Baaghi TV

Tag: baaghitv

  • آڑو پاکستانی معیشت میں مٹھاس بھر سکتا ہے

    آڑو پاکستانی معیشت میں مٹھاس بھر سکتا ہے

    ماہرین اور کاشت کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان سے باہر خاص طور پر خلیجی ممالک میں پاکستانی آڑو کی بہت بڑی منڈی ہے۔

    پھلوں کا بادشاہ آم پاکستان بھر میں یقینا سب سے زیادہ پسندیدہ پھل ہو سکتا ہے لیکن کم از کم ملک کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں میںآڑو بھی کسی سے کم نہیں ہے۔ ان حصوں میں ایک مشہور پشتو کہاوت “اگر آپ کی دوستی کی قیمت آڑو ہے تو میں آپ کی دوستی کو ترک کر دیتا ہوں۔” سے اس کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس وقت آڑو مقامی مارکیٹ میں بہت کم حصہ حاصل کرتا ہے لیکن ماہرین اور کاشت کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان سے باہر خاص طور پر خلیجی ممالک میں اس پھل کی بہت بڑی منڈی ہے۔

    پاکستان اور چین کا سی پیک پراجیکٹس کی تعمیر تیز کرنے کا فیصلہ

    اگر حکومت کچھ ٹھوس اقدامات کرتی ہے تو آڑو کا ہماری معیشت میں بہت اہم کردار ادا ہو گا۔ آڑو زیادہ تر پشاور، کوئٹہ، سوات، چترال، مالاکنڈ اور قلات کے اضلاع میں کاشت کیا جاتا ہے۔ عام طور پر پھل مئی میں پکنا شروع ہوتا ہے اور ستمبر کے پہلے ہفتے تک تیار ہوتاہے۔کے

    پی میں مجموعی طور پر 6330 ہیکٹر رقبہ پر پھل اگایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ، سوات میں19۔ 2018 میں 5280 ٹن آڑو پیدا ہوا ، جبکہ پشاور میں 1066 ٹن ، مردان 2825 ٹن ، مالاکنڈ میں 1190 ٹن ، لوئر دیر 1033 ٹن ، بونیر 3105 ٹن اور اپر دیر 1917 ٹنپیدا ہوا ۔ ہر سال صرف سوات ہی 6400 ٹن آڑو تیار کرتا ہے۔

    پارلیمانی سفارتکاری میں پاکستان کی تاریخی فتح، بھارت کو ہوئی رسوائی

  • پاکستان اور چین کا سی پیک پراجیکٹس کی تعمیر تیز کرنے کا فیصلہ

    پاکستان اور چین کا سی پیک پراجیکٹس کی تعمیر تیز کرنے کا فیصلہ

    پاکستان اورچین کے درمیان ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچرکے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کر دیے گئے جبکہ سی پیک منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مغربی روٹ پر کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔

    چینی وزیر ٹرانسپورٹ کی قیادت میں سی پیک جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اعلیٰ سطح کے چینی وفد نے ہفتہ کو یہاں وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ٹرانسپورٹ انفرا اسٹرکچرکے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کر دیئے گئے جبکہ سی پیک منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مغربی روٹ پر کام تیزکرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    دوسرے مرحلہ میں مغربی روٹ پر 1270 کلو میٹرکی شاہراہیں اورگلگت سے چترال اور ڈی آئی خان سے ژوب تک شاہراہیں بھی تعمیر ہوںگی۔ پشاور تا ڈی آئی خان اور سوات ایکسپریس وے فیز ٹو سمیت قراقرم ہائی وے پر بھی کام ہوگا۔
    چینی وفد نے کہاکہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لئے وزارت مواصلات نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ چین کے وزیر ٹرانسپورٹ نے کہاکہ سی پیک سے دونوں ممالک کی آئندہ نسلیں بھی مستفید ہوں گی، اس کے علاوہ دونوں ملکوںکی قیادت نے منصوبے کی بروقت تکمیل کے عزم کا اظہارکیا ہے۔

    وزیر مواصلات مراد سعید نے چینی انجینئرزکی محنت،عزم اور پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا اورکہا کہ سی پیک کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اولین ترجیح ہے۔ سی پیک سے ملازمتوں کے مواقع،انفراسٹرکچر اور مقامی کاروبارکو فروغ ملے گا۔

    وزیر مواصلات نے سی پیک اتھارٹی کے قیام سے متعلق بھی چینی وفدکوآگاہ اورکشمیرکے معاملہ پرچینی حکومت کی حمایت پراظہار تشکر کیا۔

    مراد سعید نے چین کی تیزرفتارترقی کوسراہتے ہوئے کہاکہ معاشی و اقتصادی ترقی سمیت غربت کے خاتمہ کے لیے چین ایک رول ماڈل ہے۔ وفدکو سی پیک کے دوسرے مرحلہ میں زراعت، سیاحت اورغربت کے خاتمہ میں ترجیحات سے بھی آگاہ کیاگیا۔

    مزید پڑھیں
    جدہ سے لاہور ائیرپورٹ پہنچنے والی بلی کے دنیا بھر میں تذکرے ، معاملہ کیا ہے ؟

  • نیشنل ایج گروپ سوئمنگ چیمئن شپ، پنجاب نے دھاک بٹھا دی

    نیشنل ایج گروپ سوئمنگ چیمئن شپ، پنجاب نے دھاک بٹھا دی

    نیشنل ایج گروپ سوئمنگ چیمئن شپ پنجاب نے جیت لی تین روزہ چیمئن شپ میں مجموعی طور 22 نئے قومی ریکارڈ بنے سندھ کے علی مٹھا چیمپئن شپ کے بہترین تيراک قرار پائے

    سپورٹس بورڈ پنجاب انٹر نیشنل سوئمنگ پول میں تین روز تک جاری رہنے والی قومی ایج گروپ سوئمنگ چیمئن شپ پنجاب کی واضح برتری کے ساتھ ختم ہوگئی ۔آخری روز ہونے والے فائنل مقابلوں میں انڈر 14 سو میٹر فری سٹائل میں پنجاب کے ابراہیم رشید،انڈر 16 سو میٹر بٹر فلائی میں پنجاب کے فیروز خواجہ ،انڈر 12 سو میٹر بیک سٹروک میں سندھ کے علی مٹھا ،انڈر 16 دو سو میٹر ریس میں سندھ کے ذیشان عباس، 50 میٹر بٹر فلائی انڈر 16 میں پنجاب کے فیروز خواجہ،انڈر 14 کے 50 میٹر فری سٹائل میں پنجاب کے دانیال غلام نبی نے فتح سمیٹی، ،،ٹیم ایونٹ میں انڈر 14اور انڈر 16 چار ضرب سو میڈلے ریلے رسیوں میں پنجاب نے پہلی پوزیشن حاصل کی

    چیمئن شپ میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں نے ایونٹ کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کرکٹ کی طرح سوئمنگ پر بھی توجہ دے تو بہتر نتائج آسکتے ہیں چمپين شپ کے آرگنائزر حفیظ بھٹی کا کہنا تھا کہ ایونٹ میں کئی باصلاحیت سوئمر سامنے آئے ہیں جو پاکستان کي بين الاقوامي سطع پر نمائندگي کرسکتے ہيں۔

    مزید پڑھیں
    مہمان ایسا نہیں کرتے ! پی سی بی کا سری لنکا کرکٹ کے صدر کے بیان پر مایوسی کا اظہار

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، بڑے ٹورنامنٹ میں کونسی ٹیم جگہ بنا پائے گی

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، بڑے ٹورنامنٹ میں کونسی ٹیم جگہ بنا پائے گی

    آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کوالیفائرز متحدہ عرب امارات میں 18 کتوبر سے 2 نومبر تک کھیلے جائیں گے، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا ٹکٹ کٹوانے کیلئے 14 ٹیموں کے درمیان گھمسان کا رن پڑے گا،

    گزشتہ دنوں یو اے ای کے وزیر اور چیرمین ایمرٹس کرکٹ بورڈ شیخ نہیان مبارک النہیان نے ٹورنامنٹ کی رونمائی کردی، انھوں نے تمام 14 کپتانوں سے ملاقات بھی کی، ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، اے گروپ میں اسکاٹ لینڈ، نیدر لینڈ، پاپوانیوگینی، نمیبیا، سنگاپور،کینیا،اور برمودا شامل ہیں جبکہ بی گروپ میں میزبان یو اے ای، آئرلینڈ، اومان، ہانگکانگ، کینیڈا، جرسی اور نائجیریا شامل ہیں، گروپ اے کے تمام میچز دبئی میں ہوں گے جبکہ بی کے مقابلوں کی میزبانی ابوظہبی کرے گا، فائنل 2 اکتوبر کو دبئی میں کھیلا جائے گا

    گذشتہ ایڈیشن کے رنر اپ اسکاٹ لینڈ اور نیدرلینڈز اپنی مہم کا آغاز افتتاحی روز بالترتیب سنگاپور اور کینیا کے خلاف کریں گے۔ یو اے ای گروپ بی میں پہلا میچ اومان کے خلاف کھیلے گا۔

    دونوں گروٖپس کی ٹاپ 2 ٹیمیں نہ صرف سیمی فائنلز میں جگہ بنائیں گی بلکہ وہ براہ راست آسٹریلیا میں 18 اکتوبر سے 15 نومبر 2020 تک شیڈول میگا ایونٹ کے ابتدائی راؤنڈ میں پہنچ جائیں گی، باقی 6 ٹیموں کے درمیان پلے آف میں سے مزید 2 ٹیمیں بھی انھیں آسٹریلیا میں جوائن کریں گی،وہاں ان کے ساتھ سری لنکا اور بنگلہ دیش بھی پہلے مرحلے میں ایکشن میں ہوں گے، ان تمام 8 ٹیموں کے درمیان مقابلے کے بعد 4 ٹاپ ٹیمیں سپر 12 راؤنڈ میں پہنچیں گی جہاں پر پہلے ہی میزبان آسٹریلیا، پاکستان، انگلینڈ، بھارت، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز اور افغانستان موجود ہیں۔

    مزید پڑھیں
    پاکستان،ایران خطے کے دواہم ملک ملکرمسائل حل کریں گے،ایرانی صدرحسن روحانی

  • مودی ، وزیراعظم ہے یا خاکروب

    مودی ، وزیراعظم ہے یا خاکروب

    ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت وائرل ہے جس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو تامل ناڈو کے شہر مامل پور کے بیچ سے کچرہ اٹھاتے دیکھا جا سکتا ہے، اس ویڈیو پر پاکستانی و بھارتی خوب رائے کا اظہار کر رہے ہیں، کچھ کے نزدیک بھارتی وزیر اعظم اپنی عوام میں شعور پیدا کرنے کیلئے ایسا کر رہے ہیں اور کچھ کا کہنا ہے کہ یہ صرف دکھاوے کیلئے کیا جا رہا ہے،

    ٹوئٹر صارفین کہہ رہے ہیں کہ پڑوسیوں نے کیا وزیراعظم پایا ہے 130 کروڑ بھارتی شہریوں کا وزیراعظم یا چائے بناتا ہے یا کچرہ اٹھاتا ہے، سمجھ سے بالا تر ہے کہ اتنی بڑی آبادی والے ملک کا وزیراعظم اپنی رعایا کیلئے کچھ کرنے کے بجائے ہمیشہ اپنے امیج کیلئے کام کرتا رہتا ہے ، مودی بیچ سے کچرہ اٹھا رہا ہے اور پھر شعور پھیلانے کے نام پر پہلے سے بیوقوف عوام کی بیوقوفی میں مزید اضافہ کر رہا ہے، کہ دیکھو بھارتیو تمھارے وزیراعظم کو جو کام آتا ہے وہ کس قدر دل لگی سے کر رہا ہے ،

  • کینیا کے ایتھلیٹ نے میراتھن ریس کا سب سے بڑا ریکارڈ اپنے نام کرلیا

    کینیا کے ایتھلیٹ نے میراتھن ریس کا سب سے بڑا ریکارڈ اپنے نام کرلیا

    آسٹریا کے دارلحکومت ویانا میں میراتھن ریس کا انعقاد کیا گیا جس میں دنیا بھر کے محتلف اتھلیٹس سے شرکت کی لیکن اس میراتھن میں کینیا سے تعلق رکھنے والے ایلود کپچو نے میراتھن جیتنے کیساتھ کم ترین وقت میں میراتھن پار کرنے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا، ایلود کپچو نے میراتھن ریس کو 1 گھنٹہ 59 منٹ اور 40 سیکنڈ میں طے کیا، اس سے پہلے تیز ترین میراتھن دوڑ کا ریکارڈ بھی ایلود کے پاس تھا،
    میراتھن جیتنے کے بعد ایلود کپچو نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کی جس میں انہوں نے دنیا بھر میں اپنے تمام چاہنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا "آج ہم چاند پر گئے اور زمین پر واپس آگئے ، میرے پاس الفاظ موجود نہیں جن سے میں اپنے چاہنے والوں کا شکریہ ادا کروں”

    مزید پڑھیں
    فرانس اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدے خطرے میں‌؟

  • پاک ایران بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں کیوں رکی ہوئی ہیں ؟

    پاک ایران بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں کیوں رکی ہوئی ہیں ؟

    پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی تجارت تفتان بارڈر کے زریعے ہوتی ہے لیکن پچھلے پانچ دن سے بلوچستان کے تاجروں نے ایف بی آر اور پاکستان کسٹمز کے حکام کیخلاف ہڑتال کر رکھی ہے جس کے باعث بارڈر کے دونوں اطراف ٹرکوں اور کنٹینروں کی لمبی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں اور تجارتی سرگرمیاں رکی ہوئی ہیں،

    قبائلی اضلاع کیلئے مختص ہونے والی رقم کہاں ہے ؟

    یہ ہڑتال کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندگان کی جانب سے کی جارہی ہے ، تفتان بارڈر پر ٹیکس وصولی کے ذمہ دار ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر باغی ٹی وی کو بتایا کہ "پچھلے چار دنوں کے دوران درآمد اور برآمدی سامان پر ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں کی وجہ سے کسٹمز اور ایف بی آر کو 200 ملین سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔” ڈیوٹی کی مد میں تفتان بارڈر پر ہر روز تقریبا 6 سے 7 کروڑ روپے ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے ،

    دوسری طرف پاک افغان بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں معمول کےمطابق جاری ہے ، اور تاجر سیکیورٹی چیک کے مراحل سے گزرنے کیساتھ ساتھ ٹیکسز کی ادائیگی بھی کر رہے ہیں، کوئٹہ چیمبر اف کامرس کے صدر بدرالدین کاکڑ کا کہنا ہے کہ ہم ایران سے لائے گئے سارے سامان کے ٹیکسز اور ڈیوٹیز ادا کرتے ہیں اس کے باوجود ہمارے ٹرک افغان بارڈر پر روک لیے جاتے ہیں، اس لیے ہم احتجاج کر رہے ہیں ،

    مزید پڑھیں
    حکومتی پالیسیوں کے باعث مشکل معاشی صورتحال سے نکل آئے ہیں، مشیر خزانہ

  • حکومتی پالیسیوں کے باعث مشکل معاشی صورتحال سے نکل آئے ہیں، مشیر خزانہ

    حکومتی پالیسیوں کے باعث مشکل معاشی صورتحال سے نکل آئے ہیں، مشیر خزانہ

    وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے اسلام اباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سٹاک ایکسچینج مارکیٹ میں استحکام آ گیا ہے، کاروباری سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور نئی ملازمتیں نکلیں گی۔ مشکل وقت سے حکومتی پالیسیوں کے باعث نکلنا ممکن ہوا

    اسلام آباد میں مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ نے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دو بڑے خساروں پر قابو پالیا ہے، درآمدات میں کمی لائی گئی ہے اور تجارتی خسارہ میں 35 فیصد کمی ہوئی، جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہو رہا ہے، ماضی میں ایکسچینج ریٹ کو ایک حد پر رکھنے کیلئے کئی بلین ڈالرز ضائع کیے گئے لیکن اب ایکسچینج ریٹ میں استحکام آ گیا ہے۔

    مشیرخزانہ نے کہا کہ 5لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا اور ریونیومیں16فیصد اضافہ کیاگیا ہے، اپنے اخراجات کو سختی سے کنٹرول کیا ہوا ہے، سویلین حکومت کے اخراجات میں 40ارب روپے کمی کی گئی، 3مہینوں میں کوئی سپلیمنٹری گرانٹ نہیں دی اور کوئی ادھارنہیں لیا گیا۔

    قبائلی اضلاع کیلئے مختص ہونے والی رقم کہاں ہے ؟

    عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے 3ماہ میں بیرونی تجارت پر قابو پا لیا ہے، باہر سے سرمایہ کاری کیلیے 340 ملین ڈالر اضافہ ہوا ہے، فیکٹریز میں سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں ملازمتیں نکلیں گی، بیرون ملک ملازمتوں کیلیے جانےوالوں میں ڈیڑھ لاکھ افراد کا اضافہ ہوا۔

    چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ یو اے ای حکام سے اقامہ کے غلط استعمال پر بات ہوئی ہے اور انہوں نے اتفاق کیا کہ اقامہ ہولڈر کی معلومات پاکستان سے شیئر کی جائیں گی، وہ آئندہ ماہ پاکستان آئیں گے۔

    مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے مزید کہا کہ منی لانڈرنگ کو روکنا ہمارے مفاد میں ہے، حکومتی پالیسیوں سے معیشت میں استحکام آگیا ہے جس سے عوام کو فائدہ ہوگا، پیٹرول کی قیمت اس لیے نہیں بڑھی کیونکہ کرنسی میں استحکام آیا ہے، جو بھی اقدامات کیے جارہے ہیں عوام کے فائدے کے لیے کر رہے ہیں۔

    مزید پڑھیں
    مصالحہ جات کی برآمدات میں 9 فیصد اضافہ

  • مصالحہ جات کی برآمدات میں 9 فیصد اضافہ

    مصالحہ جات کی برآمدات میں 9 فیصد اضافہ

    گذشتہ سال کے اسی عرصے کی برآمدات کے مقابلہ میں رواں مالی سال 2019۔20 کے پہلے دو ماہ کے دوران ملک سے مصالحوں کی برآمدات میں 9.53 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

    پاکستان بیورو آف شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا اگست (2019-20) کے دوران ملک سے مصالحوں کی برآمدات 10.9796 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ، مقدار کے لحاظ سے ، مصالحوں کی برآمدات میں 2،323 میٹرک ٹن سے 2،563 میٹرک ٹن یعنی 10.33 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اور حیران کن طور پر مالی سال 2019-20 کے اگست کے مہنے میں پچھلے مالی سال کے اگست کی نسبت مصالحوں کی برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی اور جولائی اور ستمبر کے مہنے اضافے کا باعث بنے،

    مزید پڑھیں
    قبائلی اضلاع کیلئے مختص ہونے والی رقم کہاں ہے ؟

  • قبائلی اضلاع کیلئے مختص ہونے والی رقم کہاں ہے ؟

    قبائلی اضلاع کیلئے مختص ہونے والی رقم کہاں ہے ؟

    خیبر پختونخوا حکومت مالی سال 2019-20 کی پہلی سہ ماہی کے دوران صوبہ میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے مختص ترقیاتی فنڈز کا صرف 0.11 فیصد حصہ قبائلی اضلاع میں استعمال کیا ،

    خیبر پختونخوا حکومت نے جاری مالی سال 20- 2019 کے لیے 7 قبائلی اضلاع اور فرنٹیئر ریجن علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے 83 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے تھے تاہم پہلی سہ ماہی کے اختتام پر ترقیاتی بجٹ کا حجم بڑھا کر95 ارب روپے کردیا گیا ہے جس میں سے 23 ارب 56 کروڑ کے فنڈز جاری کیے گئے اور اخراجات11 کروڑ 23 لاکھ تک محدود رہے۔

    صوبائی حکومت کے ریکارڈ کے مطابق زراعت کے شعبہ میں 66 لاکھ ،عمارات پر ایک کروڑ 16 لاکھ، فراہمی و نکاسی آب ایک کروڑ 76 لاکھ ، ابتدائی و ثانوی تعلیم 57 لاکھ ، صحت 2 کروڑ 76 لاکھ، داخلہ ایک لاکھ، اطلاعات 9 لاکھ، ملٹی سیکٹر ڈیویلپمنٹ ایک لاکھ، ریلیف بحالی 2 لاکھ ، سڑکوں کے شعبے میں 2 کروڑ36 لاکھ،سماجی بہبود 7 لاکھ جب کہ شعبہ آب میں ایک کروڑ 76 لاکھ روپے کے اخراجات کیے گئے۔

    پہلی سہ ماہی کے دوران 10 سالہ ترقیاتی حکمت عملی ،ٹرانسپورٹ،سائنس اینڈ ٹیکنالوجی وانفارمیشن ٹیکنالوجی، مذہبی واقلیتی امور، بورڈ آف ریونیو، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، فاٹا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی، خوراک، لیبر، قانون وانصاف، معدنیات، بہبود آبادی اور غریب پرور اقدامات کے شعبوں کے لیے فنڈز کا اجراء نہیں کیا جاسکا جب کہ کھیل و سیاحت، بلدیات، صنعت ،شہری ترقی، انرجی اینڈ پاور، ماحولیات، خزانہ،جنگلات اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں کے لیے فنڈز جاری ہونے کے باوجود یہ محکمے اخراجات شروع نہ کرسکے۔

    مزید پڑھیں
    ایشائی ترقیاتی بینک کیساتھ معاہدہ طے پا گیا