Baaghi TV

Tag: #BaaghiTV #Strike #exclusive

  • ٹی ایچ کیو ہسپتال ساہیوال میں ویکسینیٹر کا کارنامہ

    ٹی ایچ کیو ہسپتال ساہیوال میں ویکسینیٹر کا کارنامہ

    ساہیوال /سرگودھا(نمائندہ باغی ٹی وی) ٹی ایچ کیو ہسپتال ساہیوال سرگودھا میں ویکسی نیٹر دن دہاڑے لڑکی کے ساتھ کمرہ میں برہنہ حالت میں رنگ رلیاں مناتے ہوئے پکڑا گیا ویکسی نیٹر نے ہسپتال میں کمرہ لے رکھا تھا جس میں سامان وغیرہ رکھا جاتا تھا موصوف لڑکی کے ساتھ کمرہ میں حرام کاری میں مصروف تھا کہ محکمہ صحت کے ذمہ دار آفیسر نے پکڑ لیا واقعے پر عوامی، سماجی، شہری، صحافی، کاروباری حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے محکمہ صحت کے ویکسی نیٹر کی برطرف کرنے اور ایم ایس کلرک و دیگر جو عرصہ دراز سے تعینات عملہ کو ضلع بدر کیا جائے۔ٹی ایچ کیو اسپتال ساہیوال میں اس قسم کی درجنوں وارداتیں ہو چکی ہیں یہ اسپتال ومحکمہ ہیلتھ پنجاب کے لیے بدنما داغ بن چکا؛ ہے

  • وطن عزیز کے تخفظ کیلیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی

    وطن عزیز کے تخفظ کیلیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )سینئر رہنما پاکستان مسلم لیگ ن وسابق رکن قومی اسمبلی حلقہ این اے 91 ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی نے باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں کہا ہے کہ آ ج پھر پور ی قو م کو متحد ہو کر 6ستمبر 1965کے جذ بہ کے تحت ملک کی ترقی وخوشحالی کیلئے کام کرناہوگا کیونکہ پاکستا ن کی ترقی وخوشحالی ہما ر ی منز ل ہے وطن کے دفاع بقا و سلامتی کیلئے ہمیں اپنی حکو مت کے ہاتھ مضبوط کر نا ہو ں گے 6ستمبر یو م دفاع پاکستا ن کی تاریخ میں ایک یادگا ر د ن ہے جس د ن وطن عز یز کے عظیم سپوتوں نے قر با نیاں د ے کر اپنے اذلی دشمن بھا ر ت کے دانت کھٹے کیے تھے ہما ر ی افواج دنیا کی بہتر ین افوا ج ہیں‘ وطن عزیزکے دفاع بقاوسلامتی کیلئے حکومت افوا ج پاکستا ن اور پوری قوم ایک پیج پر ہیں ہم وطن عز یز کے تحفظ کیلئے آئندہ بھی کسی قر بانی سے در یغ نہ کریں گے۔

  • محرم ڈیوٹی لگانے پر سینکڑوں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کمشنر آفس کے سامنے اجتجاج

    محرم ڈیوٹی لگانے پر سینکڑوں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کمشنر آفس کے سامنے اجتجاج

    سرگودھا(نمائندہ باغی ٹی وی )محرم ڈیوٹی لگانے پر سینکڑوں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کمشنر آفس کے سامنے احتجاجی دھرنا، انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی گرمی اور حبس کے باعث رضیہ بی بی اور متعدد بزرگ لیڈی ہیلتھ ورکرز بے ھوش،ریسکیو اہلکاروں نے طبی امداد کے بعد حالت غیر ھونے پر ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا تفصیلا ت کے مطابق محرم الحرام میں سینکڑوں کی تعداد میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کو جلوس کےروٹس اور مجالس پر ڈیوٹیاں لگانے کے خلاف کام چھوڑ کر ای ڈی آفس سے باہرسڑک پر نکل آئیں اور انتظامیہ کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ،احتجاجی ریلی ڈی ایچ کیو سے کمشنر آفس تک جاری رہی لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کہنا تھا کہ ہم پولیو ڈیوٹی بھی دیں ہوم ڈیوٹی بھی دیں فیلڈ ڈیوٹی کے ساتھ ان محرم میں جلوسوں کے ساتھ ڈیوٹی بھی دیں ہم بھی انسان ہیں کو ئی روبوٹ نہیں ہیں الیکشن ڈیوٹیاں بھی لگا دی جاتی ہیں ہم خواتین ان انتظامی امور چلانے والوں کے لئے کھلونا بنے ہوئے ہیں جب چاہیں جہاں چاہیں ڈیوٹی لگا کر بلیک میل کیا جاتا ہے احتجاج کرنے والی سینکڑوں خواتین نے پینا فلیکسیز اٹھا رکھے تھے جس پر انتظامیہ کے خلاف نعرے درج تھے متعدد لیڈی ورکرز کی گرمی اور حبس کے باعث حالت خراب ہو گئی رضیہ بی بی جو چک نمبر163شمالی سے آئی ہوئی تھی احتجاج کے دوران گرمی کی وجہ سے حالت غیر ہونے پربے ہوش ہو گئی ریسکیو اہلکاروں نے طبی امداد دیتے ہوئے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا تا حال لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مزاکرات کیلئے کوئی افسرنہیں پہنچا‘روڈ بلاک اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگنے سے شہر بھر کی ٹریفک جام رہی

  • سرگودہا،فیصل آباد روڈ پر ڈمپر کی موٹر سائیکل کو ٹکر سے کمسن بچہ جاں بحق

    سرگودہا،فیصل آباد روڈ پر ڈمپر کی موٹر سائیکل کو ٹکر سے کمسن بچہ جاں بحق

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )سرگودہا،فیصل آباد روڈ پر ڈمپر کی موٹرسائیکل کو ٹکر سے کمسن بچہ عظیفہ ولد بلال جاں بحق تفصیلات کے مطابق ،فیصل آباد روڈ پر ڈمپر کی غلط سائیڈ سے اوور کراسنگ سے حادثہ پیش آیا ڈمپر نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل پر بیٹھا کمسن بچہ جاں بحق ہو گیا پولیس نے ڈرائیور کو موقع سے گرفتار کر لیا بچے کا تعلق نواحی گاؤں چک نمبر 39 جنوبی سے بتایا جا رہا ہے اہل علاقہ کا شدید اجتجاج آئے روز ان ٹرکوں کی ٹکر سےجانوں کا ضیاع ہوتا ہے ضلعی انتظامیہ کو اس پر ایکشن لینا چاہیے اور ان خادثات کی روک تھام کیلیے اقدامات کرنے چاہئیں

  • استاد دامن کی سب سے بڑی خوبی ان کی فی البدیہہ گوئی تھی

    استاد دامن کی سب سے بڑی خوبی ان کی فی البدیہہ گوئی تھی

    استاد دامن کی پیدائش *
    4 ستمبر 1911 میں چوک متی لاہور میں پیدا ہوئے۔ والد میراں بخش درزیوں کا کام کر تے تھے۔ بچپن ہی میں استاد دامن نے گھر یلوحالات کے پیش نظر تعلیم کے ساتھ ٹیلر نگ کا کام بھی کرنا شروع کیا۔ جب استاد دامن کی عمر تیرہ سال ہو ئی تو ان کا خاندان چوک متی سے باغبانپورہ منتقل ہو گیا۔ انہوں نے باغبانپورہ میں درزیوں کی دکان شروع کی اور دیوسماج اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ انہیں شاعری کا شوق تو بچپن ہی سے تھا لیکن باقاعدہ طور پر شاعری کا آغاز میٹرک کے بعد کیا اور مختلف جلسوں اور مشاعروں میں اپنا پنجابی کلام سنانے لگے۔
    شہرت

    1940 میں میاں افتخار الدین کی صدارت میں ہو نے والے میونسپل کمیٹی لاہور کے اجلاس میں کمیٹی کارکردگی پر تنقید ی نظم پیش کی اور خوب داد حاصل کی۔ ان کے بعد ان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہو تا گیا اور انہوں نے سیاسی جلسوں میں بھی نظمیں پڑھنے کا آغاز کیا۔ آپ کی شاعری زبان زدعام وخاص ہو گئی اور آپ ہر مکتب فکر کے لوگوں میں ہر دلعزیزشاعر کی حیثیت سے متعارف ہو ئے ۔
    مالی مشکلات

    پاکستان کی آزادی کے بعد ہو نے والے فسادات میں آپ کی دکان لوٹ لی گئی جس کے سبب آپ زبردست مالی بحر ان کا شکار ہو کر باغبا نپورہ سے بادشاہی مسجد کے قریب حجرے میں منتقل ہو گئے۔ آپ کے پاس کل اثاثہ ان کی چند کتابیں تھیں۔ 1949 میں آپ ٹکسالی گیٹ میں واقع اس حجرے میں منتقل ہو گئے جس میں شاہ حسین (مادھولال حسین)بھی مقیم رہے تھے اور تادم مرگ یہی حجرہ ان کا مسکن ٹھہرا۔ اسی دور میں استاد دامن کی شادی ہوئی لیکن کچھ ہی عر صہ بعد ان کا کم سن بیٹا اور بیوی انتقال کر گئے اور پھر تمام عمر شادی نہ کی ۔
    شاعری

    استاد دامن نے شاعری کا آغاز کیا تو ہمدم تخلص کر تے تھے لیکن جلد ہی اسے ترک تخلص کرنے لگے۔ پنجابی شاعری میں استاد ہمدم کے شاگرد ہو ئے اور ان کی شاگردی کو اپنے لیے باعث فخر تصور کرتے۔ دامن نے پنجابی شاعری کی فنی خوبیوں پر ملکہ رکھنے کی بدولت اہل علم وفن افراد سے استاد کا خطاب حاصل کیا۔ استاد دامن مزدوروں ‘کسانوں ‘غریبوں اور مظلوموں کے شاعر تھے۔ انہوں نے ان طبقوں کی حمایت اور حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور ہمیشہ استحصالی طبقو ں کی مذمت کرتے رہے۔ انہوں نے پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لیے گرانقدر خدمات سر انجام دیں اور ادبی تنظیم پنجابی ادبی سنگت کی بنیاد رکھی اور تنظیم کے سکریٹری ر ہے۔ استاد دامن کے چاہنے والوں میں بھارتی اداکاروں کا شمار بھی ہوتا ہے جن میں اوم پرکاش،پران اور شیام کے نام نمایاں ہیں۔ اوم پرکاش کی فرمائش پر ہی استاد نے نورجہاں کی زیر ہدایات بننے والی فلم چن وے کے ایک ایک گیت کا مکھڑا لکھا۔ چنگا بنایا ای سانوں کھڈونا
    آپے بناؤونا تے آپے مٹاؤنا
    فی البدیہہ گوئی

    استاد دامن کی سب سے بڑی خوبی ان کی فی البدیہہ گوئی تھی۔ خدا نے انہیں ایسے ذہن اور فکر سے نوازا تھا کہ وہ موقع کی مناسبت سے چند لمحوں میں اشعار کی مالا پرو دیتے تھے اور حاضرین کے لیے تسیکن کے ساتھ ساتھ حیرت کے اسباب بھی پیدا کردیتے تھے۔ آزادی کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے دلی میں منعقد مشاعرے میں یہ فی البدیہہ نظم پڑھی : جاگن والیاں رج کے لٹیا اے
    سوئے تسی وی او، سوئے اسیں وی آں
    لالی اکھیاں دی پئی دس دی اے
    روئے تسی وی او، روئے اسیں وی آں

    اس نظم کی سماعت پر حاضرین مشاعرہ بے اختیار رونے لگے۔ اس وقت مشاعرے میں پنڈت جواہر لعل نہرو (وزیر اعظم بھارت )بھی موجود تھے، انہوں نے استاد دامن سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مستقل طور پر بھارت میں قیام فرمائیں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ اب میرا وطن پاکستان ہے میں لاہور ہی میں رہوں گا بے شک جیل ہی میں کیوں نہ رہوں ۔
    محب وطن

    اس محب وطن شاعر نے ساری زندگی کسمپرسی کی حالت میں گزاری مگر مرتے دم تک اپنے وطن سے محبت کے گیت گاتا رہا۔ اس دھرتی کو نفرتوں، بے ایمانیوں اور عیاریوں سے پاک کرنے کے لیے محبتوں کے پھول بکھیرتا رہا اور ان برائیوں کی علانیہ نشان دہی اور مذمت کر تے رہا۔ استاد دامن نے آزادی کے بعد رونما ہونے والے سیاسی زوال پر سیا ست دانوں کی کوتاہیوں کی نشاندی کرتے ہوئے ان پر بھرپور تنقید کی اور عوامی شعور کو بیدار کیا۔ وہ وطن عزیر کی ترقی کے خواہاں تھے۔ اس ملک کے دن بدن زوال کی تصویر کشی کرتے ہوئے استاد دامن کہتے ہیں : بھج بھج کے وکھیاں چور ہوئیاں
    مڑ کے و یکھیا تے کھوتی بوہڑ ہیٹھاں استاد دامن اپنی شاعری میں زبان کے تکلف سے ہٹ کر اپنے خیالات اور نظریات کے پرچار پر زیادہ زور دیتے۔ وہ عام بول چال کی زبان میں اپنا خیال پیش کرکے سامعین و قارئین کے دلوں کی گہرائیوں کو چھولیتے۔ یہی ان کا مدعا تھا اور یہی ان کا مقصد حیات کہ بات دل سے نکلے اور دل پر اثر کرے۔ اس مقصد میں انہیں بھر پور کا میابی حاصل ہو ئی ۔
    پنجاب کی ثقافت

    استاد دامن نے پنجابی شاعری کے ذریعے پنجاب کی ثقافت کے تمام رنگوں کو اجاگر کیا۔ پنجاب کی ثقافت سے مزین ان کی لوک شاعری نے لوگوں کو خصوصی طور پر اپنی طرف متوجہ کیا۔ ان کے لہجے میں طنز اور مزاح تھا۔ انہوں نے مزاح کے انداز میں لوگوں کو معاشر تی برائیو ں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے ہمیشہ سچ کی تائید ا ور جھوٹ کی تردید کی ۔
    موضوعات

    استاد دامن کی شاعری میں لوک رنگ، تصوف، سیاسی موضوعات، روایتی موضوعات کے علاوہ روز مرہ زندگی کا ہر رنگ ملتا ہے۔ ان کی شاعری حقیقت نگا ری اور فطر ت نگاری کی خوبیوں سے مالامال ہے اور انسانی زندگی کی خوبصوت عکاس ہے۔ استاد دامن کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف اس عہد کے عظیم اور منفرد شاعر فیض احمد فیض نے ایک نجی محفل میں یہ کہہ کر کیا کہ میں پنجابی میں صرف اس لیے شاعری نہیں کرتا کہ پنجابی میں شاہ حسین ‘وارث شاہ اور بلھے شاہ کے بعد استاد دامن جیسے شاعر موجود ہیں۔ بلاشبہ استاد دامن پنجابی ادب کا انمول خزانہ ہے ۔
    کتاب

    استاد دامن کی ایک خوبی ان کے حافظے کی تیزی تھی۔ ان کی یاد داشت بہت زیادہ تھی۔ جب قیام پاکستان کے بعد کچھ شر پسند عناصر نے ان کی ذاتی لائبریری اور دکان کو آگ لگا دی تو ان کی ذاتی تحریریں ‘ہیر کا مسودہ جسے وہ مکمل کر رہے تھے اور دوسری کتابیں جل کر راکھ ہو گئیں تو انہوں نے دل برداشتہ ہو کر اپنا کلام صفحات پر محفوظ کر نا چھو ڑدیا اور صرف اپنے حافظے پر بھر وسہ کر نے لگے۔ اس وجہ سے ان کا زیادہ تر کلام ضائع ہو گیا لیکن ان کی یاد میں قائم ہو نے والی استاد دامن اکیڈمی کے عہد یداروں نے بڑی محبت وکاوش سے ان کے مختلف ذہنوں میں محفوظ اور ادھر ادھر بکھر ے ہو ئے کلام کو یکجا کر کے دامن وے موتی کے نام سے ایک کتاب ہمارے سامنے پیش کی ۔استاد دامن اکیڈمی کی اس کاوش سے جہاں پنجابی ادب کو بہت فائدہ ہوا اور اس کے شعری سرمائے میں اضافہ ہوا وہاں شعری ذوق رکھنے والے افراد کو بھی استاد دامن کی شاعری سے فیض یاب ہو نے کا مو قع ملا۔ استاد دامن نے فلموں کے لیے بھی گیت لکھے۔ ان کا فلم غیرت تے نشان میں شامل یہ گیت بہت مشہور ہو ا۔ منیو ں دھرتی قلعی کرا دے میں نچاں ساری رات
    نہ میں سونے دی نہ چاندی دی میں پتل بھری پرات
    پنجابی کی خدمت

    استاد دامن، پنجابی کے علاوہ اردو سنسکر ت ‘ہندی اور انگریزی زبانوں پر بھی دسترس رکھتے تھے لیکن انہوں نے وسیلہ اظہار اپنی ماں بولی زبان پنجابی ہی کو بنایا۔ استاد دامن بلھے شاہ اکیڈمی کے سرپر ست ‘مجلس شاہ حسین کے سرپرست اور ریڈ یو پاکستان شعبہ پنجابی کے مشیر بھی تھے۔ ان مختلف حیثیتوں میں انہوں نے پنجابی زبان وادب کی ناقابل فر امو ش خدمت سر انجام دیں ۔
    فیض اور جالب

    استاد دامن کہا کرتے تھے کہ اگر کسی نے میرا اردو ایڈیشن دیکھنا ہو تو وہ حبیب جالب کو دیکھ لے۔ استاد دامن کو فیض اور جالب سے محبت تھی۔ 80 کی دہائی میں جب ان کے منہ بولے بیٹے سٹارعلائوالدین کا انتقال ہوا تو گویا استاد دامن کی کمر ٹوٹ گئی۔ بستر پر ہی پڑے رہتے ،کبھی ہسپتال اور کبھی گھر، پھر تھوڑے ہی عرصے کے بعد فیض صاحب بھی خالق حقیقی سے جاملے۔ استاد سے محبت کرنے والوں نے لاکھ روکا وہ نہ مانے اور اپنے یار دیرینہ کے جنازے پر پہنچ گئے۔ لوگوں نے استاد دامن کو پہلی بار دھاڑیں مارتے ہوئے دیکھا۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ گویا تقسیم سے لے کر آج تک ٹوٹنے والی ساری قیامتوں کی اذیت فیض صاحب کے جانے کے بعد ہی ان تک آئی ہے۔ فیص صاحب کا انتقال 20 نومبر 1984ء کو ہوا اور اسی شام دامن کی ہمت بھی جواب دے گئی۔ ایسے ٹوٹے کے صرف تیرہ دن کے وقفے کے بعد فیض صاحب کے قدموں کے نشان چنتے چنتے رہی ملک عدم ہو گئے۔

    استاد دامن، اردو جاسوسی ادب کے عظیم مصنف ابن صفی صاحب کو بھی پڑھا کرتے تھے۔ نئے افق میگزین 1981 کے ایک شمارے میں ذکر ہے کہ محمد بدر منیر صاحب نے جب ان سے ملاقات کی تو استاد دامن نے ابن صفی صاحب کے ایک کردار کیپٹن حمید کا ذکر کیا تھا۔
    انتقال
    عوام سے پیار کرنے والا یہ عوامی شاعر 3 دسمبر 1984 کو اس دار فانی سے کوچ کر گیا اور اپنی وصیت کے مطابق اسی شاہ حسین (مادھو لال حسین)مزار کے احاطے میں واقع قبر ستان میں دفنایا گیا جس نے پنجاب کو جذب و مستی کی نئی کیفیات سے روشناس کیا تھا۔۔!!!

  • مشتاق احمد یوسفی کی ہجرت بھارت کیلیے بڑا نقصان تھا

    مشتاق احمد یوسفی کی ہجرت بھارت کیلیے بڑا نقصان تھا

    مشتاق احمد يوسفی کی پیدائش
    مشتاق احمد یوسفی (4 ستمبر 1921ء – 20 جون 2018ء) اردو کے بھارتی نزاد پاکستانی مزاح نگار تھے۔ ان کی ولادت تب کے ہندوستان اور اس وقت کے بھارت میں ہوئی مگر انہوں نے بطور مزاح نگار خود کو پاکستانی کہلوانا زیادہ پسند کیا اور تقسیم ہند کے بعد بھارت کو جو نقصان ہوا ان میں مشتاق احمد یوسفی کا ہجرت کر جانا بھی ہے۔ یوسفی بہت سے قومی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے صدر بھی رہے۔ سنہ 1999ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں ستارہ امتیاز ملا پھر سنہ 2002ء میں پاکستان کا سب سے بڑا تعلیمی اعزاز نشان امتیاز سے نوازا گیا۔ مشتاق احمد یوسفی بڑے نستعلیق انسان تھے۔ وہ بینکر تھے۔ عوامی اور تعلقات عامہ کے آدمی نہیں تھے۔ وہ لکھتے کم تھے لیکن معیار پر نظر رکھتے تھے۔

    مشتاق احمد یوسفی 4 ستمبر 1923ء کو ہندوستان کے شہر جے پور میں ایک تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد عبد الکریم خان یوسفی جے پور بلدیہ کے صدر نشین تھے اور بعد میں جے پور قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر مقرر ہوئے۔ مشتاق احمد یوسفی نے راجپوتانہ میں اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی اور بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں آگرہ یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم اے کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری لی۔ تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان سرحد پار کے شہر کراچی میں منتقل ہو گیا۔ وہ سنہ 1950ء میں مسلم کمرشیل بینک سے متعلق ہوئے اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ سنہ 1965ء میں الائڈ بینک میں بحیثیت مینیجنگ ڈائریکٹڑ مقرر ہوئے۔ سنہ 1974ء میں یونائٹیڈ بینک کے صدر اور 1977ء میں پاکستان بینکنگ کونسل کے صدر نشین بنے۔ بنکاری کے شعبہ میں ان کی غیر معمولی خدمات پر انہیں قائد اعظم میموریل تمغا عطا ہوا۔
    خود نوشت خاکہ

    مشتاق احمد یوسفی نے اپنے اوپر بھی کافی کچھ لکھا ہے۔ یہ ان کی خاص بات تھی کہ انہوں نے دوسروں کے ساتھ خود کو بھی نہیں بخشا ہے۔ چنانچہ وہ چراغ تلے کے مقدمہ میں خود کا تعارف یوں کرواتے ہیں:

    نام: سرورق پر ملاحظہ فرمائیے
    خاندان: سو پشت سے پیشہ آبا سپہ گری کے سوا سب کچھ رہا ہے
    تاریخ پیدائش: عمر کی اس منزل پر آ پہنچا ہوں کہ اگر کوئی سنہ ولادت پوچھ بیٹھے تو اسے فون نمبر بتا کر باتوں میں لگا لیتا ہوں۔ اور یہ منزل بھی عجیب ہے۔ بقول صاحب “کشکول“ ایک وقت تھا کہ ہمارا تعارف بہو بیٹی قسم کی خواتین سے اس طرح کرایا جاتا تھا کہ فلاں کے بیٹے ہیں۔ فلاں کے بھانجے ہیں اور اب یہ زمانہ آگیا ہے کہ فلاں کے باپ ہیں اور فلاں کے ماموں۔ عمر رسیدہ پیش رو زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اس کے آگے مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں۔
    پیشہ: گوکہ یونیورسٹی کے امتحانوں میں اول آیا، لیکن اسکول میں حساب سے کوئی طبعی مناسبت نہ تھی۔ اور حساب میں فیل ہونے کو ایک عرصے تک اپنے مسلمان ہونے کی آسمانی دلیل سمجھتا رہا۔ اب وہی ذریعہ معاش ہے۔ حساب کتاب میں اصولاً دو اور دو چار کا قائل ہوں۔ مگر تاجروں کی دل سے عزت کرتا ہوں کہ وہ بڑی خوش اسلوبی سے دو اور دو کو پانچ کر لیتے ہیں۔
    پہچان: قد: پانچ فٹ ساڑھے چھ انچ (جوتے پہن کر)
    وزن: اوور کوٹ پہن کر بھی دبلا دکھائی دیتا ہوں۔ عرصے سے مثالی صحت رکھتا ہوں۔ اس لحاظ سے کہ جب لوگوں کو کراچی کی آب و ہوا کو برا ثابت کرنا مقصود ہو تو اتمام حجت کے لیے میری مثال دیتے ہیں۔
    جسامت: یوں سانس روک لوں تو 38 انچ کی بنیان بھی پہن سکتا ہوں۔ بڑے لڑکے کے جوتے کا نمبر 7 ہے جو مجھے بھی فٹ آتا ہے۔
    حلیہ: اپنے آپ پر پڑا ہوں۔ پیشانی اور سر کی حد فاصل اڑ چکی ہے۔ لہذا منہ دھوتے وقت یہ سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔ ناک میں بذات کوئی نقص نہیں مگر دوستوں کا خیال ہے کہ بہت چھوٹے چہرے پر لگی ہوئی ہے۔
    پسند: مرزا غالب، ہاکس بے، بھنڈی، پھولوں میں، رنگ کے لحاظ سے سفید گلاب اور خوشبوؤں میں نئے کرنسی نوٹ کی خوشبو بہت مرغوب ہے۔ میرا خیال ہے کہ سرسبز تازہ تازہ اور کرارے کرنسی نوٹ کا عطر نکال کر ملازمت پیشہ حضرات اور ان کی بیویوں کو مہینے کی آخری تاریخوں میں سنگھایا جائے تو گرہستی زندگی جنت کا نمونہ بن جائے۔ پالتو جانوروں میں کتوں سے پیار ہے۔ پہلا کتا چوکیداری کے لیے پالا تھا۔ اسے کوئی چرا کر لے گیا۔ اب بر بنائے وضع داری پالتا ہوں کہ انسان کتے کا بہترین رفیق ہے۔ بعض تنگ نظر اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمان کتوں سے بلاوجہ چڑتے ہیں حالانکہ اس کی ایک نہایت معقول اور منطقی وجہ موجود ہے۔ مسلمان ہمیشہ سے ایک عملی قوم رہے ہیں۔ وہ کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کرکے کھا نہ سکیں۔ گانے سے بھی عشق ہے۔ اسی وجہ سے ریڈیو نہیں سنتا۔
    چڑ: جذباتی مرد، غیر جذباتی عورتیں، مٹھاس، شطرنج۔
    مشاغل: فوٹو گرافی، لکھنا پڑھنا
    تصانیف: چند تصویران بتاں، چند مضامین و خطوط
    کیوں لکھتا ہوں: ڈزریلی نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ جب میرا جی عمدہ تحریر پڑھنے کو چاہتا ہے تو ایک کتاب لکھ ڈالتا ہوں۔ رہا سوال کہ یہ کھٹ مٹھے مضامین طنزیہ ہیں یا مزاحیہ یا اس سے بھی ایک قدم آگے یعنی صرف مضامین، تو یہاں صرف اتنا عرض کرنے پر اکتفا کروں گا کہ وار ذرا اوچھا پڑے یا بس ایک روایتی آنچ کی کسر رہ جائے تو لوگ اسے بالعموم طنز سے تعبیر کرتے ہیں، ورنہ مزاح ہاتھ آئے تو بت، نہ آئے تو خدا ہے۔

    پھر جب سرگزشت میں اپنا تعارف کرایا تو انداز بدل گیا گو کہ اس بار بھی وہ مزاح کی پھلجھڑیاں بکھیرتے نظر آتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

    رنگ: سبھی رنگ پسند ہیں، سو کے نوٹوں کے رنگ بدلتے رہتے ہیں۔
    پھول: تیز مہکار چہکار نہیں بھاتیں، رات کی رانیاں، دونوں قسم کی۔ دور کسی اور کے انگن میں ہی سے مہک دیتی اچھی لگتی ہیں۔
    حسن: جہاں تک حسن کا تعلق ہے، وغیرہ وغیرہ پسند ہے۔
    حلیہ: آئینہ دیکھتا ہوں تو قادر مطلق کی صناعی پر جو ایمان ہے وہ کبھی متزلزل ہو جاتا ہے۔
    خاندان اور بچپن: اس صدی کی تیسری دہائی میں ایک خاتون نے جو اردو میں معمولی شد بد رکھتی تھی، اس زمانے کا مقبول عام ناول "شوکت آرا بیگم” پڑھا، جس کی ہیروئن کا نام شوکت آرا اور معاون کردار کا نام فردوس تھا۔ ان کے جب بیٹیاں ہوئیں تو دونوں کے یہی نام رکھے گئے۔ ایک کردار کا نام ادریس اور دوسرے خدائی خوار کا اچھن تھا۔ یہ دونوں انہوں نے اپنے چھوٹے بیٹے کو بطور نام اور عرفیت بخش دیے۔ بچے کل چار دستیاب تھے جبکہ ناول میں ہیرو کو چھوڑ کر ابھی ایک اور اہم کردار پیارے میاں نامی ولن باقی رہ گیا تھا۔ چنانچہ ان دونوں ناموں اور دہرے رول کا بوجھ بڑے بیٹے کو ہی اٹھانا پڑا جس کا نام ہیرو کے نام پر مشتاق احمد رکھا گیا تھا۔ یہ سادہ لوح خاتون میری ماں تھی۔ بحمداللہ 1 ناول کی پوری کاسٹ، باستثنائے شوکت آرا، جس کا طفولیت میں ہی انتقال ہو گیا تھا، زندہ و سلامت ہے۔ والدہ کی بڑی خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں اور عرب جا کر بدووں کا مفت علاج کروں، اس لیے کہ ناول کے ہیرو نے یہی کیا تھا۔ مولا کا بڑا کرم ہے کہ ڈاکٹر نہ بن سکا۔ ورنہ اتنی خراب صحت رکھنے والے ڈاکٹر کے پاس کون پھٹکتا۔ ساری عمر کان میں اسٹھیسس کوپ لگائے اپنے ہی دل کی دھڑکنیں سنتے گزری۔ البتہ ادھر دو سال سے مجھے سعودی عرب، بحرین، قطر، عمان اور عرب امارات کی خاک نہیں تیل چھاننے اور شیوخ کی خدمت کی سعادت نصیب ہوتی رہی ہے۔ ناول کے بقیہ پلاٹ کا بے چینی سے انتظار کر رہا ہوں۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ اردو ادب کبھی زندگی پر اثر انداز نہیں ہوا وہ ذرا دیدہ عبرت نگاہ سے اس عاجز کو دیکھیں۔ یہ کچا چٹھا۔

    ادبی کام

    چراغ تلے 1961ء میں چھپی اور خاکم بدہن 1969ء میں، جب کہ زرگزشت 1976ء میں اور ان تین کتابوں کے ذریعے انہوں نے شگفتہ نثر نگاری کا جو اعلی معیار قائم کیا اس کا نمونہ دور دور تک کہیں اور نظر نہیں آتا تھا۔ آبِ گم، جو 1990ء میں چھپی ناول کی طرح مقبول ہوئی۔ یہ ایسی کتابیں تھیں جن کے وسیلے سے یوسفی صاحب اردو ادب کا ایک مستقل باب ہو چکے تھے۔ ایک اور کتاب بھی آئی تھی یوسفی صاحب کی، شامِ شعرِ یاراں۔ یہ کتاب 2014ء میں منظر عام پر آئی جو ان کی متفرق تحریروں کو جہاں تہاں سے جمع کرکے مرتب کر لی گئی تھی۔

    شامِ شعرِ یاراں جب شائع ہوئی تو ان کے مداحوں کو اس سے مایوسی ہوئی کیونکہ ان کے شائقین کے سامنے ان کا سابقہ معیار تھا جس کے وہ نئی کتاب میں منتظر تھے۔ شامِ شعرِ یاراں یوسفی کے مانوس اسلوب کے معیار پر نہیں اتری تھی۔ دراصل یہ آخری کتاب ان کے مضامین اور بعض تقریروں کا مجموعہ ہے۔
    بجھی بجھی شامِ شعر یاراں

    یوسفی کی آخری تصنیف کو ربع صدی گزر چکی تھی۔ چونکہ ان کے مداحوں کو ان کا چکسا لگ چکا تھا چنانچہ وہ آنے والی نئی تصنیف کا بڑی بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ مشتاق احمد کی پرانی کتابیں، ان میں موجود گدگداتے جملے اور ان کا منفرد لب و لہجہ والا طنز و مزاح کچھ ایسی باتیں تھیں جو سب کو شوق انتظار میں مزہ دے رہی تھیں۔ کچھ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ شاید اس میں آب گم والا معیار ہو یا چونکہ 25 برس بعد کچھ لا رہے ہیں تو اس سے بھی بڑھ کر کچھ ہو۔ مگر جب کتاب منظر عام پر آئی تو امیدوں کے سارے ارمان پانی میں بہ گئے۔ یہ کتاب کیا تھی تقریروں کا مجموعہ تھی اور پرانی کتابوں کے ڈھیروں اقتباس درج تھے۔ خدا جانے یوسفی صاحب نے اس کتاب کو کس نیت سے شائع کیا تھا مگر اس میں ان کا وہ معیار نظر نہ آیا جس کے لیے وہ مشہور تھے۔ ظفر سید بی بی سی اردو میں لکھتے ہیں کہ:
    ” کتاب آنے سے پہلے سب سوچتے تھے کہ اس میں یوسفی صاحب کو شاید ’آبِ گم‘ کے فلک بوس معیار کو ایک بار پھر چھونے میں مشکل پیش آئے گی۔ لیکن دلِ خوش فہم کے ایک گوشے میں ایک کرن یہ بھی پنپتی رہی کہ 25 سال بعد کتاب لا رہے ہیں تو کیا پتہ، اس میں کچھ چمتکار دکھا ہی دیں۔

    ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ یوسفی صاحب کے اندر کا نقاد بہت سخت ہے، جب تک تحریر خود ان کے کڑے پیمانے پر سولہ آنے نہ اترے، اسے دن کی ہوا نہیں لگنے دیتے۔ ان کا مسودے کو پانچ سات سال تک ’پال میں رکھنے‘ والا فقرہ تو ویسے ہی بڑا مشہور ہے۔ کچھ امیدیں اس وجہ سے بھی بندھیں کہ افتخار عارف نے کراچی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یوسفی صاحب نے گذشتہ عشروں میں سات سات سو صفحے کے دو سفرنامے، چار سو صفحے کا ایک ناول اور پتہ نہیں کیا کیا لکھ رکھا ہے، لیکن وہ انھیں شائع نہیں کروا رہے کہ ایک آدھ آنچ کی کسر ہے۔ بالآخر دکانوں کے چکر لگا لگا کر کتاب ہاتھ آئی تو پڑھ کر امیدوں کے محل زمین پر آ رہے۔ کتاب کیا ہے، طرح طرح کی الم غلم تحریریں جمع کر کے بھان متی کا کنبہ جوڑ رکھا ہے۔ اگر کالموں کے کسی مجموعے کی تقریبِ رونمائی میں تقریر کی ہے تو اسے بھی کتاب کی زینت بنا دیا ہے، کسی مرحوم کی یاد میں تاثرات پیش کیے تو کتاب میں درج کر ڈالے، سالانہ مجلسِ ساداتِ امروہہ میں اظہارِ خیال کیا تو لگے ہاتھوں اسے بھی شامل کر دیا اور پھر تکرار ایسی کہ خدا کی پناہ۔

    تصانیف

    چراغ تلے (1961ء)
    خاکم بدہن (1969ء)
    زرگزشت (1976ء)
    آب گم (1990ء)
    شامِ شعرِ یاراں (2014ء)

    یوسفی پارے

    مشتاق احمد یوسفی نے اپنی کتابوں بے شمار ایسے جملے کہے لکھے ہیں جو ضرب المثل بن گئے۔ لوگ انکو مزین اور رنگین تصاویر میں سجا کر فیس بک پر شیئر کرتے ہیں۔ واٹس ایپ پر اسٹیٹس لگاتے اور اقوال زریں کی طرح ان کو پھیلاتے ہیں۔ ان کے چند اقوال درج ذیل ہیں:

    "ادھر کچھ ماہ قبل ایک شوخ چنچل لڑکی ہمیں ملی۔ آدھ پون گھنٹے کی گفتگُو کے بعد کہنے لگی کہ یُوسفی صاحب! بات چیت میں تو آپ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں مگر تحریر میں بالکل لُچّے لگتے ہیں”۔ ( مُشتاق احمد یوسفی)
    کسی لڑکی نے پوچھا کہ "اپنی کمپنی انجوائے کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟”

    بولے: "ایسے دوست بنائیے اور ایسی کتابیں پڑھیے کہ جو آپ کو سوچنے کی تحریک دیں۔” لڑکی بولی "اور اگر ایسے دوست نہ ہوں تو؟” "ایسی حالت میں عام طور سے لڑکیاں شادی کر لیتی ہیں۔”

    بعض مردوں کو عشق ميں محض اس لیے صدمے اور ذلتيں اُٹھانی پڑتی ہيں کہ ”محبت اندھی ہوتی ہے” کا مطلب وہ يہ سمجھ بيٹھتے ہيں کہ شايد عورت بھی اندھی ہوتی ہے۔
    مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔
    وہ چچا سے پھوپا بنے اور پھوپا سے خسر الحذر۔
    پاکستان کی افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سچ نکلتی ہیں۔
    مسلمان کسی ایسے جانوار کو محبت سے نہیں پالتے جسے وہ ذبح کر کے کھا نہ سکیں۔
    آدمی ایک بار پروفیسر ہو جائے تو عمر بھر پروفیسر ہی رہتا ہے خواہ بعد میں سمجھداری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے۔
    سردی زیادہ اور لحاف پتلا ہو تو غریب غربا منٹو کے افسانے پڑھ کر سو جاتے ہیں۔
    انسان واحد حیوان ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے۔
    میرا تعلق تو اس بھولی بھالی نسل سے رہا ہے جو خلوصِ دل سے سمجھتی ہے کہ بچے بزرگوں کی دعا سے پیدا ہوتے ہیں۔
    الحمد للہ بھری جوانی میں بھی ہمارا حال اور حلیہ ایسا نہیں رہا کہ کسی خاتون کے ایمان میں خلل واقع ہو۔
    اسلام آباد درحقیقت جنت کا نمونہ ہے، یہاں جو بھی آتا ہے حضرت آدم کی طرح نکالا جاتا ہے۔
    کرنل محمد خان سے: ’کرنل صاحب، سفرنامے میں نازنینوں کی تعداد آپ کی ذاتی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے، آخر بچارے مقامی گوروں کا بھی حقِ بدچلنی بنتا ہے۔‘
    پرانا مقدمے باز آدھا وکیل ہوتا ہے اور دائم المرض آدمی پورا عطائی۔
    طوطے سے مستقبل کا حال پوچھنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہمیشہ ایک اور نیک فال نکالتا ہے، جس کا سبب یہ کہ دماغ کی بجائے چونچ سے کام لیتا ہے۔
    (جنرل ضیاء الحق اپنی تقریروں میں) چنگیزی طرزِ ادا سے مزاح کا ناس مار دیتے تھے، کیوں کہ مزاح ان کے مزاح، منصب، مونچھ، سری جیسی ابلواں آنکھوں اور وردی سے لگّا نہیں کھاتا تھا۔

    اعزازات

    ستارہ امتیاز: صدر پاکستان کے ہاتھوں سے سنہ 1999ء میں ملا۔
    ہلال امتیاز: صدر پاکستان کے ہاتھوں سے سنہ 2002ء میں ملا۔
    قائد اعظم
    پاکستان اکیڈمی برائے خطوط انعام سنہ 1990ء: سب سے بہترین کتاب کے لیے۔
    ہجرہ انعام
    آدم جی انعام: سب سے بہترین کتاب کے لیے۔

    وفات
    20 جون، سنہ 2018ء کو کراچی میں وفات ہوئی، کل 94 سال کی عمر پائی۔ 20 جون کو سلطان مسجد کراچی میں نماز جنازہ کے بعد ان کو سپرد خاک کیا گیا۔۔!!!

  • سرکل پولیس بھلوال کی بڑی کاروائی، 7 افراد کا گروہ گرفتار

    سرکل پولیس بھلوال کی بڑی کاروائی، 7 افراد کا گروہ گرفتار

    سرگودہا،بھلوال(نمائندہ باغی ٹی وی) سرکل پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑی کاروائی، ڈکیتی اور راہزانی کی وارداتوں میں ملوث دو گروہوں کے سات افراد کو گرفتار کرلیا تفصیلات کے مطابق بھلوال سرکل میں ڈکیتی اور راہزنی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او سرگودھا نے ڈی ایس پی بھلوال ملک غلام عباس اور ایس ایچ اوتھانہ بھیرہ ذیشان اقبال کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی جنھوں نے ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں ملوث دو گرہوں کے سات افراد کو گرفتار کرلیا ملزمان نے گیارہ سنگین وارداتوں کا انکشاف کیا ہے ملزمان کے قبضہ سے موٹرسائیکل، لاکھوں روپے نقدی اور اسلحہ برآمد کیا ہے پولیس ٹیم کی کامیابی پر ڈی پی اوسرگودھا حسن مشتاق سکھیرا نے نقد انعامات کا اعلان کیا ہے۔

  • بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکینڈری ایجوکیشن سرگودہا نے نتائج کا اعلان کر دیا

    بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکینڈری ایجوکیشن سرگودہا نے نتائج کا اعلان کر دیا

    سرگودھا(نمائندہ باغی ٹی وی )بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے نتائج کا اعلان کردیا تفصیلات کے مطابق
    امتحان میں 53 ہزار 246 طلباء وطالبات نے شرکت کی جن میں سے 35 ہزار 523 نے کامیابی حاصل کی انٹرمیڈیٹ امتحانات میں کامیابی کا تناسب 71فیصد رہا طالبات کی کامیابی کا تناسب 69.75 فیصد اور طلبہ 59.56 فیصد کامیاب ہوئے جبکہ سرگودہا بورڈ میں مجموعی طور پر پہلی اور تیسری پوزیشن پنجاب گروپ آف کالجز کے طلباء نے حاصل کی اور دوسری پوزیشن گورنمنٹ کالج بھکر کے طالبعلم نے 1052 نمبر لے کر حاصل کی

  • غلام محمد قاصرؔ صاحب “ کا یومِ ولادت…*

    غلام محمد قاصرؔ صاحب “ کا یومِ ولادت…*

    *آج -۴؍ستمبر ۱۹۴۱*

    *پاکستان کے مقبول،ممتاز، ترقی پسند اور معروف شاعر” غلام محمد قاصرؔ صاحب “ کا یومِ ولادت…*

    نام *غلام محمد قاصر* اور *قاصرؔ* تخلص ہے۔ *۴؍ستمبر ۱۹۴۱ء کو پہاڑپور(ڈیرہ اسماعیل خاں)* میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۵۸ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ پہلے اپنے طور پر فاضل اردو اور پھر ایم اے (اردو) کے امتحانات پاس کیے۔ میٹرک کے بعد ٹیچر کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا۔ ۱۹۷۵ء سے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مردان میں شعبہ اردو سے وابستہ رہے۔ *۲۰؍فروری۱۹۹۹ء* کو *پشاور* میں انتقال کرگئے۔ان کا مجموعۂ کلام *’’تسلسل‘‘* کے نام سے شائع ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر تصانیف کے نام یہ ہیں:
    *’’دریائے گمان‘‘، ’’ آٹھواں آسمان بھی نیلا ہے‘‘* ۔ انھیں صدارتی ایوراڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔
    *بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:353*

    🍁 *ممتاز شاعر غلام محمد قاصرؔ کے یومِ ولادت پر منتخب اشعار بطورِ خراجِ عقیدت…* 🍁

    بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا
    وہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا

    پھر وہ دریا ہے کناروں سے چھلکنے والا
    شہر میں کوئی نہیں آنکھ جھپکنے والا

    *لکھتا ہوں تو پوروں سے دل تک اک چاندنی سی چھا جاتی ہے*
    *قاصرؔ وہ ہلال حرف کبھی ہو پائے نہ ماہِ منیر تو کیا*

    پانی تو ہے کم نقل مکانی ہے زیادہ
    یہ شہر سرابوں میں بسانا ہی نہیں تھا

    *محبت کی گواہی اپنے ہونے کی خبر لے جا*
    *جدھر وہ شخص رہتا ہے مجھے اے دل! ادھر لے جا*

    گلابوں کے نشیمن سے مرے محبوب کے سر تک
    سفر لمبا تھا خوشبو کا مگر آ ہی گئی گھر تک

    *کہ اسی کے نام تک آئے تھے یہ صدا و صدق کے سلسلے*
    *وہی شخص جس نے ترے لیے کیا قتل سوچتی رائے کا*

    کتابِ آرزو کے گم شدہ کچھ باب رکھے ہیں
    ترے تکیے کے نیچے بھی ہمارے خواب رکھے ہیں

    *بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو*
    *اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو*

    بن میں ویراں تھی نظر شہر میں دل روتا ہے
    زندگی سے یہ مرا دوسرا سمجھوتا ہے

    *تم یوں ہی ناراض ہوئے ہو ورنہ مے خانے کا پتا*
    *ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے*

    منجمد سجدوں کی یخ بستہ مناجاتوں کی خیر
    آگ کے نزدیک لے آئی ہے پیشانی مجھے

    نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے
    ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے تھے

    *لفظوں کا بیوپار نہ آیا اس کو کسی مہنگائی میں*
    *کل بھی قاصرؔ کم قیمت تھا آج بھی قاصر سستا ہے*

    خواب کہاں سے ٹوٹا ہے تعبیر سے پوچھتے ہیں
    قیدی سب کچھ بھول گیا زنجیر سے پوچھتے ہیں

    یہ بھی اک رنگ ہے شاید مری محرومی کا
    کوئی ہنس دے تو محبت کا گماں ہوتا ہے

    کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا
    اور ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    خوشبو گرفت عکس میں لایا اور اس کے بعد
    میں دیکھتا رہا تری تصویر تھک گئی

    نام لکھ لکھ کے ترا پھول بنانے والا
    آج پھر شبنمیں آنکھوں سے ورق دھوتا ہے

    *شوقِ برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے*
    *گھستے گھستے گھس گئے آخر کنکر جو نوکیلے تھے*

    *قاصرؔ نے تو دیکھا ہے اب تک فاقوں کا رقص*
    *جوہری طاقت کیا ہے جوہر میرؔ سے پوچھتے ہیں*

    🌹 *غلام محمد قاصرؔ* 🌹

  • وفاقی محتسب ریجنل آفس کی خوشاب میں کھلی کچہری

    وفاقی محتسب ریجنل آفس کی خوشاب میں کھلی کچہری

    سرگودہا،خوشاب(نمائندہ باغی ٹی وی)وفاقی محتسب سیکرٹریٹ ریجنل آفس فیصل آباد کے کنسلٹنٹ مشتاق احمد نے وفاقی حکومت کے زیر انتظام اداروں کی بد انتظامی اور لوگوں کی شکایات کے ازالہ کے لیے ضلع کونسل خوشاب میں ایک کھلی کچہری لگائی۔کھلی کچہری میں فیسکو،سوئی گیس، پوسٹ آفس،نیشنل بینک،نادرا،پی ایل آئی،ریلوئے اور ای او بی آئی وغیرہ کے خلاف سابقہ 28درخواستوں پر غور کیا گیا۔فوری حل طلب درخواستوں پر ضروری کاروائی کرکے نمٹا دی گئیں اور بقیہ درخواستوں پر فوری ایکشن لینے کی متعلقہ محکموں کو ہدایات دی گئیں۔کھلی کچہری میں نئی 5درخواستیں وصول ہوئیں جن میں ایف آئی ائے اور سوئی گیس کے خلاف ایک ایک اور فیسکو واپڈا کے خلاف تین درخواستیں تھیں۔ ان پر کاروائی کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو فوری ازالہ کے لیے ہدایات جاری کی گئیں۔کھلی کچہری میں فیسکو،گیس،پوسٹ آفس، نیشنل بینک،نادرا اور دیگر وفاقی محکموں کے افسران اور سائلین موجود تھے۔