اس کی ناگہانی موت کی وجہ سے البیرونی کی ماں اپنے لیے اور اپنے بیٹے کے لیے جنگل سے لکڑیاں جمع کرکے روزی کمانے پر مجبور ہو گئی۔ اس کام میں البرونی اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتا تھا۔

    ایک روز البرونی کی نباتات کے ایک یونانی عالم سے ملاقات ہو گئی۔ البرونی نے اسے ایک باغ میں پھول توڑنے اور جنگل کے درختوں کے نیچے پودوں کو کاٹتے دیکھا تو اس یونانی علم کے پاس پہنچ کر احتجاج کرتے ہوئے کہنے لگا: جناب آپ ان بھولوں کو کیوں توڑ رہے ہیں اور پودوں کو کیوں کاٹ رہے ہیں؟ کیا آپ میری طرح ان کو کاٹے بغیر اور انہیں زندگی سے محروم کیے بغیر ان کی تصویریں نہیں بنا سکتے ہیں؟ یہ سن کر یونانی علم ہنس پڑا اور کہنے لگا: بیٹے میں ان بھولوں اور پودوں کا علم کی خاطر جمع کر رہا ہوں، ان پودوں اور بھولوں سے ہم بیماریوں کت علاج کے لیے دوائیں تیار کر رہیں۔ یہ سن کر البیرونی خوشی سے طلایا: تو آپ نباتات کے عالم ہیں؟ یونانی علم نے پیا سے کہا: ہاں میرے بیٹے، میرا خیال ہے تمہیں پھولوں اور پودوں سے بہت محبت ہے۔ البیرونی نے کہا میں تو تمام قدرتی مناظر سے محبت کرتا ہوں۔ ستاروں، درخت، پودے، پھول، پہاڑ، ٹیلے اور وادیاں سب ہی مجھے پسند ہیں۔ اس یونانی علم نے البیرونی کو روزانہ تعلیم دیتا رہااور نباتات کا علم سکھاتا رہا۔ اس وقت البیرونی کی عمر گیارہ سال تھی۔ تین سال گزر گئے اور ابو ریحان چودہ برس کا ہو گیا، اس عرصے میں اس نے یونانی اور سریانی زبانوں میں مہارت حاصل کرلی اور یونانی علم سے پودوں کی دنیا کے بارے میں بہت کچھ سیکھ لیا۔ طبعی علوم کع بارے میں اس کا شوق اور بڑھ گیا۔ یونانی علم اپنے وطن یونان لوٹنے سے پہلے البیرونی کو فلکیات و ریاضی کے عالم ابو نصر منصور علی کے خدمت میں جو خوارزمی خاندان کا شہزادہ تھا لے گیا۔ ابو نصر نے البیرونی کے لیے الگ گھر تعمیر کرایا اور وظیفہ بھی مقرر کیا۔ ابو نصر ہر روز فلکیات اور ریاضی کے علوم سکھاتا رہا۔ ابو نصر نے البیرونی کو مشہور ریاضی دان اور ماہر عبد الصمد کی شاگردی میں دے دیا۔
    کارنامہ ہائے

    البیرونی نے ریاضی، علم ہیئت، تاریخ اور جغرافیہ میں ایسی عمدہ کتابیں لکھیں جو اب تک پڑھی جاتی ہیں۔ ان میں ”کتاب الہند“ ہے جس میں البیرونی نے ہندو‎ؤں کے مذہبی عقائد، ان کی تاریخ اور برصغیر پاک و ہند کے جغرافیائی حالات بڑی تحقیق سے لکھے ہیں۔ اس کتاب سے ہندو‎ؤں کی تاریخ سے متعلق جو معلومات حاصل ہوتی ہیں ان میں بہت سی معلومات ایسی ہیں جو اور کہیں سے حاصل نہیں ہوسکتیں۔ اس کتاب کو لکھنے میں البیرونی نے بڑی محنت کی۔ ہندو برہمن اپنا علم کسی دوسرے کو نہیں سکھاتے تھے لیکن البیرونی نے کئی سال ہندوستان میں رہ کر سنسکرت زبان سیکھی اور ہندوئوں کے علوم میں ایسی مہارت پیدا کی کہ برہمن تعجب کرنے لگے۔ البیرونی کی ایک مشہور کتاب "قانون مسعودی” ہے جو اس نے محمود کے لڑکے سلطان مسعود کے نام پر لکھی۔ یہ علم فلکیات اور ریاضی کی بڑی اہم کتاب ہے۔ اس کی وجہ سے البیرونی کو ایک عظیم سائنس دان اور ریاضی دان سمجھا جاتا ہے۔ البیرونی نے پنجاب بھر کی سیر کی اور "کتاب الہند” تالیف کی، علم ہیئت و ریاضی میں البیرونی کو مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے ریاضی، علم ہیئت، طبیعیات، تاریخ، تمدن، مذاہب عالم، ارضیات، کیمیا اور جغرافیہ وغیرہ پر ڈیڑھ سو سے زائد کتابیں اور مقالہ جات لکھے۔ البیرونی کے کارناموں کے پیش نظر چاند کے ایک دہانے کا نام "البیرونی کریٹر” رکھا گیا ہے۔
    تصنیفات و تالیفات

    البیرونی نے تاریخ، ریاضی اور فلکیات پر کوئی سو سے زائد تصانیف چھوڑی ہیں جن میں کچھ اہم یہ ہیں :
    کتاب الآثار الباقیہ عن القرون الخالیہ

    یہ کتاب البیرونی نے جرجان کے حکمران شمس المعالی قابوس بن دشمکیر کے نام پر تحریر کی، اس کا خاص موضوع علم نجوم اور ریاضی تھا۔ لیکن اس میں بہت سے دیگر دلچسپ علمی، تاریخی اور مذہبی و فلسفیانہ باتیں بھی لکھی ہیں اور جگہ جگہ تنقیدی انداز بھی اختیار کیا ہے۔ اس طرح کتاب اس دور کے اہم تاریخی، مذہبی اور علمی مسائل کی ایک تنقیدی تاریخ بن گئی ہے۔
    کتاب الہند

    ہندویات پر عربی زبان میں پہلی شہرہ آفاق کتاب، جس کا پورا نام تحقیق ما للھند من مقولۃ مقبولۃ فی العقل او مرذولۃ ہے۔ یہ کتاب قدیم ہندوستان کی تاریخ، رسوم و رواج اور مذہبی روایات کے ذیل میں صدیوں سے مورخین کا ماخذ رہی ہے اور آج بھی اسے وہی اہمیت حاصل ہے۔ کتاب الہند کا مواد حاصل کرنے کے لیے البیرونی نے سال ہا سال تک پنجاب میں مشہور ہندو مراکز کی سیاحت کی، سنسکرت جیسی مشکل زبان سیکھ کر قدیم سنسکرت ادب کا براہ راست خود مطالعہ کیا۔ پھر ہر قسم کی مذہبی، تہذیبی اور معاشرتی معلومات کو، جو اہل ہند کے بارے میں اسے حاصل ہوئيں اس کتاب میں قلم بند کر دیا۔ اس کتاب میں ہندو عقائد، رسم و رواج کا غیر جانبدرانہ اور تعصب سے پاک انداز میں انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ پہلی کتاب ہے جس کے ذریعے عربی دان طبقہ تک ہندو مت کے عقائد و دیگر معلومات اپنے اصل مآخذ کے حوالے سے پہنچیں۔[8]

    کتاب مقالید علم الہیئہ وما یحدث فی بسیط الکرہ۔

    قانون مسعودی

    یہ البیرونی کی سب سے ضخیم تصنیف ہے جس کا نام اس نے سلطان محمود عزنوی کے نام پر رکھا ہے۔ پورا نام ہے۔ یہ 1030ء میں شائع ہوئی اور ان تمام کتابوں پر سبقت لے گئی جو ریاضی، نجوم، فلکیات اور سائنسی علوم کے موضوعات پر اس وقت میں لکھی جا چکی تھیں۔ اس کتاب کا علمی مقام بطلیموس کی کتاب المجسطی سے کسی طرح کم نہیں۔

    کتاب استخراج الاوتار فی الدائرہ۔
    کتاب استیعاب الوجوہ الممکنہ فی صفہ الاسطرلاب۔
    کتاب العمل بالاسطرلاب۔
    کتاب التطبیق الی حرکہ الشمس۔
    کتاب کیفیہ رسوم الہند فی تعلم الحساب۔
    کتاب فی تحقیق منازل القمر۔
    کتاب جلاء الاذہان فی زیج البتانی۔
    کتاب الصیدلہ فی الطب۔
    کتاب رؤیہ الاہلہ۔
    کتاب جدول التقویم۔
    کتاب مفتاح علم الہیئہ۔
    کتاب تہذیف فصول الفرغانی۔
    کتاب ایضاح الادلہ علی کیفیہ سمت القبلہ۔
    کتاب تصور امر الفجر والشفق فی جہہ الشرق والغرب من الافق۔
    کتاب التفہیم لاوائل صناعہ التنجیم۔
    کتاب المسائل الہندسیہ۔
    مقالہ فی تصحیح الطول والعرض لمساکن المعمورہ من الارض۔

    البیرونی کی دریافتیں
    ان کی دریافتوں کی فہرست خاصی طویل ہے، انہوں نے نوعیتی وزن متعین کرنے کا طریقہ دریافت کیا، زاویہ کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا، نظری اور عملی طور پر مائع پر دباؤ اور ان کے توازن پر ریسرچ کی، انہوں نے بتایا کہ فواروں کا پانی نیچے سے اوپر کس طرح جاتا ہے، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایک دوسرے سے متصل مختلف الاشکال برتنوں میں پانی اپنی سطح کیونکر برقرار رکھتا ہے، انہوں نے محیطِ ارض نکالنے کا نظریہ وضع کیا اور متنبہ کیا کہ زمین اپنے محور کے گرد گھوم رہی ہے۔۔!!!!

  • پھکی پے گئی چناں تاریاں دی لو، توں اجے وی نہ آیوں،وارث لدھیانوی

    پھکی پے گئی چناں تاریاں دی لو، توں اجے وی نہ آیوں،وارث لدھیانوی

    وارث لدھیانوی کی وفات
    پنجابی زبان کے معروف شاعر اور نغمہ نگار وارث لدھیانوی کا اصل نام چوہدری محمد اسماعیل تھا اور وہ 11 اپریل 1928ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔
    ابتدا میں عاجز تخلص کرتے تھے پھر استاد دامن کے شاگرد ہوئے اور وارث تخلص کرلیا۔
    استاد دامن کی شاگردی کے بعد اردوکی بجائے مکمل پنجابی شاعری پر توجہ دی
    ابتدا ہی میں میرے گیت ہٹ ہو گئے ۔انہیں اپنا گیت ؎ پھکی پے گئی چناں تاریاں دی لوء توں اجے وی نہ آیوں سجناں بہت پسند تھا
    ان کی پہلی فلم ’’شہری بابو‘‘ تھی۔ جس کا یہ گیت زبیدہ خانم کی آواز میں بہت مشہور ہوا
    ؎ اک منڈے دی چیز گواچی بھل کے چیتا آوے گا وارث لدھیانوی نے کئی فلموں کے گیت او ر سکرپٹ تحریر کیے ان کا ایک گیت شادی بیاہوں میں لڑکیا ں آج بھی شوق سے گاتی ہیں
    ؎ دیسا ں دا راجہ میرے بابل دا پیارا امبڑی دے دل دا سہارا نی ویر میرا گھوڑی چڑھیانی سیو گھوڑی چڑھیا فلم کرتا ر سنگھ کا یہ گانا آج بھی سپر ہٹ گانوں میں شمار ہوتا ہے ۔
    ان کے شاہکار گیتوں میں دلاٹھہر جا یار دا نظارا لین دے (منیر حسین ،زبیدہ خانم) ؎ میرا دل چنا کچ دا کھڈونا (زبیدہ خانم)
    ؎ سانوں وی لے چل نال وے ،بائو سوہنی گڈی والیا (نسیم بیگم)
    ؎جھانجریاپہنا دو (ملکہ ترنم نور جہاں) وارث لدھیانوی نے جن یاد گار فلموں کے لیے شاہکار گیت تخلیق کیے ان میں مٹی دیا ں مورتاں ، باجی ، بدلہ، شیر خان، پگڑی سنبھال جٹا، رنگیلا، شعلے، مفرور ، روٹی ، حکومت ، مکھڑا، دو رنگیلے اور دیگر فلمی شامل ہیں۔
    ان کے چند مشہور گیتوں کے بول آپ کی دلچسپی کے لیے حاضر ہیں۔
    ؎ وے میں دل تیرے قدماں چ رکھیا
    ؎ وے سب تو ں سوہنیاں
    ،ہائے وے من موہنیاں ؎ دلاں دیاں میلیاں نے چن جیاں صورتاں
    ؎ گوری گوری چاندنی ،ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں نی
    ؎ چنا تیری یاد وچ
    ؎ چن چن دے سامنے آگیا وارث لدھیانوی نے جن ممتاز موسیقاروں کے ساتھ کام کیا ان میں بابا جی اے چشتی،ماسٹر عنایت ، رشید عطرے ،صفدر حسین، طافو،طفیل فاروقی اور نذیر علی شامل ہیں ۔
    انہوں نے تقریبا تیس برس سے زائد فلمی دنیا میں اپنے صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
    5ستمبر 1992دل کا دورہ پڑ نے سے آپ اس جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے ۔۔!!!

  • ڈیفنس ڈے کشمیریوں کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کے طور پر منایاجائے گا

    ڈیفنس ڈے کشمیریوں کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کے طور پر منایاجائے گا

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی ) ڈپٹی کمشنر خوشاب مسرت جبیں نے کہا ہے کہ 6 ستمبر ڈیفنس ڈے کشمیریوں سے یکجہتی کے ساتھ بھر پور طریقے سے منایا جائیگا -انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کی ہدایات پر سیمینار کے انعقاد اور ریلی نکالنے کا اہتمام کر لیا گیا ہے -یہ بات انہوں نے ڈی سی کانفرنس روم میں ڈیفنس ڈے کے پروگرام کے انتظامات کا جائیزہ لیتے ہوئے ایک اجلاس میں بتائی -اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) خوشاب نادیہ شفیق،اسسٹنٹ کمشنر خوشاب افتخار حسین بلوچ،سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر امان اللہ،ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر امتیاز احمد مانگٹ،ڈسٹرکٹ ایمر جنسی آفیسر ریسکیو 1122 ڈاکٹر نیئر عالم خان، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ رحمت علی باجوہ،ڈی ایم اوخیضراں علی کے علاوہ دیگر محکموں کے افسران موجود تھے – 6 ستمبر کو گورنمنٹ ٹیکنیکل ہائی سکول جوہر آباد میں ساڑھے 8 بجے سیمینار کا انعقاد ہو گا -پروگرام کے مطابق 8بجکر 58 منٹ پر سائیرن اور پرچم کشائی کی جا ئے گی -بعد ازاں پاکستان اور کشمیر کے ترانے،2منٹ کی خاموشی،قرآت نعت،ملی نغمے،تقاریر کی جائینگی اور آخر میں ڈپٹی کمشنر مسرت جبیں سیمینار سے خطاب کر یں گی -سیمینار کے بعد 10 بجے دن گورنمنٹ ٹیکنیکل ہائی سکول جوہر آبا دتا گورنمنٹ کالج چوک تک ریلی نکالی جائیگی –

  • محمد منشاء یاد کا یوم پیدائش

    محمد منشاء یاد کا یوم پیدائش

    محمد منشا یاد کا یومِ پیدائش

    اُردو اور پنجابی کے معروف کہانی کار اور ڈرامہ نویس محمد منشا یاد 5 ستمبر 1937ء کو حافظ آباد کے قریب ایک گائوں میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام محمد منشاء تھا، تاہم انہوں نے منشا یاد کے قلمی نام سے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا۔ ان کا پہلا افسانہ 1955ء میں منظر عام پر آیا ۔
    منشا یاد نے اسلام آباد میں حلقہ ارباب ذوق کی شاخ بھی قائم کی تھی اور عمر کے آخری دن تک اس تنظیم میں فعال رہے ۔ حکومت پاکستان نے 2004ء میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا تھا۔ 2006ء میں انھیں پنجابی میں بہترین ناول نگاری کا بابا فرید ادبی ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ 2010ء میں انھیں عالمی فروغ ادب ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا۔

    منشا یاد نے 15 اکتوبر 2011ء کو اسلام آباد میں وفات ہائی اور وہیں آسودہ خاک ہوئے ۔۔!!!