Baaghi TV

Tag: baaghitv

  • کینیڈا میں شہریوں کے اسلحہ خریدنے پر پابندی عائد کریں گے، کینیڈین وزیراعظم

    کینیڈا میں شہریوں کے اسلحہ خریدنے پر پابندی عائد کریں گے، کینیڈین وزیراعظم

    کینیڈا کے موجودہ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ لبرل پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئے گی اور کینیڈا میں سرعام ہونے بکنے والے بھاری اسلحےپر مکمل پابندی عائد کرے گی ،
    کینیڈا میں 21 اکتوبر 2019 سے الیکشن کا آغاز ہو رہا ہے جو کہ مختلف مرحلوں میں پورے ملک میں کروایا جائے گا ، جسٹن ٹروڈو نے اپنی انتخابی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبرل پارٹی اور کنزرویٹو پارٹی میں صرف اتنا فرق ہے کہ ہم چاہتے ہیں کینیڈا میں اسلحہ خریدنے کے قوانین سخت ترین ہوں اور وہ چاہتے ہیں ہر کینیڈین اسلحہ لیکر گھومے ،
    جسٹن ٹروڈو کا مزید کہنا تھا کہ ہم تمام قسم کی اسالٹ رائفلز پر پابندی لگائیں گے اور جن لوگوں کے پاس پہلے سے موجود ہیں ان سے واپس خریدنے کا پلان بھی بنائیں گے ،

  • دنیا کا بلند ترین ریلوے ٹریک کس ملک میں واقع ہے ؟

    دنیا کا بلند ترین ریلوے ٹریک کس ملک میں واقع ہے ؟

    دنیا عجائبات کا مظہر ہے ، یہاں ہر روز ایسے ایسے عجائبات رونما ہو رہے ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے، اور اگر بات پاکستان کے پڑوس ملک چائنہ کی ہو جائے تو وہاں عجائبات اس قدر زیادہ پائے جاتے ہیں کہ چینی لوگ عجائبات کے عادی ہو گئے ہیں، اج ہم جس چینی عجوبے کی بات کریں گے وہ چائنہ کے صوبے تبت میں ببنے والا ریلوے ٹریک ہے ، اس ریلوے ٹریک کانام کنگ زینگ ریلوے ٹریک ہے ، یہ دنیا کا سب سے بلند ترین مقا م پر پایا جانے والا ریلوے ٹریک ہے،
    اس ریلوے ٹریک کی کل لمبائی 1956 کلومیٹر ہے ، 1985 میں چینی حکومت نے اسے مکمل کیا ، اس کی تعمیر پر کل لاگت 4.2 ارب ڈالر آئی ، یہ ریلوے ٹریک دنیا کے بلند ترین مقام پر پائی جانے والی تازہ پانی ندی کے اوپر سے بھی گزرتا ہے ،
    اس ریلوے ٹریک کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے یہ تبت کے ایسےعلاقے میں بنا ہے جو کہ موسم کی شدت ، زلزلوں اور لینڈ سلائدنگ کیلئے مشہور جانا جاتا ہے ،
    ایک چینی سیاح نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس ریلوے ٹریک پر چلتی ٹرین کی ویڈیو کو شئیر بھی کیا ہے
    https://twitter.com/evazhengll/status/1175397964623360002?s=08

  • افراط زر اگلے دو سال تک  مزید بڑھے گا ، اسٹیٹ بینک

    افراط زر اگلے دو سال تک مزید بڑھے گا ، اسٹیٹ بینک

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر جمیل احمد نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے دو سال تک افراط زر کی شرح مزید بڑھنے کا خدشہ ہے ، دو سال بعد افراط زر اسٹیٹ بینک کے مقرر کردہ ہدف 7-5 فیصد تک آجائے گا ،
    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اسپیشل پینل برائے فنانس کی چیئرمین عائشہ غوث پاشا کو بریفنگ دی جو کہ اپوزیشن کی طرف سے حکومت کیلئے افراط زر کو کم کرنے پر تجاویز دینے کیلئے بننے والی کمیٹی کی چیئرمین ہیں، عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کے باعث افراط زر ڈبل فگر میں پہنچ گیا ہے ،
    یادرہے افراط زر جتنا بڑھے گا عام پاکستانی کی قوت خرید اتنی کم سے کم تر ہو گی اور ملک میں غربت کا سکیل بھی اوپر جائے گا ،

  • حسن علی کمر کی تکلیف کے باعث سکواڈ کا حصہ نہ بن سکے

    حسن علی کمر کی تکلیف کے باعث سکواڈ کا حصہ نہ بن سکے

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر و ہیڈ کوچ مصباح الحق نے سری لنکا کیخلا ف شیڈول ون ڈے سیریز کیلئے سکواڈ کا اعلان کر دیا ، قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد ہونگے جبکہ بابر اعظم نائب نائب کپتان ہونگے ، فحر زمان، امام الحق، بابر اعظم، حارث سہیل، عماد وسیم، شاداب حان، محمد نواز، محمد حسنین، وہاب ریاض،محمد عامر، عابد علی، افتحار احمد، قومی ٹیم کا حصہ ہو نگے ، شاہین شاہ آفریدی ڈینگی وائرس کے باعث سکواڈ حصہ نہیں ہونگے ، جبکہ حسن علی کمر کی تکلیف کے باعث سکواڈ کا حصہ نہیں ہیں ،


    سپورٹس جرنلسٹ احتشام الحق نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر حسن علی کے سکواڈ میں شامل نہ ہونے کی خبر شئیر کی جس پر ٹوئیٹر صارفین کے جواب بہت دلچسپ اور مزاخیہ تھے ، عدیل خان بنگش لکھتے ہیں "اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں”
    ، سید جیند لکھتے ہیں "حسن علی کو سلاجیت کی ضرورت ہے”،

  • کرکٹ آسٹریلیا 2022 میں دورہ پاکستان کیلئے پر امید ہے ، چیف ایگزیکٹو کرکٹ آسٹریلیا

    کرکٹ آسٹریلیا 2022 میں دورہ پاکستان کیلئے پر امید ہے ، چیف ایگزیکٹو کرکٹ آسٹریلیا

    تین روزہ دورہ پاکستان پر کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو کیون رابرٹس نے کہا ہے کہ اسٹریلوی کرکٹ بورڈ 2022 میں دورہ پاکستان کیلئے پر امید ہے لیکن کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کو لے کر کسی قسم کا رسک نہیں لے سکتے ،
    2009 میں سی لنکن ٹیم پر ہونے والے اٹیک کے بعد انٹرنیشنل ٹیم پاکستان آ کر ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی ، لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ پر امید ہے کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم سے پاکستان میں شیڈول آئندہ سیریز کے بعد پاکستان میں مزید ٹیمیں بھی پاکستان کھیلنے کیلئے آئیں گی ،
    سی ای او کرکٹ آسٹریلیا کیون رابرٹس کا کہنا تھا کہ ان کے دورہ پاکستان کا مقصد پاکستان آ کر سیکیورٹی کے معاملات کو قریب سے دیکھنا تھا اور اس چیز کو جانچنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کس قدر تسلی بخش انتظامات کا ارادہ رکھتا ہے ، اور اگر حالات بہتر ہوئے تو آسٹریلوی ٹیم 2022 میں ضرور پاکستان کا دورہ کرے گی ،
    یاد رہے آخری بار آسٹریلوی کرکٹ ٹیم نے دورہ پاکستان 1998 میں کیا تھا ،

  • ڈومیسٹک اسٹرکچر کیساتھ کھلاڑیوں کا مائنڈ سیٹ بھی بدلنا ہو گا ، اسد شفیق

    ڈومیسٹک اسٹرکچر کیساتھ کھلاڑیوں کا مائنڈ سیٹ بھی بدلنا ہو گا ، اسد شفیق

    پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹر اسد شفیق نے قائداعظم ٹرافی کا دوسرا سیزن شروع ہونے سے پہلے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکت کا معیار بلند ہو رہا ہے ، اچھی پچز تیار ہو رہی ہیں ، اچھے گراؤنڈز میں میچز ہو رہے ہیں ، کوکا بورا بال کا پاکستان کی ڈومیستک میں استعمال خوش آئند ہے ، لیکن اب کھلاڑیوں کو اپنے مائنڈ سیٹ بھی انٹرنیشنل کرکٹ کے مطابق کرنے کی ضرورت ہے ،
    اسد شفیق کا پاکستان کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ میں غیر مستقل مزاجی کے متعلق سوال پر کہنا تھا کہ کے پچھلے کچھ عرصے سے ہم اچھی ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیل سکے جسے بہتر کرنا ہو گا خواہ کیسی ہی مشکل کنڈیشنز ہوں ہمیں پروفیشنل کے طور پر پرفارم کرنا ہو گا ، مصباح الحق سے متعلق سوال پر کہنا تھا کہ مصباح الحق کے آنے سے یقیننا فرق پڑے گا ، وہ کسی بھی مشکل سے مشکل صورتحال میں بھی حواس باحتہ نہیں ہوتے ،ان کے تجربے سے نوجوانوں کو بہت کچھ سیکھنے ک وملے گا ،

  • ٹرائنگولر سیریز ، زمبابوے نے افغانستان کو سات وکٹوں سے شکست دے دی

    ٹرائنگولر سیریز ، زمبابوے نے افغانستان کو سات وکٹوں سے شکست دے دی

    بنگلہ دیش میں کھیلی جانے والی ٹرائنگولر سیریز کے پانچویں میچ میں زمبابوے نے افغانستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی ، افغانستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 155 رنز بنائے ، جن میں رحمان اللہ کے 61 اور حضرت اللہ زازئی کے 31 رنز نمایاں تھے ، ان کے علاوہ کوئی بلے باز نمایاں کارکردگی نہ دکھا سکا ، زمبابوے کی طرف سے کرسٹوفر موفو نے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ،
    جواب میں زمبابوے نے 155 رنز کا ہدف 3 وکٹوں کے نقصان پر آخری اوور میں پورا کر لیا ، زمبابوے کے کپتان اور اوپنر بلے باز مساکڈزا نے 42 گیندوں پر 71 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، چاکابوا نے ان کا پورا ساتھ دیتے ہوئے 39 رنز اسکور کیے ، شین ولیمز نے 21 رنز کی اننگز کھیلی، افغانستان کے کپتان اور شاندار لیگ اسپنر راشد خان سمیت کوئی افغانی باؤلر متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکا، زمبابوے کے کپتان مساکڈزا کو شاندار اننگز کھیلنے پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ بھی دیا گیا ،

  • پی سی بی 243 ریجنل کیوریٹرز اور گراؤنڈ سٹاف کو دو ماہ کا نیا  کنٹریکٹ دے گا

    پی سی بی 243 ریجنل کیوریٹرز اور گراؤنڈ سٹاف کو دو ماہ کا نیا کنٹریکٹ دے گا

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے 243 ریجنل گراؤنڈز مین اور کیوریٹرز کو کنٹریکٹ دینے کی پیشکش کردی، پی سی بی گراؤنڈ اسٹاف کو 2 ماہ کے لیے کنٹریکٹ دینے کی پیشکش کررہا ہے، کنٹریکٹ کا آغاز پی سی بی کے نئے آئین کے نفاذ کے روز سے ہوگا، پی سی بی نے گراؤنڈ اسٹاف کے تمام بقایاجات ادا کرنے کے لیے بھی فوری اقدامات اٹھائے ہیں
    اس دوران پی سی بی کا ڈومیسٹک کرکٹ ڈیپارٹمنٹ کیوریٹرز کی کارکردگی کا جائزہ لے گا، ڈومیسٹک کرکٹ ڈیپارٹمنٹ وینیوز کے لیے مقررہ اسٹاف کی تفصیلات بھی جمع کرے گا، پی سی بی کی جانب سے پیشکش 16 ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشنز کے ماتحت کام کرنے والے گراؤنڈ اسٹاف کو کی گئی ، پی سی بی کے نئے آئین کے بعد 16 ریجنل ایسوسی ایشنز 6 کرکٹ ایسوسی ایشنز میں ضم ہوچکی ہیں

  • مدنی صاحبان آر ایس ایس کے معترف کیوں ؟ تحریر بھارتی صحافی ادتیہ مینن

    مدنی صاحبان آر ایس ایس کے معترف کیوں ؟ تحریر بھارتی صحافی ادتیہ مینن

    (ادتیہ مینن انڈیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان محقق اور صحافی ہیں۔ بھارتی سیاست پر ان کے تجزیات اور ڈیٹا کی بنیاد پر تجزیاتی رپورٹس معروف ویب سائٹ the quintپر شایع ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جمعیت علمائے ہند قائدین کے آر ایس ایس سے رابطوں اور مودی سرکار سے متعلق ان کے بیانات پر ادتیہ مینن کا ایک مضمون شایع ہوا، باغی ٹی وی کی ٹیم the quint کی مشکور ہے کہ انہوں نے یہ آرٹیکل شائع کیا )
    مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کی زیر قیادت جمعیت علمائے ہند کے دونوں دھڑوں کی جانب سے حال ہی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور مودی سرکار سے متعلق مصالحانہ بیانات سامنے آئے ۔
    مولانا ارشد مدنی نے حال ہی میں آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک(سربراہ) موہن بھاگوت سے ملاقات کی اور انھیں سراہا۔ ’’دی کوئنٹ‘‘ سے اس ملاقات کے بعد ہونے والی گفتگو کے چند اقتباسات حسب ذیل ہیں:
    ۔۔۔ ’’بھاگوت جی کی تنظیم (آر ایس ایس) انتہائی منظم ہے۔ میری رائے میں بھارت میں کوئی اور اس جیسا نہیں۔‘‘
    ۔۔۔’’آرایس ایس اپنے ہندو راشٹر کے تصور سے پیچھے ہٹ سکتی ہے‘‘
    ۔۔۔۔ ’’اگر آر ایس ایس ہم سے نرمی برتتی ہے تو ہم ایسا کیوں نہ کریں۔‘‘
    مولانا محمود مدنی نے بھی آر ایس ایس کے حق میں کئی بیانات دیے اور کشمیر اور نشینل رجسٹر آف سٹیزن شپ(این آر سی) جیسے امور پر مودی سرکار کی حمایت کی۔ ان کے چند بیانات ملاحظہ کیجیے:
    ۔۔۔’’میرا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں آر ایس ایس نے نرم روی یا آزاد خیالی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ ایک سنہرا موقع ہے میل جول کی حوصلہ ا فزائی ہونی چاہیے۔‘‘
    ۔۔۔۔’’این آر سی کی جانچ پڑتال پورے بھارت میں ہونی چاہیے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہاں کتنے گھس پیٹھیے ہیں‘‘
    ۔۔۔ کشمیر ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا۔ ہم ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘
    ان دونوں علما کے بیانات کو مختلف انداز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ بعض کے خیال میں یہ بیانات مدنی صاحبان کے مابین جمیعت کی قیادت کے لیے جاری کھینچ تان کا نتیجہ ہے اور اب ان میں سرکاری سرپرستی حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہوچکی ہے۔ دونوں ہی کاتعلق جمیعت کے بانی محمود الحسن اور اس کے سابق صدر حسین احمد مدنی کے خاندان سے ہے۔
    سینٹر فور دی اسٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز(سی ایس ڈی ایس) کے ہلال احمد کا کہنا ہے کہ جمیعت مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتی اور وہ اس پر کشمیر اور این آر سی کو فرقہ ورانہ رنگ دینے کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔
    مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر ہونے والے جرائم(ہیٹ کرائمز) کو دستاویزی شکل دینے والے محمد آصف خان کے مطابق مدنی صاحبان ہندوتوا کے بیانیے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
    تاہم مدنی صاحبان کے اس اقدام کو بڑے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور بالخصوص یہ دو پہلو بہت اہم ہیں۔ پہلے اسے جمیعت کی نظر سے دیکھنا چاہیے اور دوسرا اسے بھارت میں مسلمانوں کو درپیشن بڑے چیلنجز کے سیاق و سباق میں دیکھا جاسکتا ہے۔
    جمیعت کا مؤقف کیا ہے:
    جمیعت علمائے ہند اتر پردیش کے علاقے دیوبند میں قائم دارالعلوم کے علما کی نمائندہ تنظیم ہے۔ اگرچہ دیوبندی ہندوستانی مسلمانوں میں اقلیت میں ہیں، اور بعض اندازوں کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں کی کل آبادی میں سے تقریبا پندرہ سے بیس فی صد اپنی شناخت بطور دیوبندی کرواتے ہیں، لیکن بریلویوں کے مقابلے میں ان میں زیادہ مرکزیت پائی جاتی ہے۔
    اپنی اسی مرکزیت کی وجہ سے جمیعت بھارت میں مساجد کے سب سے بڑے نیٹ ورک پر کنٹرول رکھتی ہے۔ تاریخ طور پر مسلمانوں کی دیگر تنظیموں کے مقابلے میں جمیعت سیاسی جماعتوں اور حکومت میں زیادہ رسوخ رکھتی ہے۔
    متحدہ قومیت:
    جمیعت کی سیاسی فکر کی بنیاد متحدہ قومیت کے تصور پر ہے جو مولانا حسین احمد مدنی نے ۱۹۳۸میں اپنی کتاب ’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ میں پیش کیا تھا۔
    متحدہ قومیت کا تصور اس عقیدے کی مخالفت میں پیش کیا گیا تھا جس کے مطابق ہندو اور مسلمانوں کو دو الگ قومیتیں قرار دیا جاتا تھا اور مسلم لیگ کے محمد علی جناح جس پر یقین رکھتے تھے۔
    متحدہ قومیت کے مطابق مختلف مذاہب کو مختلف اقوام کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس کے بجائے قومیت کا تعلق زمینی حدود سے ہے جس میں مسلم و غیر مسلم ایک قوم کا حصہ ہوسکتے ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم کے مابین رنگ، نسل زبان یا ثقافت جیسے مشترکات ہوسکتے ہیں۔
    مدینہ کی مثال:
    حسین احمد مدنی نے مشترکہ قومیت کی سند کے طور پر پیغمبر کے دور کے مدینہ کی نظیر پیش کی۔ ان کے مطابق ، میثاق مدینہ کے تحت یہود اور مسلمان قومیت کا یکساں احساس رکھتے تھے۔
    میثاق مدینہ کی طرح ، جمیعت نے آزادی کے بعد یہ خیال پیش کیا کہ اب ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین ہندوستان کو ایک سیکیولر ریاست بنانے کا معاہدہ طے پاچکا ہے۔ بھارت کا آئین اس معاہدے کی نمائندگی کرتا ہے اور اس معاہدے میں شامل ہونے کی وجہ سے ہر مسلمان پر آئین کی پاسداری لازم ہے۔
    جمیعت یقین رکھتی تھی کہ مسلمانوں کو عبادات اور عائلی و مخصوص قوانین کی پیروی کے لیے مسلم لیگ کے پاکستان کے بجائے کانگریس کے بھارت میں زیادہ سازگار ماحول میسر آئے گا۔ جمیعت کے قائدین مسلم لیگ کی قیادت کو بے عمل مسلمان سمجھتے تھے اور انھیں مسلم قوانین سے متعلق کانگریس سے وسعت ِقلبی کی توقع تھی۔
    جمیعت کے متحدہ قومیت کے تصور پر مسلمانوں کا مکمل اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ دیوبند کے علما میں مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس تصور اور اس کی مدینہ سے تطبیق پر اعتراض کیا اور اسے نصوص کے خلاف قرار دیا۔ بعدازاں شبیر احمد عثمانی نے علیحدہ ہوکر جمیعت علمائے اسلام قائم کرلی اور قیام پاکستان کی حمایت کی۔ حسین احمد مدنی کے متحدہ قومیت کے تصور پر علامہ اقبال اور بانی جماعت اسلامی سید مودودی جیسی شخصیات نے بھی تنقید کی۔
    مدنی صاحبان کا ’’عملی‘‘ نقطہ نظر :
    مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کے آر ایس ایس کے ساتھ رابطے ایک اعتبار سے حسین احمد مدنی کے پیش کردہ متحدہ قومیت کے تصور ہی کا پھیلاؤ ہے۔ انہوں نے اس تصور کی خلاف ورزی بھی کی ہے جس پر آگے چل کر بحث کی جائے گی۔
    دونوں صاحبان یہ نتیجہ اخذ کرنےمیں حق بجانب ہیں کہ جب مولانا حسین احمد مدنی نے متحدہ قومیت کا تصور پیش کیا تو اس وقت کانگریس ہندووں کی نمائندہ تھی ، اور آج یہ نمائندگی بی جے پی کے پاس ہے۔ اس لیے ان کے تصور جہاں بینی کے مطابق ہندووں سے کسی بھی قسم کے مکالمے کے لیے وزیر اعظم مودی اور سربراہ آرایس ایس موہن بھاگوت سے بات کرنا ہوگی۔
    لوک سبھا کے انتخابات میں کام یابی کے بعد مودی کے نام محمود مدنی کے ستایشی خط اور ارشد مدنی کی موہن بھاگوت سے ملاقات کو اسی سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے۔ جمیعت کے نزدیک کانگریس اور سماج وادی پارٹی جیسی سیکیولر جماعتوں کے ذریعے ہندووں سے بات کرنا بے سود ہوچکا ہے اور اس کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس ہی موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔ یہ بلا شبہہ ایک معروضی حقیقت ہے اور اس کا ادراک کرنے پر مدنی صاحبان کو مورد الزام نہیں ٹھیرایا جاسکتا۔
    ….گومگو کا شکارمسلمان:
    مدنی صاحبان کا بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب جھکاؤ دراصل مسلمانوں کی اس گومگو کی کیفیت کا نتجہ ہے جس کی بنیاد یہ سوال ہے کہ ہندووں کی اکثریتی مطلق العنانیت میں اپنی بقا کیسے ممکن بنائی جائے۔
    سادہ انداز میں کہا جائے تو آزادی کے بعد ہی سے بھارتی مسلمان سمجھتے تھے کہ ’’سیکیولر ہندو‘‘ کے ذریعے ہی ’’فرقہ پرست ہندو‘‘ کو روکا جاسکتا ہے۔ سیاسی میدان میں اس رائے کا اظہار اس طرح ہوا کہ مسلمانوں نے کانگریس، جنتا دَل اور اس سے ٹوٹنے والی بی ایس پی ، دائین بازو کی جماعتوں جیسی سیکیولر فکررکھنے والی سیاسی پارٹیوں کو ’’مسلمان‘‘ جماعتوں پر ترجیح دی۔
    ہندو ووٹرکی اکثریت مودی کے پیچھے چل پڑی اور بی جے پی نے ان سیکیولر جماعتوں کو پچھاڑ دیا۔ اب مسلمان اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کررہے ہیں۔
    مسلمانوں میں کئی حلقوں کا خیال ہے کہ بند گلی سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے روابط بنائے جائیں۔
    مدنی صاحبان اس فکر میں تنہا نہیں۔ مسلم اشرافیہ میں سابق مرکزی وزیر عارف محمود خان، کاروباری شخصیت ظفر سریشوالا، اور ماہر تعلیم فیروز بخت احمد اور ان جیسے دوسرے مسلسل کہتے آ رہے ہیں کہ مسلمان اب بی جے پی کو اچھوت سمجھنا چھوڑ دیں۔ بی جے پی بھی خان کو گورنر اور فیروز احمد اور سریشوالا کو مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کاچانسلر بنا کر واضح اشارہ دے چکی ہے کہ اسے کیسے مسلمان درکار ہیں۔
    عام خیال یہی ہے کہ (بی جے پی کی )حمایت ایشوز کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
    ماہرقانون اور نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ(نالسر) کے وائس چانسلر فیضان مصطفی نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا کہ ریزرویشن پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے خیالات سبھی کو سننے چاہییں۔
    آرٹیکل ۳۷۰کے خاتمے کا وسیع پیمانے پر متعدد مسلمانوں نے خیر مقدم کیا،کہنہ مشق صحافی شاہد صدیقی سے لے کر سوشل میڈیا پر حلقہ اثر رکھنے والے تحسین پوناوالا اور زینب سکندر بھی حکومتی اقدامات کو سراہنے والوں میں شامل ہیں۔ مدنیوں کی طرح یہ حلقے بھارت کے موجودہ حقائق(جس سے مراد بی جے پی اور آر ایس ایس کی بالا دستی ہے) کو عملیت کی نظر سے دیکھنے کے قائل ہیں۔
    تاہم یہ مکمل طور پر عملی نکتہ نظر نہیں۔
    مدنی صاحبان سے کہاں چوک ہوئی:
    باوجو یہ کہ مدنی صاحبان اور مسلم اشرافیہ کے چند لوگ بی جے پی اور آر ایس ایس کو ’’مائل‘‘ کرنے اور مخصوص معاملات میں ان کی حمایت کرنے کی ڈگر پر ہیں ، ان میں سے مؤخر الذکر نے مسلمانوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
    مدنی صاحبان متحدہ قومیت کے تصور سے اس لیے منحرف ہوتے نظر آتے ہیں کہ انھوں نے یہ حقیقت فراموش کردی ہے کہ سیکیولر ریاست کے قیام کا معاہدہ دو طرفہ تھا اور صرف مسلمان ہی اس کے پابندنہیں تھے۔
    بی جے پی اور ہندوتوا نے باضابطہ طور پر بھارت کو ہندو راشٹر قرار نہیں دیا تاہم ان کے متعدد فیصلوں سے بھارتی ریاست کی سیکیولر حیثیت کمزورپڑ رہی ہے اور یہ فیصلے بھارت کے اپنی اقلیتوں سے کیے گئے عہد کے بھی خلاف ہیں۔ مثال کے طور پر:
    ۔۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں گزشتہ چند برسوں میں اضافہ ہوا اور بی جے پی کی جانب سے انھیں روکنے کے لیے کوئی قابل ذکر کوشش نہیں کی۔ اس کے برعکس بی جے پی کے لیڈروں نے جھاڑ کھنڈ میں علیم الدین انصاری کے ہجومی قتل میں ملوث افراد کو پھولوں کے ہار پہنائے اور مغربی اتر پردیش میں محمد اخلاق کے قاتلوں کی عزت افزائی کی۔
    ۔۔شہریت کے قوانین میں ترمیم کے لیے متعارف کردہ بل میں پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان جیسے مسلم اکثریتی ملکوں کے غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ ایک امتیازی قانون ہے جس میں مسلمانوں کو بھارتی شہریت کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔
    ۔۔۔ گئو رکھشا پر بی جے پی اور آر ایس ایس کا بڑھتا ہوا اصرار نہ صرف ہندو عقائد کی بالادستی کے لیے کیا جارہا ہے بلکہ یہ دیگر لوگوں کے کھانے پینے کے انتخاب کی آزادی پر بھی قدغن ہے۔ گئو رکھشا اب اس حد تک پہنچ چکی ہے جہاں ہندووں کی خواہشات پر قانون کی حکمرانی کو قربان کردیا جاتا ہے۔
    ۔۔۔ عدالت کی جانب سے منسوخی کے باوجود مسلمانوں میں رائج ایک مجلس کی تین طلاق کو جرم قرار دیا گیا۔
    ۔۔۔ بی جے پی نے انتخابات ممیں اُس پرگیا ٹھاکر کو ٹکٹ دیا جس پر میلاگاؤں دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے، اس واقعے میں متعدد مسلمان جان سے گئے تھے۔ پرگیا ٹھاکر مہاتما گاندھی کے قاتل ،نتھورام گوڈسے کی تعریف و تحسین بھی کرچکی ہیں۔
    ۔۔۔ آرٹیکل ۳۷۰کی تنسیخ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اپنے نظریاتی اہداف کے لیے آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ آئین ریاست ہند کے جمیعت کے ساتھ عہد کا مظہر ہے ، اس میں دخل اندازی پر تشویش ہونی چاہیے تھی۔
    ان مثالوں سے یہ تو واضح ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سیکیولرزم کے تحفظ کے لیے فکر مند نہیں۔ ابھی تو ہم نے بی جے پی کے قائدین کے ان بیانات پر بات شروع بھی نہیں کہیں جن میں وہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر اکساتے اور ملک کو ہندو راشٹربنانے کے دعوے کرتے ہیں۔ اس کے بعد یکساں شہری قوانین اگلا قدم ہوسکتے ہیں، جو نجی زندگی سے متعلق ضابطوں کی آزادی، جمیعت کے نزدیک جس کی بہت قدر ہے، کے برخلاف ہوں گے۔
    آر ایس ایس کو خوش کرنے اور ہندوستان میں اکثریت کی مطلق العنانیت کی راہ ہموار کرنے کے بجائے جمیعت اور مسلم اشرافیہ کو سیکیولرزم اور متحدہ قومیت کے تحفظ کے لیے حکومت کو جوابدہ بنانا چاہیے۔
    (ترجمہ رانامحمدآصف)

  • بازار بنو قینقاع سے سری نگر تک ، تحریر فردوس جمال

    بازار بنو قینقاع سے سری نگر تک ، تحریر فردوس جمال

    عہد نبوی مبارک ہے،مدینہ منورہ میں بنو قینقاع کا بازار سج چکا ہے،بازار میں ایک یہودی سنار کی دکان ہے،یہودی تاجر کی دکان میں اس کے چند یہودی دوست گپیں ہانک رہے ہیں،اسی دوران ایک مسلمان عورت دکان پر آتی ہے،یہودی تاجر کی شیطانیت جاگ جاتی ہے وہ مسلمان عورت سے چہرے کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کرتا ہے مسلمان عورت سختی سے منع کرتی ہے،نظریں بچا کر مکار یہودی مسلمان بہن کا آنچل کسی کیل کے ساتھ باندھ دیتا ہے جب وہ جانے کے لئے اٹھتی ہے تو بے پردہ ہو جاتی ہے وہ چیخنے چلانے لگتی ہیں دکان میں بیٹھے یہودیوں کے قہقہے پورے بازار میں سنائی دیتے ہیں دکان کے سامنے سے گزرتا ایک راہ گیر مسلمان یہ منظر دیکھ کر دکان کے اندر چلا آتا ہے اس کی ایمانی غیرت جاگ اٹھتی ہے اور وہ یہودی دکاندار کو قتل کر دیتا ہے،یہودی مل کر اس مسلمان پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اسے شہید کر دیتے ہیں،یہ خبر رسول خدا تک پہنچتی ہے آپ اپنے جاں نثاروں کے ساتھ یہودی بستی کا محاصرہ کرتے ہیں عہد شکنی کے باعث ان سب کو مدینہ منورہ سے نکال باہر کرتے ہیں،انہیں جلاوطن کرتے ہیں.

    ایک مسلمان شخص ایک مسلمان بہن کے لئے جان تک سے گزر جاتا ہے جسے وہ جانتا بھی نہیں ہے کہ کون تھی،رسول خدا نے ان کی تربیت ہی ایسی کی تھی کہ مظلوم کی آواز پر لبیک کہنا ہے،ایک مسلمان بہن کی پکار پر رسول پاک
    خود اس بستی کا محاصرہ کرتے ہیں.

    90 ہجری ہے،حجاج بن یوسف فوجی کمانڈروں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ میں ہیں،خصوصی ایلچی یہ پیغام لیکر داخل ہوتا ہے کہ شاہ جزیرہ یاقوت نے جو تحفے تحائف اور مسلمان عورتیں بھیجا تھا انہیں دیبل کے قریب بحری قزاقوں نے قیدی بنایا ہے ان قیدی عورتوں میں سے ایک نے آپ کو پکارا ہے کہ اے حجاج ہماری مدد کرو،ہمیں اس جہنم سے چھڑاؤ،حجاج بن یوسف اپنی نشست سے اٹھتے ہیں ان کی آنکھوں میں خون اترتا ہے،ان کا چہرہ غصے سے لال ہوتا ہے،اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو بلاتے ہیں ایک مسلمان بہن کی پکار پر بیس ہزار فوجیوں کا لشکر دے کر محمد بن قاسم کو دیبل کی طرف روانہ کرتے ہیں،اس ایک مسلمان بہن کی پکار راجہ داہر کی بادشاہت و تخت کا خاتمہ اور سندھ کی فتح کا سبب بن جاتی ہے.

    223 ہجری ہے،عباسی خلیفہ معتصم باللہ اپنے شاہی تخت پر فروکش ہیں،خدام چاک و چوبند کھڑے ہیں،نبیذ کا دور چل رہا ہے،شاہی ایلچی نے آ کر خبر دی کہ عموریہ میں ایک مسلمان بہن رومیوں کی قید میں ہے وہ چیخ چیخ کر مسلمانوں کے خلیفہ کو پکار رہی ہے وامعتصماه !
    معتصم باللہ کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے نبیذ کے گلاس کو پھینک دیتے ہیں لبیک اے میری بہن کہتے ہوئے وہ تخت سے اٹھ جاتے ہیں،فوج کے سپہ سالار کو بلاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ رومیوں کا سب سے مضبوط شہر کون سا ہے کہا جاتا ہے عموریہ نا قابل تسخیر شہر ہے،معتصم باللہ مسلمانوں کا لشکر لیکر عموریہ کی طرف بڑھتے ہیں پچپن دن کے طویل اور سخت معاصرے کے بعد شہر کو فتح کرتے ہیں،اس مسلمان بہن کو رومیوں کی قید سے نکالتے ہیں،ایک مسلمان بہن کی پکار مضبوط قلعوں کو شکست دینے اور شہر کا شہر فتح کرنے کا سبب بن جاتی ہے.

    یہ ہمارا عہد رفتہ تھا کہ کیا بنو قینقاع بازار کا فرد تنہا کیا دیبل کی اینٹ سے اینٹ بجاتا جواں اور کیا عباسی بادشاہ ایک مسلمان بہن کی پکار پر سب نے لبیک کہا.

    مگر

    آج کشمیر کی کتنی مظلوم بہنیں اور کتنی بیٹیاں مدد کے لیے پکار رہی ہیں،اس آس میں کہ ان کے دینی بھائی مسلم دنیا کے غیرت مند حکمران ان کی آواز پر لبیک کہیں گے،لیکن ان کی پکار قید خانوں زندانوں اور گھر کی دیواروں سے ٹکرا کر دم توڑ جاتی ہے انہیں کوئی جواب نہیں ملتا ہے کہ لبیک میری بہنا!

    ہندو آرمی چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرکے ان کے گھروں میں داخل ہوتی ہے.

    وہ چاند چہرے جو کبھی آسمان کے چاند نے بھی نہیں دیکھے تھے ان چہروں پر ہندو فوجیوں کی ناپاک اور حیوانیت بھری نظریں پڑتی ہیں.

    عصمتیں پامال اور آنچل لٹ رہے ہیں،گھروں میں کھانا نہ پینا،بچوں کے لئے دوا نہ علاج،چھ ہفتوں سے کشمیر ایک جیل خانہ بن چکا ہے،میڈیا اور امدادی تنظیموں کے لئے رسائی بند ہے،کرفیو ہے اور موت کا سناٹا ہے،مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے پروگرام چل رہے ہیں،شیوسینا اور آر ایس ایس کے غنڈے کشمیر پہنچ چکے ہیں.

    کیا ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں ایک بھی محمد بن قاسم نہیں کیا ساٹھ سے زائد مسلمان بادشاہوں میں ایک بھی معتصم باللہ نہیں؟ ایک بھی حجاج بن یوسف نہیں؟

    کشمیری قوم ہماری طرف دیکھ رہی ہے،ہماری منتظر ہے،لیکن یہ انتظار لمبا نہیں ہوگا.یہ قانون قدرت ہے کہ اگر ہم اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآں نہ ہوئے تو اللہ پاک ہماری جگہ کسی اور قوم کو یہ کام سونپ دیں گے.
    تحریر فردوس جمال