Baaghi TV

Tag: baaghitv

  • پاکستان آرمی کی کھیلوں کے میدان میں بھی اونچی اڑان

    پاکستان نے عالمی فوجی کھیلوں میں والی بال کے سیمی فائنلز کیلئے کوالیفائی کرلیا

    پاکستان سروسز والی بال کی ٹیم چین کے شہر ووہان میں جاری ورلڈ ملٹری گیمز (سی آئی ایس ایم) کے سیمی فائنل میں پہنچ گئ۔ 100 سے زائد ممالک نے عالمی فوجی کھیلوں میں حصہ لیا۔ والی بال ان کھیلوں میں سے ایک تھا جس میں پاکستان سروسز ٹیم نے حصہ لیا۔ پاکستان والی بال ٹیم نے سیمی فائنل میں پہنچنے کیلئے انتہائی عمدہ کھیل پیش کیا اور ٹیم اپنے اگلے میچ میں برازیل کے خلاف سیمی فائنل میں کھیلے گی جبکہ دوسرا سیمی فائنل جنوبی کوریا ، چائنا قطر ٹیموں کے فاتح کے خلاف کھیلے گا۔

    اس چیمپیئن شپ میں 10 ممالک سے تعلق رکھنے والی والی بال کی کل 10 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ پاکستانی ٹیم نے اپنے تالاب میں نیدرلینڈ کو 3-0 ، کینیڈا کو 3-0 ، ایران کو 3-1 سے شکست دی ، اور جنوبی کوریا سے اسے 3-2 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے اپنے گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل ہے۔ سروسز والی بال کی ٹیم نے دنیا کے سرکردہ والی بال کھیلنے والے ممالک کے خلاف زبردست فتوحات حاصل کیں۔ سروسز ٹیم کی کامیابیوں سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں والی بال میں بہت ترقی ہوئی ہے۔

    بطور ٹیم اسپورٹ بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کے لئے تمغے جیتنے کی بڑی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ والی بال پورے ملک میں ایک بہت مشہور کھیل ہے۔ اس مقابلے میں مبشر رضا (کپتان) جو نیوی سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ بھی پاکستان ٹیم کے لئے کھیلتے ہیں ، نے انتہائی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کل کا میچ ٹاپ پوزیشن پر جانے کے لئے اہم ہوگا ، کیوں کہ یہ پہلی بار ہوگا کہ پاکستان والی بال یہ تمیز حاصل کرے گا۔

  • بھارت کا تحریک آزادی کشمیر کو "موبائل سموں” سے کچلنے کا فیصلہ

    سری نگر: بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگانے کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور کسی طرح تحریک آزادی کشمیر کو روکنا چاہتی ہے جس کے پیش نظر مودی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پولیس کی تصدیق کے بغیر نیا موبائل کنکشن جاری نہیں ہوگا

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں پولیس نے ٹیلی کام آپریٹرز سے کہا ہے کہ وہ پولیس کی تصدیق مکمل کیے بغیر صارفین کو کوئی نیا سم کارڈ جاری نہ کریں۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے تمام ٹیلی کام آپریٹرز کو ہدایات جاری کیں کہ ان کی سروسز کا غلط استعمال ہونے کی صورت میں ، کمپنی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ ٹیلی کام آپریٹرز نے اب مناسب تصدیق کے بعد ہی پوسٹ پیڈ سم کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں پولیس تصدیق کے ساتھ ساتھ کمپنی کا اپنا طریقہ کار(Know Your Customer) (کے وائی سی)بھی شامل ہے۔

    ایئر ٹیل کے ایک عہدیدار نے ساؤتھ ایشین وائر سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان کو پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی صارف کو بغیر تصدیق کے سم کارڈ جاری نہ کریں۔ ٹیلی کام آپریٹرز نے پری پیڈ سم کارڈز کو پوسٹ پیڈ کنکشن میں تبدیل نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
    حکام نے 70 دن کے وقفے کے بعد 14 اکتوبر کو 40 لاکھ سے زیادہ پوسٹ پیڈ فون بحال کئے تو اس کے بعد لوگو ں میں پری پیڈ سموں کو پوسٹ پیڈ میں کروانے کا رجحان بڑھ گیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں 40 لاکھ پوسٹ پیڈ صارفین اور 26 لاکھ سے زیادہ پری پیڈ صارفین ہیں۔

    براڈ بینڈ ، موبائل فون سروسزاور انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلات کو 5 اگست کو معطل کردیا گیا ، جب بھارت نے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر خصوصی حیثیت ختم کردی اور ریاست کو دو مرکز علاقوں میں تقسیم کردیا۔
    ایک سینئر پولیس آفیسر نے ساؤتھ ایشین وائر کوبتایا کہ انہوں نے ٹیلی کام کمپنیوں سے کہا ہے کہ کوئی نیا سم کارڈ جاری کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کے مناسب طریقہ کار پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا ، "اگر ٹیلی کام کمپنیوں نے پری پیڈ سموں کو پوسٹ پیڈ کنکشنز میں تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو ، یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔”

    کشمیر بھر میں پوسٹ پیڈ کنکشن کی بحالی کے ایک ہفتہ بعد ، سینکڑوں افراد نئے پوسٹ پیڈ سم کارڈ حاصل کرنے یا پری پیڈ کارڈ کو پوسٹ پیڈ کنکشن میں تبدیل کرنے کے لئے جیو ، ایرٹیل ، بی ایس این ایل ، ووڈافون ، آئیڈیا اور دیگر آپریٹرز کے شورومزپر امڈآئے تاہم ، بہت سے صارفین مایوس لوٹے کیونکہ تمام ٹیلی کام کمپنیوں نے سموں کی پوسٹ پیڈ میں تبدیلی سے انکار کردیا تھا۔

  • ٹی ٹین لیگ ، پاکستان کرکٹ بورڈ کا اچھا فیصلہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹی 01 لیگ پر بیان جاری کردیا۔ ٹی 01 لیگ متحدہ عرب امارات میں 01 سے 42 نومبر تک جاری رہے گی۔

    کھلاڑیوں کا ورک لوڈ اور پاکستان کے پریمیر کرکٹ ٹورنامنٹ، قائداعظم ٹرافی، میں ان کی شرکت کو مدنظر رکھتے ہوئے پی سی بی نے کھلاڑیوں کو جاری کیے گئےمشروط این او سی منسوخ کردئیے ہیں۔ کھلاڑیوں کی فٹنس اور میڈیکل صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کیمپ 01 سے 41 نومبر تک نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں جاری رہے گا جبکہ قائداعظم ٹرافی کے ساتویں اور دسویں راؤنڈ کے میچز 00 نومبر سے 1 دسمبر کے درمیان میں جاری رہیں گے۔ ایونٹ کا فائنل میچ 9 سے 01 دسمبر تک کراچی میں کھیلا جائے گا۔
    پی سی بی نے یہ فیصلہ کھلاڑیوں اور ڈومیسٹک کرکٹ کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے جس کی کوریج تمام میڈیا میں کی گئی ہے۔

  • آزاد کشمیر میں احتجاج کرنےوالے علیحدگی پسند کون لوگ ہیں ؟

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں نام نہاد قوم پرست جماعتوں کا احتجاج بدھ کے روز بھی جاری ہے اس احتجاج میں آزاد جموں و کشمیر کی چھوٹی بڑی 20 سے زائد جماعتوں کے اتحاد نے شرکت کر رکھی ہے، اس کا اتحاد کے احتجاج کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کشمیر کو کلی طور پر تمام اکائیوں کے سمیت مکمل آزاد کیا جائے اور اسے ایک خود محتار ریاست بننا چاہیے ،

    آزاد کشمیر کی بیشترعلیحدگی پسند تنظیمیں جو کہ حالیہ احتجاج کا حصہ ہیں کشمیر متعلق پوری پاکستانی قوم سے محتلف نظریات رکھتی ہیں، ان علیحدگی پسند تنظیموں کےمطابق 21 اکتوبر 1947 کو قبائلی مجاہدین کشمیری عوام کی مدد کیلئے کشمیر آئے تھے اور ان کے آنے کے بعد بھارت نے کشمیر میں اپنی افواج اتاری تھیں، اور انہی قبائلیوں کی وجہ سے کشمیر تقسیم ہوا اور انہی کی وجہ سے آج کشمیری ظلم و جبر کی چکی میں پس رہے ہیں اور یہ بڑے مجرم ہیں، اور یہ تمام علیحدگی پسند لوگ 21 اکتوبر کو یوم سیاہ منانے کیلئے راولا کوٹ سے مظفرآباد کیلئے نکلے ہوئے تھے

    مظفر آبد میں اپر اڈا کے مقام پر ان لوگوں نے جلسے کا اعلان کر رکھا تھا جہاں انہوں نے اپنی تقریب کرنی تھی وہاں پر جب یہ لوگ اکٹھا ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے مظفر آباد قانون ساز اسمبلی کی طرف مارچ کرنا ہے، ابھی انتظامیہ کیساتھ مذاکرات ہو رہے تھے تو انہوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا ، حالات کو قابو کرنے اور نارمل حالت میں لانے کیلئے پولیس نے ان مظاہرین پر لاٹھی چارج شروع کیا ، اس ہنگامی صورت حال کے نتیجے میں ایک بزرگ شہری جا بحق ہوئے جن کا ان مظاہرین کیساتھ کوئی تعلق نہیں تھا ، اس کے بعد مظفر آباد پریس کلب کے سامنے بھی احتجاج کیا گیا تھا جہاں پولیس کی بھاری نفری نے حالات کو قابو میں کیا گیا تھا

    اس سارے معاملے میں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے ان لوگوں کے مطالبے پہ دفتر خارجہ کو خط لکھا تھا کہ یوا ین کی ہیومن رائٹس کونسل کا وفد مظفرآباد آئے اور ان لوگوں سے ملاقات کرے، اس بعد راجہ فاروق حیدر ان علیحدگی پسند جماعتوں کو لیکر مظفرآباد میں یو این کے دفتر گئے جہاں انہوں نے اپنی یادادشت جمع کروائی جسے یہ کہتے ہیں کہ ان کے یو این کیساتھ مذاکرات ہوئے ،

    اور ان علیحدگی پسند جماعتوں کے احتجاج کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ 21 اکتوبر جس دن یہ احتجاج شروع ہوا اس دن ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پاکستان میں موجود تمام ممالک کے سفیروں کو کنٹرول لائن کا دورہ کروایا ہے اور بھارت کا جھوٹ کا پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے اور کشمیر ایشو پر پاکستان فرنٹ فٹ پر کھیل رہا ہے ، ایسے میں بھارت سے یہ ٹویٹس آنا شروع ہو گئی ہیں کہ مظفر آباد میں پاکستانی فوج کیخلاف احتجاج کرنے پولیس نے کشمیریوں پر لاٹھی چارج کیا ہے،

    کچھ انڈین ٹی وی چینلز نے تو اس ہنگامی صورتحال کو براہ راست بھی بھارت میں دکھایا جو کہ پاکستان کے امیج اور سالمیت کیلئے بالکل اچھا نہیں ہے ، اور یہ احتجاج مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے بھی جا ملتا ہے جو کہ وقت اور جگہ کے لحاظ سے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے ،

    مولانا فضل الرحمن بیرونی ایجنڈے پرپاکستان کوبدنام کرنے پرتلے ہوئے ہیں،سنی اتحاد کونسل

  • حالات، حکومت اور حجرہ کمیٹی میں حاضری ، تحریر محمد نعیم شہزاد

    ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کی انتہائی اہم حجرہ کمیٹی (کمیٹی روم) تک رسائی، باعث جگ ہنسائی اور اہلیان پاکستان کو ورطہ حیرت میں ڈال گئی۔ عین اس وقت کہ جب کشمیر میں جاری کرفیو کو قریب تین ماہ کی مدت ہونے کو ہے اور وزیراعظم پاکستان کشمیر کے مقدمہ کو شد و مد کے ساتھ لڑ رہے ہیں اور دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں متحد ہو کر حکومت گرانے کے در پے ہیں اور مولانا فضل الرحمن کی آزادی مارچ کی آمد آمد ہے، اسلام آباد سے بیک وقت پر مزاح اور باعث خفت و ندامت خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔

    تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ پاکستانی ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ نے بڑے پر تکلف انداز میں ایک نیا ویڈیو کلپ اپلوڈ کیا ہے جس میں موصوفہ وزارت خارجہ کے کمیٹی روم میں پریزائیڈنگ سیٹ پر براجمان ہوئیں اور ایک کلپ شوٹ کیا۔ بابائے قوم کا پورٹریٹ بھی سوچتا ہو گا کہ یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ جب قوم کا مستقبل یوں فن اور فین فالوانگ کا رسیا ہو جائے گا اور انتہائی اہم مقام پر بھی ظریفانہ طرزِ عمل سے باز نہ رہ پائے گا۔

    قطع نظر اس بات کے کہ اس واقعہ نے قابل غور معاملات سے ہمیں کس قدر دور کر دیا، فوری قابل غور یہ امر ہے کہ یہ وقوعہ کیونکر وقوع پذیر ہوا، کیا ملک پاکستان میں ذمہ داران اس قدر غیر ذمہ دار ہو گئے ہیں کہ اس قسم کے واقعات رونما ہونے لگے اور اب لگے تحقیقات کرنے۔ دال میں ضرور کچھ کالا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومتی جماعت کے بعض اراکین بذات خود حکومت کو نیچا دکھانے اور اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہونے کے لیے اس قسم کے حالات پیدا کرتے ہیں اور یہ بعید از قیاس ہرگز نہیں۔

    حریم شاہ کے بقول کمیٹی روم میں ان کو کسی نے منع نہ کیا بلکہ معاونت بھی فراہم کی تو کیسےممکن ہے کہ یہ سب انجانے یا لاعلمی میں ہو گیا۔ خان صاحب کو انتہائی محتاط رہنا ہو گا بطور خاص صنف نازک کی طرف سے تو ان پر وار ہوتے ہی رہتے ہیں، ریحام خان، عائشہ گلا لئی اور اب حریم شاہ، اپنے قریبی احباب پر نظر رکھیں اور چوکنے رہیں، یہ اسی قبیل سے ہیں جو بصورت زلیخا یوسف علیہ السلام کو کنعان کی جیل میں بھجوا دیتی ہیں۔

    آخر میں ایک واقعہ موقع کی مناسبت سے حضرت بہلول کا بیان کرتا چلوں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بہلول خلیفہ ہارون رشید کے دربار میں گئے اور خلیفہ کی غیر موجودگی میں موقع پا کر مسند خلافت پر براجمان ہو گئے۔ اس جرم کی پاداش میں ان کو کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔ سزا کے بعد جب ان کو خلیفہ کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ کبھی روتے اور کبھی ہنستے۔

    خلیفہ نے بصد حیرت اس طرزِ عمل کی وجہ دریافت کی تو جواب ملا کہ کوڑے کھانے سے بہت تکلیف ہوئی اس لیے روتا ہوں اور ہنستا اس بات پر ہوں کہ اس مسند پر چند گھڑیاں بیٹھا ہوں تو یہ حال ہوا ہے، خلیفہ کا کیا حال ہو گا جو مستقل اس نشست پر بیٹھتا ہے۔
    بے شک اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

  • آزادی مارچ، وزیر اعظم عمران خان ڈٹ گئے، استعفیٰ دینے سے انکار

    وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں سے ملاقات میں کہا ہے کہ آزادی مارچ کے پیچھے اندرونی اور بیرونی طاقتوں کا ایجنڈا ہے ، مولانا کے مارچ سے کشمیر کاز کو نقصان ہو رہا ہے،

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کا چارٹر آف ڈیمانڈ واضح نہیں، حکومت کی مذاکراتی کمیٹی مولانا سے ملاقات کرے گی، اور شبہات کو گفت و شنید سے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی، وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کا ایک ہی مسئلہ ہے اور وہ ہے این آر او، گرفتار رہنماؤں کو آج باہر جانے کی اجازت دے دوں تو زندگی آسان ہو جائے گی،

    امریکی اراکین کانگریس نے کشمیر سے متعلق بھارت سے کیا بڑا مطالبہ، اہم خبر

    بھارت کی طرف سے متوقع جارحیت اور افواج پاکستان کی تیاریوں سے متعلق سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر میں بری طرح پھنس چکا ہے ،بھارت پلوامہ جیسا ڈرامہ دوبارہ رچا سکتا ہے اور خدشہ ہے کہ بھارت آزاد کشمیر پر حملہ کرے ،آ رمی چیف کوکہاہےفوج کومکمل طورپرتیاررکھیں، اور اگر بھارت نے کوئی بھی جارحیت کی تو بھرپور جواب دیں گے، کشمیر پر پاکستان کی پوزیشن سے متعلق وزیر اعظم نے کہا مسئلہ کشمیر پر دنیا کی طرف سے تاریخی ردعمل آ رہا ہے اور دفتر خارجہ کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں،

    سابق وزیراعظم نواز شریف اور شریف فیملی سے متعلق سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ نواز شریف کو بہترین علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں، اور شہباز شریف کہتےہیں نوازشریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دار عمران خان ہوں گے، ‏میں کوئی عدالت یا ڈاکٹر نہیں، وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ نوازشریف کا بیرون ملک علاج کا فیصلہ عدالت نے کرناہے، اور اگر مریم نوازنے ملاقات کرنی ہےتو وہ فیصلہ بھی عدالت کرےگی،

    مولانافضل الرحمن پاکستان کوبدنام کروارہے ہیں ، اہم وفاقی وزیربول اٹھے

  • نویں چیف آف دی نیول اسٹاف گالف چیمپین شپ کب اور کہاں کھیلی جائے گی ؟

    پاک بحریہ کی سربراہی میں ہونے وای نویں چیف آف دی نیول اسٹاف ایمیچیور گالف چیمپئن شپ 2019 کی تفصیلات بتانے کیلئے میڈیا بریفنگ کا لاہور میں انعقاد کیا گیا ،اسٹیشن کمانڈر لاہور کموڈور نعمت اللہ نے میڈیا کو بریفنگ دی۔

    تفصیلات کیمطابق چیمپئن شپ 25 سے 27 اکتوبر تک ڈیفینس رایا گالف اینڈ کنٹری کلب لاہور میں منعقد کی جائے گی۔ ترجمان پاک بحریہ کیمطابق اسٹیشن کمانڈر نے گزشتہ چیمپئن شپس کی کامیابی میں میڈیا کے کردار کو سراہا۔ اسٹیشن کمانڈر لاہور کا کہنا تھا کہ پاک بحریہ ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی ، چیمپئن شپ کے اختتامی روز یعنی 27 اکتوبر کو کشمیری بہن بھائیوں سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا جائے گا۔

    مزید پڑھیں

    بنگلہ دیش کے خلاف قومی ویمن ٹی 20 ٹیم کا اعلان

  • دبئی پولیس میشیات کو روکنے کیلئے ایک لاکھ درہم انعام دے گی

    متحدہ عرب امارات کے طلباء کے پاس 60 سیکنڈ کی ویڈیو بنا کر 100،000 درہم جیتنے کا موقع ہے جو منشیات کی لت کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس بین الاقوامی فورمز میں جیتنے والی ویڈیو کی تشہیر کرے گی۔ ہمایہ مرکز کے زیر اہتمام – ایک دبئی پولیس سے وابستہ جو متعدد امور کے بارے میں شعور اجاگر کرنے سے متعلق ہے۔

    کمیونٹی کی خوشی کے ل the جنرل انتظامیہ میں کمیونٹی ریلیشنز ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ کرنل محمد خلیفہ السویدی نے کہا کہ ان ویڈیوز میں نفسیاتی دوائیوں پر توجہ دی جاسکتی ہے جسے لوگ تیزی سے استعمال کررہے ہیں۔ کلپس میں اپنے بچوں میں منشیات کے استعمال کو روکنے میں کنبہ کے کردار پر بھی توجہ دینی چاہئے۔

    طلباء اپنی ویڈیو ہیمایا مرکز کی ویب سائٹ پر یکم سے 15 دسمبر تک جمع کراسکتے ہیں۔ فاتح ویڈیو کا اعلان فروری 2020 میں کیا جائے گا۔ ویڈیوز کو متحدہ عرب امارات یا بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے اماراتی طلبا کے ذریعہ جمع کروانا ہوگا۔

    انسداد منشیات کے جنرل ڈائرکٹوریٹ ، ڈپٹی ڈائریکٹر کرنل خالد علی بن موئیزا نے کہا کہ مقابلہ طلباء کو پولیس کو منشیات کے استعمال سے نمٹنے میں مدد کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

  • 26 سال سے جیل میں قید کشمیری باپ نے اپنے بیٹے کو خط میں کیا لکھا ؟

    پچھلی سات دہائیوں سے پاکستان کے پڑوسی بھارت نے وادی کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر کے جس طرح کشمیریوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے، تاریخ انسانی میں اس کی مثال نہیں ملتی، اور اس طلم و جبر کی تاریک رات میں بھی کئی ایسے حریت کے ستارے چمکے جن کی روشنی آج تک مانند نہ ہوئی ،

    ایسے ہی ایک ستارے ڈاکٹر محمد قاسم ہیں جو کہ نڈر و بےباک کشمیری خاتون آسیہ اندرابی کے شوہر ہیں ، ڈاکٹر محمد قاسم پچھلے 26 سال سے جیل میں قید ہیں، عرصہ دراز سے ان کے اہلحانہ کو ان کی کوئی خبر نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں ، کچھ دن پہلے ڈاکٹر محمد قاسم نے اپنے بیٹے احمد بن قاسم کو ایک خط لکھا اور اس خط میں ایک نظم لکھ کر بھیجی ہے جس میں وہ اپنے بیٹے احمد اور اس جیسے کئی دلیر بیٹوں کی ڈھارس بندھاتے ہیں، ڈاکٹر محمد قاسم لکھتے ہیں

    میں روح ہوں
    یہ قید اور موت میرے لیے نہیں ہیں ، کیا مجھے ان سے ڈرنا چاہیے
    کون کسے قید کر رہا ہے ؟ نہ میں مارا گیا اور نہ مارا جاؤں گا
    یہ قید مجھے اپنے خطے اور لوگوں کے بارے سوچنے کا کہہ رہی ہے
    مییری روح تب تک میرا ساتھ نہیں چھوڑ سکتی جب تک اپنا مشن پوارا نہ کر لوں

    ڈاکٹر محمد قاسم کے یہ الفاظ اپنے اندر اس قدر وزن رکھتے ہیں کہ پڑھنے والا کوئی بھی شخص جو کشمیری ہے یا کشمیریوں سے ہمدردی رکھتا ہے وہ پر عزم ہو جائے گا، اوراہل کشمیر کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانے کیلئے تیار ہو جائے گا

  • بیمار قیدی ، فردوس جمال کا بلاگ

    نواز شریف اور آصف علی زرداری جیل میں بیمار ہوئے تو قوم کو معلوم ہوا کہ قیدی بھی بیمار ہوسکتے ہیں، کل سے تمام ٹی وی چینل میاں محمد نواز شریف کے لئے مجلس عیادت منعقد کرکے بیٹھ گئے ہیں، نواز شریف اب تک ٹھیک بھی ہوئے ہوں گے لیکن دانشور ہمدردی کے بخار میں تپ رہے ہیں ، ان قومی دو بیماروں سے آپ کو فرصت ہے تو آئیں ذرا جیلوں کی سیر کرائیں تیرے میرے قبیلے کے کیڑے مکوڑے قیدیوں کی ان جیلوں میں کیا صورتحال ہے.

    صرف پنجاب کی جیلوں میں 480 قیدی ایڈز وائرس کے شکار ہیں،2717 قیدی ہیپاٹائٹس سی سے متاثر ہیں،299 قیدی ہیپاٹائٹس بی کے مریض ہیں،796 قیدی سفلس وائرس کے شکار ہیں،8 ہزار سے زائد قیدی دیگر چھوٹی موٹی بیماروں میں مبتلا ہیں ان سب کے علاج کے لئے نہ تو کوئی بندوبست کیا گیا اور نہ ہی میڈیا کے لئے یہ لوگ خبر ہیں،نہ دانشوروں کی ان سے ہمدردی ہے.

    سال 2018ء میں صرف پنجاب کی جیلوں میں 141 قیدی مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر دم توڑ چکے ہیں.

    کتنے قیدی ایسے ہیں جیل میں بیمار ہوتے ہیں سسک سسک کر وہی کیڑے مکوڑوں کی طرح مر جاتے ہیں جیل کے کسی کونے میں انہیں دبا دیا جاتا ہے وہ کبھی خبر نہیں بنتے ہیں
    ان کا کوئی وکیل نہیں ہوتا ہے ان کا کوئی جج نہیں ہوتا ہے.

    ان کا جرم بس یہ ہوتا ہے کہ یہ ایلیٹ کلاس سے تعلق نہیں رکھتے ہیں،ان کی لندن و پیرس میں جائیدادیں نہیں ہوتی ہیں،یہ کچے مکانوں میں پیدا ہوئے ہوتے ہیں.
    از قلم فردوس جمال