Baaghi TV

Tag: baaghitv

  • وفاقی حکومت نے اب تک 90 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ جاری کیے

    وفاقی حکومت نے اب تک 90 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ جاری کیے

    وفاقی وزارت پلاننگ و ترقیاتی اصلاحات کی جاری کردہ اعداد شمار کے مطابق وفاقی حکومت نے اب تک کل 90 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ جاری کیے ، ترقیاتی پروگرام 2019-20 کے تحت موجودہ حکومت نے 19.9 ارب روپے وفاقی وزارتوں کو جاری کیے ، جبکہ 23.6 ارب کارپوریشنز اور 7.7 ارب سپیشل ایریاز کیلئے فنڈ جاری کیے ،
    26.78 ارب روپے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے جاری کیے گئے ، جبکہ 12 ارب روپے خیبرپختونحوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں کیلئے محتص کیے گئے،
    اسی طرح ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 4.6 ارب اور اٹامک انرجی کمیشن کیلئے 4.3 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے گئے

  • اولمپئین شہناز شیخ کو تر جمان پی ایچ ایف مقرر کر دیا گیا

    اولمپئین شہناز شیخ کو تر جمان پی ایچ ایف مقرر کر دیا گیا

    صدر پی ایچ ایف بریگیڈئیر خالد سجاد کھوکھر نے سابق اولمپئین شہناز شہخ کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ترجمان تعینات کردیا شہناز شیخ 1969 سے 1978 تک پاکستان کے لئے ہاکی کھیلے اور پاکستان ہاکي ٹيم کے ہيڈ کوچ بھي رہے۔
    شہنازشیخ کا شمار پاکستان ہاکی کے عظیم کھلاڑیوں میں ہوتا ہے بریگیڈئیر خالد سجادکھوکھر صدر پي ايچ ايف کا کہنا ہے کہ شہناز شیخ کی پی ایچ ایف میں آمد ہاکی کی بحالی میں مدد گار ثابت ہوگی۔

  • انڈونیشیا پاکستان کو دو ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ تک رسائی دے گا

    انڈونیشیا پاکستان کو دو ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ تک رسائی دے گا

    پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر ایون سودھائی امری نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے تجارتی تعلقات کو نئی بلندیاں پر لے جا رہے ہیں ، انڈونیشیا پاکستانی پرادکٹس کو آسیان ممالک کی دو ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ تک رسائی دے گا ،
    انڈونیشین سفیر نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک اجلاس سے خطاب کرت ہوئے کہا پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارتی حجم 3.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے ، اور مستقبل قریب کو اس حجم کو مزید بڑھایا جائے گا ، ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈونیشین تجارت میں راولپندی چیمبر آف کامرس انتہائی اہم کرادر ادا کر رہا ہے اور انہوں نے یقین دہانی کرائی کے انڈونیشین سفارت خانہ 2020 میں انڈونیشیا میں ہونے والی راول ایکسپو کیلئے پاکستانی تاجروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا ،

  • انگلینڈ بمقابلہ نیوزی لینڈ ، جونی بیئراسٹو کو انگلینڈ کے ٹیسٹ سکواڈ سے باہر کر دیا گیا

    انگلینڈ بمقابلہ نیوزی لینڈ ، جونی بیئراسٹو کو انگلینڈ کے ٹیسٹ سکواڈ سے باہر کر دیا گیا

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے ٹیسٹ کرکٹر جونی بیئرسٹو کو انگلینڈ کے دورہ نیوزی لینڈ کے ٹیسٹ سکواڈ سے باہر کر دیا گیا ، اانگلینڈ کرکٹ بورڈ کے چیف سلیکٹر ایڈ سمتھ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جونی بیئراسٹو انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے قابل اعتماد بلے بازوں میں سے ایک ہیں اور انہوں کئی بار انگلینڈ کی فتح میں کلیدی کرادر ادا کیا ہے ، لیکن پچھلے چند سال سے جونی بیئراسٹو کی ٹیسٹ فارمیٹ میں پرفارمنس زیادہ اچھی نہیں رہی ، جس کے باعث انہیں آرام دیا گیا ہے اور یہ وقت ہے کہ ہم اپنے نئے کھلاڑیوں کو موقع دے کر انہیں انٹرنیشنل کرکٹ کیلئے تیار کر سکیں،

  • غیرقانونی سگریٹ کی فروحت روکنے کا پلان تیار

    غیرقانونی سگریٹ کی فروحت روکنے کا پلان تیار

    وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں سگریٹ کی غیر قانونی تجارت کا نوٹس لیتے ہوئے کریک ڈاؤن کا حکم دیا ہے۔ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے بھیجے گئے مراسلے میں وزارت صحت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام کو ملک گیر کریک ڈاؤن کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سگریٹ کی غیرقانونی تجارت سےملکی خزانےکو ٹیکس چوری کی مد میں نقصان ہو رہا ہے اس لیے متعلقہ ادارے ایسے افراد کے خلاف فوری کارروائی کریں۔ وزارت صحت اور فیڈرل بورڈآف ریونیو حکام کو اپنی ماہانہ کارکردگی رپورٹ وزیراعظم آفس میں جمع کرانےکا بھی حکم دیا گیا ہے۔

  • محمد وسیم بلوچستان کا فخر ہیں ، وزیر اعلیٰ جام کمال

    محمد وسیم بلوچستان کا فخر ہیں ، وزیر اعلیٰ جام کمال

    بلوچستان وزیراعلی جام کمال خان نے لائٹ ویٹ چیمپئن باکسر محمد وسیم سے ملاقات کی اور انہیں حالیہ دبئی میں ہونے والی فائٹ جیتنے پر پانچ لاکھ روپے کا انعام دیا ، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ باکسر محمد وسیم کی فلائی ویٹ رینکنگ مقابلے میں فتح بلوچستان کے لیے باعث فخر ہے، صوبہ بھر میں اس کھیل کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے، حکومت نوجوانوں میں مثبت سرگرمیاں اجاگر کرنے کے لیے کھیل کے شعبے پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں۔

  • آم پیداوار نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دئیے، پاکستان نے کمایا بڑا زرمبادلہ

    آم پیداوار نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دئیے، پاکستان نے کمایا بڑا زرمبادلہ

    پاکستان نے 5 سال بعد ایک لاکھ ٹن آم کی ایکسپورٹ کی سطح عبور کر لی ہے ، موثرمارکیٹنگ اور معیار کی بدولت پاکستانی آم نے انٹرنیشنل مارکیٹ میں بہترقیمت حاصل کی ہے۔ رواں سیزن آم کی ریکارڈ ایکسپورٹ کا امکان ہے۔ برآمدات سے 80 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا، رواں سیزن آم کی پیداوار 15 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی، فارمرز عالمی معیار اور جدید طریقوں کے مطابق آم کے باغات لگارہے ہیں۔

    آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ اور ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر وحید احمد کے مطابق رواں سال آم کی ایکسپورٹ کا ایک لاکھ ٹن کا ہدف پورا کرلیا گیا ہے ستمبر کے وسط تک ایک لاکھ15ہزار ٹن آم ایکسپورٹ کیا جاچکا ہے۔ 4 سال میں پہلی مرتبہ آم کی ایکسپورٹ کا ہدف حاصل ہوا ہے جبکہ 5 سال بعد ایکسپورٹ ایک لاکھ ٹن سے تجاوز کرگئی ہے۔
    وحید احمد کے مطابق ایکسپورٹ کا سلسلہ اکتوبر کے وسط تک جاری رہے گا اور سیزن کے اختتام تک ایک لاکھ 30 ہزار ٹن آم برآمد ہونے کا امکان ہے۔

  • پاکستان سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہیں ، جنید خان

    پاکستان سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہیں ، جنید خان

    پاکستان کے ٹیسٹ فاسٹ بولر جنید خان کا کہنا ہے کہ ان کے نززدیک پاکستان سے بڑھ کر کوئی معاہدہ عزیز نہیں ، جنید خان کو انگلینڈ کی ایک کاؤنٹی کی جانب سے چار سالہ معاہدے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کو ترجیح دیتے ہوئے معاہدہ ٹھکرا دیا ،
    قائداعظم ٹرافی میں خیبرپحتونحوا کی نمائندگی کرنے والے فاسٹ بولر نے یو بی ایل گراؤنڈ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میری کارکردگی سب کے سامنے ہے ، ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی پرفارمنس دے کر قومی ٹیم میں جگہ بنانے کی کوشش کروں گا ، یاد رہے جنید خان کے پاس برطانوی شہریت بھی ہے لیکن اس کے باوجود ان اولین ترجیح پاکستان ہے ،

  • درد کشمیر اور ہمارا ضمیر ، تحریر مغیرہ حیدر

    درد کشمیر اور ہمارا ضمیر ، تحریر مغیرہ حیدر

    وادی کشمیر اور اس میں رہنے والے مظلوم کشمیری عوام جو گزشتہ پچاس دن سے بھارتی فوج کے ظلم و بربریت اور قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کر رہے ہیں، سکول و کالج، مارکیٹیں، دوکانیں، اخبارات، موبائل-فون، انٹرنیٹ، مساجد اور سبھی راستے بند کر دیئے گئے..!
    کیا ہمارے دل میں احساس کی کوئی کرن باقی نہیں جو کشمیر کی آزادی کے لیے عملی طور پہ کوئی کردار ادا کر سکے، کیا ہم روزانہ اپنے گھربار اور معمولاتِ زندگی میں یونہی مشغول و مگن رہیں گے.؟ کیوں ان کشمیریوں کی محبت ہمارے دلوں کو نہیں گرماتی.؟ آخر ہم کیوں بےحسی کی چادر اوڑھے غفلت کی نیند سو رہے ہیں.؟ کیا ہماری صلاحیتیں کشمیر کے لیے کام نہیں آ سکتی.؟ ہم تہہِ دل سے کشمیریوں کے لیے دعا کیوں نہیں کرتے.؟ ہم ان کے درد کو اپنا درد سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں.؟

    وہ کشمیری جو ہر قدم پہ پاکستان کے لیے اپنی جان ہتھیلی پہ لیے نکلتے ہیں، وہ کشمیری جو پاکستانیوں کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں کیا ہم ان کی امیدوں پہ پورا اترنے کی کوشش کر رہے ہیں.؟ آپ خود سے سوال کیجیے اپنے گریبان میں جھانکیے کہ ہم نے کشمیری مظلوم مسلمانوں کے لیے کس حد تک کوشش کی، کیا ہمارے دل کو دنیا کا آسائش و آرام تو نہیں بھا گیا، جی ہاں! ہمیں امت مسلمہ اور اسلام سے محبت برائے نام ہے، ہم اس احساس سے محروم ہو چکے ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ہمارے اسلاف نے محسوس کیا، اگر آپ کشمیر کی حالتِ زار کو خود اپنی ذات پہ محسوس کریں تو شاید آپ کا ضمیر آپ کو جھنجوڑے اور چیخ کر کہے کہ اب بھی دعا ہی کرو گے.؟ کیا اپنے دفاع کے لیے اپنا ہاتھ، قدم، قلم، آواز، کیمرہ، ہنر، فن استعمال نہیں کرو گے.؟

    ضرور استعمال کرو گے بلکہ آخری سانس تک جدوجہد اور لڑائی کرو گے، اپنی چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے لیے ہر شے کو بروئے کار لاؤ گے،
    لیکن کشمیر تو اپنا نہیں، ہے ناں.؟
    خدا کے لیے اپنے آپ کو جگائیے، کشمیری اور کتنے جنازے اٹھتے دیکھیں گے، کتنے بچے یتیم ہوں گے، کب تک وہ مائیں بیٹوں کا سوگ مناتی رہیں گی.؟

    اگر احساس ہو تو اٹھائیے کشمیر کے لیے اپنی آواز، قلم اور قدم تا کہ کل کشمیری اللہ کے دربار میں حاضر ہو کے تمہارا گریبان نہ پکڑ سکیں..!

  • ہے شعلوں کی لپیٹ میں جنتِ ارضی ، تحریر جویریہ رزاق

    ہے شعلوں کی لپیٹ میں جنتِ ارضی ، تحریر جویریہ رزاق

    "کشمیر ”
    وہ خطہء جس کا نام لکھتے ہوئے دل غم سے پھٹنے لگے
    لکھتے ہوئے الفاظ بھی ساتھ نہ دیں
    کہنے کو میری جنتِ ارضی لیکن حقیقت میں شعلوں کی لپیٹ میں جلتی ہوئی جہنم بن چکی ہے بلکہ بنا دی بھارت کی سفاک درندہ فوج نے
    چناروں کی وادی کوہساروں کی وادی جہنم بنا دی گئی
    ظلم و بربریت کی ایسی المناک دردناک داستانیں کہ اللہ کا عرش بھی ہل گیا ہوگا
    جہاں کے چنار رو رہے ہیں
    جہاں آبشاروں اور جھیلوں میں پانی نہیں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے
    ظلم و ستم کا یہ قصہ کب سے چلتا آ رہا ہے
    جہاں معصوم کلیوں کو کھلنے سے پہلے ہی مسل دیا جاتا ہے
    ماؤں کی گودیں اجاڑیں جاتی ہیں
    سہاگنوں سے سہاگ چھین لئے جاتے ہیں
    لیکن قربان جاؤں اسلام کی ان شہزادیوں پر جن کے حوصلے گودیں اجاڑ کر جگر کے ٹکڑے قربان کر کے
    سہاگ لٹا کر بھی حوصلے پست نہیں ہوتے
    مسلمان غلامی کبھی بھی قبول نہیں کرتا
    تبھی تو
    ہاں تبھی تو
    آزادی کے یہ پروانے اسلام کے بیٹے کشمیر کے بیٹے ماؤں کے گھبرو جوان لختِ جگر دیوانہ وار نثار ہوتے چلے جا رہے ہیں
    آگ اگلتی بندوقوں کے سامنے کشمیر کے دلیر بیٹے نہتے ہی پاکستان کا پرچم سینوں پہ لپیٹے ہوئے آتے ہیں
    اس شعر کی مصداق

    "ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
    تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں”

    اور پھر سفاک بھیڑیوں کی گولی اسلام کے بیٹوں کے جگر چھلنی کرتی چلی جاتی ہے
    لیکن پاکستان کی محبت پاکستان کا پرچم شہادت کے بعد بھی ان کے سینے سے جڑا رہتا ہے
    جنازوں پہ پاکستان کے پرچم اور پھر قبروں پر بھی پاکستان کے پرچم اس بات کی گواہی ہیں کہ ہمیں شہید تو کیا جا سکتا ہے لیکن ارض پاکستان سے کبھی بھی الگ نہیں کیا جا سکتا
    ایک بیٹا ابھی ماں دلہا بنا کر جنت کی طرف بھیجنے کو تیاری کر رہی ہوتی ہے کہ دوسرے جوان بیٹے کی میت سبز ہلالی پرچم میں لپٹی گھر آ جاتی ہے
    ایک ہی وقت میں ایک ایک گھر سے کئی کئی جنازے اُٹھ رہے ہیں
    اللہ اکبر
    جنکی صبح بھی پاکستان کے نام سے ہوتی ہے رات بھی پاکستان کے نام سے ہوتی ہے
    پاکستانیوں کیا کبھی سوچا ہے ہم کہاں کھڑے ہیں ؟؟
    کیا ہم اپنی ہی دنیا میں مست تو نہیں؟؟
    کیا ہم بھی ان کے لئے اتنی ہی محبت رکھتے ہیں ؟؟
    کیا ہمارے دل بھی ان کے لئے یوں ہی ڈھڑک رہے ہیں ؟؟
    اگر نہیں تو خدارا سنبھل جائیے کہ یہ وقت سونے کا نہیں ہے
    خدا نہ کرے غفلت کی نیند میں سوتے رہنے سے ظلم و بربریت کا یہ سیلاب ہمارے دروازوں تک آ جائے
    اللہ نہ کرے ایسا ہو تو اس پہلے جاگ جائیے
    کہ کلمہ کی بنیاد پر اسلام کی نسبت سے وہ کوئی غیر نہیں ہمارے ہی بیٹے بچے جوان قربان ہو رہے ہیں
    ہماری ہی مائیں بہنیں بیٹیاں عصمتیں لٹا رہی ہیں
    کیا جرم ہے انکا صرف لا الہ الا اللہ
    کلمہ انکا جرم بن گیا
    اسلام کی نسبت سے پاکستان سے محبت انکا جرم بن گئی
    یوں اسلام پورا ہی کفر کی نظر میں مجرم ہے
    آج نہ ہم جاگے تو یہ آگ کے شعلے ہمیں بھی لپیٹ سکتے ہیں
    خدرا جاگ جائیے
    اگر ہم اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے لئے آواز تو بلند کر سکتے ہیں
    ہر جگہ ہر محفل میں نہتے کشمیریوں پر بھارت کی سفاکیت کا پول تو کھول سکتے ہیں
    ہم انکی آواز تو بن سکتے ہیں نا
    کہ جہاں سے اب انکی دلدوز چیخیں بھی سنائی نہیں دے سکتیں
    موبائل سروس, انٹر نیٹ سب بند کئیے ہوئے نہ جانے ان پہ کیا قیامت بیت رہی ہوگی
    الغرض کشمیر کا چپہ چپہ لہو رنگ ہے کہ بھارت کی درندگی بیان سے باہر ہے
    آخر میں سوال ہے میرا
    عالمی حقوق کی کھوکھلی تنظیموں سے
    "ہاں تم ہی بتاؤ
    انسانوں سے ان کے جینے کا حق ہی چھین لیا جائے کیا عدل و انصاف کے یہ پیمانے ہیں ؟؟”