سرگودھا۔ 19 اگست (اے پی پی) حکومت کی ایک سالہ کارکردگی قابل فخر ہے صحت انصاف کارڈ بے گھر افراد کیلئے اپنا گھر‘ معاشی استحکام‘ بہترین خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان دنیا بھر میں باوقار قوم کی حیثیت سے ابھرا ہے جس کا سہرا پی ٹی آئی کی حکومت کے سر ہے ان خیالات کا اظہار چیئرمین سرگودھا ڈویلپمنٹ اتھارٹی و سینئر راہنما پاکستان تحریک انصاف الحاج ممتاز اختر کاہلوں نے کیا انہوں نے کہا کہ حکومت نے کرپٹ افراد کیخلاف وعدے کے مطابق کاروائی کرتے ہوئے کرپٹ لوگوں کو جیلوں میں ڈالا جن لوگوں کی وجہ سے ملک معاشی طور پر کمزور ہوا تھا الحاج ممتاز اختر کاہلوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی نے اقتدار سنبھالا اس وقت سب سے اہم مسئلہ معاشی استحکام کا تھا حکومت کے مثبت اقدامات سے اب ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ آنیوالا ہر دن ملک کی خوشحالی کا دن ہوگا
Tag: #BaaghiTV #Strike #exclusive

تمام ضلعی اور تحصیل ہسپتالوں کے بچہ وارڈز میں تمام بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت
سرگودھا۔ 19 اگست (اے پی پی) حکومت پنجاب نے سرگودھا سمیت صوبہ بھر کے تمام ضلعی اور تحصیل ہسپتالوں کے بچہ وارڈز میں تمام بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے تمام متعلقہ ایم ایس صاحبان کو حکم دیا ہے کہ وہ بچہ وارڈ میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے تمام اقدامات بروئے کار لائیں اس میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائیگی۔ ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے تمام سرکاری ہسپتالوں کے نرسری وارڈ میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے احکامات جاری کئے ہیں تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات کو روکا جا سکے۔ عوام نے حکومت کے اس اقدام کو سراہا ہے

پلانٹ فار پاکستان ڈے کے تحت سرگودھا یونیورسٹی میں شجرکاری مہم جاری
سرگودھا۔ 19 اگست (اے پی پی) پلانٹ فار پاکستان ڈے کے تحت سرگودھا یونیورسٹی میں شجرکاری مہم جاری ہے۔ اس حوالے سے اساتذہ، طلبہ،یونیورسٹی افسران نے بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔اس سلسلہ میں طلبہ نے مختلف شعبہ جات میں پودے لگائے اور اس عزم کااعادہ کیا کہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کے لئے کلین اینڈ گرین پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہے اور ہر بشر دو شجر کے سلوگن کو اپنا کر ہم پاکستان کو سرسبز اور آلودگی سے پاک بنا سکتے ہیں۔ترجما ن سرگودھا یونیورسٹی کے مطابق کلین اینڈ گرین مہم کے تحت سرگودھایونیورسٹی، اُس کے ذیلی کالجزمیڈیکل اور زرعی کالج بشمول بھکر اور میانوالی کیمپس میں اب تک ہزاروں پودے لگائے جاچکے ہیں اور ان کے دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔

سرگودھا بورڈ، جماعت نہم کے سالانہ امتحا ن کے نتائج کا اعلان،کامیابی کا تناسب47.8فیصد رہا
سرگودھا۔ 19 اگست (اے پی پی) بورڈ آف انٹر میڈ یٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے جماعت نہم کے سالانہ امتحا ن 2019کے نتیجے کا اعلان کردیا۔ کنٹرولر امتحانات پروفیسر اکرم تارڑ نے جماعت نہم کے نتیجے کااعلان کیاہے۔ کنٹرولر امتحانات کے مطابق جماعت نہم کے سالانہ امتحان 2019میں مجموعی طور پر 100691امیدواروں نے حصہ لیا۔ جن میں سے 48164امیدوار کامیاب ہوئے اور یوں مجموعی طور پرکامیابی کا تناسب 47.8فیصد رہا۔ جماعت نہم کے لیے کل 285امتحانی مراکز قائم کئے گئے۔ امتحان میں 36423فی میل اور 48973میل امیدواروں نے حصہ لیا۔ کنٹرولر امتحانات نے بتایا کہ امیدوار بورڈ کی ویب سائٹ کے علاوہ اپنا رولنمبر موبائل فون سے 800290پر ایس ایم ایس کرکے معلوم کرسکتے ہیں۔ سیکر ٹر ی تعلیمی بورڑ پروفیسر سرفراز گجر نے کمپیوٹر کابٹن دبا کر جماعت نہم کے نتیجہ آن لائن کیا۔تقریب میں کنٹر ولر امتحانات پروفیسر اکرم تارڑ سمیت متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔

مثبت سرگرمیاں انسانی صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہیں
سرگودھا۔ 19 اگست (اے پی پی) مثبت سرگرمیاں جہاں انسانی صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہیں وہاں پر معلوماتی دورے بھی خوش آئند ہیں ان خیالات کا اظہار سرگودھا پریس کلب کے جنرل سیکرٹری رانا ساجد اقبال‘ سینئر نائب صدر شہزاد شیرازی‘ کوآرڈی نیٹر چوہدری عبدالحنان‘ فنانس سیکرٹری رانا محمد اشرف‘ ایگزیکٹو ممبر ارشد محمود ارشی‘ ممبر پریس کلب محمد اشرف قریشی سمیت دیگر نے سرگودھا پریس کلب کے زیر اہتمام سرگودھا کے صحافیوں کے شمالی علاقوں کے سیاحتی دورے کے بعد پریس کلب میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ سرگودھا پریس کلب میں مثبت سرگرمیوں کا آغاز خوش آئند ہے جس کا سہرا موجودہ پریس کلب کے عہدیداران کے سر ہے قبل ازیں صحافیوں نے اوچھالی‘ کھبیکھی‘ کنہٹی باغ کے علاوہ سوات‘ مینگورہ‘ سیدو شریف‘ ملم جبہ اور کالام کا سیاحتی دورہ کیا اور گزشتہ روز کلر کہار‘ کھیوڑہ‘ چوآ سیدن شاہ‘ قلعہ کٹاس راج کا دورہ کیا جہاں پر صحافیوں نے ان علاقوں کے بارے معلومات حاصل کیں اس طرح کے دورے جہاں معلومات میں اضافے کا موجب بنتے ہیں وہاں پر دنیا بھر کے سیاحوں کو پاکستان کے پُر کشش مقامات کے بارے میں آگاہی کا موجب بھی ہیں ا شہزاد شیرازی کی جانب سے کھیوڑہ میں صحافیوں کیلئے ریفریشمنٹ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

بی ایچ یو سرائے مہاجر جنگل کا روپ دھار گیا
سرگودہا،بھکر(نمائندہ باغی ٹی وی )چوک سرائے مہاجر ضلع بھکر محکمہ صحت بھکر اور ہسپتال عملہ کی نااہلی اورچشم پوشی کی وجہ سے بی ایچ یو سرائے مہاجرجنگل کا روپ دھار گیا ہرطرف خود روجھاڑیاں جڑی بوٹیاں اورجنگلی پودے اتنی بہتات کے ساتھ اگے ہوئے ہیں کہ ہسپتال میں کسی جنگل کا گماں ہوتا ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کسی جنگل میں آگیا ہو۔
دن میں بھی لوگ ہسپتال میں آنے سے گھبراتے ہیں۔
رہائشی کوارٹر بھوت بنگلہ کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ان کوارٹرز کے دروازے کھڑکیاں بھی عوام یاعملہ کے افراد اکھاڑ کر لے جاچکے ہیں۔
آئے روز ہسپتال کے دورے کرنے والے محکمہ صحت کے افسران کو بھی یہ جنگل نظر نہیں آسکا۔
محکمہ اور عملہ کی نااہلی کی وجہ سے ہسپتال تباہ حالی کا شکار ہے۔
عوامی حلقوں نےڈی سی بھکر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کا فوری نوٹس لیں اور ہسپتال میں صفائی کا انتظام کروائیں۔
پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز کے نتائج کا اعلان کل کیا جائے گا
سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی)ﭘﻨﺠﺎﺏ ﺑﮭﺮ ﮐﮯﺗﻤﺎﻡ ﺗﻌﻠﯿﻤﯽ ﺑﻮﺭﮈﺯ نہم 2019 ﮐﮯ ﺭﺯﻟﭧ ﮐﺎ ﺍﻋﻼن 19 اگست ﮐﻮ ﺩﻥ 10 ﺑﺞ ﮐﺮ 10 ﻣﻨﭧ ﭘﺮ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﺭﺯﻟﭧ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻓﻮﻥ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﮯ ﮔﺎ۔
ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺳﮯ ﺭﺯﻟﭧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﮱ اس دن ﺍﭘﻨﺎ ﺭﻭﻝ ﻧﻤﺒﺮ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ”ﺑﻮﺭﮈ ﮐﻮﮈ” ﭘﺮ ﺑﮭﯿﺠﯿﮟ ﮔﮯ۔
ﺗﻤﺎﻡ ﺑﻮﺭﮈ ﮐﮯ ﮐﻮﮈﺯ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ۔
ﻻﮨﻮﺭ 80029
ﮔﻮﺟﺮﺍﻧﻮﺍﻟﮧ 800299
ﺭﺍﻭﻟﭙﻨﮉﯼ 800296
ﻓﯿﺼﻞ ﺁﺑﺎﺩ 800240
ﺑﮩﺎﻭﻟﭙﻮﺭ 800298
ﺳﺮﮔﻮﺩﮬﺎ 800290
ﮈﯾﺮﮦ ﻏﺎﺯﯼ ﺧﺎﻥ 800295
ﺳﺎﮨﯿﻮﺍﻝ 800292
ﻣﻠﺘﺎﻥ 800293
معروف ٹی وی کمپئیر حسن رضوی ایک عہد لازوال
گئی رتوں کو بھی یاد رکھنا
نئی رتوں کے بھی باب پڑھنا
گلاب چہروں نے جو لکھی ہے
تمازتوں کی کتاب پڑھنا
…
حسن رضوی کا یومِ پیدائشمعروف شاعر، ٹی وی کمپیئر حسن رضوی ۱۸ ،اگست ۱۹۴۶ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج سے ایم کرنے کے بعد شاہ حسین کالج میں بحیثیت لیکچرار ملازمت کا آغاز کیا۔ اس کے بعد ایف سی کالج میں کچھ عرصہ پڑھانے کے بعد صدر شعبہ اردو مقرر ہوئے۔ حسن رضوی کا شمار بہترین کمپیئر اور اچھے شاعروں میں ہوتا تھا۔ ان کی غزلیں بھرپور محبت کرنے والے نوجوانوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کے گیتوں اور ترانوں میں حب الوطنی کا جذبہ بہت نمایاں اور تعمیری نظر آتا ہے۔
حسن رضوی کا انتقال ۲ فروری ۲۰۰۲ء کو لاہور میں ہوا۔
ان کے شعری مجموعے ’’کبھی کتابوں میں پھول رکھنا‘‘ ’’اس کی آنکھیں شام‘‘ ’’کوئی آنے والا ہے‘‘ اور سفر نامے ’’چینیوں کے چین میں‘‘ ’’دیکھا ہندوستان‘‘ اور ’’ہرے سمندروں کا سفر‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔
….
منتخب اشعار۔کتنے پیپل سوکھ گئے ہیں کتنے دریا خشک ہوئے
کتنے موسم بیت گئے ہیں بادل کو بہلانے میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی کتابوں میں پھول رکھنا‘ کبھی درختوں پہ نام لکھنا
ہمیں بھی ہے یاد آج تک وہ نظر سے حرف سلام لکھنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ہوا نے اس دھرتی پر اتنے رنگ بکھیرے ہیں
زردی مائل رنگ ہے میرا باقی سارے تیرے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔


17 اگست کی شام عوام ششدر رہ گئی کہ صدر مملکت جاں بحق ہو گئے ہیں
صدرجنرل محمد ضیاء الحق کا حادثہ
17 اگست 1988ء کی شام یہ خبر سن کر پوری قوم حیران، ششدر اور دم بخود رہ گئی کہ صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق اپنے رفقاء کے ساتھ ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔سابق صدر مملکت و سابق چیف آف آرمی سٹاف۔ 1924ء میں جالندھر میں ایک غریب کسان محمد اکبر کے ہاں پیدا ہوئے۔ جالندھر اور دہلی میں تعلیم حاصل کی۔ سن 1945ء میں فوج میں کمیشن ملا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران برما ، ملایا اور انڈونیشیا میں خدمات انجام دیں۔ پاکستان کی آزادی کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔ 1964ء میں لیفٹینٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پائی اور سٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر مقرر ہوئے۔ 1960ء تا 1968ء ایک کیولر رجمنٹ کی قیادت کی۔ اردن کی شاہی افواج میں خدمات انجام دیں ، مئی 1969ء میں آرمرڈ ڈویژن کا کرنل سٹاف اور پھر بریگیڈیر بنا دیا گیا۔ 1973ء میں میجر جنرل اور اپریل 1975ء میں لیفٹنٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کور کمانڈر بنا دیا گیا۔ یکم مارچ 1976ء کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاکستان آرمی کے چیف آف سٹاف مقرر ہوئے۔
مارشل لا1977ء میں پاکستان قومی اتحاد نے انتخابات میں عام دھاندلی کا الزام لگایا اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ایک ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یوں اس ملک میں سیاسی حالت ابتر ہو گئی۔ پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے درمیان کئی مرتبہ مذاکرات ہوئے اور 4 جولائی 1977 کی شام مارشل لا کا نفاذ کردیا گیا۔
انہوں نے آئین کو معطل نہیں کیا اور یہ اعلان کیا کہ آپریشن فیئر پلے کا مقصد صرف ملک میں 90 دن کے اندر انتخابات کروانا ہے ۔مارشل لاء کے نفاذ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو پر ایک شہری کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔ ہائیکورٹ نے ان کو سزائے موت سنائی اور سپریم کورٹ نے بھی اس کی توثیق کر دی۔ یوں 4 اپریل 1979ء کو بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔
درمنصب میں توثیقدسمبر 1984ء کو انہیں نے صدارتی ریفرنڈم کروایا جس میں کامیابی کے بعد انکے منصب صدارت میں توثیق ہوگئی۔
انتخاباتفروری 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات کرانے کااعلان کیا ۔ پیپلز پارٹی نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ۔ محمد خان جونیجو وزیر اعظم بنے ۔ باہمی اعتماد کی بنیاد پر 30 دسمبر 1985ء کو مارشل لا اٹھا لیا گیا اور بے اعتمادی کی بنیاد پر آٹھویں ترمیم کے تحت جنرل ضیاء الحق نے 29 مئی 1988ء کو محمدخان جونیجو کی حکومت برطرف کر دی۔
اسلامی قوانین
جنرل محمد ضیاء الحق نے سرقہ، ڈکیٹی ، زنا، ابتیاع شراب ، تہمت زنا، اور تازیانے کی سزاؤں سے متعلق حدود آرڈینس اور زکوۃ آرڈینس نافذ کیا۔ وفاقی شرعی عدالت قائم کی۔ اور قاضی عدالتیں قائم کیں۔
حکمت عملیسوویت روس کی افغانستان پر جارحیت کا مقصد پاکستان فتح کرکے بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنا تھا۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے روس اور بھارت کی جانب سے ملکی سلامتی کو لاحق خطرات کا احساس کرتے ہوئے اور افغانستان کی آزادی کے لیے کوشاں عوام کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔
بعض حلقوں کی جانب سے جنرل موصوف کو بدنام کرنے کےلیے امریکا کو افغان جہاد کا روح رواں ٹھہرایا جاتا ہے۔ لیکن امریکا صرف اپنی مطلب برآری کےلیے افغان جہاد میں شامل ہوا تھا۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو ضیاء الحق صاحب نے دہشت گردی کی فصل بوئی کیونکہ انہوں نے جو مدرسے بنوائے ان میں سے نکلنے والے مجاہد ان کی موت کے 13 سال بعد دہشت گرد بن گئے۔ ۔ساتھ ہی جنرل نے کشمیر میں جدجہد شروع کروایا۔ بھارت سے بنگلہ دیش کا بدلہ لینے کے لیے انہوں نے انڈیا میں سکھوں کی تحریک خالصتان شروع کروائی جو ب پھارت کے پنجاب اور کئی دیگر علاقوں پر مشتمل سکھوں کا ایک الگ ملک بنانے کے لئے تھی ۔ اس کی قیادت اس سکھ جنرل کے ہاتھ میں دی گئی جو بنگلہ دیش کی علیحدگی کے وقت بھارتی مسلح افواج کا کمانڈر تھا۔ اس دوران جنرل پر اسرار موت کا شکار ہو گئے۔بعض اطلاعات کے مطابق اس تحریک خالصتان کو ناکام بنانے میں بے نظیر بھٹو نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
صدرجنرل محمدضیاء الحق ایک نئے امریکی ٹینک کا تجربہ اور آزمائش دیکھنے کے لئے اسی صبح بہاولپور پہنچے تھے۔
پاکستان میں امریکا کے سفیر آرنلڈ رافیل اور ایک امریکی بریگیڈیئر جنرل واسم بھی ان کے ہمراہ تھے۔
امریکی ٹینک کی مشقیں اور فوجی یونٹوں کا معائنہ کرنے کے بعد جنرل ضیاء الحق شام 3 بجکر 48 منٹ پر پاکستان ائیر فورس کے ایک C-130 طیارے میں جسے صدر مملکت کے سفر کی وجہ سے ’’پاک ون‘‘ کا نام دیا گیا تھا واپس اسلام آباد روانہ ہوئے۔
اس طیارے میں جنرل ضیاء الحق کے ہمراہ جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل اختر عبدالرحمن، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل میاں محمد افضال اور متعدد دوسرے فوجی افسران بھی سفر کررہے تھے۔
ابھی اس طیارے نے ٹیک آف کیا ہی تھا کہ پرواز کے فقط تین منٹ بعد 4 بجکر 51 منٹ پر طیارے کا رابطہ کنٹرول ٹاور سے منقطع ہوگیا اور یہ طیارے ہوا میں قلابازیاں کھاتا ہوا زمین سے ٹکرا گیا۔
زمین پر گرتے ہی طیارے کے ہزاروں ٹکڑے ہوگئے اور ان میں آگ لگ گئی۔
اس کے ساتھ ہی 31 قیمتی جانیں بھی جل کر لقمۂ اجل بن گئیں۔
صدر مملکت اور ان کے رفقا کے فضائی حادثے میں ہلاک ہونے کی خبر پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔
اسی رات سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق خان ملک کے قائم مقام صدر بن گئے جنہوں نے جنرل اسلم بیگ کو چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کرنے کا اعلان کردیا۔ تین دن بعد 20 اگست 1988ء کو جنرل محمد ضیاء الحق کو اسلام آباد میں فیصل مسجد کے سایہ تلے دفن کردیا گیا۔
جنرل ضیاء الحق کے طیارے کے حادثہ کی تحقیقات کے لئے پاکستان فضائیہ نے ایک بورڈ آف انکوائری تشکیل دیا۔
اس بورڈ آف انکوائری نے جس کے سربراہ ائیرکموڈور عباس حسین مرزا تھے چند ہفتوں میں اپنی رپورٹ مرتب کرلی۔
رپورٹ کا واحد نتیجہ یہ تھا کہ ’’امکان یہ ہے کہ یہ تخریب کاری کا ایک گھنائونا واقعہ ہے جسے طیارے کے اندر سے روبکار لایا گیا اور جو آخر کار طیارے کے حادثے کا باعث بنا‘‘۔
ان کی حادثاتی کے بعد غلام اسحاق خان نگران صدر منتخب ہوئے۔ جنرل ضیاء الحق کی موت کے حوالے سے تحقیقات کا آغا ز بھی ہوا لیکن آج تک ان کی موت کے متعلق کوئی حقیقت سامنے نہیں آ سکی۔ طیارے میں چیرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل اختر عبدالرحمن سمیت سینئر فوجی افسران سوار تھے۔ امریکی سفیر آنرڈ رافیل اور امریکی جنرل ہربرٹ ویسم بھی حادثہ کے وقت طیارے میں موجود تھے جو ضیاالحق کے ہمراہ پلک جھپکنے میں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے۔
تحقیقاتواشنگٹن نے تحقیقات میں پاکستانیوں کی مدد کے لئے امریکی ایئر فورس کے افسران کی ایک ٹیم روانہ کی، لیکن دو اطراف نے مختلف نتائج اخذ کئے۔
امریکی نتائجمسز ایلی رافیل اور بریگیڈیئر جنرل ویسم کی بیوہ دونوں کو امریکی تفتیش کاروں کی طرف سے بتایا گیا کہ حادثے کی وجہ سی 130 کے ساتھ ایک عام میکانیکی مسئلہ تھا۔
پاکستانی نتائج
نظریاتطیارے کے حادثے کے تناظر میں بہت سی کہانیاں گردش کرتی رہیں۔ “جنرل محمد ضیاء الحق“ کے بیٹے اعجاز الحق ان لوگوں کی تلاش میں سرگرداں رہے جنہیں وہ کھل کر سبوتاژ اورسیاسی قتل کا ذمہ دار سمجھتے رہے۔ جس میں پاکستان اور امریکہ کے اعلیٰ سویلین اور فوجی حکام بھی ہلاک ہوئے۔ طیارے کے حادثے کے چند ہفتوں بعد پاکستانی حکام نے 365 صفحات پرمشتمل خفیہ رپورٹ کی 27 صفحات پر مشتمل خلاصہ پیش کیا، جس میں تفتیش کاروں نے طیارے کے میکانیکی نظام میں ممکنہ خرابیوں کے شواہد کا اظہار کیا تھا لیکن ملکی اورغیر ملکی ذرائع ابلاغ میں اس کے سازش ہونے کی کہانیوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ کچھ ذرائع ابلاغ اس شک کا اظہار کرتے رہے کہ امریکی سی آئی اے نے جنرل محمد ضیاء الحق کو ختم کرنے کے لئے آموں کی پیٹیوں میں اعصاب شکن گیس چھوڑ دی تھی۔ جبکہ دیگر یہ سمجھتے تھے کہ سوویت کے جی بی نے افغان مجاہدین کی حمایت کا جنرل محمد ضیاء الحق سے بدلہ لیا اسی طرح امریکی ” ورلڈ پالیسی جرنل“ نے بھارت میں سابق امریکی سفیر گنتھر ڈین کے حوالے سے لکھا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا جنرل محمد ضیاء الحق کے خاتمے میں ہاتھ تھا۔ بہرحال کبھی کوئی نتیجہ خیز اور حتمی بات سامنے نہیں آئی۔ آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل حمید گل، جنرل محمد ضیاء الحق کے قتل کو سی آئی اے کی سازش قرار دیتے ہیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق کے بڑے بیٹے اعجاز الحق نے آن ریکارڈ ضیاء مخالف گروپ الذوالفقار پر قتل کا الزام عائد کیا تھا۔ اس وقت اس گروپ کی قیادت بے نظیر بھٹو کے چھوٹے بھائی مرتضی بھٹو کے ہاتھوں میں تھی۔ جنہوں نے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیئے جانے کا بدلہ لیا۔ وہ اپنے والد کی ہلاکت پر جنرل اسلم بیگ پر بھی انگلی اٹھاتے تھے۔۔!!!

محکمہ ایجوکیشن کے ایک اور افسر کا اسکینڈل سامنے آگیا
سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )محکمہ ایجوکیشن کے ایک اور افسر کا اسکینڈل سامنے آگیا
محکمہ ایجوکیشن سرگودہا صدر مرکز کے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر رانا عمیر نے غنی پارک کی غریب عورت رخسانہ بی بی ولد سردارا کونوکری کا جھانسہ دے کر 2 لاکھ روپے ہتھیا لیے رخسانہ بی بی نے درجہ چہارم کی نوکری کیلیے درخواست دے رکھی تھی جب رانا عمیر کو پتہ چلا تو اس نے رخسانہ بی بی کو ورغلانہ شروع کردیا حالات اور غربت کی ستائی ہوئی رخسانہ بی بی باتوں میں آگئی اور 2 لاکھ روپے رانا عمیر کو بطور رشوت دے دیے بعدازاں رخسانہ بی بی اپنی ملازمت کے حصول کی غرض سے رانا عمیر کے دفتر گئی جہاں رانا عمیر نے اسے جنسی طور پر حراساں کیا جس پر وہ دفتر سے نکل گئی بعد میں رانا عمیر نے رخسانہ بی بی کو فون پر قتل کی دھمکیاں دیں رخسانہ بی بی کا کہنا ہے کہ وہ غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے والد نے رقم کا بندوبست قرض لے کے اور اس کی شادی کیلیے بنائے گئے زیور بیچ کر کیا تھا وہ اپنے کنبے کے بہتر مستقبل کیلیے نوکری کرنا چاہتی تھی مگر درندہ صفت رانا عمیر نے اس کو ورغلا کر پیسے ہتھیا لیے رخساانہ بی بی کا کہنا ہے کہ اعلی حکام اس بات کا نوٹس لیں اور اسے انصاف دلوائیں










